آیتِ کریمہ کے مطابق کس طبقے کے لوگ عموماً رسولوں کا انکار کرتے تھے؟
جوابآیتِ کریمہ کے مطابق ہر بستی کے "مترفین" یعنی خوش حال، امیر اور صاحبِ ثروت لوگ ہی عموماً رسولوں کی دعوت کا انکار کرتے تھے۔ دولت اور آسائش نے انہیں غفلت اور تکبر میں مبتلا کر رکھا تھا، اس لیے وہ ہر نبی کی مخالفت میں سب سے آگے ہوتے۔
آیتِ کریمہ کے مطابق حق آ جانے کے بعد کافروں نے اس کے بارے میں کیا کہا؟
جوابحق (قرآنِ مجید اور دعوتِ اسلام) آ جانے کے بعد کافروں نے اسے ماننے کے بجائے اس کا انکار کیا اور کہا کہ: "یہ تو صریح اور کھلا جادو ہے!" یعنی انہوں نے دلیل کا جواب دلیل سے دینے کے بجائے محض ہٹ دھرمی پر مبنی الزام لگا دیا۔
"آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما دیجیے کہ بے شک میرا رب جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کر دیتا ہے اور (جس کے لیے چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے، لیکن اکثر لوگ (اس حکمت کو) نہیں جانتے۔"
اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے رزق کی تقسیم کے الٰہی نظام اور اس کے پیچھے پوشیدہ حکمتوں سے پردہ اٹھایا ہے، اور کافروں و مشرکین کے اس غلط گمان کا رد فرمایا ہے جس کے تحت وہ مال و دولت کو اللہ کی محبوبیت کا معیار سمجھتے تھے۔
1آیت کا پس منظر (مشرکینِ مکہ کا فریب) — مشرکینِ مکہ اور ہر دور کے دنیا پرست لوگ یہ سمجھتے تھے کہ جس کے پاس مال، اولاد اور دنیوی وسائل زیادہ ہیں وہی اللہ کا پیارا اور مقرب ہے۔ ان کا خیال تھا کہ اگر اللہ ان سے ناراض ہوتا تو انہیں اتنا مال و دولت نہ دیتا — چنانچہ اس سے پچھلی آیت میں ان کا یہی قول نقل ہوا کہ "ہم مال اور اولاد میں تم سے زیادہ ہیں اور ہمیں کوئی عذاب نہیں ہوگا۔"
2رزق کی فراخی اور تنگی اللہ ہی کے اختیار میں ہے — رزق کی تقسیم کا معیار — اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دنیا میں رزق کا ملنا یا نہ ملنا، کم ہونا یا زیادہ ہونا بندے کے ایمان، تقویٰ یا اللہ کے ہاں مقبول ہونے کی دلیل ہرگز نہیں ہے۔
3رزق کی فراخی اور تنگی اللہ ہی کے اختیار میں ہے — آزمائش کا ذریعہ — اللہ تعالیٰ اپنی حکمتِ بالغہ کے تحت کافر اور سرکش کو بھی بے حساب رزق دیتا ہے تاکہ اس پر اتمامِ حجت ہو جائے، اور کبھی اپنے محبوب اور نیک بندوں پر رزق تنگ کر دیتا ہے تاکہ ان کے درجات بلند ہوں اور ان کے صبر کا امتحان لیا جائے۔
4رزق کی فراخی اور تنگی اللہ ہی کے اختیار میں ہے — رزق کا پھیلاؤ (بسط) اور تنگی (قدر) دونوں ہی اللہ کی تدبیر اور امتحان کا حصہ ہیں، کسی کی ذاتی قابلیت یا محبوبیت کا سرٹیفکیٹ نہیں۔
