نویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 24: سبق 24: سورۃ یٰسٓ (حصہ دوم) — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں برائے طلبہ · 16 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

قَالُواْ يَٰوَيۡلَنَا مَنۢ بَعَثَنَا مِن مَّرۡقَدِنَاۜۗ هَٰذَا مَا وَعَدَ ٱلرَّحۡمَٰنُ وَصَدَقَ ٱلۡمُرۡسَلُونَ (سورۃ یٰسٓ ۔ آیت 52)

آیتِ کریمہ میں گمراہ لوگوں کی فریاد اور اس کا کیا جواب دیا گیا؟

1 گمراہ لوگوں کی فریاد — قیامت کے دن قبروں سے اٹھائے جانے پر کافر و گمراہ لوگ حسرت و افسوس سے پکار اٹھیں گے: "ہائے ہماری کم بختی! ہمیں ہماری خواب گاہوں (قبروں) سے کس نے اٹھا دیا؟"
2 انہیں دیا جانے والا جواب — انہیں جواب دیا جائے گا (یا وہ خود اعتراف کریں گے): "یہ وہی (قیامت کا دن) ہے جس کا رحمٰن نے وعدہ فرمایا تھا اور رسولوں نے سچ کہا تھا۔"
2 مختصر جوابات

وَذَلَّلۡنَٰهَا لَهُمۡ فَمِنۡهَا رَكُوبُهُمۡ وَمِنۡهَا يَأۡكُلُونَ ۝ وَلَهُمۡ فِيهَا مَنَٰفِعُ وَمَشَارِبُۚ أَفَلَا يَشۡكُرُونَ (سورۃ یٰسٓ ۔ آیات 72 تا 73)

آیاتِ کریمہ میں مویشیوں کے کیا فوائد بیان ہوئے ہیں؟

آیاتِ کریمہ کی روشنی میں مویشیوں کے درج ذیل فوائد بیان کیے گئے ہیں:

1 سواری — انسان ان پر سواری کرتے ہیں اور ان پر بوجھ لدواتے ہیں۔
2 خوراک (گوشت) — انسان ان کا گوشت کھاتے ہیں۔
3 دیگر منافع — ان کی اون، کھال اور بالوں وغیرہ سے مختلف فائدے حاصل کیے جاتے ہیں۔
4 مشروبات (دودھ) — ان کا دودھ پیا جاتا ہے۔
3 مختصر جوابات

فَلَا يَحۡزُنكَ قَوۡلُهُمۡۘ إِنَّا نَعۡلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعۡلِنُونَ (سورۃ یٰسٓ ۔ آیت 76)

آیتِ کریمہ کی رو سے اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو کیا تسلی دی؟

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ:

1 مشرکین و منکرین کی جھوٹی، طعنہ زنی اور تکذیب والی باتیں آپ ﷺ کو غمگین نہ کریں۔
2 یقیناً اللہ تعالیٰ ان کی وہ تمام باتیں خوب جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں، اور وہ ان کی ہر حرکت کا حساب لے گا۔
4 مختصر جوابات

أَوَلَمۡ يَرَ ٱلۡإِنسَٰنُ أَنَّا خَلَقۡنَٰهُ مِن نُّطۡفَةٖ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٞ مُّبِينٞ (سورۃ یٰسٓ ۔ آیت 77)

آیتِ کریمہ میں انسان کے بارے میں کیا خبر دی گئی ہے؟

اس آیتِ کریمہ میں انسان کو اس کی اپنی حقیقت یاد دلائی گئی ہے:

1 انسان کی اصل پیدائش نطفے یعنی ایک حقیر قطرے سے کی گئی ہے۔
2 اس کے باوجود وہ اپنے خالق کے مقابلے میں صریح اور کھلم کھلا جھگڑالو بن بیٹھتا ہے۔
5 مختصر جوابات

قُلۡ يُحۡيِيهَا ٱلَّذِيٓ أَنشَأَهَآ أَوَّلَ مَرَّةٖۖ وَهُوَ بِكُلِّ خَلۡقٍ عَلِيمٌ (سورۃ یٰسٓ ۔ آیت 79)

