نویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 3: سبق 3: سورۃ الانبیاء (حصہ اول) — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں برائے طلبہ · 15 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

بَلۡ نَقۡذِفُ بِٱلۡحَقِّ عَلَى ٱلۡبَٰطِلِ فَيَدۡمَغُهُۥ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٞۚ وَلَكُمُ ٱلۡوَيۡلُ مِمَّا تَصِفُونَ (سورۃ الانبیاء ۔ آیت 18)

آیتِ کریمہ کی رو سے حق کا باطل پر کیا اثر ہوتا ہے؟

جواب آیتِ کریمہ کی رو سے جب حق کو باطل پر مارا جاتا ہے تو حق باطل کا سر توڑ دیتا ہے اور باطل بالکل نابود ہو کر مٹ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں غلط باتیں اور جھوٹے عقائد گھڑنے والوں کے لیے ہلاکت و بربادی کا ذکر کیا گیا ہے۔
2 مختصر جوابات

لَوۡ كَانَ فِيهِمَآ ءَالِهَةٌ إِلَّا ٱللَّهُ لَفَسَدَتَاۚ فَسُبۡحَٰنَ ٱللَّهِ رَبِّ ٱلۡعَرۡشِ عَمَّا يَصِفُونَ (سورۃ الانبیاء ۔ آیت 22)

آیتِ کریمہ میں کس عقیدے کا کس طرح رد کیا گیا ہے؟

اس آیت میں عقیدۂ شرک (ایک سے زائد خدا ماننے) کا عقلی اور منطقی رد کیا گیا ہے۔

جواب طریقہ: بیان فرمایا گیا کہ اگر زمین و آسمان میں اللہ کے علاوہ دیگر معبود (خدا) بھی ہوتے، تو ان کے باہمی اختلاف اور نظامِ حکومت کی کشمکش کی وجہ سے زمین و آسمان کا تمام نظام درہم برہم ہو جاتا اور فساد برپا ہو جاتا؛ اس لیے اللہ تعالیٰ ہر قسم کے شرک سے پاک ہے۔
3 مختصر جوابات

أَوَلَمۡ يَرَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ أَنَّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ كَانَتَا رَتۡقٗا فَفَتَقۡنَٰهُمَاۖ وَجَعَلۡنَا مِنَ ٱلۡمَآءِ كُلَّ شَيۡءٍ حَيٍّۚ أَفَلَا يُؤۡمِنُونَ (سورۃ الانبیاء ۔ آیت 30)

آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی کیا نشانیاں بیان ہوئی ہیں؟

آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی دو بڑی نشانیاں بیان کی گئی ہیں:

1 آسمانوں اور زمین کا جڑا ہونا — ابتدا میں زمین اور آسمان آپس میں ملے ہوئے (بند) تھے؛ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے انہیں جدا جدا کیا۔
2 زندگی کا ذریعہ (پانی) — اللہ تعالیٰ نے ہر جان دار چیز کو پانی سے پیدا فرمایا اور زندگی بخشی۔
4 مختصر جوابات

وَجَعَلۡنَا فِي ٱلۡأَرۡضِ رَوَٰسِيَ أَن تَمِيدَ بِهِمۡ وَجَعَلۡنَا فِيهَا فِجَاجٗا سُبُلٗا لَّعَلَّهُمۡ يَهۡتَدُونَ (سورۃ الانبیاء ۔ آیت 31)

آیتِ کریمہ میں پہاڑوں کے کیا فائدے بیان ہوئے ہیں؟

آیتِ کریمہ میں پہاڑوں کے دو اہم فائدے بیان ہوئے ہیں:

1 زمین کا توازن — اللہ تعالیٰ نے زمین پر وزنی اور مضبوط پہاڑ گاڑ دیے تاکہ زمین انسانوں کو لے کر ڈگمگائے یا ہلنے نہ لگے۔
2 کشادہ راستے — پہاڑوں کے درمیان کشادہ راستے بنا دیے تاکہ لوگ اپنے سفر اور منزلوں کے لیے آسانی سے راستہ پا سکیں۔
5 مختصر جوابات

كُلُّ نَفۡسٖ ذَآئِقَةُ ٱلۡمَوۡتِۗ وَنَبۡلُوكُم بِٱلشَّرِّ وَٱلۡخَيۡرِ فِتۡنَةٗۖ وَإِلَيۡنَا تُرۡجَعُونَ (سورۃ الانبیاء ۔ آیت 35)

