نویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 23: سبق 23: سورۃ یٰس (حصہ اول) — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں برائے طلبہ · 14 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

إِنَّمَا تُنذِرُ مَنِ ٱتَّبَعَ ٱلذِّكۡرَ وَخَشِيَ ٱلرَّحۡمَٰنَ بِٱلۡغَيۡبِۖ فَبَشِّرۡهُ بِمَغۡفِرَةٖ وَأَجۡرٖ كَرِيمٍ (سورۃ یٰس ۔ آیت 11)

آیتِ کریمہ میں مغفرت اور عزت والے اجر کی خوشخبری کس کو دی گئی ہے؟

اس آیتِ کریمہ میں مغفرت اور عزت والے اجر (اجرِ کریم) کی خوشخبری اس شخص کو دی گئی ہے جو درج ذیل دو صفات کا حامل ہو:

1 نصیحت کی پیروی — وہ قرآنِ مجید کی نصیحت کو قبول کرتا اور اس کے احکام کی اتباع کرتا ہے۔
2 خشیتِ الٰہی — وہ بن دیکھے رحمن (اللہ تعالیٰ) سے ڈرتا ہے، یعنی تنہائی اور خلوت میں بھی اللہ کے خوف کو ملحوظ رکھتا ہے۔
2 مختصر جوابات

قَالُواْ مَآ أَنتُمۡ إِلَّا بَشَرٞ مِّثۡلُنَا وَمَآ أَنزَلَ ٱلرَّحۡمَٰنُ مِن شَيۡءٍ إِنۡ أَنتُمۡ إِلَّا تَكۡذِبُونَ (سورۃ یٰس ۔ آیت 15)

آیتِ کریمہ کے مطابق رسولوں کی دعوت پر بستی والوں نے کس ردعمل کا اظہار کیا؟

بستی والوں نے رسولوں کی دعوت کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے تین باتیں کہیں:

1 تم بھی ہماری ہی طرح ایک انسان ہو، (لہٰذا تمھیں ہم پر کوئی فوقیت حاصل نہیں)۔
2 رحمن نے (تم پر) کوئی چیز نازل نہیں کی۔
3 تم محض جھوٹ بولتے ہو۔
3 مختصر جوابات

لَئِن لَّمۡ تَنتَهُواْ لَنَرۡجُمَنَّكُمۡ وَلَيَمَسَّنَّكُم مِّنَّا عَذَابٌ أَلِيمٞ (سورۃ یٰس ۔ آیت 18 (آخری حصہ))

آیتِ کریمہ کے مطابق بستی والوں نے رسولوں کے ساتھ کیا گستاخی کی؟

1 انہوں نے رسولوں کو دھمکی دی کہ اگر تم دعوت و تبلیغ سے باز نہ آئے تو ہم تمھیں سنگسار کر دیں گے، یعنی پتھر مار مار کر ہلاک کر دیں گے۔
2 مزید کہا کہ ہماری طرف سے تمھیں ضرور دردناک عذاب (سخت سزا) پہنچے گا۔
4 مختصر جوابات

وَٱلۡقَمَرَ قَدَّرۡنَٰهُ مَنَازِلَ حَتَّىٰ عَادَ كَٱلۡعُرۡجُونِ ٱلۡقَدِيمِ (سورۃ یٰس ۔ آیت 39)

آیتِ کریمہ میں چاند کے بارے میں کیا حقیقت بیان کی گئی ہے؟

1 اللہ تعالیٰ نے چاند کے لیے منزلیں مقرر فرما دی ہیں، جن سے گزرتا ہوا وہ ہر رات ایک نئی شکل اختیار کرتا ہے۔
2 ان منزلوں سے گزرتے ہوئے آخر میں وہ کھجور کی پرانی اور سوکھی شاخ کی طرح باریک اور ٹیڑھا ہو جاتا ہے۔
3 یہ باقاعدہ نظام اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانی ہے، اور اسی سے انسان مہینوں اور تاریخوں کا حساب معلوم کرتا ہے۔
5 مختصر جوابات

