نویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 2: سبق 2: سورۃ مریم (حصہ دوم) — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں برائے طلبہ · 17 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

وَٱذۡكُرۡ فِي ٱلۡكِتَٰبِ إِسۡمَٰعِيلَۚ إِنَّهُۥ كَانَ صَادِقَ ٱلۡوَعۡدِ وَكَانَ رَسُولٗا نَّبِيّٗا وَكَانَ يَأۡمُرُ أَهۡلَهُۥ بِٱلصَّلَوٰةِ وَٱلزَّكَوٰةِ وَكَانَ عِندَ رَبِّهِۦ مَرۡضِيّٗا (سورۃ مریم ۔ آیات 54 تا 55)

آیاتِ کریمہ میں سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی کون سی صفات بیان ہوئی ہیں؟

متعلقہ آیات کی روشنی میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی درج ذیل چار نمایاں صفات بیان ہوئی ہیں:

1 وہ وعدے کے پکے اور سچے تھے۔
2 وہ اللہ کے رسول اور نبی تھے۔
3 وہ اپنے گھر والوں (اہل و عیال) کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا کرتے تھے۔
4 وہ اپنے رب کے نزدیک بہت پسندیدہ اور مقبول تھے۔
2 مختصر جوابات

اِلَّا مَنۡ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًـا فَاُولٰٓٮِٕكَ يَدۡخُلُوۡنَ الۡجَـنَّةَ (سورۃ مریم ۔ آیت 60)

آیتِ کریمہ میں دخولِ جنت کی کیا شرائط بیان ہوئی ہیں؟

اس آیت کی رو سے جنت میں داخل ہونے کے لیے درج ذیل تین بنیادی شرائط بیان کی گئی ہیں:

1 گناہوں سے سچے دل سے توبہ کرنا۔
2 اللہ پر سچا ایمان لانا۔
3 نیک اور صالح اعمال کرنا۔
3 مختصر جوابات

مَنۡ كَانَ فِى الضَّلٰلَةِ فَلۡيَمۡدُدۡ لَهُ الرَّحۡمٰنُ مَدًّا ۚ​ (سورۃ مریم ۔ آیت 75)

آیتِ کریمہ کی رو سے اللہ تعالیٰ کس شخص کو ڈھیل دیتا ہے؟

جواب اس آیتِ مبارکہ کے مطابق اللہ تعالیٰ اس شخص کو ڈھیل (مہلت اور رسی دراز کرتا) دیتا ہے جو گمراہی (ٱلضَّلَٰلَةِ) میں مبتلا ہوتا ہے، تاکہ وہ اپنی سرکشی میں اور بڑھ جائے۔
4 مختصر جوابات

تَكَادُ ٱلسَّمَٰوَٰتُ يَتَفَطَّرۡنَ مِنۡهُ وَتَنشَقُّ ٱلۡأَرۡضُ وَتَخِرُّ ٱلۡجِبَالُ هَدًّا (سورۃ مریم ۔ آیت 90)

آیتِ کریمہ میں شرک کی کیا سنگینی بیان کی گئی ہے؟

جواب اس آیت میں شرک (خاص طور پر اللہ کی اولاد ہونے کا دعویٰ کرنے) کو اتنی بڑی اور سنگین بات قرار دیا گیا ہے کہ اس کے خوف و ہیبت سے قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑیں، زمین شق (ٹکڑے ٹکڑے) ہو جائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر گر پڑیں۔
5 مختصر جوابات

لَّا يَمۡلِكُونَ ٱلشَّفَٰعَةَ إِلَّا مَنِ ٱتَّخَذَ عِندَ ٱلرَّحۡمَٰنِ عَهۡدٗا (سورۃ مریم ۔ آیت 87)

آیتِ کریمہ کی رو سے شفاعت کا اختیار کس کو حاصل ہوگا؟

جواب اس آیت کے مطابق قیامت کے دن شفاعت (سفارش) کرنے کا اختیار صرف اس ہستی کو حاصل ہوگا جس نے رحمٰن (اللہ تعالیٰ) سے اس کا عہد (یعنی اجازت یا وعدہ) لے رکھا ہو؛ کوئی دوسرا اللہ کی اجازت کے بغیر شفاعت نہیں کر سکے گا۔

تفصیلی جوابات

6 تفصیلی جوابات

وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلَّا بِأَمۡرِ رَبِّكَۖ لَهُۥ مَا بَيۡنَ أَيۡدِينَا وَمَا خَلۡفَنَا وَمَا بَيۡنَ ذَٰلِكَۚ وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيّٗا (سورۃ مریم ۔ آیت 64)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ لکھیں اور وضاحت تحریر کریں۔

