نویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 4: سبق 4: سورۃ الانبیاء (حصہ دوم) — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں برائے طلبہ · 16 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

قَالَ بَل رَّبُّكُمۡ رَبُّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ ٱلَّذِي فَطَرَهُنَّ وَأَنَا۠ عَلَىٰ ذَٰلِكُم مِّنَ ٱلشَّـٰهِدِينَ (سورۃ الانبیاء ۔ آیت 56)

آیتِ کریمہ میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے رب کی کیا شان بیان فرمائی؟

اس آیت میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی یہ شان بیان فرمائی کہ:

1 وہی تمام آسمانوں اور زمین کا حقیقی پروردگار (رب) ہے۔
2 اسی نے ان تمام چیزوں کو تخلیق (پیدا) فرمایا ہے، اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ میں اس بات کی گواہی دینے والوں میں سے ہوں۔
2 مختصر جوابات

وَلُوطًا ءَاتَيۡنَٰهُ حُكۡمٗا وَعِلۡمٗا وَنَجَّيۡنَٰهُ مِنَ ٱلۡقَرۡيَةِ ٱلَّتِي كَانَت تَّعۡمَلُ ٱلۡخَبَـٰٓئِثَۚ إِنَّهُمۡ كَانُواْ قَوۡمَ سَوۡءٖ فَٰسِقِينَ (سورۃ الانبیاء ۔ آیت 74)

آیتِ کریمہ میں سیدنا لوط علیہ السلام پر کن انعامات کا ذکر ہے؟

اس آیت میں سیدنا لوط علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ کے درج ذیل انعامات کا ذکر ہے:

1 اللہ تعالیٰ نے انہیں حکمت (فیصلہ کرنے کی صلاحیت/نبوت) اور علم عطا فرمایا۔
2 اللہ تعالیٰ نے انہیں خبیث (برے) کام کرنے والی بستی اور اس کے عذاب سے نجات عطا فرمائی۔
3 مختصر جوابات

وَلِسُلَيۡمَٰنَ ٱلرِّيحَ عَاصِفَةٗ تَجۡرِي بِأَمۡرِهِۦٓ إِلَى ٱلۡأَرۡضِ ٱلَّتِي بَٰرَكۡنَا فِيهَاۚ وَكُنَّا بِكُلِّ شَيۡءٍ عَٰلِمِينَ (سورۃ الانبیاء ۔ آیت 81)

آیتِ کریمہ میں سیدنا سلیمان علیہ السلام کا کون سا معجزہ بیان ہوا ہے؟

جواب اس آیت میں سیدنا سلیمان علیہ السلام کا یہ معجزہ بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تند و تیز ہوا کو ان کے تابع (مسخر) کر دیا تھا، جو ان کے حکم سے اس بابرکت زمین (مبارک ملک/شام) کی طرف چلتی تھی۔
4 مختصر جوابات

فَٱسۡتَجَبۡنَا لَهُۥ وَنَجَّيۡنَٰهُ مِنَ ٱلۡغَمِّۚ وَكَذَٰلِكَ نُـۨجِي ٱلۡمُؤۡمِنِينَ (سورۃ الانبیاء ۔ آیت 88)

سیدنا یونس علیہ السلام کی دعا کا کیا نتیجہ نکلا؟

سیدنا یونس علیہ السلام کی دعا کا نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ تعالیٰ نے:

1 ان کی دعا کو قبول فرمایا۔
2 انہیں غم (تکلیف اور مچھلی کے پیٹ کی تاریکی) سے نجات عطا فرمائی۔ اور فرمایا کہ ہم مومنوں کو اسی طرح نجات دیا کرتے ہیں۔
5 مختصر جوابات

وَلَقَدۡ كَتَبۡنَا فِي ٱلزَّبُورِ مِنۢ بَعۡدِ ٱلذِّكۡرِ أَنَّ ٱلۡأَرۡضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ ٱلصَّـٰلِحُونَ (سورۃ الانبیاء ۔ آیت 105)