آیتِ کریمہ میں منکرینِ آخرت کے اعتراض کا کیا جواب دیا گیا؟

1 اعتراض — منکرینِ آخرت (کفار) کہتے تھے کہ جب ہڈیاں بوسیدہ ہو کر گل سڑ جائیں گی تو انہیں دوبارہ کون زندہ کرے گا؟
2 جواب — اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ ﷺ فرما دیجیے: "ان ہڈیوں کو وہی دوبارہ زندہ کرے گا جس نے انہیں پہلی بار پیدا کیا تھا، اور وہ ہر طرح کی تخلیق کا پورا علم رکھنے والا ہے۔"

تفصیلی جوابات

6 تفصیلی جوابات

أَلَمۡ أَعۡهَدۡ إِلَيۡكُمۡ يَٰبَنِيٓ ءَادَمَ أَن لَّا تَعۡبُدُواْ ٱلشَّيۡطَٰنَۖ إِنَّهُۥ لَكُمۡ عَدُوّٞ مُّبِينٞ (سورۃ یٰسٓ ۔ آیت 60)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت تحریر کریں۔

ترجمہ

"اے اولادِ آدم! کیا میں نے تم سے عہد (پختہ اقرار) نہ لیا تھا کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرنا، بے شک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے؟"

اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مجرموں کو وہ عہد یاد دلائے گا جو دنیا میں ان سے لیا گیا تھا۔ آیت کے تین بنیادی اجزاء الگ الگ سمجھنے کے قابل ہیں۔

1 "عہد" (اقرار و معاہدہ) سے کیا مراد ہے؟ — اللہ تعالیٰ کا انسانوں سے شیطان کی پیروی نہ کرنے کا عہد دو طریقوں سے ثابت ہے:
2 "عہد" (اقرار و معاہدہ) سے کیا مراد ہے؟ — عہدِ الست (روحانی عہد) — تخلیقِ انسانی کے وقت تمام روحوں سے اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید کا اقرار لیا تھا، اور فطرتِ انسانی میں خیر و شر کی تمیز رکھ دی تھی۔
3 "عہد" (اقرار و معاہدہ) سے کیا مراد ہے؟ — انبیاء اور کتب کے ذریعے تنبیہ — اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء علیہم السلام اور آسمانی کتابوں کے ذریعے انسانوں تک یہ پیغام مسلسل پہنچایا کہ شیطان سے بچ کر رہنا ہے۔
4 "شیطان کی عبادت" سے کیا مراد ہے؟ — یہاں شیطان کی عبادت سے مراد صرف یہ نہیں کہ کوئی بت کی طرح شیطان کی پوجا پاٹ کرے، بلکہ:
5 "شیطان کی عبادت" سے کیا مراد ہے؟ — شیطان کی اطاعت — اللہ کے حکم کو چھوڑ کر شیطان کی بتائی ہوئی راہ، برائی، گناہ اور نفسانی خواہشات کی پیروی کرنا ہی دراصل "شیطان کی عبادت" ہے۔
6 "شیطان کی عبادت" سے کیا مراد ہے؟ — جو شخص اللہ کی نافرمانی کر کے شیطانی راستے پر چلتا ہے، وہ عملی طور پر شیطان ہی کی پیروی کر رہا ہوتا ہے۔
7 "عَدُوّٞ مُّبِينٞ" (کھلا دشمن) — شیطان انسان کا قدیم اور کھلا دشمن ہے۔ اس نے حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام کو بھی جنت سے نکلوانے کی کوشش کی تھی۔
8 "عَدُوّٞ مُّبِينٞ" (کھلا دشمن) — اس کی دشمنی خفیہ نہیں بلکہ ظاہر ہے، کیونکہ اس کا ایک ہی مقصد ہے: انسانوں کو اللہ کی راہ سے بھٹکا کر اپنے ساتھ جہنم کا ایندھن بنانا۔
7 تفصیلی جوابات

ٱلۡيَوۡمَ نَخۡتِمُ عَلَىٰٓ أَفۡوَٰهِهِمۡ وَتُكَلِّمُنَآ أَيۡدِيهِمۡ وَتَشۡهَدُ أَرۡجُلُهُم بِمَا كَانُواْ يَكۡسِبُونَ (سورۃ یٰسٓ ۔ آیت 65)

آیتِ کریمہ کی رو سے قیامت کے دن منہ کے علاوہ جسم کے کون سے دیگر اعضاء گواہی دیں گے؟

