إِنَّمَا يَخۡشَى ٱللَّهَ مِنۡ عِبَادِهِ ٱلۡعُلَمَـٰٓؤُاْۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ غَفُورٌ (سورۃ فاطر ۔ آیت 28 (آخری حصہ))
آیتِ کریمہ کے مطابق اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا حق کون ادا کرتے ہیں؟
نویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ
إِنَّمَا يَخۡشَى ٱللَّهَ مِنۡ عِبَادِهِ ٱلۡعُلَمَـٰٓؤُاْۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ غَفُورٌ (سورۃ فاطر ۔ آیت 28 (آخری حصہ))
آیتِ کریمہ کے مطابق اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا حق کون ادا کرتے ہیں؟
وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَهُمۡ نَارُ جَهَنَّمَ لَا يُقۡضَىٰ عَلَيۡهِمۡ فَيَمُوتُواْ وَلَا يُخَفَّفُ عَنۡهُم مِّنۡ عَذَابِهَاۚ كَذَٰلِكَ نَجۡزِي كُلَّ كَفُورٖ (سورۃ فاطر ۔ آیت 36)
آیتِ کریمہ میں اہلِ جہنم کی کیا کیفیات بیان ہوئی ہیں؟
آیتِ کریمہ میں کفار کے لیے جہنم کی آگ کا ذکر کرنے کے بعد اہلِ جہنم کی دو بنیادی کیفیات بیان کی گئی ہیں:
إِنَّ ٱللَّهَ يُمۡسِكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ أَن تَزُولَاۚ وَلَئِن زَالَتَآ إِنۡ أَمۡسَكَهُمَا مِنۡ أَحَدٖ مِّنۢ بَعۡدِهِۦٓۚ إِنَّهُۥ كَانَ حَلِيمًا غَفُورٗا (سورۃ فاطر ۔ آیت 41)
آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی کن صفات کا ذکر ہے؟
آیتِ کریمہ میں بتایا گیا ہے کہ آسمانوں اور زمین کو ٹل جانے سے اللہ تعالیٰ ہی تھامے ہوئے ہے، اور اگر وہ ٹل جائیں تو اللہ کے سوا کوئی اُنہیں تھام نہیں سکتا۔ آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ کی دو صفات کا ذکر ہے:
فَلَمَّا جَآءَهُمۡ نَذِيرٞ مَّا زَادَهُمۡ إِلَّا نُفُورًا (سورۃ فاطر ۔ آیت 42 (آخری حصہ))
ڈرانے والے کی آمد سے منکرین پر کیا اثر ہوا؟
وَلَوۡ يُـؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوۡا مَا تَرَكَ عَلٰى ظَهۡرِهَا مِنۡ دَآ بَّةٍ (سورۃ فاطر ۔ آیت 45)
آیتِ کریمہ میں لوگوں کو بُرے اعمال پر فوراً نہ پکڑنے کی کیا حکمت بیان ہوئی ہے؟
اِنَّ الَّذِيۡنَ يَتۡلُوۡنَ كِتٰبَ اللّٰهِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاَنۡفَقُوۡا مِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً يَّرۡجُوۡنَ تِجَارَةً لَّنۡ تَبُوۡرَۙ۔ (سورۃ فاطر ۔ آیات 29 تا 30)
آیاتِ کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت تحریر کریں۔
بے شک جو لوگ اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے اُنہیں رزق دیا ہے اُس میں سے پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرتے ہیں، وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو کبھی خسارے میں نہیں جائے گی۔ تاکہ اللہ اُنہیں اُن کے اجر پورے پورے دے اور اپنے فضل سے اُنہیں اور زیادہ عطا فرمائے؛ بے شک وہ بہت بخشنے والا، بڑا قدردان ہے۔
ان آیاتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے سچے مومنوں کے تین بنیادی اور جامع اعمال بیان فرمائے ہیں اور اُن کے اس عمل کو سب سے زیادہ نفع بخش اور ہمیشہ رہنے والی تجارت قرار دیا ہے۔
وَمِنَ ٱلۡجِبَالِ جُدَدُۢ بِيضٞ وَحُمۡرٞ مُّخۡتَلِفٌ أَلۡوَٰنُهَا وَغَرَابِيبُ سُودٞ (سورۃ فاطر ۔ آیت 27 (آخری حصہ))
آیتِ کریمہ میں پہاڑوں کی کون سی اقسام بیان ہوئی ہیں؟
آیتِ کریمہ میں قدرتِ الٰہی کی نشانی کے طور پر پہاڑوں کے مختلف رنگوں اور اقسام کا ذکر کیا گیا ہے:
جَنَّـٰتُ عَدۡنٖ يَدۡخُلُونَهَا يُحَلَّوۡنَ فِيهَا مِنۡ أَسَاوِرَ مِن ذَهَبٖ وَلُؤۡلُؤٗاۖ وَلِبَاسُهُمۡ فِيهَا حَرِيرٞ (سورۃ فاطر ۔ آیت 33)
