آیتِ کریمہ کے مطابق سیدنا زکریا علیہ السلام نے اپنی کمزوری اور بڑھاپے کے باوجود اللہ تعالیٰ سے کس امید کا اظہار فرمایا؟
جوابسیدنا زکریا علیہ السلام نے اپنی کمزوری اور بڑھاپے کے باوجود اللہ تعالیٰ سے یہ امید ظاہر فرمائی کہ: "اے میرے رب! میں تجھ سے دعا مانگ کر کبھی محروم (نامراد) نہیں رہا۔" یعنی انہوں نے کامل یقین کا اظہار کیا کہ اللہ تعالیٰ بوڑھا ہونے کے باوجود ان کی دعاؤں کو ضرور قبول فرمائے گا۔
"اے زکریا! ہم تمہیں ایک لڑکے کی خوش خبری دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہے، ہم نے اس سے پہلے اس نام کا کوئی شخص نہیں بنایا۔"
وضاحت
1دعا کی قبولیت کا معجزہ — حضرت زکریا علیہ السلام بظاہر انتہائی ضعیف ہو چکے تھے اور ان کی بیوی بانجھ تھیں، لیکن انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور نہایت عاجزی سے ایک پاکیزہ وارث اور جانشین کے لیے دعا کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرما کر حضرت یحییٰ علیہ السلام کی بشارت دی، جو اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ کے ہاں کوئی بات ناممکن نہیں اور وہ تمام اسباب کا خالق ہے۔
2اللہ کی طرف سے نام رکھنا — عام طور پر بچے کا نام والدین رکھتے ہیں، لیکن حضرت یحییٰ علیہ السلام کا نام خود اللہ تعالیٰ نے منتخب فرمایا۔
3"یحییٰ" کے معنی — "یحییٰ" کے لغوی معنی "زندہ رہنے والے" یا "زندگی پانے والے" کے ہیں؛ علماء کرام کے مطابق اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ذریعے ایمان و ہدایت کی مرجھائی ہوئی روح کو دوبارہ زندگی عطا کی۔
4اسمِ مبارک کی بے نظیری — "ہم نے اس سے پہلے اس نام کا کوئی شخص نہیں بنایا" سے مراد دو باتیں بیان کی جاتی ہیں: (1) حضرت یحییٰ علیہ السلام سے پہلے انسانی تاریخ میں کسی کا نام "یحییٰ" نہیں رکھا گیا تھا؛ (2) یا اس کا مطلب یہ ہے کہ صفات اور کمالاتِ نبوت میں ان کی بعض خصوصی صفات (مثلاً بچپن ہی سے حکمت و نبوت اور کامل تقویٰ) میں ان کی کوئی سابقہ مثال نہیں تھی۔
جوابخلاصہ: یہ آیت انسان کو اللہ تعالیٰ کی بے پناہ قدرت پر کامل بھروسا رکھنے اور ناامیدی سے بچنے کا درس دیتی ہے؛ ساتھ ہی حضرت یحییٰ علیہ السلام کے مقام و مرتبے کو نمایاں کرتی ہے کہ ان کی ولادت اور نام دونوں ہی اللہ تعالیٰ کا خاص معجزہ تھے۔
7تفصیلی جوابات
سورۃ مریم کا مختصر تعارف اور مرکزی مضمون بیان کریں۔
جوابنوٹ: اس سوال کا جواب نصابی کتاب کے صفحہ نمبر 6 پر موجود ہے؛ وہاں سے تیار کریں۔
"(فرشتے نے) کہا: بات یوں ہی ہے، تیرے رب نے فرمایا ہے کہ یہ میرے لیے بہت آسان ہے، اور اس سے پہلے میں تجھے بھی تو پیدا کر چکا ہوں جب کہ تو کچھ بھی نہ تھا۔"
وضاحت
1اللہ تعالیٰ کی مطلق قدرت ("یہ میرے لیے بہت آسان ہے") — انسان اسباب کا پابند ہے، یعنی بچہ پیدا ہونے کے لیے جوانی اور صحت مند والدین کا ہونا ظاہری سبب ہے؛ لیکن اللہ تعالیٰ اسباب کا محتاج نہیں۔ وہ کسی بھی کام کے لیے صرف "کُن" (ہو جا) کا حکم دیتا ہے اور وہ کام ہو جاتا ہے۔ بڑھاپے یا بیماری جیسی ظاہری رکاوٹیں اللہ کی قدرت کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔
2عدم سے وجود میں لانا ("میں تجھے بھی تو پیدا کر چکا ہوں…") — اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا علیہ السلام کو ان کی اپنی تخلیق یاد دلائی: پہلی تخلیق (عدم سے وجود) — انسان کا پہلے بالکل کوئی نام و نشان نہ تھا، اللہ نے اسے عدم سے پیدا کیا؛ اور استدلال یہ کہ جب اللہ ایک انسان کو کچھ نہ ہونے کی حالت سے بنا سکتا ہے، تو موجودہ انسان کو (چاہے وہ کتنا ہی بوڑھا کیوں نہ ہو) اولاد عطا کرنا اس کے لیے کیسے مشکل ہو سکتا ہے؟
9تفصیلی جوابات