آیتِ کریمہ کی رو سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کافروں اور مجرموں کے منہ پر مہر لگا دے گا تاکہ وہ بول نہ سکیں۔ اس کے بعد ان کے جسم کے درج ذیل اعضاء گواہی دیں گے:

1 ہاتھ — ان کے ہاتھ اللہ تعالیٰ سے بات کریں گے۔
2 پاؤں — ان کے پاؤں ان تمام اعمال و گناہوں کی گواہی دیں گے جو وہ دنیا میں کرتے رہے تھے۔
8 تفصیلی جوابات

وَلَوۡ نَشَآءُ لَمَسَخۡنَٰهُمۡ عَلَىٰ مَكَانَتِهِمۡ فَمَا ٱسۡتَطَٰعُواْ مُضِيّٗا وَلَا يَرۡجِعُونَ (سورۃ یٰسٓ ۔ آیت 67)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت تحریر کریں۔

ترجمہ

"اور اگر ہم چاہتے تو ان کی جگہ ہی پر ان کی صورتیں مسخ کر دیتے، پھر نہ وہ آگے بڑھ سکتے اور نہ ہی پیچھے لوٹ سکتے۔"

وضاحت اور اللہ کا حلم اور مہلت

1 "صورتیں مسخ کرنا" (تغییرِ صورت) سے کیا مراد ہے؟ — لغوی معنی — "مسخ" کا مطلب کسی چیز کی اصلی صورت اور حالت کو بگاڑ کر بدصورت یا بے جان بنا دینا ہے۔
2 "صورتیں مسخ کرنا" (تغییرِ صورت) سے کیا مراد ہے؟ — مراد — اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر وہ چاہے تو گنہگاروں اور سرکشوں کو اسی وقت اور اسی جگہ — جہاں وہ گناہ یا کفر کر رہے ہوں — پتھر، مجسمے یا بے جان اشیاء میں تبدیل کر دے، یا ان کی شکلیں بگاڑ دے۔
3 حرکت کی صلاحیت کا ختم ہو جانا — بے بسی کا عالم — جب انسان کی صورت مسخ ہو جائے یا وہ جامد ہو جائے، تو نہ اس میں اتنی طاقت رہتی ہے کہ آگے بڑھ کر عذاب سے بھاگ سکے، اور نہ یہ ممکن رہتا ہے کہ وہ پیچھے لوٹ کر اپنی پہلی حالت یا دنیاوی زندگی میں واپس آ سکے۔
4 حرکت کی صلاحیت کا ختم ہو جانا — یہ انسان کے اس غرور اور زعم کا توڑ ہے جس میں وہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی مرضی کا مالک ہے اور اللہ کے عذاب سے بچ کر بھاگ سکتا ہے۔
جواب اگرچہ اللہ تعالیٰ ہر لمحہ اس بات پر قادر ہے کہ انسان کو اس کے گناہوں پر فوراً مسخ کر دے، لیکن یہ اس کا رحم اور حلم ہے کہ وہ فوری سزا نہیں دیتا بلکہ توبہ اور سدھرنے کی مہلت عطا فرماتا ہے۔
9 تفصیلی جوابات

ٱلَّذِي جَعَلَ لَكُم مِّنَ ٱلشَّجَرِ ٱلۡأَخۡضَرِ نَارٗا فَإِذَآ أَنتُم مِّنۡهُ تُوقِدُونَ (سورۃ یٰسٓ ۔ آیت 80)

آیتِ کریمہ میں مذکور اللہ تعالیٰ کی نعمت اور اس کا فائدہ تحریر کریں۔

1 نعمت — اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے سبز اور تر درختوں سے آگ پیدا کرنے کی عظیم قدرت اور نعمت کا ذکر فرمایا ہے۔
2 فائدہ: انسان اس نعمت سے درج ذیل فائدے حاصل کرتا ہے:
3 انسان ان درختوں اور ان کی لکڑیوں کے ذریعے آگ سلگاتے اور جلاتے ہیں۔
4 یہ قدرتِ الٰہی کی عظیم نشانی ہے کہ وہ بالکل تر اور سبز درخت سے خشک آگ پیدا کر دیتا ہے، جو انسانوں کو توانائی، روشنی اور کھانا پکانے میں کام آتی ہے۔
10 تفصیلی جوابات