5اکثر لوگ اس حکمت سے ناواقف ہیں — اکثر لوگ ظاہر بین ہیں؛ وہ صرف دنیا کی ظاہری چمک دمک دیکھتے ہیں اور رزق کی فراخی کو "رضائے الٰہی" اور تنگی کو "غضبِ الٰہی" کی نشانی سمجھ بیٹھتے ہیں۔
6اکثر لوگ اس حکمت سے ناواقف ہیں — وہ اس حکمت کو نہیں جانتے کہ اگر رزق کی زیادتی محبوبیت کی دلیل ہوتی تو انبیاء و اولیاء دنیا میں سب سے زیادہ مالدار ہوتے، جبکہ معاملہ اس کے برعکس نظر آتا ہے۔
"اور تمہارے مال اور تمہاری اولاد ایسی چیزیں نہیں ہیں جو تمہیں ہمارے ہاں درجے میں قریب کر دیں، سوائے اس شخص کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے ان کے اعمال کے بدلے دگنی جزا ہے اور وہ (جنت کے) بالاخانوں میں امن و اطمینان سے ہوں گے۔"
اس سے پہلی آیت (آیت 36) میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا تھا کہ دنیاوی رزق کی فراخی اور تنگی اللہ کی حکمت پر مبنی ہے، جبکہ اس آیتِ مبارکہ میں اللہ کے ہاں قرب، عزت اور کامیابی کے حقیقی معیار کو واضح فرمایا گیا ہے۔
1مال و اولاد قربِ الٰہی کا معیار نہیں — دنیاوی سوچ کا رد — عام طور پر انسان یہ سمجھتا ہے کہ کثرتِ مال اور کثرتِ اولاد اس کی کامیابی اور فضیلت کی دلیل ہے۔ دنیا پرست لوگ ان پر فخر کرتے اور سمجھتے تھے کہ اگر اللہ ان سے خوش نہ ہوتا تو انہیں یہ نعمتیں نہ دیتا۔
2مال و اولاد قربِ الٰہی کا معیار نہیں — حقیقتِ حال — اللہ تعالیٰ نے صاف واضح فرما دیا کہ مال اور اولاد بذاتِ خود ایسی چیزیں نہیں ہیں جو انسان کو اللہ کے قریب کر سکیں؛ یہ تو محض دنیاوی آرائش اور آزمائش کا سامان ہیں۔
3قربِ الٰہی کا حقیقی معیار — ایمان اور عملِ صالح — اللہ کی بارگاہ میں مقرب بننے کا واحد راستہ ایمان اور عملِ صالح ہے۔
4قربِ الٰہی کا حقیقی معیار — ایمان اور عملِ صالح — مال و اولاد کا مثبت استعمال — اگر کوئی شخص مال اور اولاد جیسی نعمتوں کو ایمان کے ساتھ اللہ کی رضا کے لیے استعمال کرے — مثلاً مال اللہ کی راہ میں خرچ کرے اور اولاد کی بہترین دینی و اخلاقی تربیت کرے — تو یہی نعمتیں اس کے لیے قربِ الٰہی کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔
5اعمال کی دگنی اور کثیر جزا — جو لوگ ایمان اور عملِ صالح کی بنیاد پر زندگی گزارتے ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں ان کے اعمال کا کئی گنا بڑھا چڑھا کر اجر عطا فرماتا ہے۔
6اعمال کی دگنی اور کثیر جزا — ایک نیکی کا بدلہ دس گنا سے لے کر سات سو گنا اور اس سے بھی زیادہ تک دیا جاتا ہے۔
7اعمال کی دگنی اور کثیر جزا — اس کے ساتھ انہیں جنت کے بالاخانوں میں مکمل امن اور اطمینان کی زندگی عطا کی جائے گی۔
آیتِ کریمہ کے مطابق قرآنِ مجید سننے کے بعد مشرکین کے کس رویے کا ذکر ہے؟
