بَلۡ نَقۡذِفُ بِٱلۡحَقِّ عَلَى ٱلۡبَٰطِلِ فَيَدۡمَغُهُۥ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٞۚ وَلَكُمُ ٱلۡوَيۡلُ مِمَّا تَصِفُونَ (سورۃ الانبیاء ۔ آیت 18)
آیتِ کریمہ کی رو سے حق کا باطل پر کیا اثر ہوتا ہے؟
نویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ
بَلۡ نَقۡذِفُ بِٱلۡحَقِّ عَلَى ٱلۡبَٰطِلِ فَيَدۡمَغُهُۥ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٞۚ وَلَكُمُ ٱلۡوَيۡلُ مِمَّا تَصِفُونَ (سورۃ الانبیاء ۔ آیت 18)
آیتِ کریمہ کی رو سے حق کا باطل پر کیا اثر ہوتا ہے؟
لَوۡ كَانَ فِيهِمَآ ءَالِهَةٌ إِلَّا ٱللَّهُ لَفَسَدَتَاۚ فَسُبۡحَٰنَ ٱللَّهِ رَبِّ ٱلۡعَرۡشِ عَمَّا يَصِفُونَ (سورۃ الانبیاء ۔ آیت 22)
آیتِ کریمہ میں کس عقیدے کا کس طرح رد کیا گیا ہے؟
اس آیت میں عقیدۂ شرک (ایک سے زائد خدا ماننے) کا عقلی اور منطقی رد کیا گیا ہے۔
أَوَلَمۡ يَرَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ أَنَّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ كَانَتَا رَتۡقٗا فَفَتَقۡنَٰهُمَاۖ وَجَعَلۡنَا مِنَ ٱلۡمَآءِ كُلَّ شَيۡءٍ حَيٍّۚ أَفَلَا يُؤۡمِنُونَ (سورۃ الانبیاء ۔ آیت 30)
آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی کیا نشانیاں بیان ہوئی ہیں؟
آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی دو بڑی نشانیاں بیان کی گئی ہیں:
وَجَعَلۡنَا فِي ٱلۡأَرۡضِ رَوَٰسِيَ أَن تَمِيدَ بِهِمۡ وَجَعَلۡنَا فِيهَا فِجَاجٗا سُبُلٗا لَّعَلَّهُمۡ يَهۡتَدُونَ (سورۃ الانبیاء ۔ آیت 31)
آیتِ کریمہ میں پہاڑوں کے کیا فائدے بیان ہوئے ہیں؟
آیتِ کریمہ میں پہاڑوں کے دو اہم فائدے بیان ہوئے ہیں:
كُلُّ نَفۡسٖ ذَآئِقَةُ ٱلۡمَوۡتِۗ وَنَبۡلُوكُم بِٱلشَّرِّ وَٱلۡخَيۡرِ فِتۡنَةٗۖ وَإِلَيۡنَا تُرۡجَعُونَ (سورۃ الانبیاء ۔ آیت 35)
آیتِ کریمہ میں بیان کردہ تعلیمات تحریر کریں۔
اس آیتِ کریمہ میں درج ذیل اہم تعلیمات دی گئی ہیں:
وَمَآ أَرۡسَلۡنَا مِن قَبۡلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِيٓ إِلَيۡهِ أَنَّهُۥ لَآ إِلَٰهَ إِلَّآ أَنَا۠ فَٱعۡبُدُونِ (سورۃ الانبیاء ۔ آیت 25)
آیتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں اور وضاحت کریں۔
"اور (اے محمد ﷺ!) ہم نے آپ سے پہلے جتنے بھی رسول بھیجے، ان کی طرف یہی وحی فرمائی کہ میرے سوا کوئی معبود (برحق) نہیں، پس تم میری ہی عبادت کرو۔"
وضاحت
سورۃ الانبیاء کا مختصر تعارف اور مرکزی مضمون بیان کریں۔
وَهُوَ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلَّيۡلَ وَٱلنَّهَارَ وَٱلشَّمۡسَ وَٱلۡقَمَرَۖ كُلّٞ فِي فَلَكٖ يَسۡبَحُونَ (سورۃ الانبیاء ۔ آیت 33)
