یہ آیتِ مبارکہ قومِ سبأ کے تاریخی واقعے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بے شمار نعمتوں، امن اور زرخیز زمینوں سے نوازا تھا، لیکن ان کی ناشکری اور سرکشی نے انہیں تباہی و بربادی کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔
1
قومِ سبأ کا پس منظر اور نعمتیں — یمن کے علاقے میں آباد "سبأ" ایک انتہائی خوشحال اور متمدن قوم تھی۔
2
قومِ سبأ کا پس منظر اور نعمتیں — اللہ تعالیٰ نے انہیں پانی ذخیرہ کرنے کے لیے ایک زبردست اور مضبوط بند (ڈیم) بنانے کی توفیق دی تھی، جسے "مأرب کا بند" کہا جاتا ہے۔
3
قومِ سبأ کا پس منظر اور نعمتیں — اس بند کے پانی کی بدولت ان کے علاقے کے دونوں اطراف سرسبز و شاداب باغ، پھل دار درخت اور لذیذ غلے کی کثرت تھی۔ قرآنِ مجید میں ان کے اس ماحول کو "پاکیزہ شہر اور بخشنے والا رب" کی نعمت قرار دیا گیا۔
4
"فَأَعۡرَضُواْ" — ناشکری اور اعراض — اللہ تعالیٰ نے ان سے صرف یہ تقاضا کیا تھا کہ وہ ان نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کریں، توحید پر قائم رہیں اور انبیائے کرام علیہم السلام کی پیروی کریں۔
5
"فَأَعۡرَضُواْ" — ناشکری اور اعراض — لیکن انہوں نے اللہ کی نعمتوں پر فخر اور اِترانا شروع کر دیا، شکر گزاری کے بجائے نافرمانی اور کفر کی روش اختیار کی اور حق سے منہ موڑ لیا۔
6
"سَيۡلَ ٱلۡعَرِمِ" — بند توڑ تباہ کن سیلاب — "عَرِم" کے معنی — عربی میں "عَرِم" سخت اور مضبوط بند (ڈیم) یا کثرتِ آب کو کہتے ہیں۔
7
"سَيۡلَ ٱلۡعَرِمِ" — بند توڑ تباہ کن سیلاب — عذابِ الٰہی — جب ان کی سرکشی حد سے بڑھ گئی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اس عظیم بند میں شگاف پیدا کر دیا اور ایک خوفناک سیلاب آیا جس نے ان کی بستیوں، زرعی نظام اور خوبصورت باغات کو تہس نہس کر دیا۔
8
نعمتوں کا سَلب اور تبدیلی — اللہ تعالیٰ نے ان کے شاداب اور پھل دار باغات کے بدلے انہیں ایسے ویران باغ اور جھاڑیاں دیں جن میں صرف تین قسم کی بے فائدہ اور کڑوی نباتات رہ گئیں:
9
نعمتوں کا سَلب اور تبدیلی — أُكُلٍ خَمۡطٖ — بدذائقہ، کڑوے اور بدبودار پھل والے درخت۔
10
نعمتوں کا سَلب اور تبدیلی — أَثۡلٖ — جھاؤ (Tamarisk) کے بے سایہ اور بغیر پھل والے درخت، جو صرف لکڑی کے کام آتے ہیں۔
11
نعمتوں کا سَلب اور تبدیلی — شَيۡءٖ مِّن سِدۡرٖ قَلِيلٖ — تھوڑی سی بیری کے درخت، جن میں کانٹے زیادہ اور پھل بہت کم ہوتا ہے۔