آیتِ کریمہ میں بیان کردہ تعلیمات تحریر کریں۔

اس آیتِ کریمہ میں درج ذیل اہم تعلیمات دی گئی ہیں:

1 موت کا حتمی ہونا — دنیا میں آنے والی ہر ذی روح (جان دار) کو بالآخر موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔
2 دنیا امتحان گاہ ہے — اللہ تعالیٰ انسانوں کو آزمانے کے لیے برائی (تکلیف، بیماری، غریبی) اور بھلائی (خوشی، صحت، مال) سے امتحان لیتا ہے۔
3 آخرت کی طرف لوٹنا — آخرِ کار تمام انسانوں کو اپنے اعمال کے حساب کتاب کے لیے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہی واپس لوٹ کر جانا ہے۔

تفصیلی جوابات

6 تفصیلی جوابات

وَمَآ أَرۡسَلۡنَا مِن قَبۡلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِيٓ إِلَيۡهِ أَنَّهُۥ لَآ إِلَٰهَ إِلَّآ أَنَا۠ فَٱعۡبُدُونِ (سورۃ الانبیاء ۔ آیت 25)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں اور وضاحت کریں۔

ترجمہ

"اور (اے محمد ﷺ!) ہم نے آپ سے پہلے جتنے بھی رسول بھیجے، ان کی طرف یہی وحی فرمائی کہ میرے سوا کوئی معبود (برحق) نہیں، پس تم میری ہی عبادت کرو۔"

وضاحت

1 تمام انبیاء کی ایک ہی بنیادی دعوت (دعوتِ توحید) — حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تک تمام انبیاء اور رسولوں کو مختلف ادوار اور اقوام کی طرف بھیجا گیا۔ اگرچہ ان کی شریعتوں، عبادات کے طریقوں اور احکام میں وقت کے ساتھ کچھ تبدیلیاں آئیں، لیکن عقیدۂ توحید میں کوئی تبدیلی نہیں آئی؛ سب نے یہی پیغام دیا کہ خالق، مالک اور کائنات کا نظام چلانے والا صرف ایک اللہ ہے، اور عبادت، بندگی اور اطاعت کے لائق صرف وہی ایک ذات ہے۔
2 "لَآ إِلَٰهَ إِلَّآ أَنَا۠" (توحیدِ الوہیت) — آیت میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی "معبودِ برحق" نہیں؛ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی حاجت روائی، مشکل کشائی، دعا اور عبادت میں کسی اور کو شریک نہ کرے، کیونکہ صرف اللہ ہی عبادت کا مستحق ہے۔
3 "فَٱعۡبُدُونِ" (عبادت کا حکم) — جب یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ معبود صرف ایک ہے، تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ انسان اپنی بندگی اور اطاعت بھی صرف اسی کے لیے وقف کرے۔ عبادت صرف نماز اور روزے تک محدود نہیں، بلکہ زندگی کے ہر معاملے میں اللہ کے احکام کی پیروی کرنا عبادت ہے۔
7 تفصیلی جوابات

سورۃ الانبیاء کا مختصر تعارف اور مرکزی مضمون بیان کریں۔

جواب نوٹ: اس سوال کا جواب نصابی کتاب کے صفحہ نمبر 19 پر موجود ہے؛ وہاں سے تیار کریں۔
8 تفصیلی جوابات

وَهُوَ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلَّيۡلَ وَٱلنَّهَارَ وَٱلشَّمۡسَ وَٱلۡقَمَرَۖ كُلّٞ فِي فَلَكٖ يَسۡبَحُونَ (سورۃ الانبیاء ۔ آیت 33)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت تحریر کریں۔

ترجمہ

"اور وہی ہے جس نے رات اور دن بنائے اور سورج اور چاند کو پیدا کیا۔ سب کے سب ایک ایک فلک (اپنے اپنے مدار) میں تیر رہے ہیں۔"