آیتِ کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت تحریر کریں۔
"اور وہی ہے جس نے رات اور دن بنائے اور سورج اور چاند کو پیدا کیا۔ سب کے سب ایک ایک فلک (اپنے اپنے مدار) میں تیر رہے ہیں۔"
تفصیلی وضاحت
سورۃ الانبیاء کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔
بَلۡ تَأۡتِيهِم بَغۡتَةٗ فَتَبۡهَتُهُمۡ فَلَا يَسۡتَطِيعُونَ رَدَّهَا وَلَا هُمۡ يُنظَرُونَ (سورۃ الانبیاء ۔ آیت 40)
آیتِ کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت تحریر کریں۔
"بلکہ وہ (قیامت/عذاب) ان پر اچانک آ جائے گی، پھر انہیں حواس باختہ (ششدر و حیران) کر دے گی، پس نہ تو وہ اسے ہٹا سکیں گے اور نہ ہی انہیں مہلت دی جائے گی۔"
اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے منکرینِ حق کے اس رویے کا جواب دیا ہے جو وہ نبی کریم ﷺ سے تمسخر اور استہزا کے طور پر عذاب یا قیامت کے جلدی آنے کا مطالبہ کرتے تھے۔ عذاب/قیامت کی آمد کی کیفیت اور کافروں کی بے بسی چار بنیادی نکات میں بیان فرمائی گئی ہے:
ٱلَّذِينَ يَخۡشَوۡنَ رَبَّهُم بِٱلۡغَيۡبِ وَهُم مِّنَ ٱلسَّاعَةِ مُشۡفِقُونَ وَهَٰذَا ذِكۡرٞ مُّبَارَكٌ أَنزَلۡنَٰهُۚ أَفَأَنتُمۡ لَهُۥ مُنكِرُونَ (سورۃ الانبیاء ۔ آیات 49 تا 50)
ان آیاتِ کریمہ میں متقین اور قرآن مجید کی کیا صفات بیان ہوئی ہیں؟
متقین (پرہیزگاروں) کی صفات اور قرآن مجید کی صفات
سورۃ الانبیاء میں موجود اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں تلاش کریں۔
سورۃ الانبیاء میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی درج ذیل اہم نشانیاں بیان کی گئی ہیں:
آسمان سے برسنے والے پانی کی اہمیت اور اس کے فوائد لکھیں۔
آسمان سے برسنے والے پانی کی اہمیت اور اس کے بنیادی فوائد درج ذیل ہیں:
لَوۡ كَانَ فِيهِمَآ ءَالِهَةٌ إِلَّا ٱللَّهُ لَفَسَدَتَاۚ فَسُبۡحَٰنَ ٱللَّهِ رَبِّ ٱلۡعَرۡشِ عَمَّا يَصِفُونَ
اگر اس کائنات میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی اور معبود ہوتا تو دنیا میں کس طرح فساد برپا ہوتا؟
سابقہ قوموں پر آنے والے عذابوں کی مثالیں دے کر سمجھائیں کہ انہیں کیوں تباہ کیا گیا اور ان کے واقعات میں ہمارے لیے کیا عبرت ہے؟
تباہی کی وجوہات: سابقہ قوموں (مثلاً قومِ نوح، قومِ عاد، قومِ ثمود، قومِ لوط اور فرعون) کو اس لیے تباہ کیا گیا کیونکہ انہوں نے اپنے وقت کے انبیاء کرام کی تکذیب کی، اللہ کے ساتھ شرک کیا، اور نافرمانی اور حد سے زیادہ سرکشی و ظلم کا راستہ اختیار کیا۔
ہمارے لیے عبرت
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