نویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 8: سبق 8: سورۃ المؤمنون (حصہ دوم) — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں برائے طلبہ · 15 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

إِنَّ ٱلَّذِينَ هُم مِّنۡ خَشۡيَةِ رَبِّهِم مُّشۡفِقُونَ وَٱلَّذِينَ هُم بِـَٔايَٰتِ رَبِّهِمۡ يُؤۡمِنُونَ وَٱلَّذِينَ هُم بِرَبِّهِمۡ لَا يُشۡرِكُونَ (سورۃ المؤمنون ۔ آیات 57 تا 59)

آیاتِ کریمہ میں مومنین کی کیا صفات بیان ہوئی ہیں؟

ان آیاتِ کریمہ میں مومنین کی درج ذیل تین صفات بیان کی گئی ہیں:

1 وہ اپنے رب کے خوف اور ہیبت سے ڈرنے والے ہیں۔
2 وہ اپنے رب کی آیات اور احکام پر کامل ایمان رکھتے ہیں۔
3 وہ اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے (یعنی خالص توحید پر قائم رہتے ہیں)۔
2 مختصر جوابات

وَلَوِ ٱتَّبَعَ ٱلۡحَقُّ أَهۡوَآءَهُمۡ لَفَسَدَتِ ٱلسَّمَٰوَٰتُ وَٱلۡأَرۡضُ وَمَن فِيهِنَّۚ بَلۡ أَتَيۡنَٰهُم بِذِكۡرِهِمۡ فَهُمۡ عَن ذِكۡرِهِم مُّعۡرِضُونَ (سورۃ المؤمنون ۔ آیت 71)

آیتِ کریمہ میں باطل کی پیروی کا کیا نقصان ذکر ہوا ہے؟

اس آیتِ کریمہ میں بیان کیا گیا ہے کہ اگر حق (اللہ تعالیٰ کا نظام اور حقیقت) ان لوگوں کی نفسانی خواہشات کے تابع ہو جائے، تو:

1 تمام آسمانوں اور زمین کا نظام درہم برہم ہو جائے۔
2 آسمان و زمین میں موجود تمام مخلوقات اور کائنات کا پورا نظام تباہ و برباد ہو کر رہ جائے۔
3 مختصر جوابات

وَهُوَ ٱلَّذِيٓ أَنشَأَ لَكُمُ ٱلسَّمۡعَ وَٱلۡأَبۡصَٰرَ وَٱلۡأَفۡـِٔدَةَۚ قَلِيلٗا مَّا تَشۡكُرُونَ (سورۃ المؤمنون ۔ آیت 78)

آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے جن نعمتوں کا ذکر کیا ہے، وہ کیا ہیں؟

اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو عطا کردہ درج ذیل تین بڑی نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے:

1 السمع — سننے کی صلاحیت (کان)۔
2 الابصار — دیکھنے کی صلاحیت (آنکھیں)۔
3 الافئدۃ — سوچنے، سمجھنے اور احساس کرنے کی صلاحیت (عقل و دل)۔
جواب (اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا گیا کہ انسان ان نعمتوں کا بہت کم شکر ادا کرتے ہیں۔)
4 مختصر جوابات

قَالُوٓاْ أَءِذَا مِتۡنَا وَكُنَّا تُرَابٗا وَعِظَٰمًا أَءِنَّا لَمَبۡعُوثُونَ (سورۃ المؤمنون ۔ آیت 82)

آیتِ کریمہ میں عقیدۂ آخرت کے حوالے سے منکرین کے کس شبہے کا ذکر کیا گیا ہے؟

جواب اس آیتِ کریمہ میں منکرینِ آخرت کے اس شبہے اور تعجب کا ذکر ہے کہ وہ کہتے تھے: "کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی اور گل سڑ کر صرف ہڈیاں رہ جائیں گے، تو کیا ہمیں دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا جائے گا؟" ان کا بنیادی شبہ یہ تھا کہ بوسیدہ ہڈیوں اور مٹی بن جانے کے بعد دوبارہ زندگی کیسے ممکن ہو سکتی ہے۔
5 مختصر جوابات

قَالَ ٱخۡسَـُٔواْ فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ (سورۃ المؤمنون ۔ آیت 108)

