نویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 22: سبق 22: سورۃ فاطر (حصہ دوم) — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں برائے طلبہ · 14 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

إِنَّمَا يَخۡشَى ٱللَّهَ مِنۡ عِبَادِهِ ٱلۡعُلَمَـٰٓؤُاْۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ غَفُورٌ (سورۃ فاطر ۔ آیت 28 (آخری حصہ))

آیتِ کریمہ کے مطابق اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا حق کون ادا کرتے ہیں؟

جواب آیتِ کریمہ کے مطابق اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے اہلِ علم (علماء) ہی وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا حق ادا کرتے ہیں، کیونکہ وہی اللہ تعالیٰ کی عظمت، جلال اور قدرت کی حقیقی پہچان رکھتے ہیں۔ جس قدر معرفت زیادہ ہوگی، اُسی قدر خشیتِ الٰہی بھی زیادہ ہوگی۔
2 مختصر جوابات

وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَهُمۡ نَارُ جَهَنَّمَ لَا يُقۡضَىٰ عَلَيۡهِمۡ فَيَمُوتُواْ وَلَا يُخَفَّفُ عَنۡهُم مِّنۡ عَذَابِهَاۚ كَذَٰلِكَ نَجۡزِي كُلَّ كَفُورٖ (سورۃ فاطر ۔ آیت 36)

آیتِ کریمہ میں اہلِ جہنم کی کیا کیفیات بیان ہوئی ہیں؟

آیتِ کریمہ میں کفار کے لیے جہنم کی آگ کا ذکر کرنے کے بعد اہلِ جہنم کی دو بنیادی کیفیات بیان کی گئی ہیں:

1 موت نہ آنا — اُن کا قصہ تمام نہیں کیا جائے گا کہ وہ مر سکیں؛ یعنی عذاب سے چھٹکارا پانے کے لیے اُنہیں موت بھی نہیں آئے گی۔
2 عذاب میں کمی نہ ہونا — جہنم کے عذاب میں اُن کے لیے کوئی تخفیف (کمی) نہیں کی جائے گی۔
جواب آیت کے آخر میں فرمایا گیا کہ ہر ناشکرے کو ایسا ہی بدلہ دیا جاتا ہے۔
3 مختصر جوابات

إِنَّ ٱللَّهَ يُمۡسِكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ أَن تَزُولَاۚ وَلَئِن زَالَتَآ إِنۡ أَمۡسَكَهُمَا مِنۡ أَحَدٖ مِّنۢ بَعۡدِهِۦٓۚ إِنَّهُۥ كَانَ حَلِيمًا غَفُورٗا (سورۃ فاطر ۔ آیت 41)

آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی کن صفات کا ذکر ہے؟

آیتِ کریمہ میں بتایا گیا ہے کہ آسمانوں اور زمین کو ٹل جانے سے اللہ تعالیٰ ہی تھامے ہوئے ہے، اور اگر وہ ٹل جائیں تو اللہ کے سوا کوئی اُنہیں تھام نہیں سکتا۔ آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ کی دو صفات کا ذکر ہے:

1 حلیم — بردبار اور تحمل والا؛ جو گناہگاروں کو فوراً نہیں پکڑتا۔
2 غفور — بہت زیادہ بخشنے والا۔
4 مختصر جوابات

فَلَمَّا جَآءَهُمۡ نَذِيرٞ مَّا زَادَهُمۡ إِلَّا نُفُورًا (سورۃ فاطر ۔ آیت 42 (آخری حصہ))

ڈرانے والے کی آمد سے منکرین پر کیا اثر ہوا؟

جواب منکرین نے بڑی پختہ قسمیں کھا کر کہا تھا کہ اگر اُن کے پاس کوئی ڈرانے والا آیا تو وہ ہر امت سے بڑھ کر ہدایت یافتہ ہوں گے۔ لیکن جب اُن کے پاس ڈرانے والا (نبی کریم ﷺ) تشریف لے آئے تو اُن کی سرکشی اور نفرت میں مزید اضافہ ہوا اور وہ حق سے اور دور بھاگنے لگے۔
5 مختصر جوابات

وَلَوۡ يُـؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوۡا مَا تَرَكَ عَلٰى ظَهۡرِهَا مِنۡ دَآ بَّةٍ (سورۃ فاطر ۔ آیت 45)