أَوَلَيۡسَ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ بِقَٰدِرٍ عَلَىٰٓ أَن يَخۡلُقَ مِثۡلَهُمۚ بَلَىٰ وَهُوَ ٱلۡخَلَّـٰقُ ٱلۡعَلِيمُ (سورۃ یٰسٓ ۔ آیت 81)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت تحریر کریں۔

ترجمہ

"کیا وہ ذات جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اس بات پر قادر نہیں کہ ان جیسوں کو دوبارہ پیدا کر دے؟ کیوں نہیں! اور وہی سب کچھ پیدا کرنے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔"

وضاحت

1 بڑی اور پیچیدہ مخلوق کی پیدائش سے دلیل (عقلِ انسانی کو دعوت) — آسمانوں اور زمین کی وسعت — انسان کے مقابلے میں یہ وسیع و عریض آسمان، ستارے، سیارے اور زمین کی تخلیق کہیں زیادہ بڑی، پیچیدہ اور حیران کن ہے۔
2 بڑی اور پیچیدہ مخلوق کی پیدائش سے دلیل (عقلِ انسانی کو دعوت) — منطقی نتیجہ — جو ذات اتنی عظیم کائنات کو پہلی بار بغیر کسی نمونے کے عدم سے وجود میں لا سکتی ہے، اس کے لیے ایک چھوٹے سے انسان کو دوسری بار پیدا کرنا کون سا مشکل کام ہے؟
3 بڑی اور پیچیدہ مخلوق کی پیدائش سے دلیل (عقلِ انسانی کو دعوت) — انسان کو پہلی بار بنانا زیادہ بڑا کام تھا، جبکہ دوبارہ بنانا عقلی طور پر اس سے بھی زیادہ آسان ہونا چاہیے۔
4 "بَلَىٰ" (کیوں نہیں!) — اللہ کا اپنا جواب — آیت میں اللہ تعالیٰ خود ہی اس سوال کا جواب "بَلَىٰ" (کیوں نہیں!) سے دیتا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ ہر حال میں اس پر پوری طرح قادر ہے اور کوئی طاقت اسے ایسا کرنے سے روک نہیں سکتی۔
5 "ٱلۡخَلَّـٰقُ" اور "ٱلۡعَلِيمُ" — اللہ کی دو صفات — الخلّاق (سب کچھ پیدا کرنے والا) — اللہ تعالیٰ صرف ایک بار پیدا کرنے والا نہیں، بلکہ وہ مسلسل اور ہر قسم کی تخلیق پر قادر ہے۔
6 "ٱلۡخَلَّـٰقُ" اور "ٱلۡعَلِيمُ" — اللہ کی دو صفات — العلیم (سب کچھ جاننے والا) — وہ جانتا ہے کہ انسان کی مٹی کہاں کہاں بکھری ہے، اس کا کون سا ذرہ کہاں گیا ہے، اور اسے کیسے دوبارہ اکٹھا کر کے پہلے جیسا انسان بنانا ہے۔
11 تفصیلی جوابات

إِنَّمَآ أَمۡرُهُۥٓ إِذَآ أَرَادَ شَيۡـًٔا أَن يَقُولَ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ (سورۃ یٰسٓ ۔ آیت 82)

آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی کیا شان بیان فرمائی گئی ہے؟

اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی کاملِ قدرت اور مطلق اختیار کی شان بیان کی گئی ہے:

1 اللہ تعالیٰ کو کسی بھی چیز کو پیدا کرنے کے لیے کسی آلے، وقت، محنت یا مادے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
2 جب وہ کسی چیز کی تخلیق یا کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کی شان بس یہ ہے کہ اسے فرماتا ہے "كُن" (ہو جا)، تو وہ چیز اسی وقت "فَيَكُونُ" (ہو جاتی ہے)۔

سرگرمیاں برائے طلبہ

12 سرگرمیاں برائے طلبہ

زبان، ہاتھ اور پاؤں سے سرزد ہونے والے گناہوں کی فہرست تیار کریں اور ان سے بچنے کی کوشش کریں۔

