نویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 10: سبق 10: سورۃ الفرقان (حصہ دوم) — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں برائے طلبہ · 15 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

اَمۡ تَحۡسَبُ اَنَّ اَكۡثَرَهُمۡ يَسۡمَعُوۡنَ اَوۡ يَعۡقِلُوۡنَ​ ؕ اِنۡ هُمۡ اِلَّا كَالۡاَنۡعَامِ​ بَلۡ هُمۡ اَضَلُّ سَبِيۡلًا (سورۃ الفرقان ۔ آیت 44)

آیت نمبر 44 کا ترجمہ تحریر کریں۔ آیتِ کریمہ میں خواہشِ نفس کو معبود بنانے والوں کے بارے میں کیا بتایا گیا ہے؟

ترجمہ

"کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ان میں سے اکثر سنتے یا سمجھتے ہیں؟ یہ تو محض چوپایوں (جانوروں) کی طرح ہیں، بلکہ ان سے بھی زیادہ راہِ راست سے بھٹکے ہوئے ہیں۔"

آیتِ کریمہ (اور اس سے پہلی آیت) میں جو لوگ اپنے دل کی خواہشات اور نفس کو اپنا معبود بنا لیتے ہیں، ان کے بارے میں درج ذیل باتیں بتائی گئی ہیں:

1 جانوروں سے بدتر — جو لوگ حق کی آواز کو نہیں سنتے اور عقل سے کام نہیں لیتے بلکہ صرف اپنی نفسانی خواہشات کے پیچھے چلتے ہیں، وہ انسان کہلانے کے لائق نہیں بلکہ چوپایوں کی طرح ہیں۔
2 گمراہی میں آگے — جانور تو پھر بھی اپنے نفع اور نقصان کو پہچانتا ہے اور اپنے مالک کا وفادار ہوتا ہے، لیکن خواہشِ نفس کے پجاری انسان اپنے حقیقی مالک (اللہ) کو بھول جاتے ہیں اور اپنے فائدے (آخرت) کو برباد کر دیتے ہیں، اس لیے یہ جانوروں سے بھی زیادہ گمراہ ہیں۔
3 عقل اور سماعت کا ضیاع — ایسے لوگوں کے پاس کان اور عقل تو ہوتی ہے لیکن وہ حق کو سننے اور سمجھنے کے لیے انہیں استعمال نہیں کرتے، جس کی وجہ سے ان کی عقل پر پردہ پڑ جاتا ہے۔
2 مختصر جوابات

وَهُوَ ٱلَّذِي جَعَلَ لَكُمُ ٱلَّيۡلَ لِبَاسٗا وَٱلنَّوۡمَ سُبَاتٗا وَجَعَلَ ٱلنَّهَارَ نُشُورٗا (سورۃ الفرقان ۔ آیت 47)

آیتِ کریمہ میں رات، نیند اور دن کا کیا مقصد بیان ہوا ہے؟

ترجمہ

"اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے رات کو لباس بنایا، اور نیند کو راحت (سکون) بنایا، اور دن کو اٹھ کھڑے ہونے (کام کاج) کا وقت بنایا۔"

1 رات کا مقصد (لباس) — اللہ تعالیٰ نے رات کے اندھیرے کو انسان کے لیے ایک "لباس" یا پردہ بنایا ہے۔ جیسے لباس انسان کے جسم کو ڈھانپ لیتا ہے، ویسے ہی رات کا اندھیرا پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے تاکہ پرسکون ماحول پیدا ہو۔
2 نیند کا مقصد (سُبات/راحت) — نیند کو انسان کے لیے آرام، سکون اور تھکن دور کرنے کا ذریعہ بنایا ہے۔ دن بھر کی ذہنی اور جسمانی مشقت کے بعد نیند انسان کی توانائی کو دوبارہ بحال کرتی ہے۔
3 دن کا مقصد (نشور/اٹھ کھڑے ہونا) — اس کے دو معنی ہیں: (1) معاشی مقصد — دن کی روشنی پھیلتے ہی تمام انسان اور جاندار بیدار ہو کر اپنے رزق اور کام کاج کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں؛ (2) آخرت کی یاد دہانی — جیسے رات کو انسان سو جاتا ہے (جو موت کی مانند ہے) اور صبح دوبارہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے، اسی طرح قیامت کے دن تمام انسانوں کو دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا جائے گا۔
3 مختصر جوابات

وَاَنۡزَلۡنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَهُوۡرًا ۙ۔لِّـنُحْیِۦَ بِهٖ بَلۡدَةً مَّيۡتًا وَّنُسۡقِيَهٗ مِمَّا خَلَقۡنَاۤ اَنۡعَامًا وَّاَنَاسِىَّ كَثِيۡرًا (سورۃ الفرقان ۔ آیات 48 تا 49)

آیاتِ کریمہ کی روشنی میں بارش کے فائدے تحریر کریں۔

ترجمہ

"اور وہی ہے جو اپنی رحمت (بارش) کے آگے آگے ہواؤں کو خوش خبری بنا کر بھیجتا ہے، اور ہم نے آسمان سے پاک (اور پاک کرنے والا) پانی اتارا، تاکہ ہم اس کے ذریعے مردہ زمین کو زندہ کریں اور اسے اپنی مخلوقات میں سے بہت سے چوپایوں اور انسانوں کو پلائیں۔"

ان آیاتِ کریمہ میں بارش کے درج ذیل تین بڑے فائدے بیان کیے گئے ہیں:

1 پانی کا پاکیزہ ذریعہ (مَآءٗ طَهُورٗا) — آسمان سے گرنے والا بارش کا پانی اپنی اصل میں بالکل صاف، پاک اور دوسری چیزوں کو پاک کرنے والا ہوتا ہے، جو انسانوں اور زمین کی طہارت و صفائی کا بہترین ذریعہ ہے۔
2 مردہ زمین کا زندہ ہونا (لِّنُحۡـِۧيَ بِهِۦ بَلۡدَةٗ مَّيۡتٗا) — بارش کا پانی خشک اور بنجر زمین کے لیے زندگی کا پیغام لاتا ہے؛ اس کے برسنے سے مردہ زمین بیدار ہو جاتی ہے، اس میں سے سبزہ، غلہ، باغات اور نباتات اگتے ہیں جو پوری مخلوق کی خوراک کا سبب بنتے ہیں۔
3 مخلوقات کی پیاس بجھانا (أَنۡعَٰمٗا وَأَنَاسِيَّ كَثِيرٗا) — یہ پانی انسانوں اور جانوروں کی زندگی برقرار رکھنے کے لیے پینے کا بنیادی ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے لاکھوں کروڑوں انسانوں اور بے زبان جانوروں کو سیراب فرماتا ہے۔
4 مختصر جوابات

