نویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 7: سبق 7: سورۃ المؤمنون (حصہ اول) — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں برائے طلبہ · 16 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

قَدۡ أَفۡلَحَ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ ٱلَّذِينَ هُمۡ فِي صَلَاتِهِمۡ خَٰشِعُونَ وَٱلَّذِينَ هُمۡ عَنِ ٱللَّغۡوِ مُعۡرِضُونَ (سورۃ المؤمنون ۔ آیات 1 تا 3)

آیاتِ کریمہ میں مومنین کی کون سی صفات بیان ہوئی ہیں؟

ان آیاتِ کریمہ کی روشنی میں مومنین کی درج ذیل صفات بیان کی گئی ہیں:

1 خشوع و خضوع — وہ اپنی نمازوں میں خشوع و خضوع اختیار کرتے ہیں۔
2 لغویات سے پرہیز — وہ فضول اور بے ہودہ باتوں (لغو کاموں) سے دور رہتے ہیں۔
2 مختصر جوابات

وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ مِن سُلَٰلَةٖ مِّن طِينٖ ثُمَّ جَعَلۡنَٰهُ نُطۡفَةٗ فِي قَرَارٖ مَّكِينٖ ثُمَّ خَلَقۡنَا ٱلنُّطۡفَةَ عَلَقَةٗ فَخَلَقۡنَا ٱلۡعَلَقَةَ مُضۡغَةٗ فَخَلَقۡنَا ٱلۡمُضۡغَةَ عِظَٰمٗا فَكَسَوۡنَا ٱلۡعِظَٰمَ لَحۡمٗا ثُمَّ أَنشَأۡنَٰهُ خَلۡقًا ءَاخَرَۚ فَتَبَارَكَ ٱللَّهُ أَحۡسَنُ ٱلۡخَٰلِقِينَ (سورۃ المؤمنون ۔ آیات 12 تا 14)

آیاتِ کریمہ میں انسان کی تخلیق کے کون سے مراحل بیان ہوئے ہیں؟

آیاتِ کریمہ میں انسان کی تخلیق کے درج ذیل مراحل بیان ہوئے ہیں:

1 نطفہ (قطرہ)۔
2 علقہ (جما ہوا خون)۔
3 مضغہ (گوشت کا لوتھڑا)۔
4 ہڈیاں بننا۔
5 ہڈیوں پر گوشت چڑھانا۔
6 نئی صورت (روح پھونک کر مکمل انسان) بنانا۔
3 مختصر جوابات

وَإِنَّ لَكُمۡ فِي ٱلۡأَنۡعَٰمِ لَعِبۡرَةٗۖ نُّسۡقِيكُم مِّمَّا فِي بُطُونِهَا وَلَكُمۡ فِيهَا مَنَٰفِعُ كَثِيرَةٞ وَمِنۡهَا تَأۡكُلُونَ وَعَلَيۡهَا وَعَلَى ٱلۡفُلۡكِ تُحۡمَلُونَ (سورۃ المؤمنون ۔ آیات 21 تا 22)

آیاتِ کریمہ میں چوپایوں کے کون سے فائدے بیان ہوئے ہیں؟

آیاتِ کریمہ کے مطابق چوپایوں (مویشیوں) کے درج ذیل فائدے ہیں:

1 ان کے پیٹ سے انسانوں کو دودھ پینے کو ملتا ہے۔
2 ان میں انسانوں کے لیے اور بھی بہت سے منافع (مثلاً اون، چمڑا وغیرہ) ہیں۔
3 انسان ان کا گوشت کھاتے ہیں (غذا کے طور پر استعمال کرتے ہیں)۔
4 ان پر اور کشتیوں پر سواری کی جاتی ہے۔
4 مختصر جوابات

وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوۡمِهِۦ فَقَالَ يَٰقَوۡمِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنۡ إِلَٰهٍ غَيۡرُهُۥٓۚ أَفَلَا تَتَّقُونَ (سورۃ المؤمنون ۔ آیت 23)

آیتِ کریمہ کے مطابق سیدنا نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو کیا دعوت دی؟

جواب سیدنا نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو دعوت دی کہ: "اے میری قوم! اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، تو کیا تم (اس سے) ڈرتے نہیں؟"
5 مختصر جوابات

فَاسۡلُكۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ وَاَهۡلَكَ (سورۃ المؤمنون ۔ آیت 27)