بچنے کا طریقہ

1 زبان سے سرزد ہونے والے گناہ — جھوٹ بولنا، غیبت کرنا، چغلی کھانا، گالی گلوچ کرنا، بہتان لگانا اور بلاضرورت فضول باتیں کرنا۔
2 ہاتھ سے سرزد ہونے والے گناہ — چوری کرنا، کسی پر ظلم یا تشدد کرنا، ناجائز قبضہ کرنا اور دوسروں کو اذیت پہنچانا۔
3 پاؤں سے سرزد ہونے والے گناہ — گناہ اور برائی کی محفلوں کی طرف چل کر جانا، کسی پر ظلم کرنے کے لیے قدم اٹھانا اور حقوق العباد پامال کرنے کے لیے جانا۔
جواب ان اعضاء کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت، ذکرِ الٰہی، نیکی کی راہ میں چلنے اور مخلوقِ خدا کی خدمت میں استعمال کیا جائے، کیونکہ قیامت کے دن یہی اعضاء انسان کے خلاف یا اس کے حق میں گواہی دیں گے۔
13 سرگرمیاں برائے طلبہ

احادیثِ مبارکہ کی مدد سے مومنین اور کافروں کے ساتھ قبر میں پیش آنے والے احوال پر مذاکرہ کریں۔

جب میت کو قبر میں دفن کر کے لوگ واپس لوٹتے ہیں تو حدیث کے مطابق میت ان کے جوتوں کی آواز سنتی ہے۔ اس کے بعد منکر اور نکیر نامی دو فرشتے نہایت ہیبت ناک صورت میں آتے ہیں اور میت کو بٹھا کر تین بنیادی سوالات کرتے ہیں:

1 قبر کے تین بنیادی سوالات — مَنْ رَبُّکَ؟ — تیرا رب کون ہے؟
2 قبر کے تین بنیادی سوالات — مَا دِیْنُکَ؟ — تیرا دین کیا ہے؟
3 قبر کے تین بنیادی سوالات — مَا هٰذَا الرَّجُلُ الَّذِیْ بُعِثَ فِیْکُمْ؟ — اس ہستی (نبی کریم ﷺ) کے بارے میں تو کیا کہتا ہے؟
4 مومن کے ساتھ قبر کا معاملہ — نبی کریم ﷺ کے ارشادات کے مطابق جو انسان دنیا میں سچا مومن، متقی اور نیک اعمال کرنے والا ہوگا، اس کے ساتھ یہ معاملہ ہوگا:
5 مومن کے ساتھ قبر کا معاملہ — سوالات کے جوابات — وہ اللہ کی توفیق سے فوراً صحیح جواب دے گا: "میرا رب اللہ ہے"، "میرا دین اسلام ہے"، "یہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔"
6 مومن کے ساتھ قبر کا معاملہ — منادی کا اعلان — آسمان سے ندا دینے والا فرمائے گا: "میرے بندے نے سچ کہا، اس کے لیے جنت کا بستر بچھا دو، اسے جنت کا لباس پہنا دو اور اس کے لیے جنت کی طرف ایک دروازہ کھول دو۔"
7 مومن کے ساتھ قبر کا معاملہ — جنت کی نعمتیں — جنت سے خوشبودار اور ٹھنڈی ہوائیں آنے لگیں گی۔
8 مومن کے ساتھ قبر کا معاملہ — قبر کی کشادگی — اس کی قبر کو حدِ نگاہ تک وسیع اور روشن کر دیا جائے گا۔
9 مومن کے ساتھ قبر کا معاملہ — نیک اعمال کی صورت — اس کے سامنے اس کے نیک اعمال (نماز، روزے، صدقہ) ایک خوبصورت اور خوشبودار انسان کی شکل میں آئیں گے، جو اسے قیامت تک کی تنگی اور خوف سے محفوظ رکھیں گے۔ مومن کہے گا: "اے رب! قیامت جلد قائم کر تاکہ میں اپنے گھر والوں اور نعمتوں سے مل سکوں۔"
10 کافر و منافق کے ساتھ قبر کا معاملہ — جو انسان دنیا میں کافر، مشرک یا منافق ہوگا اور اس نے کفر و گناہ کی زندگی گزاری ہوگی، اس کے ساتھ یہ معاملہ ہوگا:
11 کافر و منافق کے ساتھ قبر کا معاملہ — سوالات میں ناکامی — وہ فرشتوں کے سوالات کے جواب میں کہے گا: "هَاهْ هَاهْ لَا اَدْرِیْ" (ہائے افسوس! میں کچھ نہیں جانتا، میں تو وہی کہتا تھا جو لوگوں کو کہتے سنتا تھا)۔
12 کافر و منافق کے ساتھ قبر کا معاملہ — منادی کا اعلان — آسمان سے آواز آئے گی: "اس نے جھوٹ کہا، اس کے لیے آگ کا بستر بچھا دو، اسے آگ کا لباس پہنا دو اور اس کے لیے جہنم کا ایک دروازہ کھول دو۔"
13 کافر و منافق کے ساتھ قبر کا معاملہ — جہنم کا عذاب — جہنم کی سخت گرمی اور دم گھونٹنے والی ہوائیں اس تک پہنچیں گی۔
14 کافر و منافق کے ساتھ قبر کا معاملہ — قبر کا تنگ ہو جانا — اس کی قبر اس پر اتنی تنگ کر دی جائے گی کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں پیوست ہو جائیں گی۔
15 کافر و منافق کے ساتھ قبر کا معاملہ — فرشتوں کی مار اور برے اعمال کی صورت — اس پر لوہے کے گرز سے مار پڑے گی، جس کی چیخ و پکار انسانوں اور جنّوں کے سوا تمام مخلوقات سنتی ہیں۔ اس کے برے اعمال بدصورت اور بدبودار شکل میں اس کے سامنے آئیں گے۔ کافر کہے گا: "اے رب! قیامت قائم نہ کرنا۔"
14 سرگرمیاں برائے طلبہ

