نویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 9: سبق 9: سورۃ الفرقان (حصہ اول) — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں برائے طلبہ · 16 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

وَقَالُواْ مَالِ هَٰذَا ٱلرَّسُولِ يَأۡكُلُ ٱلطَّعَامَ وَيَمۡشِي فِي ٱلۡأَسۡوَاقِ لَوۡلَآ أُنزِلَ إِلَيۡهِ مَلَكٞ فَيَكُونَ مَعَهُۥ نَذِيرًا (سورۃ الفرقان ۔ آیت 7)

آیتِ کریمہ میں منکرین کے کن اعتراضات کا ذکر ہے؟

آیتِ کریمہ میں منکرین کے درج ذیل اعتراضات کا ذکر ہے: منکرین نے کہا کہ یہ کیسے رسول ہیں جو کھاتے پیتے اور بازاروں میں چلتے ہیں؟

جواب اور منکرین کا دوسرا اعتراض یہ تھا کہ ان کی طرف کوئی فرشتہ کیوں نہیں نازل کیا گیا جو ان کے ساتھ رہتا، ڈراتا دھمکاتا اور ان کے ساتھ چلتا، اس طرح لوگ پہچانتے کہ دیکھو رسول آ رہے ہیں۔
2 مختصر جوابات

إِذَا رَأَتۡهُم مِّن مَّكَانِۭ بَعِيدٖ سَمِعُواْ لَهَا تَغَيُّظٗا وَزَفِيرٗا (سورۃ الفرقان ۔ آیت 12)

آیتِ کریمہ میں جہنم کی کیا صفت بیان کی گئی ہے؟

جواب اس آیتِ کریمہ میں جہنم کی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ جہنم جب دور سے ہی ایسے مجرموں کی صورت میں اپنے شکار کو آتے دیکھے گی تو غضب ناک ہو کر جوش مارے گی، اور اس کے دھاڑنے، پھنکارنے اور جوش کی خوف ناک آوازوں کو مجرم لوگ بہت دور سے سن سکیں گے۔ جہنم کا دیکھنا اور چلّانا ایک حقیقت ہے۔
3 مختصر جوابات

سُبۡحٰنَكَ مَا كَانَ يَنۢۡبَغِىۡ لَنَاۤ اَنۡ نَّـتَّخِذَ مِنۡ دُوۡنِكَ مِنۡ اَوۡلِيَآءَ وَ لٰـكِنۡ مَّتَّعۡتَهُمۡ وَاٰبَآءَهُمۡ حَتّٰى نَسُوا الذِّكۡرَ​ۚ (سورۃ الفرقان ۔ آیت 18)

قیامت کے روز باطل معبودوں کے پیروکار کس حقیقت کا اعتراف کریں گے؟

قیامت کے دن مشرکین کے بنائے ہوئے معبودوں کو بلایا جائے گا — وہ مشرکین جنہوں نے جمادات (بتوں، سورج، چاند اور ستاروں وغیرہ) کے علاوہ انبیاءِ کرام اور فرشتوں کو اللہ کے ساتھ شریک کیا تھا۔ مشرکین کے بنائے ہوئے معبود قیامت کے دن اللہ کے سامنے حاضر ہو کر عرض کریں گے کہ اے اللہ! تو پاک ہے، ہمارے لیے درست نہیں تھا کہ ہم تیرے علاوہ کوئی کارساز بناتے، یعنی ہماری کیا مجال تھی کہ تجھ سے ہٹ کر کسی دوسرے کو اپنا رفیق اور مددگار سمجھتے۔ پھر جب ہم اپنے نفس کے لیے تیرے سوا کوئی سہارا نہیں رکھتے تو دوسروں کو کیسے حکم دیتے کہ وہ ہمیں اپنا معبود اور حاجت روا سمجھیں؟

اہم وضاحتیں

1 فرشتوں اور بزرگوں کی طرف سے جواب — جن معبودوں کو کفار نے خدائی کا درجہ دے رکھا تھا ان میں سے کچھ فرشتے تھے جنہیں یہ خدا کی بیٹیاں کہتے تھے، یا بعض لوگوں نے کچھ انبیاءِ کرام یا بزرگوں کو خدا بنا رکھا تھا — ان کی طرف سے تو یہ جواب ظاہر ہی ہے۔
2 بتوں کے متعلق سوال — جو لوگ بتوں کو پوجتے تھے ان کے بارے میں یہ سوال ہو سکتا ہے کہ وہ تو پتھر تھے، ان میں بولنے کی صلاحیت کہاں تھی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں ان مشرکین کا ذکر ہے جو انسانوں یا فرشتوں کو خدا بنائے بیٹھے تھے اور ان کی علامت کے طور پر بتوں کو پوجتے تھے؛ اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس موقع پر اللہ ان پتھروں میں بھی بولنے کی صلاحیت پیدا کر دے۔
3 جھوٹے مدعیانِ خدائی — جو خود معبود اور رب بن بیٹھے ہیں — خواہ وہ انسان ہوں یا جنات — ان کی طرف سے یہ جواب نہ ہوگا۔ شیطان کہے گا: اللہ نے تم سے وعدہ کیا تھا، وہ سچا وعدہ تھا اور اللہ نے وہ پورا کیا؛ میں نے جو وعدہ کیا تھا اس کے خلاف کیا، اور میرا تم پر کوئی جبر نہ تھا۔
4 گمراہی کا سبب — اللہ کے سوال پر یہ معبود کہیں گے کہ ان لوگوں نے خود گمراہی اختیار کی تھی: وہ دولت اور سامانِ زندگی جو ان مشرکوں اور ان کے باپ دادا کو دیا گیا، اس کی وجہ سے انہوں نے اللہ کو بھلا دیا — گویا اسبابِ شکر کو انہوں نے اسبابِ کفر بنا لیا۔
4 مختصر جوابات

يٰلَيۡتَنِى اتَّخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا۔يٰوَيۡلَتٰى لَيۡتَنِىۡ لَمۡ اَتَّخِذۡ فُلَانًا خَلِيۡلًا۔ (سورۃ الفرقان ۔ آیات 27 تا 28)

قیامت کے دن ظالم کس بات پر افسوس کرے گا؟

قیامت کے دن کفار کو یہ حسرت ہوگی کہ کاش انہوں نے رسول کے ساتھ راستہ اختیار کیا ہوتا اور ان کی خلاف ورزی کر کے غلط راستہ نہ اختیار کیا ہوتا۔

