اسلامی عقیدے کے مطابق انسان کی اس دنیوی زندگی کے ختم ہونے کے بعد ایک لازمی اور دائمی سفر شروع ہوتا ہے، جسے عالمِ برزخ اور آخرت کا سفر کہا جاتا ہے۔ مرنے کے بعد انسان کو درج ذیل اہم مراحل کا سامنا کرنا پڑتا ہے:
1
قبضِ روح (وفات کا وقت) — انسان کا پہلا مرحلہ اس کی روح کا جسم سے پرواز کرنا ہے۔ حضرت عزرائیل علیہ السلام (ملک الموت) اللہ کے حکم سے انسان کی روح قبض کرتے ہیں؛ نیک انسانوں کی روح انتہائی نرمی اور عزت کے ساتھ، جب کہ گناہ گاروں اور کافروں کی روح سختی کے ساتھ نکالی جاتی ہے۔
2
عالمِ برزخ اور قبر کے سوال و جواب — دفن کے بعد عالمِ برزخ کا دورانیہ شروع ہوتا ہے (جو دنیا اور قیامت کے درمیان کا وقفہ ہے)۔ قبر میں دو فرشتے منکر اور نکیر آتے ہیں اور میت سے تین بنیادی سوالات کرتے ہیں: "مَنۡ رَبُّكَ؟" (تیرا رب کون ہے؟)، "مَا دِينُكَ؟" (تیرا دین کیا ہے؟)، اور "مَا كُنتَ تَقُولُ فِي هَٰذَا ٱلرَّجُلِ؟" (تم اس شخص یعنی حضرت محمد ﷺ کے بارے میں کیا کہتے تھے؟)۔ مومن درست جواب دیتا ہے جس پر اس کی قبر جنت کا باغ بنا دی جاتی ہے، جب کہ کافر یا منافق جواب نہیں دے پاتا اور اس کی قبر جہنم کا گڑھا بن جاتی ہے۔
3
صور پھونکنا (قیامت کا قیام) — جب اللہ تعالیٰ کا حکم ہوگا تو حضرت اسرافیل علیہ السلام صور پھونکیں گے: پہلی بار صور پھونکنے پر تمام دنیا، نظامِ شمسی اور تمام مخلوقات فنا ہو جائیں گی؛ دوسری بار صور پھونکنے پر تمام انسان اپنی قبروں سے دوبارہ زندہ ہو کر اٹھ کھڑے ہوں گے۔
4
حشر اور میدانِ حشر — دوبارہ زندہ کیے جانے کے بعد تمام انسانوں کو ایک بہت بڑے میدان میں جمع کیا جائے گا جسے میدانِ حشر کہتے ہیں۔ وہاں سورج انتہائی قریب ہوگا، شدید گرمی اور نفسی نفسی کا عالم ہوگا؛ لوگ اپنے اعمال کے حساب سے اپنے ہی پسینے میں غرق ہوں گے، جب کہ سات خوش نصیب گروہوں کو اللہ کے عرش کا سایہ نصیب ہوگا۔
5
نامۂ اعمال کی تقسیم اور حساب و کتاب — میدانِ حشر میں ہر انسان کو اس کا نامۂ اعمال (ہر اچھے اور برے کام کا ریکارڈ) دیا جائے گا: نیک لوگوں کو دائیں ہاتھ میں ملے گا جس سے وہ خوش ہوں گے؛ گناہ گاروں اور کافروں کو بائیں ہاتھ یا پیٹھ کے پیچھے سے ملے گا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ بندوں سے ان کی پوری زندگی، ایک ایک سانس، مال و دولت اور جوانی کا حساب لے گا۔
6
میزان (اعمال کا تولا جانا) — حساب کے بعد ایک ترازو قائم کیا جائے گا جسے میزان کہتے ہیں۔ اس میں انسان کی نیکیوں اور برائیوں کو تولا جائے گا؛ جس کی نیکیوں کا پلڑا بھاری ہوگا وہ کامیاب ہو جائے گا، اور جس کی برائیوں کا پلڑا بھاری ہوگا وہ خسارے میں رہے گا۔
7
پل صراط سے گزرنا — پل صراط ایک پل ہے جو جہنم کے اوپر قائم کیا جائے گا اور ہر شخص کو اس پر سے گزرنا ہوگا؛ یہ بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہوگا۔ نیک اور پرہیزگار لوگ اپنی نیکیوں کے نور اور رفتار کے مطابق (بجلی، ہوا یا تیز گھوڑے کی طرح) آسانی سے پار کر کے جنت پہنچ جائیں گے؛ کافر اور گناہ گار اپنے اعمال کے بوجھ کی وجہ سے کٹ کر نیچے جہنم میں جا گریں گے۔
8
ابدی ٹھکانا: جنت یا جہنم — تمام مراحل کے بعد انسان کا حتمی اور کبھی نہ ختم ہونے والا مقام طے پائے گا: جنت — نیکیوں کا صلہ، جہاں ہمیشہ کی نعمتیں، راحتیں اور اللہ تعالیٰ کا دیدار نصیب ہوگا؛ جہنم — کفر، شرک اور گناہوں کی سزا کا مقام، جہاں شدید عذاب اور تکلیف دہ آگ ہوگی۔