زبور میں درج کی گئی کس اہم بات کی نشان دہی کی گئی ہے؟

جواب زبور میں درج کی گئی اس اہم بات کی نشان دہی کی گئی ہے کہ "زمین (کی حکومت و وراثت) کے وارث اللہ تعالیٰ کے نیک اور صالح بندے ہوں گے۔"

تفصیلی جوابات

6 تفصیلی جوابات

وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَآ إِبۡرَٰهِيمَ رُشۡدَهُۥ مِن قَبۡلُ وَكُنَّا بِهِۦ عَٰلِمِينَ إِذۡ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوۡمِهِۦ مَا هَٰذِهِ ٱلتَّمَاثِيلُ ٱلَّتِيٓ أَنتُمۡ لَهَا عَٰكِفُونَ (سورۃ الانبیاء ۔ آیات 51 تا 52)

آیاتِ کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت کریں۔

ترجمہ

"اور ہم نے اس سے پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کی ہدایت (اور سمجھ) عطا فرمائی تھی اور ہم ان کے حال سے خوب واقف تھے۔ جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے فرمایا کہ یہ مورتیاں کیا ہیں جن کی تم مجاور بنے (پوجا پر جمے) بیٹھے ہو؟"

تفصیلی وضاحت

1 "رُشۡدَهُۥ" (عقلِ سلیم اور ہدایتِ الٰہی) — اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے ابراہیم علیہ السلام کو نبوت و رسالت سے پہلے ہی "رُشد" یعنی عقلِ سلیم، درست فکر اور حق و باطل کی تمیز عطا فرما دی تھی؛ اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بچپن ہی سے توحیدِ فطرت پر قائم تھے اور ان کا ذہنِ رسا یہ تسلیم کرنے سے قاصر تھا کہ انسان کے ہاتھ سے بنائے ہوئے بت خدا ہو سکتے ہیں۔ "وَكُنَّا بِهِۦ عَٰلِمِينَ" (اور ہم ان سے خوب واقف تھے) — یعنی اللہ کے علم میں تھا کہ ابراہیم علیہ السلام اس ہدایت، نبوت اور امامت کے اہل ہیں۔
2 "مَا هَٰذِهِ ٱلتَّمَاثِيلُ" (باطل عقائد پر تحقیر آمیز سوال) — جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دیکھا کہ ان کا باپ (آزر) اور پوری قوم بتوں کی پوجا میں مبتلا ہے تو انہوں نے انتہائی جرأت اور دانش مندی کے ساتھ سوال کیا۔ "تمثال" (جمع: تماثیل) عربی میں بے جان مجسمے کو کہتے ہیں؛ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے قصداً ان معبودانِ باطل کے لیے "خدا" کا لفظ استعمال کرنے کے بجائے "تماثیل" (مورتیاں/مجسمے) کا لفظ استعمال کیا تاکہ قوم کو احساس ہو کہ یہ محض پتھر کے بے جان ٹکڑے ہیں۔
3 "أَنتُمۡ لَهَا عَٰكِفُونَ" (شرک کی مذمت) — عربی میں "عکوف" کے معنی کسی جگہ یا چیز سے لو لگا کر بیٹھ جانے کے ہیں؛ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم پر اعتراض کیا کہ تم ان بے جان اور بے نفع و نقصان مورتیوں کے آگے مجاور بن کر کیوں بیٹھے ہو اور ان کی تعظیم میں کیوں مشغول ہو؟ انہوں نے قوم کے اس اندھے اور بے بنیاد عقیدے کو چیلنج کیا جو محض آبا و اجداد کی تقلید پر قائم تھا۔
7 تفصیلی جوابات

وَمِنَ الشَّيٰطِيۡنِ مَنۡ يَّغُوۡصُوۡنَ لَهٗ وَيَعۡمَلُوۡنَ عَمَلًا دُوۡنَ ذٰ لِكَ​ ۚ (سورۃ الانبیاء ۔ آیت 82)