آیتِ کریمہ کے مطابق سیدنا نوح علیہ السلام کو کیا حکم دیا گیا؟

سیدنا نوح علیہ السلام کو حکم دیا گیا کہ:

1 وہ اللہ تعالیٰ کی نگرانی اور وحی کے مطابق کشتی تیار کریں۔
2 طوفان کے وقت ہر قسم کے جانوروں اور جان داروں کا ایک ایک جوڑا (نر اور مادہ) کشتی میں سوار کر لیں۔
3 اپنے اہلِ خانہ کو ساتھ بٹھا لیں، سوائے ان کے جن کے بارے میں پہلے (ہلاکت کا) حکم صادر ہو چکا ہو۔

تفصیلی جوابات

6 تفصیلی جوابات

ثُمَّ إِنَّكُم بَعۡدَ ذَٰلِكَ لَمَيِّتُونَ ثُمَّ إِنَّكُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ تُبۡعَثُونَ (سورۃ المؤمنون ۔ آیات 15 تا 16)

آیاتِ کریمہ کا ترجمہ و وضاحت تحریر کریں۔

ترجمہ

"پھر تم اس کے بعد یقیناً مرنے والے ہو۔ پھر تم قیامت کے دن لازماً اٹھائے جاؤ گے۔"

تفصیلی وضاحت

1 زندگی کی عارضی حقیقت اور موت کا اٹل سچ — اس سے پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسانی تخلیق کے مختلف مراحل (مٹی، نطفہ، علقہ، مضغہ، ہڈیاں اور ان پر گوشت چڑھانا) کا ذکر فرمایا ہے کہ کس طرح انسان کو ایک بہترین ساخت دی جاتی ہے۔ ان تمام مراحل سے گزر کر جب انسان جوانی اور طاقت کی منزل پر پہنچتا ہے تو اسے نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ زندگی عارضی ہے؛ خواہ انسان کتنا ہی صحت مند، طاقت ور یا مال دار کیوں نہ ہو، اس دنیا کا آخری اور یقینی اسٹیشن موت ہے — کوئی شخص بھی موت کے اس فیصلے سے فرار حاصل نہیں کر سکتا۔
2 "ثُمَّ إِنَّكُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ تُبۡعَثُونَ" (قیامت کے دن دوبارہ اٹھایا جانا) — "ثم" عربی میں فاصلے اور ترتیب کے لیے آتا ہے، یعنی موت کے بعد ایک طویل مدت (برزخ کا زمانہ) گزرے گی اور سب کچھ فنا ہو جانے کے بعد جب قیامت برپا ہوگی تو "تُبۡعَثُونَ" — تمام انسانوں کو ان کی قبروں سے یا زمین کے ذرات سے دوبارہ نکال کر جمع کیا جائے گا تاکہ ان کے اعمال کا حساب کتاب کیا جا سکے؛ موت انسان کا آخری انجام نہیں، بلکہ اس کے بعد ایک نئی زندگی شروع ہوگی۔
3 تاکیدی کلمات کا استعمال — اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حقیقتِ موت اور آخرت کو پختہ کرنے کے لیے تاکید کے کئی حروف استعمال کیے ہیں (جیسے "ثم"، "إنکم"، "لمیتون" میں لامِ تاکید)، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ دونوں باتیں (موت اور قیامت) سو فیصد برحق اور یقینی ہیں جن میں شک کی کوئی گنجائش نہیں۔
7 تفصیلی جوابات

وَأَنزَلۡنَا مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءَۢ بِقَدَرٖ فَأَسۡكَنَّـٰهُ فِي ٱلۡأَرۡضِۖ وَإِنَّا عَلَىٰ ذَهَابِۭ بِهِۦ لَقَٰدِرُونَ فَأَنشَأۡنَا لَكُم بِهِۦ جَنَّـٰتٖ مِّن نَّخِيلٖ وَأَعۡنَٰبٖ لَّكُمۡ فِيهَا فَوَٰكِهُ كَثِيرَةٞ وَمِنۡهَا تَأۡكُلُونَ وَشَجَرَةٗ تَخۡرُجُ مِن طُورِ سَيۡنَآءَ تَنۢبُتُ بِٱلدُّهۡنِ وَصِبۡغٖ لِّلۡأٓكِلِينَ (سورۃ المؤمنون ۔ آیات 18 تا 20)

آیاتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی کن نعمتوں کا ذکر ہے؟

ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی درج ذیل نعمتوں اور قدرت کی نشانیوں کا ذکر فرمایا گیا ہے:

1 بارش کا نازل ہونا — اللہ تعالیٰ نے آسمان سے ایک مقررہ مقدار میں پانی نازل فرمایا اور اسے زمین میں ٹھہرایا اور محفوظ کیا۔
2 باغات اور پھل — اس پانی کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے کھجوروں اور انگوروں کے باغات پیدا کیے، اور ان میں کثرت سے مختلف پھل اگائے جنہیں انسان کھاتے ہیں۔
3 زیتون کا درخت — طورِ سینا کے پہاڑ سے نکلنے والے زیتون کے درخت کا ذکر ہے جو تیل اور کھانے والوں کے لیے سالن (روغن) مہیا کرتا ہے۔
8 تفصیلی جوابات

فَإِذَا ٱسۡتَوَيۡتَ أَنتَ وَمَن مَّعَكَ عَلَى ٱلۡفُلۡكِ فَقُلِ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ ٱلَّذِي نَجَّىٰنَا مِنَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلظَّـٰلِمِينَ وَقُل رَّبِّ أَنزِلۡنِي مُنزَلٗا مُّبَارَكٗا وَأَنتَ خَيۡرُ ٱلۡمُنزِلِينَ (سورۃ المؤمنون ۔ آیات 28 تا 29)

آیاتِ کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت تحریر کریں۔

ترجمہ

"پھر جب تم اور تمہارے ساتھی کشتی پر باطمینان بیٹھ جاؤ تو کہو: تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے ہمیں ظالم قوم سے نجات دی۔ اور دعا کرو: اے میرے رب! مجھے برکت والی جگہ پر اتار اور تو بہترین اتارنے والا ہے۔"

تفصیلی وضاحت

1 نعمتِ نجات پر شکر گزاری (آیت 28) — اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو حکم دیا کہ جب وہ اور ان کے ساتھی کشتی پر سوار ہو کر محفوظ ہو جائیں تو سب سے پہلا کام اللہ کا شکر اور حمد ادا کرنا ہے۔ "ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ ٱلَّذِي نَجَّىٰنَا" — انسان کو جب کسی بڑی مصیبت، آفت یا ظالموں کی گرفت سے نجات ملے تو اپنی تدبیر یا حکمت کا غرور کرنے کے بجائے تمام تر حمد و ثنا اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنی چاہیے۔ حضرت نوح علیہ السلام نے صدیوں تک اپنی قوم کو دعوت دی لیکن قوم نے استہزا اور ظلم کی حد کر دی؛ اللہ نے نافرمانوں کو غرق کر کے اہلِ ایمان کو ان کے ظلم و شر سے نجات دی۔
2 برکت والی منزل کے لیے مسنون دعا (آیت 29) — طوفان کے تھمنے اور کشتی کے جودی پہاڑ پر ٹھہرنے کے بعد کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو خاص دعا سکھائی: "رَّبِّ أَنزِلۡنِي مُنزَلٗا مُّبَارَكٗا وَأَنتَ خَيۡرُ ٱلۡمُنزِلِينَ"۔ کشتی جب طوفان سے نکل کر خشکی پر اتری تو زمین تباہ ہو چکی تھی؛ اس دعا کے ذریعے اللہ سے التجا کی گئی کہ جس نئی جگہ پر بھی قیام ہو، وہ امن، سلامتی، رزق اور دین و دنیا کی برکتوں سے معمور ہو۔ "وَأَنتَ خَيۡرُ ٱلۡمُنزِلِينَ" — اللہ تعالیٰ ہی کی ذات وہ بہترین مہربان ہے جو اپنے بندوں کو بہترین ٹھکانا عطا فرماتی اور ان کی حفاظت کرتی ہے۔
9 تفصیلی جوابات

سورۃ المؤمنون کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔

جواب نوٹ: اس سوال کا جواب نصابی کتاب کے صفحہ نمبر 50 پر موجود ہے؛ وہاں سے تیار کریں۔
10 تفصیلی جوابات

قَالَ رَبِّ ٱنصُرۡنِي بِمَا كَذَّبُونِ قَالَ عَمَّا قَلِيلٖ لَّيُصۡبِحُنَّ نَٰدِمِينَ (سورۃ المؤمنون ۔ آیات 26 اور 40)

آیاتِ کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت تحریر کریں۔

ترجمہ

"(نوح علیہ السلام نے) عرض کی: اے میرے رب! میری مدد فرما اس وجہ سے کہ انہوں نے مجھے جھٹلایا۔ (اللہ نے) فرمایا: عنقریب یہ سخت پچھتانے والے بن جائیں گے۔"

