آیتِ کریمہ کے مطابق اللہ تعالیٰ کن لوگوں کو بہترین رزق عطا فرمائے گا؟
جواباللہ تعالیٰ ان لوگوں کو بہترین رزق عطا فرمائے گا جنہوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی اور پھر وہ شہید کر دیے گئے یا فوت ہو گئے؛ اور بے شک اللہ ہی سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔
آیتِ کریمہ میں باطل معبودوں کے بے بس اور مجبور ہونے کی کیا حقیقت واضح کی گئی ہے؟
جوابآیتِ کریمہ میں بیان فرمایا گیا ہے کہ اللہ کے سوا جن معبودوں کو پکارا جاتا ہے، وہ سب مل کر بھی ایک مکھی پیدا نہیں کر سکتے، اور اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین کر لے جائے تو وہ اسے چھڑا بھی نہیں سکتے (طالب اور مطلوب دونوں ہی بے بس ہیں)۔
آیتِ کریمہ میں انسانوں کی کس عمومی کوتاہی کا ذکر کیا گیا ہے؟
جواباس آیتِ کریمہ میں انسانوں کی اس عمومی کوتاہی کا ذکر کیا گیا ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی ایسی قدر و منزلت نہ پہچانی (اور نہ اس کی عظمت کو سمجھا) جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق تھا۔
"اس دن بادشاہی صرف اللہ ہی کی ہوگی، وہی ان کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ پس جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے، وہ نعمتوں والے باغوں (جنت) میں ہوں گے۔"
تفصیلی وضاحت
1"ٱلۡمُلۡكُ يَوۡمَئِذٖ لِّلَّهِ" (قیامت کے دن صرف اللہ کی بادشاہی) — اگرچہ دنیا میں بھی حقیقی حاکمیت صرف اللہ ہی کی ہے، لیکن دنیاوی امتحان کے لیے اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو عارضی طور پر اختیار، اقتدار اور ملکیت دی ہوئی ہے۔ قیامت کے دن یہ تمام ظاہری اور عارضی سہارے ختم ہو جائیں گے؛ کوئی بادشاہ، حاکم یا صاحبِ اقتدار اپنے پاس کوئی اختیار نہیں پائے گا۔ اس دن پکار کر پوچھا جائے گا: "لِّمَنِ ٱلۡمُلۡكُ ٱلۡيَوۡمَ" (آج کے دن کس کی بادشاہی ہے؟) اور جواب ہوگا: "لِلَّهِ ٱلۡوَٰحِدِ ٱلۡقَهَّارِ" (صرف ایک اللہ کی جو سب پر غالب ہے)۔
2"يَحۡكُمُ بَيۡنَهُمۡ" (مطلق اور عادلانہ فیصلہ) — دنیا میں لوگ حق اور باطل کے بارے میں اختلاف کرتے رہے؛ مومن اور کافر، سچے اور جھوٹے کا فرق دنیاوی نظریات میں الجھتا رہا۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ خود تمام انسانوں کے درمیان عدالت لگائے گا اور ان کے تمام اختلافات کا حق اور انصاف کے ساتھ فیصلہ فرمائے گا؛ اس فیصلے میں کسی کے ساتھ ذرہ برابر ظلم یا ناانصافی نہیں ہوگی۔