آیتِ کریمہ کے مطابق جہنمیوں کی فریاد پر اللہ تعالیٰ کیا فرمائے گا؟

جواب اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ جہنمیوں کی فریاد اور التجا کے جواب میں ارشاد فرمائے گا: "اسی (دوزخ) میں ذلیل و خوار پڑے رہو اور مجھ سے (دوبارہ نکالے جانے کی) بات نہ کرو۔"

تفصیلی جوابات

6 تفصیلی جوابات

وَٱلَّذِينَ يُؤۡتُونَ مَآ ءَاتَواْ وَّقُلُوبُهُمۡ وَجِلَةٌ أَنَّهُمۡ إِلَىٰ رَبِّهِمۡ رَٰجِعُونَ (سورۃ المؤمنون ۔ آیت 60)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ لکھیں اور وضاحت کریں۔

ترجمہ

"اور جو لوگ دیتے ہیں جو کچھ (اللہ کی راہ میں) دیتے ہیں اور ان کے دل ڈر رہے ہوتے ہیں کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں۔"

یہ آیتِ مبارکہ ایک مومنِ کامل کے باطنی احساس اور اس کی اخلاص پر مبنی حالت کو بیان کرتی ہے۔ بظاہر انسان نیک اعمال، صدقہ و خیرات اور عبادات کر کے مطمئن ہو جاتا ہے یا غرور میں مبتلا ہو جاتا ہے، لیکن سچے بندوں کی کیفیت بالکل مختلف ہوتی ہے:

1 آیت کا پس منظر (حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں) — ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس آیت کے بارے میں پوچھا: "یا رسول اللہ! کیا اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو شراب پیتے ہیں، چوری کرتے ہیں اور گناہ کرتے ہیں (اور اس وجہ سے ڈرتے ہیں)؟" رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "نہیں! اے صدیق کی بیٹی! بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو نماز پڑھتے ہیں، روزہ رکھتے ہیں اور صدقہ و خیرات دیتے ہیں، لیکن اس کے باوجود ڈرتے ہیں کہ کہیں ان کے یہ اعمال (کسی کوتاہی کی وجہ سے) رد نہ کر دیے جائیں؛ یہی وہ لوگ ہیں جو نیکیوں میں جلدی کرتے ہیں۔" (جامع ترمذی)
2 "وَّقُلُوبُهُمۡ وَجِلَةٌ" (دل کا خوف زدہ ہونا) — نیک لوگ صدقہ و خیرات یا دیگر عبادات کرنے کے بعد اپنی نیکیوں پر اتراتے (فخر کرتے) نہیں، بلکہ ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کا جلال اور خوف ہوتا ہے کہ نہ جانے ان کی نیکی بارگاہِ الٰہی میں قبول ہوئی بھی ہے یا نہیں؛ وہ سمجھتے ہیں کہ اللہ کی عظمت کے سامنے ان کا عمل انتہائی معمولی ہے اور اس میں کوئی نہ کوئی خرابی (مثلاً ریاکاری یا خشوع کی کمی) ہو سکتی ہے۔
3 "أَنَّهُمۡ إِلَىٰ رَبِّهِمۡ رَٰجِعُونَ" (آخرت پر پختہ یقین) — ان کے خوف کی اصل وجہ یہ احساس ہوتا ہے کہ بالآخر ایک دن انہیں اپنے رب کے سامنے حاضر ہونا ہے، جہاں ہر عمل کا باریک بینی سے حساب ہوگا؛ اس لیے وہ نیکی کرنے کے بعد بھی اللہ سے معافی اور قبولیت کی التجا کرتے رہتے ہیں۔
7 تفصیلی جوابات

وَلَا نُكَلِّفُ نَفۡسًا إِلَّا وُسۡعَهَاۚ وَلَدَيۡنَا كِتَٰبٞ يَنطِقُ بِٱلۡحَقِّ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُونَ (سورۃ المؤمنون ۔ آیت 62)

آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے کس حقیقت کو واضح فرمایا ہے؟

اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے اپنے عدل اور حکمت کے درج ذیل اہم حقائق واضح فرمائے ہیں:

1 طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں — اللہ تعالیٰ کسی بھی انسان کو اس کی استطاعت، بس اور صلاحیت سے زیادہ احکام یا تکلیف کا مکلف نہیں بناتا؛ اسلام کا ہر حکم انسانی طاقت کے مطابق ہے۔
2 اعمال کا مکمل ریکارڈ — اللہ تعالیٰ کے پاس ایک ایسی کتاب (نامۂ اعمال) موجود ہے جو بالکل سچ سچ بولتی ہے؛ انسان کا چھوٹا یا بڑا ہر عمل اس میں درستی کے ساتھ درج ہو رہا ہے۔
3 مکمل عدل و انصاف — قیامت کے دن کسی انسان پر ذرہ برابر ظلم نہیں کیا جائے گا؛ ہر شخص کو اس کے عمل کا پورا پورا اور درست بدلہ دیا جائے گا۔
8 تفصیلی جوابات

قُلۡ مَنۢ بِيَدِهِۦ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيۡءٖ وَهُوَ يُجِيرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيۡهِ إِن كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ (سورۃ المؤمنون ۔ آیت 88)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ لکھیں اور وضاحت کریں۔

ترجمہ

"(اے نبی!) آپ فرمائیے کہ وہ کون ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی بادشاہی ہے، اور وہ پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلے میں (کسی کو) پناہ نہیں دی جا سکتی، اگر تم جانتے ہو؟"

تفصیلی وضاحت

1 "مَلَكُوتُ كُلِّ شَيۡءٖ" (تمام اشیاء پر مکمل ملکیت و حاکمیت) — عربی میں "ملکوت" لفظ "مُلک" کی ایک مبالغہ آمیز اور بلیغ شکل ہے، جس کے معنی ہیں مطلق اور کامل بادشاہی، اقتدار اور اختیار؛ یعنی زمین و آسمان کی ہر مخلوق، تمام ذرات، انسان، فرشتے اور کائنات کے جملہ تصرفات صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہیں — اس کی بادشاہی میں کوئی اس کا شریک یا حریف نہیں۔
2 "وَهُوَ يُجِيرُ" (پناہ اور تحفظ دینے والا) — اجارت (پناہ دینا) کا مطلب ہے کسی کو کسی خوف، عذاب، دشمن یا مصیبت سے محفوظ رکھنا اور اپنے دامنِ رحمت میں پناہ دینا؛ اگر پوری دنیا بھی کسی شخص کو نقصان پہنچانا چاہے، لیکن اللہ اسے اپنی پناہ میں لے لے، تو دنیا کی کوئی طاقت اس کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتی۔
3 "وَلَا يُجَارُ عَلَيۡهِ" (اللہ کے مقابلے میں کوئی پناہ دہندہ نہیں) — اس کے برعکس اگر اللہ تعالیٰ کسی پر اپنا عذاب یا پکڑ نازل کرنا چاہے، تو کائنات کی کوئی ہستی، معبود، بادشاہ یا طاقت اسے اللہ کی پکڑ سے بچا نہیں سکتی اور نہ اس کے فیصلے کے خلاف کسی کو پناہ دے سکتی ہے۔
4 مشرکینِ مکہ پر اتمامِ حجت — اس سے اگلی ہی آیت (آیت 89) میں اس کا جواب خود قرآن بیان کرتا ہے کہ جب مشرکین سے یہ سوال پوچھا جاتا تھا تو وہ اعتراف کرتے تھے: "سَيَقُولُونَ لِلَّهِ" (وہ یہی کہیں گے کہ یہ سب تو اللہ ہی کے لیے ہے)۔ اللہ تعالیٰ ان کے اسی اعتراف کو بنیاد بنا کر فرماتا ہے کہ جب تم مانتے ہو کہ ہر چیز کا مالک اور پناہ دینے والا صرف اللہ ہے، تو پھر تم دوسروں کی عبادت کر کے اور شرک اختیار کر کے کس کی فریب کاری میں آ رہے ہو؟
9 تفصیلی جوابات

مَا ٱتَّخَذَ ٱللَّهُ مِن وَلَدٖ وَمَا كَانَ مَعَهُۥ مِنۡ إِلَٰهٍۚ إِذٗا لَّذَهَبَ كُلُّ إِلَٰهِۭ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعۡضُهُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٖۚ سُبۡحَٰنَ ٱللَّهِ عَمَّا يَصِفُونَ (سورۃ المؤمنون ۔ آیت 91)