قرآنِ مجید کی آیات سن کر مشرکینِ مکہ کا بغض، عناد اور ہٹ دھرمی کا رویہ ظاہر ہوتا تھا۔ وہ دو قسم کے باطل پروپیگنڈے کرتے تھے:
1دعوتِ حق سے روکنے کا الزام — وہ لوگوں سے کہتے کہ "یہ شخص (نبی کریم ﷺ) تو صرف یہ چاہتا ہے کہ تمہیں ان معبودوں کی عبادت سے روک دے جن کی پوجا تمہارے باپ دادا کرتے آئے ہیں۔"
2قرآنِ مجید پر تہمت — وہ کھلم کھلا قرآنِ مجید کے بارے میں کہتے کہ "یہ محض ایک گھڑا ہوا جھوٹ اور افترا ہے۔"
"آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما دیجیے کہ میں نے تم سے جو بھی اجر مانگا ہو تو وہ تمہارے ہی لیے ہے؛ میرا اجر تو صرف اللہ ہی کے ذمے ہے، اور وہ ہر چیز پر گواہ (اور مطلع) ہے۔"
اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی زبانِ مبارک سے مشرکین اور تمام انسانوں کے سامنے دعوت و تبلیغ کا بے لوث جذبہ، اخلاصِ کامل اور داعیِ حق کا مقام واضح فرمایا ہے۔
1"میں نے جو اجر مانگا وہ بھی تمہارے ہی لیے ہے" (بے لوث نصیحت) — دعوت و تبلیغ کا مقصد — تمام انبیائے کرام علیہم السلام کا مشترکہ اسلوب یہی رہا ہے کہ وہ اپنی قوم سے ہدایت کی روشنی پھیلانے اور دین کی محنت کے بدلے میں کسی دنیوی مال، عزت، عہدے یا صلے کی خواہش نہیں رکھتے تھے۔
2"میں نے جو اجر مانگا وہ بھی تمہارے ہی لیے ہے" (بے لوث نصیحت) — "وہ تمہارے ہی لیے ہے" کا مفہوم — اگر بالفرض کوئی اجر یا رعایت کا تقاضا کیا بھی گیا ہے تو اس کا فائدہ بھی دراصل مخاطبین ہی کو پہنچتا ہے۔
3"میں نے جو اجر مانگا وہ بھی تمہارے ہی لیے ہے" (بے لوث نصیحت) — سورۃ الشوریٰ سے تائید — سورۃ الشوریٰ (آیت 23) میں فرمایا گیا کہ "میں تم سے اس پر کوئی اجر نہیں مانگتا سوائے قرابت داری کی محبت کے" — یعنی قریش سے صرف اتنی رعایت مانگی گئی کہ رشتہ داری کا پاس رکھو اور دین کے راستے میں رکاوٹ نہ بنو، اور اس کا فائدہ بھی خود انہی کو پہنچتا تھا۔
4"میرا اجر تو صرف اللہ کے ذمے ہے" (صرف رضائے الٰہی کا طلبگار ہونا) — رسول اللہ ﷺ نے صاف واضح فرما دیا کہ اس دن رات کی محنت، مشقت، دردمندی اور دعوت کا حقیقی اجر و ثواب انسانوں کے پاس ہے ہی نہیں۔
5"میرا اجر تو صرف اللہ کے ذمے ہے" (صرف رضائے الٰہی کا طلبگار ہونا) — میرا اجر صرف اور صرف ربّ العالمین کے ذمے ہے، جو اپنی شان کے مطابق مجھے جزا عطا فرمائے گا۔ اس اعلان نے مشرکین کے ان تمام گمانوں کا خاتمہ کر دیا کہ (نعوذ باللہ) آپ ﷺ یہ سب کچھ اقتدار یا دولت کے لیے کر رہے ہیں۔
6"وہ ہر چیز پر گواہ ہے" (کامل گواہی) — اللہ تعالیٰ ہر ظاہر و باطن سے اور انسان کے ارادوں اور نیّتوں سے مکمل طور پر باخبر اور گواہ ہے۔
