آیتِ کریمہ کی رو سے قربانی کے اصل مقصد کی وضاحت کریں۔
جواباس آیت کی رو سے قربانی کا اصل مقصد اخلاص اور تقویٰ ہے۔ اللہ تعالیٰ کو قربانی کیے جانے والے جانوروں کا گوشت یا خون نہیں پہنچتا، بلکہ اس کی بارگاہ میں بندے کے دل کا تقویٰ، خلوصِ نیت اور اطاعت کا جذبہ مقبول ہوتا ہے۔
"اور (یہ دلیل اس بات کی ہے) کہ قیامت آنے والی ہے، اس میں کوئی شک نہیں اور یہ کہ اللہ ان سب کو (دوبارہ زندہ کر کے) اٹھائے گا جو قبروں میں ہیں۔"
یہ آیتِ مبارکہ عقیدۂ آخرت اور "بعث بعد الموت" (مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے) کی حقانیت پر ایک روشن اور قطعی دلیل ہے:
1"وَأَنَّ ٱلسَّاعَةَ ءَاتِيَةٞ لَّا رَيۡبَ فِيهَا" (قیامت کا یقینی ہونا) — قرآنِ مجید میں جگہ جگہ انسان کو کائنات کی تخلیق اور خود انسانی جسم کی تخلیق (نطفے سے انسان بننے اور بنجر زمین پر بارش کے بعد نباتات کے اگنے) پر غور کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ اس آیت سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس خدا نے انسان کو پہلی بار عدم سے وجود بخشا اور جو مرجھائی ہوئی زمین کو دوبارہ زندہ کر دیتا ہے، اس کے لیے انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنا بالکل مشکل نہیں؛ لہٰذا قیامت کا آنا ایک ایسا برحق واقعہ ہے جس کے واقع ہونے میں کسی قسم کے شک و شبہے کی گنجائش نہیں۔
2"وَأَنَّ ٱللَّهَ يَبۡعَثُ مَن فِي ٱلۡقُبُورِ" (قبروں سے دوبارہ اٹھایا جانا) — بعث (دوبارہ زندہ کرنا) سے مراد یہ ہے کہ جب صور پھونکا جائے گا تو تمام انسان اپنی قبروں (یا جہاں بھی ان کے اجزا موجود ہوں گے) سے دوبارہ زندہ ہو کر نکلیں گے۔ انسان کا جسم چاہے گل سڑ چکا ہو، جلا دیا گیا ہو یا سمندر کی گہرائیوں میں بکھر گیا ہو، اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت تمام ذرات کو یکجا کر کے انہیں دوبارہ وہی انسانی روپ دے گی تاکہ وہ اپنے اعمال کا حساب دے سکیں۔
7تفصیلی جوابات
سورۃ الحج کا تعارف اور مرکزی مضمون لکھیں۔
جوابنوٹ: اس سوال کا جواب نصابی کتاب کے صفحہ نمبر 35 پر موجود ہے؛ وہاں سے تیار کریں۔
"اور ہم نے ہر امت کے لیے قربانی کا ایک طریقہ مقرر کر دیا ہے تاکہ وہ ان مویشیوں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے انہیں عطا فرمائے ہیں۔ پس تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے، سو اسی کے فرماں بردار بن جاؤ، اور (اے نبی!) عاجزی کرنے والوں کو خوش خبری سنا دیجیے۔"
تفصیلی وضاحت
1"وَلِكُلِّ أُمَّةٖ جَعَلۡنَا مَنسَكٗا" (قربانی کی قدامت اور تسلسل) — "منسک" کے معنی عبادت، بالخصوص قربانی اور اس کے طریقۂ کار کے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قربانی صرف امتِ محمدیہ ﷺ کا خاصہ نہیں، بلکہ حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹوں (ہابیل و قابیل) سے لے کر حضرت ابراہیم علیہ السلام اور دیگر تمام سابقہ انبیاء کی امتوں میں قربانی کا حکم اور طریقہ موجود رہا ہے۔