تفصیلی وضاحت

1 رات اور دن کا نظام — اللہ تعالیٰ نے رات کو سکون اور آرام کے لیے بنایا اور دن کو معاشی و زندگی کی مصروفیات کے لیے روشنی بخشی؛ ان کا اپنے مقررہ وقت پر باری باری آنا جانا اللہ تعالیٰ کی حکمت اور تدبیر کا مظہر ہے۔
2 سورج اور چاند کا مسخر ہونا — سورج روشنی، حرارت اور زندگی کی بقا کے لیے ضروری ہے، جب کہ چاند کے ذریعے انسان دنوں، مہینوں اور سالوں کا حساب رکھتا ہے۔ یہ دونوں اتنے عظیم اجرامِ فلکی ہونے کے باوجود خود مختار نہیں، بلکہ اپنے خالق کے حکم کے تابع ہیں۔
3 "كُلّٞ فِي فَلَكٖ يَسۡبَحُونَ" (سائنسی و علمی اعجاز) — عربی میں "فلک" اس راستے یا مدار کو کہتے ہیں جس میں کوئی جرمِ فلکی حرکت کرتا ہے، اور "یسبحون" کا مادہ "سبح" ہے جس کے معنی پانی میں تیرنے یا خلا میں روانی سے آگے بڑھنے کے ہیں۔ قرآنِ مجید نے آج سے چودہ سو سال پہلے یہ حقیقت بیان فرما دی تھی کہ سورج، چاند اور دیگر سیارے ساکن نہیں، بلکہ خلا میں اپنے اپنے مقررہ مدار میں مسلسل تیر (حرکت کر) رہے ہیں۔
4 کائنات کا نظم و ضبط اور توحید کی دلیل — ان تمام ستاروں اور سیاروں کا اپنے اپنے راستے پر بغیر کسی تصادم کے چکر لگانا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس پورے نظام کو سنبھالنے اور چلانے والا صرف ایک ہی خدا ہے؛ اگر ایک سے زیادہ معبود ہوتے تو کائنات کے اس نظم و ضبط میں خلل پڑ جاتا۔
9 تفصیلی جوابات

سورۃ الانبیاء کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔

جواب نوٹ: اس سوال کا جواب نصابی کتاب کے صفحہ نمبر 19 پر موجود ہے؛ وہاں سے تیار کریں۔
10 تفصیلی جوابات

بَلۡ تَأۡتِيهِم بَغۡتَةٗ فَتَبۡهَتُهُمۡ فَلَا يَسۡتَطِيعُونَ رَدَّهَا وَلَا هُمۡ يُنظَرُونَ (سورۃ الانبیاء ۔ آیت 40)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت تحریر کریں۔

ترجمہ

"بلکہ وہ (قیامت/عذاب) ان پر اچانک آ جائے گی، پھر انہیں حواس باختہ (ششدر و حیران) کر دے گی، پس نہ تو وہ اسے ہٹا سکیں گے اور نہ ہی انہیں مہلت دی جائے گی۔"

اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے منکرینِ حق کے اس رویے کا جواب دیا ہے جو وہ نبی کریم ﷺ سے تمسخر اور استہزا کے طور پر عذاب یا قیامت کے جلدی آنے کا مطالبہ کرتے تھے۔ عذاب/قیامت کی آمد کی کیفیت اور کافروں کی بے بسی چار بنیادی نکات میں بیان فرمائی گئی ہے:

1 اچانک آمد (بَغۡتَةٗ) — لوگ غفلت، دنیوی کاموں اور ہنسی مذاق میں مشغول ہوں گے کہ اچانک عذاب یا قیامت آ دبوچے گی؛ مقصد یہ بتانا ہے کہ عذاب کسی کو خبردار کر کے یا وقت بتا کر نہیں آئے گا، تاکہ گناہ گاروں کو آخری لمحے میں سنبھلنے کا موقع نہ ملے۔
2 حواس باختہ ہونا (فَتَبۡهَتُهُمۡ) — "بہت" کا مطلب ہے شدید حیرت اور دہشت سے ششدر رہ جانا، عقل و حواس کا کام نہ کرنا؛ جب وہ عذاب کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے تو ان پر ایسا سناٹا اور ہیبت طاری ہو جائے گی کہ وہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بھی کھو بیٹھیں گے۔
3 دفع کرنے سے عاجزی (فَلَا يَسۡتَطِيعُونَ رَدَّهَا) — دنیا میں انسان کسی بھی مصیبت سے بچنے کے لیے کوئی نہ کوئی تدبیر، طاقت یا مال استعمال کر لیتا ہے؛ لیکن الٰہی عذاب کے سامنے ان کے تمام معبود، طاقت، لشکر اور تدبیریں مکمل طور پر ناکام ہو جائیں گی — وہ اس عذاب کو اپنے اوپر سے ہٹانے یا ٹالنے کی کوئی قدرت نہیں رکھیں گے۔
4 مہلت کا ختم ہو جانا (وَلَا هُمۡ يُنظَرُونَ) — "انظار" کا مطلب ہے وقت یا مہلت دینا؛ جب عذاب آ جائے گا تو اس کے بعد توبہ، معافی یا مہلت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے گا — انہیں ایک لمحے کی بھی مہلت نہیں ملے گی کہ وہ اپنے گناہوں کی تلافی کر سکیں۔
11 تفصیلی جوابات