3"فَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ" (اہلِ ایمان کا انجام) — اللہ تعالیٰ کے اس عادلانہ فیصلے کے نتیجے میں انسان دو واضح گروہوں میں تقسیم ہو جائیں گے۔ کامیابی کے لیے محض زبان سے دعویٰ کافی نہیں، بلکہ دو چیزیں ضروری ہیں: ایمان (صحیح عقیدہ) اور اعمالِ صالحہ (شریعت کے مطابق نیک عمل)؛ ایسے لوگوں کا ٹھکانا "جَنَّـٰتِ ٱلنَّعِيمِ" (نعمتوں سے بھرپور باغات) ہوگا، جہاں انہیں ہر قسم کی ابدی خوشیاں، آرام اور اللہ کی رضا حاصل ہوگی۔
اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید اور بندوں پر احسانات کو ثابت کرنے کے لیے چار عظیم قدرتوں اور حکمتوں کا بیان فرمایا ہے:
1زمین کی تمام چیزوں کی تسخیر — اللہ تعالیٰ نے زمین کی تمام چیزوں — مثلاً چرند، پرند، مویشی، نباتات، معدنیات، پانی اور ہوا — کو انسان کے لیے نفع بخش اور اس کی خدمت پر مامور کر دیا ہے؛ انسان اپنی تدبیر اور تصرف سے زمین کے وسائل کو استعمال میں لاتا ہے، جو حقیقت میں انسان کا کمال نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی قدرت اور تسخیر کا نتیجہ ہے۔
2سمندروں میں کشتیوں اور جہازوں کا چلنا — اللہ تعالیٰ نے پانی کی ساخت اور طبیعیات کے قوانین کو اس طرح بنایا کہ بھاری بھرکم کشتیاں اور بحری جہاز سمندر کے سینے پر تیرتے ہوئے سفر کرتے ہیں؛ یہ سفر اللہ ہی کے حکم اور طے کردہ قوانینِ قدرت کے تحت ممکن ہوتا ہے، جس کے ذریعے انسان تجارت، نقل و حمل اور سفر کی سہولتیں حاصل کرتا ہے۔
3آسمان کو زمین پر گرنے سے روکے رکھنا — اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم قدرت یہ ہے کہ اس نے کائنات کے اتنے بڑے نظام، ستاروں، سیاروں اور بالائی فضا کو ایک مقررہ نظم و ضبط کا پابند بنایا ہوا ہے؛ وہ ان تمام اجرامِ فلکی کو کششِ ثقل اور دیگر تکوینی قوانین کے ذریعے زمین پر گرنے اور تباہی مچانے سے روکے ہوئے ہے۔ یہ نظام صرف اللہ کے حکم کا مرہونِ منت ہے اور جب اس کا حکم (قیامت) آئے گا تو یہ نظام ختم ہوگا۔
4اللہ تعالیٰ کی شفقت، رحمت اور رأفت — ان تمام قدرتوں کا تذکرہ فرمانے کے بعد آخر میں فرمایا کہ یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ اللہ اپنے بندوں پر "رَءُوفٞ رَّحِيمٞ" (نہایت شفقت کرنے والا اور رحم فرمانے والا) ہے؛ اگر اللہ کی یہ رحمت نہ ہوتی اور وہ ان قوانین کو انسان کے تابع نہ کرتا، تو انسان کی زندگی زمین پر ممکن نہ رہتی۔
"یہ (حکم طے شدہ) ہے، اور جس شخص نے بدلہ لیا اتنا ہی جتنا اس پر ظلم کیا گیا تھا، پھر اس پر دوبارہ زیادتی کی گئی تو اللہ ضرور اس کی مدد فرمائے گا۔ بے شک اللہ معاف کرنے والا، بخشنے والا ہے۔"
تفصیلی وضاحت
1برابر کا بدلہ لینے کا حق (عدل و انصاف) — اسلام کسی پر ظلم کرنے کی اجازت نہیں دیتا، لیکن اگر کسی شخص یا قوم پر ظلم ہوا ہو تو شریعت اسے یہ حق دیتی ہے کہ وہ برابر کا بدلہ لے کر اپنا حق حاصل کرے؛ یعنی جتنا نقصان یا ظلم اس پر ہوا ہے، وہ اسی حد تک بدلہ لے سکتا ہے — اس سے زیادہ کی اجازت نہیں، کیونکہ حد سے تجاوز کرنا خود ظلم بن جاتا ہے۔
