نویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 19: سبق 19: سورۃ سبأ (حصہ اول) — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں برائے طلبہ · 17 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

يَعۡلَمُ مَا يَلِجُ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَمَا يَخۡرُجُ مِنۡهَا وَمَا يَنزِلُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ وَمَا يَعۡرُجُ فِيهَاۚ وَهُوَ ٱلرَّحِيمُ ٱلۡغَفُورُ (سورۃ سبأ ۔ آیت 2)

آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی کون سی صفات بیان ہوئی ہیں؟

اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی درج ذیل صفات بیان ہوئی ہیں:

1 علمِ کامل — اللہ تعالیٰ ہر اُس چیز کا علم رکھتا ہے جو زمین میں داخل ہوتی ہے، جو اس سے نکلتی ہے، جو آسمان سے نازل ہوتی ہے اور جو اس میں اوپر چڑھتی ہے۔
2 الرحیم (بہت رحم کرنے والا) — وہ اپنے بندوں پر نہایت مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔
3 الغفور (بہت بخشنے والا) — وہ گناہوں کو معاف کرنے اور بخشش فرمانے والا ہے۔
2 مختصر جوابات

وَلِسُلَيۡمَٰنَ ٱلرِّيحَ غُدُوُّهَا شَهۡرٞ وَرَوَاحُهَا شَهۡرٞ (سورۃ سبأ ۔ آیت 12 (ابتدائی حصہ))

آیتِ کریمہ میں سیدنا سلیمان علیہ السلام کے کس معجزے کا ذکر ہے؟

جواب اس آیتِ کریمہ میں سیدنا سلیمان علیہ السلام کے لیے ہوا کو مسخر (تابع) کر دینے کے معجزے کا ذکر ہے۔ ہوا ان کے حکم سے صبح کے وقت ایک ماہ کی مسافت اور شام کے وقت ایک ماہ کی مسافت طے کراتی تھی، یعنی ایک ہی دن میں دو مہینے کا سفر مکمل ہو جاتا تھا۔
3 مختصر جوابات

يَعۡمَلُونَ لَهُۥ مَا يَشَآءُ مِن مَّحَٰرِيبَ وَتَمَٰثِيلَ وَجِفَانٖ كَٱلۡجَوَابِ وَقُدُورٖ رَّاسِيَٰتٍ (سورۃ سبأ ۔ آیت 13 (ابتدائی حصہ))

آیتِ کریمہ کی رو سے سیدنا سلیمان علیہ السلام کے لیے جنات کون سے کام کرتے تھے؟

جنات سیدنا سلیمان علیہ السلام کے حکم سے درج ذیل چیزیں بناتے تھے:

1 محاریب — عالی شان قلعے، بلند عمارتیں اور عبادت گاہیں۔
2 تماثیل — مجسمے اور تصاویر (جو اُس وقت کی شریعت میں جائز تھیں)۔
3 جفانٍ کالجواب — حوضوں جیسے بڑے بڑے پیالے اور لگن۔
4 قدورٍ راسیات — اپنی جگہ پر جمی رہنے والی بڑی اور بھاری دیگیں۔
4 مختصر جوابات

وَلَقَدۡ صَدَّقَ عَلَيۡهِمۡ إِبۡلِيسُ ظَنَّهُۥ فَٱتَّبَعُوهُ إِلَّا فَرِيقٗا مِّنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ (سورۃ سبأ ۔ آیت 20)

آیتِ کریمہ میں شیطان کے قومِ سبأ کو بہکانے کے متعلق کیا خبر دی گئی ہے؟

جواب آیت میں خبر دی گئی ہے کہ شیطان نے قومِ سبأ کے بارے میں جو گمان کیا تھا کہ وہ انہیں گمراہ کر لے گا، اس نے اپنے اُس گمان کو سچ کر دکھایا۔ چنانچہ مؤمنوں کے ایک گروہ کے سوا باقی سب لوگ اس کے پیچھے لگ گئے اور گمراہی میں مبتلا ہو گئے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان کے پاس کوئی زبردستی کی طاقت نہیں، وہ صرف وسوسہ ڈالتا ہے اور انسان اپنی مرضی سے اس کی پیروی کرتا ہے۔
5 مختصر جوابات

