"اور ہم نے ایک دیوار ان کے آگے بنا دی اور ایک دیوار ان کے پیچھے، پھر ہم نے ان (کی آنکھوں) کو ڈھانک دیا، سو وہ دیکھ نہیں سکتے۔"
اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے کافروں کے حسی اور معنوی (ظاہری اور روحانی) اندھے پن کو بیان فرمایا ہے۔ "دیوار" اور "آنکھوں پر پردہ" کے دو مفہوم مفسرین نے بیان کیے ہیں:
1حفاظتِ الٰہی کا استعارہ (حسی مفہوم) — اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ اور سچے مومنوں کی حفاظت کے لیے کافروں کے آگے اور پیچھے ایسی غیبی رکاوٹ کھڑی کر دی کہ وہ اپنے برے ارادوں کے باوجود کچھ نہ کر سکے۔
2حفاظتِ الٰہی کا استعارہ (حسی مفہوم) — یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جب اللہ کسی کی حفاظت کا فیصلہ فرما لے تو دشمن کی تمام تدبیریں بے کار ہو جاتی ہیں۔
3گمراہی اور ہٹ دھرمی (معنوی و روحانی مفہوم) — دماغی اور قلبی اندھا پن — "دیوار" اور "پردے" سے مراد ان کی اپنی ضد، انا اور تکبر ہے۔ جب انسان حق کو قبول کرنے سے مسلسل انکار کرتا رہے تو اللہ کے قانون کے مطابق اس کے دل اور عقل پر مہر لگ جاتی ہے۔
4گمراہی اور ہٹ دھرمی (معنوی و روحانی مفہوم) — عبرت سے محرومی — وہ نہ اپنے آگے یعنی آخرت کے عذاب کو دیکھ سکتے ہیں اور نہ اپنے پیچھے یعنی گزری ہوئی قوموں کی تباہی سے کوئی سبق حاصل کر سکتے ہیں۔
5گمراہی اور ہٹ دھرمی (معنوی و روحانی مفہوم) — حق کی روشنی سامنے ہونے کے باوجود وہ بالکل اندھے بن چکے ہوتے ہیں۔
"کیا میں اس (اللہ) کو چھوڑ کر ایسے معبود بنا لوں کہ اگر رحمن مجھے کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو نہ ان کی سفارش میرے کچھ کام آ سکے اور نہ وہ مجھے بچا سکیں؟"
اس آیت میں توحید (اللہ کی وحدانیت) کے بنیادی عقیدے کو دو زبردست عقلی دلیلوں کے ساتھ سمجھایا گیا ہے۔
1بتوں اور جھوٹے معبودوں کی بے بسی — نفع و نقصان کا مالک صرف اللہ ہے — اگر اللہ تعالیٰ کسی انسان پر کوئی آزمائش یا تکلیف لانا چاہے تو دنیا کے تمام فرضی معبود، بت یا کوئی بھی ہستی اس تکلیف کو ٹال نہیں سکتی۔
2بتوں اور جھوٹے معبودوں کی بے بسی — سفارش کی بے اثری — مشرکین کا گمان تھا کہ ان کے معبود اللہ کے ہاں سفارش کر کے انہیں بچا لیں گے۔ آیت نے واضح کر دیا کہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش نہیں کر سکتا، اور باطل معبودوں کی سفارش کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
3نجات دلانے کی عدم صلاحیت — انسان مصیبت کے وقت اسی کو پکارتا ہے جو اسے بچا سکے، جبکہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہ سن سکتا ہے، نہ نفع دے سکتا ہے اور نہ مصیبت سے چھٹکارا دلا سکتا ہے۔
4نجات دلانے کی عدم صلاحیت — اسی لیے اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کی عبادت کرنا سراسر بے وقوفی اور عقل کے خلاف ہے۔
9تفصیلی جوابات
سورۃ یٰس کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔
جواباس سوال کا جواب نصابی کتاب کے صفحہ نمبر 153 پر موجود ہے۔
"اور اگر ہم چاہیں تو انھیں غرق کر دیں، پھر نہ تو ان کا کوئی فریاد رس ہو اور نہ وہ بچائے جائیں۔ مگر ہماری طرف سے رحمت (ہی انہیں بچاتی ہے) اور ایک مقررہ وقت تک فائدہ اٹھانا (منظور ہوتا ہے)۔"
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے سمندری سفر کی مثال دے کر انسان کی بے بسی اور اپنی رحمت و قدرت کا بیان فرمایا ہے۔
1انسان کی بے بسی اور غرقابی کا خطرہ (آیت 43) — اللہ کا قادر اور قہار ہونا — انسان جب بڑی بڑی کشتیوں اور جہازوں میں سمندر کا سفر کرتا ہے تو اللہ اگر چاہے تو ایک ہی جھونکے یا لہر سے انہیں غرق کر سکتا ہے۔
2انسان کی بے بسی اور غرقابی کا خطرہ (آیت 43) — کوئی فریاد رس نہ ہونا — اگر اللہ تعالیٰ کسی کو ڈبونے کا فیصلہ فرما لے تو سمندر کے بیچ نہ کوئی چیخ پکار سننے والا ہوتا ہے اور نہ دنیا کا کوئی جدید ترین ذریعہ یا طاقت انہیں ڈوبنے سے بچا سکتی ہے۔
3اللہ کی رحمت اور مہلت (آیت 44) — اصل بچانے والی ذات — انسان جب کسی سمندری سفر یا بڑے حادثے سے صحیح سلامت نکلتا ہے تو یہ اس کی اپنی مہارت کا نتیجہ نہیں بلکہ اللہ کی خاص رحمت کا ثمر ہوتا ہے۔