آیتِ کریمہ میں شیاطین کو کس کام کے لیے استعمال کیا گیا ہے؟

اس آیتِ کریمہ میں بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شیاطین (جنات) کو سیدنا سلیمان علیہ السلام کے تابع فرما دیا تھا، جن سے وہ درج ذیل کام لیتے تھے:

1 سمندر میں غوطہ زنی — وہ سیدنا سلیمان علیہ السلام کے لیے سمندر کی گہرائیوں میں غوطہ لگا کر موتی اور دیگر قیمتی اشیاء نکالتے تھے۔
2 دیگر تعمیراتی و مشکل کام — غوطہ خوری کے علاوہ وہ دیگر بڑے کام (مثلاً بڑی بڑی عمارتیں اور حوض تیار کرنا) سر انجام دیتے تھے۔
3 اللہ تعالیٰ کی حفاظت — اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم خود ان شیاطین پر نگران تھے تاکہ وہ سیدنا سلیمان علیہ السلام کے حکم سے سرکشی یا کوئی نقصان نہ کر سکیں۔
8 تفصیلی جوابات

وَذَا ٱلنُّونِ إِذ ذَّهَبَ مُغَٰضِبٗا فَظَنَّ أَن لَّن نَّقۡدِرَ عَلَيۡهِ فَنَادَىٰ فِي ٱلظُّلُمَٰتِ أَن لَّآ إِلَٰهَ إِلَّآ أَنتَ سُبۡحَٰنَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ ٱلظَّـٰلِمِينَ (سورۃ الانبیاء ۔ آیت 87)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت تحریر کریں۔

ترجمہ

"اور مچھلی والے (سیدنا یونس علیہ السلام) کا ذکر کیجیے جب وہ غصے کی حالت میں چل دیے اور خیال کیا کہ ہم ان پر تنگی نہ کریں گے، پھر انہوں نے اندھیروں میں پکارا کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ہی زیادتی کرنے والوں میں سے تھا۔"

تفصیلی وضاحت

1 "ذَا ٱلنُّونِ" (مچھلی والے) — "نون" عربی زبان میں بڑی مچھلی کو کہتے ہیں۔ حضرت یونس علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے مچھلی نے نگل لیا تھا، اسی مناسبت سے قرآنِ مجید میں انہیں "ذو النون" (مچھلی والا) کہا گیا ہے۔
2 "إِذ ذَّهَبَ مُغَٰضِبٗا" (غصے کی حالت میں جانا) — حضرت یونس علیہ السلام کی قوم (نینویٰ کے لوگ) طویل عرصے تک دعوت دینے کے باوجود ایمان نہ لائی، تو حضرت یونس علیہ السلام ان کے مسلسل انکار اور نافرمانی پر اللہ کی خاطر شدید رنجیدہ و غصے میں آ گئے؛ انہوں نے قوم کو عذاب کی خبر دی اور اللہ تعالیٰ کی صریح اجازت کا انتظار کیے بغیر بستی سے ہجرت فرما گئے۔
3 "فَظَنَّ أَن لَّن نَّقۡدِرَ عَلَيۡهِ" (تنگی نہ کرنے کا گمان) — یہاں "نقدر" کا مطلب "قدرت نہ رکھنا" نہیں بلکہ "تنگ کرنا" ہے (جیسا کہ سورۃ الطلاق میں ہے: "وَمَن قُدِرَ عَلَيۡهِ رِزۡقُهُۥ" — یعنی جس کا رزق تنگ کر دیا جائے)۔ یعنی حضرت یونس علیہ السلام کو گمان تھا کہ اللہ تعالیٰ ان پر کوئی تنگی یا گرفت نہیں فرمائے گا کیونکہ وہ اللہ ہی کی خاطر قوم سے ناراض ہو کر نکلے تھے۔
4 اندھیروں میں پکار اور اعترافِ خطا — مچھلی کے پیٹ کی تاریکیوں (رات، سمندر اور مچھلی کے پیٹ کے اندھیروں) میں انہوں نے اللہ کی توحید اور پاکی بیان کرتے ہوئے اپنی خطا کا اعتراف کیا: "لَّآ إِلَٰهَ إِلَّآ أَنتَ سُبۡحَٰنَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ ٱلظَّـٰلِمِينَ" — اسی دعا کی برکت سے اللہ نے انہیں نجات عطا فرمائی۔
9 تفصیلی جوابات