آیتِ کریمہ میں لوگوں کو بُرے اعمال پر فوراً نہ پکڑنے کی کیا حکمت بیان ہوئی ہے؟

جواب آیتِ کریمہ میں بیان ہوا کہ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو اُن کے کیے ہوئے اعمال پر فوراً پکڑ لیتا تو زمین کی پیٹھ پر ایک جاندار بھی باقی نہ بچتا۔ لیکن وہ اُنہیں ایک مقررہ وقت تک مہلت دیتا ہے تاکہ وہ توبہ اور اصلاح کا موقع پا سکیں۔ جب اُن کا مقررہ وقت آ جائے گا تو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو خوب دیکھنے والا ہے۔

تفصیلی جوابات

6 تفصیلی جوابات

اِنَّ الَّذِيۡنَ يَتۡلُوۡنَ كِتٰبَ اللّٰهِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاَنۡفَقُوۡا مِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً يَّرۡجُوۡنَ تِجَارَةً لَّنۡ تَبُوۡرَۙ۔ (سورۃ فاطر ۔ آیات 29 تا 30)

آیاتِ کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت تحریر کریں۔

ترجمہ

بے شک جو لوگ اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے اُنہیں رزق دیا ہے اُس میں سے پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرتے ہیں، وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو کبھی خسارے میں نہیں جائے گی۔ تاکہ اللہ اُنہیں اُن کے اجر پورے پورے دے اور اپنے فضل سے اُنہیں اور زیادہ عطا فرمائے؛ بے شک وہ بہت بخشنے والا، بڑا قدردان ہے۔

ان آیاتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے سچے مومنوں کے تین بنیادی اور جامع اعمال بیان فرمائے ہیں اور اُن کے اس عمل کو سب سے زیادہ نفع بخش اور ہمیشہ رہنے والی تجارت قرار دیا ہے۔

1 کامیاب تاجروں کی تین صفات — تلاوتِ قرآن — صرف لفظی تلاوت ہی نہیں، بلکہ قرآنِ مجید کو سمجھنا، اس پر غور و تدبر کرنا اور اپنی زندگی کو اُس کے احکام کے مطابق ڈھالنا۔ یہ روح کی غذا اور ایمان کی تازگی کا ذریعہ ہے۔
2 کامیاب تاجروں کی تین صفات — اقامتِ نماز — نماز کو اُس کے تمام حقوق، خشوع و خضوع اور وقت کی پابندی کے ساتھ قائم کرنا۔ یہ اللہ اور بندے کے درمیان سب سے مضبوط رابطہ ہے۔
3 کامیاب تاجروں کی تین صفات — انفاق فی سبیل اللہ — اللہ کے دیے ہوئے رزق میں سے زکوٰۃ، صدقات اور دیگر حقوق العباد ادا کرنا — پوشیدہ بھی اور علانیہ بھی۔
4 پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرنے کا مفہوم — پوشیدہ (سِرًّا) — نفلی صدقات چپکے سے دینا تاکہ ریاکاری اور دکھاوے سے بچا جا سکے۔
5 پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرنے کا مفہوم — علانیہ (عَلَانِيَةً) — فرض زکوٰۃ یا ایسے مواقع پر ظاہر کر کے دینا تاکہ دوسروں کو بھی ترغیب ملے۔
6 «تِجَارَةً لَّنْ تَبُوْرَ» — کبھی نہ ڈوبنے والی تجارت — دنیا کی ہر تجارت میں نفع اور نقصان دونوں کا اندیشہ رہتا ہے، اور بالآخر دنیا کا سارا مال و اسباب ختم ہو جانے والا ہے۔
7 «تِجَارَةً لَّنْ تَبُوْرَ» — کبھی نہ ڈوبنے والی تجارت — لیکن اللہ کے ساتھ کیا جانے والا یہ سودا کبھی خسارے میں نہیں جا سکتا؛ اس میں خالص نفع اور ابدی کامیابی کی ضمانت ہے۔
8 کامل اجر اور اضافی فضل — اللہ تعالیٰ اُن کے ہر عمل کا پورا پورا بدلہ عطا فرمائے گا، جس میں ذرہ برابر کمی نہیں کی جائے گی۔
9 کامل اجر اور اضافی فضل — اضافی فضل — صرف اعمال کے بدلے پر بس نہیں ہوگا، بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے خاص فضل سے اُن کی نیکیوں کو کئی گنا بڑھا کر انعام و اکرام سے نوازے گا۔
10 «غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ» — دو عظیم صفات — غَفُوْرٌ (بخشنے والا) — عبادات میں بندوں سے جو کوتاہی یا گناہ سرزد ہو جاتا ہے، اللہ تعالیٰ اُسے معاف فرما دیتا ہے۔
11 «غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ» — دو عظیم صفات — شَكُوْرٌ (بڑا قدردان) — اللہ تعالیٰ بندے کے چھوٹے سے چھوٹے نیک عمل کی بھی قدر فرماتا ہے اور اُس پر عظیم الشان بدلہ عطا کرتا ہے۔
7 تفصیلی جوابات