لَا ٱلشَّمۡسُ يَنۢبَغِي لَهَآ أَن تُدۡرِكَ ٱلۡقَمَرَ وَلَا ٱلَّيۡلُ سَابِقُ ٱلنَّهَارِۚ وَكُلّٞ فِي فَلَكٖ يَسۡبَحُونَ (سورۃ یٰس ۔ آیت 40)

آیتِ کریمہ میں نظامِ فلکی کو کس طرح بیان کیا گیا ہے؟

آیتِ کریمہ کے مطابق نظامِ فلکی انتہائی باقاعدہ اور منظم ہے:

1 نہ سورج کی یہ مجال ہے کہ وہ (اپنا مدار چھوڑ کر) چاند کو جا پکڑے۔
2 اور نہ رات دن سے آگے نکل سکتی ہے؛ ہر ایک اپنے مقررہ وقت پر آتا اور جاتا ہے۔
3 تمام اجرامِ فلکی اپنے اپنے مدار (Orbit) میں تیرتے چلے جا رہے ہیں، جو اللہ تعالیٰ کی حکمت اور کامل تدبیر کا ثبوت ہے۔

تفصیلی جوابات

6 تفصیلی جوابات

وَجَعَلۡنَا مِنۢ بَيۡنِ أَيۡدِيهِمۡ سَدّٗا وَمِنۡ خَلۡفِهِمۡ سَدّٗا فَأَغۡشَيۡنَٰهُمۡ فَهُمۡ لَا يُبۡصِرُونَ (سورۃ یٰس ۔ آیت 9)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت تحریر کریں۔

ترجمہ

"اور ہم نے ایک دیوار ان کے آگے بنا دی اور ایک دیوار ان کے پیچھے، پھر ہم نے ان (کی آنکھوں) کو ڈھانک دیا، سو وہ دیکھ نہیں سکتے۔"

اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے کافروں کے حسی اور معنوی (ظاہری اور روحانی) اندھے پن کو بیان فرمایا ہے۔ "دیوار" اور "آنکھوں پر پردہ" کے دو مفہوم مفسرین نے بیان کیے ہیں:

1 حفاظتِ الٰہی کا استعارہ (حسی مفہوم) — اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ اور سچے مومنوں کی حفاظت کے لیے کافروں کے آگے اور پیچھے ایسی غیبی رکاوٹ کھڑی کر دی کہ وہ اپنے برے ارادوں کے باوجود کچھ نہ کر سکے۔
2 حفاظتِ الٰہی کا استعارہ (حسی مفہوم) — یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جب اللہ کسی کی حفاظت کا فیصلہ فرما لے تو دشمن کی تمام تدبیریں بے کار ہو جاتی ہیں۔
3 گمراہی اور ہٹ دھرمی (معنوی و روحانی مفہوم) — دماغی اور قلبی اندھا پن — "دیوار" اور "پردے" سے مراد ان کی اپنی ضد، انا اور تکبر ہے۔ جب انسان حق کو قبول کرنے سے مسلسل انکار کرتا رہے تو اللہ کے قانون کے مطابق اس کے دل اور عقل پر مہر لگ جاتی ہے۔
4 گمراہی اور ہٹ دھرمی (معنوی و روحانی مفہوم) — عبرت سے محرومی — وہ نہ اپنے آگے یعنی آخرت کے عذاب کو دیکھ سکتے ہیں اور نہ اپنے پیچھے یعنی گزری ہوئی قوموں کی تباہی سے کوئی سبق حاصل کر سکتے ہیں۔
5 گمراہی اور ہٹ دھرمی (معنوی و روحانی مفہوم) — حق کی روشنی سامنے ہونے کے باوجود وہ بالکل اندھے بن چکے ہوتے ہیں۔
7 تفصیلی جوابات

