نویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 21: سبق 21: سورۃ فاطر (حصہ اول) — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں برائے طلبہ · 16 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنَّ وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقّٞۖ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَا وَلَا يَغُرَّنَّكُم بِٱللَّهِ ٱلۡغَرُورُ (سورۃ فاطر ۔ آیت 5)

آیتِ کریمہ میں کن چیزوں کے دھوکے سے تنبیہ کی گئی ہے؟

اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو دو بڑے دھوکوں سے خبردار فرمایا ہے:

1 دنیاوی زندگی کا دھوکا — دنیا کی عارضی آسائشوں، مال و دولت اور وقتی لذتوں کے فریب سے، جو انسان کو آخرت سے غافل کر دیتی ہیں۔
2 شیطان کا دھوکا — بڑے دھوکے باز یعنی شیطان کے مکر و فریب سے، جو انسان کو اللہ کے حلم اور مہلت کا غلط مطلب سمجھا کر گناہ پر دلیر کرتا ہے۔
2 مختصر جوابات

إِنَّ ٱلشَّيۡطَٰنَ لَكُمۡ عَدُوّٞ فَٱتَّخِذُوهُ عَدُوًّاۚ إِنَّمَا يَدۡعُواْ حِزۡبَهُۥ لِيَكُونُواْ مِنۡ أَصۡحَٰبِ ٱلسَّعِيرِ (سورۃ فاطر ۔ آیت 6)

آیتِ کریمہ میں شیطان کے متعلق کیا بیان ہوا ہے؟

1 شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے، اس لیے حکم دیا گیا کہ تم بھی اسے اپنا دشمن ہی سمجھو اور اس کی پیروی سے بچو۔
2 وہ اپنے گروہ اور پیروکاروں کو صرف اس لیے بلاتا ہے تاکہ وہ سب جہنم (بھڑکتی ہوئی آگ) کے ساتھی بن جائیں۔
3 مختصر جوابات

وَٱلَّذِينَ يَمۡكُرُونَ ٱلسَّيِّـَٔاتِ لَهُمۡ عَذَابٞ شَدِيدٞۖ وَمَكۡرُ أُوْلَـٰٓئِكَ هُوَ يَبُورُ (سورۃ فاطر ۔ آیت 10 (آخری حصہ))

آیتِ کریمہ میں بری چالیں چلنے والوں کا کیا انجام بیان ہوا ہے؟

1 بری چالیں چلنے اور مکر و فریب کرنے والوں کے لیے سخت عذاب ہے۔
2 ان کی تمام چالیں اور تدبیریں آخرکار تباہ و برباد اور بے اثر ہو کر رہ جائیں گی۔
4 مختصر جوابات

وَمَا يَسۡتَوِي ٱلۡبَحۡرَانِ هَٰذَا عَذۡبٞ فُرَاتٞ سَآئِغٞ شَرَابُهُۥ وَهَٰذَا مِلۡحٌ أُجَاجٞۖ وَمِن كُلّٖ تَأۡكُلُونَ لَحۡمٗا طَرِيّٗا وَتَسۡتَخۡرِجُونَ حِلۡيَةٗ تَلۡبَسُونَهَاۖ وَتَرَى ٱلۡفُلۡكَ فِيهِ مَوَاخِرَ لِتَبۡتَغُواْ مِن فَضۡلِهِۦ وَلَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُونَ (سورۃ فاطر ۔ آیت 12)

آیتِ کریمہ میں سمندر سے حاصل ہونے والے کن فوائد کا ذکر ہے؟

آیتِ کریمہ میں سمندر کے تین بڑے فوائد بیان ہوئے ہیں:

1 تازہ گوشت (مچھلی) — دونوں طرح کے سمندروں — میٹھے اور کھارے — سے انسان کو تر و تازہ گوشت حاصل ہوتا ہے۔
2 زیورات (موتی اور مرجان) — سمندر سے پہننے کے لیے خوبصورت زیورات نکالے جاتے ہیں۔
3 تجارتی سفر — سمندر میں کشتیاں اور جہاز پانی کو چیرتے ہوئے چلتے ہیں تاکہ انسان اللہ کا فضل (رزق و تجارت) تلاش کرے اور اس کا شکر ادا کرے۔
5 مختصر جوابات

يُوۡلِجُ الَّيۡلَ فِى النَّهَارِ وَيُوۡلِجُ النَّهَارَ فِى الَّيۡلِ ۙ وَسَخَّرَ الشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ ​ۖ۔ (سورۃ فاطر ۔ آیت 13 (ابتدائی حصہ))

آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی کیا نشانیاں بیان ہوئی ہیں؟

1 رات اور دن کا نظام — اللہ تعالیٰ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے، یعنی دن رات کے گھٹنے بڑھنے کا نظام اسی کے حکم سے چل رہا ہے۔
2 سورج اور چاند کی تسخیر — اس نے سورج اور چاند کو مسخر کر رکھا ہے؛ ہر ایک اپنے مقررہ وقت اور مقررہ نظام کا پابند ہو کر چل رہا ہے۔

تفصیلی جوابات

6 تفصیلی جوابات

مَّا يَفۡتَحِ ٱللَّهُ لِلنَّاسِ مِن رَّحۡمَةٖ فَلَا مُمۡسِكَ لَهَاۖ وَمَا يُمۡسِكۡ فَلَا مُرۡسِلَ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدِهِۦۚ وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ (سورۃ فاطر ۔ آیت 2)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت تحریر کریں۔

ترجمہ

"اللہ تعالیٰ لوگوں کے لیے جو رحمت (کا دروازہ) کھول دے، اسے کوئی روکنے والا نہیں، اور جسے وہ روک لے، اس کے بعد اسے کوئی بھیجنے والا نہیں۔ اور وہی غالب، حکمت والا ہے۔"

یہ آیتِ مبارکہ عقیدۂ توحید، توکل اور اللہ تعالیٰ کی مطلق قدرت کا عظیم بیان ہے۔ یہ انسان کے دل سے غیر اللہ کا خوف اور ناامیدی نکال کر صرف ایک اللہ کی ذات پر بھروسہ کرنے کا درس دیتی ہے۔

1 "رحمت" کا وسیع مفہوم — آیت میں لفظ "رحمت" عام معنوں میں استعمال ہوا ہے، جس میں انسان کی دین و دنیا کی تمام بھلائیاں شامل ہیں:
2 "رحمت" کا وسیع مفہوم — دینی رحمتیں — ہدایت، علم، بصیرت، نبوت، قرآنِ مجید کا فہم، توبہ کی توفیق اور قلب کا سکون۔
3 "رحمت" کا وسیع مفہوم — دنیاوی رحمتیں — رزق، صحت، اولاد، امن و امان، بارش، کامیابی اور عزّت۔
4 "فَلَا مُمۡسِكَ لَهَا" — رحمتِ الٰہی کو کوئی روک نہیں سکتا — اگر اللہ تعالیٰ کسی بندے کو کوئی نعمت، عزّت، رزق یا ہدایت دینے کا فیصلہ کر لے تو کائنات کی ساری مخلوق، بادشاہ، حاسد اور دشمن مل کر بھی اس نعمت کو اس تک پہنچنے سے نہیں روک سکتے۔
5 "فَلَا مُمۡسِكَ لَهَا" — رحمتِ الٰہی کو کوئی روک نہیں سکتا — انسان کو زندگی میں جو بھی خیر ملتی ہے وہ کسی بندے کی ذاتی مہربانی نہیں بلکہ براہِ راست رب کی عطا ہوتی ہے۔
6 "فَلَا مُرۡسِلَ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدِهِۦ" — اللہ کی روک کو کوئی کھول نہیں سکتا — اس کے برعکس اگر اللہ تعالیٰ اپنی کسی حکمت کے تحت کوئی نعمت (بارش، صحت یا رزق) روک لے تو کائنات کی کوئی طاقت، معبود یا حکومت اسے جاری کرنے پر قادر نہیں۔
7 "فَلَا مُرۡسِلَ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدِهِۦ" — اللہ کی روک کو کوئی کھول نہیں سکتا — انسان کی تمام تدبیریں اللہ کے اذن اور مشیت کے بغیر بے بس اور ناکام ہیں۔
8 "وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ" — غالب اور حکمت والا — الۡعَزِيز (غالب) — وہ ذات ایسی زبردست اور غالب ہے کہ اس کے کسی فیصلے پر نہ کوئی اثر انداز ہو سکتا ہے اور نہ اعتراض کر سکتا ہے۔
9 "وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ" — غالب اور حکمت والا — الۡحَكِيم (حکمت والا) — وہ جس رحمت کو کھولتا ہے یا جس نعمت کو روکتا ہے، اس میں بے شمار حکمتیں اور مصلحتیں ہوتی ہیں؛ بندے کو ظاہری محرومی پر بھی اللہ کی حکمت پر یقین رکھنا چاہیے۔
7 تفصیلی جوابات