قَالَ أَفَتَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَنفَعُكُمۡ شَيۡـٔٗا وَلَا يَضُرُّكُمۡ أُفّٖ لَّكُمۡ وَلِمَا تَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ قَالُواْ حَرِّقُوهُ وَٱنصُرُوٓاْ ءَالِهَتَكُمۡ إِن كُنتُمۡ فَٰعِلِينَ (سورۃ الانبیاء ۔ آیات 66 تا 68)

آیاتِ کریمہ میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے قوم پر بتوں کی کیا حقیقت واضح کی اور قوم نے اس پر کس ردِ عمل کا اظہار کیا؟

قوم کا ردِ عمل

1 سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم پر بتوں کی بے بسی ظاہر کرتے ہوئے فرمایا کہ تم اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمہیں کوئی فائدہ پہنچا سکتی ہیں اور نہ ہی کوئی نقصان۔
2 تف (نفرت و بیزاری) ہے تم پر اور ان پر جن کی تم اللہ کے سوا پوجا کرتے ہو؛ کیا تم اتنی سی بات بھی نہیں سمجھتے (عقل سے کام نہیں لیتے)؟
جواب جب قوم کے پاس حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دلائل کا کوئی جواب نہ رہا تو انہوں نے غیظ و غضب میں آ کر کہا: "اسے (ابراہیم کو) آگ میں جلا دو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو اگر تم کچھ کرنے والے ہو!"
10 تفصیلی جوابات

وَالَّتِىۡۤ اَحۡصَنَتۡ فَرۡجَهَا فَـنَفَخۡنَا فِيۡهَا مِنۡ رُّوۡحِنَا وَ جَعَلۡنٰهَا وَابۡنَهَاۤ اٰيَةً لِّـلۡعٰلَمِيۡنَ (سورۃ الانبیاء ۔ آیت 91)

آیاتِ کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت تحریر کریں۔

ترجمہ

"اور ان خاتون (سیدہ مریم) کا ذکر کیجیے جنہوں نے اپنے ناموس کی حفاظت کی، پھر ہم نے ان میں اپنی روح پھونکی اور ان کو اور ان کے بیٹے (سیدنا عیسیٰ علیہ السلام) کو تمام جہانوں کے لیے ایک بڑی نشانی بنا دیا۔"

جواب وضاحت — سیدہ مریم اور سیدنا عیسیٰ علیہما السلام کی عظیم نشانی (آیت 91)۔ پاک دامنی کی گواہی — اللہ تعالیٰ نے سیدہ مریم علیہا السلام کی پاک دامنی، عفت اور عصمت کی گواہی دی کہ انہوں نے اپنے ناموس کی مکمل حفاظت فرمائی؛ نفخِ روح اور معجزانہ ولادت — اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم اور فرشتے (حضرت جبرائیل علیہ السلام) کے ذریعے ان میں روح پھونکی، جس کے نتیجے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام بغیر کسی باپ کے پیدا ہوئے؛ "ءَايَةٗ لِّلۡعَٰلَمِينَ" — ماں اور بیٹے کا یہ واقعہ اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت کا زبردست معجزہ اور تمام جہانوں کے لیے عبرت و بصیرت کا ذریعہ ہے۔
11 تفصیلی جوابات