وَمَآ أَرۡسَلۡنَٰكَ إِلَّا كَآفَّةٗ لِّلنَّاسِ بَشِيرٗا وَنَذِيرٗا وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ (سورۃ سبأ ۔ آیت 28)

آیتِ کریمہ میں نبی کریم خاتم النبیین ﷺ کی رسالت کی کیا شان بیان فرمائی گئی ہے؟

اس آیتِ کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کی عالمگیر رسالت کی شان بیان کی گئی ہے:

1 آپ ﷺ کو کسی خاص قوم یا خاص علاقے کے لیے نہیں، بلکہ تمام انسانوں کے لیے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے۔
2 آپ ﷺ تمام انسانوں کے لیے بشیر (خوشخبری دینے والے) اور نذیر (ڈرانے والے) ہیں۔
3 اس کے باوجود اکثر لوگ اس حقیقت اور آپ ﷺ کے مقامِ رسالت کو نہیں جانتے۔

تفصیلی جوابات

6 تفصیلی جوابات

ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ ٱلَّذِي لَهُۥ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلَهُ ٱلۡحَمۡدُ فِي ٱلۡأٓخِرَةِۚ وَهُوَ ٱلۡحَكِيمُ ٱلۡخَبِيرُ (سورۃ سبأ ۔ آیت 1)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت تحریر کریں۔

ترجمہ

"تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، جس کی ملکیت میں وہ سب کچھ ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور آخرت میں بھی تعریف اسی کے لیے ہے، اور وہی حکمت والا، پوری طرح باخبر ہے۔"

سورۃ سبأ کی ابتدا اللہ تعالیٰ کی عظمت، اس کی مطلق ملکیت اور تمام جہانوں پر اس کے کامل احاطۂ علم و حکمت کے بیان سے ہوتی ہے۔ اس کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

1 "ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ ٱلَّذِي لَهُۥ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِ" — دنیاوی ملکیت اور حمد — حقیقی مالک — کائنات میں موجود ہر چیز — ستارے، سیارے، انسان، فرشتے، زمین اور اس کے تمام وسائل — کا حقیقی مالک صرف اللہ ہے۔ انسان کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ عارضی طور پر بطورِ امانت دیا گیا ہے۔
2 "ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ ٱلَّذِي لَهُۥ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِ" — دنیاوی ملکیت اور حمد — حمد کا مستحق — جب ہر نعمت اور ہر مخلوق کا خالق و مالک اللہ ہی ہے، تو ہر قسم کی تعریف، شکر اور عبادت کا حقیقی حق دار بھی صرف وہی ایک ذات ہے۔
3 "وَلَهُ ٱلۡحَمۡدُ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ" — آخرت میں بھی تعریف — دنیا میں تو بندے اللہ کی نعمتوں پر اس کا شکر اور حمد ادا کرتے ہی ہیں، لیکن آخرت میں بھی تمام تر حمد اللہ ہی کے لیے ہوگی۔
4 "وَلَهُ ٱلۡحَمۡدُ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ" — آخرت میں بھی تعریف — قیامت کے دن جب اہلِ جنت جنت میں داخل ہوں گے تو ان کی زبانوں پر بے ساختہ یہ الفاظ ہوں گے: "اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَہٗ" (تمام تعریفیں اُس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہم سے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا)۔
5 "وَلَهُ ٱلۡحَمۡدُ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ" — آخرت میں بھی تعریف — وہاں عذاب سے نجات پانے اور اللہ کی رضا حاصل ہونے پر تمام مخلوق اللہ کے عدل اور اس کے فضل پر اسی کی حمد بیان کرے گی۔
6 "وَهُوَ ٱلۡحَكِيمُ ٱلۡخَبِيرُ" — حکمت اور علمِ کامل — ٱلۡحَكِيم (حکمت والا) — اللہ تعالیٰ جو بھی تخلیق فرماتا ہے یا کائنات میں جو تدبیر و فیصلے کرتا ہے، ان میں بے شمار حکمتیں پوشیدہ ہوتی ہیں؛ اس کا کوئی کام مقصد سے خالی نہیں ہوتا۔
7 "وَهُوَ ٱلۡحَكِيمُ ٱلۡخَبِيرُ" — حکمت اور علمِ کامل — ٱلۡخَبِير (باخبر) — وہ کائنات کے ہر چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے ذرے سے، اور انسان کے دل کے رازوں سے بھی مکمل طور پر باخبر ہے۔
7 تفصیلی جوابات