ٱلَّذِينَ يَخۡشَوۡنَ رَبَّهُم بِٱلۡغَيۡبِ وَهُم مِّنَ ٱلسَّاعَةِ مُشۡفِقُونَ وَهَٰذَا ذِكۡرٞ مُّبَارَكٌ أَنزَلۡنَٰهُۚ أَفَأَنتُمۡ لَهُۥ مُنكِرُونَ (سورۃ الانبیاء ۔ آیات 49 تا 50)

ان آیاتِ کریمہ میں متقین اور قرآن مجید کی کیا صفات بیان ہوئی ہیں؟

متقین (پرہیزگاروں) کی صفات اور قرآن مجید کی صفات

1 متقین (پرہیزگاروں) کی صفات — خوفِ خدا (غائبانہ ڈر) — متقین کی پہلی صفت یہ ہے کہ وہ اپنے رب سے بن دیکھے (غائبانہ طور پر) ڈرتے ہیں اور اس کی عظمت و جلال کا احترام دل میں رکھتے ہیں۔
2 متقین (پرہیزگاروں) کی صفات — قیامت کے دن کا خوف — وہ قیامت کی گھڑی، حساب کتاب اور اس کے ہولناک مناظر سے ڈرتے رہتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ برائیوں سے بچتے اور نیک اعمال کی طرف راغب ہوتے ہیں۔
3 قرآن مجید کی صفات — ذکرٌ مبارک (برکت والا ذکر) — قرآن مجید کی صفت بیان کی گئی ہے کہ یہ ایک انتہائی مبارک، ہدایت بخش اور خیر و برکت والی نصیحت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے۔
4 قرآن مجید کی صفات — انکار کی گنجائش نہیں — یہ اتنی واضح اور برکت والی کتاب ہے کہ اس کا انکار یا اس سے ناگواری کا اظہار انسان کی اپنی بدقسمتی اور محرومی کی دلیل ہے۔

سرگرمیاں برائے طلبہ

12 سرگرمیاں برائے طلبہ

سورۃ الانبیاء میں موجود اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں تلاش کریں۔

سورۃ الانبیاء میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی درج ذیل اہم نشانیاں بیان کی گئی ہیں:

1 زمین و آسمان کی تخلیق — ابتدا میں زمین اور آسمان باہم ملے ہوئے (بند) تھے؛ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے انہیں جدا کیا۔
2 زندگی کا ذریعہ (پانی) — اللہ تعالیٰ نے ہر جان دار چیز کو پانی سے پیدا فرمایا۔
3 پہاڑوں کی تخلیق — زمین کا توازن قائم رکھنے کے لیے پہاڑ بنائے تاکہ زمین ڈگمگائے نہ۔
4 راستوں کی موجودگی — پہاڑوں اور زمین کے درمیان کشادہ راستے بنائے تاکہ لوگ ہدایت اور راستہ پا سکیں۔
5 آسمان اور چاند و سورج — آسمان کو ایک محفوظ چھت بنایا، اور رات و دن کے نظام کے ساتھ سورج اور چاند کو اپنے اپنے مدار میں تیرنے کا پابند کیا۔
13 سرگرمیاں برائے طلبہ

آسمان سے برسنے والے پانی کی اہمیت اور اس کے فوائد لکھیں۔

آسمان سے برسنے والے پانی کی اہمیت اور اس کے بنیادی فوائد درج ذیل ہیں:

1 زندگی کی بقا اور تسلسل — زمین پر تمام انسانوں، حیوانات اور نباتات کی زندگی کا دار و مدار پانی پر ہے۔ بارش کے ذریعے زمین کو تازہ اور صاف پانی میسر آتا ہے، جس سے دنیا میں پینے اور استعمال کے پانی کی فراہمی جاری رہتی ہے۔
2 زراعت اور غلہ باری — بارش زرعی نظام کی روح ہے: بارش کا پانی فصلوں، پھلوں اور سبزیوں کی نشو و نما کے لیے قدرتی سیرابی کا کام کرتا ہے؛ جو زمینیں بنجر یا خشک ہو چکی ہوں، بارش کے بعد دوبارہ سرسبز و شاداب ہو جاتی ہیں۔
3 زیرِ زمین پانی کی سطح میں اضافہ — جب آسمان سے پانی برستا ہے تو وہ زمین میں جذب ہو کر زیرِ زمین پانی کے ذخائر کو دوبارہ بھر دیتا ہے؛ اسی پانی کو ہم کنوؤں، ٹیوب ویلوں اور بورنگ کے ذریعے پینے اور دیگر ضروریات کے لیے نکالتے ہیں۔
4 ندی نالوں اور دریاؤں کی روانی — بارش کے ذریعے ہی دریاؤں، جھیلوں، ڈیموں اور ندی نالوں میں پانی کا بہاؤ جاری رہتا ہے؛ اگر بارشیں نہ ہوں تو دریا اور ڈیم خشک ہو جائیں، جس سے پانی اور بجلی (ہائیڈرو پاور) کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
5 ماحولیاتی آلودگی اور گرد و غبار کا خاتمہ — بارش فضا کو دھونے کا کام کرتی ہے: یہ ہوا میں موجود گرد و غبار، دھویں اور آلودہ ذرات کو زمین پر بٹھا کر ہوا کو صاف اور شفاف بنا دیتی ہے، جس سے سانس اور دیگر ماحولیاتی بیماریوں میں کمی آتی ہے۔
6 موسم میں خوش گوار تبدیلی اور درجۂ حرارت میں کمی — شدید گرمی اور حبس کے دنوں میں بارش درجۂ حرارت کو کم کر کے موسم کو خوش گوار بناتی ہے؛ یہ زمین کے ماحول اور درجۂ حرارت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
14 سرگرمیاں برائے طلبہ

لَوۡ كَانَ فِيهِمَآ ءَالِهَةٌ إِلَّا ٱللَّهُ لَفَسَدَتَاۚ فَسُبۡحَٰنَ ٱللَّهِ رَبِّ ٱلۡعَرۡشِ عَمَّا يَصِفُونَ

اگر اس کائنات میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی اور معبود ہوتا تو دنیا میں کس طرح فساد برپا ہوتا؟

جواب اگر اس کائنات میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ بھی معبود (خدا) ہوتے تو ان کے درمیان اختیارات، ارادوں اور فیصلوں کا ٹکراؤ اور اختلاف پیدا ہو جاتا: ایک خدا سورج کو مشرق سے نکالنا چاہتا تو دوسرا کسی اور طرف سے؛ ایک بارش برسانا چاہتا تو دوسرا روکنا چاہتا۔ اس باہمی کشمکش اور نظامِ حکومت کے تضاد کی وجہ سے کائنات کا پورا نظام درہم برہم ہو جاتا اور ہر طرف فساد برپا ہو جاتا (جس کا ذکر سورۃ الانبیاء کی آیت 22 میں ہوا ہے)۔
15 سرگرمیاں برائے طلبہ

سابقہ قوموں پر آنے والے عذابوں کی مثالیں دے کر سمجھائیں کہ انہیں کیوں تباہ کیا گیا اور ان کے واقعات میں ہمارے لیے کیا عبرت ہے؟

تباہی کی وجوہات: سابقہ قوموں (مثلاً قومِ نوح، قومِ عاد، قومِ ثمود، قومِ لوط اور فرعون) کو اس لیے تباہ کیا گیا کیونکہ انہوں نے اپنے وقت کے انبیاء کرام کی تکذیب کی، اللہ کے ساتھ شرک کیا، اور نافرمانی اور حد سے زیادہ سرکشی و ظلم کا راستہ اختیار کیا۔

ہمارے لیے عبرت

1 غفلت سے بچنا — طاقت، مال و دولت اور عیش و عشرت انسان کو اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتے۔
2 توبہ اور اطاعت — ہمیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مکمل اطاعت کرنی چاہیے اور نافرمانی پر فوراً توبہ کرنی چاہیے۔
3 عذاب کی اچانک آمد — عذاب اور موت بغیر بتائے اچانک آتے ہیں، اس لیے ہر وقت آخرت کی تیاری رکھنی چاہیے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.