شانِ نزول

1 یہ آیتیں عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں نازل ہوئیں جس نے نبی کریم ﷺ کے ارشاد پر ایمان قبول کر لیا تھا، لیکن بعد میں اس کے دوست اُبَی بن خلف نے کہا کہ اگر تم نے محمد (ﷺ) کی اطاعت کی تو مجھ پر تمہارا چہرہ دیکھنا حرام ہے۔ چنانچہ عقبہ اپنے دوست کو راضی کرنے کے لیے کافر اور مرتد ہو گیا، اس پر اللہ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔
جواب قیامت کے دن کفار اور مشرکین گمراہ آدمی کو دوست بنانے پر پچھتائیں گے۔
5 مختصر جوابات

وَقَالَ ٱلرَّسُولُ يَٰرَبِّ إِنَّ قَوۡمِي ٱتَّخَذُواْ هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانَ مَهۡجُورٗا (سورۃ الفرقان ۔ آیت 30)

آیتِ کریمہ کے مطابق رسول اللہ ﷺ روزِ قیامت رب سے کیا شکایت کریں گے؟

آپ ﷺ قیامت کے دن اللہ سے شکوہ فرمائیں گے کہ اے میرے رب! یقیناً میری قوم نے اس قرآنِ حکیم کو چھوڑ دیا تھا۔ یہ آیتِ مبارکہ اگرچہ کافروں کے بارے میں ہے، مگر حدیث شریف میں قرآن مجید کے حق کو ادا نہ کرنے والے مسلمان کے لیے بھی وعید آئی ہے۔ لہٰذا اندیشہ ہے کہ اگر ہم نے قرآنِ حکیم کا حق ادا نہ کیا تو ہم اللہ کے عذاب کے مستحق ٹھہرائے جائیں گے، اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم قرآنِ حکیم کے حقوق ادا کریں۔

قرآنِ حکیم کے حقوق

1 نبی کریم ﷺ نے فرمایا: قرآنِ حکیم یا تو تمہارے حق میں حجت ہوگا یا تمہارے خلاف — یعنی یا تو تمہیں جنت میں لے جانے کا ذریعہ بنے گا یا جنت سے روک کر جہنم میں لے جانے کا ذریعہ بن جائے گا۔ قرآنِ حکیم کو اپنے حق میں شفاعت بنانے کا طریقہ اس کے حقوق ادا کرنا ہے، جو یہ ہیں:
2 قرآنِ حکیم پر ایمان لانا۔
3 قرآنِ حکیم کی تلاوت کرنا۔
4 قرآنِ حکیم کو سمجھنا۔
5 قرآنِ حکیم پر عمل کرنا۔
6 قرآنِ حکیم کو دوسروں تک پہنچانا۔

تفصیلی جوابات

6 تفصیلی جوابات

وَٱتَّخَذُواْ مِن دُونِهِۦٓ ءَالِهَةٗ لَّا يَخۡلُقُونَ شَيۡـٔٗا وَهُمۡ يُخۡلَقُونَ وَلَا يَمۡلِكُونَ لِأَنفُسِهِمۡ ضَرّٗا وَلَا نَفۡعٗا وَلَا يَمۡلِكُونَ مَوۡتٗا وَلَا حَيَوٰةٗ وَلَا نُشُورٗا (سورۃ الفرقان ۔ آیت 3)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ لکھیں اور بتائیں کہ اس آیت میں باطل معبودوں کی لاچارگی اور بے بسی کو کن مثالوں سے واضح کیا گیا ہے؟

ترجمہ

"اور ان لوگوں نے اللہ کے سوا ایسے معبود بنا لیے ہیں جو کوئی چیز پیدا نہیں کر سکتے بلکہ وہ خود پیدا کیے گئے ہیں، اور وہ خود اپنے لیے بھی کسی نقصان یا نفع کا اختیار نہیں رکھتے، اور نہ ہی وہ موت، زندگی اور دوبارہ زندہ ہو کر اٹھنے پر کوئی قدرت رکھتے ہیں۔"

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے شرک کی حقیقت کو بے نقاب کیا ہے اور عقلِ انسانی کو جھنجھوڑا ہے کہ وہ ہستیاں جن کی لوگ عبادت کر رہے ہیں، وہ خدا کہلانے کے لائق کیوں نہیں۔ آیت میں باطل معبودوں کی پانچ بڑی کمزوریاں بیان کی گئی ہیں:

آیت کی وضاحت اور اہم نکات

1 عدمِ تخلیق (کچھ پیدا نہیں کر سکتے) — معبود وہ ہو سکتا ہے جس کے پاس تخلیق کی طاقت ہو، لیکن اللہ کے سوا جتنے بھی جھوٹے معبود ہیں — خواہ وہ بت ہوں، انسان ہوں، جن ہوں یا فرشتے — وہ کائنات کے ایک ذرے کو بھی عدم سے وجود میں لانے کی طاقت نہیں رکھتے۔
2 خود مخلوق ہیں (وَهُمۡ يُخۡلَقُونَ) — وہ معبود ہونا تو دور کی بات، خود کسی کے پیدا کیے ہوئے ہیں: بتوں کو انسان اپنے ہاتھوں سے تراشتا ہے، اور زندہ ہستیاں (جیسے عیسیٰ علیہ السلام یا فرشتے) خود اللہ کی پیدا کردہ مخلوق ہیں۔ جو خود وجود کے لیے کسی دوسرے کا محتاج ہو، وہ خدا کیسے ہو سکتا ہے؟
3 نفع و نقصان پر بے اختیار — وہ معبود اتنے بے بس ہیں کہ اگر کوئی انہیں نقصان پہنچانا چاہے یا وہ خود اپنے لیے کوئی فائدہ حاصل کرنا چاہیں، تو اس کا بھی اختیار نہیں رکھتے۔ جب وہ اپنی ذات کی حفاظت نہیں کر سکتے تو اپنے پوجنے والوں کو کیا فائدہ پہنچائیں گے؟
4 زندگی اور موت پر اختیار نہ ہونا — زندگی دینا اور موت طاری کرنا صرف اللہ کا کام ہے۔ یہ بناوٹی معبود کسی کو نہ زندگی دے سکتے ہیں اور نہ کسی کی موت کو ٹال سکتے ہیں۔
5 دوبارہ زندہ کرنے (نشور) سے عاجز — قیامت کے دن تمام انسانوں کو دوبارہ زندہ کر کے اٹھانا صرف سچے خدا (اللہ) کا اختیار ہے۔ ان معبودوں میں یہ طاقت بالکل نہیں کہ وہ مرنے کے بعد کسی کو دوبارہ اٹھا سکیں۔
7 تفصیلی جوابات