سورۃ فاطر کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔

جواب اس سوال کا جواب نصابی کتاب کے صفحہ نمبر 142 پر موجود ہے۔
8 تفصیلی جوابات

ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَهُمۡ عَذَابٞ شَدِيدٞۖ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ لَهُم مَّغۡفِرَةٞ وَأَجۡرٞ كَبِيرٌ (سورۃ فاطر ۔ آیت 7)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت تحریر کریں۔

ترجمہ

"جن لوگوں نے کفر کیا، ان کے لیے سخت عذاب ہے، اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے، ان کے لیے مغفرت اور بہت بڑا اجر ہے۔"

اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے دو بنیادی طرزِ فکر اور ان کے انجام کا نہایت جامع اور واضح تقابل پیش فرمایا ہے۔ انسان اپنی آزاد مرضی سے جو راستہ منتخب کرتا ہے، آخرت میں اسی کے مطابق اس کا حتمی فیصلہ ہوگا۔

1 کفر کی روش اور اس کا انجام — کفر کا مفہوم — اس سے مراد اللہ کی توحید کا انکار، رسول اللہ ﷺ کی رسالت کو نہ ماننا، یا اللہ کے احکام سے سرکشی اور عناد کا رویہ اختیار کرنا ہے۔
2 کفر کی روش اور اس کا انجام — "عَذَابٞ شَدِيدٞ" (سخت عذاب) — جو لوگ حق کو جانتے ہوئے بھی اس کا انکار کرتے اور کفر پر جمے رہتے ہیں، ان کا انجام جہنم کا دردناک عذاب ہوگا، جہاں سے نجات کی کوئی راہ نہ ہوگی۔
3 ایمان اور عملِ صالح کی روش — کفر کے برعکس، نجات اور کامیابی کا راستہ دو چیزوں کے مجموعے پر منحصر ہے:
4 ایمان اور عملِ صالح کی روش — ایمان — دل سے اللہ کی توحید، آخرت اور رسولوں پر سچا یقین رکھنا۔
5 ایمان اور عملِ صالح کی روش — عملِ صالح — صرف زبان یا دل کے اقرار پر اکتفا نہ کرنا، بلکہ عملی زندگی کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے بتائے ہوئے احکام کے مطابق ڈھالنا — مثلاً نماز، روزہ، اخلاق اور بندوں کے حقوق کی ادائیگی۔
6 اہلِ ایمان کے لیے دوہرا انعام — "مَّغۡفِرَةٞ" (مغفرت و بخشش) — انسان ہونے کے ناطے جو گناہ، کوتاہیاں اور خطائیں ہو جاتی ہیں، اللہ تعالیٰ اپنے فضل اور توبہ کی برکت سے ان پر پردہ ڈال کر معاف فرما دے گا۔
7 اہلِ ایمان کے لیے دوہرا انعام — "أَجۡرٞ كَبِيرٌ" (بڑا اجر) — اس سے مراد جنت اور اس کی ابدی نعمتیں ہیں، جن کی وسعت، خوبصورتی اور لذت کا تصور بھی انسان اس دنیا میں نہیں کر سکتا۔
9 تفصیلی جوابات

إِنَّمَا يَخۡشَى ٱللَّهَ مِنۡ عِبَادِهِ ٱلۡعُلَمَـٰٓؤُاْۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ غَفُورٌ (سورۃ فاطر ۔ آیت 28 (آخری حصہ))

سورۃ فاطر میں اللہ تعالیٰ نے اہلِ علم کی کون سی صفات بیان فرمائی ہیں؟

سورۃ فاطر کی آیت نمبر 28 میں اہلِ علم کی درج ذیل اہم صفات بیان کی گئی ہیں:

1 خشیتِ الٰہی (اللہ کا خوف) — سچے اور حقیقی اہلِ علم وہی ہیں جو اللہ کی عظمت، قدرت اور صفات کو پہچان کر سب سے زیادہ اسی سے ڈرتے اور تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔
2 آیات اور نشانیوں کو سمجھنا — وہ کائنات کی تخلیق، دن رات کے بدلنے اور قدرت کے مناظر میں غور و فکر کر کے حق کو پہچانتے ہیں۔
3 عاجزی و انکساری — علم ان کے اندر غرور کے بجائے اللہ کی بارگاہ میں عاجزی اور جھکاؤ پیدا کرتا ہے۔
10 تفصیلی جوابات

