نویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 17: سبق 17: سورۃ لقمان — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں برائے طلبہ · 16 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

ٱلَّذِينَ يُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤۡتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَهُم بِٱلۡأٓخِرَةِ هُمۡ يُوقِنُونَ (سورۃ لقمان ۔ آیت 4)

آیتِ کریمہ میں محسنین کی کیا صفات بیان ہوئی ہیں؟

اس آیتِ مبارکہ میں محسنین (نیکی کرنے والوں) کی درج ذیل بنیادی صفات بیان کی گئی ہیں:

1 اقامتِ نماز — وہ نماز کو اس کے تمام حقوق، ارکان، خشوع و خضوع اور پابندیِ وقت کے ساتھ قائم کرتے ہیں۔
2 ادائے زکوٰۃ — وہ اپنے مال میں سے فرائض کے مطابق زکوٰۃ اور صدقات ادا کرتے ہیں۔
3 آخرت پر کامل یقین — وہ آخرت کے دن، حساب کتاب اور جزا و سزا پر پختہ اور کامل ایمان و یقین رکھتے ہیں۔
2 مختصر جوابات

خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ بِغَيۡرِ عَمَدٖ تَرَوۡنَهَاۖ وَأَلۡقَىٰ فِي ٱلۡأَرۡضِ رَوَٰسِيَ أَن تَمِيدَ بِكُمۡ وَبَثَّ فِيهَا مِن كُلِّ دَآبَّةٖۚ وَأَنزَلۡنَا مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ فَأَنۢبَتۡنَا فِيهَا مِن كُلِّ زَوۡجٖ كَرِيمٍ (سورۃ لقمان ۔ آیت 10)

آیتِ کریمہ میں بیان کی گئی اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں لکھیں۔

اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور توحید کی پانچ بڑی نشانیاں بیان کی گئی ہیں:

1 بغیر ستونوں کے آسمانوں کی تخلیق — اللہ تعالیٰ نے اتنے بڑے اور وسیع آسمانوں کو بغیر کسی ظاہری ستون کے قائم کر رکھا ہے جنہیں تم دیکھ رہے ہو۔
2 زمین میں پہاڑوں کا نصب کرنا — اللہ نے زمین پر وزنی اور مضبوط پہاڑ گاڑ دیے تاکہ زمین تمہارے ساتھ ہلنے اور لرزنے نہ لگے۔
3 ہر قسم کے جانداروں کا پھیلانا — اس نے زمین میں طرح طرح کے جانور اور جاندار مخلوقات پیدا کر کے پھیلا دی ہیں۔
4 آسمان سے بارش کا نازل کرنا — اللہ تعالیٰ نے بادلوں (آسمان) سے پانی برسا کر زمین کی سیرابی کا انتظام فرمایا۔
5 مختلف اور عمدہ جوڑوں (پودوں) کا اگانا — اس پانی کے ذریعے اللہ نے زمین سے ہر قسم کے عمدہ، نفع بخش اور خوب صورت پودے اور درخت اگائے۔
3 مختصر جوابات

يَٰبُنَيَّ أَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَ وَأۡمُرۡ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَٱنۡهَ عَنِ ٱلۡمُنكَرِ وَٱصۡبِرۡ عَلَىٰ مَآ أَصَابَكَۖ إِنَّ ذَٰلِكَ مِنۡ عَزۡمِ ٱلۡأُمُورِ (سورۃ لقمان ۔ آیت 17)

آیتِ کریمہ کی رو سے حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو کیا نصیحتیں کیں؟

اس آیتِ مبارکہ کی رو سے حضرت لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو درج ذیل چار اہم نصیحتیں فرمائیں:

1 نماز قائم کرنا — اپنے رب کی عبادت کے لیے پابندی اور خشوع و خضوع کے ساتھ نماز ادا کرو۔
2 نیکی کا حکم دینا (امر بالمعروف) — لوگوں کو اچھے کاموں اور نیکی کے راستے کی ترغیب دو۔
3 برائی سے روکنا (نہی عن المنکر) — لوگوں کو برے، غلط اور ناپسندیدہ کاموں سے منع کرو۔
4 مصیبت اور تکالیف پر صبر کرنا — حق اور نیکی کے راستے میں جو بھی تکلیف یا مصیبت پیش آئے، اس پر صبر اور استقامت کا مظاہرہ کرو، کیونکہ یہ ہمت اور عزم والے کاموں میں سے ہے۔
4 مختصر جوابات

وَلَوۡ أَنَّمَا فِي ٱلۡأَرۡضِ مِن شَجَرَةٍ أَقۡلَٰمٞ وَٱلۡبَحۡرُ يَمُدُّهُۥ مِنۢ بَعۡدِهِۦ سَبۡعَةُ أَبۡحُرٖ مَّا نَفِدَتۡ كَلِمَٰتُ ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٞ (سورۃ لقمان ۔ آیت 27)

آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی شان بیان کرنے کے لیے کیا مثال دی گئی ہے؟

اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی لامحدود حکمت، علم اور عظمت کو بیان کرنے کے لیے درج ذیل بے مثال مثال دی گئی ہے:

1 اگر زمین کے تمام درخت قلم بن جائیں — دنیا کے تمام درختوں کی تمام شاخوں کو تراش کر قلمیں بنا لی جائیں۔
2 اور تمام سمندر سیاہی بن جائیں — تمام سمندروں کے پانی کو روشنائی بنا دیا جائے، اور ان کی مدد کے لیے مزید سات سمندر بھی سیاہی کے طور پر شامل کر لیے جائیں۔
3 پھر بھی اللہ کے کلمات ختم نہیں ہوں گے — تب بھی ان تمام قلموں اور سمندروں کی سیاہی سے اللہ تعالیٰ کے کلمات (اس کی حکمتیں، اس کا علم، اس کے معجزات اور اس کی صفات و ثنا) کو مکمل نہیں لکھا جا سکے گا؛ وہ ختم ہو جائیں گی مگر اللہ کی باتیں ختم نہیں ہوں گی۔
جواب حاصلِ کلام: اس مثال سے واضح کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت، علم اور حکمت بے کنار اور لامحدود ہے، جب کہ مخلوق کی تمام تر صلاحیتیں اور وسائل محدود ہیں۔
5 مختصر جوابات