إِنَّ هَٰذِهِۦٓ أُمَّتُكُمۡ أُمَّةٗ وَٰحِدَةٗ وَأَنَا۠ رَبُّكُمۡ فَٱعۡبُدُونِ وَتَقَطَّعُوٓاْ أَمۡرَهُم بَيۡنَهُمۡۖ كُلٌّ إِلَيۡنَا رَٰجِعُونَ فَمَن يَعۡمَلۡ مِنَ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ وَهُوَ مُؤۡمِنٞ فَلَا كُفۡرَانَ لِسَعۡيِهِۦ وَإِنَّا لَهُۥ كَٰتِبُونَ (سورۃ الانبیاء ۔ آیات 92 تا 94)

آیاتِ کریمہ میں کیا تعلیمات دی گئی ہیں؟

ان آیات سے حاصل ہونے والی تعلیمات درج ذیل ہیں:

1 توحید اور صرف ایک اللہ کی عبادت — آیت کے پہلے حصے میں بنیاد بتائی گئی ہے کہ تمام کائنات کا پیدا کرنے والا اور پرورش کرنے والا صرف ایک اللہ تعالیٰ ہے؛ اس لیے تمام تر عبادت، اطاعت اور بندگی کا مستحق بھی صرف وہی ایک خدا ہے۔
2 امتِ مسلمہ کا اتحاد اور وحدت — اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمام انبیائے کرام علیہم السلام کا دین ایک ہی تھا اور تمام اہلِ ایمان مل کر ایک ہی عالم گیر امت (امۃ واحدہ) ہیں؛ اسلام مسلمانوں کو تفریق، فرقہ واریت اور گروہ بندی سے دور رہ کر وحدت اور بھائی چارے کی تعلیم دیتا ہے۔
3 فرقہ واریت کی مذمت — آیت میں اس بات پر افسوس اور تنبیہ کی گئی ہے کہ لوگوں نے دینِ حق کو چھوڑ کر آپس میں تفرقہ ڈال لیا اور مختلف گروہوں میں بٹ گئے؛ یہ بات اللہ کے ہاں ناپسندیدہ ہے، اور ہر انسان کو یاد رکھنا چاہیے کہ بالآخر سب نے اپنے رب کی طرف ہی لوٹنا ہے۔
4 قبولیتِ اعمال کے لیے ایمان کی شرط — اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ کسی بھی انسان کے نیک اعمال کی قبولیت کے لیے ایمان کا ہونا ضروری ہے؛ اگر کوئی شخص مومن ہو کر نیک اعمال کرے گا تو اس کے عمل قبول ہوں گے۔
5 کوشش کا ضائع نہ ہونا (عدلِ الٰہی) — اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی محنت کو کبھی ضائع نہیں فرماتا: انسان اگر خلوصِ نیت اور ایمان کے ساتھ نیکی کی کوشش کرے گا تو اللہ اس کی حق تلفی نہیں کرے گا؛ بندے کا ہر چھوٹا اور بڑا عمل، سوچ اور محنت اللہ کے ہاں ریکارڈ ہو رہی ہے (وَإِنَّا لَهُۥ كَٰتِبُونَ)، اور اس کا بہترین اجر آخرت میں عطا کیا جائے گا۔

سرگرمیاں برائے طلبہ

12 سرگرمیاں برائے طلبہ

سورۃ الانبیاء میں موجود انبیائے کرام علیہم السلام کی ان کے ناموں کے ساتھ فہرست بنائیں۔

سورۃ الانبیاء میں درج ذیل انبیائے کرام علیہم السلام کے نام اور ان کا ذکرِ مبارک آیا ہے:

1 سیدنا موسیٰ علیہ السلام
2 سیدنا ہارون علیہ السلام
3 سیدنا ابراہیم علیہ السلام
4 سیدنا لوط علیہ السلام
5 سیدنا اسحاق علیہ السلام
6 سیدنا یعقوب علیہ السلام
7 سیدنا نوح علیہ السلام
8 سیدنا داؤد علیہ السلام
9 سیدنا سلیمان علیہ السلام
10 سیدنا ایوب علیہ السلام
11 سیدنا اسماعیل علیہ السلام
12 سیدنا ادریس علیہ السلام
13 سیدنا ذوالکفل علیہ السلام
14 سیدنا یونس علیہ السلام (ذو النون)
15 سیدنا زکریا علیہ السلام
16 سیدنا یحییٰ علیہ السلام
17 سیدنا عیسیٰ علیہ السلام
18 نبی کریم حضرت محمد رسول اللہ خاتم النبیین ﷺ
13 سرگرمیاں برائے طلبہ