وَعِبَادُ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلَّذِينَ يَمۡشُونَ عَلَى ٱلۡأَرۡضِ هَوۡنٗا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ ٱلۡجَٰهِلُونَ قَالُواْ سَلَٰمٗا (سورۃ الفرقان ۔ آیت 63)

آیتِ کریمہ میں رحمان کے پسندیدہ بندوں کی کیا صفات بیان ہوئی ہیں؟

ترجمہ

"اور رحمان کے (سچے) بندے وہ ہیں جو زمین پر عاجزی (اور وقار) کے ساتھ چلتے ہیں اور جب جاہل لوگ ان سے (الجھنے والی) بات کرتے ہیں تو وہ سلام کہتے ہیں (یعنی امن کی بات کہہ کر الگ ہو جاتے ہیں)۔"

اس آیتِ کریمہ میں پسندیدہ بندوں کی درج ذیل دو صفات بیان ہوئی ہیں:

1 عاجزی اور انکساری — رحمان کے بندے زمین پر اکڑ کر یا تکبر کے ساتھ نہیں چلتے، بلکہ ان کی چال میں عاجزی، سادگی، شرافت اور وقار ہوتا ہے؛ ان کے دلوں میں غرور نہیں ہوتا۔
2 بردباری اور جہالت کا جواب شرافت سے دینا — جب کوئی جاہل یا کم عقل شخص ان سے بدتمیزی کرتا ہے، بحث کرتا ہے یا الجھنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ آگے سے لڑائی جھگڑا نہیں کرتے، بلکہ "سلام" کہہ کر (خیر خواہی اور امن پسندی کا رویہ اپنا کر) شرافت سے گزر جاتے ہیں اور اپنا وقت ضائع نہیں کرتے۔
5 مختصر جوابات

وَٱلَّذِينَ إِذَآ أَنفَقُواْ لَمۡ يُسۡرِفُواْ وَلَمۡ يَقۡتُرُواْ وَكَانَ بَيۡنَ ذَٰلِكَ قَوَامٗا (سورۃ الفرقان ۔ آیت 67)

آیتِ کریمہ کے مطابق عباد الرحمٰن کا مال خرچ کرنے کے حوالے سے کیا انداز ہوتا ہے؟

ترجمہ

"اور (رحمان کے بندے وہ ہیں) جو جب خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی (اسراف) کرتے ہیں اور نہ ہی کنجوسی (بخل) کرتے ہیں، بلکہ ان کا خرچ ان دونوں کے درمیان اعتدال (توازن) پر ہوتا ہے۔"

اس آیتِ کریمہ کے مطابق عباد الرحمٰن مال خرچ کرتے ہوئے درج ذیل باتوں کا خیال رکھتے ہیں:

1 فضول خرچی (اسراف) سے بچنا — وہ اپنے مال کو ناجائز، حرام یا بے جا چیزوں پر اڑا کر ضائع نہیں کرتے اور نمائش یا دکھاوے سے دور رہتے ہیں۔
2 کنجوسی (بخل) سے بچنا — وہ اپنے مال کو اس طرح دبا کر بھی نہیں رکھتے کہ اپنی اور اپنے اہل و عیال کی جائز ضروریات یا اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے ہاتھ روک لیں۔
3 اعتدال اور توازن — ان کا پورا اندازِ زندگی میانہ روی پر مبنی ہوتا ہے؛ نہ ضرورت سے زیادہ لٹاتے ہیں اور نہ ضرورت کے وقت تنگ دلی دکھاتے ہیں، بلکہ دونوں انتہاؤں کے درمیان کا متوازن راستہ اختیار کرتے ہیں۔

تفصیلی جوابات

6 تفصیلی جوابات

فَقُلۡنَا ٱذۡهَبَآ إِلَى ٱلۡقَوۡمِ ٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَا فَدَمَّرۡنَٰهُمۡ تَدۡمِيرٗا (سورۃ الفرقان ۔ آیت 36)

سورۃ الفرقان آیت نمبر 36 کا ترجمہ اور وضاحت تحریر کریں۔

ترجمہ

"پھر ہم نے فرمایا کہ تم دونوں اس قوم کی طرف جاؤ جس نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہے، پھر (جب انہوں نے سرکشی کی تو) ہم نے انہیں پوری طرح تباہ و برباد کر دیا۔"

آیت کی تفصیلی وضاحت اور آیت سے ملنے والا عملی سبق

1 آیت کی تفصیلی وضاحت — پس منظر — اس سے ٹھیک پہلی آیت (نمبر 35) میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اور بے شک ہم نے موسیٰ کو کتاب (تورات) عطا کی اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون کو ان کا مددگار (وزیر) بنایا۔" اس کے فوراً بعد آیت 36 میں اس مشن کا ذکر ہے جو ان دونوں بھائیوں کو سونپا گیا۔
2 آیت کی تفصیلی وضاحت — "تم دونوں جاؤ" (ٱذۡهَبَآ) سے مراد — اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ حضرت ہارون علیہ السلام کو بھی نبوت سے سرفراز فرمایا اور دونوں کو حکم دیا کہ فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس جائیں۔ حضرت ہارون علیہ السلام کو شامل کرنے کی حکمت یہ تھی کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زبان میں لکنت تھی اور حضرت ہارون علیہ السلام فصیح البیان تھے، جس سے دعوت کا کام زیادہ مؤثر انداز میں ہو سکتا تھا۔
3 آیت کی تفصیلی وضاحت — "جس نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا" سے مراد — یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام ابھی جا ہی رہے تھے تو اللہ نے پہلے ہی کیوں فرما دیا کہ "انہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا"؟ مفسرین نے دو جواب دیے ہیں: (1) فرعون اور اس کے لوگ پہلے ہی سے اللہ کی توحید اور سابقہ انبیاء کی تعلیمات کے منکر اور سرکش تھے؛ (2) اللہ تعالیٰ اپنے ازلی علم سے جانتا تھا کہ یہ لوگ دعوت پہنچنے کے بعد بھی تکذیب پر ہی اڑے رہیں گے۔
4 آیت کی تفصیلی وضاحت — عبرت ناک انجام (فَدَمَّرۡنَٰهُمۡ تَدۡمِيرٗا) — جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کو اللہ کا پیغام پہنچایا اور لاٹھی کا سانپ بننا اور یدِ بیضا جیسے عظیم معجزات دکھائے تو فرعون نے انہیں جادوگر کہا اور سرکشی میں بڑھتا چلا گیا۔ جب اس نے توبہ کی تمام مہلتیں گنوا دیں تو اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کے لشکر کو بحیرۂ احمر میں غرق کر کے نام و نشان مٹا دیا۔ "تَدۡمِيرٗا" (پوری طرح تباہ کرنا) کا لفظ اس عذاب کی ہولناکی کو ظاہر کرتا ہے۔
5 آیت سے ملنے والا عملی سبق — حق کی دعوت سے منہ موڑنے کا انجام — جب کوئی قوم یا فرد اللہ کے احکامات اور سچائی کو جان بوجھ کر جھٹلاتا ہے اور اپنی طاقت کے نشے میں اندھا ہو جاتا ہے تو اللہ کا عذاب اسے مٹا کر رکھ دیتا ہے۔
6 آیت سے ملنے والا عملی سبق — طاقت ور کا زوال — فرعون اپنے وقت کا سب سے بڑا بادشاہ تھا اور خود کو خدا کہتا تھا، لیکن اللہ نے اسے پانی کی لہروں کے ذریعے عبرت کی نشانی بنا دیا — تکبر کا انجام ہمیشہ ذلت ہوتا ہے۔
7 تفصیلی جوابات