آیتِ کریمہ میں شرک کی کس طرح تردید کی گئی ہے؟

اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے شرک کی عقلی دلیل کے ذریعے کاٹ دار تردید فرمائی ہے:

1 اللہ کی اولاد سے پاکی — اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد نہیں ہے اور نہ اس کے ساتھ کوئی دوسرا معبود شریک ہے۔
2 کائناتی نظام کی تباہی کی دلیل — اگر اللہ کے علاوہ بھی دیگر معبود ہوتے تو ہر معبود اپنی پیدا کی ہوئی مخلوق کو الگ لے کر علیحدہ ہو جاتا، اور ایک معبود دوسرے پر غالب آنے کی کوشش کرتا، جس سے کائنات میں جنگ اور افراتفری پھیل جاتی۔
3 توحید کا ثبوت — چونکہ پورا نظامِ کائنات ایک ہی منظم قانون کے تحت چل رہا ہے، یہ اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ خالق اور مالک صرف ایک ہی اللہ ہے؛ اللہ ان تمام گھڑی ہوئی باتوں سے پاک ہے جو مشرکین اس کی طرف منسوب کرتے ہیں۔
10 تفصیلی جوابات

وَقُل رَّبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنۡ هَمَزَٰتِ ٱلشَّيَٰطِينِ وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَن يَحۡضُرُونِ (سورۃ المؤمنون ۔ آیات 97 تا 98)

آیاتِ کریمہ کا ترجمہ لکھیں اور وضاحت کریں۔

ترجمہ

"اور (اے نبی!) آپ دعا کیجیے کہ: اے میرے رب! میں شیاطین کے وسوسوں (اور اکسانے) سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اور اے میرے رب! میں اس بات سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آئیں۔"

تفصیلی وضاحت

1 "هَمَزَٰتِ ٱلشَّيَٰطِينِ" (شیاطین کے وسوسے اور اکسانا) — عربی میں "ہمز" کے معنی کچوکے لگانے یا غائبانہ طور پر برائی کی طرف اکسانے کے ہیں؛ اس سے مراد شیطان کے وہ باریک اور خفیہ وسوسے ہیں جن کے ذریعے وہ انسان کے دل میں برے خیالات، غصہ، غرور، شک، شہوت اور گناہ کی رغبت پیدا کرتا ہے۔ شیطان چونکہ نظر نہ آنے والی مخلوق ہے، اس لیے اس کے وار سے بچنے کا واحد طریقہ کائنات کے خالق کی پناہ (استعاذہ) حاصل کرنا ہے۔
2 "أَن يَحۡضُرُونِ" (شیاطین کی آمد اور موجودگی سے پناہ) — اس دوسری دعا میں شیطان کے صرف وسوسوں سے ہی نہیں، بلکہ اس کی موجودگی اور قربت سے بھی پناہ مانگی گئی ہے؛ زندگی کے مختلف مواقع — مثلاً کھانا پینا، گھر میں داخل ہونا، سوتے جاگتے وقت، بالخصوص عبادت (نماز و تلاوت) اور موت کے وقت — پر شیطان انسان کو غافل کرنے کے لیے قریب آنے کی کوشش کرتا ہے۔ انسان جب اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہے تو اللہ کا غیبی حصار اور فرشتے اس کی حفاظت کرتے ہیں اور شیاطین وہاں سے بھاگ جاتے ہیں۔
3 نبی کریم ﷺ کو حکم دینے کی حکمت — اگرچہ نبی کریم ﷺ معصوم ہیں اور شیاطین کا آپ ﷺ پر کوئی بس نہیں چل سکتا، پھر بھی اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو یہ دعا مانگنے کا حکم دیا: امت کی تعلیم کے لیے — تاکہ امت کو معلوم ہو کہ جب سید الانبیاء ﷺ کو استعاذہ کا حکم دیا جا رہا ہے تو عام انسانوں کو شیاطین کے شر سے بچنے کے لیے اس کا کتنا زیادہ اہتمام کرنا چاہیے؛ اور عاجزی و بندگی کے لیے — یہ دعا انسان کے اندر عاجزی اور اللہ کی محتاجی کا احساس قائم رکھتی ہے۔
11 تفصیلی جوابات