مَّا خَلۡقُكُمۡ وَلَا بَعۡثُكُمۡ إِلَّا كَنَفۡسٖ وَٰحِدَةٍۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعُۢ بَصِيرٌ (سورۃ لقمان ۔ آیت 28)

انسان کو پیدا فرمانے اور روزِ قیامت اٹھائے جانے کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے کیا فرمایا ہے؟

1 ایک شخص کی طرح آسان — اللہ تعالیٰ کے لیے تم سب انسانوں کو پیدا کرنا اور مرنے کے بعد قیامت کے دن دوبارہ زندہ کر کے اٹھانا بالکل ایسا ہی آسان ہے جیسے ایک اکیلے انسان کو پیدا کرنا یا دوبارہ زندہ کرنا۔
2 اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ — اللہ کی بے پناہ اور لامحدود قدرت کے سامنے تمام انسانوں کو اکٹھا پیدا کرنا یا دوبارہ اٹھانا کسی بھی قسم کی دشواری یا محنت کا طالب نہیں، بلکہ اس کے حکم (کُن) سے سب کچھ آن کی آن میں ہو جاتا ہے۔
3 سمیع و بصیر — آیت کے آخر میں فرمایا گیا کہ بے شک اللہ سب کچھ سننے والا اور دیکھنے والا ہے؛ وہ ہر انسان کے احوال، اقوال اور افعال سے بخوبی واقف ہے۔

تفصیلی جوابات

6 تفصیلی جوابات

وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَشۡتَرِي لَهۡوَ ٱلۡحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ بِغَيۡرِ عِلۡمٖ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًاۚ أُوْلَـٰٓئِكَ لَهُمۡ عَذَابٞ مُّهِينٞ (سورۃ لقمان ۔ آیت 6)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ اور تفصیلی وضاحت تحریر کریں۔

ترجمہ

"اور لوگوں میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو بیہودہ/فضول باتوں (کلام) کے خریدار بنتے ہیں تاکہ بغیر کسی علم کے (لوگوں کو) اللہ کے راستے سے بہکا دیں اور اس (اللہ کے راستے یا آیات) کا مذاق اڑائیں؛ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔"

تفصیلی وضاحت اور حاصلِ کلام (اسباق)

1 تفصیلی وضاحت — شانِ نزول اور "لَهۡوَ ٱلۡحَدِيثِ" کا مفہوم — مفسرین (مثلاً حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما) کے مطابق یہ آیت مکہ کے ایک کافر نضر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی؛ وہ فارس (ایران) سے عجم کے بادشاہوں (رستم و اسفندیار) کے قصے، داستانیں اور گانے والی لونڈیاں خرید کر لاتا تھا۔ جب بھی کوئی شخص نبی کریم ﷺ کا قرآن سننے کا ارادہ کرتا تو وہ اسے ان قصوں اور راگ رنگ میں مشغول کر دیتا تاکہ وہ قرآنِ مجید نہ سن سکے۔ "لہو الحدیث" سے مراد ہر وہ لغو، بیہودہ اور فضول کلام ہے جو انسان کو اللہ کی یاد، قرآن، نماز اور حق سے غافل کر دے؛ اس میں باطل نظریات، گانا بجانا، فحش لٹریچر اور دین سے غافل کرنے والی باتیں شامل ہیں۔
2 تفصیلی وضاحت — گمراہ کرنے کا مقصد (لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ) — ان لوگوں کا "لہو الحدیث" کو خریدنے اور پھیلانے سے اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ جاہلانہ تعصب کے تحت عام انسانوں کو اللہ کے دین (اسلام) سے دور رکھیں؛ وہ حق کے مقابلے میں باطل اور تفریح کو پیش کرتے ہیں تاکہ لوگوں کا رجحان قرآن کی طرف نہ ہو۔
3 تفصیلی وضاحت — آیاتِ الٰہی کا استہزا (وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًا) — یہ لوگ نہ صرف خود حق سے دور رہتے ہیں بلکہ اللہ کی آیات، اسلام کی تعلیمات اور اہلِ ایمان کے طریقۂ زندگی کا مذاق اڑاتے ہیں تاکہ حق کی ہیبت اور عظمت لوگوں کے دلوں سے ختم ہو جائے۔
4 تفصیلی وضاحت — رسوا کن عذاب (عَذَابٞ مُّهِينٞ) — چونکہ ان لوگوں نے اللہ کے دین اور اس کی آیات کا مذاق اڑا کر تکبر اور سرکشی کی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی جزا کے طور پر "عذابِ مہین" (ذلت اور رسوائی میں ڈالنے والا عذاب) مقرر فرمایا ہے۔
5 حاصلِ کلام (اسباق) — وقت کی حفاظت — مومن کو اپنا وقت فضول، لغو اور دین سے غافل کرنے والی چیزوں میں برباد نہیں کرنا چاہیے۔
6 حاصلِ کلام (اسباق) — قرآن کا احترام — قرآنِ مجید کی تلاوت اور اس کی تعلیمات میں رکاوٹ بننا یا اس کا مذاق اڑانا انتہائی سخت گناہ ہے۔
7 حاصلِ کلام (اسباق) — ذرائع ابلاغ کا مثبت استعمال — موجودہ دور میں ہر وہ میڈیا، لٹریچر یا مشغلہ جو انسان کو اللہ سے غافل کرے، اس سے بچنا چاہیے اور ذرائع ابلاغ کو مثبت اور نفع بخش مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔
7 تفصیلی جوابات