سورۃ الفرقان کا مختصر تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔

جواب نوٹ: اس سوال کا جواب نصابی کتاب سے تیار کریں۔
8 تفصیلی جوابات

وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ إِنۡ هَٰذَآ إِلَّآ إِفۡكٌ ٱفۡتَرَىٰهُ وَأَعَانَهُۥ عَلَيۡهِ قَوۡمٌ ءَاخَرُونَۖ فَقَدۡ جَآءُو ظُلۡمٗا وَزُورٗا (سورۃ الفرقان ۔ آیت 4)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت تحریر کریں: کفار نے قرآن پر کیا الزام لگایا اور اللہ تعالیٰ نے اس کا کیا جواب دیا؟

ترجمہ

"اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ: یہ (قرآن) کچھ بھی نہیں سوائے ایک من گھڑت جھوٹ کے جو اس شخص نے خود گھڑ لیا ہے، اور کچھ دوسرے لوگوں نے اس کام میں اس کی مدد کی ہے۔ (یہ بات کہہ کر) یقیناً یہ لوگ سخت ظلم اور سراسر جھوٹ پر اتر آئے ہیں۔"

اس آیتِ مبارکہ میں مشرکینِ مکہ کے ایک بڑے پروپیگنڈے کا پردہ چاک کیا گیا ہے اور اس کا دندان شکن جواب دیا گیا ہے:

تفصیلی وضاحت (تفسیر)

1 کفار کا اعتراض (افترا کا الزام) — مشرکینِ مکہ جب قرآن کریم کے لاجواب اسلوب، فصاحت و بلاغت اور تعلیمات کا مقابلہ نہ کر سکے تو انہوں نے عوام کو گمراہ کرنے کے لیے یہ کہنا شروع کر دیا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ (نعوذ باللہ) محمد ﷺ نے اسے خود گھڑ لیا ہے — جسے قرآن نے «اِفْكٌ» یعنی صریح جھوٹ کہا ہے۔
2 دوسرے لوگوں کی مدد کا دعویٰ — کفارِ مکہ جانتے تھے کہ نبی کریم ﷺ اُمّی ہیں اور کسی سے تعلیم حاصل نہیں کی، اس لیے اپنے اعتراض کو وزن دینے کے لیے یہ شوشہ چھوڑا کہ کچھ دوسرے لوگوں نے قرآن تیار کرنے میں مدد کی ہے۔ روایات کے مطابق ان کا اشارہ مکہ میں رہنے والے کچھ اہلِ کتاب غلاموں کی طرف تھا، جیسے «جَبْر» یا «یَسَار» نامی غیر عرب غلام، جنہیں تھوڑا بہت تورات و انجیل کا علم تھا۔
3 اللہ تعالیٰ کا جواب — «فَقَدۡ جَآءُو ظُلۡمٗا وَزُورٗا» — ظلم: انہوں نے ایک سچی کتاب اور اللہ کے سچے رسول پر الزام لگا کر سخت ناانصافی کا ارتکاب کیا۔ زُور (سراسر جھوٹ): یہ ایسا جھوٹ تھا جس کی کوئی بنیاد نہیں تھی؛ جن لوگوں کی طرف اشارہ کیا جاتا تھا وہ غیر عرب (عجمی) تھے، ان کی زبان عربی نہیں تھی، جب کہ یہ قرآن انتہائی فصیح اور واضح عربی زبان میں ہے — ایک غیر عرب شخص بھلا ایسا بے مثال عربی کلام کیسے سکھا سکتا ہے؟
9 تفصیلی جوابات

وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَوۡلَا نُزِّلَ عَلَيۡهِ ٱلۡقُرۡءَانُ جُمۡلَةٗ وَٰحِدَةٗۚ كَذَٰلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهِۦ فُؤَادَكَۖ وَرَتَّلۡنَٰهُ تَرۡتِيلٗا (سورۃ الفرقان ۔ آیت 32)

آیتِ کریمہ کے مطابق قرآن مجید کے نزول پر منکرین نے کیا اعتراض کیا اور اس کا کیا جواب دیا گیا؟

سورۃ الفرقان کی آیت نمبر 32 میں منکرینِ قرآن (کفار) کا ایک بڑا اعتراض اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا نہایت حکمت بھرا جواب ذکر کیا گیا ہے۔

منکرین کا اعتراض اور قرآن پاک کا جواب

1 منکرین کا اعتراض — منکرینِ مکہ کا اعتراض یہ تھا کہ قرآن مجید یک مشت (ایک ہی بار میں) پورا کا پورا نازل کیوں نہیں کر دیا گیا، جیسے تورات، انجیل اور زبور اُن کے انبیاء پر ایک ساتھ نازل ہوئی تھیں۔ ان کا خیال تھا کہ اگر یہ واقعی اللہ کی کتاب ہے تو اسے تھوڑا تھوڑا کر کے بیس پچیس سالوں میں کیوں اتارا جا رہا ہے؟
2 قرآن پاک کا جواب — اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اعتراض کا جواب دیتے ہوئے دو اہم حکمتیں بیان فرمائیں:
3 قرآن پاک کا جواب — كَذَٰلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهِۦ فُؤَادَكَ (تاکہ ہم اس کے ذریعے آپ کے دل کو مضبوط رکھیں) — قرآن کے رفتہ رفتہ نازل ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام کے دلوں کو ڈھارس اور تسلی ملتی رہے۔ جب بھی کوئی مشکل پیش آتی، یا کفار کوئی نیا اعتراض کرتے، یا آپ ﷺ کو کوئی تکلیف پہنچاتے تو جبرائیل علیہ السلام نئی وحی لے کر حاضر ہو جاتے، جس سے قلبِ مبارک کو نئی قوت اور اطمینان حاصل ہوتا۔
4 قرآن پاک کا جواب — وَرَتَّلۡنَٰهُ تَرۡتِيلٗا (اور ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھوایا) — قرآن کو آہستہ آہستہ اور حصوں میں نازل کیا گیا تاکہ مسلمانوں کے لیے اسے سمجھنا، یاد کرنا اور عملی زندگی میں نافذ کرنا آسان ہو۔ اگر پورا قرآن ایک ساتھ نازل ہو جاتا تو تمام احکامات اور قوانین کا یک دم لاگو ہونا انسانی نفسیات پر بھاری گزرتا۔
10 تفصیلی جوابات