فَإِذَا نُفِخَ فِي ٱلصُّورِ فَلَآ أَنسَابَ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَئِذٖ وَلَا يَتَسَآءَلُونَ فَمَن ثَقُلَتۡ مَوَٰزِينُهُۥ فَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ وَمَنۡ خَفَّتۡ مَوَٰزِينُهُۥ فَأُوْلَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ فِي جَهَنَّمَ خَٰلِدُونَ (سورۃ المؤمنون ۔ آیات 101 تا 103)

آیاتِ کریمہ میں قیامت کے دن صور پھونکے جانے پر انسان کی کیفیت اور اس کے اعمال کے بدلے کے بارے میں کیا بتایا گیا ہے؟

قیامت کے دن کی کیفیت اور اعمال کے ترازو (میزان) کے مطابق انسانوں کا انجام

1 قیامت کے دن کی کیفیت — رشتوں اور ناتوں کا ختم ہونا — جب صور پھونکا جائے گا تو لوگوں کے درمیان تمام دنیاوی رشتے، نسب اور تعلقات ختم ہو جائیں گے؛ کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا۔
2 قیامت کے دن کی کیفیت — بے حسی اور خوف — شدتِ ہولناکی کی وجہ سے لوگ ایک دوسرے کا حال تک نہیں پوچھ سکیں گے۔
3 اعمال کے ترازو (میزان) کے مطابق انسانوں کا انجام — کامیاب لوگ (بھاری ترازو والے) — جن لوگوں کی نیکیوں کا پلڑا بھاری ہو جائے گا، وہی لوگ حقیقی کامیابی حاصل کرنے والے ہوں گے اور انہیں جنت کی نعمتیں ملیں گی۔
4 اعمال کے ترازو (میزان) کے مطابق انسانوں کا انجام — ناکام اور گھاٹے میں رہنے والے (ہلکے ترازو والے) — جن لوگوں کی نیکیوں کا پلڑا ہلکا ہو جائے گا، انہوں نے اپنا آپ نقصان میں ڈال دیا؛ ان کا ٹھکانا جہنم ہوگا جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔

سرگرمیاں برائے طلبہ

12 سرگرمیاں برائے طلبہ

وَقُل رَّبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنۡ هَمَزَٰتِ ٱلشَّيَٰطِينِ وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَن يَحۡضُرُونِ

سورۃ المؤمنون کی روشنی میں شیاطین کے وسوسوں سے پناہ مانگنے کی دعا ترجمے کے ساتھ لکھیں۔

ترجمہ

"اے میرے رب! میں شیاطین کے وسوسوں (اور ان کے اکسانے) سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور اے میرے رب! میں اس بات سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آئیں۔"

13 سرگرمیاں برائے طلبہ

سورۃ المؤمنون کی روشنی میں موت کے وقت منکرین کی تمنا اور قیامت کے احوال تحریر کریں۔

جب منکرینِ حق میں سے کسی کو موت آتی ہے اور آخرت کی حقیقت سامنے آتی ہے تو وہ حسرت اور پشیمانی کے ساتھ یہ تمنا کرتا ہے: "اے میرے رب! مجھے دوبارہ دنیا میں واپس بھیج دے تاکہ میں وہ نیک اعمال کر سکوں جو میں نے پیچھے چھوڑ دیے تھے۔" اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ محض ایک بے کار بات ہے جو وہ اپنی زبان سے نکال رہا ہے؛ اب دنیا میں ان کی واپسی کا کوئی امکان نہیں اور ان کے آگے برزخ کی زندگی ہے۔

موت کے وقت منکرین کی تمنا اور قیامت کے احوال

1 قیامت کے احوال — صور پھونکا جانا — جب قیامت کے دن صور پھونکا جائے گا تو لوگوں کے درمیان تمام دنیاوی نسب، رشتے اور ناتے ختم ہو جائیں گے اور ہولناکی کی وجہ سے کوئی ایک دوسرے کا حال نہیں پوچھے گا۔
2 قیامت کے احوال — اعمال کا وزن (میزان) — کامیاب لوگ — جن کی نیکیوں کا پلڑا بھاری ہوگا، وہ کامل کامیاب اور بامراد ہوں گے؛ ناکام لوگ — جن کی نیکیوں کا پلڑا ہلکا ہوگا، وہ خسارہ اٹھانے والے ہوں گے اور جہنم ان کا دائمی ٹھکانا ہوگی۔
3 قیامت کے احوال — جہنمیوں کی حالت — جہنمیوں کے چہروں کو آگ جھلس دے گی اور وہ اس میں بدشکل بنے پڑے رہیں گے؛ جب وہ وہاں سے نکلنے کی التجا کریں گے تو ارشاد ہوگا: "اسی میں ذلیل ہو کر پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو۔"
14 سرگرمیاں برائے طلبہ