سورۃ سبأ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔

جواب اس سوال کا جواب نصابی کتاب کے صفحہ نمبر 130 پر موجود ہے۔
8 تفصیلی جوابات

وَٱلَّذِينَ سَعَوۡ فِيٓ ءَايَٰتِنَا مُعَٰجِزِينَ أُوْلَـٰٓئِكَ لَهُمۡ عَذَابٞ مِّن رِّجۡزٍ أَلِيمٞ ۝ وَيَرَى ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡعِلۡمَ ٱلَّذِيٓ أُنزِلَ إِلَيۡكَ مِن رَّبِّكَ هُوَ ٱلۡحَقَّ وَيَهۡدِيٓ إِلَىٰ صِرَٰطِ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡحَمِيدِ (سورۃ سبأ ۔ آیات 5 و 6)

آیاتِ کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت تحریر کریں۔

ترجمہ

"اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو عاجز (اور ناکام) کرنے کی کوشش کی، ان کے لیے دردناک قسم کا سخت عذاب ہے۔ اور جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے، وہ دیکھتے (اور جانتے) ہیں کہ جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے وہی حق ہے، اور وہ اُس ذات کی راہ کی طرف ہدایت دیتا ہے جو زبردست اور سب خوبیوں والی ہے۔"

ان آیاتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے دو مختلف طرزِ فکر اور دو گروہوں کا تقابل پیش فرمایا ہے: ایک طرف کفر و عناد کا رویہ اور اس کا دردناک انجام، اور دوسری طرف اہلِ علم کی بصیرت اور حق کی معرفت۔

1 معاندین و منکرین کا رویہ اور ان کی سزا (آیت 5) — "سَعَوۡ فِيٓ ءَايَٰتِنَا مُعَٰجِزِينَ" — اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ کی آیات، قرآنِ مجید اور پیامِ حق کو ناکام و باطل کرنے کے لیے دن رات جدوجہد کرتے ہیں۔
2 معاندین و منکرین کا رویہ اور ان کی سزا (آیت 5) — وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اعتراضات، جھوٹے پروپیگنڈے اور استہزا کے ذریعے وہ اللہ کے دین کا راستہ روک لیں گے یا اللہ کے عذاب سے بچ نکلیں گے۔
3 معاندین و منکرین کا رویہ اور ان کی سزا (آیت 5) — "عَذَابٞ مِّن رِّجۡزٍ أَلِيمٞ" — عربی میں "رِجز" عذاب کی شدید ترین اور سخت ترین قسم کو کہتے ہیں۔ حق کو عاجز کرنے کی فریب کاریوں میں لگے رہنے والوں کے لیے ایسا عذاب تیار ہے جو انتہائی دردناک اور ہر قسم کی سختی سے پُر ہوگا۔
4 اہلِ علم کی بصیرت اور حق کا اعتراف (آیت 6) — پچھلی آیت میں جاہل اور معاند منکرین کے رویے کا ذکر تھا، جبکہ اس آیت میں اہلِ علم — یعنی سچے علماء، اہلِ کتاب کے انصاف پسند لوگ اور وہ تمام بصیرت رکھنے والے جنہیں اللہ نے عقلِ سلیم عطا کی — کا مثبت طرزِ عمل بیان کیا گیا ہے:
5 اہلِ علم کی بصیرت اور حق کا اعتراف (آیت 6) — حق کی معرفت — اہلِ علم کے سامنے جب قرآنِ مجید کے دلائل اور اس کی تعلیمات پیش ہوتی ہیں، تو وہ اپنے علم اور بصیرت سے فوراً پہچان لیتے ہیں کہ جو کچھ رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا ہے وہ حقیقت پر مبنی اور عینِ حق ہے۔
6 اہلِ علم کی بصیرت اور حق کا اعتراف (آیت 6) — "صِرَٰطِ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡحَمِيدِ" (اللہ کا سیدھا راستہ) — وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ یہ قرآن انسانوں کو اُس ذات کی طرف ہدایت دیتا ہے جو "العزیز" (سب پر غالب، جس کی بادشاہی کو کوئی چیلنج نہیں کر سکتا) اور "الحمید" (تمام تعریفوں کے لائق) ہے۔
7 اہلِ علم کی بصیرت اور حق کا اعتراف (آیت 6) — اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن جس زندگی کے راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے، وہی دنیا و آخرت کی حقیقی کامیابی کا واحد راستہ ہے۔
9 تفصیلی جوابات

