نویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 18: سبق 18: سورۃ السجدۃ (حصہ اول) — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں برائے طلبہ · 16 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

ثُمَّ سَوَّىٰهُ وَنَفَخَ فِيهِ مِن رُّوحِهِۦۖ وَجَعَلَ لَكُمُ ٱلسَّمۡعَ وَٱلۡأَبۡصَٰرَ وَٱلۡأَفۡـِٔدَةَۚ قَلِيلٗا مَّا تَشۡكُرُونَ (سورۃ السجدۃ ۔ آیت 9)

آیتِ کریمہ میں انسان کی تخلیق کے کیا مراحل بیان ہوئے ہیں؟

اس آیتِ کریمہ میں انسان کی تخلیق کے درج ذیل مراحل بیان کیے گئے ہیں:

1 تسویہ (اعضا کی درستگی) — اللہ تعالیٰ نے انسان کو بنا کر اس کے اعضا کو برابر، متناسب اور درست فرمایا۔
2 روح پھونکنا — پھر اس میں اپنی طرف سے روح پھونکی، جس سے وہ ایک زندہ اور باشعور وجود بنا۔
3 حواس کی عطا — اسے سننے کے لیے کان، دیکھنے کے لیے آنکھیں اور سمجھنے کے لیے دل عطا فرمائے۔ آخر میں تنبیہ فرمائی کہ اتنی نعمتوں کے باوجود انسان بہت کم شکر ادا کرتا ہے۔
2 مختصر جوابات

وَقَالُوٓاْ أَءِذَا ضَلَلۡنَا فِي ٱلۡأَرۡضِ أَءِنَّا لَفِي خَلۡقٖ جَدِيدِۭۚ بَلۡ هُم بِلِقَآءِ رَبِّهِمۡ كَٰفِرُونَ (سورۃ السجدۃ ۔ آیت 10)

آیتِ کریمہ میں مشرکین کا کیا شبہ بیان کیا گیا ہے؟

ترجمہ

”کیا جب ہم مٹی میں مل کر گم اور نابود ہو جائیں گے، تو کیا ہم واقعی نئے سرے سے پیدا کیے جائیں گے؟“

اس آیت میں مشرکینِ مکہ کا بنیادی شبہ اور انکار نقل کیا گیا ہے:

جواب اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب یہ دیا کہ اصل بات یہ نہیں کہ وہ دوبارہ پیدا کیے جانے کو عقلاً محال سمجھتے ہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے رب سے ملاقات یعنی قیامت ہی کے منکر ہیں۔
3 مختصر جوابات

رَبَّنَآ أَبۡصَرۡنَا وَسَمِعۡنَا فَٱرۡجِعۡنَا نَعۡمَلۡ صَٰلِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ (سورۃ السجدۃ ۔ آیت 12 (آخری حصہ))

آیتِ کریمہ کے مطابق قیامت کے دن مجرم کیا آرزو کریں گے؟

ترجمہ

”اے ہمارے رب! ہم نے خوب دیکھ بھی لیا اور سن بھی لیا؛ اب تو ہمیں (دنیا میں) واپس بھیج دے تاکہ ہم نیک عمل کریں، بے شک اب ہم پورا یقین کرنے والے ہیں۔“

قیامت کے دن مجرم اور گناہ گار اپنے کیے پر شرمندہ ہو کر اور سر جھکائے ہوئے اللہ تعالیٰ سے یہ آرزو اور التجا کریں گے:

جواب لیکن یہ آرزو اُس وقت بے سود ہوگی، کیونکہ عمل اور آزمائش کا وقت صرف دنیا کی زندگی تھی۔
4 مختصر جوابات

إِنَّمَا يُؤۡمِنُ بِـَٔايَٰتِنَا ٱلَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُواْ بِهَا خَرُّواْۤ سُجَّدٗاۤ وَسَبَّحُواْ بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ وَهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُونَ۩ (سورۃ السجدۃ ۔ آیت 15)

آیتِ کریمہ کی رو سے اہلِ ایمان کو جب آیاتِ باری تعالیٰ سے نصیحت کی جاتی ہے تو ان کی کیا کیفیت ہوتی ہے؟

اہلِ ایمان کی کیفیت یہ بیان کی گئی ہے کہ جب انہیں اللہ تعالیٰ کی آیات کے ذریعے نصیحت کی جاتی ہے تو:

1 وہ فوراً سجدے میں گر پڑتے ہیں۔
2 اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی پاکی اور تسبیح بیان کرتے ہیں۔
3 وہ ذرا بھی تکبر اور غرور نہیں کرتے، بلکہ عاجزی کے ساتھ حق کو قبول کرتے ہیں۔
5 مختصر جوابات

أَوَلَمۡ يَرَوۡاْ أَنَّا نَسُوقُ ٱلۡمَآءَ إِلَى ٱلۡأَرۡضِ ٱلۡجُرُزِ فَنُخۡرِجُ بِهِۦ زَرۡعٗا تَأۡكُلُ مِنۡهُ أَنۡعَٰمُهُمۡ وَأَنفُسُهُمۡۚ أَفَلَا يُبۡصِرُونَ (سورۃ السجدۃ ۔ آیت 27)

آیتِ کریمہ کی رو سے بنجر زمین کی مثال سے کیا سمجھایا گیا ہے؟

بنجر زمین کی مثال سے اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ اور دوبارہ زندہ کرنے کا ثبوت دیا گیا ہے:

1 مشاہدے کی دعوت — اللہ تعالیٰ خشک، بنجر اور مرجھائی ہوئی زمین کی طرف پانی (بارش) بھیجتا ہے اور اس سے لہلہاتی کھیتیاں اور اناج اگاتا ہے، جسے انسان اور اس کے مویشی دونوں کھاتے ہیں۔
2 عقیدۂ آخرت پر دلیل — جو ذات مردہ زمین کو زندہ کر سکتی ہے، وہ قیامت کے دن مردہ انسانوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر بھی پوری طرح قادر ہے۔

تفصیلی جوابات

6 تفصیلی جوابات

وَأَمَّا ٱلَّذِينَ فَسَقُواْ فَمَأۡوَىٰهُمُ ٱلنَّارُۖ كُلَّمَآ أَرَادُوٓاْ أَن يَخۡرُجُواْ مِنۡهَآ أُعِيدُواْ فِيهَا وَقِيلَ لَهُمۡ ذُوقُواْ عَذَابَ ٱلنَّارِ ٱلَّذِي كُنتُم بِهِۦ تُكَذِّبُونَ (سورۃ السجدۃ ۔ آیت 20)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت تحریر کریں۔

ترجمہ

”اور جن لوگوں نے نافرمانی (فاسقانہ روش) اختیار کی، ان کا ٹھکانا آگ (جہنم) ہے۔ وہ جب بھی اس سے نکلنا چاہیں گے، اسی میں لوٹا دیے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ اس آگ کے عذاب کا مزہ چکھو جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔“

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے سچے مومنوں اور نیک عمل کرنے والوں کے انعام یعنی جنت کی ابدی نعمتوں کا ذکر فرمایا تھا۔ اس آیت میں اس کے بالمقابل ”فاسقین“ یعنی نافرمانوں اور منکرین کا برا انجام بیان کیا گیا ہے۔ اس کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:

1 ﴿ٱلَّذِينَ فَسَقُواْ﴾ — فسق اور نافرمانی کا انجام — فسق کے معنی — عربی زبان میں ”فسق“ کے معنی کسی چیز کا اپنے خول یا حد سے باہر نکل جانا ہے۔ شرعی اصطلاح میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے دائرے سے نکل کر کفر، شرک اور مسلسل گناہ کی روش اختیار کرنے کو فسق کہا جاتا ہے۔
2 ﴿ٱلَّذِينَ فَسَقُواْ﴾ — فسق اور نافرمانی کا انجام — جہنم دائمی ٹھکانا — ایسے نافرمانوں کا حقیقی اور ابدی ٹھکانا جہنم کی آگ مقرر کیا گیا ہے۔
3 ﴿كُلَّمَآ أَرَادُوٓاْ أَن يَخۡرُجُواْ مِنۡهَآ أُعِيدُواْ فِيهَا﴾ — لاچاری اور بے بسی — نکلنے کی ناکام کوشش — جہنم کا عذاب اس قدر شدید اور ناقابلِ برداشت ہوگا کہ نافرمان لوگ بار بار اس سے باہر نکلنے کی کوشش کریں گے۔
4 ﴿كُلَّمَآ أَرَادُوٓاْ أَن يَخۡرُجُواْ مِنۡهَآ أُعِيدُواْ فِيهَا﴾ — لاچاری اور بے بسی — دوبارہ لوٹایا جانا — لیکن جیسے ہی وہ آگ کے کنارے تک پہنچیں گے، انہیں دوبارہ اسی آگ کی گہرائی میں لوٹا دیا جائے گا۔ ان کے لیے اس عذاب سے فرار کی کوئی راہ نہیں ہوگی۔
5 ﴿ذُوقُواْ عَذَابَ ٱلنَّارِ ٱلَّذِي كُنتُم بِهِۦ تُكَذِّبُونَ﴾ — حسرت اور سرزنش — جسمانی عذاب کے ساتھ ملامت — انہیں صرف جسمانی تکلیف ہی نہیں دی جائے گی، بلکہ عذاب کے وقت یہ کہہ کر ان کی سرزنش بھی کی جائے گی کہ آج اس عذاب کا مزہ چکھو جسے تم دنیا میں جھوٹ اور افسانہ سمجھتے تھے۔
6 ﴿ذُوقُواْ عَذَابَ ٱلنَّارِ ٱلَّذِي كُنتُم بِهِۦ تُكَذِّبُونَ﴾ — حسرت اور سرزنش — اتمامِ حجت — دنیا میں جب انبیائے کرام انہیں آخرت اور جہنم کے عذاب سے ڈراتے تھے تو وہ اس کا مذاق اڑاتے تھے۔ قیامت کے دن اسی حقیقت کا سامنا کروا کر ان کے پچھتاوے کو دوچند کر دیا جائے گا۔
7 تفصیلی جوابات

سورۃ السجدۃ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔

جواب اس سوال کا جواب نصابی کتاب کے صفحہ نمبر 124 پر موجود ہے۔
8 تفصیلی جوابات

وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ أَئِمَّةٗ يَهۡدُونَ بِأَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُواْۖ وَكَانُواْ بِـَٔايَٰتِنَا يُوقِنُونَ ۝ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ يَفۡصِلُ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ فِيمَا كَانُواْ فِيهِ يَخۡتَلِفُونَ (سورۃ السجدۃ ۔ آیات 24 تا 25)

آیاتِ کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت تحریر کریں۔

ترجمہ

”اور ہم نے ان (بنی اسرائیل) میں سے ایسے پیشوا بنائے جو ہمارے حکم سے (لوگوں کو) ہدایت دیتے تھے، جب کہ انہوں نے صبر کیا اور وہ ہماری آیات پر یقین رکھتے تھے۔ بے شک آپ کا رب ہی قیامت کے دن ان کے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کرے گا جن میں وہ اختلاف کرتے تھے۔“

ان آیاتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی تاریخ کے ایک درخشاں دور، ان کے دینی قائدین، اور امامت و رہنمائی کا منصب ملنے کے بنیادی اصول بیان فرمائے ہیں۔ اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:

1 دین میں امامت و رہنمائی کا اصول (آیت 24) — اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو تورات عطا فرمائی اور پھر ان میں ایسے جلیل القدر انبیاء اور علمائے ربانی پیدا کیے جو لوگوں کی دینی و اخلاقی رہنمائی کرتے تھے۔ آیت میں بتایا گیا کہ انہیں امامت و پیشوائی کا یہ عظیم منصب دو بنیادی صفات کی بدولت ملا:
2 دین میں امامت و رہنمائی کا اصول (آیت 24) — صبر ﴿لَمَّا صَبَرُواْ﴾ — انہوں نے دین کی راہ میں آنے والی مشکلات، آزمائشوں، فرعون کے مظالم اور اپنی قوم کی نادانیوں پر مسلسل صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا اور حق کے راستے پر ڈٹے رہے۔
3 دین میں امامت و رہنمائی کا اصول (آیت 24) — یقین ﴿وَكَانُواْ بِـَٔايَٰتِنَا يُوقِنُونَ﴾ — ان کے دلوں میں اللہ کی آیات، اس کے وعدوں اور عقیدۂ آخرت پر کامل اور پختہ یقین تھا، جس میں کسی شک و شبہے کی گنجائش نہ تھی۔
4 مفسرینِ کرام کا قول — بِالصَّبْرِ وَالْيَقِينِ تُنَالُ الْإِمَامَةُ فِي الدِّينِیعنی صبر اور یقین ہی کی بدولت دین میں امامت اور پیشوائی کا منصب حاصل ہوتا ہے۔ (حضرت سفیان بن عیینہؒ)
5 ﴿يَهۡدُونَ بِأَمۡرِنَا﴾ — اللہ کے حکم سے ہدایت دینا — ان پیشواؤں اور رہنماؤں کا کام اپنی مرضی یا رائے کے مطابق لوگوں کو چلانا نہیں تھا، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت اور اس کے حکم کے مطابق ہی لوگوں کو سیدھا راستہ دکھاتے تھے۔
6 اختلافات کا حتمی فیصلہ (آیت 25) — بنی اسرائیل کے بعد آنے والوں نے جب صبر اور یقین کا راستہ چھوڑ دیا تو ان میں تفرقہ، تعصب اور باہمی اختلافات پیدا ہو گئے اور وہ کئی فرقوں میں بٹ گئے۔
7 اختلافات کا حتمی فیصلہ (آیت 25) — اللہ تعالیٰ نبی کریم ﷺ اور اہلِ ایمان کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ جن دینی امور میں یہ لوگ دنیا میں اختلاف کر رہے ہیں، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ خود اپنے عدلِ کامل کے ساتھ ان کا فیصلہ فرما دے گا اور حق و باطل کو بالکل واضح کر دے گا۔
9 تفصیلی جوابات