وَهُوَ ٱلَّذِي مَرَجَ ٱلۡبَحۡرَيۡنِ هَٰذَا عَذۡبٞ فُرَاتٞ وَهَٰذَا مِلۡحٌ أُجَاجٞ وَجَعَلَ بَيۡنَهُمَا بَرۡزَخٗا وَحِجۡرٗا مَّحۡجُورٗا (سورۃ الفرقان ۔ آیت 53)

آیتِ کریمہ میں بیان کردہ دو پانیوں (میٹھے اور کھاری) کی صفات اور ان کے درمیان قدرت کے نظام کی وضاحت کریں۔

اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے کائنات میں اپنی قدرت کی ایک عظیم نشانی کا ذکر کرتے ہوئے دو مختلف قسم کے پانیوں (دریاؤں اور سمندروں) کا موازنہ فرمایا ہے:

1 پہلے پانی (دریا) کی صفات: عَذۡبٞ فُرَاتٞ — عذب (میٹھا): ایسا پانی جو پینے میں انتہائی لذیذ اور شیریں ہے؛ فرات (پیاس بجھانے والا): نہ صرف میٹھا بلکہ خوش گوار، جو انسانوں اور جانوروں کی پیاس کو تسکین دیتا ہے۔ یہ عام طور پر دریاؤں اور میٹھے پانی کے چشموں کا پانی ہوتا ہے۔
2 دوسرے پانی (سمندر) کی صفات: مِلۡحٌ أُجَاجٞ — ملح (نمکین): انتہائی کھاری اور نمکین پانی؛ اجاج (کڑوا/جلانے والا): اس قدر نمکین کہ کڑوا محسوس ہوتا ہے اور پیاس بجھانے کے بجائے حلق کو جلاتا ہے۔ یہ عام طور پر بڑے سمندروں کا پانی ہوتا ہے۔
3 دونوں کے درمیان قدرت کا نظام: بَرۡزَخٗا وَحِجۡرٗا مَّحۡجُورٗا — یہ دونوں مختلف صفت والے پانی دنیا میں کئی مقامات پر ایک ساتھ بہتے اور آپس میں ملتے ہیں، لیکن اللہ نے ان کے درمیان ایک نادیدہ پردہ (برزخ) اور ایسی مضبوط قدرتی رکاوٹ (حجراً محجوراً) قائم کر دی ہے جس کی وجہ سے میٹھا پانی کھاری نہیں ہوتا اور کھاری پانی میٹھے کے ذائقے کو خراب نہیں کرتا — دونوں اپنی اپنی حدود اور صفات برقرار رکھتے ہیں۔
جواب حاصلِ کلام: یہ آیت اللہ تعالیٰ کی کامل حکمت اور قدرت کی بہترین دلیل ہے کہ دو بالکل مختلف خصوصیات رکھنے والے پانی ساتھ بہنے کے باوجود ایک دوسرے پر اثر انداز نہیں ہوتے، تاکہ زمین پر مخلوقات کے لیے میٹھے پانی کا ذخیرہ محفوظ رہے۔
8 تفصیلی جوابات

وَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱلۡحَيِّ ٱلَّذِي لَا يَمُوتُ وَسَبِّحۡ بِحَمۡدِهِۦۚ وَكَفَىٰ بِهِۦ بِذُنُوبِ عِبَادِهِۦ خَبِيرًا (سورۃ الفرقان ۔ آیت 58)

آیت کا ترجمہ اور تشریح تحریر کریں۔

ترجمہ

"اور (اے نبی!) آپ اس ہمیشہ زندہ رہنے والے (اللہ) پر بھروسا رکھیے جسے کبھی موت نہیں آئے گی، اور اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کیجیے، اور وہ اپنے بندوں کے گناہوں کی خبر رکھنے کے لیے کافی ہے۔"

آیت کی تفصیلی تشریح اور طلبہ کے لیے عملی سبق

1 آیت کی تفصیلی تشریح — حقیقی توکل اور اس کی وجہ (وَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱلۡحَيِّ ٱلَّذِي لَا يَمُوتُ) — توکل کے معنی ہیں اپنے معاملات اللہ کے سپرد کر دینا اور اس بات پر پورا یقین رکھنا کہ نفع اور نقصان صرف اسی کے ہاتھ میں ہے۔ بھروسا صرف اس ذات پر ہونا چاہیے جو "اَلْحَی" ہے — ہمیشہ سے زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گی۔ دنیا کے تمام سہارے، مال و دولت، اسباب اور انسان فانی ہیں؛ فانی سہارا ایک دن ٹوٹ جائے گا، لیکن اللہ کی ذات قائم و دائم ہے، اس لیے اس پر کیا گیا بھروسا کبھی مایوس نہیں کرتا۔
2 آیت کی تفصیلی تشریح — تسبیح اور حمد کا حکم (وَسَبِّحۡ بِحَمۡدِهِۦ) — جب انسان سچے دل سے اللہ پر توکل کر لیتا ہے تو اسے زبان اور دل سے اللہ کی پاکی (تسبیح) اور شکر (حمد) ادا کرتے رہنا چاہیے۔ نبی کریم ﷺ کو دعوتِ دین میں کفار کی شدید مخالفت کا سامنا تھا؛ اللہ نے فرمایا کہ ان کی باتوں سے دل چھوٹا کرنے کے بجائے تسبیح و حمد میں مشغول رہیں — یہ عمل دل کو طاقت دیتا ہے اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ پیدا کرتا ہے۔
3 آیت کی تفصیلی تشریح — اللہ کا علم اور احتساب (وَكَفَىٰ بِهِۦ بِذُنُوبِ عِبَادِهِۦ خَبِيرًا) — آیت کے آخری حصے میں کفار و مشرکین کے لیے انتباہ ہے اور مومنین کے لیے تسلی: اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں کے تمام گناہوں اور سازشوں کا پوری طرح علم ہے۔ حساب لینے کے لیے اسے کسی اور کی گواہی یا مدد کی ضرورت نہیں؛ وہ اکیلا ہی محاسبے کے لیے کافی ہے۔
4 طلبہ کے لیے عملی سبق — امتحان اور زندگی میں توکل — اپنی پڑھائی اور امتحانات کے لیے پوری محنت (اسباب) کریں، لیکن نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیں۔ محنت کے ساتھ توکل ہو تو کبھی ناامیدی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔
5 طلبہ کے لیے عملی سبق — عارضی سہاروں پر بھروسے سے بچنا — کسی دوست، سفارش یا عارضی سہارے پر بھروسا کرنے کے بجائے ہمیشہ اپنی محنت اور اللہ کی ذات پر یقین رکھیں۔
9 تفصیلی جوابات