سورۃ سبأ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔

جواب اس سوال کا جواب نصابی کتاب کے صفحہ نمبر 130 پر موجود ہے۔
10 تفصیلی جوابات

فَأَعۡرَضُواْ فَأَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ سَيۡلَ ٱلۡعَرِمِ وَبَدَّلۡنَٰهُم بِجَنَّتَيۡهِمۡ جَنَّتَيۡنِ ذَوَاتَيۡ أُكُلٍ خَمۡطٖ وَأَثۡلٖ وَشَيۡءٖ مِّن سِدۡرٖ قَلِيلٖ (سورۃ سبأ ۔ آیت 16)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت تحریر کریں۔

ترجمہ

"تو انہوں نے منہ موڑ لیا، سو ہم نے ان پر بند توڑ (تباہ کن) سیلاب بھیج دیا، اور ان کے دو (سرسبز) باغوں کے بدلے انہیں ایسے دو باغ دے دیے جو کڑوے پھلوں، جھاؤ کے درختوں اور کچھ تھوڑی سی بیریوں والے تھے۔"

یہ آیتِ مبارکہ قومِ سبأ کے تاریخی واقعے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بے شمار نعمتوں، امن اور زرخیز زمینوں سے نوازا تھا، لیکن ان کی ناشکری اور سرکشی نے انہیں تباہی و بربادی کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔

1 قومِ سبأ کا پس منظر اور نعمتیں — یمن کے علاقے میں آباد "سبأ" ایک انتہائی خوشحال اور متمدن قوم تھی۔
2 قومِ سبأ کا پس منظر اور نعمتیں — اللہ تعالیٰ نے انہیں پانی ذخیرہ کرنے کے لیے ایک زبردست اور مضبوط بند (ڈیم) بنانے کی توفیق دی تھی، جسے "مأرب کا بند" کہا جاتا ہے۔
3 قومِ سبأ کا پس منظر اور نعمتیں — اس بند کے پانی کی بدولت ان کے علاقے کے دونوں اطراف سرسبز و شاداب باغ، پھل دار درخت اور لذیذ غلے کی کثرت تھی۔ قرآنِ مجید میں ان کے اس ماحول کو "پاکیزہ شہر اور بخشنے والا رب" کی نعمت قرار دیا گیا۔
4 "فَأَعۡرَضُواْ" — ناشکری اور اعراض — اللہ تعالیٰ نے ان سے صرف یہ تقاضا کیا تھا کہ وہ ان نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کریں، توحید پر قائم رہیں اور انبیائے کرام علیہم السلام کی پیروی کریں۔
5 "فَأَعۡرَضُواْ" — ناشکری اور اعراض — لیکن انہوں نے اللہ کی نعمتوں پر فخر اور اِترانا شروع کر دیا، شکر گزاری کے بجائے نافرمانی اور کفر کی روش اختیار کی اور حق سے منہ موڑ لیا۔
6 "سَيۡلَ ٱلۡعَرِمِ" — بند توڑ تباہ کن سیلاب — "عَرِم" کے معنی — عربی میں "عَرِم" سخت اور مضبوط بند (ڈیم) یا کثرتِ آب کو کہتے ہیں۔
7 "سَيۡلَ ٱلۡعَرِمِ" — بند توڑ تباہ کن سیلاب — عذابِ الٰہی — جب ان کی سرکشی حد سے بڑھ گئی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اس عظیم بند میں شگاف پیدا کر دیا اور ایک خوفناک سیلاب آیا جس نے ان کی بستیوں، زرعی نظام اور خوبصورت باغات کو تہس نہس کر دیا۔
8 نعمتوں کا سَلب اور تبدیلی — اللہ تعالیٰ نے ان کے شاداب اور پھل دار باغات کے بدلے انہیں ایسے ویران باغ اور جھاڑیاں دیں جن میں صرف تین قسم کی بے فائدہ اور کڑوی نباتات رہ گئیں:
9 نعمتوں کا سَلب اور تبدیلی — أُكُلٍ خَمۡطٖ — بدذائقہ، کڑوے اور بدبودار پھل والے درخت۔
10 نعمتوں کا سَلب اور تبدیلی — أَثۡلٖ — جھاؤ (Tamarisk) کے بے سایہ اور بغیر پھل والے درخت، جو صرف لکڑی کے کام آتے ہیں۔
11 نعمتوں کا سَلب اور تبدیلی — شَيۡءٖ مِّن سِدۡرٖ قَلِيلٖ — تھوڑی سی بیری کے درخت، جن میں کانٹے زیادہ اور پھل بہت کم ہوتا ہے۔
11 تفصیلی جوابات

وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَا دَاوُۥدَ مِنَّا فَضۡلٗاۖ يَٰجِبَالُ أَوِّبِي مَعَهُۥ وَٱلطَّيۡرَۖ وَأَلَنَّا لَهُ ٱلۡحَدِيدَ ۝ أَنِ ٱعۡمَلۡ سَٰبِغَٰتٖ وَقَدِّرۡ فِي ٱلسَّرۡدِۖ وَٱعۡمَلُواْ صَٰلِحًاۖ إِنِّي بِمَا تَعۡمَلُونَ بَصِيرٞ (سورۃ سبأ ۔ آیات 10 و 11)

ان آیاتِ کریمہ کے مطابق سیدنا داؤد علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ کے کس فضل اور کن احکامات کا ذکر ہے؟

ترجمہ

"اور بے شک ہم نے داؤد کو اپنی طرف سے بڑا فضل عطا کیا۔ اے پہاڑو! اس کے ساتھ مل کر (تسبیح میں) رجوع کرو، اور اے پرندو! تم بھی۔ اور ہم نے اس کے لیے لوہے کو نرم کر دیا۔ (اور حکم دیا) کہ کشادہ اور مکمل زرہیں بناؤ اور کڑیوں کے جوڑنے میں اندازہ رکھو، اور تم سب نیک عمل کرو؛ بے شک تم جو کچھ کرتے ہو میں اسے دیکھ رہا ہوں۔"

ان آیاتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے جلیل القدر نبی سیدنا داؤد علیہ السلام پر کیے گئے خاص فضل و کرم اور انہیں دیے گئے احکامات کا ذکر فرمایا ہے۔