اَوَلَمۡ يَهۡدِ لَهُمۡ كَمۡ اَهۡلَكۡنَا مِنۡ قَبۡلِهِمۡ مِّنَ الۡقُرُوۡنِ يَمۡشُوۡنَ فِىۡ مَسٰكِنِهِمۡ​ ؕ اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ لَاٰيٰتٍ ؕ اَفَلَا يَسۡمَعُوۡنَ۔ (سورۃ السجدۃ ۔ آیت 26)

آیاتِ کریمہ میں راہِ حق کے لیے سابقہ اقوام کے بارے میں کیا بتایا گیا ہے؟

ان آیاتِ کریمہ اور ان کے بعد کی آیات میں راہِ حق پر چلنے والی سابقہ اقوام (خصوصاً بنی اسرائیل) کے بارے میں درج ذیل اہم باتیں بیان کی گئی ہیں:

اختلافات کا حتمی فیصلہ

1 قیادت و امامت کی شرائط — اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ کسی قوم یا جماعت کو دین اور حق کی امامت و رہنمائی کا مقام دو بنیادی صفات کی وجہ سے ملتا ہے:
2 قیادت و امامت کی شرائط — صبر — حق کے راستے میں آنے والی تکالیف، آزمائشوں اور مخالفتوں پر ثابت قدم رہنا۔
3 قیادت و امامت کی شرائط — یقین (ایمانِ کامل) — اللہ تعالیٰ کی آیات، وعدوں اور احکام پر کامل اور غیر متزلزل یقین رکھنا۔
4 سابقہ اقوام کی ہلاکت سے عبرت — اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو متوجہ کیا ہے کہ ان سے پہلے کتنی ہی قومیں — جن کی اجڑی بستیوں سے یہ آج گزرتے ہیں — اپنے کفر، نافرمانی اور تکذیب کی وجہ سے ہلاک کر دی گئیں۔ حق کو نہ ماننے کا انجام تباہی ہے۔
جواب دنیا میں لوگ حق و باطل کے بارے میں جتنے بھی اختلافات اور تنازعات کرتے ہیں، ان سب کا عادلانہ اور حتمی فیصلہ قیامت کے دن خود اللہ تعالیٰ فرمائے گا اور ہر ایک کو اس کے عمل کا پورا بدلہ دیا جائے گا۔
10 تفصیلی جوابات

وَيَقُوۡلُوۡنَ مَتٰى هٰذَا الۡفَتۡحُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ۔قُلۡ يَوۡمَ الۡفَتۡحِ لَا يَنۡفَعُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِيۡمَانُهُمۡ وَلَا هُمۡ يُنۡظَرُوۡنَ۔ (سورۃ السجدۃ ۔ آیات 28 تا 29)

آیاتِ کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت تحریر کریں۔

ترجمہ

”اور وہ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو یہ فیصلہ کب ہوگا؟ آپ فرما دیجیے کہ فیصلے کے دن کافروں کو ان کا ایمان لانا کوئی فائدہ نہ دے گا اور نہ ہی انہیں کوئی مہلت دی جائے گی۔“