7"وہ ہر چیز پر گواہ ہے" (کامل گواہی) — وہ جانتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کتنے اخلاص، سچائی اور دردمندی کے ساتھ حق کا پیغام پہنچا رہے ہیں اور منکرین کس طرح عناد، جھوٹ اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسی گواہی کی بنیاد پر حتمی فیصلہ فرمائے گا۔
آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی کن صفات کا ذکر کیا گیا ہے؟
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی درج ذیل دو عظمت والی صفات کا بیان ہے:
1حق کو غالب اور باطل کو زائل کرنے والا — اللہ تعالیٰ اپنی وحی اور حق کو باطل پر پوری قوت سے ڈالتا اور غالب فرماتا ہے، جس سے باطل مٹ جاتا ہے۔
2عَلَّـٰمُ ٱلۡغُيُوبِ (تمام غیبوں کو کما حقہٗ جاننے والا) — اللہ تعالیٰ کائنات کی تمام چھپی، پوشیدہ اور غیب کی باتوں کا کامل علم رکھنے والا ہے۔
سرگرمیاں برائے طلبہ
12سرگرمیاں برائے طلبہ
سورۃ سبأ کی روشنی میں تکبر کرنے والوں اور ان کی پیروی کرنے والوں کے مابین مکالمے کے اہم نکات تحریر کریں۔
قیامت کے دن تکبر کرنے والے (گمراہ کرنے والے سردار) اور ان کی پیروی کرنے والے (کمزور پیروکار) ایک دوسرے سے جھگڑیں گے۔ اس مکالمے کے اہم نکات یہ ہیں:
1پیروکاروں کا الزام — کمزور لوگ اپنے سرداروں سے کہیں گے: "اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور مومن ہوتے؛ تمہاری وجہ سے ہم گمراہ ہوئے۔"
2سرداروں کا جواب — تکبر کرنے والے کہیں گے: "کیا ہم نے تمہیں ہدایت آ جانے کے بعد اس سے روکا تھا؟ نہیں! بلکہ تم خود ہی مجرم اور سرکش تھے۔"
3پیروکاروں کی صفائی — کمزور لوگ کہیں گے: "نہیں! بلکہ تمہاری رات دن کی مکاریاں اور سازشیں تھیں جو ہمیں اللہ کے ساتھ کفر کرنے اور اس کے شریک ٹھہرانے کا حکم دیتی تھیں۔"
4نتیجہ — جب دونوں فریق عذاب دیکھیں گے تو اپنی ندامت اور شرمندگی دلوں میں چھپائیں گے، اور دونوں ہی اپنے کیے کی سزا بھگتیں گے۔
آیتِ کریمہ وَمَا بَلَـغُوۡا مِعۡشَارَ مَاۤ اٰتَيۡنٰهُمۡ کی رو سے ایسی چند قوموں کی مثالیں تلاش کریں جنہیں اللہ تعالیٰ نے بے پناہ نعمتیں دیں لیکن وہ ناشکری کے باعث ہلاک ہو گئیں۔
آیت کے مطابق قریشِ مکہ کو پہلی قوموں کے مقابلے میں دسویں حصے جتنی قوت اور مال بھی نہیں ملا تھا۔ تاریخ کی وہ چند قومیں جنہیں بے پناہ نعمتیں اور قوت دی گئی مگر ناشکری اور تکبر کی وجہ سے تباہ ہوئیں، درج ذیل ہیں:
1قومِ سبأ — نعمتیں — سرسبز و شاداب باغات، لذیذ پھل اور بہترین نہری نظام (بندِ مآرب)۔
2قومِ سبأ — ناشکری و انجام — اللہ کی نعمتوں کا انکار کیا تو ان پر "سیلِ عَرِم" (سخت نہری سیلاب) مسلط کر دیا گیا اور ان کے خوبصورت باغات کڑوے پھلوں والے درختوں اور جھاڑیوں میں بدل گئے۔
3قومِ عاد (قومِ حضرت ہود علیہ السلام) — نعمتیں — جسمانی طاقت، لمبے قد، مال و دولت اور بلند و بالا عالیشان عمارتیں۔