تَبَارَكَ ٱلَّذِي جَعَلَ فِي ٱلسَّمَآءِ بُرُوجٗا وَجَعَلَ فِيهَا سِرَٰجٗا وَقَمَرٗا مُّنِيرٗا وَهُوَ ٱلَّذِي جَعَلَ ٱلَّيۡلَ وَٱلنَّهَارَ خِلۡفَةٗ لِّمَنۡ أَرَادَ أَن يَذَّكَّرَ أَوۡ أَرَادَ شُكُورٗا (سورۃ الفرقان ۔ آیات 61 تا 62)

آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں اور ان میں بیان کردہ اللہ تعالیٰ کی شان اور قدرت کی وضاحت کریں۔

ترجمہ

"بڑی برکت والا ہے وہ جس نے آسمان میں برج (ستاروں کی منزلیں) بنائے اور اس میں ایک روشن چراغ (سورج) اور چمکتا ہوا چاند پیدا کیا۔ اور وہی ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے والا بنایا، اس شخص کے لیے جو غور و فکر کرنا چاہے یا شکر گزاری کا ارادہ رکھے۔"

آیات میں بیان شدہ اللہ کی شان اور قدرت

1 عظمت اور بابرکت ذات (تَبَارَكَ) — آیت کا آغاز "تَبَارَكَ" سے ہوتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ اللہ کی ذات ہر عیب سے پاک، سب سے بلند اور خیر و برکت کا سرچشمہ ہے۔ کائنات کا اتنا بڑا نظام اس کی عظمت کی گواہی دے رہا ہے۔
2 آسمانی نظام کی تخلیق (جَعَلَ فِي ٱلسَّمَآءِ بُرُوجٗا) — اللہ تعالیٰ نے آسمان کو محض ایک خالی چھت نہیں بنایا، بلکہ اس میں "بروج" (بڑے بڑے ستارے، سیارے اور ان کی منزلیں) پیدا کیے جو کائنات کے حسن، نظم و ضبط اور خوب صورتی کو ظاہر کرتے ہیں۔
3 سورج اور چاند کی شان (سِرَٰجٗا وَقَمَرٗا مُّنِيرٗا) — اللہ نے سورج کو ایک جلتا ہوا عظیم "چراغ" بنایا جو دنیا کو روشنی بھی دیتا ہے اور زندگی کی بقا کے لیے تپش بھی فراہم کرتا ہے؛ اور چاند کو "منیر" یعنی ٹھنڈی، چمکتی ہوئی روشنی کا ذریعہ بنایا جو رات کے اندھیرے میں مسافروں کے لیے رہنما اور انسانی حواس کے لیے پرسکون ہے۔
4 رات اور دن کا تسلسل (خِلۡفَةٗ) — رات اور دن ایک دوسرے کے پیچھے پے در پے چلے آتے ہیں: دن جاتا ہے تو رات اس کی جگہ لے لیتی ہے اور رات ختم ہوتی ہے تو دن طلوع ہو جاتا ہے۔ کائنات کا یہ توازن اور اس میں لمحہ بھر کا فرق نہ آنا اللہ کی تدبیر اور کامل کنٹرول کی دلیل ہے۔
5 نصیحت اور شکر کا موقع — آیت 62 کے آخر میں اس پورے نظام کا مقصد بتایا گیا: جو انسان اپنے رب کو پہچاننا اور غور و فکر کرنا چاہے، وہ ان نشانیوں کو دیکھ کر ایمان لے آئے؛ اور جو اللہ کی ان عظیم نعمتوں کا احساس کرے، وہ دل اور عمل سے اللہ کا شکر گزار بندہ بن جائے۔
10 تفصیلی جوابات

وَٱلَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا ٱصۡرِفۡ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَۖ إِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا إِنَّهَا سَآءَتۡ مُسۡتَقَرّٗا وَمُقَامٗا (سورۃ الفرقان ۔ آیات 65 تا 66)

آیاتِ کریمہ کا ترجمہ اور تفصیلی تشریح تحریر کریں۔

ترجمہ

"اور (رحمان کے بندے وہ ہیں) جو دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہم سے جہنم کا عذاب ٹال دے، بے شک اس کا عذاب چمٹ جانے والا (سخت تباہ کن) ہے۔ یقیناً وہ بہت ہی بری ٹھہرنے کی اور رہنے کی جگہ ہے۔"