ترجمہ

"اور (جبرائیل نے کہا کہ) ہم آپ کے رب کے حکم کے بغیر نہیں اترتے، جو کچھ ہمارے آگے ہے اور جو ہمارے پیچھے ہے اور جو اس کے درمیان ہے، سب اسی کا ہے، اور آپ کا رب بھولنے والا نہیں ہے۔"

وضاحت

1 نزولِ وحی اللہ کا حکم ہے ("ہم آپ کے رب کے حکم کے بغیر نہیں اترتے") — رسول اللہ ﷺ کو جبرائیل علیہ السلام سے شدید محبت تھی اور آپ چاہتے تھے کہ وحی کا سلسلہ مسلسل جاری رہے؛ لیکن حضرت جبرائیل علیہ السلام نے واضح کیا کہ فرشتے اپنی مرضی اور اختیار سے نازل نہیں ہوتے، بلکہ مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کے امر اور حکم کے پابند ہیں۔ اگر وحی میں تاخیر ہوتی ہے تو اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی کوئی حکمت شامل ہوتی ہے، فرشتوں کا اس میں کوئی ذاتی دخل نہیں ہوتا۔
2 کائنات کے ہر زمان و مکان پر اللہ کی ملکیت ("جو کچھ ہمارے آگے ہے…") — آیت کا یہ حصہ اللہ تعالیٰ کی کامل ملکیت اور وسعتِ علم کو ظاہر کرتا ہے: آگے، پیچھے اور درمیان سے مراد تمام زمانے (ماضی، حال اور مستقبل) اور تمام مکانات (دنیا، آخرت اور برزخ) ہیں؛ ہر چیز، ہر وقت اور ہر حالت اللہ کی ملکیت میں ہے — فرشتے بھی اسی کے مملوک ہیں اور بغیر اجازت کوئی قدم نہیں اٹھا سکتے۔
3 اللہ بھولنے سے پاک ہے ("آپ کا رب بھولنے والا نہیں") — جب وحی میں تاخیر ہوئی تو مشرکین نے طعنہ دینا شروع کر دیا کہ (نعوذ باللہ) "محمد ﷺ کے رب نے انہیں چھوڑ دیا یا بھلا دیا ہے۔" اس کے جواب میں فرمایا گیا کہ "نسیان" (بھول جانا) انسانوں کی کمزوری اور عیب ہے، جب کہ اللہ تعالیٰ ہر عیب اور کمزوری سے پاک ہے؛ وحی کی تاخیر کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اللہ اپنے رسول کو بھول گیا، بلکہ ہر کام اپنے مقررہ اور بہترین وقت پر ہوتا ہے۔
7 تفصیلی جوابات

رَّبُّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا فَٱعۡبُدۡهُ وَٱصۡطَبِرۡ لِعِبَٰدَتِهِۦۚ هَلۡ تَعۡلَمُ لَهُۥ سَمِيّٗا (سورۃ مریم ۔ آیت 65)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ لکھیں اور وضاحت تحریر کریں۔

ترجمہ

"وہ آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب ہے، پس آپ اسی کی عبادت کریں اور اس کی عبادت پر قائم رہیں، کیا آپ کے علم میں اس کے نام کا کوئی (اور) ہے؟"