يَوۡمَ يَرَوۡنَ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةَ لَا بُشۡرَىٰ يَوۡمَئِذٖ لِّلۡمُجۡرِمِينَ وَيَقُولُونَ حِجۡرٗا مَّحۡجُورٗا وَقَدِمۡنَآ إِلَىٰ مَا عَمِلُواْ مِنۡ عَمَلٖ فَجَعَلۡنَٰهُ هَبَآءٗ مَّنثُورًا (سورۃ الفرقان ۔ آیات 22 تا 23)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت تحریر کریں۔

ترجمہ

"جس دن یہ فرشتوں کو دیکھیں گے، اس دن گنہگاروں (مجرمین) کے لیے کوئی خوشی کی بات نہ ہوگی اور وہ (فرشتوں کو دیکھ کر ڈر کے مارے) کہیں گے: پناہ! پناہ! (یا اللہ ہمیں ان سے دور رکھ)۔"

سورۃ الفرقان کی آیات 22 اور 23 میں قیامت کے دن مجرمین اور کفار کے احوال اور ان کے اعمال کی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔

آیت نمبر 22 اور آیت نمبر 23

1 آیت نمبر 22 — مشرکین کا مطالبہ اور حقیقت — کفارِ مکہ اکثر مطالبہ کرتے تھے کہ ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں آتے یا ہم اللہ کو کیوں نہیں دیکھ لیتے؟ اس آیت میں انہی کے مطالبے کا جواب دیا گیا ہے کہ جب وہ فرشتوں کو دیکھیں گے تو وہ ان کے لیے رحمت یا خوشی کا دن نہیں بلکہ عذاب اور سختی کا دن ہوگا۔
2 آیت نمبر 22 — فرشتوں کو کب دیکھیں گے؟ — مفسرین کے مطابق اس سے مراد دو مواقع ہو سکتے ہیں: (1) موت کے وقت — جب ملک الموت اور عذاب کے فرشتے روح قبض کرنے آتے ہیں تو کفار شدید خوف زدہ ہو جاتے ہیں؛ (2) قیامت کے دن — جب میدانِ محشر میں فرشتے مجرمین کو گھیر کر جہنم کی طرف ہانکیں گے۔
3 آیت نمبر 22 — حِجۡرٗا مَّحۡجُورٗا کا مفہوم — عربی کا یہ محاورہ اس وقت بولا جاتا ہے جب کوئی شدید مصیبت کے وقت پناہ مانگتا ہے۔ مجرمین فرشتوں کی ہیبت ناک شکلیں دیکھ کر خوف کے مارے کہیں گے کہ کاش ہمارے اور ان فرشتوں کے درمیان کوئی مضبوط اوٹ یا پردہ ہو جائے تاکہ ہم عذاب سے بچ سکیں۔
4 آیت نمبر 23 — ترجمہ: "اور انہوں نے (دنیا میں) جو اعمال بھی کیے ہوں گے، ہم ان کی طرف بڑھیں گے اور ان کو اڑتی ہوئی خاک (غبار) کی طرح (ملیا میٹ) کر دیں گے۔"
5 آیت نمبر 23 — اعمال کا ضائع ہونا — کفار اور مشرکین دنیا میں جو بھی بظاہر اچھے کام کرتے تھے — جیسے غریبوں کی مدد، مہمان نوازی، یا رشتہ داروں سے حسنِ سلوک — وہ سب قیامت کے دن بے وزن اور بے کار ہو جائیں گے۔
6 آیت نمبر 23 — قبولیتِ اعمال کی شرط — اسلام میں کسی بھی نیک عمل کی قبولیت کے لیے ایمان پہلی اور بنیادی شرط ہے۔ چونکہ ان کے پاس ایمان اور اخلاص نہیں تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو رد فرما دے گا۔
7 آیت نمبر 23 — هَبَآءٗ مَّنثُورًا کی مثال — «ہباء» اس باریک غبار یا مٹی کے ذرات کو کہتے ہیں جو دھوپ کی کرن میں اڑتے ہوئے نظر تو آتے ہیں لیکن ہاتھ مارنے پر ان کی کوئی حقیقت یا وجود نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم ان کے اعمال کو اسی طرح بے حقیقت بنا کر ہوا میں اڑا دیں گے، جن کا کوئی ثواب یا فائدہ انہیں نہیں ملے گا۔
11 تفصیلی جوابات

سورۃ الفرقان کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔

جواب نوٹ: اس سوال کا جواب نصابی کتاب سے تیار کریں۔

سرگرمیاں برائے طلبہ

12 سرگرمیاں برائے طلبہ

اچھے دوست اور برے دوست کی نشانیاں تحریر کریں اور دوستوں کے انتخاب میں ان باتوں کو یاد رکھیں۔

ایک سچا اور اچھا دوست زندگی کا ایک خوب صورت تحفہ ہوتا ہے، جب کہ ایک برا دوست آپ کے ذہنی سکون اور کامیابی کو برباد کر سکتا ہے۔ اچھے اور برے دوست کی اہم نشانیاں اور انتخاب کے اصول درج ذیل ہیں:

1 اچھے دوست کی نشانیاں — مخلص اور ہمدرد — وہ آپ کی کامیابی پر سچے دل سے خوش ہوتا ہے اور آپ کے دکھ میں برابر کا شریک ہوتا ہے؛ اس کے دل میں آپ کے لیے حسد نہیں ہوتا۔
2 اچھے دوست کی نشانیاں — رازدار اور قابلِ اعتماد — وہ آپ کی کمزوریوں اور رازوں کو اپنے تک محدود رکھتا ہے اور کبھی پیٹھ پیچھے آپ کی برائی یا چغلی نہیں کرتا۔
3 اچھے دوست کی نشانیاں — غلطیوں پر اصلاح کرنے والا — سچا دوست خوشامد کرنے کے بجائے محبت سے آپ کی غلطیوں کی نشان دہی کرتا ہے اور آپ کو بہتر انسان بننے میں مدد دیتا ہے۔
4 اچھے دوست کی نشانیاں — مشکل وقت میں ساتھ دینے والا — جب سب ساتھ چھوڑ جائیں، تب بھی وہ آپ کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے؛ وہ صرف اچھے دنوں کا ساتھی نہیں ہوتا۔
5 اچھے دوست کی نشانیاں — احترام کرنے والا — وہ آپ کی رائے، آپ کی فیملی اور آپ کی نجی زندگی کا احترام کرتا ہے۔
6 برے دوست کی نشانیاں — صرف مطلب کا ساتھی — وہ آپ کو صرف اس وقت یاد کرتا ہے جب اسے کوئی کام یا ضرورت ہو، ورنہ عام دنوں میں غائب رہتا ہے۔
7 برے دوست کی نشانیاں — حاسد اور تنقید کرنے والا — وہ آپ کی کامیابی پر خوش ہونے کے بجائے جلتا ہے اور سب کے سامنے آپ کا مذاق اڑانے یا نیچا دکھانے کی کوشش کرتا ہے۔
8 برے دوست کی نشانیاں — راز فاش کرنے والا — وہ آپ کی باتیں دوسروں کے سامنے تماشا بنا کر پیش کرتا ہے اور آپ کے بھروسے کو توڑتا ہے۔
9 برے دوست کی نشانیاں — غلط راہ پر لے جانے والا — وہ آپ کو بری عادات (جیسے جھوٹ، نشہ یا وقت کا زیاں) کی طرف راغب کرتا ہے اور اچھے کاموں سے روکتا ہے۔
10 برے دوست کی نشانیاں — احساسِ جرم دلانے والا — وہ ہمیشہ اپنی غلطیوں کا ملبہ آپ پر ڈالتا ہے اور آپ کو یہ محسوس کرواتا ہے کہ آپ اچھے دوست نہیں ہیں۔
11 دوستوں کے انتخاب میں یاد رکھنے والی اہم باتیں — کردار اور اخلاق دیکھیں — کسی کی ظاہری شکل، پیسہ یا سٹیٹس دیکھ کر دوستی نہ کریں؛ یہ دیکھیں کہ اس کے بولنے کا انداز کیسا ہے اور وہ دوسروں کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔
12 دوستوں کے انتخاب میں یاد رکھنے والی اہم باتیں — آزمائش کے وقت کا انتظار کریں — کسی کو پہلی ملاقات میں گہرا دوست نہ بنائیں؛ دوستی کو وقت دیں اور دیکھیں کہ وہ مشکل صورتِ حال میں کیسا ردِعمل دیتا ہے۔
13 دوستوں کے انتخاب میں یاد رکھنے والی اہم باتیں — مثبت سوچ کے حامل لوگ چنیں — ایسے لوگوں کے قریب رہیں جو زندگی میں آگے بڑھنے کا عزم رکھتے ہوں، کیونکہ منفی سوچ رکھنے والے آپ کی توانائی بھی نچوڑ لیں گے۔
14 دوستوں کے انتخاب میں یاد رکھنے والی اہم باتیں — دین داری اور امانت داری — جو شخص اپنے پیدا کرنے والے (اللہ) کا وفادار نہیں، وہ آپ کا وفادار کبھی نہیں ہو سکتا؛ اس لیے ایسے دوست چنیں جو خدا ترس ہوں۔
15 دوستوں کے انتخاب میں یاد رکھنے والی اہم باتیں — تعداد سے زیادہ معیار — سو منافق دوستوں سے ایک مخلص دوست ہزار گنا بہتر ہے؛ اپنے حلقۂ احباب کو چھوٹا رکھیں لیکن بہترین رکھیں۔
جواب حاصلِ کلام: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "انسان اپنے دوست کے دین (اور طور طریقے) پر ہوتا ہے، اس لیے تم میں سے ہر شخص کو یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے۔" (ترمذی)
13 سرگرمیاں برائے طلبہ

جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر دوسروں کی مدد کرنا سخت گناہ ہے — طلبہ کو اس سے بچنے کی ترغیب دلائیں۔

جھوٹ بولنا اخلاقی، سماجی اور دینی ہر اعتبار سے ایک ایسا سنگین گناہ ہے جو انسان کے پورے کردار کو دیمک کی طرح چاٹ جاتا ہے۔ اس سے بھی بدتر بات کسی کے جھوٹ پر اس کا ساتھ دینا یا اس کی مدد کرنا ہے۔ طلبہ، جو معاشرے کا مستقبل اور قوم کی امید ہوتے ہیں، ان کے لیے اس برائی کو سمجھنا اور اس سے دور رہنا انتہائی ضروری ہے۔