سورۃ مریم کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔
جوابنوٹ: اس سوال کا جواب نصابی کتاب کے صفحہ نمبر 6 پر موجود ہے؛ وہاں سے تیار کریں۔
"اور آپ انہیں حسرت والے دن (قیامت) سے ڈرا دیں، جب فیصلہ کر دیا جائے گا اور وہ (اس وقت) غفلت میں ہیں اور ایمان نہیں لا رہے۔"
وضاحت
1قیامت کو "حسرت کا دن" (يَوۡمَ ٱلۡحَسۡرَةِ) کیوں کہا گیا؟ — قیامت کا ایک نام "یوم الحسرۃ" یعنی افسوس اور پچھتاوے کا دن ہے۔ اس دن ہر انسان حسرت کرے گا: کافر و گناہ گار اس بات پر حسرت کریں گے کہ کاش وہ ایمان لے آتے، گناہوں سے توبہ کر لیتے اور عذابِ الٰہی سے بچ جاتے؛ نیکوکار و مومن اس بات پر حسرت کریں گے کہ کاش انہوں نے اور زیادہ نیک اعمال کیے ہوتے تاکہ ان کے درجات مزید بلند ہوتے۔ ایک حدیث کے مطابق قیامت کے دن موت کو ایک مینڈھے کی صورت میں لا کر جنت اور جہنم کے درمیان ذبح کر دیا جائے گا اور اعلان ہوگا: "اے اہلِ جنت! اب ہمیشہ کی زندگی ہے موت نہیں، اور اے اہلِ جہنم! اب ہمیشہ کی زندگی ہے موت نہیں" — اس وقت کافروں کی حسرت اور افسوس کی کوئی حد نہیں رہے گی۔
2"جب فیصلہ کر دیا جائے گا" (إِذۡ قُضِيَ ٱلۡأَمۡرُ) — اس سے مراد یہ ہے کہ قیامت کے دن تمام حساب کتاب مکمل کر کے حتمی فیصلہ سنا دیا جائے گا: جن کو جنت میں جانا ہوگا وہ جنت میں چلے جائیں گے، اور جن کا ٹھکانا جہنم ہوگا وہ جہنم میں پھینک دیے جائیں گے؛ اس فیصلے کے بعد توبہ کا دروازہ بند ہو جائے گا اور کسی کو دوبارہ دنیا میں جا کر اچھے اعمال کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔
3غفلت اور عدمِ ایمان ("وہ غفلت میں ہیں اور ایمان نہیں لا رہے") — آیت کا یہ حصہ ان لوگوں کی موجودہ (دنیاوی) حالت کی نشان دہی کرتا ہے: غفلت — انسان دنیا کی آسائشوں، مال و دولت اور خواہشات میں اس قدر کھو گیا ہے کہ وہ بھول بیٹھا ہے کہ اس نے ایک دن اپنے خالق کے سامنے حاضر ہونا ہے؛ بے ایمانی — واضح دلائل اور انبیاء کرام کی تعلیمات کے باوجود وہ حقیقت کو تسلیم کرنے اور ایمان لانے سے انکاری ہیں۔
آیاتِ کریمہ میں سیدنا یحییٰ علیہ السلام کی کیا صفات بیان ہوئی ہیں؟
ان آیاتِ کریمہ میں سیدنا یحییٰ علیہ السلام کی درج ذیل صفات بیان ہوئی ہیں:
1کتابِ الٰہی کو مضبوطی سے تھامنا — اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ کتاب کو قوت کے ساتھ تھامیں، اور انہیں بچپن ہی سے ہدایت اور قوتِ فیصلہ عطا فرمائی۔
2حکمت اور دانش — انہیں کم سنی (بچپن) میں ہی حکمت و بصیرت عطا کی گئی۔
3نرمی اور شفقت (حَنَانٗا) — اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے پاس سے خاص مہربانی، نرم دلی اور پیار عطا فرمایا تھا۔
4پاکیزگی (زَكَوٰةٗ) — وہ گناہوں اور برائیوں سے پاک و صاف تھے۔
5تقویٰ و پرہیزگاری — وہ نہایت متقی اور اللہ سے ڈرنے والے تھے۔
6والدین کے ساتھ حسنِ سلوک — وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ نہایت بھلائی اور اطاعت کرنے والے تھے۔
7عاجزی و انکساری — وہ بالکل سرکش، سرتابی کرنے والے یا جابر (مغرور) نہیں تھے۔
سرگرمیاں برائے طلبہ
12سرگرمیاں برائے طلبہ
والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کے بارے میں تحریر کریں۔
اسلام میں والدین کے ساتھ حسنِ سلوک پر بہت زور دیا گیا ہے۔ قرآن مجید اور احادیثِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے فوراً بعد والدین کی اطاعت اور ان کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیا گیا ہے:
1عزت اور احترام — ان سے ہمیشہ نرمی اور احترام کے ساتھ بات کی جائے اور ان کے آگے "اف" تک نہ کہا جائے۔