2"ثُمَّ بُغِيَ عَلَيۡهِ" (زیادتی کی صورت میں اللہ کا وعدۂ نصرت) — اگر مظلوم نے اپنے اوپر ہونے والے ظلم کا بالکل جائز اور برابر کا بدلہ لیا، لیکن ظالم نے اسے برداشت نہ کیا اور اس پر دوبارہ زیادتی (بغی) کر دی، تو اللہ تعالیٰ نے حتمی وعدہ فرمایا: "لَيَنصُرَنَّهُ ٱللَّهُ" (اللہ ضرور بالضرور اس کی مدد فرمائے گا) — چاہے مظلوم کتنا ہی بے بس، کمزور یا بے سہارا کیوں نہ نظر آتا ہو، کائنات کا خالق و مالک خود اس کی نصرت اور حمایت کا ضامن بن جاتا ہے۔
3"إِنَّ ٱللَّهَ لَعَفُوٌّ غَفُورٞ" (معاف کرنے کی ترغیب) — آیت کے اختتام پر اللہ تعالیٰ کی دو صفات "عفو" (معاف کرنے والا) اور "غفور" (بخشنے والا) کا ذکر ایک لطیف اور حکمت بھرے پیغام کی طرف اشارہ کرتا ہے: اگرچہ مظلوم کو برابر کا بدلہ لینے کا پورا حق حاصل ہے، لیکن اللہ تعالیٰ خود معاف کرنے اور درگزر کرنے کو پسند فرماتا ہے؛ بندوں کو ترغیب دی گئی ہے کہ اگر وہ اپنے حق کے باوجود عفو و درگزر سے کام لیں گے تو یہ اللہ کے نزدیک زیادہ محبوب اور افضل عمل ہوگا۔
آیتِ کریمہ کی رو سے اہلِ ایمان کو حقیقی کامیابی کے لیے جن اعمال کا حکم دیا گیا ہے، وہ کیا ہیں؟
اس مبارک آیت میں اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کو دارین (دنیا و آخرت) کی حقیقی کامیابی اور فلاح حاصل کرنے کے لیے چار اہم بنیادی اعمال کا حکم دیا ہے:
1رکوع کرنا (ٱرۡكَعُواْ) — نماز قائم کرنا اور اللہ کی بارگاہ میں عاجزی و انکساری اختیار کرنا۔
2سجدہ کرنا (وَٱسۡجُدُواْ) — اللہ تعالیٰ کے سامنے سراپا نیاز بن جانا اور فرماں برداری کی انتہا کو چھونا۔
3پروردگار کی عبادت کرنا (وَٱعۡبُدُواْ رَبَّكُمۡ) — زندگی کے تمام شعبوں میں صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی توحید و بندگی پر کاربند رہنا۔
4نیکی و بھلائی کے کام کرنا (وَٱفۡعَلُواْ ٱلۡخَيۡرَ) — حقوق العباد کی ادائیگی، مخلوقِ خدا کے ساتھ ہم دردی، صدقہ و خیرات اور نیکی کے ہر کام کو فروغ دینا۔
جوابنتیجہ: ان تمام اعمال پر عمل پیرا ہونے کا حتمی مقصد اور ثمرہ "حقیقی کامیابی اور فلاح" (لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ) کا حصول ہے۔
آیتِ کریمہ میں باطل معبودوں کی حقیقت کو کس مثال کے ذریعے واضح کیا گیا ہے؟
اللہ تعالیٰ نے اس آیتِ مبارکہ میں مشرکین کے گھڑے ہوئے تمام باطل معبودوں، بتوں اور اللہ کے سوا پکاری جانے والی ہستیوں کی بے بسی، لاچاری اور عاجزی کو واضح کرنے کے لیے مکھی کی ایک نہایت بصیرت افروز مثال بیان فرمائی ہے:
1تخلیق سے عاجزی — اگر دنیا کے تمام باطل معبود مل کر ایک معمولی سی مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں، تو وہ مل کر بھی اسے پیدا نہیں کر سکتے۔