حلال اور حرام میں فرق تحریر کریں۔

اسلامی شریعت میں انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے تمام افعال و اشیاء کو مختلف احکام میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں سب سے بنیادی اور اہم فرق "حلال" اور "حرام" کا ہے:

1 بنیادی تعریف — حلال: عربی زبان میں حلال کے معنی "کھولنے" یا "آزاد کرنے" کے ہیں؛ شرعی اصطلاح میں حلال سے مراد وہ تمام کام، اشیاء، خوراک اور معاملات ہیں جن کی اجازت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے دی ہے اور جن پر کوئی شرعی پابندی نہیں۔ حرام: عربی میں حرام کے معنی "ممنوع" کے ہیں؛ شرعی اصطلاح میں حرام سے مراد وہ تمام کام، اشیاء اور معاملات ہیں جن سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے قطعی اور سخت ممانعت فرمائی ہے۔
2 شرعی حکم — حلال کو اپنانا، کھانا یا کرنا جائز اور باعثِ ثواب ہے؛ حرام کو کرنا یا استعمال کرنا سخت گناہ اور ناجائز ہے۔
3 آخرت میں انجام — حلال طریقے سے زندگی بسر کرنے پر اجر و ثواب اور جنت ملے گی؛ حرام کے ارتکاب پر عذاب اور جہنم کی وعید ہے۔
4 جسم و روح پر اثر — حلال روح، دل اور جسم کی پاکیزگی اور سکون کا باعث بنتا ہے؛ حرام دل کو سیاہ کرتا ہے، روح کو ناپاک کرتا ہے اور گناہ کی طرف رغبت بڑھاتا ہے۔
5 دعاؤں کی قبولیت — حلال رزق اور حلال کمائی دعاؤں کی قبولیت کی بنیادی شرط ہیں؛ حرام رزق اور کام دعاؤں کی قبولیت میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔
6 خوراک میں مثالیں — حلال: ذبح کیا ہوا حلال جانور (گائے، بکری، مرغی)، مچھلی، پھل، سبزیاں اور پاکیزہ مشروبات؛ حرام: مردار، سور کا گوشت، بہتا ہوا خون، اللہ کے علاوہ کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا جانور، شراب اور تمام نشہ آور اشیاء۔
7 کمائی و معیشت میں مثالیں — حلال: تجارت، محنت مزدوری، ملازمت، زراعت اور جائز شراکت داری سے حاصل ہونے والی آمدنی؛ حرام: سود، رشوت، چوری، جوا، دھوکا دہی، ناپ تول میں کمی اور ناجائز قبضے سے حاصل شدہ مال۔
8 اخلاق و افعال میں مثالیں — حلال: سچ بولنا، والدین کی خدمت، عدل و انصاف، نکاح اور صلہ رحمی؛ حرام: جھوٹ، زنا، قتلِ ناحق، غیبت، حسد اور کسی پر بہتان لگانا۔
9 بنیادی اسلامی قاعدہ — "الاصل فی الاشیاء الاباحۃ" (تمام چیزوں میں بنیادی اصل جائز ہونا ہے) — یعنی دنیا میں موجود تمام پاکیزہ نعمتیں انسان کے لیے حلال ہیں، الا یہ کہ قرآن یا حدیث میں کسی مخصوص چیز کی ممانعت صراحت کے ساتھ بیان کر دی گئی ہو۔
جواب خلاصہ: حلال انسان کے لیے باعثِ برکت، پاکیزگی اور نجات ہے، جب کہ حرام انسان کی دنیا و آخرت کو تباہ کرنے والا اور اللہ کی ناراضی کا سبب ہے۔ ایک سچے مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ حلال اختیار کرے اور حرام سے مکمل پرہیز کرے۔
15 سرگرمیاں برائے طلبہ