سَلَٰمٞ قَوۡلٗا مِّن رَّبّٖ رَّحِيمٖ (سورۃ یٰسٓ ۔ آیت 58)

سورۃ یٰسٓ میں «سَلَٰمٞ قَوۡلٗا مِّن رَّبّٖ رَّحِيمٖ» کا ذکر ہے؛ قرآنِ حکیم کے مزید مقامات تلاش کریں جہاں فرشتوں کے سلام کا ذکر ہو۔

قرآنِ مجید میں کئی مقامات پر فرشتوں کی طرف سے اہلِ ایمان یا جنت میں داخل ہونے والوں کو "سلام" پیش کرنے کا ذکر موجود ہے۔ ان میں سے چند مشہور اور واضح مقامات درج ذیل ہیں:

1 سورۃ الرعد (آیات 23 تا 24) — اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ فرشتے جنت کے ہر دروازے سے اہلِ تقویٰ پر سلامتی بھیجتے ہوئے داخل ہوں گے:
2 سورۃ الرعد (آیات 23 تا 24) — وَٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ يَدۡخُلُونَ عَلَيۡهِم مِّن كُلِّ بَابٖ ۝ سَلَٰمٌ عَلَيۡكُم بِمَا صَبَرۡتُمۡۚ فَنِعۡمَ عُقۡبَى ٱلدَّارِترجمہ: "اور فرشتے ہر دروازے سے ان کے پاس آئیں گے (اور کہیں گے) تم پر سلامتی ہو اس صبر کے بدلے جو تم نے کیا؛ پس آخرت کا یہ گھر کیا ہی خوب ہے!" (سورۃ الرعد ۔ آیات 23 تا 24)
3 سورۃ الزمر (آیت 73) — جب متقی لوگ گروہ در گروہ جنت میں لائے جائیں گے اور اس کے دروازے ان کے لیے کھول دیے جائیں گے:
4 سورۃ الزمر (آیت 73) — وَقَالَ لَهُمۡ خَزَنَتُهَا سَلَٰمٌ عَلَيۡكُمۡ طِبۡتُمۡ فَٱدۡخُلُوهَا خَٰلِدِينَترجمہ: "اور اس کے نگہبان (فرشتے) ان سے کہیں گے: تم پر سلامتی ہو! تم پاکیزہ رہے، پس اس میں ہمیشہ رہنے کے لیے داخل ہو جاؤ۔" (سورۃ الزمر ۔ آیت 73 — آخری حصہ)
5 سورۃ النحل (آیت 32) — ان لوگوں کا ذکر جن کی روحیں فرشتے پاکیزہ حالت میں قبض کرتے ہیں:
جواب ٱلَّذِينَ تَتَوَفَّىٰهُمُ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ طَيِّبِينَ يَقُولُونَ سَلَٰمٌ عَلَيۡكُمُ ٱدۡخُلُواْ ٱلۡجَنَّةَ بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَترجمہ: "جن کی روحیں فرشتے اس حال میں قبض کرتے ہیں کہ وہ پاکیزہ ہوتے ہیں، (فرشتے) کہتے ہیں: تم پر سلامتی ہو، اپنے اعمال کے بدلے جنت میں داخل ہو جاؤ۔" (سورۃ النحل ۔ آیت 32)
15 سرگرمیاں برائے طلبہ