وَجَآءَ مِنۡ أَقۡصَا ٱلۡمَدِينَةِ رَجُلٞ يَسۡعَىٰ قَالَ يَٰقَوۡمِ ٱتَّبِعُواْ ٱلۡمُرۡسَلِينَ ۝ ٱتَّبِعُواْ مَن لَّا يَسۡـَٔلُكُمۡ أَجۡرٗا وَهُم مُّهۡتَدُونَ ۝ وَمَالِيَ لَآ أَعۡبُدُ ٱلَّذِي فَطَرَنِي وَإِلَيۡهِ تُرۡجَعُونَ (سورۃ یٰس ۔ آیات 20 تا 22)

ان آیاتِ کریمہ کے مطابق شہر کے آخری کنارے سے آنے والے شخص نے اپنی قوم کو کیا دعوت دی؟

شہر کے دور دراز کنارے سے دوڑتا ہوا آنے والا شخص (حضرت حبیب نجارؒ) اپنی قوم کے سامنے درج ذیل نکات اور دلائل کے ساتھ دعوت لے کر آیا:

1 رسولوں کی اتباع کی دعوت — اس نے کہا: اے میری قوم! ان رسولوں کی پیروی کرو جو تمھارے پاس اللہ کا پیغام لے کر آئے ہیں۔
2 بے غرض رہنماؤں کی پہچان — ایسے لوگوں کی بات مانو جو تم سے اس ہدایت و تبلیغ کا کوئی معاوضہ یا اجرت نہیں مانگتے اور جو خود بھی ہدایت یافتہ ہیں۔
3 توحید کی عقلی دلیل — اس نے اپنے عمل سے قوم کو سمجھایا کہ "مجھے کیا ہوا ہے کہ میں اس ذات کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا؟"
4 آخرت کی یاد دہانی — اس نے قوم کو متوجہ کیا کہ تم سب کو مرنے کے بعد اسی اللہ کی طرف لوٹ کر جانا ہے، لہٰذا اسی ایک کی عبادت کرو۔
8 تفصیلی جوابات

ءَأَتَّخِذُ مِن دُونِهِۦٓ ءَالِهَةً إِن يُرِدۡنِ ٱلرَّحۡمَٰنُ بِضُرّٖ لَّا تُغۡنِ عَنِّي شَفَٰعَتُهُمۡ شَيۡـٔٗا وَلَا يُنقِذُونِ (سورۃ یٰس ۔ آیت 23)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت تحریر کریں۔

ترجمہ

"کیا میں اس (اللہ) کو چھوڑ کر ایسے معبود بنا لوں کہ اگر رحمن مجھے کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو نہ ان کی سفارش میرے کچھ کام آ سکے اور نہ وہ مجھے بچا سکیں؟"

اس آیت میں توحید (اللہ کی وحدانیت) کے بنیادی عقیدے کو دو زبردست عقلی دلیلوں کے ساتھ سمجھایا گیا ہے۔

1 بتوں اور جھوٹے معبودوں کی بے بسی — نفع و نقصان کا مالک صرف اللہ ہے — اگر اللہ تعالیٰ کسی انسان پر کوئی آزمائش یا تکلیف لانا چاہے تو دنیا کے تمام فرضی معبود، بت یا کوئی بھی ہستی اس تکلیف کو ٹال نہیں سکتی۔
2 بتوں اور جھوٹے معبودوں کی بے بسی — سفارش کی بے اثری — مشرکین کا گمان تھا کہ ان کے معبود اللہ کے ہاں سفارش کر کے انہیں بچا لیں گے۔ آیت نے واضح کر دیا کہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش نہیں کر سکتا، اور باطل معبودوں کی سفارش کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
3 نجات دلانے کی عدم صلاحیت — انسان مصیبت کے وقت اسی کو پکارتا ہے جو اسے بچا سکے، جبکہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہ سن سکتا ہے، نہ نفع دے سکتا ہے اور نہ مصیبت سے چھٹکارا دلا سکتا ہے۔
4 نجات دلانے کی عدم صلاحیت — اسی لیے اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کی عبادت کرنا سراسر بے وقوفی اور عقل کے خلاف ہے۔
9 تفصیلی جوابات