تفصیلی وضاحت

1 حضرت نوح علیہ السلام کی دعا اور التجا — حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو صدیوں (تقریباً ساڑھے نو سو سال) تک توحید کی دعوت دی، لیکن قوم نے ایمان لانے کے بجائے ان کا مذاق اڑایا، انہیں اذیتیں دیں اور جھٹلایا۔ "رَبِّ ٱنصُرۡنِي" — جب قوم کی ہٹ دھرمی حد سے بڑھ گئی اور ان کے ایمان لانے کی کوئی امید نہ رہی، تو حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے ذاتی انتقام کے لیے نہیں بلکہ دینِ حق اور توحید کی سربلندی کے لیے اللہ سے نصرت و مدد مانگی۔
2 اللہ تعالیٰ کی طرف سے وعید اور بدلہ — "عَمَّا قَلِيلٖ" (عنقریب) — اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی اور بشارت دی کہ ظالموں کی مہلت کا وقت اب ختم ہونے والا ہے اور بہت جلد ان پر عذاب آنے والا ہے۔ "لَّيُصۡبِحُنَّ نَٰدِمِينَ" (سخت پچھتاوا) — جب عذاب (طوفانِ نوح) انہیں گھیر لے گا تو یہ لوگ اپنے کفر، نافرمانی اور رسول کو جھٹلانے پر شدید پچھتائیں گے؛ لیکن اس وقت کا پچھتاوا کسی کام نہیں آئے گا کیونکہ عذاب دیکھنے کے بعد توبہ کا وقت ختم ہو جاتا ہے۔
11 تفصیلی جوابات

سورۃ المؤمنون کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔

جواب نوٹ: اس سوال کا جواب نصابی کتاب کے صفحہ نمبر 50 پر موجود ہے؛ وہاں سے تیار کریں۔

سرگرمیاں برائے طلبہ

12 سرگرمیاں برائے طلبہ

وَأَنزَلۡنَا مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءَۢ بِقَدَرٖ فَأَسۡكَنَّـٰهُ فِي ٱلۡأَرۡضِۖ وَإِنَّا عَلَىٰ ذَهَابِۭ بِهِۦ لَقَٰدِرُونَ

اللہ تعالیٰ نے عظیم نعمت پانی زمین میں کس طرح محفوظ کرنے کا انتظام فرمایا ہے؟

پانی کا محفوظ انتظام: اللہ تعالیٰ نے آسمان سے اندازے اور ضرورت کے مطابق پانی نازل فرمایا اور اسے زمین کی گہرائیوں، چشموں، ندی نالوں اور زیرِ زمین ذخائر میں ٹھہرا کر محفوظ کر دیا۔

پانی کے فائدے

1 انسانی زندگی، پینے اور پاکیزگی کے لیے بنیادی ضرورت ہے۔
2 کھیتوں، باغات اور مختلف قسم کے اناج و پھل اگانے کا ذریعہ ہے۔
3 جانوروں اور چوپایوں کی حیات اور خوراک کا ضامن ہے۔
4 ماحول کو شاداب اور معتدل رکھتا ہے۔
13 سرگرمیاں برائے طلبہ

اللہ تعالیٰ نے چوپایوں میں بہت سے فائدے رکھے ہیں جن میں سے چند کا اس سورت میں ذکر ہوا ہے؛ مزید کچھ فوائد پر مبنی فہرست تیار کریں۔

سورۃ المؤمنون کی روشنی میں چوپایوں (مویشیوں) کے درج ذیل فائدے ہیں:

1 دودھ — ان کے پیٹ سے خالص اور غذائیت سے بھرپور دودھ حاصل ہوتا ہے۔
2 گوشت — ان کا گوشت انسانوں کے لیے بہترین غذا ہے۔
3 سواری و بار برداری — یہ انسانوں اور ان کے سامان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے کام آتے ہیں۔
4 دیگر منافع — ان کی اون، چمڑے اور بالوں سے لباس، خیمے اور دیگر ضرورت کی اشیاء تیار کی جاتی ہیں۔
14 سرگرمیاں برائے طلبہ

سورۃ المؤمنون کی ابتدائی 10 آیات میں کامیاب اہلِ ایمان کی صفات کی فہرست تیار کریں؛ کیا آپ میں یہ مذکورہ صفات پائی جاتی ہیں؟