نفخہ کا معنی و مفہوم اور اس کی اقسام کی وضاحت کریں۔

1 "نفخہ" کا معنی و مفہوم — لغوی معنی — "نفخہ" (النَّفْخَة) عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی "پھونکنا" یا "پھونک مارنا" کے ہیں۔
2 "نفخہ" کا معنی و مفہوم — اصطلاحی و شرعی مفہوم — اسلامی عقیدے اور قرآنی اصطلاح میں "نفخہ" سے مراد وہ "صور" (ایک عظیم الشان ہیبت ناک آواز یا بگل) ہے جسے اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت اسرافیل علیہ السلام قیامت کے موقع پر پھونکیں گے۔
3 "نفخہ" کا معنی و مفہوم — وَنُفِخَ فِي ٱلصُّورِ فَصَعِقَ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَن فِي ٱلۡأَرۡضِ إِلَّا مَن شَآءَ ٱللَّهُۖترجمہ: "اور صور پھونکا جائے گا تو جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں سب بے ہوش ہو جائیں گے، سوائے اس کے جسے اللہ چاہے۔" (سورۃ الزمر ۔ آیت 68 — ابتدائی حصہ)
4 نفخہ (صور) کی اقسام — معتبر تفاسیر اور علمائے کرام کی تحقیق کے مطابق قیامت کے برپا اور قائم ہونے میں دو بنیادی نفخے (صور پھونکنا) شامل ہیں:
5 (1) نفخۃ الصَّعَق / نفخۃ الفَزَع — ہلاکت اور فنا کا صور — وضاحت — جب دنیا کی زندگی اپنے اختتام کو پہنچے گی تو اللہ تعالیٰ حضرت اسرافیل علیہ السلام کو صور پھونکنے کا حکم دے گا۔
6 (1) نفخۃ الصَّعَق / نفخۃ الفَزَع — ہلاکت اور فنا کا صور — اثرات — اس کی آواز ابتدا میں ہلکی اور پھر اتنی سخت اور ہیبت ناک ہوگی کہ کائنات کا تمام نظام درہم برہم ہو جائے گا۔
7 (1) نفخۃ الصَّعَق / نفخۃ الفَزَع — ہلاکت اور فنا کا صور — پہاڑ روئی کی طرح اڑنے لگیں گے، آسمان پھٹ جائے گا، ستارے بکھر جائیں گے اور تمام انسان، جنّات اور دیگر مخلوقات خوف سے ہلاک ہو جائیں گی۔
8 (1) نفخۃ الصَّعَق / نفخۃ الفَزَع — ہلاکت اور فنا کا صور — صرف وہی ہستیاں باقی رہیں گی جنہیں اللہ تعالیٰ بچانا چاہے گا؛ اس کے بعد صرف اللہ تعالیٰ کی اکیلی اور یکتا ذات باقی رہے گی۔
9 (2) نفخۃ البعث / نفخۃ النشور — دوبارہ زندہ ہونے کا صور — وضاحت — ایک طویل عرصے کے بعد — حدیث کے مطابق پہلے اور دوسرے صور کے درمیان چالیس کا فاصلہ ہوگا، جس کی تعیین حدیث میں نہیں کی گئی — جب اللہ تعالیٰ چاہے گا تو حضرت اسرافیل علیہ السلام کو دوبارہ صور پھونکنے کا حکم فرمائے گا۔
10 (2) نفخۃ البعث / نفخۃ النشور — دوبارہ زندہ ہونے کا صور — مقصد — یہ صور تمام مخلوق کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے ہوگا۔
11 (2) نفخۃ البعث / نفخۃ النشور — دوبارہ زندہ ہونے کا صور — اثرات — اس کی آواز سنتے ہی تمام انسان اپنی اپنی قبروں سے زندہ ہو کر اٹھ کھڑے ہوں گے اور میدانِ محشر کی طرف دوڑنے لگیں گے۔
جواب ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخۡرَىٰ فَإِذَا هُمۡ قِيَامٞ يَنظُرُونَترجمہ: "پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو اچانک وہ سب کھڑے ہو کر دیکھنے لگیں گے۔" (سورۃ الزمر ۔ آیت 68 — آخری حصہ)
16 سرگرمیاں برائے طلبہ