آیتِ کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت تحریر کریں۔
(اُن کے لیے) ہمیشگی کے باغات ہیں جن میں وہ داخل ہوں گے، وہاں اُنہیں سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے، اور وہاں اُن کا لباس ریشم ہوگا۔
اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نیکوکار اور ایمان دار بندوں کے لیے جنت کی نعمتوں اور اُس کے بہترین ماحول کا نقشہ کھینچا ہے۔
وَقَالُواْ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ ٱلَّذِيٓ أَذۡهَبَ عَنَّا ٱلۡحَزَنَۖ إِنَّ رَبَّنَا لَغَفُورٞ شَكُورٌ (سورۃ فاطر ۔ آیت 34)
آیتِ کریمہ کی رو سے جنتی لوگ جنت میں داخلے کے وقت کیا کہیں گے؟
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہم سے غم کو دور کر دیا؛ بے شک ہمارا پروردگار یقیناً بہت بخشنے والا، بڑا قدردان ہے۔
جنتی لوگ جنت میں داخل ہوتے وقت اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہیں گے:
إِنَّ ٱللَّهَ عَٰلِمُ غَيۡبِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ إِنَّهُۥ عَلِيمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ (سورۃ فاطر ۔ آیت 38)
آیتِ کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت تحریر کریں۔
بے شک اللہ آسمانوں اور زمین کی غیب کی باتوں کو جاننے والا ہے؛ یقیناً وہ سینوں کی (پوشیدہ) باتوں کو بھی خوب جانتا ہے۔
اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی صفتِ علم یعنی تمام علوم پر کامل احاطے کو بیان فرمایا ہے۔
وَهُمۡ يَصۡطَرِخُونَ فِيهَا رَبَّنَآ أَخۡرِجۡنَا نَعۡمَلۡ صَٰلِحًا غَيۡرَ ٱلَّذِي كُنَّا نَعۡمَلُۚ (سورۃ فاطر ۔ آیت 37 (ابتدائی حصہ))
آیتِ کریمہ کے مطابق کفار جہنم میں کیا فریاد کریں گے؟
اے ہمارے پروردگار! ہمیں (یہاں سے) نکال لے، اب ہم نیک عمل کریں گے، اُن اعمال کے برعکس جو ہم پہلے کیا کرتے تھے۔
کفار جہنم کی سختی اور عذاب میں مبتلا ہو کر چیخ و پکار کریں گے اور اللہ تعالیٰ سے یہ فریاد کریں گے:
إِنَّ ٱلَّذِينَ يَتۡلُونَ كِتَٰبَ ٱللَّهِ وَأَقَامُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَأَنفَقُواْ مِمَّا رَزَقۡنَٰهُمۡ سِرّٗا وَعَلَانِيَةٗ يَرۡجُونَ تِجَٰرَةٗ لَّن تَبُورَ
سورۃ فاطر میں اللہ تعالیٰ نے کن اعمال کو کبھی ختم نہ ہونے والی تجارت قرار دیا ہے؟
سورۃ فاطر کی آیت 29 میں اللہ تعالیٰ نے درج ذیل تین اعمال کو ایسی تجارت قرار دیا ہے جو کبھی خسارے میں نہیں رہے گی:
ثُمَّ أَوۡرَثۡنَا ٱلۡكِتَٰبَ ٱلَّذِينَ ٱصۡطَفَيۡنَا مِنۡ عِبَادِنَاۖ فَمِنۡهُمۡ ظَالِمٞ لِّنَفۡسِهِۦ وَمِنۡهُم مُّقۡتَصِدٞ وَمِنۡهُمۡ سَابِقُۢ بِٱلۡخَيۡرَٰتِ بِإِذۡنِ ٱللَّهِۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلۡفَضۡلُ ٱلۡكَبِيرُ
سورۃ فاطر میں «کتابِ الٰہی کے وارث» بننے سے کیا مراد ہے؟
سورۃ فاطر کی آیت 32 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اُس نے قرآنِ مجید کو اپنے چیدہ اور منتخب بندوں کی وراثت بنایا ہے۔ کتاب کا وارث بننے سے مراد یہ ہے کہ امتِ مسلمہ کو آخری آسمانی کتاب کا محافظ اور حامل بنایا گیا ہے اور اُس کے احکام پر عمل پیرا ہونے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
کتاب کے وارثوں کی تین اقسام
فَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ ٱللَّهِ تَبۡدِيلٗاۖ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ ٱللَّهِ تَحۡوِيلًا
سورۃ فاطر کی روشنی میں «سنتِ الٰہی» کی وضاحت کریں۔
پس آپ اللہ کے طریقے (سنت) میں ہرگز کوئی تبدیلی نہیں پائیں گے، اور نہ ہی اللہ کے طریقے کو بدلا ہوا پائیں گے۔
سنتِ الٰہی سے مراد
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