وَمِنَ ٱلۡجِبَالِ جُدَدُۢ بِيضٞ وَحُمۡرٞ مُّخۡتَلِفٌ أَلۡوَٰنُهَا وَغَرَابِيبُ سُودٞ (سورۃ فاطر ۔ آیت 27 (آخری حصہ))

آیتِ کریمہ میں پہاڑوں کی کون سی اقسام بیان ہوئی ہیں؟

آیتِ کریمہ میں قدرتِ الٰہی کی نشانی کے طور پر پہاڑوں کے مختلف رنگوں اور اقسام کا ذکر کیا گیا ہے:

1 سفید دھاریوں والے پہاڑ — (بِيْضٌ)۔
2 سرخ اور مختلف رنگوں کی دھاریوں والے پہاڑ — (حُمْرٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهَا)۔
3 انتہائی گہرے سیاہ پہاڑ — (غَرَابِيْبُ سُوْدٌ)۔
جواب ایک ہی پانی اور ایک ہی زمین سے اِس قدر مختلف رنگ اور شکلیں پیدا کرنا اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کی کھلی نشانی ہے۔
8 تفصیلی جوابات

جَنَّـٰتُ عَدۡنٖ يَدۡخُلُونَهَا يُحَلَّوۡنَ فِيهَا مِنۡ أَسَاوِرَ مِن ذَهَبٖ وَلُؤۡلُؤٗاۖ وَلِبَاسُهُمۡ فِيهَا حَرِيرٞ (سورۃ فاطر ۔ آیت 33)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت تحریر کریں۔

ترجمہ

(اُن کے لیے) ہمیشگی کے باغات ہیں جن میں وہ داخل ہوں گے، وہاں اُنہیں سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے، اور وہاں اُن کا لباس ریشم ہوگا۔

اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نیکوکار اور ایمان دار بندوں کے لیے جنت کی نعمتوں اور اُس کے بہترین ماحول کا نقشہ کھینچا ہے۔

1 ہمیشگی کے باغات (جَنّٰتُ عَدْنٍ) — معنی — «عدن» کے معنی ایسی جگہ کے ہیں جہاں انسان ہمیشہ کے لیے رہے۔
2 ہمیشگی کے باغات (جَنّٰتُ عَدْنٍ) — دنیا کی ہر خوشی، نعمت اور زندگی عارضی ہے اور ایک دن ختم ہو جائے گی؛ اس کے برعکس اہلِ جنت کو ملنے والے باغات اور نعمتیں ہمیشہ کے لیے ہوں گی۔ اُنہیں نہ وہاں سے نکالے جانے کا ڈر ہوگا اور نہ نعمتوں کے ختم ہونے کا۔
3 سونے کے کنگن اور موتی — دنیا میں مردوں کے لیے سونے اور ریشم کا استعمال منع ہے، لیکن جنت میں اللہ تعالیٰ اپنے باایمان بندوں کو بطورِ اعزاز و اکرام سونے کے کنگن اور قیمتی موتیوں کے زیورات پہنائے گا۔
4 سونے کے کنگن اور موتی — یہ اس بات کی علامت ہے کہ اہلِ جنت کا مرتبہ نہایت بلند اور شاہانہ ہوگا۔
5 ریشمی لباس — اہلِ جنت کا لباس دنیا کے فانی اور موٹے کپڑوں کی طرح نہیں ہوگا، بلکہ نہایت نفیس، نرم اور خوبصورت ریشم کا ہوگا — جو اُن کی راحت اور سکون کا مظہر ہے۔
9 تفصیلی جوابات