1 جھوٹ کی سنگینی — تمام برائیوں کی جڑ — رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ کیا مومن بزدل ہو سکتا ہے؟ فرمایا: ہاں۔ پوچھا گیا: کیا وہ بخیل ہو سکتا ہے؟ فرمایا: ہاں۔ پھر پوچھا گیا: کیا مومن جھوٹا ہو سکتا ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: "نہیں۔" (مؤطا امام مالک) — معلوم ہوا کہ ایمان اور جھوٹ ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔
2 جھوٹ کی سنگینی — منافقت کی نشانی — حدیثِ مبارکہ کے مطابق منافق کی نشانیوں میں سے ایک بڑی نشانی یہ ہے کہ "جب وہ بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے"۔
3 جھوٹ کی سنگینی — جھوٹ پر مدد کرنا (گناہ میں تعاون) — قرآن مجید کا واضح اصول ہے: "گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو" (المائدہ: 2)۔ جب آپ کسی دوست کے جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لیے گواہی دیتے ہیں یا اس کا پردہ رکھنے کے لیے خود جھوٹ بولتے ہیں، تو آپ اس کے گناہ میں برابر کے شریک بن جاتے ہیں۔
4 طلبہ کی زندگی میں جھوٹ کے نقصانات — اعتماد کا خاتمہ — ایک بار جب کسی طالب علم کا جھوٹ اساتذہ یا والدین کے سامنے پکڑا جائے تو وہ اس پر سے اعتماد کھو دیتے ہیں؛ پھر وہ سچ بھی بولے تو لوگ اسے شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
5 طلبہ کی زندگی میں جھوٹ کے نقصانات — علم کی برکت سے محرومی — علم ایک نور ہے اور جھوٹ ایک اندھیرا؛ جھوٹ بولنے والے طالب علم کے علم سے برکت ختم ہو جاتی ہے اور وہ حقیقی کامیابی حاصل نہیں کر پاتا۔
6 طلبہ کی زندگی میں جھوٹ کے نقصانات — ذہنی تناؤ — ایک جھوٹ کو چھپانے کے لیے انسان کو سو جھوٹ بولنے پڑتے ہیں، جس کی وجہ سے طالب علم کا ذہن ہمیشہ خوف اور دباؤ کا شکار رہتا ہے کہ کہیں پول نہ کھل جائے۔
7 جھوٹ سے بچنے کی عملی نصیحتیں — سچ بولنے کی جرأت پیدا کریں — اگر آپ سے کوئی غلطی ہو گئی ہے (مثلاً ٹیسٹ خراب ہوا یا کوئی نقصان ہوا) تو بہانے بنانے کے بجائے سچ بول کر غلطی تسلیم کریں۔ شروع میں شاید ڈانٹ پڑے، لیکن آپ کی سچائی کی وجہ سے اساتذہ اور والدین کے دل میں آپ کی عزت بڑھ جائے گی۔
8 جھوٹ سے بچنے کی عملی نصیحتیں — "وفاداری" کے غلط تصور سے نکلیں — اکثر طلبہ دوستوں کو بچانے کے لیے اساتذہ کے سامنے جھوٹ بول دیتے ہیں اور اسے "دوستی نبھانا" کہتے ہیں۔ یاد رکھیں: سچا دوست وہ ہے جو آپ کو گناہ سے روکے، نہ کہ وہ جو آپ کو اپنے ساتھ گناہ کے دلدل میں دھکیل دے۔
9 جھوٹ سے بچنے کی عملی نصیحتیں — نقل اور دھوکہ دہی سے بچیں — امتحان میں نقل کرنا یا کسی اور کا اسائنمنٹ اپنے نام سے جمع کروانا بدترین جھوٹ اور دھوکہ ہے۔ عارضی طور پر شاید اچھے نمبر مل جائیں، لیکن عملی زندگی میں آپ ناکام رہیں گے کیونکہ آپ کے پاس حقیقی مہارت نہیں ہوگی۔
10 جھوٹ سے بچنے کی عملی نصیحتیں — ماحول کا انتخاب سوچ سمجھ کر کریں — اگر آپ کے دوست مبالغہ آرائی کرتے ہیں، دوسروں پر جھوٹے الزامات لگاتے ہیں یا مذاق میں بھی جھوٹ بولتے ہیں، تو ایسے حلقۂ احباب سے فوراً دور ہو جائیں اور اچھے، سچے لوگوں کی صحبت اختیار کریں۔
جواب حاصلِ کلام: سچائی انسان کو نجات دلاتی ہے اور جھوٹ انسان کو ہلاک کر دیتا ہے۔ ایک بہترین طالب علم اور معاشرے کا معزز شہری بننے کے لیے آج ہی سے یہ عہد کریں کہ نہ ہم خود کبھی جھوٹ کا سہارا لیں گے اور نہ کسی دوسرے کے جھوٹ کا حصہ بنیں گے۔
14 سرگرمیاں برائے طلبہ

قرآنِ حکیم کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے کی اہمیت پر مذاکرہ کریں۔

قرآنِ حکیم کو ٹھہر ٹھہر کر اور تجوید کے ساتھ پڑھنا محض ایک قرآنی حکم ہی نہیں، بلکہ اس عظیم کتاب کے فہم اور اس پر عمل کرنے کی پہلی سیڑھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: «وَرَتِّلِ ٱلۡقُرۡءَانَ تَرۡتِيلًا» — "اور قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر (ترتیل کے ساتھ) پڑھو۔" (المزمل: 4)

1 ترتیل کا مفہوم — حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جب "ترتیل" کا مفہوم پوچھا گیا تو فرمایا: "ترتیل کا مطلب ہے حروف کو ان کے مخارج سے صحیح ادا کرنا (تجوید کا خیال رکھنا) اور وقف (کہاں رکنا ہے اور کہاں نہیں) کے اصولوں کو جاننا۔" یعنی قرآن اس طرح پڑھا جائے کہ نہ الفاظ آپس میں گڈمڈ ہوں اور نہ اتنی سستی ہو کہ تسلسل ٹوٹ جائے، بلکہ ہر حرف اپنی پوری شان اور خوب صورتی کے ساتھ واضح ہو۔
2 ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے کی اہمیت اور فوائد — تدبر اور غور و فکر کا موقع — قرآن مجید کا اصل مقصد ہدایت ہے، اور ہدایت تب ہی حاصل ہوتی ہے جب انسان آیات کے مفہوم پر غور کرے۔ تیزی سے پڑھنے میں ذہن صرف الفاظ ادا کرنے پر مرکوز ہوتا ہے؛ ٹھہر کر پڑھنے سے دل اور دماغ کو ہر آیت کے معنی، اللہ کے احکامات، جنت و دوزخ کے تذکرے اور عبرت ناک قصوں پر غور کرنے کا وقت ملتا ہے۔
3 ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے کی اہمیت اور فوائد — دل کی رقت اور اثر پذیری — نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کا معمول تھا کہ وہ قرآن اس طرح پڑھتے کہ دل پگھل جاتے۔ احادیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ بعض اوقات رات بھر ایک ہی آیت کو بار بار دہراتے۔ ٹھہر کر پڑھنے سے آیات کا اثر سیدھا دل پر ہوتا ہے، جس سے ایمان میں اضافہ اور خشوع و خضوع پیدا ہوتا ہے۔
4 ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے کی اہمیت اور فوائد — مخارج اور اعراب کی درستی — عربی ایک حساس زبان ہے جہاں ایک زبر یا زیر کی تبدیلی سے پورے جملے کا مطلب بدل سکتا ہے (مثلاً «قَلب» کا مطلب دل ہے اور «کَلب» کا مطلب کتا)۔ جلدی میں پڑھنے سے الفاظ کے بگڑنے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے، جب کہ ٹھہر کر پڑھنے سے یہ غلطیاں نہیں ہوتیں۔
5 تیزی سے پڑھنے کے نقصانات — بعض لوگ صرف یہ سوچ کر قرآن بہت تیز رفتاری سے پڑھتے ہیں کہ جلد از جلد دور مکمل ہو جائے اور زیادہ ثواب ملے۔ اگرچہ قرآن کے ہر حرف پر ثواب ہے، لیکن علماء فرماتے ہیں کہ مفہوم سمجھے بغیر اور حروف کو ضائع کر کے پڑھنا قرآن کے آداب کے خلاف ہے، اور ایسی تیزی جس سے الفاظ کٹ جائیں گناہ کا باعث بن سکتی ہے کیونکہ اس سے قرآن کی بے ادبی ہوتی ہے۔
6 یاد رکھنے والی باتیں — مقصد صرف ختم کرنا نہ ہو — تلاوت کا مقصد معیار ہونا چاہیے، تعداد نہیں۔ ایک رکوع جو دل کی حاضری اور سمجھ کر پڑھا جائے، وہ بغیر سمجھے اور بغیر ترتیل کے پڑھے گئے پورے سپارے سے بہتر ہے۔
7 یاد رکھنے والی باتیں — خوش الحانی سے پڑھیں — آواز کو خوب صورت بنا کر اور ٹھہر کر پڑھنے سے سننے والے پر بھی اثر ہوتا ہے۔
8 یاد رکھنے والی باتیں — ترجمے کا ساتھ رکھیں — اگر عربی زبان پر عبور نہ ہو تو ٹھہر کر پڑھتے ہوئے ساتھ ترجمے پر نظر ڈالنا تلاوت کے فائدے کو دوبالا کر دیتا ہے۔
15 سرگرمیاں برائے طلبہ