سورۃ یٰس کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔

جواب اس سوال کا جواب نصابی کتاب کے صفحہ نمبر 153 پر موجود ہے۔
10 تفصیلی جوابات

وَإِن نَّشَأۡ نُغۡرِقۡهُمۡ فَلَا صَرِيخَ لَهُمۡ وَلَا هُمۡ يُنقَذُونَ ۝ إِلَّا رَحۡمَةٗ مِّنَّا وَمَتَٰعًا إِلَىٰ حِينٖ (سورۃ یٰس ۔ آیات 43 اور 44)

آیاتِ کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت تحریر کریں۔

ترجمہ

"اور اگر ہم چاہیں تو انھیں غرق کر دیں، پھر نہ تو ان کا کوئی فریاد رس ہو اور نہ وہ بچائے جائیں۔ مگر ہماری طرف سے رحمت (ہی انہیں بچاتی ہے) اور ایک مقررہ وقت تک فائدہ اٹھانا (منظور ہوتا ہے)۔"

ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے سمندری سفر کی مثال دے کر انسان کی بے بسی اور اپنی رحمت و قدرت کا بیان فرمایا ہے۔

1 انسان کی بے بسی اور غرقابی کا خطرہ (آیت 43) — اللہ کا قادر اور قہار ہونا — انسان جب بڑی بڑی کشتیوں اور جہازوں میں سمندر کا سفر کرتا ہے تو اللہ اگر چاہے تو ایک ہی جھونکے یا لہر سے انہیں غرق کر سکتا ہے۔
2 انسان کی بے بسی اور غرقابی کا خطرہ (آیت 43) — کوئی فریاد رس نہ ہونا — اگر اللہ تعالیٰ کسی کو ڈبونے کا فیصلہ فرما لے تو سمندر کے بیچ نہ کوئی چیخ پکار سننے والا ہوتا ہے اور نہ دنیا کا کوئی جدید ترین ذریعہ یا طاقت انہیں ڈوبنے سے بچا سکتی ہے۔
3 اللہ کی رحمت اور مہلت (آیت 44) — اصل بچانے والی ذات — انسان جب کسی سمندری سفر یا بڑے حادثے سے صحیح سلامت نکلتا ہے تو یہ اس کی اپنی مہارت کا نتیجہ نہیں بلکہ اللہ کی خاص رحمت کا ثمر ہوتا ہے۔
4 اللہ کی رحمت اور مہلت (آیت 44) — زندگی کی مقررہ مہلت — دنیا میں بچ جانا اس بات کا ثبوت نہیں کہ انسان اللہ کی پکڑ سے باہر ہو گیا؛ اللہ تعالیٰ اسے ایک مقررہ وقت (موت یا قیامت) تک فائدہ اٹھانے کی مہلت دیتا ہے تاکہ وہ عقل سے کام لے اور شکر گزار بنے۔
11 تفصیلی جوابات

سورۃ یٰس کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔

جواب اس سوال کا جواب نصابی کتاب کے صفحہ نمبر 153 پر موجود ہے۔

سرگرمیاں برائے طلبہ

12 سرگرمیاں برائے طلبہ

سورۃ یٰس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں بیان کریں۔

سورۃ یٰس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی متعدد نشانیاں بیان کی گئی ہیں، جن سے ہم روزمرہ زندگی میں براہِ راست فائدہ اٹھاتے ہیں:

1 مردہ زمین کا زندہ ہونا — اللہ تعالیٰ بنجر اور خشک زمین پر بارش نازل فرما کر اس سے طرح طرح کے اناج، پھل (مثلاً کھجور اور انگور) اور باغات اگاتا ہے، جو انسانوں اور مویشیوں کی بنیادی خوراک بنتے ہیں۔
2 رات اور دن کا نظام — اللہ تعالیٰ نے دن کو روشنی اور روزگار کمانے کا وقت بنایا اور رات کو اندھیرا کر کے سکون و آرام کا ذریعہ بنایا۔ دونوں کا اپنے مقررہ وقت پر آنا جانا کائناتی توازن کی بہترین مثال ہے۔
3 سورج اور چاند کی حرکت — سورج کی روشنی اور حرارت سے کائنات کا نظام چلتا ہے، جبکہ چاند کی مختلف منزلوں (گھٹنے بڑھنے) سے ہم مہینوں اور تاریخوں کا حساب معلوم کرتے ہیں۔
4 سمندروں میں جہازوں کا تیرنا — اللہ تعالیٰ نے پانی میں یہ صلاحیت رکھی ہے کہ اس پر وزنی سے وزنی جہاز اور کشتیاں سفر کرتی ہیں، جس سے انسان تجارت اور نقل و حمل کا فائدہ اٹھاتا ہے۔
13 سرگرمیاں برائے طلبہ