سورۃ لقمان کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔

جواب نوٹ: اس سوال کا جواب نصابی کتاب کے صفحہ نمبر 117 پر موجود ہے؛ وہاں سے تیار کریں۔
8 تفصیلی جوابات

وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَا لُقۡمَٰنَ ٱلۡحِكۡمَةَ أَنِ ٱشۡكُرۡ لِلَّهِۚ وَمَن يَشۡكُرۡ فَإِنَّمَا يَشۡكُرُ لِنَفۡسِهِۦۖ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٞ (سورۃ لقمان ۔ آیت 12)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت تحریر کریں۔

ترجمہ

"اور بلاشبہ ہم نے لقمان کو حکمت عطا فرمائی کہ اللہ کا شکر ادا کرو؛ اور جو شخص شکر ادا کرتا ہے وہ اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے، اور جو ناشکری کرتا ہے تو بے شک اللہ بے نیاز اور ذاتی طور پر قابلِ تعریف ہے۔"

تفصیلی وضاحت اور حاصلِ کلام (اسباق)

1 تفصیلی وضاحت — حضرت لقمان اور "حکمت" کا عطیہ (وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَا لُقۡمَٰنَ ٱلۡحِكۡمَةَ) — حضرت لقمان ایک نہایت دانا، صالح اور نیک انسان تھے (اکثر مفسرین کے نزدیک وہ نبی نہیں بلکہ ایک ولی اور حکیم انسان تھے)؛ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں ان کے نام پر پوری سورت نازل فرما کر ان کی دانائی کو قیامت تک کے لیے محفوظ کر دیا۔ حکمت سے مراد ایسی عقل، بصیرت اور سچی سمجھ بوجھ ہے جس سے انسان حق اور باطل میں فرق کر سکے، صحیح فیصلے کر سکے، اور اپنے قول و فعل کو شریعت و عقلِ سلیم کے مطابق ڈھال لے۔
2 تفصیلی وضاحت — حکمت کا پہلا تقاضا: شکرِ الٰہی (أَنِ ٱشۡكُرۡ لِلَّهِ) — اللہ تعالیٰ نے جب حضرت لقمان کو حکمت عطا فرمائی تو اس کا سب سے پہلا اور بنیادی تقاضا یہ قرار دیا کہ وہ اللہ کا شکر ادا کریں؛ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دانائی اور عقل کا سب سے بڑا مظاہرہ یہ ہے کہ انسان اپنے خالق و مالک کی نعمتوں کو پہچانے اور اس کی اطاعت و شکر گزاری کرے۔
3 تفصیلی وضاحت — شکر گزاری کا فائدہ خود انسان کو ہے (وَمَن يَشۡكُرۡ فَإِنَّمَا يَشۡكُرُ لِنَفۡسِهِۦ) — انسان جب اللہ کا شکر ادا کرتا ہے تو اس سے اللہ کی ذات کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، بلکہ تمام تر فائدہ خود انسان کی اپنی ذات کو ہوتا ہے: دنیا میں اللہ تعالیٰ شکر کرنے پر نعمتوں میں مزید اضافہ فرماتا ہے (لَئِن شَكَرۡتُمۡ لَأَزِيدَنَّكُمۡ)؛ دل کو اطمینان حاصل ہوتا ہے اور انسان آخرت میں عظیم ثواب کا مستحق بنتا ہے۔
4 تفصیلی وضاحت — ناشکری سے اللہ کا کچھ نہیں بگڑتا (وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٞ) — اگر کوئی شخص اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے تو اس سے اللہ کی شان یا بادشاہی میں کوئی کمی نہیں آتی: غنی (بے نیاز) — اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی عبادات اور شکر گزاری کا محتاج نہیں؛ حمید (قابلِ تعریف) — وہ بذاتِ خود محمود اور تعریف والا ہے، چاہے کوئی اس کی حمد بیان کرے یا نہ کرے۔ ناشکری کا نقصان صرف اور صرف انسان کو خود اٹھانا پڑتا ہے۔
5 حاصلِ کلام (اسباق) — حکمت کی اصل — سچی حکمت اور عقل یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کا وفادار اور شکر گزار بندہ بن جائے۔
6 حاصلِ کلام (اسباق) — نعمتوں کا اعتراف — انسان کو چاہیے کہ وہ علم، عقل اور زندگی کی تمام نعمتوں پر اللہ کا زبان اور عمل سے شکر ادا کرے۔
7 حاصلِ کلام (اسباق) — خدائی بے نیازی — بندے کی عبادت و شکر سے اللہ کو کوئی نفع نہیں اور نہ اس کی معصیت و ناشکری سے اسے کوئی نقصان پہنچتا ہے۔
9 تفصیلی جوابات

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱتَّقُواْ رَبَّكُمۡ وَٱخۡشَوۡاْ يَوۡمٗا لَّا يَجۡزِي وَالِدٌ عَن وَلَدِهِۦ وَلَا مَوۡلُودٌ هُوَ جَازٍ عَن وَالِدِهِۦ شَيۡـًٔاۚ إِنَّ وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقّٞۖ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَا وَلَا يَغُرَّنَّكُم بِٱللَّهِ ٱلۡغَرُورُ (سورۃ لقمان ۔ آیت 33)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت تحریر کریں۔

ترجمہ

"اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو اور اس دن (قیامت) سے ڈرو جس میں نہ کوئی باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آ سکے گا اور نہ کوئی بیٹا ہی اپنے باپ کو کچھ فائدہ پہنچا سکے گا۔ بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے، پس دنیاوی زندگی تمہیں ہرگز دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ ہی وہ بڑا دھوکے باز (شیطان) تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکے میں رکھے۔"