وَقَالُواْ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ ٱلَّذِيٓ أَذۡهَبَ عَنَّا ٱلۡحَزَنَۖ إِنَّ رَبَّنَا لَغَفُورٞ شَكُورٌ (سورۃ فاطر ۔ آیت 34)

آیتِ کریمہ کی رو سے جنتی لوگ جنت میں داخلے کے وقت کیا کہیں گے؟

ترجمہ

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہم سے غم کو دور کر دیا؛ بے شک ہمارا پروردگار یقیناً بہت بخشنے والا، بڑا قدردان ہے۔

جنتی لوگ جنت میں داخل ہوتے وقت اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہیں گے:

جواب یعنی دنیا میں پیش آنے والے تمام رنج و غم، آخرت کے حساب کا خوف اور ہر پریشانی اللہ تعالیٰ نے اُن سے دور فرما دی، اس لیے وہ سب سے پہلے اُس کی حمد اور شکر بجا لائیں گے۔
10 تفصیلی جوابات

إِنَّ ٱللَّهَ عَٰلِمُ غَيۡبِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ إِنَّهُۥ عَلِيمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ (سورۃ فاطر ۔ آیت 38)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت تحریر کریں۔

ترجمہ

بے شک اللہ آسمانوں اور زمین کی غیب کی باتوں کو جاننے والا ہے؛ یقیناً وہ سینوں کی (پوشیدہ) باتوں کو بھی خوب جانتا ہے۔

اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی صفتِ علم یعنی تمام علوم پر کامل احاطے کو بیان فرمایا ہے۔

1 غیب کا مکمل علم — کائنات کا علم — انسان صرف وہی دیکھ اور سمجھ سکتا ہے جو اُس کے سامنے ہو، لیکن اللہ تعالیٰ سے کائنات کا کوئی گوشہ یا راز چھپا ہوا نہیں۔
2 غیب کا مکمل علم — آسمانوں اور زمین کا غیب — آسمانوں کی وسعتوں میں کیا ہو رہا ہے، زمین کی گہرائیوں اور سمندروں کی تہہ میں کیا موجود ہے، یا مستقبل میں کیا ہونے والا ہے — اِن سب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔
3 دلوں کے بھید اور نیتیں — سینوں کی باتیں — لوگ صرف انسان کے ظاہری قول و عمل کو دیکھ سکتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ اُن سوچوں، نیتوں اور خواہشات کو بھی جانتا ہے جو دل کے اندر چھپی ہوتی ہیں۔
4 دلوں کے بھید اور نیتیں — انسان کسی دوسرے انسان سے تو اپنے راز چھپا سکتا ہے، مگر اپنے خالق سے کچھ نہیں چھپا سکتا۔ اسی لیے مومن کو اپنے ظاہر کے ساتھ اپنے باطن کی اصلاح کی بھی فکر کرنی چاہیے۔
11 تفصیلی جوابات

وَهُمۡ يَصۡطَرِخُونَ فِيهَا رَبَّنَآ أَخۡرِجۡنَا نَعۡمَلۡ صَٰلِحًا غَيۡرَ ٱلَّذِي كُنَّا نَعۡمَلُۚ (سورۃ فاطر ۔ آیت 37 (ابتدائی حصہ))

آیتِ کریمہ کے مطابق کفار جہنم میں کیا فریاد کریں گے؟

ترجمہ

اے ہمارے پروردگار! ہمیں (یہاں سے) نکال لے، اب ہم نیک عمل کریں گے، اُن اعمال کے برعکس جو ہم پہلے کیا کرتے تھے۔

کفار جہنم کی سختی اور عذاب میں مبتلا ہو کر چیخ و پکار کریں گے اور اللہ تعالیٰ سے یہ فریاد کریں گے:

جواب اِس کے جواب میں اُن سے کہا جائے گا کہ کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر نہیں دی تھی جس میں نصیحت حاصل کرنے والا نصیحت حاصل کر سکتا تھا؟ اور تمہارے پاس ڈرانے والا بھی آیا تھا۔ پس اب عذاب چکھو، ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔

سرگرمیاں برائے طلبہ

12 سرگرمیاں برائے طلبہ

إِنَّ ٱلَّذِينَ يَتۡلُونَ كِتَٰبَ ٱللَّهِ وَأَقَامُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَأَنفَقُواْ مِمَّا رَزَقۡنَٰهُمۡ سِرّٗا وَعَلَانِيَةٗ يَرۡجُونَ تِجَٰرَةٗ لَّن تَبُورَ