"ایک برکت والی زمین" کی وضاحت تحریر کریں۔

قرآن مجید میں جس "برکت والی زمین" (ٱلۡأَرۡضِ ٱلَّتِي بَٰرَكۡنَا فِيهَا) کا ذکر آیا ہے، اس سے مراد سرزمینِ شام (بلادِ شام / فلسطین و بیت المقدس) ہے۔ اس کی برکت کی وجوہات:

1 انبیائے کرام علیہم السلام کا مسکن — یہ خطہ متعدد انبیائے کرام (مثلاً حضرت ابراہیم، حضرت لوط، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب، حضرت داؤد، حضرت سلیمان اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام) کا مسکن اور تبلیغی مرکز رہا ہے۔
2 ظاہری و باطنی برکات — اللہ تعالیٰ نے اس زمین کو ظاہری طور پر شادابی، پھلوں اور زراعت کی نعمتوں سے اور باطنی طور پر وحی، انبیاء کی یادگاروں اور قبلۂ اول (مسجدِ اقصیٰ) سے بابرکت بنایا ہے۔
14 سرگرمیاں برائے طلبہ

أَوَلَمۡ يَرَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ أَنَّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ كَانَتَا رَتۡقٗا فَفَتَقۡنَٰهُمَاۖ وَجَعَلۡنَا مِنَ ٱلۡمَآءِ كُلَّ شَيۡءٍ حَيٍّۚ أَفَلَا يُؤۡمِنُونَ

سورۃ الانبیاء میں بہت سے حقائق بیان ہوئے ہیں جن کی سائنس تصدیق کرتی ہے؛ ان میں سے کسی دو پر تحقیق لکھیں۔

تخلیقِ کائنات (بگ بینگ) اور تمام اشیاء کا اکٹھا ہونا اور پانی کو ہر ذی حیات (زندگی) کا بنیادی ذریعہ قرار دینا

1 تخلیقِ کائنات (بگ بینگ) اور تمام اشیاء کا اکٹھا ہونا — قرآنی الفاظ کی باریکی — آیت میں لفظ "رَتۡق" استعمال ہوا ہے جس کا مطلب ہے "کسی چیز کا آپس میں جڑا ہونا یا ایک اکائی کی شکل میں ہونا"، اور "فَتۡق" کے معنی ہیں "کسی جڑی ہوئی چیز کو پھاڑ کر جدا کرنا"۔
2 تخلیقِ کائنات (بگ بینگ) اور تمام اشیاء کا اکٹھا ہونا — سائنسی تحقیق (بگ بینگ نظریہ) — بیسویں صدی میں جدید طبیعیات اور فلکیات نے ثابت کیا کہ پوری کائنات شروع میں ایک انتہائی کثیف نقطے میں جمع تھی؛ تقریباً 13.8 ارب سال پہلے ایک عظیم دھماکے کے نتیجے میں یہ نقطہ پھیلا اور اسی سے تمام مادہ، ستارے، سیارے، زمین اور دیگر اجرامِ فلکی وجود میں آئے۔
3 تخلیقِ کائنات (بگ بینگ) اور تمام اشیاء کا اکٹھا ہونا — نتیجہ — چودہ صدیاں پہلے نازل ہونے والی یہ قرآنی آیت جدید فلکیات کے بگ بینگ نظریے کی مکمل اور درست ترجمانی کرتی ہے۔
4 پانی کو ہر ذی حیات (زندگی) کا بنیادی ذریعہ قرار دینا — سائٹو پلازم — جدید حیاتیات کے مطابق تمام جان داروں کے خلیوں کا بنیادی مادہ "سائٹو پلازم" ہے، جس کا تقریباً 80 تا 90 فیصد حصہ صرف پانی پر مشتمل ہوتا ہے۔
5 پانی کو ہر ذی حیات (زندگی) کا بنیادی ذریعہ قرار دینا — انسانی و حیوانی وجود — انسان اور حیوانات کا اپنا جسمانی وزن بھی 60 تا 70 فیصد تک پانی پر مبنی ہے۔
6 پانی کو ہر ذی حیات (زندگی) کا بنیادی ذریعہ قرار دینا — حیات کا آغاز — سائنسی تحقیقات بتاتی ہیں کہ کرۂ ارض پر زندگی کی شروعات اور پہلے خلیے کا وجود سمندر یعنی پانی کے اندر ہی ممکن ہوا تھا۔
7 پانی کو ہر ذی حیات (زندگی) کا بنیادی ذریعہ قرار دینا — نتیجہ — صحرائے عرب میں جہاں پانی نایاب تھا، وہاں نازل ہونے والی اس آیت نے صدیوں قبل وہ حقیقت واضح کر دی تھی جسے آج خرد بین اور جدید بیالوجی کی تحقیق سے لازمی حقیقت مان لیا گیا ہے۔
15 سرگرمیاں برائے طلبہ