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ أَنتُمُ ٱلۡفُقَرَآءُ إِلَى ٱللَّهِۖ وَٱللَّهُ هُوَ ٱلۡغَنِيُّ ٱلۡحَمِيدُ ۝ إِن يَشَأۡ يُذۡهِبۡكُمۡ وَيَأۡتِ بِخَلۡقٖ جَدِيدٖ ۝ وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ بِعَزِيزٖ (سورۃ فاطر ۔ آیات 15 تا 17)

آیاتِ کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت تحریر کریں۔

ترجمہ

"اے لوگو! تم سب اللہ کے محتاج ہو، اور اللہ ہی بے نیاز اور خود سراہا ہوا ہے۔ اگر وہ چاہے تو تمہیں لے جائے اور (تمہاری جگہ) نئی مخلوق لے آئے۔ اور یہ اللہ کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں۔"

ان آیاتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک بنیادی حقیقت بیان فرمائی ہے کہ تمام انسان اپنے ہر سانس، ہر ضرورت اور اپنے وجود کے لیے اللہ کے محتاج ہیں، جبکہ اللہ کی ذات ہر قسم کی حاجت اور پروا سے پاک ہے۔

1 "أَنتُمُ ٱلۡفُقَرَآءُ إِلَى ٱللَّهِ" — انسان کی ہمہ وقت محتاجی — احتیاجِ مطلق — انسان چاہے کتنا ہی بڑا بادشاہ، سائنسدان، مالدار یا طاقتور کیوں نہ ہو، وہ اپنے وجود کے ہر لمحے میں اللہ کا محتاج ہے۔
2 "أَنتُمُ ٱلۡفُقَرَآءُ إِلَى ٱللَّهِ" — انسان کی ہمہ وقت محتاجی — سانس لینے کے لیے ہوا، پینے کے لیے پانی، بقا کے لیے غذا، صحت اور حیات و موت کے ہر معاملے میں اسے رب کی تدبیر درکار ہے۔ اگر اللہ ایک لمحے کے لیے اپنی نعمتیں روک لے تو انسان بالکل بے بس ہو جاتا ہے۔
3 "وَٱللَّهُ هُوَ ٱلۡغَنِيُّ ٱلۡحَمِيدُ" — اللہ کی بے نیازی اور حمد — ٱلۡغَنِيّ (بے نیاز) — اللہ تعالیٰ کو اپنی بادشاہی، عبادت یا تخلیق کے لیے انسانوں کی کوئی ضرورت نہیں۔ اگر سارے انسان مل کر اس کی عبادت کریں تو اس کی شان میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا، اور اگر سب نافرمان ہو جائیں تو اس کی بادشاہی میں کوئی کمی نہیں آتی۔
4 "وَٱللَّهُ هُوَ ٱلۡغَنِيُّ ٱلۡحَمِيدُ" — اللہ کی بے نیازی اور حمد — ٱلۡحَمِيد (خود سراہا ہوا) — وہ ذات اپنی صفات و افعال میں بذاتِ خود لائقِ حمد و ثنا ہے؛ کوئی اس کی تعریف کرے یا نہ کرے، وہ محمود ہے۔
5 "إِن يَشَأۡ يُذۡهِبۡكُمۡ وَيَأۡتِ بِخَلۡقٖ جَدِيدٖ" — تخلیق و فنا پر کامل قدرت — سرکش اور مغرور انسانوں کو متنبہ کیا جا رہا ہے کہ اللہ کی اطاعت کا حکم دراصل تمہارے اپنے فائدے کے لیے ہے۔
6 "إِن يَشَأۡ يُذۡهِبۡكُمۡ وَيَأۡتِ بِخَلۡقٖ جَدِيدٖ" — تخلیق و فنا پر کامل قدرت — اگر اللہ چاہے تو تمہیں ایک آن میں صفحۂ ہستی سے مٹا کر تمہاری جگہ ایسی نئی مخلوق لا سکتا ہے جو اس کی کامل اطاعت گزار اور شکر گزار ہو۔
7 "وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ بِعَزِيزٖ" — کوئی کام دشوار نہیں — یہاں لفظ "عَزِيز" کے معنی "مشکل یا دشوار" کے ہیں۔
8 "وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ بِعَزِيزٖ" — کوئی کام دشوار نہیں — پوری انسانیت کو فنا کرنا اور نئی مخلوق پیدا کر دینا اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی بڑا یا دشوار کام نہیں؛ اس کے لیے صرف اس کا حکم "کُن" (ہو جا) ہی کافی ہے۔
11 تفصیلی جوابات