خلاصہ

1 سیدنا داؤد علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ کے احسانات اور فضل — پہاڑوں اور پرندوں کی تسخیر (خوش الحانی) — اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسی دردمند اور خوش الحان آواز عطا فرمائی تھی کہ جب آپ زبور کی تلاوت یا اللہ کی حمد و ثنا بیان کرتے تو پہاڑ اور پرندے بھی آپ کے ساتھ مل کر تسبیح پڑھنے لگتے اور نغمۂ توحید میں شریک ہو جاتے۔
2 سیدنا داؤد علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ کے احسانات اور فضل — لوہے کا نرم ہو جانا (معجزہ) — اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے لوہے جیسی سخت دھات کو موم کی طرح نرم کر دیا تھا۔ آپ بغیر آگ میں تپائے اور بغیر ہتھوڑے کے، اپنے ہاتھوں سے لوہے کو جس سانچے میں چاہتے ڈھال لیتے تھے۔
3 سیدنا داؤد علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ کے احسانات اور فضل — نبوت کے ساتھ حکومت — آیت کا آغاز ہی اس بات سے ہوتا ہے کہ اللہ نے انہیں دینی اور دنیاوی دونوں اعتبار سے بلندی اور فضل عطا فرمایا۔
4 سیدنا داؤد علیہ السلام کو دیے گئے احکامات — مکمل اور کشادہ زرہیں بنانے کا حکم ("ٱعۡمَلۡ سَٰبِغَٰتٖ") — انہیں ہدایت دی گئی کہ وہ دفاعی مقصد کے لیے ایسی کشادہ اور مکمل زرہیں بنائیں جو جنگ کے وقت مجاہدین کی کامل حفاظت کر سکیں۔
5 سیدنا داؤد علیہ السلام کو دیے گئے احکامات — کاریگری میں باریک بینی اور تناسب ("وَقَدِّرۡ فِي ٱلسَّرۡدِ") — زرہیں بناتے وقت کڑیوں کے جوڑنے میں درست اندازہ اور صفائی رکھنے کا حکم دیا گیا — نہ کڑیاں اتنی بڑی ہوں کہ زرہ بے ڈھنگی ہو جائے اور نہ اتنی چھوٹی کہ جوڑ ٹوٹ جائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام معیاری اور پائیدار کام کی ہدایت دیتا ہے۔
6 سیدنا داؤد علیہ السلام کو دیے گئے احکامات — نیک اعمال کی پابندی ("وَٱعۡمَلُواْ صَٰلِحٗا") — سیدنا داؤد علیہ السلام اور ان کی آل کو حکم دیا گیا کہ اللہ کی ان نعمتوں کا حق ادا کرنے کے لیے ہمیشہ اعمالِ صالحہ پر کاربند رہیں۔
7 سیدنا داؤد علیہ السلام کو دیے گئے احکامات — اللہ کی نگرانی کا احساس ("إِنِّي بِمَا تَعۡمَلُونَ بَصِيرٞ") — آخر میں متوجہ کیا گیا کہ تم جو کچھ بھی کرتے ہو اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے، اس لیے نیت اور عمل دونوں پاکیزہ ہونے چاہئیں۔
جواب ان آیات میں سیدنا داؤد علیہ السلام کے فضل کے طور پر تسبیح میں پہاڑوں اور پرندوں کی ہمنوائی اور دستِ مبارک میں لوہے کے نرم ہو جانے کا ذکر ہے، جبکہ احکامات میں زرہ سازی کی سلیقہ مندی، محنت سے حلال روزی کمانے اور نیکی پر استقامت کی تعلیم دی گئی ہے۔

سرگرمیاں برائے طلبہ

12 سرگرمیاں برائے طلبہ

قومِ سبأ کے ملک کی طرح اللہ تعالیٰ نے ہمارے ملک کو بھی بہت سی نعمتیں عطا فرمائی ہیں؛ ان میں سے کوئی پانچ نعمتیں لکھیں۔

1 سرسبز و زرخیز زمین — بہترین زرعی نظام اور وافر پیداوار، جس سے گندم، چاول، گنّا اور کپاس حاصل ہوتی ہے۔
2 چاروں موسم — گرمی، سردی، خزاں اور بہار کی متوازن موجودگی۔
3 قدرتی وسائل اور معدنیات — کوئلہ، نمک، گیس اور سونے و تانبے کے زبردست ذخائر۔
4 دریا اور نہری نظام — ہمالیہ سے نکلنے والے بڑے دریا اور دنیا کا ایک وسیع نہری نظام۔
5 پہاڑ اور ساحلِ سمندر — بلند و بالا پہاڑی سلسلے اور تجارتی و سیاحتی اہمیت کا حامل سمندری ساحل۔
13 سرگرمیاں برائے طلبہ

شفاعت کے صحیح عقیدے کی وضاحت کریں۔

قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنے پیارے نبی حضرت محمد خاتم النبیین ﷺ اور دیگر مقبول بندوں کو اجازت دے گا کہ وہ گناہ گار مومنوں کی بخشش و مغفرت کے لیے سفارش (شفاعت) کریں۔

بنیادی شرائط

1 شفاعت صرف اللہ تعالیٰ کی اجازت ہی سے ممکن ہو سکے گی؛ کوئی اپنے زور پر سفارش نہیں کر سکے گا۔
2 شفاعت صرف اُن لوگوں کے لیے ہوگی جن کے حق میں اللہ تعالیٰ پسند فرمائے گا، یعنی اہلِ توحید کے لیے۔
3 مشرک، کافر اور منافق کے لیے کوئی شفاعت کام نہ آئے گی۔
14 سرگرمیاں برائے طلبہ

سورۃ سبأ کے تناظر میں "پاکستان میں پائی جانے والی نعمتیں" کے موضوع پر تحریر لکھیں۔