وضاحت

1 کائنات کی مطلق ربوبیت — آیت کے پہلے حصے میں اللہ تعالیٰ کی ربوبیت (پرورش اور مالکانہ نظام) کا اعلان ہے: وہی ذات ہے جس نے آسمانوں، زمین اور ان کے درمیان موجود ہر مخلوق (انسان، جنات، فرشتے، ستارے وغیرہ) کو پیدا کیا اور وہی سب کی دیکھ بھال کر رہا ہے؛ جب نظامِ کائنات میں کوئی اس کا شریک نہیں تو عبادت میں بھی کسی کو شریک کرنے کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔
2 عبادت پر استقامت اور صبر (فَٱعۡبُدۡهُ وَٱصۡطَبِرۡ) — یہاں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ (اور آپ کے ذریعے پوری امت) کو دو بنیادی احکام دیے ہیں: خالص عبادت — اپنی ہر قسم کی بندگی، دعا، نذر و نیاز اور اطاعت صرف ایک اللہ کے لیے مخصوص کریں؛ اور استقامت — لفظ "ٱصۡطَبِرۡ" میں صبر اور پختگی کا شدید عنصر پایا جاتا ہے، یعنی عبادت کی راہ میں آنے والی تمام مشکلات، دنیاوی رکاوٹوں اور مخالفتوں کا ثابت قدمی سے مقابلہ کریں، عبادت میں سستی نہ آنے دیں اور اس پر ڈٹے رہیں۔
3 اللہ کی بے مثالی (هَلۡ تَعۡلَمُ لَهُۥ سَمِيّٗا) — یہ استفہامِ انکاری (یعنی: ہرگز نہیں) ہے، جسے چیلنج کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ "سمیّاً" (ہم نام/ہم سر/مثال) کے چند اہم معانی مفسرین نے بیان کیے ہیں: (1) ذات اور صفات میں کوئی برابر نہیں — کیا کوئی ایسی ذات ہے جو خالق، رازق اور علیم و قدیر ہونے میں اللہ جیسی ہو؟ (2) نام کی خصوصیت — تاریخ میں کسی نے اپنے مصنوعی معبود کا نام "اللہ" نہیں رکھا؛ یہ نام صرف اسی ایک سچے معبود کے لیے مخصوص رہا ہے؛ (3) عبادت کا مستحق — کیا کائنات میں کوئی اور ایسا ہے جو اس لائق ہو کہ اسے رب اور معبود مانا جائے؟ یقیناً نہیں۔
8 تفصیلی جوابات

وَيَقُولُ ٱلۡإِنسَٰنُ أَءِذَا مَا مِتُّ لَسَوۡفَ أُخۡرَجُ حَيًّا أَوَلَا يَذۡكُرُ ٱلۡإِنسَٰنُ أَنَّا خَلَقۡنَٰهُ مِن قَبۡلُ وَلَمۡ يَكُ شَيۡـٔٗا (سورۃ مریم ۔ آیات 66 تا 67)

ان آیاتِ کریمہ میں انسان کو کیا حقیقت یاد دلائی جا رہی ہے؟

1 زندگی بعد از موت کا انکار — انسان اپنی عقل اور ظاہری آنکھوں کی محدودیت کی وجہ سے یہ سمجھتا ہے کہ مرنے اور مٹی ہو جانے کے بعد دوبارہ زندگی ممکن نہیں۔
2 پہلی پیدائش کا حوالہ — اللہ تعالیٰ نے انسان کو یاد دہانی کرائی ہے کہ کیا وہ اپنی ابتدائی حالت کو بھول گیا ہے؟ جب وہ کائنات میں کوئی وجود ہی نہیں رکھتا تھا (بلکہ "کچھ بھی نہ تھا")، تو اللہ نے اسے عدم سے وجود بخشا۔
3 قادرِ مطلق کی قدرت پر دلیل — جس خدا نے انسان کو اس وقت پیدا کیا جب اس کا کوئی نام و نشان بھی نہ تھا، اس کے لیے انسان کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنا بدرجۂ اَتم آسان ہے۔
9 تفصیلی جوابات

فَوَرَبِّكَ لَـنَحۡشُرَنَّهُمۡ وَالشَّيٰطِيۡنَ ثُمَّ لَــنُحۡضِرَنَّهُمۡ حَوۡلَ جَهَـنَّمَ جِثِيًّا​ ۚ۔ثُمَّ لَـنَنۡزِعَنَّ مِنۡ كُلِّ شِيۡعَةٍ اَيُّهُمۡ اَشَدُّ عَلَى الرَّحۡمٰنِ عِتِيًّا​ ۚ۔ثُمَّ لَـنَحۡنُ اَعۡلَمُ بِالَّذِيۡنَ هُمۡ اَوۡلٰى بِهَا صِلِيًّا۔ (سورۃ مریم ۔ آیات 68 تا 70)

ان آیات کا ترجمہ اور وضاحت تحریر کریں۔

ترجمہ

"تو آپ ﷺ کے رب کی قسم ! ہم ضرور جمع کریں گے انہیں اور تمام شیطانوں کو بھی پھر ہم ضرور حاضر کریں گے انہیں جہنم کے گرد گھٹنوں کے بل گرے ہوئے۔پھر ہم ضرور چھانٹ کر نکال لیں گے ہر گروہ میں سے ہر اس شخص کو جو ان میں سب سے زیادہ سخت تھا رحمن کے خلاف سرکشی میں۔پھر ہم خوب جانتے ہیں ان لوگوں کو جو اس میں پہلے داخل ہونے کے لائق ہوں گے۔"