2خدمت اور اطاعت — بڑھاپے میں ان کی دیکھ بھال، ان کی جائز خواہشات کا احترام اور ان کی مالی و جسمانی خدمت کرنا ہر اولاد کی ذمہ داری ہے۔
3دعائے خیر — ان کی زندگی میں اور وفات کے بعد ان کے لیے مغفرت اور رحم کی دعا کرتے رہنا چاہیے: "رَّبِّ ٱرۡحَمۡهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرٗا"۔
13سرگرمیاں برائے طلبہ
حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق کوئی دو احادیث تحریر کریں۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
حدیث نمبر 1: انبیاء کرام علیہم السلام کی باہمی نسبت اور حدیث نمبر 2: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمدِ ثانی
1حدیث نمبر 1: انبیاء کرام علیہم السلام کی باہمی نسبت — حدیث: "میں دنیا و آخرت میں عیسیٰ بن مریم کے سب سے زیادہ نزدیک ہوں، اور تمام انبیاء علاتی بھائی (ایک باپ کی اولاد جن کی مائیں مختلف ہوں) ہیں، ان کا دین ایک ہی ہے اور ان کی مائیں مختلف ہیں۔" (صحیح بخاری: 3443)
2حدیث نمبر 1: انبیاء کرام علیہم السلام کی باہمی نسبت — مفہوم: اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے واضح فرمایا کہ تمام انبیاء کا بنیادی پیغام اور دین (توحید) ایک ہی ہے، اور آپ ﷺ کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ خاص اور قریب ترین تعلق ہے۔
3حدیث نمبر 2: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمدِ ثانی — حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
4حدیث نمبر 2: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمدِ ثانی — حدیث: "اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! عنقریب تم میں ابنِ مریم (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) ایک عادل حاکم کی حیثیت سے نازل ہوں گے۔"
جوابمفہوم: اس حدیث میں قربِ قیامت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ نزول اور ان کے عادل حاکم کی حیثیت سے دنیا میں انصاف قائم کرنے کی خبر دی گئی ہے۔
14سرگرمیاں برائے طلبہ
سیدنا ابراھیمء کے اسلوب دعوت پر پیراگراف لکھیں؟
جوابسیدنا ابراہیم علیہ السلام کا اسلوبِ دعوت حکمت، نرمی اور عقلی استدلال کا حسین امتزاج ہے۔ آپؑ نے دعوت کا آغاز اپنے قریب ترین حلقے یعنی آزر اور اپنے خاندان سے کیا — جمہور مفسرین کے نزدیک آزر آپؑ کے والد تھے، جبکہ بعض مفسرین کے نزدیک وہ آپؑ کے چچا تھے، کیونکہ عربی میں لفظ "اب" چچا اور بزرگ کے لیے بھی بولا جاتا ہے — اور اس دعوت میں بھی آپؑ نے لہجہ اس قدر شفیق رکھا کہ بت پرستی جیسے سنگین انحراف پر ٹوکتے ہوئے بھی بار بار "یٰۤاَبَتِ" (اے میرے پیارے ابا جان) کہہ کر مخاطب کیا۔ آپؑ نے کبھی مخالف کو حقارت سے نہیں جھڑکا بلکہ اس کے سامنے سوال رکھ دیا کہ جو نہ سن سکتا ہے، نہ دیکھ سکتا ہے اور نہ کوئی نفع و نقصان پہنچا سکتا ہے، اس کی عبادت کیوں؟ ستارے، چاند اور سورج کے حوالے سے آپؑ کا استدلال اسی عقلی اندازِ دعوت کی روشن مثال ہے، جس میں آپؑ نے مخاطب کو خود سوچنے پر مجبور کیا کہ ڈوب جانے والی چیز رب نہیں ہو سکتی۔ بتوں کو توڑ کر بڑے بت سے سوال کرنے کی دعوت دینا آپؑ کے عملی اور مؤثر اندازِ دعوت کا نمونہ تھا، جس نے قوم کو اپنے ضمیر کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا۔ بادشاہِ وقت کے سامنے بھی آپؑ نے جوش کے بجائے دلیل کا راستہ اختیار کیا۔ مخالفت اور دھمکی کے جواب میں آپؑ کا انداز سلام، دعا اور استغفار کا رہا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ آپؑ کی اپنی ذات توحید، توکل اور قربانی کا عملی نمونہ تھی، اور آپؑ نے یہ دعوت اپنی اولاد کو وصیت کے طور پر منتقل فرمائی تاکہ یہ سلسلہ جاری رہے۔
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