قرآن مجید کی تلاوت اور فہم کی اہمیت سے طلبہ کو آگاہ کرتے ہوئے قرآن مجید کے حقوق بتائیں اور ان پر عمل کرنے کی ترغیب دلائیں۔

قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا آخری کلام اور بنی نوعِ انسان کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ اس کی تلاوت، فہم اور اس کے حقوق کو ادا کرنا ہر مسلمان کی دینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔

1 تلاوت کی اہمیت — روحانی غذا اور سکون — قرآن کی تلاوت دلوں کو زنگ سے پاک کرتی ہے اور انسان کو ذہنی و روحانی سکون عطا کرتی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "سنو! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔" (الرعد: 28)
2 تلاوت کی اہمیت — عظیم ثواب — نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ قرآن کا ایک حرف پڑھنے پر دس نیکیاں ملتی ہیں؛ یہ ایک ایسی تجارت ہے جس میں کبھی نقصان نہیں ہوتا۔
3 تلاوت کی اہمیت — شفاعت کا ذریعہ — قیامت کے دن قرآن اپنے پڑھنے والے کے حق میں سفارش کرے گا اور اسے جنت میں لے جانے کا باعث بنے گا۔
4 فہمِ قرآن کی اہمیت — نزول کا اصل مقصد — قرآن صرف پڑھنے کے لیے نہیں بلکہ سمجھنے کے لیے نازل کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "کیا یہ لوگ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے؟" (النساء: 82)
5 فہمِ قرآن کی اہمیت — گمراہی سے نجات — جب تک ہم قرآن کا مفہوم نہیں سمجھیں گے، ہمیں معلوم نہیں ہو سکے گا کہ اللہ ہم سے کیا تقاضا کر رہا ہے۔ فہمِ قرآن ہی انسان کو صراطِ مستقیم پر گامزن رکھتا ہے۔
6 قرآن مجید کے بنیادی حقوق — ایمان لانا — دل سے تسلیم کرنا کہ یہ اللہ کا سچا کلام ہے اور اس میں کوئی شک نہیں۔
7 قرآن مجید کے بنیادی حقوق — تلاوت کرنا — روزانہ کی بنیاد پر تجوید اور ترتیل (ٹھہر ٹھہر کر) کے ساتھ اس کی تلاوت کرنا۔
8 قرآن مجید کے بنیادی حقوق — سمجھنا (تدبر) — اس کے ترجمے، تفسیر اور مفہوم کو سمجھنے کی کوشش کرنا۔
9 قرآن مجید کے بنیادی حقوق — عمل کرنا — قرآن کے حلال کردہ کو حلال اور حرام کردہ کو حرام جاننا اور اس کے احکامات کو زندگی میں نافذ کرنا۔
10 قرآن مجید کے بنیادی حقوق — پھیلانا (تبلیغ) — جو کچھ قرآن سے سیکھا ہے، اسے دوسروں تک پہنچانا۔
11 عمل کرنے کے عملی طریقے — روزانہ کا ایک وقت مقرر کریں — تلاوتِ قرآن کے لیے صبح (فجر کے بعد) یا رات کا کوئی ایک وقت مخصوص کر لیں؛ چاہے روزانہ صرف ایک صفحہ ہی پڑھیں، لیکن تسلسل رکھیں۔
12 عمل کرنے کے عملی طریقے — ترجمے والا قرآن استعمال کریں — اگر عربی نہیں آتی تو ایسا قرآن پاک اپنے پاس رکھیں جس میں آسان اردو ترجمہ ہو، اور ہر تلاوت کے بعد پڑھی گئی آیات کا ترجمہ لازمی دیکھیں۔
13 عمل کرنے کے عملی طریقے — مستند ایپس کا استعمال — سفر میں یا فارغ وقت میں سوشل میڈیا سکرول کرنے کے بجائے چند منٹ ترجمہ و تفسیر پڑھنے کی عادت بنائیں۔
14 عمل کرنے کے عملی طریقے — سیکھنے کا عمل جاری رکھیں — کسی مستند قاری یا عالم سے آن لائن یا آف لائن تجوید اور فہمِ قرآن سیکھنے کے لیے ہفتے میں ایک دو گھنٹے نکالیں؛ سیکھنے کی کوئی عمر نہیں ہوتی۔
15 عمل کرنے کے عملی طریقے — گھروں میں قرآنی ماحول بنائیں — اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کے سامنے تلاوت کریں تاکہ ان میں بھی شوق پیدا ہو، اور گھر کے اخلاق و معاملات کو قرآن کے اصولوں کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں۔
جواب حاصلِ کلام: نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: "تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو قرآن سیکھے اور دوسروں کو سکھائے۔" (بخاری) — اگر ہم دنیا اور آخرت میں کامیابی چاہتے ہیں تو ہمیں قرآن کو محض برکت کے لیے الماری میں سجانے کے بجائے اپنی زندگی کا رہنما بنانا ہوگا۔
16 سرگرمیاں برائے طلبہ