سورۃ یٰس میں بستی والوں اور دین کے داعی (مومنِ آلِ یٰس) کا واقعہ درج ہے؛ اس کی تفصیل اور حاصل ہونے والے اسباق تحریر کریں۔

اللہ تعالیٰ نے ایک بستی (انطاکیہ) کی طرف اپنے تین رسول بھیجے۔ بستی والوں نے ان کی دعوت کا انکار کیا، انہیں نحس اور بدشگونی قرار دیا اور پتھروں سے مار ڈالنے کی دھمکی دی۔ اسی دوران شہر کے آخری کنارے سے ایک مومن شخص (حضرت حبیب نجارؒ) دوڑتا ہوا آیا اور اپنی قوم کو سمجھایا کہ "ان رسولوں کی پیروی کرو جو تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتے۔" قوم نے رسولوں کی حمایت کرنے پر اس مومن کو شہید کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے شہادت کے فوراً بعد جنت میں داخل فرما دیا، اور نافرمان بستی کو ایک ہولناک چیخ (آسمانی عذاب) کے ذریعے تباہ و برباد کر دیا۔

واقعہ کی تفصیل اور حاصل ہونے والے اسباق

1 حاصل ہونے والے اسباق — حق گوئی اور داعیانہ جذبہ — حق کی دعوت دینے میں کسی ملامت یا خطرے کی پروا نہیں کرنی چاہیے۔
2 حاصل ہونے والے اسباق — بے غرضی — دین کا کام اور رہنمائی بے لوث اور کسی دنیاوی غرض کے بغیر ہونی چاہیے۔
3 حاصل ہونے والے اسباق — انکارِ حق کا انجام — انبیاء اور ان کے پیغام کو جھٹلانے والی قومیں بالآخر اللہ کے عذاب کی مستحق بنتی ہیں۔
4 حاصل ہونے والے اسباق — مومن کی کامیابی — اللہ کی راہ میں جان قربان کرنے والے کا اصل مقام اور انعام آخرت (جنت) ہے۔
14 سرگرمیاں برائے طلبہ

نظامِ شمسی کے حوالے سے سورج اور چاند کے فوائد تحریر کریں۔

سورج کے فوائد (Sun) اور چاند کے فوائد (Moon)

1 سورج کے فوائد (Sun) — زمین پر روشنی اور توانائی کا بنیادی ذریعہ ہے۔
2 سورج کے فوائد (Sun) — پودوں میں ضیائی تالیف (Photosynthesis) کے لیے ضروری ہے، جس سے ہمیں آکسیجن حاصل ہوتی ہے۔
3 سورج کے فوائد (Sun) — موسموں کی تبدیلی اور پانی کے نظام (Water Cycle) کو برقرار رکھتا ہے۔
4 چاند کے فوائد (Moon) — چاند کی منزلوں سے ہجری/قمری تقویم (کیلنڈر) اور اسلامی عبادات (رمضان، عید، حج) کی تاریخوں کا تعین ہوتا ہے۔
5 چاند کے فوائد (Moon) — سمندروں میں مدوجزر (جوار بھاٹا) پیدا کرتا ہے، جو آبی حیات اور سمندری نظام کے لیے مفید ہے۔
6 چاند کے فوائد (Moon) — رات کی تاریکی میں نرم اور مائل بہ سفید روشنی فراہم کرتا ہے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.