وضاحت

1 رب کی قسم اور حشر کا منظر — اللہ تعالیٰ نے اپنے رب ہونے کی قسم کھا کر اس بات کی حتمی تصدیق فرمائی ہے کہ قیامت کا دن اور حساب کتاب برحق ہے: محشر کے میدان میں نہ صرف منکرین اور کافروں کو جمع کیا جائے گا، بلکہ ان کے گمراہ کن رہنماؤں اور شیطانوں کو بھی ساتھ لایا جائے گا جنہوں نے انہیں دنیا میں اللہ کی نافرمانی اور انکار کی ترغیب دی تھی۔ "جِثِيّٗا" (گھٹنوں کے بل گرے ہونا) اس حالت کو کہتے ہیں جب انسان خوف، دہشت، عاجزی اور ذلت کی وجہ سے اپنے گھٹنوں کے بل گر پڑے؛ جہنم کی خوف ناک آوازیں اور اس کا جلال دیکھ کر مجرموں کی ٹانگیں جواب دے جائیں گی اور وہ جہنم کے ارد گرد گھٹنوں کے بل پڑے ہوں گے۔
2 مجرموں کی درجہ بندی اور چھانٹی — قیامت کے دن عدل و انصاف کا کامل مظاہرہ ہوگا اور مجرموں کے ساتھ ان کے گناہ اور سرکشی کے تناسب سے معاملہ کیا جائے گا: ہر باطل گروہ، قوم یا جماعت میں سے ان لوگوں کو الگ کیا جائے گا جو کفر، سرکشی اور ظلم میں سب سے آگے تھے (مثلاً فرعون، ابو جہل اور ان جیسے دوسرے کفر کے داعی)؛ جو لوگ دنیا میں دوسروں کو گمراہ کرنے کے ذمہ دار تھے اور اللہ کے مقابلے میں شدید ترین تکبر کا مظاہرہ کرتے تھے، انہیں سب سے پہلے پکڑ کر جہنم میں ڈالا جائے گا۔
3 کفر اور سرکشی کی سنگینی ("رحمٰن کے مقابلے میں…") — آیت میں اللہ تعالیٰ کے صفاتی نام "رحمٰن" کا ذکر خصوصی حکمت پر مبنی ہے: انسان پر اللہ رحمٰن کی بے شمار نعمتیں اور رحم دلی ہے، لیکن اس کے باوجود جب انسان حد سے گزر کر سرکشی کرتا ہے تو وہ سخت ترین عذاب کا مستحق بن جاتا ہے؛ رحمٰن کے مقابلے میں سرکشی کرنا انسان کی شدید ترین ناانصافی اور کم ظرفی کو ظاہر کرتا ہے۔
10 تفصیلی جوابات

قُلۡ مَن كَانَ فِي ٱلضَّلَٰلَةِ فَلۡيَمۡدُدۡ لَهُ ٱلرَّحۡمَٰنُ مَدًّاۚ حَتَّىٰٓ إِذَا رَأَوۡاْ مَا يُوعَدُونَ إِمَّا ٱلۡعَذَابَ وَإِمَّا ٱلسَّاعَةَ فَسَيَعۡلَمُونَ مَنۡ هُوَ شَرّٞ مَّكَانٗا وَأَضۡعَفُ جُندٗا (سورۃ مریم ۔ آیت 75)

ان آیاتِ کریمہ کی رو سے قیامت کے دن سرکشوں کے کیا احوال بیان ہوئے ہیں؟

ان آیات میں قیامت کے دن سرکشوں اور گمراہوں کے درج ذیل احوال و انجام بیان کیے گئے ہیں:

1 شیاطین کے ساتھ حشر — سرکشوں اور کافروں کو ان کے گمراہ کرنے والے شیاطین کے ساتھ اکٹھا کر کے لایا جائے گا۔
2 ذلت و رسوائی — وہ جہنم کے ارد گرد گھٹنوں کے بل ذلیل و خوار پڑے ہوں گے۔
3 سرغنوں کی چھانٹی — اللہ تعالیٰ ہر باطل گروہ میں سے سب سے زیادہ سرکش، متکبر اور نافرمان رہنماؤں کو پہلے الگ کر کے جہنم میں ڈالے گا۔
4 حقیقت کا انکشاف — جو لوگ دنیا کی عارضی مہلت کو اپنی کامیابی سمجھتے تھے، عذاب یا قیامت کا منظر دیکھ کر انہیں معلوم ہو جائے گا کہ بدترین ٹھکانا کس کا ہے اور کس کا لشکر سب سے زیادہ کمزور و بے بس ہے۔
11 تفصیلی جوابات

إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ سَيَجۡعَلُ لَهُمُ ٱلرَّحۡمَٰنُ وُدّٗا فَإِنَّمَا يَسَّرۡنَٰهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ ٱلۡمُتَّقِينَ وَتُنذِرَ بِهِۦ قَوۡمٗا لُّدّٗا (سورۃ مریم ۔ آیات 96 تا 97)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت لکھیں۔

ترجمہ

"بے شک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے، عنقریب رحمٰن (اللہ) ان کے لیے (لوگوں کے دلوں میں) محبت پیدا کر دے گا۔ پس ہم نے اس (قرآن) کو آپ کی زبان میں آسان کر دیا ہے تاکہ آپ اس کے ذریعے پرہیزگاروں کو بشارت دیں اور جھگڑالو قوم کو ڈرائیں۔"

وضاحت

1 اہلِ ایمان کے لیے دلوں میں محبت — جب انسان سچے دل سے ایمان لاتا ہے اور نیک اعمال اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا بدلہ صرف آخرت میں ہی نہیں بلکہ دنیا میں بھی عطا فرماتا ہے۔ صحیح بخاری کی مشہور حدیث میں آتا ہے: "جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام کو بلا کر فرماتا ہے کہ میں فلاں بندے سے محبت کرتا ہوں، تم بھی اس سے محبت کرو؛ پھر جبرائیل علیہ السلام آسمان والوں میں اعلان کرتے ہیں، پھر تمام آسمان والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، اور پھر زمین والوں کے دلوں میں بھی اس کی مقبولیت ڈال دی جاتی ہے۔" آیت میں لفظ "رحمٰن" کا ذکر بتاتا ہے کہ بندوں کے دلوں میں نیک لوگوں کے لیے عزت، احترام اور محبت ڈالنا اللہ تعالیٰ کی رحمت کا خاص مظاہرہ ہے۔
2 قرآنِ مجید کی فصاحت اور آسانی — اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید کو عربی زبان (نبی کریم ﷺ کی مادری زبان) میں نازل فرمایا تاکہ: ابلاغ اور فہم میں آسانی ہو — دین کا پیغام سمجھنا، یاد رکھنا اور دوسروں تک پہنچانا آسان ہو جائے؛ اور حجت تمام ہو — قوم کے لیے یہ عذر باقی نہ رہے کہ یہ کلام ان کی سمجھ سے باہر یا کسی اجنبی زبان میں ہے۔
3 نزولِ قرآن کے دو بنیادی مقاصد — قرآنِ مجید کا پیغام دو طرح کے لوگوں کے لیے دو مختلف پہلو رکھتا ہے: پرہیزگاروں (متقیوں) کے لیے بشارت — جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں اور حق کو قبول کرتے ہیں، قرآن انہیں دنیا کی کامیابی اور آخرت میں جنت کی عظیم بشارتیں دیتا ہے؛ اور جھگڑالو قوم (لُدّٗا) کے لیے انذار — "لُدّ" ان ہٹ دھرم، ضدی اور بے جا بحث و تکرار کرنے والے منکرین کو کہا جاتا ہے جو حق بات سامنے آنے کے باوجود ماننے کو تیار نہیں ہوتے؛ قرآن انہیں اللہ کے عذاب اور آخرت کی ہولناکیوں سے ڈراتا ہے۔
12 تفصیلی جوابات

وَكَمۡ أَهۡلَكۡنَا قَبۡلَهُم مِّن قَرۡنٍ هَلۡ تُحِسُّ مِنۡهُم مِّنۡ أَحَدٍ أَوۡ تَسۡمَعُ لَهُمۡ رِكۡزَۢا (سورۃ مریم ۔ آیت 98)

آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے گزشتہ قوموں کا ذکر کس مقصد کے لیے کیا ہے؟

اس آیتِ مبارکہ میں سابقہ سرکش قوموں کی ہلاکت کا ذکر درج ذیل مقاصد کے لیے کیا گیا ہے:

1 تنبیہ اور عبرت — قریش اور آنے والی سرکش قوموں کو خبردار کرنا کہ جن طاقت ور اور مال دار قوموں نے اپنے انبیاء کی تکذیب کی، اللہ کے عذاب نے انہیں اس طرح مٹا دیا کہ آج ان کا نام و نشان یا ہلکی سی آواز (بھنک) بھی باقی نہیں رہی۔
2 مومنین کی تسلی — نبی کریم ﷺ اور اہلِ ایمان کو تسلی دینا کہ باطل کی سرکشی اور شوکت عارضی ہے؛ بالآخر غلبہ حق اور اہلِ حق ہی کو حاصل ہوگا اور ظالموں کا انجام مکمل تباہی ہے۔

سرگرمیاں برائے طلبہ

13 سرگرمیاں برائے طلبہ

ہمارے کون کون سے کام نماز کو ضائع کرتے ہیں؟ تحریر کریں۔

نماز کو ضائع کرنے کے دو پہلو ہیں: ایک مکمل ترک کر دینا یا سستی کرنا، اور دوسرا نماز کی حالت میں آداب و خشوع کا خیال نہ رکھنا:

1 نماز کی ادائیگی میں سستی اور تاخیر — دنیاوی کاموں (مثلاً کھیل کود، موبائل فون، سونا یا کاروبار) کی وجہ سے نماز کا وقت گزار دینا یا باقاعدگی سے نہ پڑھنا۔
2 خشوع و خضوع کی کمی — نماز کے دوران دل و دماغ کا دنیاوی خیالات، منصوبوں یا پریشانیوں میں الجھا رہنا۔
3 ارکان کی غلط یا جلد بازی میں ادائیگی — رکوع، سجدے اور قیام کو جلدی جلدی بغیر اطمینان (تعدیلِ ارکان) کے ادا کرنا۔
4 ریاکاری (دکھاوا) — اللہ کی رضا کے بجائے لوگوں کو دکھانے کے لیے نماز پڑھنا، جس سے اس کا ثواب ضائع ہو جاتا ہے۔
14 سرگرمیاں برائے طلبہ

وہ کون سی نفسانی خواہشات ہیں جن کے نتائج سے انسان برے انجام سے دوچار ہو سکتا ہے؟

نفسانی خواہشات کی پیروی انسان کو گناہوں کی دلدل میں دھکیل دیتی ہے اور بالآخر ذلت و جہنم کا سبب بنتی ہے:

1 حرص و لالچ — ناجائز ذرائع سے مال کمانے اور دوسروں کا حق مارنے کی خواہش۔
2 تکبر اور غرور — حق بات کو تسلیم نہ کرنا اور دوسروں کو حقیر سمجھنا (جیسا سرکش قوموں کا رویہ تھا)۔
3 شہوت پرستی — جائز و ناجائز کی تمیز کیے بغیر نفسانی لذتوں اور برائیوں کی طرف مائل ہونا۔
4 جھوٹی انا اور بغض و حسد — لوگوں سے حسد کرنا، جھگڑے کرنا اور حق کے مقابلے میں باطل پر اڑے رہنا۔
جواب انجام: دنیا میں روحی و قلبی بے سکونی اور آخرت میں سخت عذاب اور جہنم کا رسوا کن انجام۔
15 سرگرمیاں برائے طلبہ

سورۃ مریم کی رو سے جہنم میں لے جانے والے اعمال کی فہرست تیار کریں۔

سورۃ مریم کی آیات کے مطابق درج ذیل اعمال انسان کو جہنم کا مستحق بناتے ہیں:

1 شرک کرنا — اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا یا اس کی اولاد کا دعویٰ کرنا۔
2 کفر اور آخرت کا انکار — دوبارہ زندہ کیے جانے (بعث بعد الموت) اور قیامت کا انکار کرنا۔
3 نمازوں کو ضائع کرنا — نماز کی پابندی نہ کرنا اور اسے معطل یا قضا کر دینا۔
4 نفسانی خواہشات کی پیروی — اللہ کی حدود کو توڑ کر اپنے نفس کی خواہشات کے پیچھے چلنا۔
5 سرکشی اور متکبرانہ رویہ — رحمٰن کے احکام کے مقابلے میں سرکشی، عناد اور نافرمانی کا مظاہرہ کرنا۔
6 حق کا مذاق اڑانا — انبیاء کرام اور ان کی لائی ہوئی ہدایت کی تکذیب کرنا۔
16 سرگرمیاں برائے طلبہ

مرنے کے بعد پیش آنے والے معاملات تحریر کریں۔

اسلامی عقیدے کے مطابق انسان کی اس دنیوی زندگی کے ختم ہونے کے بعد ایک لازمی اور دائمی سفر شروع ہوتا ہے، جسے عالمِ برزخ اور آخرت کا سفر کہا جاتا ہے۔ مرنے کے بعد انسان کو درج ذیل اہم مراحل کا سامنا کرنا پڑتا ہے:

1 قبضِ روح (وفات کا وقت) — انسان کا پہلا مرحلہ اس کی روح کا جسم سے پرواز کرنا ہے۔ حضرت عزرائیل علیہ السلام (ملک الموت) اللہ کے حکم سے انسان کی روح قبض کرتے ہیں؛ نیک انسانوں کی روح انتہائی نرمی اور عزت کے ساتھ، جب کہ گناہ گاروں اور کافروں کی روح سختی کے ساتھ نکالی جاتی ہے۔
2 عالمِ برزخ اور قبر کے سوال و جواب — دفن کے بعد عالمِ برزخ کا دورانیہ شروع ہوتا ہے (جو دنیا اور قیامت کے درمیان کا وقفہ ہے)۔ قبر میں دو فرشتے منکر اور نکیر آتے ہیں اور میت سے تین بنیادی سوالات کرتے ہیں: "مَنۡ رَبُّكَ؟" (تیرا رب کون ہے؟)، "مَا دِينُكَ؟" (تیرا دین کیا ہے؟)، اور "مَا كُنتَ تَقُولُ فِي هَٰذَا ٱلرَّجُلِ؟" (تم اس شخص یعنی حضرت محمد ﷺ کے بارے میں کیا کہتے تھے؟)۔ مومن درست جواب دیتا ہے جس پر اس کی قبر جنت کا باغ بنا دی جاتی ہے، جب کہ کافر یا منافق جواب نہیں دے پاتا اور اس کی قبر جہنم کا گڑھا بن جاتی ہے۔
3 صور پھونکنا (قیامت کا قیام) — جب اللہ تعالیٰ کا حکم ہوگا تو حضرت اسرافیل علیہ السلام صور پھونکیں گے: پہلی بار صور پھونکنے پر تمام دنیا، نظامِ شمسی اور تمام مخلوقات فنا ہو جائیں گی؛ دوسری بار صور پھونکنے پر تمام انسان اپنی قبروں سے دوبارہ زندہ ہو کر اٹھ کھڑے ہوں گے۔
4 حشر اور میدانِ حشر — دوبارہ زندہ کیے جانے کے بعد تمام انسانوں کو ایک بہت بڑے میدان میں جمع کیا جائے گا جسے میدانِ حشر کہتے ہیں۔ وہاں سورج انتہائی قریب ہوگا، شدید گرمی اور نفسی نفسی کا عالم ہوگا؛ لوگ اپنے اعمال کے حساب سے اپنے ہی پسینے میں غرق ہوں گے، جب کہ سات خوش نصیب گروہوں کو اللہ کے عرش کا سایہ نصیب ہوگا۔
5 نامۂ اعمال کی تقسیم اور حساب و کتاب — میدانِ حشر میں ہر انسان کو اس کا نامۂ اعمال (ہر اچھے اور برے کام کا ریکارڈ) دیا جائے گا: نیک لوگوں کو دائیں ہاتھ میں ملے گا جس سے وہ خوش ہوں گے؛ گناہ گاروں اور کافروں کو بائیں ہاتھ یا پیٹھ کے پیچھے سے ملے گا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ بندوں سے ان کی پوری زندگی، ایک ایک سانس، مال و دولت اور جوانی کا حساب لے گا۔
6 میزان (اعمال کا تولا جانا) — حساب کے بعد ایک ترازو قائم کیا جائے گا جسے میزان کہتے ہیں۔ اس میں انسان کی نیکیوں اور برائیوں کو تولا جائے گا؛ جس کی نیکیوں کا پلڑا بھاری ہوگا وہ کامیاب ہو جائے گا، اور جس کی برائیوں کا پلڑا بھاری ہوگا وہ خسارے میں رہے گا۔
7 پل صراط سے گزرنا — پل صراط ایک پل ہے جو جہنم کے اوپر قائم کیا جائے گا اور ہر شخص کو اس پر سے گزرنا ہوگا؛ یہ بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہوگا۔ نیک اور پرہیزگار لوگ اپنی نیکیوں کے نور اور رفتار کے مطابق (بجلی، ہوا یا تیز گھوڑے کی طرح) آسانی سے پار کر کے جنت پہنچ جائیں گے؛ کافر اور گناہ گار اپنے اعمال کے بوجھ کی وجہ سے کٹ کر نیچے جہنم میں جا گریں گے۔
8 ابدی ٹھکانا: جنت یا جہنم — تمام مراحل کے بعد انسان کا حتمی اور کبھی نہ ختم ہونے والا مقام طے پائے گا: جنت — نیکیوں کا صلہ، جہاں ہمیشہ کی نعمتیں، راحتیں اور اللہ تعالیٰ کا دیدار نصیب ہوگا؛ جہنم — کفر، شرک اور گناہوں کی سزا کا مقام، جہاں شدید عذاب اور تکلیف دہ آگ ہوگی۔
17 سرگرمیاں برائے طلبہ