2اپنا حق نہ چھڑا سکنا — اگر مکھی ان معبودوں کے سامنے رکھی ہوئی کسی چیز یا ان کے جسم سے کچھ چھین کر لے جائے، تو وہ اتنے بے بس ہیں کہ اس مکھی سے اپنی وہ چیز بھی واپس نہیں چھڑا سکتے۔
3طالب اور مطلوب دونوں کمزور — آیت کے آخر میں فرمایا گیا کہ باطل معبود کو پکارنے والا (طالب) اور جس سے مانگا جا رہا ہے (مطلوب/باطل معبود)، دونوں ہی انتہائی کمزور اور بے بس ہیں۔
آیتِ کریمہ ("فَأَقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُواْ ٱلزَّكَوٰةَ وَٱعۡتَصِمُواْ بِٱللَّهِ…") کا ترجمہ اور وضاحت تحریر کیجیے۔
ترجمہ
"پس تم نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ (کے دین) کو مضبوطی سے تھام لو، وہی تمہارا کارساز ہے، پس وہ کتنا ہی بہترین کارساز اور کتنا ہی بہترین مددگار ہے۔"
وضاحت
1"پس تم نماز قائم کرو" (اقامتِ نماز) — نماز قائم کرنے سے مراد صرف سجدہ و رکوع کر لینا نہیں، بلکہ اسے اس کے تمام حقوق، خشوع و خضوع اور پابندیِ وقت کے ساتھ ادا کرنا ہے؛ نماز انسان کے روحانی تعلق کو اللہ تعالیٰ سے جوڑتی ہے اور اسے فحش و برے کاموں سے روکتی ہے — یہ مومن کی روزمرہ زندگی کا بنیادی ستون ہے۔
2"اور زکوٰۃ ادا کرو" (ایتائے زکوٰۃ) — صاحبِ نصاب مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ اپنے مال میں سے مخصوص حصہ (ڈھائی فیصد) غریبوں، مسکینوں اور محتاجوں کو دیں؛ زکوٰۃ کی ادائیگی سے مال پاک ہوتا ہے، دل سے مال کی محبت اور بخل ختم ہوتا ہے، اور معاشرے میں معاشی مساوات اور ہم دردی قائم ہوتی ہے۔
3"اور اللہ کو مضبوطی سے تھام لو" (اعتصام باللہ) — "اعتصام باللہ" کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے دین (قرآن و سنت) پر سختی سے عمل پیرا ہونا اور اپنی تمام تر امیدیں اور سہارا صرف ذاتِ الٰہی سے وابستہ کرنا؛ دنیاوی طوفانوں، گمراہیوں اور تفرقہ بازی سے بچنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ مسلمان اللہ کے احکامات اور ہدایت کے راستے کو مضبوطی سے پکڑ کر رکھیں۔
4"وہی تمہارا کارساز ہے" (ولایتِ الٰہی) — مولیٰ (کارساز/سرپرست) وہ ہوتا ہے جو سنبھالنے والا، حفاظت کرنے والا اور رہنمائی کرنے والا ہو؛ جب بندہ نماز، زکوٰۃ اور اعتصام باللہ کا دامن تھام لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی سرپرستی خود اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے — پھر انسان کو کسی دنیاوی سہارے یا خوف کی ضرورت نہیں رہتی۔
5"فَنِعۡمَ ٱلۡمَوۡلَىٰ وَنِعۡمَ ٱلنَّصِيرُ" — اللہ تعالیٰ جیسی حمایتی اور مددگار ذات کائنات میں کوئی نہیں؛ انسان کے بنائے ہوئے تمام سہارے کچے اور عارضی ہیں، جب کہ اللہ کی مدد سچی، پائیدار اور کامل ہے۔ جب بندہ اپنے تمام معاملے اللہ کے سپرد کر دیتا ہے تو اللہ اس کی غیب سے مدد فرماتا ہے اور اسے ہر مشکل سے نجات دیتا ہے۔