کامیاب اہلِ ایمان کی صفات کی فہرست:

1 اپنی نمازوں میں خشوع و خضوع اختیار کرتے ہیں۔
2 لغو اور فضول بات چیت اور کاموں سے پرہیز کرتے ہیں۔
3 زکوٰۃ کی باقاعدگی سے ادائیگی کرتے ہیں۔
4 اپنی شرم گاہوں کی حفاظت (عفت و پاک دامنی) کرتے ہیں۔
5 اپنی امانتوں اور عہد و پیمان کی پاس داری کرتے ہیں۔
6 اپنی نمازوں کی پابندی اور نگہداشت کرتے ہیں۔
جواب خود احتسابی: الحمد للہ! میں ان صفات کو اپنی زندگی میں اپنانے کی پوری کوشش کرتا/کرتی ہوں، نمازوں میں خشوع قائم رکھتا/رکھتی ہوں اور امانت و دیانت داری پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کرتا/کرتی ہوں۔
15 سرگرمیاں برائے طلبہ

وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ مِن سُلَٰلَةٖ مِّن طِينٖ ثُمَّ جَعَلۡنَٰهُ نُطۡفَةٗ فِي قَرَارٖ مَّكِينٖ ثُمَّ خَلَقۡنَا ٱلنُّطۡفَةَ عَلَقَةٗ فَخَلَقۡنَا ٱلۡعَلَقَةَ مُضۡغَةٗ فَخَلَقۡنَا ٱلۡمُضۡغَةَ عِظَٰمٗا فَكَسَوۡنَا ٱلۡعِظَٰمَ لَحۡمٗا ثُمَّ أَنشَأۡنَٰهُ خَلۡقًا ءَاخَرَۚ فَتَبَارَكَ ٱللَّهُ أَحۡسَنُ ٱلۡخَٰلِقِينَ

سورۃ المؤمنون کی روشنی میں انسان کی تخلیق کے مراحل اور اس حوالے سے جدید سائنسی تحقیقات تحریر کریں۔

سورۃ المؤمنون کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسانی تخلیق کے مختلف مراحل کو جس ترتیب اور درستی سے بیان فرمایا ہے، وہ قرآنِ مجید کا ایک عظیم سائنسی معجزہ ہے؛ جدید علمِ جنین (ایمبریالوجی) نے ان تمام مراحل کی مکمل تصدیق کی ہے۔ قرآنی مراحل اور ان کے مطابق سائنسی تحقیق کا موازنہ درج ذیل ہے:

1 سُلَٰلَةٖ مِّن طِينٖ (مٹی کا نچوڑ/خلاصہ) — انسان کے جسم میں موجود تمام کیمیائی عناصر (آکسیجن، کاربن، ہائیڈروجن، نائٹروجن، فولاد وغیرہ) مٹی اور زمین میں موجود عناصر کے عین مطابق ہیں۔
2 نُطۡفَة (قطرہ) — مرد کے نطفے اور عورت کے بیضے کے ملنے سے جو ابتدائی خلیہ بنتا ہے، اسے سائنس میں زائیگوٹ کہتے ہیں۔
3 قَرَارٖ مَّكِينٖ (محفوظ ٹھکانا) — ماں کا رحم بچے کے لیے ہر قسم کے صدمے، دباؤ اور جراثیم سے محفوظ ترین مقام ہے، جہاں نطفہ اپنی نشو و نما شروع کرتا ہے۔
4 عَلَقَة (چپکی ہوئی چیز/جونک کی مانند لوتھڑا) — نطفہ ٹھہرنے کے تقریباً 24 تا 25 دن بعد جنین بچہ دانی کی دیوار سے چپک جاتا ہے؛ اس وقت جنین کی شکل اور ساخت پانی کی جونک سے حیرت انگیز طور پر مشابہ ہوتی ہے اور وہ جونک ہی کی طرح ماں کے خون سے غذا لیتا ہے۔
5 مُضۡغَة (چبایا ہوا گوشت/لوتھڑا) — اٹھائیسویں دن کے قریب جنین پر چھوٹے چھوٹے ابھار بن جاتے ہیں، جس سے اس کی شکل بالکل ایسی لگتی ہے جیسے دانتوں سے چبائی ہوئی گوشت کی بوٹی ہو۔
6 عِظَٰمٗا (ہڈیاں بننا) — سائنسی تحقیق کے مطابق چھٹے ہفتے (تقریباً 42 ویں دن) کے بعد جنین میں ہڈیوں کا ڈھانچہ بننا شروع ہوتا ہے۔
7 فَكَسَوۡنَا ٱلۡعِظَٰمَ لَحۡمٗا (ہڈیوں پر گوشت چڑھانا) — ہڈیوں کا ڈھانچہ تیار ہونے کے بعد اگلے ہی مرحلے (ساتویں اور آٹھویں ہفتے) میں پٹھے اور گوشت ہڈیوں کو ڈھانپ لیتے ہیں۔
8 خَلۡقًا ءَاخَرَ (ایک نئی صورت) — آٹھویں ہفتے کے بعد تمام اعضا اپنی شکل اختیار کر لیتے ہیں، روح پھونکی جاتی ہے اور بچہ ایک مکمل انسانی شکل میں ڈھل جاتا ہے۔
جواب سائنسی ماہرین کا اعتراف: کینیڈا کی ٹورنٹو یونیورسٹی کے شعبۂ ایمبریالوجی کے عالمی شہرت یافتہ پروفیسر ڈاکٹر کیتھ ایل مور نے جب سورۃ المؤمنون کی ان آیات کا مطالعہ کیا تو اعتراف کیا: "چودہ سو سال قبل جب خرد بین اور علمِ جنین کا کوئی نام و نشان نہ تھا، ان مراحل کو اتنی سائنسی درستی سے بیان کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ کتاب (قرآن) اللہ کا الہام ہے اور محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں۔"
16 سرگرمیاں برائے طلبہ