انبیاءِ کرام علیہم السلام کی شان اور انسانوں میں انہیں مبعوث کیے جانے کی حکمت سے طلبہ کو آگاہ کریں۔

انبیاءِ کرام علیہم السلام کائنات کی وہ عظیم ترین اور معزز ترین ہستیاں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی رشد و ہدایت کے لیے منتخب فرمایا۔ طلبہ کے لیے انبیاء کی شان اور ان کی بعثت کی حکمتوں کو سمجھنا ایمان کی پختگی اور کردار سازی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

1 انبیاءِ کرام علیہم السلام کی شان اور مقام — انتخابِ الٰہی — نبوت کوئی ایسی چیز نہیں جسے محنت یا عبادت سے حاصل کیا جا سکے، بلکہ یہ اللہ کا خاص فضل ہے جسے وہ اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے منتخب فرماتا ہے۔
2 انبیاءِ کرام علیہم السلام کی شان اور مقام — معصوم عن الخطا — تمام انبیاءِ کرام گناہوں سے پاک اور معصوم ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی حفاظت خود فرماتا ہے تاکہ وہ دین کو بغیر کسی غلطی کے انسانوں تک پہنچا سکیں۔
3 انبیاءِ کرام علیہم السلام کی شان اور مقام — کامل ترین انسان — انبیاء اپنے دور کے سب سے بہترین اخلاق، اعلیٰ ترین ذہانت، شجاعت اور امانت داری کے مالک ہوتے ہیں۔ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کو تو اللہ نے "خلقِ عظیم" (اخلاق کے اعلیٰ ترین مرتبے) پر فائز فرمایا۔
4 انبیاءِ کرام علیہم السلام کی شان اور مقام — معجزات سے تائید — اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی سچائی ثابت کرنے کے لیے انہیں معجزات عطا کیے — جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مُردوں کو زندہ کرنا، اور ہمارے نبی ﷺ کا معجزۂ شقِ قمر اور سب سے بڑا دائمی معجزہ "قرآن مجید"۔
5 انسانوں میں انبیاء کو مبعوث کرنے کی حکمتیں — اللہ تعالیٰ چاہتا تو فرشتوں کو بھی رسول بنا کر بھیج سکتا تھا، لیکن اس نے انسانوں ہی میں سے انسانوں کو نبی بنا کر بھیجا۔ اس کے پیچھے چند عظیم حکمتیں کارفرما ہیں:
6 انسانوں میں انبیاء کو مبعوث کرنے کی حکمتیں — عملی نمونہ — اگر فرشتے نبی بن کر آتے تو انسان عذر پیش کر سکتے کہ فرشتے تو معصوم ہیں — نہ انہیں بھوک لگتی ہے، نہ جذبات ہوتے ہیں، نہ وہ بیمار ہوتے ہیں — وہ تو اطاعت کر سکتے ہیں، ہم انسان کیسے کریں؟ اللہ نے انسانوں ہی میں سے نبی بھیجے تاکہ وہ کھائیں پیئیں، شادیاں کریں، خوشی اور غمی کا سامنا کریں اور پھر اللہ کے احکامات پر عمل کر کے دکھائیں، تاکہ انسانوں کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہے اور وہ ان کا اسوہ اپنا سکیں۔
7 انسانوں میں انبیاء کو مبعوث کرنے کی حکمتیں — ہم جنسی اور مانوسیت — انسان فرشتوں کو دیکھ کر خوف زدہ ہو سکتے تھے اور ان سے دل کی بات یا سوالات اس طرح نہیں پوچھ سکتے تھے جیسے ایک انسان دوسرے انسان سے پوچھتا ہے۔ انسانی رسول ہونے کی وجہ سے لوگوں کے لیے ان کے قریب آنا، ان سے محبت کرنا اور ان کی بات سمجھنا آسان ہو گیا۔
8 انسانوں میں انبیاء کو مبعوث کرنے کی حکمتیں — اتمامِ حجت — قیامت کے دن کوئی انسان یہ نہ کہہ سکے کہ اے اللہ! ہمیں معلوم ہی نہیں تھا کہ تو ہم سے کیا چاہتا ہے، ہمیں کسی نے سیدھا راستہ نہیں دکھایا۔ انبیاء کی بعثت سے اللہ نے انسانوں پر حجت تمام کر دی۔
9 انسانوں میں انبیاء کو مبعوث کرنے کی حکمتیں — معاشرے کی اصلاح اور عدل کا قیام — انبیاء صرف عبادات سکھانے نہیں آئے، بلکہ وہ معاشرے سے ظلم، ناانصافی، طبقاتی نظام اور اخلاقی برائیوں کو ختم کرنے آئے۔ انہوں نے انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر ایک اللہ کی بندگی میں دیا۔
10 طلبہ کے لیے پیغام اور عملی سبق — سچائی اور امانت داری — ہمارے نبی ﷺ کو نبوت سے پہلے ہی معاشرے میں "صادق" اور "امین" مانا جاتا تھا۔ ایک طالب علم کو اپنے قول اور فعل میں سچا اور دیانت دار ہونا چاہیے۔
11 طلبہ کے لیے پیغام اور عملی سبق — علم کی جستجو — انبیاءِ کرام کائنات کے سب سے بڑے معلم تھے۔ طلبہ کو چاہیے کہ وہ علم حاصل کرنے کو اپنی زندگی کا مقصد بنائیں تاکہ وہ معاشرے کی رہنمائی کر سکیں۔
12 طلبہ کے لیے پیغام اور عملی سبق — مشکلات پر صبر — انبیاء کو دین کی دعوت میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن انہوں نے صبر کا دامن نہیں چھوڑا۔ طلبہ کو بھی پڑھائی یا زندگی کے امتحانات میں آنے والی مشکلات سے گھبرانا نہیں چاہیے بلکہ ثابت قدم رہنا چاہیے۔
جواب حاصلِ کلام: انبیاءِ کرام علیہم السلام کائنات کے سچے ہیرو ہیں۔ آج کے دور میں جب نوجوان فلمی ستاروں یا سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو اپنا رول ماڈل بناتے ہیں، طلبہ کو یاد رکھنا چاہیے کہ حقیقی اور ابدی رول ماڈل صرف انبیاءِ کرام کی ذاتِ گرامی ہے، جن کی پیروی دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کی ضامن ہے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.