وَمَا يَسۡتَوِي ٱلۡأَعۡمَىٰ وَٱلۡبَصِيرُ ۝ وَلَا ٱلظُّلُمَٰتُ وَلَا ٱلنُّورُ ۝ وَلَا ٱلظِّلُّ وَلَا ٱلۡحَرُورُ ۝ وَمَا يَسۡتَوِي ٱلۡأَحۡيَآءُ وَلَا ٱلۡأَمۡوَٰتُۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُسۡمِعُ مَن يَشَآءُۖ وَمَآ أَنتَ بِمُسۡمِعٖ مَّن فِي ٱلۡقُبُورِ (سورۃ فاطر ۔ آیات 19 تا 22)

ان آیاتِ کریمہ میں کن کن چیزوں کا موازنہ کیا گیا ہے؟

ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے تمثیلی انداز میں درج ذیل چار جوڑوں کا موازنہ فرمایا ہے:

1 اندھا اور بینا — کافر و گمراہ انسان کو اندھے سے اور مومن و ہدایت یافتہ کو دیکھنے والے سے تشبیہ دی گئی ہے — دونوں کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔
2 تاریکی اور روشنی — کفر و شرک کی جہالت کو تاریکیوں سے اور ایمان و ہدایت کے علم کو روشنی سے تعبیر کیا گیا ہے۔
3 سایہ اور سخت دھوپ — ایمان اور اطاعت کا سکون سائے کی طرح ٹھنڈا ہے، جبکہ کفر و نافرمانی کا انجام جھلسا دینے والی دھوپ کی طرح تکلیف دہ ہے۔
4 زندہ اور مردہ — مومن زندہ ہے جو حق کی بات سنتا اور قبول کرتا ہے، جبکہ کافر مردے کی مانند ہے جس کے دل پر مہر لگ چکی ہے اور وہ حق کی بات نہیں سنتا۔
جواب آخر میں فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے (حق) سنا دیتا ہے، اور اے نبی! آپ ان لوگوں کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں (مدفون) ہیں — یعنی جن کے دل حق سے بالکل مردہ ہو چکے ہوں۔

سرگرمیاں برائے طلبہ

12 سرگرمیاں برائے طلبہ

سورۃ فاطر میں بیان کی گئی اللہ تعالیٰ کی کچھ نعمتیں تلاش کریں اور لکھیں۔

سورۃ فاطر میں بیان کی گئی چند اہم نعمتیں درج ذیل ہیں:

1 فرشتوں کی تخلیق — اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو دو، تین اور چار پروں والا قاصد بنایا اور انہیں مختلف امور پر مامور فرمایا۔
2 بارش اور نباتات — وہ ہواؤں کو چلاتا ہے جو بادلوں کو اٹھاتی ہیں، اور مردہ (بنجر) زمین کو بارش کے ذریعے دوبارہ زندہ کر کے اس سے غلہ، پھل اور مختلف رنگوں کی نباتات اگاتا ہے۔
3 سمندر اور اس کے فوائد — میٹھے اور کھارے پانی کا نظام، جس سے انسان کو تازہ گوشت (مچھلی) اور پہننے کے لیے زیورات (موتی و مرجان) حاصل ہوتے ہیں۔
4 کشتیوں اور جہازوں کا چلنا — سمندروں میں جہاز چلتے ہیں تاکہ انسان سفر کر سکے اور اللہ کا فضل (تجارت و رزق) تلاش کر سکے۔
5 رات اور دن کا نظام — رات کو دن میں اور دن کو رات میں بدلنا، اور سورج و چاند کو انسان کی خدمت میں مسخر کر دینا۔
13 سرگرمیاں برائے طلبہ

سورۃ فاطر میں سمندر سے حاصل ہونے والے کئی فوائد کا ذکر ہے؛ سمندر سے حاصل ہونے والے مزید فوائد لکھیں۔

قرآنِ مجید میں مذکور فوائد (تازہ گوشت، زیورات اور تجارتی سفر) کے علاوہ سمندر سے حاصل ہونے والے مزید فوائد یہ ہیں:

1 نمک کا حصول — کھانے اور صنعتی استعمال کے لیے نمک کا سب سے بڑا ذریعہ سمندری پانی ہے۔
2 تیل اور قدرتی گیس — سمندر کی تہہ سے پٹرولیم اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار حاصل کی جاتی ہے۔
3 ادویات اور کاسمیٹکس — سمندری جڑی بوٹیوں، الجی اور دیگر مادوں سے دوائیں اور خوبصورتی کی مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔
4 موسمیاتی توازن اور آکسیجن — سمندری پودے دنیا کی نصف سے زیادہ آکسیجن پیدا کرتے ہیں اور کرۂ ارض کے درجۂ حرارت کو متوازن رکھتے ہیں۔
5 پانی اور بجلی — سمندری پانی کو صاف (ڈی سیلینیشن) کر کے پینے کے قابل بنایا جاتا ہے، اور لہروں و مدّ و جزر سے بجلی بھی پیدا کی جاتی ہے۔
14 سرگرمیاں برائے طلبہ

وَٱللَّهُ خَلَقَكُم مِّن تُرَابٖ ثُمَّ مِن نُّطۡفَةٖ ثُمَّ جَعَلَكُمۡ أَزۡوَٰجٗاۚ وَمَا تَحۡمِلُ مِنۡ أُنثَىٰ وَلَا تَضَعُ إِلَّا بِعِلۡمِهِۦۚ وَمَا يُعَمَّرُ مِن مُّعَمَّرٖ وَلَا يُنقَصُ مِنۡ عُمُرِهِۦٓ إِلَّا فِي كِتَٰبٍۚ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرٞ

سورۃ فاطر میں انسان کی تخلیق، اللہ تعالیٰ کے علم کی وسعت اور قدرت کا بیان ہے؛ اس کی وضاحت کریں۔

1 انسان کی تخلیق — اللہ تعالیٰ نے انسان کو پہلے مٹی سے، پھر نطفے سے پیدا کیا، اور پھر اس کے جوڑے (مرد و عورت) بنائے۔
2 علم کی وسعت — کوئی عورت نہ حاملہ ہوتی ہے اور نہ بچّہ جنتی ہے مگر یہ سب اللہ کے علم میں ہوتا ہے۔ کسی انسان کی عمر کا بڑھنا یا کم ہونا سب اللہ کے پاس "کتابِ مبین" (لوحِ محفوظ) میں درج ہے۔
3 قدرت کا بیان — اللہ تعالیٰ جب چاہے کسی قوم کو فنا کر کے اس کی جگہ نئی مخلوق لا سکتا ہے، اور یہ سب اس کے لیے ذرا بھی مشکل نہیں۔
15 سرگرمیاں برائے طلبہ

سورۃ فاطر کی روشنی میں شیطان کی عداوت اور دنیاوی زندگی کے دھوکے کے بارے میں تحریر کریں۔

1 شیطان کی عداوت — اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے، اس لیے اسے دشمن ہی سمجھو۔ وہ اپنے پیروکاروں کو صرف اس لیے بلاتا ہے تاکہ وہ جہنم (بھڑکتی ہوئی آگ) کا حصہ بن جائیں۔
2 دنیاوی زندگی کا دھوکا — دنیا کی عارضی آسائشیں اور مادی لذتیں انسان کو آخرت سے غافل کر دیتی ہیں۔ طلبہ کو چاہیے کہ وہ دنیاوی زندگی کے فریب اور شیطان کے وسوسوں سے بچ کر آخرت کی تیاری پر توجہ دیں۔
16 سرگرمیاں برائے طلبہ

سورۃ فاطر میں اللہ تعالیٰ نے اہلِ علم کی کیا صفات بیان فرمائی ہیں؟

إِنَّمَا يَخۡشَى ٱللَّهَ مِنۡ عِبَادِهِ ٱلۡعُلَمَـٰٓؤُاْۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ غَفُورٌترجمہ: "اللہ کے بندوں میں سے اس سے وہی ڈرتے ہیں جو علم رکھنے والے ہیں۔ بے شک اللہ غالب، بخشنے والا ہے۔" (سورۃ فاطر ۔ آیت 28)

1 خشیتِ الٰہی — اہلِ علم کی سب سے نمایاں صفت یہ ہے کہ وہ اللہ کی معرفت کے سبب سب سے زیادہ اسی سے ڈرتے ہیں۔
2 غور و فکر — وہ کائنات کی نشانیوں میں تدبر کر کے حق تک پہنچتے ہیں۔
3 ترغیب — سچّا علم وہ ہے جو انسان میں غرور کے بجائے خوفِ خدا اور عاجزی پیدا کرے؛ طلبہ کو چاہیے کہ وہ علم محض معلومات کے لیے نہیں بلکہ عمل اور تقویٰ حاصل کرنے کے لیے حاصل کریں۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.