آیات کی تفصیلی تشریح اور طلبہ کے لیے عملی اور تربیتی سبق

1 آیات کی تفصیلی تشریح — کثرتِ عبادت کے باوجود خوفِ خدا — اس سے پہلی آیات میں ذکر ہوا کہ رحمان کے بندے راتوں کو سجدے اور قیام کرتے ہیں، لیکن اتنی عبادات کے باوجود وہ مغرور نہیں ہوتے، بلکہ اللہ کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں اور گڑگڑا کر جہنم سے بچنے کی دعائیں مانگتے ہیں۔ یہ سچے مومن کی نشانی ہے کہ وہ نیک اعمال کر کے بھی اللہ کی پکڑ سے بے خوف نہیں ہوتا۔
2 آیات کی تفصیلی تشریح — جہنم کا عذاب "غَرَامًا" ہے — لفظ "غَرَامًا" کے معنی ہیں ایسی چیز جو پیچھے لگ جائے، چمٹ جائے اور جان نہ چھوڑے۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ دنیا کی ہر مصیبت کبھی نہ کبھی ختم ہو جاتی ہے یا انسان اس سے بھاگ نکلتا ہے، لیکن جہنم کا عذاب گناہ گاروں کو اس طرح چمٹ جائے گا کہ اس سے چھٹکارا ممکن نہیں ہوگا (سوائے اللہ کی رحمت کے)۔
3 آیات کی تفصیلی تشریح — بدترین ٹھکانا (سَآءَتۡ مُسۡتَقَرّٗا وَمُقَامٗا) — مستقر: عارضی طور پر ٹھہرنے کی جگہ؛ مقام: مستقل طور پر رہنے کی جگہ۔ یعنی جہنم اتنی بری جگہ ہے کہ وہاں کوئی شخص ایک لمحے کے لیے بھی نہیں رکنا چاہے گا، اور جن کا وہاں مستقل رہنا طے ہو چکا ان کی تکلیف کا اندازہ ہی نہیں کیا جا سکتا — وہاں کا کھانا (تھوہر کا درخت)، پینا (کھولتا ہوا پیپ اور پانی) اور اوڑھنا بچھونا سب آگ کا ہوگا۔
4 طلبہ کے لیے عملی اور تربیتی سبق — خوش فہمی اور تکبر سے بچنا — محض چند اچھے کام یا عبادات کر لینے سے جنت کا پروانہ نہیں مل جاتا؛ ہمیشہ عاجزی اختیار کرنی چاہیے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتے رہنا چاہیے۔
5 طلبہ کے لیے عملی اور تربیتی سبق — دعا کی اہمیت — یہ آیت ایک بہترین قرآنی دعا سکھاتی ہے؛ طلبہ اپنی نمازوں کے بعد اس دعا کو پڑھنے کی عادت بنائیں: «رَبَّنَا ٱصۡرِفۡ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ إِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا»
11 تفصیلی جوابات

وَٱلَّذِينَ لَا يَدۡعُونَ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٰهًا ءَاخَرَ وَلَا يَقۡتُلُونَ ٱلنَّفۡسَ ٱلَّتِي حَرَّمَ ٱللَّهُ إِلَّا بِٱلۡحَقِّ وَلَا يَزۡنُونَۚ وَمَن يَفۡعَلۡ ذَٰلِكَ يَلۡقَ أَثَامٗا (سورۃ الفرقان ۔ آیت 68)

آیتِ کریمہ کی روشنی میں عباد الرحمٰن کی صفات بیان کریں۔

ترجمہ

"اور (رحمان کے بندے وہ ہیں) جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے، اور نہ ہی کسی ایسی جان کو ناحق قتل کرتے ہیں جسے اللہ نے حرام کیا ہو مگر حق کے ساتھ (یعنی شرعی قانون کے مطابق)، اور نہ وہ زنا کرتے ہیں، اور جو کوئی یہ کام کرے گا وہ گناہ (کی سزا) سے دوچار ہوگا۔"

اس آیتِ کریمہ کے مطابق رحمان کے سچے بندوں میں درج ذیل تین بڑی صفات پائی جاتی ہیں، جو دراصل تین بڑے (کبیرہ) گناہوں سے بچنے سے تعلق رکھتی ہیں:

1 شرک سے مکمل اجتناب (عقیدۂ توحید پر قائم رہنا) — رحمان کے بندے عقیدے کے پکے ہوتے ہیں؛ وہ اللہ کی ذات، صفات اور عبادت میں کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے اور نہ اللہ کے سوا کسی اور سے غائبانہ مدد مانگتے ہیں۔ ان کا ایمان خالص ہوتا ہے۔
2 ناحق قتل سے بچنا (انسانی جان کا احترام) — وہ کسی بھی انسان کو ناحق قتل نہیں کرتے، کیونکہ اسلام میں ایک انسان کا ناحق قتل پوری انسانیت کے قتل کے برابر ہے۔ آیت میں "إِلَّا بِٱلۡحَقِّ" سے مراد وہ قانونی سزائیں ہیں جو حکومت یا عدالت شرعی قوانین (جیسے قصاص) کے تحت دیتی ہے۔
3 پاک دامنی اور عفت (زنا سے دوری) — وہ بدکاری جیسی اخلاقی برائی کے قریب بھی نہیں جاتے، بلکہ اپنے کردار کی حفاظت کرتے ہیں اور پاکیزہ معاشرے کے قیام میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
جواب حاصلِ کلام: اللہ کے پسندیدہ بندے صرف عبادات میں ہی آگے نہیں ہوتے، بلکہ وہ اپنے عقیدے کی حفاظت کرتے ہیں، دوسروں کے حقوق (جان و مال) کا احترام کرتے ہیں اور اپنے کردار کو ہر قسم کی اخلاقی گندگی سے پاک رکھتے ہیں۔

سرگرمیاں برائے طلبہ

12 سرگرمیاں برائے طلبہ

سورۃ الفرقان میں عباد الرحمٰن (رحمان کے نیک اور پسندیدہ بندوں) کی جو صفات بیان ہوئی ہیں ان کی ایک فہرست بنائیں اور ان صفات پر عمل کرنے کی بھرپور کوشش کریں۔

سورۃ الفرقان کے آخری رکوع (آیات 63 تا 75) میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پسندیدہ اور مخلص بندوں کی جو صفات بیان فرمائی ہیں، ان کی جامع فہرست درج ذیل ہے۔ ان صفات کو اپنے اندر پیدا کرنا دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کی ضمانت ہے۔