تفصیلی وضاحت اور حاصلِ کلام (اسباق)

1 تفصیلی وضاحت — تقویٰ اور رب کی خشیت کا حکم (ٱتَّقُواْ رَبَّكُمۡ) — آیت کی شروعات "يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ" کے عمومی خطاب سے کی گئی ہے، یعنی یہ ہدایت صرف مومنوں کے لیے نہیں بلکہ دنیا کے تمام انسانوں کے لیے ہے؛ انسانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے پیدا کرنے والے اور پالنے والے رب کی نافرمانی سے بچیں اور اس کے احکام کی بجا آوری میں تقویٰ اختیار کریں۔
2 تفصیلی وضاحت — قیامت کی تنہائی اور بے بسی (وَٱخۡشَوۡاْ يَوۡمٗا…) — قیامت کی ہولناکی کا نقشہ کھینچتے ہوئے فرمایا گیا کہ اس دن انسانی رشتے اور تعلقات کوئی نفع نہیں پہنچا سکیں گے: دنیا میں انسان کے سب سے قریبی اور مضبوط رشتے والد اور اولاد کے ہوتے ہیں، لیکن قیامت کے دن نہ کوئی باپ اپنے بچے کا بوجھ اٹھا سکے گا اور نہ کوئی بیٹا اپنے والد کا گناہ اپنے سر لے سکے گا؛ ہر شخص کو اپنے اعمال کا جواب دہ خود ہونا پڑے گا (نفسی نفسی)۔
3 تفصیلی وضاحت — دنیاوی زندگی کا دھوکا (فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَا) — انسان کو تنبیہ کی گئی ہے کہ دنیا کی عارضی رونقیں، مال و دولت، عیش و عشرت اور خاندانی تعلقات اسے اتنا غافل نہ کر دیں کہ وہ آخرت کو بھول جائے؛ دنیا صرف ایک امتحان گاہ ہے، اصل اور ابدی زندگی آخرت کی ہے۔
4 تفصیلی وضاحت — شیطان (بڑے دھوکے باز) کا فریب (وَلَا يَغُرَّنَّكُم بِٱللَّهِ ٱلۡغَرُورُ) — "الغرور" سے مراد شیطان ہے۔ شیطان انسان کو اللہ کی ذات کے بارے میں مختلف طریقوں سے دھوکا دیتا ہے: وہ دل میں یہ خیال ڈالتا ہے کہ "اللہ تو غفور و رحیم ہے، اس لیے گناہ کرتے رہو، معافی مل جائے گی"؛ اور وہ توبہ کو مؤخر کرواتا رہتا ہے اور انسان کو آخری وقت تک غفلت میں رکھتا ہے۔
5 حاصلِ کلام (اسباق) — انفرادی جواب دہی — قیامت کے دن ہر انسان اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہوگا؛ کوئی رشتہ دار یا دوست کام نہیں آئے گا۔
6 حاصلِ کلام (اسباق) — دنیا کی حقیقت — دنیاوی زندگی عارضی اور دھوکا ہے؛ اس کے لیے ابدی آخرت کو قربان نہیں کرنا چاہیے۔
7 حاصلِ کلام (اسباق) — شیطانی حیلوں سے بچاؤ — اللہ کی رحمت پر امید ضرور رکھنی چاہیے مگر اس کی آڑ میں گناہوں پر دلیری دکھانا اور توبہ میں تاخیر کرنا شیطانی دھوکا ہے۔
10 تفصیلی جوابات

إِنَّ ٱللَّهَ عِندَهُۥ عِلۡمُ ٱلسَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ ٱلۡغَيۡثَ وَيَعۡلَمُ مَا فِي ٱلۡأَرۡحَامِۖ وَمَا تَدۡرِي نَفۡسٞ مَّاذَا تَكۡسِبُ غَدٗاۖ وَمَا تَدۡرِي نَفۡسُۢ بِأَيِّ أَرۡضٖ تَمُوتُۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرُۢ (سورۃ لقمان ۔ آیت 34)

آیتِ کریمہ کی رو سے کن پانچ چیزوں کا علم صرف اللہ کے پاس ہے؟

ترجمہ

"بے شک اللہ ہی کے پاس ہے قیامت کا علم، وہی بارش برساتا ہے، اور وہی جانتا ہے جو کچھ ماؤں کے پیٹ (رحم) میں ہے؛ اور کوئی نفس نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا، اور نہ ہی کسی نفس کو معلوم ہے کہ وہ کس زمین میں مرے گا۔ بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا، پوری خبر رکھنے والا ہے۔"

اس آیتِ مبارکہ کی رو سے درج ذیل پانچ چیزوں کا حتمی اور کامل علم صرف اللہ تعالیٰ کی ذاتِ بابرکات کے پاس ہے (علومِ خمسہ):