أَفَحَسِبۡتُمۡ أَنَّمَا خَلَقۡنَٰكُمۡ عَبَثٗا وَأَنَّكُمۡ إِلَيۡنَا لَا تُرۡجَعُونَ فَتَعَٰلَى ٱللَّهُ ٱلۡمَلِكُ ٱلۡحَقُّۖ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ ٱلۡعَرۡشِ ٱلۡكَرِيمِ وَمَن يَدۡعُ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٰهًا ءَاخَرَ لَا بُرۡهَٰنَ لَهُۥ بِهِۦ فَإِنَّمَا حِسَابُهُۥ عِندَ رَبِّهِۦٓۚ إِنَّهُۥ لَا يُفۡلِحُ ٱلۡكَٰفِرُونَ وَقُل رَّبِّ ٱغۡفِرۡ وَٱرۡحَمۡ وَأَنتَ خَيۡرُ ٱلرَّـٰحِمِينَ

سورۃ المؤمنون کی آیات 115 تا 118 کی روشنی میں بیان کردہ تعلیمات اور صفاتِ باری تعالیٰ تحریر کریں۔

سورۃ المؤمنون کی آخری آیات قرآن مجید کا ایک انتہائی مؤثر اور فکر انگیز حصہ ہیں؛ ان میں انسان کی تخلیق کے مقصد، آخرت کے حتمی حساب اور اللہ تعالیٰ کی عظیم صفات کو بیان کیا گیا ہے۔

ان آیات میں بیان کردہ بنیادی تعلیمات اور ان آیات میں بیان کردہ صفاتِ باری تعالیٰ

1 ان آیات میں بیان کردہ بنیادی تعلیمات — تخلیقِ انسانی کا مقصد — انسان کو دنیا میں کسی کھیل تماشے یا بغیر کسی مقصد (عبث) کے پیدا نہیں کیا گیا، بلکہ اس کی زندگی کا ایک خاص مقصد ہے اور وہ ہے اپنے خالق کی بندگی اور اطاعت۔
2 ان آیات میں بیان کردہ بنیادی تعلیمات — آخرت اور جواب دہی — دنیا کی زندگی عارضی ہے اور ہر انسان کو مرنے کے بعد اپنے رب کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے جہاں اس کے ہر عمل کا حساب ہوگا۔
3 ان آیات میں بیان کردہ بنیادی تعلیمات — شرک کی نفی اور انجام — شرک ایک بے بنیاد اور بے دلیل عمل ہے؛ جو لوگ اللہ کے سوا کسی اور کو معبود بناتے ہیں، وہ آخرت میں سخت ناکامی اور خسارے سے دوچار ہوں گے۔
4 ان آیات میں بیان کردہ بنیادی تعلیمات — دعا اور طلبِ رحم — ان آیات کا اختتام اس تعلیم پر ہوتا ہے کہ انسان کو ہر وقت اللہ تعالیٰ سے مغفرت، معافی اور رحمت کی دعا مانگتے رہنا چاہیے۔
5 ان آیات میں بیان کردہ صفاتِ باری تعالیٰ — تَعَالَى (بلند و برتر ہونا) — اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب، نقص، بے کار کام اور مخلوق کی خامیوں سے پاک اور بلند ہے۔
6 ان آیات میں بیان کردہ صفاتِ باری تعالیٰ — الملک الحق (سچا حقیقی بادشاہ) — تمام کائنات کا حقیقی اور ابدی حکمران صرف وہی ہے، جس کی بادشاہی کو کبھی زوال نہیں۔
7 ان آیات میں بیان کردہ صفاتِ باری تعالیٰ — لا الٰہ الا ہو (وحدانیت) — بندگی، عبادت اور پکارے جانے کے لائق صرف وہی ایک ذات ہے۔
8 ان آیات میں بیان کردہ صفاتِ باری تعالیٰ — رب العرش الکریم (عزت والے عرش کا رب) — وہ اتنی عظیم کائنات اور اس کے سب سے بلند مقام "عرشِ عظیم" کا مالک اور پرورش فرمانے والا ہے۔
9 ان آیات میں بیان کردہ صفاتِ باری تعالیٰ — خیر الراحمین (سب سے بہتر رحم فرمانے والا) — اللہ تعالیٰ کی رحمت تمام مخلوقات پر محیط ہے، اور اس سے بڑھ کر کوئی رحم کرنے والا نہیں۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.