سورۃ مریم میں مذکور انبیاء کے واقعات مختصر انداز میں تحریر کریں۔

سورۃ مریم میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو ہدایت اور عبرت فراہم کرنے کے لیے متعدد انبیائے کرام علیہم السلام کا ذکرِ خیر فرمایا ہے۔ ان کے مختصر واقعات درج ذیل ہیں:

1 حضرت زکریا علیہ السلام — انہوں نے انتہائی بڑھاپے اور زوجہ کے بانجھ ہونے کے باوجود خلوصِ دل سے اللہ تعالیٰ سے صاحبِ ایمان وارث اولاد (بیٹے) کی دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے دعا قبول فرمائی اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کی ولادت کی بشارت دی؛ جب انہوں نے نشانی مانگی تو اللہ نے فرمایا کہ تم مسلسل تین دن رات لوگوں سے اشاروں کے علاوہ بات نہیں کر سکو گے۔
2 حضرت یحییٰ علیہ السلام — حضرت زکریا علیہ السلام کے فرزندِ ارجمند تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بچپن ہی میں حکمت و نبوت، اپنے پاس سے خاص نرم دلی اور پاکیزگی عطا فرمائی؛ وہ اپنے والدین کے انتہائی اطاعت گزار، متقی اور نرم دل بندے تھے۔
3 حضرت عیسیٰ علیہ السلام — ان کی ولادت کا واقعہ سورۃ مریم کے اہم ترین واقعات میں سے ہے: ان کی والدہ حضرت مریم علیہا السلام بغیر کسی مرد کے چھوئے، اللہ تعالیٰ کے کلمے اور حکم سے حاملہ ہوئیں؛ جب قوم نے حضرت مریم علیہا السلام پر تہمت لگائی تو اللہ کے حکم سے نومولود حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے گود میں کلام کیا اور فرمایا: "میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے۔"
4 حضرت ابراہیم علیہ السلام — سورۃ مریم میں ان کا اپنے والد (آزر) کے ساتھ ادب اور حکمت پر مبنی مکالمہ ذکر ہوا ہے: انہوں نے والد کو نہایت ادب، پیار اور منطق سے بت پرستی چھوڑ کر ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دی اور کہا: "اے ابا جان! اس چیز کی عبادت کیوں کرتے ہیں جو نہ سنتی ہے، نہ دیکھتی ہے؟" والد نے سخت رویہ اپنایا اور سنگسار کرنے یا گھر سے نکل جانے کی دھمکی دی، لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جواب میں ان کے لیے استغفار کا وعدہ کیا اور باطل سے الگ ہو گئے؛ اس قربانی کے بدلے اللہ نے انہیں حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب علیہما السلام جیسے انبیاء عطا فرمائے۔
5 حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام — حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ کے چیدہ اور منتخب بندے اور رسول تھے؛ اللہ تعالیٰ نے ان سے کوہِ طور کی دائیں جانب سے کلام فرمایا اور انہیں اپنا راز دار بنایا۔ اللہ نے اپنی رحمت سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی درخواست پر ان کے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کو بھی نبی بنا کر ان کی مدد کے لیے عطا فرمایا۔
6 حضرت اسماعیل علیہ السلام — وہ اپنے وعدے کے انتہائی سچے (صَادِقَ ٱلۡوَعۡدِ) اور رسول و نبی تھے؛ اپنے اہلِ خانہ اور قوم کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا کرتے تھے اور اپنے رب کے ہاں انتہائی پسندیدہ بندے تھے۔
7 حضرت ادریس علیہ السلام — وہ انتہائی سچے اور بلند مرتبے والے نبی تھے؛ اللہ تعالیٰ نے سورۃ مریم میں ان کے بارے میں فرمایا: "ہم نے انہیں ایک بلند مقام پر اٹھا لیا۔"

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.