1 قیامت کا علم (عِلۡمُ ٱلسَّاعَةِ) — قیامت کس دن، کس سال اور کس گھڑی آئے گی، اس کا دقیق اور حتمی علم صرف اللہ کو ہے۔
2 بارش کا نازل ہونا (وَيُنَزِّلُ ٱلۡغَيۡثَ) — بارش کا ٹھیک وقت، جگہ، اس کے قطرے اور اس کے ذریعے نازل ہونے والی رحمت یا زحمت کا کامل علم صرف اللہ ہی کو ہے۔
3 ارحامِ مادر کا علم (وَيَعۡلَمُ مَا فِي ٱلۡأَرۡحَامِ) — ماں کے پیٹ (رحم) میں پلنے والے بچے کی تمام حقیقتیں (مثلاً وہ شقی ہے یا سعید، اس کا رزق، اس کی عمر، اس کی تمام خصوصیات و مقدر) صرف اللہ جانتا ہے۔
4 کل کی کمائی اور مستقبل کا علم (وَمَا تَدۡرِي نَفۡسٞ مَّاذَا تَكۡسِبُ غَدٗا) — کوئی انسان نہیں جانتا کہ وہ کل کے دن کون سے خیر یا شر کے کام کرے گا اور کیا رزق و عمل حاصل کرے گا۔
5 موت کا وقت اور جگہ (وَمَا تَدۡرِي نَفۡسُۢ بِأَيِّ أَرۡضٖ تَمُوتُ) — کسی بھی انسان یا جاندار کو معلوم نہیں کہ اس کی موت کس جگہ، کس شہر اور کس گھڑی میں واقع ہوگی۔
جواب خلاصہ: ان پانچوں غیب کی باتوں کو احادیثِ مبارکہ میں "مَفَاتِيحُ الۡغَيۡبِ" (غیب کی کنجیاں) کہا گیا ہے، اور ان کا احاطہ صرف اللہ تعالیٰ کی صفتِ علمِ کامل ہی کر سکتی ہے۔

سرگرمیاں برائے طلبہ

11 سرگرمیاں برائے طلبہ

سورۃ لقمان میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی مختلف نشانیوں کو دیکھنے اور ان پر غور کرنے کی دعوت دی ہے؛ اپنا جائزہ لیں۔

سورۃ لقمان میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنے اردگرد موجود کائنات کی حیرت انگیز نشانیوں کو دیکھنے، سمجھنے اور ان پر غور و فکر کرنے کی دعوت دی ہے، تاکہ انسان اللہ کی وحدانیت اور عظمت کا اعتراف کر سکے۔

سورۃ لقمان میں بیان کردہ قدرت کی اہم نشانیاں اور اپنا جائزہ (خود احتسابی)

1 سورۃ لقمان میں بیان کردہ قدرت کی اہم نشانیاں — بغیر ستونوں کے آسمان — اتنا وسیع و عریض آسمان بغیر کسی ظاہری ستون کے قائم ہے۔
2 سورۃ لقمان میں بیان کردہ قدرت کی اہم نشانیاں — زمین میں پہاڑوں کا نصب ہونا — زمین کو لرزنے اور ڈگمگانے سے بچانے کے لیے اس پر وزنی پہاڑ گاڑ دیے گئے۔
3 سورۃ لقمان میں بیان کردہ قدرت کی اہم نشانیاں — تنوعِ حیات (جانور اور جاندار) — زمین پر بے شمار قسم کے جاندار اور جانور پھیلا دیے گئے۔
4 سورۃ لقمان میں بیان کردہ قدرت کی اہم نشانیاں — بارش اور نباتات — بادلوں سے پانی برسا کر زمین سے طرح طرح کے خوب صورت، ذائقے دار اور نفع بخش پودے اور پھل اگائے گئے۔
5 سورۃ لقمان میں بیان کردہ قدرت کی اہم نشانیاں — دن اور رات کا نظام — دن اور رات کا ایک دوسرے میں داخل ہونا اور سورج و چاند کا ایک مقررہ نظام کے تحت گردش کرنا (آیت 29)۔
6 اپنا جائزہ (خود احتسابی) — کیا میں کائنات میں غور و فکر کرتا ہوں؟ — جائزہ: کیا میں جب آسمان، بادل، پہاڑ یا درخت دیکھتا ہوں تو ان میں اللہ کی صنعت اور قدرت کو محسوس کرتا ہوں، یا صرف دنیاوی نظر سے دیکھ کر گزر جاتا ہوں؟ عمل: روزمرہ کی مصروفیت میں سے کچھ وقت نکال کر نظامِ قدرت پر غور و فکر (تفکر) کرنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔
7 اپنا جائزہ (خود احتسابی) — شکر گزاری کا رویہ — جائزہ: اللہ تعالیٰ نے پانی، ہوا، سبزہ اور مختلف نعمتیں عطا کیں؛ کیا میں ان نعمتوں کا دل، زبان اور عمل سے شکر ادا کرتا ہوں؟ عمل: پانی اور خوراک کا ضیاع روکنا اور اللہ کا ہر حال میں شکر گزار بندہ بننا۔
8 اپنا جائزہ (خود احتسابی) — توحید پر پختہ یقین — جائزہ: جب اس کائنات کی ہر چیز اتنے نظم و ضبط کے ساتھ چل رہی ہے، تو کیا میرا دل اس بات پر کامل یقین رکھتا ہے کہ اس نظام کا خالق و مالک صرف ایک اللہ ہے؟ عمل: ہر قسم کے شرک اور غیر اللہ پر بھروسے کے خیالات سے اپنے دل کو پاک رکھنا۔
جواب حاصلِ کلام: سورۃ لقمان کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ کائنات کی نشانیاں صرف دیکھنے کے لیے نہیں بلکہ معرفتِ الٰہی حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں۔ ایک بیدار مغز انسان وہی ہے جو قدرت کی ان نشانیوں کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی عظمت کے سامنے سرِ تسلیم خم کرے اور اپنی زندگی کو اس کے احکام کے مطابق ڈھالے۔
12 سرگرمیاں برائے طلبہ

سورۃ لقمان میں اللہ تعالیٰ کے مختلف ناموں اور صفات کا بیان ہے؛ فہرست بنائیں۔

سورۃ لقمان میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات، عظمت اور قدرت کا تعارف کروانے کے لیے اپنے مختلف اسماء و صفات کا ذکر فرمایا ہے۔ ان صفاتی ناموں کی فہرست اور معانی درج ذیل ہیں:

صفات سے حاصل ہونے والا فکری سبق

1 العزیز (زبردست غالب) — سب پر غالب — آیات 9، 27۔
2 الحکیم (کمال حکمت والا) — دانائی والا — آیات 9، 27۔
3 الغنی (بے نیاز) — جس کو کسی کی حاجت نہیں — آیات 12، 26۔
4 الحمید (تعریف کیا گیا) — بذاتِ خود قابلِ تعریف — آیات 12، 26۔
5 اللطیف (باریک بین) — باریک سے باریک چیز تک رسائی رکھنے والا — آیت 16۔
6 الخبیر (پوری خبر رکھنے والا) — ہر چیز کی خبر رکھنے والا — آیات 16، 34۔
7 العلیم / سمیع و بصیر — سب کچھ جاننے والا، سننے والا اور دیکھنے والا — آیات 28، 34۔
8 علم و خبر (العلیم، الخبیر، اللطیف) — انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ رائی کے دانے کے برابر بھی کوئی عمل اللہ سے چھپا ہوا نہیں۔
9 بے نیازی و حمد (الغنی، الحمید) — انسان کو یہ باور کرواتا ہے کہ اللہ مخلوق کی عبادت کا محتاج نہیں، بلکہ مخلوق اس کی محتاج ہے۔
10 عزت و حکمت (العزیز، الحکیم) — یہ بات واضح کرتا ہے کہ اللہ کے ہر فیصلے، حکم اور تخلیق میں کامل حکمت اور غلبہ شامل ہے۔
13 سرگرمیاں برائے طلبہ

وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَشۡتَرِي لَهۡوَ ٱلۡحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ بِغَيۡرِ عِلۡمٖ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًاۚ أُوْلَـٰٓئِكَ لَهُمۡ عَذَابٞ مُّهِينٞ

"لہو الحدیث" کا مفہوم معلوم کر کے اپنے معاشرے سے چند مثالیں جمع کریں اور مذاکرہ کریں کہ کیسے ان سے بچ سکتے ہیں۔

1 "لہو الحدیث" کا مفہوم — لغوی معنی — "لہو" سے مراد ہر وہ غفلت اور مشغلہ ہے جو انسان کو کسی اہم کام سے غافل کر دے، اور "حدیث" سے مراد بات، کلام یا قصہ ہے۔
2 "لہو الحدیث" کا مفہوم — اصطلاحی مفہوم — ہر وہ بات، کلام، مشغلہ، تفریح یا ذرائع ابلاغ جو انسان کو اللہ کی یاد، نماز، قرآنِ مجید اور دین کے بنیادی فرائض سے غافل کر دے اور باطل کی طرف مائل کرے، وہ "لہو الحدیث" کے زمرے میں آتا ہے۔
3 "لہو الحدیث" کا مفہوم — صحابہ و مفسرین کی رائے — حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور دیگر صحابہ کے نزدیک اس سے مراد گانا بجانا، فحش لٹریچر، لغو داستانیں اور دین سے دور کرنے والے مشغلے ہیں۔
4 ہمارے موجودہ معاشرے سے مثالیں — غیر اخلاقی اور فضول سوشل میڈیا مواد — شارٹس، ریلز اور ٹک ٹاک پر گھنٹوں کا ضیاع جو بے ہودگی، فحاشی اور غفلت کو فروغ دیتا ہے۔
5 ہمارے موجودہ معاشرے سے مثالیں — فحش اور لغو موسیقی — ایسے گانے اور راگ رنگ جن کے بول اخلاق سے گرے ہوئے ہوں اور انسان میں شہوانی خیالات پیدا کریں۔
6 ہمارے موجودہ معاشرے سے مثالیں — وقت ضائع کرنے والی گیمنگ — ایسی عادت بنا دینے والی (ایڈکٹو) گیمز جو انسان کو نماز، تعلیم اور خاندانی ذمہ داریوں سے غافل کر دیں۔
7 ہمارے موجودہ معاشرے سے مثالیں — غیبت، چغل خوری اور لغو مجالس — دوستوں اور محفلوں میں بیٹھ کر فضول باتیں، دوسروں کی چغلیاں، اور دین و اخلاق کا مذاق اڑانا۔
8 ہمارے موجودہ معاشرے سے مثالیں — منفی ڈرامے اور فلمیں — ایسا میڈیا لٹریچر جو رشتوں کی پامالی، نامحرم سے ناجائز تعلقات اور مادیت پرستی کو خوب صورت بنا کر پیش کرتا ہے۔
9 مذاکرہ: ان چیزوں سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟ — وقت کی قدر و قیمت کا احساس (خود احتسابی) — طلبہ اور جوانوں کو یہ شعور دیا جائے کہ عمر اور وقت اللہ کی دی ہوئی امانت ہے، جس کا قیامت کے دن حساب ہونا ہے۔
10 مذاکرہ: ان چیزوں سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟ — بدلی ہوئی ترجیحات اور مثبت متبادل — لغو اور بیہودہ مشغلوں کی جگہ مثبت اور نفع بخش سرگرمیوں کو دی جائے؛ جیسے اچھی کتب و تاریخ کا مطالعہ، کھیل کود (جسمانی ورزش)، اور تعمیری مشغلے۔
11 مذاکرہ: ان چیزوں سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟ — سوشل میڈیا کے استعمال کی حدود (ڈیجیٹل ڈیٹاکس) — موبائل اور انٹرنیٹ کے استعمال کے لیے مخصوص اور محدود وقت طے کیا جائے؛ فائدہ مند پیجز اور مواد کو فالو کیا جائے اور تمام بے ہودہ و غیر اخلاقی اکاؤنٹس کو بلاک یا ان فالو کیا جائے۔
12 مذاکرہ: ان چیزوں سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟ — نیک اور مثبت صحبت کا انتخاب — انسان اپنی صحبت سے پہچانا جاتا ہے؛ ایسے دوستوں کے ساتھ وقت گزارا جائے جو اللہ کی یاد، اخلاق اور پڑھائی کی طرف متوجہ کریں۔
13 مذاکرہ: ان چیزوں سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟ — باقاعدہ عبادات کی پابندی — نمازِ پنج گانہ کی پابندی انسان کو فحاشی اور منکرات سے قدرتی طور پر دور رکھتی ہے (إِنَّ ٱلصَّلَوٰةَ تَنۡهَىٰ عَنِ ٱلۡفَحۡشَآءِ وَٱلۡمُنكَرِ)۔
جواب حاصلِ کلام: لہو الحدیث کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ انسان کے دل سے قرآنِ مجید اور حق کی محبت ختم کر دیتا ہے۔ عقل مندی یہی ہے کہ ہم اپنے وقت اور صلاحیتوں کو ایسے کاموں میں لگائیں جو دنیا اور آخرت دونوں میں ہماری کامیابی کا باعث بنیں۔
14 سرگرمیاں برائے طلبہ