رسول اللہ ﷺ کی رحمت اور شفقت کے کوئی دو واقعات تحریر کریں۔

بچوں پر شفقت: نماز کے دوران نواسے سے محبت اور جانوروں پر رحم و شفقت: اونٹ کا واقعہ

1 بچوں پر شفقت: نماز کے دوران نواسے سے محبت — واقعہ — ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نماز پڑھا رہے تھے۔ جب آپ ﷺ سجدے میں گئے تو آپ کے نواسے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما (یا حضرت حسین رضی اللہ عنہ) کھیلتے ہوئے آئے اور آپ ﷺ کی مبارک پشت پر سوار ہو گئے۔
2 بچوں پر شفقت: نماز کے دوران نواسے سے محبت — رحمت و شفقت کا مظاہرہ — رسول اللہ ﷺ نے بچے کو زبردستی یا جلدی میں پشت سے نہیں اتارا، بلکہ سجدے کو طویل کر دیا تاکہ بچے کے کھیل میں خلل نہ پڑے اور وہ خود آرام سے نیچے اترے۔
3 بچوں پر شفقت: نماز کے دوران نواسے سے محبت — صحابہ کا سوال — نماز کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! آپ نے آج ایسا لمبا سجدہ فرمایا کہ ہم سمجھے کوئی حکم نازل ہوا ہے۔" آپ ﷺ نے مسکرا کر فرمایا: "ایسی کوئی بات نہ تھی؛ اصل میں میرا بیٹا میری پشت پر سوار ہو گیا تھا، اس لیے مجھے جلدی میں اسے اتارنا ناگوار گزرا، تاآنکہ اس کی خواہش پوری ہو گئی۔"
4 جانوروں پر رحم و شفقت: اونٹ کا واقعہ — واقعہ — ایک دن رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ میں ایک انصاری صحابی کے باغ میں تشریف لے گئے۔ وہاں ایک اونٹ بندھا ہوا تھا؛ جب اس اونٹ نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا تو وہ بلبلا اٹھا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
5 جانوروں پر رحم و شفقت: اونٹ کا واقعہ — رحمت و شفقت کا مظاہرہ — نبی کریم ﷺ اس اونٹ کے پاس تشریف لے گئے، انتہائی شفقت سے اس کے سر اور کانوں کے پیچھے ہاتھ پھیرا جس سے اونٹ سکون میں آ گیا؛ پھر آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: "اس اونٹ کا مالک کون ہے؟" ایک انصاری نوجوان سامنے آئے۔
6 جانوروں پر رحم و شفقت: اونٹ کا واقعہ — نصیحت — رسول اللہ ﷺ نے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: "کیا تم اس بے زبان جانور کے معاملے میں اللہ سے نہیں ڈرتے جس کا مالک اللہ نے تمہیں بنایا ہے؟ اس نے مجھ سے شکایت کی ہے کہ تم اسے بھوکا رکھتے ہو اور اس سے حد سے زیادہ کام لے کر تھکاتے ہو۔"
16 سرگرمیاں برائے طلبہ