عباد الرحمٰن کی صفات کی فہرست اور ان صفات پر عمل کرنے کے عملی طریقے

1 عباد الرحمٰن کی صفات کی فہرست — عاجزی اور انکساری (آیت 63) — وہ زمین پر تکبر، غرور اور اکڑ کر نہیں چلتے، بلکہ ان کی چال میں شرافت، سادگی اور وقار ہوتا ہے۔
2 عباد الرحمٰن کی صفات کی فہرست — بردباری اور درگزر (آیت 63) — جب جاہل لوگ ان سے بدتمیزی یا بحث بازی کرتے ہیں تو وہ لڑنے جھگڑنے کے بجائے "سلام" کہہ کر شرافت سے آگے بڑھ جاتے ہیں۔
3 عباد الرحمٰن کی صفات کی فہرست — شب بیداری اور عبادت (آیت 64) — ان کی راتیں غفلت یا گناہوں میں نہیں گزرتیں، بلکہ وہ راتوں کو اپنے رب کے حضور سجدے اور قیام (تہجد اور تلاوت) میں گزارتے ہیں۔
4 عباد الرحمٰن کی صفات کی فہرست — خوفِ خدا اور فکرِ آخرت (آیات 65 تا 66) — بہت زیادہ نیک اعمال کے باوجود وہ مغرور نہیں ہوتے، بلکہ اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہوئے دعا مانگتے رہتے ہیں: "اے ہمارے رب! ہم سے جہنم کا عذاب ٹال دے۔"
5 عباد الرحمٰن کی صفات کی فہرست — خرچ میں اعتدال اور میانہ روی (آیت 67) — وہ مال خرچ کرتے ہوئے نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ کنجوسی سے کام لیتے ہیں، بلکہ ان کا اندازِ زندگی متوازن ہوتا ہے۔
6 عباد الرحمٰن کی صفات کی فہرست — شرک سے بیزاری (آیت 68) — وہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور اس کی ذات، صفات یا حقوق میں کسی دوسرے کو شریک نہیں ٹھہراتے۔
7 عباد الرحمٰن کی صفات کی فہرست — انسانی جان کا احترام (آیت 68) — وہ کسی بھی انسان کو ناحق قتل نہیں کرتے اور معاشرے میں امن و امان قائم رکھتے ہیں۔
8 عباد الرحمٰن کی صفات کی فہرست — پاک دامنی اور عفت (آیت 68) — وہ زنا اور بدکاری جیسے بدترین اخلاقی گناہوں سے دور رہتے ہیں اور اپنے کردار کو پاکیزہ رکھتے ہیں۔
9 عباد الرحمٰن کی صفات کی فہرست — جھوٹی گواہی اور لغو مجالس سے دوری (آیت 72) — وہ نہ کبھی جھوٹی گواہی دیتے ہیں اور نہ ایسی محفلوں میں بیٹھتے ہیں جہاں گانے بجانے، گالی گلوچ یا وقت ضائع کرنے والے کام ہو رہے ہوں، بلکہ وہاں سے عزت کے ساتھ گزر جاتے ہیں۔
10 عباد الرحمٰن کی صفات کی فہرست — آیاتِ الٰہی پر کان دھرنا (آیت 73) — جب انہیں اللہ کے احکامات یا قرآنی آیات سنائی جاتی ہیں تو وہ اندھوں اور بہروں کی طرح نظر انداز نہیں کرتے، بلکہ دل کی حاضری کے ساتھ سنتے اور عمل کرتے ہیں۔
11 عباد الرحمٰن کی صفات کی فہرست — اہل و عیال کی اصلاح کی فکر (آیت 74) — وہ اپنے گھر والوں کے لیے بھی فکر مند رہتے ہیں اور دعا کرتے ہیں: "اے ہمارے رب! ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا امام بنا۔"
12 ان صفات پر عمل کرنے کے عملی طریقے — عاجزی اپنائیں — اپنے دوستوں، ہم جماعتوں اور چھوٹوں کے ساتھ ہمیشہ نرمی سے بات کریں اور کبھی اپنی گاڑی، موبائل، اچھے نمبروں یا لباس پر غرور نہ کریں۔
13 ان صفات پر عمل کرنے کے عملی طریقے — غصے پر قابو رکھیں — اگر سوشل میڈیا پر یا اسکول/کالج میں کوئی بدتمیزی کرے تو بدلے میں گالی دینے کے بجائے خاموشی یا مسکراہٹ سے بات ختم کر دیں۔
14 ان صفات پر عمل کرنے کے عملی طریقے — نماز کی پابندی اور نفلی عبادات — فرض نمازوں کے ساتھ رات کو سونے سے پہلے دو رکعت نفل (تہجد) پڑھنے کی عادت ڈالیں، چاہے ہفتے میں ایک ہی بار کیوں نہ ہو۔
15 ان صفات پر عمل کرنے کے عملی طریقے — پاکیزہ صحبت — ایسے دوستوں کے ساتھ رہیں جو گناہوں اور لغو کاموں سے دور رہتے ہوں تاکہ آپ کا کردار بھی داغ دار نہ ہو۔
16 ان صفات پر عمل کرنے کے عملی طریقے — روزانہ کی دعا — سورۃ الفرقان کی آیت 74 کی یہ دعا ہر نماز کے بعد مانگنے کا معمول بنا لیں: «رَبَّنَا هَبۡ لَنَا مِنۡ أَزۡوَٰجِنَا وَذُرِّيَّـٰتِنَا قُرَّةَ أَعۡيُنٖ وَٱجۡعَلۡنَا لِلۡمُتَّقِينَ إِمَامًا»
13 سرگرمیاں برائے طلبہ

وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ٱسۡجُدُواْۤ لِلرَّحۡمَٰنِ قَالُواْ وَمَا ٱلرَّحۡمَٰنُ أَنَسۡجُدُ لِمَا تَأۡمُرُنَا وَزَادَهُمۡ نُفُورٗا۩

سجدۂ تلاوت کا طریقہ سیکھیں اور اس پر عمل کریں۔

سورۃ الفرقان کی آیت نمبر 60 قرآنِ مجید کے واجب سجدوں (سجدۂ تلاوت) میں سے ایک ہے۔ جب اس آیت کی تلاوت کی جائے یا اسے کسی سے سنا جائے تو سجدہ کرنا واجب ہو جاتا ہے۔ سجدۂ تلاوت کا شرعی اور عملی طریقہ انتہائی آسان ہے:

سجدۂ تلاوت کی مسنون دعا (اختیاری)

1 سجدۂ تلاوت کی شرائط — بدن، لباس اور جگہ کا پاک ہونا۔
2 سجدۂ تلاوت کی شرائط — وضو کا ہونا (بغیر وضو سجدۂ تلاوت جائز نہیں)۔
3 سجدۂ تلاوت کی شرائط — ستر کا ڈھکا ہونا (خواتین کے لیے سر کا ڈھکنا ضروری ہے)۔
4 سجدۂ تلاوت کی شرائط — قبلہ رخ ہونا۔
5 سجدۂ تلاوت کا عملی طریقہ (مرحلہ وار) — مرحلہ 1 (کھڑے ہونا) — اگر ممکن ہو تو پہلے سیدھے کھڑے ہو جائیں (یہ مستحب ہے؛ بیٹھ کر بھی کریں تو جائز ہے)۔
6 سجدۂ تلاوت کا عملی طریقہ (مرحلہ وار) — مرحلہ 2 (اللہ اکبر کہنا) — ہاتھ اٹھائے بغیر، زبان سے "اللہُ اَکْبَر" کہتے ہوئے سیدھے سجدے میں چلے جائیں۔ (نیت دل میں ہونی چاہیے، زبان سے کہنا ضروری نہیں)۔
7 سجدۂ تلاوت کا عملی طریقہ (مرحلہ وار) — مرحلہ 3 (سجدے کی تسبیح) — سجدے میں جا کر کم از کم تین مرتبہ نماز کی طرح "سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی" پڑھیں۔
8 سجدۂ تلاوت کا عملی طریقہ (مرحلہ وار) — مرحلہ 4 (سجدے سے اٹھنا) — تسبیح پڑھنے کے بعد دوبارہ "اللہُ اَکْبَر" کہتے ہوئے سجدے سے سر اٹھائیں اور سیدھے کھڑے ہو جائیں (یا بیٹھ جائیں)۔
9 سجدۂ تلاوت کا عملی طریقہ (مرحلہ وار) — اہم نوٹ: سجدۂ تلاوت میں نہ تو نماز کی طرح ہاتھ کانوں تک اٹھائے جاتے ہیں، نہ اس میں تشہد (التحیات) پڑھی جاتی ہے اور نہ آخر میں سلام پھیرا جاتا ہے — صرف ایک سجدہ کرنا ہوتا ہے۔
جواب اگر کوئی چاہے تو "سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی" کے ساتھ یا اس کی جگہ نبی کریم ﷺ سے ثابت یہ دعا بھی سجدے میں پڑھ سکتا ہے: «سَجَدَ وَجْهِيَ لِلَّذِي خَلَقَهُ، وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ بِحَوْلِهِ وَقُوَّتِهِ» — ترجمہ: "میرے چہرے نے اس ذات کو سجدہ کیا جس نے اسے پیدا کیا، اور اپنی طاقت و قوت سے اس کے کان اور آنکھیں بنائیں۔"
14 سرگرمیاں برائے طلبہ