سورۃ الحج میں بیان ہونے والی اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں میں سے سمندری کشتیوں اور آسمانوں کے بارے میں سائنسی تحقیق کریں۔
سورۃ الحج کی آیت 65 میں اللہ تعالیٰ نے کائنات کو انسان کے لیے مسخر کرنے اور اس کے نظام کو سنبھالنے کی عظیم نشانیاں بیان فرمائی ہیں۔ اس آیت میں دو اہم مظاہرِ قدرت — سمندری کشتیوں (وَٱلۡفُلۡكَ) اور آسمان کی تھام (وَيُمۡسِكُ ٱلسَّمَآءَ) — کا ذکر ہے، جن کی جدید سائنس مکمل تصدیق کرتی ہے۔
سمندری کشتیوں کا تیرنا اور سائنس اور آسمان (کرۂ ہوائی و خلا) کو گرنے سے روکنا اور سائنس
1سمندری کشتیوں کا تیرنا اور سائنس — آرکمیڈیز کا قانونِ طافویت — سائنس کے مطابق کوئی بھی جسم پانی میں اس وقت تیرتا ہے جب اس کا وزن، اس کے ذریعے ہٹائے گئے پانی کے وزن کے برابر یا اس سے کم ہو۔
2سمندری کشتیوں کا تیرنا اور سائنس — جہاز کی ساخت اور کثافت — لوہا اور اسٹیل پانی سے بہت بھاری ہوتے ہیں، لیکن جب انہیں جہاز کی شکل میں ڈھالا جاتا ہے تو ان کے اندر بڑا خالی خلا چھوڑ دیا جاتا ہے؛ اس سے جہاز کی اوسط کثافت پانی کی کثافت سے کم ہو جاتی ہے، اور وہ ڈوبنے کے بجائے سطح پر تیرتا ہے۔
3سمندری کشتیوں کا تیرنا اور سائنس — اوپر کی طرف دھکیلنے والی قوت — پانی کا دباؤ جہاز کو اوپر کی طرف دھکیلتا ہے (اپ تھرسٹ)؛ انسان اپنی عقل سے لوہے کو تیرنے کے قابل بناتا ہے، لیکن یہ صلاحیت اور طبیعیات کے قوانین (طافویت اور کثافت) اللہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ ہیں جن کے بغیر سمندری سفر ممکن ہی نہ تھا۔
4آسمان (کرۂ ہوائی و خلا) کو گرنے سے روکنا اور سائنس — سیاروں اور اجرامِ فلکی کا توازن — کائنات میں تمام ستاروں اور سیاروں کے درمیان کششِ ثقل موجود ہے؛ اگر صرف کششِ ثقل ہوتی تو چاند اور دیگر سیارے زمین سے ٹکرا جاتے۔ اس کے مقابلے میں گریزِ مرکز قوت سیاروں کو مدار میں گھومنے کی وجہ سے باہر کی طرف دھکیلتی ہے؛ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں قوتوں کے درمیان ایسا کامل توازن قائم فرمایا ہے کہ اجرامِ فلکی اپنے اپنے مداروں میں قائم ہیں اور زمین پر آ کر نہیں گرتے۔
5آسمان (کرۂ ہوائی و خلا) کو گرنے سے روکنا اور سائنس — کرۂ ہوائی کی حفاظت — زمین کے گرد گیسوں اور ہوا کی ایک موٹی تہہ موجود ہے جسے کششِ ثقل نے تھام رکھا ہے؛ اگر اللہ کا قائم کردہ نظامِ ثقل ختم ہو جائے تو یہ فضا خلا میں بکھر جائے اور شہابِ ثاقب روزانہ زمین سے ٹکرا کر اسے تباہ کر دیں۔ کرۂ ہوائی ان خطرات کو زمین پر پہنچنے سے روکتا ہے۔
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