سورۃ فاطر میں اللہ تعالیٰ نے کن اعمال کو کبھی ختم نہ ہونے والی تجارت قرار دیا ہے؟

سورۃ فاطر کی آیت 29 میں اللہ تعالیٰ نے درج ذیل تین اعمال کو ایسی تجارت قرار دیا ہے جو کبھی خسارے میں نہیں رہے گی:

1 کتابِ الٰہی کی تلاوت — باقاعدگی سے قرآنِ مجید کی تلاوت کرنا اور اُس کے احکام کو سمجھنا۔
2 نماز قائم کرنا — نماز کو اُس کے تمام ارکان اور خشوع و خضوع کے ساتھ وقت پر ادا کرنا۔
3 اللہ کی راہ میں انفاق — اللہ کے دیے ہوئے رزق میں سے پوشیدہ اور علانیہ اُس کی رضا کے لیے خرچ کرنا۔
13 سرگرمیاں برائے طلبہ

ثُمَّ أَوۡرَثۡنَا ٱلۡكِتَٰبَ ٱلَّذِينَ ٱصۡطَفَيۡنَا مِنۡ عِبَادِنَاۖ فَمِنۡهُمۡ ظَالِمٞ لِّنَفۡسِهِۦ وَمِنۡهُم مُّقۡتَصِدٞ وَمِنۡهُمۡ سَابِقُۢ بِٱلۡخَيۡرَٰتِ بِإِذۡنِ ٱللَّهِۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلۡفَضۡلُ ٱلۡكَبِيرُ

سورۃ فاطر میں «کتابِ الٰہی کے وارث» بننے سے کیا مراد ہے؟

سورۃ فاطر کی آیت 32 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اُس نے قرآنِ مجید کو اپنے چیدہ اور منتخب بندوں کی وراثت بنایا ہے۔ کتاب کا وارث بننے سے مراد یہ ہے کہ امتِ مسلمہ کو آخری آسمانی کتاب کا محافظ اور حامل بنایا گیا ہے اور اُس کے احکام پر عمل پیرا ہونے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

کتاب کے وارثوں کی تین اقسام

1 ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ (اپنی جان پر ظلم کرنے والا) — وہ شخص جو گناہوں میں مبتلا رہتا ہے اور فرائض کی ادائیگی میں سستی کرتا ہے۔
2 مُقْتَصِدٌ (درمیانی راہ چلنے والا) — وہ شخص جو فرائض اور واجبات ادا کرتا ہے، البتہ بعض مستحبات چھوڑ دیتا ہے۔
3 سَابِقٌۢ بِالْخَيْرَاتِ (نیکیوں میں پیش پیش رہنے والا) — وہ شخص جو اللہ کے حکم سے تمام نیکیوں اور خیر کے کاموں میں آگے بڑھ کر حصہ لیتا ہے۔
14 سرگرمیاں برائے طلبہ

فَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ ٱللَّهِ تَبۡدِيلٗاۖ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ ٱللَّهِ تَحۡوِيلًا

سورۃ فاطر کی روشنی میں «سنتِ الٰہی» کی وضاحت کریں۔

ترجمہ

پس آپ اللہ کے طریقے (سنت) میں ہرگز کوئی تبدیلی نہیں پائیں گے، اور نہ ہی اللہ کے طریقے کو بدلا ہوا پائیں گے۔

سنتِ الٰہی سے مراد

1 اللہ کا قائم کردہ قانونِ قدرت — وہ ضابطہ جس کے تحت پچھلی اقوام کے سرکشوں اور منکرین کو ہلاک کیا گیا اور اہلِ ایمان کو نجات دی گئی۔
2 بے تبدیلی اور استقلال — اللہ کی سنت میں کبھی کوئی تبدیلی یا رد و بدل نہیں ہوتا؛ یعنی جو قوم بھی تکبر، سرکشی اور نافرمانی کی راہ اختیار کرے گی، اُس کا انجام تباہی ہی ہوگا۔
جواب یہی وجہ ہے کہ قرآنِ مجید بار بار گزشتہ قوموں کے واقعات بیان کرتا ہے تاکہ بعد میں آنے والے اُن سے عبرت حاصل کریں۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.