أَن لَّا تَعۡبُدُواْ ٱلشَّيۡطَٰنَۖ إِنَّهُۥ لَكُمۡ عَدُوّٞ مُّبِينٞ (سورۃ یٰسٓ ۔ آیت 60 (آخری حصہ))

سورۃ یٰسٓ میں «أَن لَّا تَعۡبُدُواْ ٱلشَّيۡطَٰنَ» کا ذکر ہے؛ اس کا مفہوم بیان کریں۔

1 لفظی معنی — أَن لَّا تَعۡبُدُواْ — کہ تم عبادت نہ کرو / پیروی نہ کرو۔
2 لفظی معنی — ٱلشَّيۡطَٰنَ — شیطان کی — یعنی ابلیس اور اس کے راستے پر چلانے والوں کی۔
3 لفظی معنی — پورا ترجمہ — "کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرنا۔"
4 مفہوم اور تشریح — قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن انسانوں کو یاد دلائے گا کہ دنیا میں ان سے پختہ عہد لیا گیا تھا کہ وہ شیطان کی بات نہ مانیں اور اس کے راستے پر نہ چلیں۔ اس کے جامع مفہوم کو درج ذیل نکات سے سمجھا جا سکتا ہے:
5 (1) یہاں "عبادت" سے کیا مراد ہے؟ — عام طور پر لفظ "عبادت" سے مراد نماز، روزہ یا سجدہ کرنا سمجھا جاتا ہے، لیکن یہاں اس کا مفہوم "اطاعت اور پیروی کرنا" ہے:
6 (1) یہاں "عبادت" سے کیا مراد ہے؟ — شیطانی راستے کو اپنانا — اللہ تعالیٰ کے احکام کو توڑ کر شیطان کے بتائے ہوئے گناہوں، برائیوں اور نفسانی خواہشات کے پیچھے چلنا درحقیقت "شیطان کی عبادت" ہے۔
7 (1) یہاں "عبادت" سے کیا مراد ہے؟ — حرام کو حلال اور حلال کو حرام سمجھنا — اگر کوئی شخص اللہ کی شریعت کو چھوڑ کر شیطان کی دکھائی ہوئی ترغیبات کو اپنی زندگی کا اصول بنا لے، تو وہ عملی طور پر شیطان کو اپنا معبود بنا لیتا ہے۔
8 (2) شیطان کی عبادت سے منع کرنے کی وجوہات — پرانا اور کھلا دشمن (عَدُوّٞ مُّبِينٞ) — شیطان انسان کا سب سے بڑا اور قدیم دشمن ہے۔ اس نے حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام کو بھی وسوسے میں ڈال کر جنت سے نکلوانے کی کوشش کی تھی۔
9 (2) شیطان کی عبادت سے منع کرنے کی وجوہات — گمراہی اور ہلاکت کا راستہ — شیطان انسان کو نیکی کے راستے سے روکتا ہے اور فحاشی، بخل، جھوٹ، ظلم اور شرک کی طرف ترغیب دیتا ہے تاکہ اسے اپنے ساتھ جہنم کا ایندھن بنا سکے۔
10 (2) شیطان کی عبادت سے منع کرنے کی وجوہات — عہدِ الٰہی کی خلاف ورزی — اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام اور آسمانی کتابوں کے ذریعے تمام انسانوں کو بار بار خبردار کیا کہ شیطان کے دھوکے میں نہ آئیں؛ اس لیے اس کی بات ماننا اپنے رب سے کیے گئے وعدے کو توڑنے کے برابر ہے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.