1 شکر گزاری کی اہمیت — جس طرح قومِ سبأ کو اللہ تعالیٰ نے امن، خوشحالی اور بہترین باغات کی نعمت سے نوازا تھا، بالکل اسی طرح پاکستان کو بھی بیش بہا نعمتیں حاصل ہیں — زرخیز زمین، دریا، معدنیات، چاروں موسم اور محنتی افرادی قوت۔
2 سبق — اگر ہم ان نعمتوں کا درست استعمال کریں، عدل قائم کریں اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں تو یہ نعمتیں قائم رہیں گی اور ان میں برکت ہوگی۔ ناشکری، اسراف اور بدعنوانی قوموں کے زوال کا باعث بنتی ہے، جیسا کہ قومِ سبأ کے انجام سے واضح ہے۔
15 سرگرمیاں برائے طلبہ

سیدنا داؤد علیہ السلام کے چند معجزات اور انہیں دی گئی تعلیمات تحریر کریں، اور قومِ سبأ کا واقعہ بیان کریں۔

قومِ سبأ کا واقعہ

1 معجزات — لوہے کا نرم ہونا — اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے لوہے کو موم کی طرح نرم کر دیا تھا، جس سے آپ زرہیں بناتے تھے۔
2 معجزات — پہاڑوں اور پرندوں کی تسبیح — جب آپ زبور کی تلاوت کرتے تو پہاڑ اور پرندے بھی آپ کے ساتھ تسبیح پڑھتے تھے۔
3 تعلیمات — زرہیں مکمل حساب اور درست اندازے کے ساتھ بنانا، یعنی ہر کام معیاری اور سلیقے سے کرنا۔
4 تعلیمات — ہمیشہ نیک اعمال کرتے رہنا اور یہ یقین رکھنا کہ اللہ تعالیٰ ہر عمل کو دیکھ رہا ہے۔
جواب قومِ سبأ (یمن) کو اللہ تعالیٰ نے امن، خوشحالی اور لذیذ پھلوں والے باغات عطا کیے تھے۔ جب انہوں نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی، انبیائے کرام کی تکذیب کی اور سرکشی اختیار کی، تو اللہ تعالیٰ نے ان پر "سیلِ عَرِم" (بند توڑ سیلاب) کا عذاب نازل فرمایا، جس سے ان کے خوبصورت باغ کڑوے پھلوں اور جھاڑی دار درختوں میں بدل گئے۔
16 سرگرمیاں برائے طلبہ

"تماثیل" کے معنی و مفہوم بیان کریں۔

1 معنی — "تماثیل" تمثال کی جمع ہے، جس کے معنی تصاویر، مجسمے یا شبیہ کے ہیں۔
2 مفہوم — سیدنا سلیمان علیہ السلام کے دور میں جنات ان کے حکم سے عمارتوں میں نقش و نگار، زینتی مجسمے اور محرابیں بناتے تھے، جو اُس وقت کی شریعت میں جائز تھے۔ (اسلامی شریعت میں جانداروں کے مجسمے بنانا ممنوع ہے۔)
17 سرگرمیاں برائے طلبہ

پاکستان کی زراعت، نظامِ آبپاشی اور جغرافیائی لحاظ سے اس خطۂ زمین پر اللہ تعالیٰ کے احسانات کے بارے میں تحریر کریں۔

1 زراعت اور نظامِ آبپاشی — پاکستان کا نہری نظام دنیا کے بہترین نظاموں میں شمار ہوتا ہے، جس سے کروڑوں ایکڑ زمین سیراب ہوتی ہے۔ دریائے سندھ اور اس کے معاون دریا اس زرعی معیشت کی بنیاد ہیں۔
2 جغرافیائی اہمیت — پاکستان ایشیا کے مرکز میں واقع ہے اور چین، وسطی ایشیا اور خلیجی ممالک کے لیے ایک اہم تجارتی راہداری فراہم کرتا ہے۔ بلند پہاڑی سلسلے، وسیع میدان، صحرا اور ساحلِ سمندر — سب ایک ہی ملک میں موجود ہیں۔
3 درس — یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کا عظیم فضل ہیں، جن پر ہمیں انفرادی اور اجتماعی طور پر شکر گزار رہنا چاہیے اور ان وسائل کو امانت سمجھ کر درست طریقے سے استعمال کرنا چاہیے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.