4اللہ کی رحمت اور مہلت (آیت 44) — زندگی کی مقررہ مہلت — دنیا میں بچ جانا اس بات کا ثبوت نہیں کہ انسان اللہ کی پکڑ سے باہر ہو گیا؛ اللہ تعالیٰ اسے ایک مقررہ وقت (موت یا قیامت) تک فائدہ اٹھانے کی مہلت دیتا ہے تاکہ وہ عقل سے کام لے اور شکر گزار بنے۔
11تفصیلی جوابات
سورۃ یٰس کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔
جواباس سوال کا جواب نصابی کتاب کے صفحہ نمبر 153 پر موجود ہے۔
سرگرمیاں برائے طلبہ
12سرگرمیاں برائے طلبہ
سورۃ یٰس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں بیان کریں۔
سورۃ یٰس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی متعدد نشانیاں بیان کی گئی ہیں، جن سے ہم روزمرہ زندگی میں براہِ راست فائدہ اٹھاتے ہیں:
1مردہ زمین کا زندہ ہونا — اللہ تعالیٰ بنجر اور خشک زمین پر بارش نازل فرما کر اس سے طرح طرح کے اناج، پھل (مثلاً کھجور اور انگور) اور باغات اگاتا ہے، جو انسانوں اور مویشیوں کی بنیادی خوراک بنتے ہیں۔
2رات اور دن کا نظام — اللہ تعالیٰ نے دن کو روشنی اور روزگار کمانے کا وقت بنایا اور رات کو اندھیرا کر کے سکون و آرام کا ذریعہ بنایا۔ دونوں کا اپنے مقررہ وقت پر آنا جانا کائناتی توازن کی بہترین مثال ہے۔
3سورج اور چاند کی حرکت — سورج کی روشنی اور حرارت سے کائنات کا نظام چلتا ہے، جبکہ چاند کی مختلف منزلوں (گھٹنے بڑھنے) سے ہم مہینوں اور تاریخوں کا حساب معلوم کرتے ہیں۔
4سمندروں میں جہازوں کا تیرنا — اللہ تعالیٰ نے پانی میں یہ صلاحیت رکھی ہے کہ اس پر وزنی سے وزنی جہاز اور کشتیاں سفر کرتی ہیں، جس سے انسان تجارت اور نقل و حمل کا فائدہ اٹھاتا ہے۔
13سرگرمیاں برائے طلبہ
سورۃ یٰس میں بستی والوں اور دین کے داعی (مومنِ آلِ یٰس) کا واقعہ درج ہے؛ اس کی تفصیل اور حاصل ہونے والے اسباق تحریر کریں۔
اللہ تعالیٰ نے ایک بستی (انطاکیہ) کی طرف اپنے تین رسول بھیجے۔ بستی والوں نے ان کی دعوت کا انکار کیا، انہیں نحس اور بدشگونی قرار دیا اور پتھروں سے مار ڈالنے کی دھمکی دی۔ اسی دوران شہر کے آخری کنارے سے ایک مومن شخص (حضرت حبیب نجارؒ) دوڑتا ہوا آیا اور اپنی قوم کو سمجھایا کہ "ان رسولوں کی پیروی کرو جو تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتے۔" قوم نے رسولوں کی حمایت کرنے پر اس مومن کو شہید کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے شہادت کے فوراً بعد جنت میں داخل فرما دیا، اور نافرمان بستی کو ایک ہولناک چیخ (آسمانی عذاب) کے ذریعے تباہ و برباد کر دیا۔
واقعہ کی تفصیل اور حاصل ہونے والے اسباق
1حاصل ہونے والے اسباق — حق گوئی اور داعیانہ جذبہ — حق کی دعوت دینے میں کسی ملامت یا خطرے کی پروا نہیں کرنی چاہیے۔
2حاصل ہونے والے اسباق — بے غرضی — دین کا کام اور رہنمائی بے لوث اور کسی دنیاوی غرض کے بغیر ہونی چاہیے۔
3حاصل ہونے والے اسباق — انکارِ حق کا انجام — انبیاء اور ان کے پیغام کو جھٹلانے والی قومیں بالآخر اللہ کے عذاب کی مستحق بنتی ہیں۔
4حاصل ہونے والے اسباق — مومن کی کامیابی — اللہ کی راہ میں جان قربان کرنے والے کا اصل مقام اور انعام آخرت (جنت) ہے۔
14سرگرمیاں برائے طلبہ
نظامِ شمسی کے حوالے سے سورج اور چاند کے فوائد تحریر کریں۔
سورج کے فوائد (Sun) اور چاند کے فوائد (Moon)
1سورج کے فوائد (Sun) — زمین پر روشنی اور توانائی کا بنیادی ذریعہ ہے۔
2سورج کے فوائد (Sun) — پودوں میں ضیائی تالیف (Photosynthesis) کے لیے ضروری ہے، جس سے ہمیں آکسیجن حاصل ہوتی ہے۔
3سورج کے فوائد (Sun) — موسموں کی تبدیلی اور پانی کے نظام (Water Cycle) کو برقرار رکھتا ہے۔
4چاند کے فوائد (Moon) — چاند کی منزلوں سے ہجری/قمری تقویم (کیلنڈر) اور اسلامی عبادات (رمضان، عید، حج) کی تاریخوں کا تعین ہوتا ہے۔
5چاند کے فوائد (Moon) — سمندروں میں مدوجزر (جوار بھاٹا) پیدا کرتا ہے، جو آبی حیات اور سمندری نظام کے لیے مفید ہے۔
6چاند کے فوائد (Moon) — رات کی تاریکی میں نرم اور مائل بہ سفید روشنی فراہم کرتا ہے۔
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