سورۃ الانبیاء میں مذکور انبیائے کرام کے واقعات سے حاصل ہونے والے اسباق تحریر کریں۔

1 توحید پر پختہ یقین اور استقامت — تمام انبیائے کرام (خصوصاً حضرت ابراہیم علیہ السلام) کا بنیادی پیغام توحید تھا؛ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب آگ میں ڈالا گیا تو انہوں نے توحید کے موقف سے پیچھے ہٹنے کے بجائے اللہ پر مکمل توکل کیا۔ سبق: انسان کو ہر حال میں توحید پر قائم رہنا چاہیے اور باطل کے سامنے کبھی نہیں جھکنا چاہیے۔
2 شدید ترین آزمائشوں میں صبر و رضا — حضرت ایوب علیہ السلام نے سالہا سال شدید بیماری، مال اور اولاد کے نقصان پر جس صبر کا مظاہرہ کیا اور زبان پر کبھی شکوہ نہیں لائے، وہ قیامت تک کے انسانوں کے لیے مثال ہے۔ سبق: بیماری، مصیبت یا نقصان کے وقت صبر کرنا چاہیے اور اللہ کی رضا میں راضی رہنا چاہیے۔
3 دعا اور توبہ کی طاقت — حضرت یونس علیہ السلام نے مچھلی کے پیٹ کی اندھیریوں میں اللہ کی پاکی بیان کی اور دعا کی: "لَّآ إِلَٰهَ إِلَّآ أَنتَ سُبۡحَٰنَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ ٱلظَّـٰلِمِينَ"؛ اللہ تعالیٰ نے دعا قبول فرما کر انہیں غم سے نجات دی۔ سبق: مشکل اور ناامیدی کے وقت صرف اللہ تعالیٰ سے رجوع کرنا چاہیے اور اپنی غلطیوں کی معافی مانگنی چاہیے۔
4 اللہ پر کامل بھروسا اور ناامیدی کا خاتمہ — حضرت زکریا علیہ السلام نے انتہائی بڑھاپے اور زوجہ کے بانجھ ہونے کے باوجود اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو کر اولاد کی دعا مانگی اور اللہ نے انہیں حضرت یحییٰ علیہ السلام جیسا بیٹا عطا فرمایا۔ سبق: حالات کتنے ہی خلافِ ظاہری اسباب کیوں نہ ہوں، اللہ کی قدرت اور رحمت سے کبھی ناامید نہیں ہونا چاہیے۔
5 صبر کا صلہ اور نصرتِ الٰہی — حضرت نوح علیہ السلام نے صدیوں تک قوم کے ظلم و ستم پر صبر کیا اور جب قوم حد سے بڑھ گئی تو اللہ نے انہیں اور ان کے ساتھیوں کو کشتی کے ذریعے نجات دی اور ظالموں کو غرق کر دیا۔ سبق: حق کی راہ میں صبر کرنے والوں کی مدد بالآخر اللہ تعالیٰ ضرور فرماتا ہے اور باطل کا انجام تباہی ہے۔
6 انبیاء کی صفات کو اپنانا (عاجزی و عبادت) — قرآن مجید میں ان تمام انبیاء کے بارے میں فرمایا گیا کہ وہ نیکی کے کاموں میں جلدی کرتے تھے، اللہ کو امید اور خوف کے ساتھ پکارتے تھے اور اس کے سامنے عاجزی کرنے والے تھے۔ سبق: مومن کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی میں نیکیوں میں پہل کرے، غرور سے بچے اور عاجزی و انکساری اختیار کرے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.