2"لِّيَذۡكُرُواْ ٱسۡمَ ٱللَّهِ" (قربانی کا اصل مقصد) — قربانی کا اصل مقصد یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے رزق (چوپایوں/مویشیوں) پر اسی کا نام لے اور اس کا شکر ادا کرے۔ دورِ جاہلیت میں لوگ بتوں یا غیر اللہ کے نام پر جانور ذبح کرتے تھے؛ قرآن نے واضح کیا کہ جانوروں کا خالق و مالک صرف اللہ ہے، لہٰذا ذبح کرتے وقت صرف اللہ کا نام ہی لیا جائے گا۔
3"فَإِلَٰهُكُمۡ إِلَٰهٞ وَٰحِدٞ فَلَهُۥٓ أَسۡلِمُواْ" (توحید اور اطاعت) — قربانی محض ایک ظاہری رسم یا گوشت کھانے کا ذریعہ نہیں، بلکہ یہ توحیدِ باری تعالیٰ کی عملی گواہی ہے؛ جب معبود صرف ایک ہے تو انسان کا ہر عمل، عبادت اور سرِ تسلیم خم کرنا (اطاعت و فرماں برداری) صرف اسی ایک ذات کے لیے ہونا چاہیے۔
4"وَبَشِّرِ ٱلۡمُخۡبِتِينَ" (عاجزی کرنے والوں کے لیے خوش خبری) — "مخبتین" ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو اللہ کے سامنے عاجزی، انکساری اور عجز و نیاز اختیار کرتے ہیں اور جن کے دل اللہ کے خوف اور محبت سے لبریز ہوتے ہیں؛ اللہ تعالیٰ نبی کریم ﷺ کو حکم دے رہا ہے کہ ایسے سچے، عاجز اور اخلاص والے بندوں کو جنت اور اپنی رضا کی بشارت سنا دیں۔
9تفصیلی جوابات
سورۃ الحج کے چند بنیادی مضامین لکھیں۔
جوابنوٹ: اس سوال کا جواب نصابی کتاب کے صفحہ نمبر 35 پر موجود ہے؛ وہاں سے تیار کریں۔
"(یہ وہ لوگ ہیں) کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں، اور جو اپنے اوپر آنے والی مصیبت پر صبر کرنے والے ہیں، اور نماز قائم کرنے والے ہیں، اور جو کچھ ہم نے انہیں رزق دیا ہے اس میں سے (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں۔"
پچھلی آیت (آیت 34) کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے "مخبتین" (عاجزی اور اخلاص اختیار کرنے والے بندوں) کو خوش خبری سنانے کا حکم دیا تھا۔ اس آیتِ مبارکہ میں انہی سچے اور محبوب بندوں کی چار بنیادی صفات بیان فرمائی گئی ہیں:
1"إِذَا ذُكِرَ ٱللَّهُ وَجِلَتۡ قُلُوبُهُمۡ" (خوفِ خدا اور خشیت) — "وَجِلَتۡ" کا مطلب ہے خوف زدہ ہونا یا کانپ اٹھنا۔ مخلص مومن کی پہلی صفت یہ ہے کہ جب اس کے سامنے اللہ کی عظمت، جلال اور اس کے احکام کا ذکر ہوتا ہے تو اس کا دل اللہ کے خوف اور احترام سے بھر جاتا ہے؛ وہ گناہوں سے بچنے لگتا ہے اور اس کی توبہ و عاجزی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
2"وَٱلصَّـٰبِرِينَ عَلَىٰ مَآ أَصَابَهُمۡ" (صبر و رضا) — مومن کی دوسری صفت یہ ہے کہ وہ زندگی میں آنے والی پریشانیوں، بیماریوں، مالی نقصان یا دین کی راہ میں ملنے والی تکلیفوں پر جزع فزع (واویلا) نہیں کرتا، بلکہ اللہ کی رضا کے لیے صبر کرتا ہے؛ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ ہر دکھ اور سکھ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ایک آزمائش ہے۔