"خواہشِ نفس کو معبود بنانے" کے تصور کو سمجھیں اور طلبہ کی رہنمائی کریں کہ اس سے کیسے بچا جائے۔

"خواہشِ نفس کو معبود بنانا" ایک انتہائی اہم اور گہرا قرآنی تصور ہے، جسے آسان الفاظ میں "اپنے دل کی ہر جائز و ناجائز مرضی کو خدا کا حکم سمجھ کر اس کے پیچھے چلنا" کہا جاتا ہے۔ سورۃ الفرقان میں اللہ تعالیٰ نے اس رویے کی سخت مذمت فرمائی ہے۔ طالب علمی کے دور میں اس تصور کو سمجھنا اس لیے ضروری ہے کیونکہ یہی وہ عمر ہوتی ہے جہاں جذبات اور خواہشات سب سے زیادہ طاقت ور ہوتے ہیں۔

1 خواہشِ نفس کو معبود بنانے کا حقیقی مفہوم — عربی زبان میں "معبود" یا "الٰہ" اس ہستی کو کہتے ہیں جس کی بات کو سب سے زیادہ اہمیت دی جائے، جس کی ہر حال میں اطاعت کی جائے اور جس کی خوشی کے لیے انسان سب کچھ قربان کر دے۔ جب کوئی انسان اللہ کے احکامات، اخلاقی اصولوں اور حلال و حرام کی پروا کیے بغیر صرف وہی کام کرتا ہے جو اس کا دل چاہتا ہے، تو وہ عملی طور پر اللہ کے بجائے اپنے نفس کی پوجا کر رہا ہوتا ہے۔ مثلاً: ایک طرف اللہ کا حکم (نماز، سچائی، پاک دامنی) ہو اور دوسری طرف نفس کی خواہش (سستی، جھوٹ، بدکاری)، اور انسان اللہ کے حکم کو چھوڑ کر نفس کی بات مان لے — اسی کو "خواہشِ نفس کو معبود بنانا" کہتے ہیں۔
2 طلبہ کی زندگی میں اس کی عملی مثالیں — وقت کا ضیاع اور سستی — صبح فجر کے وقت یا پڑھائی کے وقت دل کہتا ہے کہ "تھوڑی دیر اور سو جاؤ" یا "سوشل میڈیا اور گیمز کھیل لو"۔ اللہ اور والدین کا حکم پڑھائی اور وقت کی قدر کا ہے، لیکن طالب علم اپنے دل کی مان کر وقت برباد کرتا ہے۔
3 طلبہ کی زندگی میں اس کی عملی مثالیں — امتحانات میں نقل — نفس چاہتا ہے کہ بغیر محنت کے اچھے نمبر مل جائیں؛ اس چکر میں طالب علم اللہ کے حکم (دھوکا نہ دینے) کو پسِ پشت ڈال کر نقل کرتا ہے۔
4 طلبہ کی زندگی میں اس کی عملی مثالیں — فیشن اور نمائش کا جنون — اپنی حیثیت سے بڑھ کر صرف دوستوں میں دھاک بٹھانے یا سستی واہ واہ سمیٹنے کے لیے برانڈڈ چیزوں اور فضول خرچی کے پیچھے بھاگنا۔
5 طلبہ کی زندگی میں اس کی عملی مثالیں — بری صحبت اور اخلاقی برائیاں — دل کی عارضی لذت کے لیے گالی گلوچ، فلموں، گانوں یا غلط قسم کے دوستوں کی محفلوں کا انتخاب کرنا، یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ راستے تباہی کے ہیں۔
6 اصلاح اور رہنمائی کے طریقے — نفسانی خواہشات اور ضرورت میں فرق سمجھیں — کھانا، سونا اور جائز حد تک تفریح انسان کی ضرورت ہے اور اسلام اس سے منع نہیں کرتا؛ لیکن ضرورت سے بڑھ کر صرف لذت اور سستی کے پیچھے بھاگنا خواہشِ نفس ہے جس پر قابو پانا ضروری ہے۔
7 اصلاح اور رہنمائی کے طریقے — "نہیں" کہنے کی عادت ڈالیں — جب بھی دل کسی غلط کام (جھوٹ، نقل، وقت کے ضیاع) کی طرف مائل ہو تو نفس کو سختی سے جواب دیں: "نہیں! یہ میرے اللہ کا حکم نہیں اور یہ میری آخرت اور مستقبل کو برباد کر دے گا۔" نفس کو قابو کرنا ایک دن میں نہیں ہوتا؛ یہ مسلسل تربیت کا نام ہے۔
8 اصلاح اور رہنمائی کے طریقے — ضمیر کی آواز کو زندہ رکھیں — اللہ نے ہر انسان کے اندر "نفسِ لوامہ" (ملامت کرنے والا نفس/ضمیر) رکھا ہے۔ جب بھی کوئی غلط کام کریں اور اندر سے آواز آئے کہ آپ غلط کر رہے ہیں، اس آواز کو دبائیں مت، بلکہ فوراً استغفار کریں اور اس کام سے رک جائیں۔
9 اصلاح اور رہنمائی کے طریقے — مقصدِ زندگی کو بڑا رکھیں — جس طالب علم کی زندگی کا کوئی بڑا مقصد ہوتا ہے (بہترین تعلیم، ملک و قوم کی خدمت، اللہ کی رضا)، اس کا نفس اسے آسانی سے گمراہ نہیں کر سکتا۔ اپنے مقاصد کو بلند رکھیں تاکہ چھوٹی اور عارضی خواہشات آپ کا راستہ نہ روک سکیں۔
جواب حاصلِ کلام: قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اور جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈر گیا اور اس نے اپنے نفس کو خواہشات سے روکا، تو یقیناً جنت ہی اس کا ٹھکانا ہے۔" (النازعات: 40–41) — سچا ہیرو وہ نہیں جو دنیا کو فتح کرے، بلکہ وہ ہے جو اپنے نفس کی ناجائز خواہشات پر فتح حاصل کرے۔
15 سرگرمیاں برائے طلبہ