ان آیاتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے کفر و عناد پر اڑے ہوئے لوگوں کو ماضی کی تاریخ سے عبرت حاصل کرنے کی دعوت دی ہے، اور عذابِ الٰہی کا جلدی مطالبہ کرنے والوں کو ان کے انجام سے خبردار فرمایا ہے۔ تفصیلی نکات درج ذیل ہیں:

1 منکرین کا استہزاء اور بے صبری (آیت 28) — جب نبی کریم ﷺ اور صحابۂ کرام منکرین کو عذابِ الٰہی یا حق و باطل کے حتمی فیصلے سے ڈراتے تھے، تو وہ مذاق اڑاتے ہوئے کہتے تھے کہ جس فیصلے اور عذاب کی تم دھمکی دیتے ہو وہ آتا کیوں نہیں؟ اگر تم سچے ہو تو بتاؤ وہ دن کب آئے گا؟
2 حتمی فیصلے اور اتمامِ حجت کا جواب (آیت 29) — ﴿يَوۡمَ ٱلۡفَتۡحِ﴾ — فیصلے کا دن — اس سے مراد قیامت کا دن ہے، یا دنیا میں وہ وقت جب کافروں پر حتمی عذاب نازل ہو جاتا ہے۔
3 حتمی فیصلے اور اتمامِ حجت کا جواب (آیت 29) — ایمان کی عدمِ قبولیت — اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کی زبان سے جواب دلواتا ہے کہ جب عذاب کی صورت میں اللہ کا فیصلہ سامنے آ جائے گا، تو اس وقت کافروں کا ڈر کر ایمان لانا قابلِ قبول نہیں ہوگا۔
4 حتمی فیصلے اور اتمامِ حجت کا جواب (آیت 29) — مہلت کا خاتمہ — جیسے ہی عذاب یا موت کا وقت آ جاتا ہے، توبہ اور مہلت کا دروازہ بند کر دیا جاتا ہے۔ فرعون نے بھی ڈوبتے وقت ایمان کا اقرار کیا تھا، مگر وہ قبول نہ ہوا۔
11 تفصیلی جوابات

سورۃ السجدۃ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔

جواب اس سوال کا جواب نصابی کتاب کے صفحہ نمبر 124 پر موجود ہے۔

سرگرمیاں برائے طلبہ

12 سرگرمیاں برائے طلبہ

اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ حسین اور بہترین انسان کو بنایا؛ اس بات کو قرآنِ کریم سے تلاش کریں۔

قرآنِ مجید میں انسان کے بہترین اور خوبصورت ترین مخلوق ہونے کا ذکر سورۃ التین کی آیت نمبر 4 میں صراحت کے ساتھ آیا ہے: لَقَدۡ خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ فِيٓ أَحۡسَنِ تَقۡوِيمٖ”بے شک ہم نے انسان کو بہترین ساخت (عمدہ ترین صورت و شکل) پر پیدا کیا۔“ (سورۃ التین ۔ آیت 4)

جواب مفہوم — اللہ تعالیٰ نے انسان کو باقی تمام مخلوقات کی نسبت بہترین تناسب، خوبصورت چہرے، عقل و شعور اور سیدھی قامت کے ساتھ پیدا فرمایا ہے۔
13 سرگرمیاں برائے طلبہ

سورۃ السجدۃ کی روشنی میں مومن اور فاسق کے انجام کا موازنہ کریں۔

سورۃ السجدۃ کی آیات 15 تا 20 میں اللہ تعالیٰ نے مومن اور فاسق کا واضح موازنہ فرمایا ہے:

قرآنی فیصلہ

1 مومن (اطاعت گزار) کی خصوصیات — آیاتِ الٰہی سن کر سجدے میں گر جانے والے اور تکبر نہ کرنے والے۔
2 مومن (اطاعت گزار) کی خصوصیات — راتوں کو بستروں سے پہلو الگ کر کے اپنے رب کی عبادت کرنے والے۔
3 مومن (اطاعت گزار) کی خصوصیات — خوف اور امید دونوں کیفیتوں کے ساتھ اپنے رب کو پکارنے والے۔
4 مومن کا اخروی انجام — جنت المأویٰ — ان کے لیے رہنے کے بہترین باغات تیار ہیں۔
5 مومن کا اخروی انجام — آنکھوں کی ٹھنڈک — ان کے اعمال کے بدلے ایسی نعمتیں چھپا کر رکھی گئی ہیں جنہیں کسی آنکھ نے نہیں دیکھا۔
6 فاسق (نافرمان و کافر) کی خصوصیات — اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے والے۔
7 فاسق (نافرمان و کافر) کی خصوصیات — نافرمانی اور تکبر کی روش اختیار کرنے والے۔
8 فاسق کا اخروی انجام — جہنم کی آگ — ان کا دائمی ٹھکانا آگ ہوگی۔
9 فاسق کا اخروی انجام — ہمیشہ کا عذاب — وہ جب بھی اس سے نکلنا چاہیں گے، اسی میں لوٹا دیے جائیں گے۔
جواب أَفَمَن كَانَ مُؤۡمِنٗا كَمَن كَانَ فَاسِقٗاۚ لَّا يَسۡتَوُۥنَ”کیا وہ شخص جو مومن ہو، اس جیسا ہو سکتا ہے جو فاسق ہو؟ یہ دونوں ہرگز برابر نہیں ہو سکتے۔“ (سورۃ السجدۃ ۔ آیت 18)
14 سرگرمیاں برائے طلبہ

ثُمَّ جَعَلَ نَسۡلَهُۥ مِن سُلَٰلَةٖ مِّن مَّآءٖ مَّهِينٖ (سورۃ السجدۃ ۔ آیت 8)

سورۃ السجدۃ میں انسان کی تخلیق کے حوالے سے ﴿مِن سُلَٰلَةٖ مِّن مَّآءٖ مَّهِينٖ﴾ کا مفہوم بیان کریں۔

ترجمہ

”پھر اس (انسان) کی نسل کو ایک بے قدر (حقیر) پانی کے نچوڑ سے چلایا۔“

جواب مفہوم — انسان کی پہلی تخلیق (حضرت آدم علیہ السلام) مٹی سے کی گئی، جبکہ ان کے بعد نوعِ انسانی کی بقا اور سلسلۂ توالد و تناسل کو نطفے یعنی ایک حقیر اور بے قدر پانی کے نچوڑ کے ذریعے جاری رکھا گیا۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کا یہ کرشمہ واضح کیا گیا ہے کہ ایک معمولی سے قطرے سے انسان جیسا باشعور اور اشرف المخلوقات وجود تشکیل پاتا ہے۔
15 سرگرمیاں برائے طلبہ

وَنَفَخَ فِيهِ مِن رُّوحِهِۦ (سورۃ السجدۃ ۔ آیت 9 (کا ایک حصہ))

﴿وَنَفَخَ فِيهِ مِن رُّوحِهِۦ﴾ کا مفہوم بیان کریں۔

ترجمہ

”اور اس (انسان) میں اپنی طرف سے روح پھونکی۔“

جواب مفہوم — یہ انسان کی تخلیق کا وہ خاص اور معزز مرحلہ ہے جس کے ذریعے اسے حیوانات سے ممتاز کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ کا روح کو اپنی طرف منسوب فرمانا ﴿رُّوحِهِۦ﴾ انسان کو شرف اور عزت بخشنے کے لیے ہے۔ روح پھونکے جانے ہی سے انسان کے اندر عقل، بصیرت، حواس، اخلاقی حس اور زندگی کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔
16 سرگرمیاں برائے طلبہ

فَأَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ وَٱنتَظِرۡ إِنَّهُم مُّنتَظِرُونَ (سورۃ السجدۃ ۔ آیت 30 (آخری آیت))

سورۃ السجدۃ کی آخری آیت کی روشنی میں کافر کے انتظار اور مومن کے انتظار کے فرق کو بیان کریں۔

ترجمہ

”پس (اے نبی!) آپ ان سے منہ موڑ لیجیے اور انتظار کیجیے، بے شک وہ بھی انتظار کر رہے ہیں۔“

انتظار کا فرق

1 مومن کا انتظار — مومن اللہ تعالیٰ کے وعدے پر کامل یقین کے ساتھ حق کی فتح، دین کے غلبے اور اللہ کی نصرت و رحمت کا انتظار کرتا ہے۔
2 کافر کا انتظار — کافر اس وہم میں رہتے ہیں کہ اسلام اور اہلِ ایمان کا خاتمہ ہو جائے یا ان پر کوئی مصیبت آ جائے؛ مگر ان کا یہ انتظار محض حسرت اور تباہی پر ختم ہوگا۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.