3"وَٱلۡمُقِيمِي ٱلصَّلَوٰةِ" (اقامتِ نماز) — تیسری صفت یہ ہے کہ وہ صرف نماز پڑھتے نہیں، بلکہ نماز قائم کرتے ہیں؛ اقامتِ نماز کا مطلب ہے نماز کو اس کے تمام ارکان، خشوع و خضوع، پابندیِ وقت اور مسنون طریقے کے ساتھ ادا کرنا اور اس کی روح کو اپنی عملی زندگی میں شامل کرنا۔
4"وَمِمَّا رَزَقۡنَٰهُمۡ يُنفِقُونَ" (انفاق فی سبیل اللہ) — چوتھی صفت یہ ہے کہ اللہ نے انہیں جو کچھ رزق دیا ہے (خواہ وہ مال ہو، علم ہو یا وقت)، وہ اس میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں؛ اس میں فرض زکوٰۃ کے ساتھ ساتھ غریبوں، محتاجوں اور دینی مقاصد کے لیے دیا جانے والا صدقہ و خیرات بھی شامل ہے۔
آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے قربانی کے اونٹوں کے بارے میں کیا ہدایات دی ہیں؟
اس آیتِ کریمہ میں درج ذیل ہدایات و احکامات دیے گئے ہیں:
1شعائر اللہ — قربانی کے اونٹوں (اور بڑے جانوروں) کو اللہ کے شعائر (نشانیوں) میں سے قرار دیا گیا ہے۔
2باطنی خیر — ان قربانی کے جانوروں میں انسانوں کے لیے دینی و دنیاوی خیر اور برکت رکھی گئی ہے۔
3نحر کرنے کا طریقہ — اونٹوں کو کھڑا کر کے (ایک پاؤں باندھ کر) ان پر اللہ کا نام لے کر نحر (ذبح) کیا جائے۔
4گوشت کا استعمال — جب وہ پہلو کے بل گر جائیں (مکمل ذبح ہو جائیں) تو ان کا گوشت خود بھی کھاؤ، اور قناعت کرنے والے (جو مانگتے نہیں) اور سوال کرنے والے (ضرورت مند) فقرا کو بھی کھلاؤ۔
5شکر گزاری — اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کو انسانوں کے تابع کر دیا ہے تاکہ انسان اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا شکر ادا کریں۔
سرگرمیاں برائے طلبہ
12سرگرمیاں برائے طلبہ
حج کی اہمیت بیان کریں۔
1حج کا تعارف — حج اسلام کا پانچواں بنیادی رکن ہے جو صاحبِ استطاعت مسلمانوں پر زندگی میں ایک بار فرض ہے۔
2عالم گیر اتحاد کا مظہر — حج دنیا بھر کے مسلمانوں کے اتحاد، مساوات اور اخوت کی بہترین مثال ہے جہاں تمام انسان رنگ، نسل، زبان اور مرتبے کی تفریق بھول کر ایک جیسا لباس (احرام) پہن کر اللہ کے حضور حاضر ہوتے ہیں۔
3ابراہیمی سنت کی یادگار — حج حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے اہلِ خانہ کی عظیم قربانیوں اور اطاعتِ الٰہی کی یاد تازہ کرتا ہے۔
4گناہوں کی معافی — سچے دل اور اخلاص کے ساتھ کیا گیا حج انسان کے تمام سابقہ گناہوں کو دھو دیتا ہے۔
13سرگرمیاں برائے طلبہ
سورۃ الحج میں قربانی کا ذکر ہے۔ قربانی کے جانور کی شرائط لکھیں؛ نیز قربانی کا اجر و ثواب کن چیزوں سے ضائع ہو جاتا ہے؟ تلاش کر کے تحریر کریں۔
قربانی کے جانور کی شرائط اور قربانی کا اجر و ثواب ضائع کرنے والی چیزیں
1قربانی کے جانور کی شرائط — جانور کی قسم — قربانی صرف انعام (پالتو مویشیوں) یعنی اونٹ، گائے، بھینس، بکری، بھیڑ اور دنبے کی ہو سکتی ہے۔