سابقہ اقوام (قومِ نوح، عاد اور ثمود) کے عبرت ناک انجام سے حاصل ہونے والے اسباق پر مذاکرہ کریں۔

سورۃ الفرقان کی ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے سابقہ نافرمان قوموں — بالخصوص قومِ نوح علیہ السلام، قومِ عاد اور قومِ ثمود — کے عبرت ناک انجام کا تذکرہ فرمایا ہے۔ ان اقوام کی تاریخ محض پرانے قصے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا بہترین ذریعہ ہے۔

1 قومِ نوح علیہ السلام کا واقعہ اور اسباق — حضرت نوح علیہ السلام نے تقریباً ساڑھے نو سو سال اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی، لیکن چند غریب اور مخلص لوگوں کے سوا پوری قوم نے ان کا مذاق اڑایا اور سرکشی پر اڑی رہی؛ بالآخر وہ ایک عظیم سیلاب (طوفانِ نوح) کے ذریعے غرق کر دی گئی۔
2 قومِ نوح علیہ السلام کا واقعہ اور اسباق — تکبر اور تمسخر کا انجام — حق بات کا مذاق اڑانا اور مخلصانہ نصیحت کرنے والوں کو حقیر سمجھنا قوموں کی تباہی کا سبب بنتا ہے۔
3 قومِ نوح علیہ السلام کا واقعہ اور اسباق — مہلت کو دائمی نہ سمجھنا — اللہ تعالیٰ گناہ گاروں کو توبہ کے لیے بہت طویل مہلت دیتا ہے (جیسے قومِ نوح کو صدیوں کی مہلت ملی)، لیکن جب وہ مہلت ختم ہو جاتی ہے تو اللہ کا عذاب اچانک آ دھمکتا ہے اور کوئی بچانے والا نہیں ہوتا۔
4 قومِ نوح علیہ السلام کا واقعہ اور اسباق — تعلقات عذاب سے نہیں بچاتے — حضرت نوح علیہ السلام کا سگا بیٹا کنعان کفر پر اڑا رہا اور سیلاب میں غرق ہو گیا۔ آخرت میں کامیابی کا معیار کسی بڑے انسان سے رشتہ داری نہیں بلکہ ذاتی ایمان اور نیک اعمال ہیں۔
5 قومِ عاد کا واقعہ اور اسباق — قومِ عاد حضرت ہود علیہ السلام کی قوم تھی، جو جسمانی طاقت، طویل قد و قامت اور بلند و بالا عمارتیں اور قلعے بنانے میں اپنی مثال نہیں رکھتی تھی۔ انہوں نے اپنی طاقت کے گھمنڈ میں آ کر اللہ کے نبی کو جھٹلایا، جس پر اللہ نے ایک نہایت تیز اور ٹھنڈی آندھی کے ذریعے انہیں صفحۂ ہستی سے مٹا دیا۔
6 قومِ عاد کا واقعہ اور اسباق — مادی ترقی اور طاقت پر غرور کا زوال — قومِ عاد کہتی تھی کہ "ہم سے زیادہ طاقت ور کون ہے؟" — آج کے معاشروں کے لیے سبق یہ ہے کہ سائنسی یا مادی ترقی انسان کو اللہ سے بے نیاز نہیں کر سکتی؛ اگر ترقی کے ساتھ شکر گزاری اور ایمان نہ ہو تو وہ تباہی کا باعث بنتی ہے۔
7 قومِ عاد کا واقعہ اور اسباق — نعمتوں کا غلط استعمال — اللہ نے انہیں وسائل دیے تھے، لیکن انہوں نے انہیں عیاشی اور ظلم کے لیے استعمال کیا۔ اللہ کی دی ہوئی صلاحیتوں اور نعمتوں کو تکبر کے بجائے عاجزی اور بھلائی کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔
8 قومِ ثمود کا واقعہ اور اسباق — قومِ ثمود حضرت صالح علیہ السلام کی قوم تھی، جو پہاڑوں کو تراش کر عالی شان مکانات بنانے میں مہارت رکھتی تھی۔ انہوں نے اللہ کی نشانی (معجزاتی اونٹنی) کی بے حرمتی کی اور اسے قتل کر دیا، جس کے بعد ایک ہولناک چنگھاڑ اور زلزلے نے انہیں ان کے گھروں ہی میں ڈھیر کر دیا۔
9 قومِ ثمود کا واقعہ اور اسباق — اللہ کی نشانیوں کی بے حرمتی سے بچنا — قومِ ثمود نے واضح معجزہ دیکھنے کے باوجود ضد دکھائی اور اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں۔ اللہ کی حدود کو توڑنا اور اس کے احکامات کا علانیہ مذاق اڑانا عذاب کو دعوت دینا ہے۔
10 قومِ ثمود کا واقعہ اور اسباق — معاشرتی خاموشی کا نقصان — اونٹنی کو قتل چند شرپسندوں نے کیا تھا، لیکن باقی قوم خاموش رہی اور ان کا ساتھ دیا، اس لیے عذاب سب پر آیا۔ جب معاشرے میں برائی پھیل رہی ہو تو خاموش تماشائی بنے رہنا بھی گناہ میں شامل ہونے کے برابر ہے؛ ہمیں برائی کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔
11 مذاکرے کا حاصلِ کلام — انسان کتنا ہی طاقت ور ہو جائے، اللہ سے بڑا نہیں ہو سکتا — فرعون ہو، عاد ہو یا ثمود — تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مخلوق نے خالق کے سامنے سر اٹھایا، وہ مٹی میں ملا دی گئی۔
12 مذاکرے کا حاصلِ کلام — اندھی تقلید سے بچنا — ان اقوام کی گمراہی کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ کہتے تھے: "ہم اسی راستے پر چلیں گے جس پر ہمارے باپ دادا چلتے تھے۔" اسلام سکھاتا ہے کہ لکیر کا فقیر بننے کے بجائے ہمیشہ عقل و شعور استعمال کر کے حق کا ساتھ دیا جائے۔
13 مذاکرے کا حاصلِ کلام — تاریخ سے عبرت پکڑنا — قرآن مجید میں ان قوموں کے تذکرے کا اصل مقصد یہ ہے کہ ہم ان کی غلطیوں کو اپنے اندر تلاش کریں اور ان سے بچیں، تاکہ دنیا میں بھی امن پائیں اور آخرت کے عذاب سے بھی محفوظ رہیں۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.