سورۃ المؤمنون کی روشنی میں سیدنا نوح علیہ السلام اور ان کی قوم کے واقعے سے حاصل ہونے والے اسباق تحریر کریں۔

سورۃ المؤمنون (آیات 23 تا 30) میں سیدنا نوح علیہ السلام اور ان کی قوم کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ اس واقعے سے حاصل ہونے والے اہم اسباق درج ذیل ہیں:

1 دعوتِ توحید (انبیائے کرام کا بنیادی مشن) — سیدنا نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو سب سے پہلے توحید کا پیغام دیا اور فرمایا: "اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔" سبق: تمام انبیائے کرام کی دعوت کی بنیادی جڑ توحید (ایک اللہ کی بندگی) ہی رہی ہے اور اسلام میں سب سے اہم شے عقیدۂ توحید ہے۔
2 تکبر اور برتری کی چاہ (گمراہی کا بنیادی سبب) — قوم کے سرکردہ اور متکبر سرداروں نے سیدنا نوح علیہ السلام کی دعوت کو محض اس لیے رد کر دیا کہ وہ ان کی طرح انسان تھے اور کہنے لگے کہ "یہ شخص تم پر اپنی برتری قائم کرنا چاہتا ہے۔" سبق: تکبر، عناد اور اپنی بڑائی کی چاہت انسان کے لیے ہدایت کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتی ہے۔
3 حقانیت کو ظاہری اسباب سے نہ پرکھنا — قوم کے کافروں نے منطق دی کہ "اگر اللہ چاہتا تو فرشتے نازل کرتا"؛ انہوں نے رسول کے انسان ہونے کو قبول نہ کیا۔ سبق: حق کی پہچان کے لیے انسان کو ظاہری شان و شوکت، مال یا خارقِ عادت مطالبات کے بجائے سچائی اور پیغام کی تائید دیکھنی چاہیے۔
4 صبر، استقامت اور نصرتِ الٰہی — قوم کے طعنوں، تمسخر اور مجنون کہنے کے باوجود سیدنا نوح علیہ السلام دعوت پر ڈٹے رہے اور بالآخر اللہ کی بارگاہ میں دعا کی: "اے میرے رب! میری مدد فرما کیونکہ انہوں نے مجھے جھٹلا دیا ہے۔" اللہ نے انہیں کشتی بنانے کی ہدایت فرمائی اور نجات دی۔ سبق: حق کی راہ میں صبر و استقامت دکھانے والوں کی مدد بالآخر اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے۔
5 باطل کی انجامِ کار تباہی — جس قوم نے مسلسل تکبر اور سرکشی دکھائی، وہ طوفان میں غرق کر دی گئی اور مومنین نجات پا گئے۔ سبق: ظلم، کفر اور تکبر کا انجام تباہی ہے اور نجات صرف ایمان اور اللہ کی اطاعت میں ہے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.