2قربانی کے جانور کی شرائط — عمر کی حد — اونٹ: کم از کم 5 سال؛ گائے/بھینس: کم از کم 2 سال؛ بکری/بکرا/بھیڑ/دنبا: کم از کم 1 سال (اگر 6 ماہ کا دنبا اتنا صحت مند ہو کہ سال بھر کا لگے تو جائز ہے)۔
3قربانی کے جانور کی شرائط — عیوب سے پاک ہونا — جانور اندھا، شدید بیمار، لنگڑا یا اتنا کمزور نہ ہو کہ ذبح کی جگہ تک خود نہ چل سکے۔
4قربانی کے جانور کی شرائط — حلال ذرائع — جانور حلال کمائی سے خریدا گیا ہو اور چوری یا غصب شدہ نہ ہو۔
5قربانی کا اجر و ثواب ضائع کرنے والی چیزیں — ریاکاری اور دکھاوا — اگر قربانی اللہ کی رضا کے بجائے لوگوں میں نام و نمود، غرور یا اپنی ثروت کی نمائش کے لیے کی جائے۔
6قربانی کا اجر و ثواب ضائع کرنے والی چیزیں — اخلاص اور تقویٰ کی کمی — سورۃ الحج (آیت 37) میں واضح فرمایا گیا ہے کہ "اللہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون، بلکہ اس کے پاس تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔"
7قربانی کا اجر و ثواب ضائع کرنے والی چیزیں — حرام کمائی — حرام مال یا ناجائز ذرائع سے خریدا گیا جانور نامقبول ہوتا ہے۔
8قربانی کا اجر و ثواب ضائع کرنے والی چیزیں — اذیت اور بے دردی — ذبح کے وقت جانور پر بے جا تشدد کرنا یا شرعی طریقۂ کار کی خلاف ورزی کرنا۔
14سرگرمیاں برائے طلبہ
ایامِ حج (8 ذوالحجہ تا 12 ذوالحجہ) میں مناسکِ حج کی ترتیب طلبہ کو بتائیں۔
18 ذوالحجہ — احرام باندھ کر منیٰ کی طرف روانگی اور وہاں پانچ نمازیں ادا کرنا۔
29 ذوالحجہ (یومِ عرفہ) — میدانِ عرفات میں وقوف (قیام)، خطبہ سننا، ظہر اور عصر کی نمازیں جمع کر کے پڑھنا اور دعا کرنا؛ غروبِ آفتاب کے بعد مزدلفہ روانگی اور وہاں رات گزارنا۔
310 ذوالحجہ (یوم النحر) — (1) مزدلفہ سے منیٰ واپسی؛ (2) جمرۂ عقبہ (بڑے شیطان) کو کنکریاں مارنا؛ (3) قربانی کرنا؛ (4) سر کے بال منڈوانا یا کٹوانا (حلق/تقصیر) اور احرام کھولنا؛ (5) مکہ مکرمہ جا کر طوافِ زیارت اور صفا و مروہ کی سعی کرنا۔
411 اور 12 ذوالحجہ — منیٰ میں قیام کرنا اور تینوں جمرات کو کنکریاں مارنا۔
15سرگرمیاں برائے طلبہ
طلبہ کو قربانی کی اہمیت سے آگاہ کریں؛ قربانی میں اخلاص اور تقویٰ کی اہمیت واضح کریں۔
1اطاعتِ الٰہی کا جذبہ — قربانی کا مقصد صرف جانور ذبح کرنا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے اپنے نفس اور مال کی قربانی کا جذبہ پیدا کرنا ہے۔
2تقویٰ کا حصول — قربانی انسان کے اندر پرہیزگاری، عاجزی اور اللہ کا خوف پیدا کرتی ہے۔
3غربا و مساکین کی ہم دردی — قربانی کے گوشت کا ایک حصہ غریبوں اور محتاجوں میں تقسیم کر کے معاشرتی ہم دردی اور مواخات کا درس دیا جاتا ہے۔
4اخلاصِ نیت — استاد طلبہ پر واضح کریں کہ ہر عمل کا دار و مدار نیت پر ہے، لہٰذا قربانی صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی خوش نودی کے لیے ہونی چاہیے۔
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