4قومِ عاد (قومِ حضرت ہود علیہ السلام) — ناشکری و انجام — اپنے زور و قوت پر غرور کیا اور کہا "ہم سے زیادہ طاقتور کون ہے؟" — نتیجتاً مسلسل سات راتیں اور آٹھ دن چلنے والی تیز و تند ہوا کے عذاب سے تباہ کر دیے گئے۔
5قومِ ثمود (قومِ حضرت صالح علیہ السلام) — نعمتیں — پہاڑ تراش کر بنائے گئے مکانات، فنِ تعمیر میں مہارت، کھیت اور باغات۔
6قومِ ثمود (قومِ حضرت صالح علیہ السلام) — ناشکری و انجام — اللہ کی اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں اور کھلی نافرمانی کی، جس پر ایک ہولناک چنگھاڑ (اور زلزلے) نے انہیں ان کے گھروں میں ڈھیر کر دیا۔
7قومِ فرعون — نعمتیں — مصر کی حکومت و بادشاہت، نہریں اور خزانوں کی فراوانی۔
8قومِ فرعون — ناشکری و انجام — تکبر کیا اور خدائی کا دعویٰ کیا، جس کے نتیجے میں بحرِ قلزم میں غرق کر دیے گئے۔
آیتِ کریمہ "وَأَنَّىٰ لَهُمُ ٱلتَّنَاوُشُ" کا مفہوم تحریر کریں۔
1لفظی معنی — "اَلتَّنَاوُش" کا مطلب ہے کسی دور کی چیز کو آسانی سے پکڑ لینا یا حاصل کر لینا۔
2آیت کا مفہوم — قیامت کے دن جب کافر عذاب دیکھ کر ایمان لانے کی خواہش کریں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اب اتنی دور (آخرت) سے ایمان کا ہاتھ آنا یا قبول ہونا کیسے ممکن ہے؟
3درس — ایمان اور توبہ کا وقت صرف دنیا کی زندگی ہے؛ آخرت میں عذاب دیکھ لینے کے بعد توبہ یا ایمان کی خواہش بالکل بے کار اور ناممکن ہو گی۔
15سرگرمیاں برائے طلبہ
مال اور اولاد کس طرح انسان کے لیے نعمت ہیں اور کس طرح آزمائش ہیں؟
قرآنِ مجید کی رو سے مال اور اولاد دونوں ہی پہلو رکھتے ہیں — یہ اللہ کی عظیم نعمتیں بھی ہیں اور بندے کے لیے کڑی آزمائش بھی:
نعمت کے طور پر اور آزمائش (فتنہ) کے طور پر
1نعمت کے طور پر — اگر مال حلال طریقے سے کمایا جائے اور اللہ کی راہ میں (زکوٰۃ، صدقات، غریبوں کی مدد اور نیکی کے کاموں میں) خرچ کیا جائے تو یہ عظیم نعمت اور آخرت میں درجات کی بلندی کا ذریعہ ہے۔
2نعمت کے طور پر — اگر اولاد کی نیک تربیت کی جائے اور وہ صالح بنے تو وہ والدین کے لیے صدقۂ جاریہ اور دنیا و آخرت میں آنکھوں کی ٹھنڈک بنتی ہے۔
3آزمائش (فتنہ) کے طور پر — اگر مال انسان میں تکبر، غرور، غفلت اور بخل پیدا کر دے اور وہ اللہ کے حقوق بھول جائے تو یہی مال اس کے لیے عذاب اور آزمائش بن جاتا ہے۔
4آزمائش (فتنہ) کے طور پر — اگر اولاد کی محبت میں انسان حلال و حرام کی تمیز بھول جائے، اللہ کی نافرمانی کرے اور دین کے احکام سے غافل ہو جائے تو وہی اولاد اس کی دنیا و آخرت کی تباہی کا سبب بن جاتی ہے۔
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