اس سورت میں جناب لقمان کا ذکر ہے؛ قرآنِ حکیم کے بیان کردہ دو مزید نیک کرداروں کے بارے میں تحریر کریں۔

سورۃ لقمان میں حضرت لقمان علیہ السلام کی دانائی اور نصائح کا ذکر ان کے بہترین اخلاق اور تربیت کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ قرآنِ مجید میں ان کے علاوہ بھی کئی ایسے نیک صالح کرداروں کے قصے بیان ہوئے ہیں جن کی زندگی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ان میں سے دو اہم نیک کردار درج ذیل ہیں:

ذوالقرنین (سورۃ الکہف، آیات 83 تا 98) اور مردِ مومن / حبیب نجار (سورۃ یٰس، آیات 20 تا 27)

1 ذوالقرنین (سورۃ الکہف، آیات 83 تا 98) — عادل اور خدا ترس حاکم — اللہ تعالیٰ نے انہیں عظیم سلطنت، طاقت اور وسائل عطا فرمائے تھے، مگر اس کے باوجود وہ انتہائی عاجز، انصاف پسند اور اللہ کے فرماں بردار بندے تھے۔
2 ذوالقرنین (سورۃ الکہف، آیات 83 تا 98) — مظلوموں کے مددگار — جب وہ دو پہاڑوں کے درمیان ایک ایسی قوم کے پاس پہنچے جو یاجوج و ماجوج کے مظالم سے تنگ تھی، تو انہوں نے بغیر کسی معاوضے یا لالچ کے ان کی حفاظت کے لیے ایک مضبوط سیسہ پلائی ہوئی دیوار تعمیر کر دی۔
3 ذوالقرنین (سورۃ الکہف، آیات 83 تا 98) — عاجزی اور تواضع — اتنی بڑی فتح اور دیوار کی تعمیر کے بعد بھی انہوں نے تکبر کرنے کے بجائے فرمایا: "هَٰذَا رَحۡمَةٞ مِّن رَّبِّي" ("یہ میرے رب کی رحمت ہے")۔
4 ذوالقرنین (سورۃ الکہف، آیات 83 تا 98) — سبق — طاقت، اقتدار اور وسائل ملنے پر انسان کو فرعون بننے کے بجائے ذوالقرنین کی طرح عادل اور خدا ترس ہونا چاہیے۔
5 مردِ مومن / حبیب نجار (سورۃ یٰس، آیات 20 تا 27) — حق کی حمایت اور شجاعت — جب ان کی قوم نے اللہ کے بھیجے ہوئے رسولوں کو جھٹلایا اور انہیں قتل کرنے کی دھمکیاں دیں، تو یہ نیک انسان بلا خوف و خطر شہر کے دور دراز کنارے سے دوڑتا ہوا آیا اور اپنی قوم کو سچے رسولوں پر ایمان لانے کی دعوت دی۔
6 مردِ مومن / حبیب نجار (سورۃ یٰس، آیات 20 تا 27) — خالص اور بے غرض نصیحت — انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ ایسے لوگوں کی پیروی کرو جو تم سے کوئی اجر یا مال نہیں مانگتے اور وہ خود ہدایت یافتہ ہیں۔
7 مردِ مومن / حبیب نجار (سورۃ یٰس، آیات 20 تا 27) — شہادت کے بعد بھی خیر خواہی — قوم نے انہیں شہید کر دیا، لیکن جب اللہ نے انہیں جنت کی بشارت دی تو انہوں نے وہاں بھی اپنی قوم کے لیے خیر خواہی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: "کاش میری قوم کو معلوم ہو جاتا کہ میرے رب نے مجھے بخش دیا اور عزت داروں میں شامل کر دیا۔"
8 مردِ مومن / حبیب نجار (سورۃ یٰس، آیات 20 تا 27) — سبق — حق بات کی حمایت کرنا، ایمان پر ڈٹ جانا اور لوگوں کی خیر خواہی ہر مومن کا طرۂ امتیاز ہونا چاہیے۔
جواب خلاصہ: قرآنِ مجید میں حضرت لقمان، ذوالقرنین اور مردِ مومن جیسے نیک کرداروں کے بیان کا مقصد ہمیں یہ سکھانا ہے کہ انسان چاہے حاکم ہو، باپ ہو یا عام شہری — اس کا اصل معیار اللہ کا تقویٰ، اخلاص اور انسانیت کی بھلائی ہے۔
15 سرگرمیاں برائے طلبہ

إِنَّ ٱللَّهَ عِندَهُۥ عِلۡمُ ٱلسَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ ٱلۡغَيۡثَ وَيَعۡلَمُ مَا فِي ٱلۡأَرۡحَامِۖ وَمَا تَدۡرِي نَفۡسٞ مَّاذَا تَكۡسِبُ غَدٗاۖ وَمَا تَدۡرِي نَفۡسُۢ بِأَيِّ أَرۡضٖ تَمُوتُۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرُۢ

سورۃ لقمان کی آخری آیت میں بیان کی گئی اللہ تعالیٰ کی صفتِ علم پر مذاکرہ کریں۔

سورۃ لقمان کی آخری آیت (آیت 34) کا اختتام اللہ تعالیٰ کے ان دو مبارک صفاتی ناموں پر ہوتا ہے: "إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرُۢ" ("بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا، پوری خبر رکھنے والا ہے")۔ یہ آیت اللہ تعالیٰ کی صفتِ علم کے احاطے اور کمال کا سب سے واضح بیان ہے، جس میں علومِ خمسہ کا ذکر کر کے ثابت کیا گیا ہے کہ حقیقی، ذاتی اور کامل علم صرف اور صرف اللہ ہی کا ہے۔

1 اللہ کے علم اور مخلوق کے علم میں فرق — اللہ کا علم — اللہ تعالیٰ کا علم ذاتی، قدیم، لامحدود، حتمی اور کامل ہے؛ وہ کسی کا محتاج نہیں اور نہ اس کے علم میں کبھی بھول یا غلطی کا امکان ہے۔
2 اللہ کے علم اور مخلوق کے علم میں فرق — مخلوق کا علم — انسان، فرشتے یا دیگر تمام مخلوقات کا علم عطا کردہ، محدود اور ناقص ہے؛ انسان سائنس اور ٹیکنالوجی میں جتنی بھی ترقی کر لے، وہ آنے والے کل کی حتمی خبر یا اپنی موت کا وقت نہیں جان سکتا۔
3 علومِ خمسہ میں صفتِ علم کا مظاہرہ — قیامت کا وقت — کب آئے گی؟ صرف اللہ جانتا ہے۔
4 علومِ خمسہ میں صفتِ علم کا مظاہرہ — بارش کا نازل ہونا — کتنی، کہاں اور کس قطرے سے کیا اثر ہوگا؟ علمِ الٰہی میں ہے۔
5 علومِ خمسہ میں صفتِ علم کا مظاہرہ — ارحامِ مادر — سائنس الٹراساؤنڈ سے صنف (لڑکا/لڑکی) تو بتا سکتی ہے، مگر بچے کی قسمت، روزی، کردار اور عمر کے بارے میں مطلق علم صرف اللہ کے پاس ہے۔
6 علومِ خمسہ میں صفتِ علم کا مظاہرہ — کل کی کمائی — اگلے لمحے انسان کے ساتھ کیا ہوگا اور وہ کیا عمل کرے گا؟ اس کی حتمی خبر اللہ کو ہے۔
7 علومِ خمسہ میں صفتِ علم کا مظاہرہ — موت کا وقت اور جگہ — کون، کب اور کہاں مرے گا؟ اس راز پر صرف اللہ کو آگاہی ہے۔
8 صفتِ علم پر ایمان کے عملی اور اخلاقی اثرات — احساسِ ذمہ داری اور تقویٰ — انسان کو یقین ہو جاتا ہے کہ وہ جو کام تاریکی میں کرے یا اپنے دل میں سوچے، اللہ ان تمام چھپی اور ظاہر باتوں سے واقف ہے؛ اس سے دل میں گناہوں سے بچنے کی فکر پیدا ہوتی ہے۔
9 صفتِ علم پر ایمان کے عملی اور اخلاقی اثرات — عاجزی اور انکساری — انسان اپنے پاس موجود تھوڑے سے علم یا سائنس کی دریافتوں پر غرور نہیں کرتا، بلکہ اللہ کی ذات کے سامنے عاجزی اختیار کرتا ہے۔
10 صفتِ علم پر ایمان کے عملی اور اخلاقی اثرات — توکل اور اطمینانِ قلب — جب انسان کو معلوم ہو کہ اس کا رب آئندہ کے حالات اور اس کی تقدیر سے واقف ہے، تو وہ اپنی تمام پریشانیاں اللہ کے سپرد کر کے اطمینانِ قلب حاصل کرتا ہے۔
جواب خلاصہ برائے مذاکرہ: سورۃ لقمان کی آخری آیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ انسان کا علم کتنا ہی وسیع کیوں نہ ہو جائے، وہ محدود ہی رہے گا؛ اللہ تعالیٰ کی صفتِ علم مطلق اور بے مثال ہے۔ اس صفت پر سچا ایمان انسان کو غرور سے بچاتا ہے اور اس کے دل میں ہمہ وقت اللہ کی حاضری و ناظری کا احساس بیدار رکھتا ہے۔
16 سرگرمیاں برائے طلبہ

حضرت لقمان کی وصیتوں کو سامنے رکھتے ہوئے طلبہ کے درمیان مباحثہ کرائیں۔

کلاس روم میں مباحثہ کروانے کے لیے سورۃ لقمان کی نصیحتیں ایک بہترین اور جامع موضوع ہیں۔ اس سرگرمی کو مؤثر بنانے کے لیے طلبہ کو دو گروہوں (یا موضوع وار) میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ مباحثے کا خاکہ درج ذیل ہے: مباحثے کا عنوان: "حضرت لقمان کی نصیحتیں اور موجودہ دور میں طالبِ علم کی کردار سازی" ابتدائیہ (صدرِ مجلس/ناظم): "سورۃ لقمان میں ایک دانش مند باپ کی اپنے بیٹے کو دی گئی نصیحتیں صرف ایک تاریخی قصہ نہیں، بلکہ ہر دور کے انسان — خصوصاً طلبہ — کی اخلاقی و روحانی تربیت کا ایک مکمل نصاب ہیں۔ آئیے آج ان نصیحتوں کے عملی اثرات پر مباحثہ کرتے ہیں۔"

1 نکتہ 1: توحید اور والدین کا احترام (آیات 13 تا 15) — بحث کا محور — شرک سب سے بڑا ظلم ہے اور والدین کی اطاعت فرض ہے، لیکن اللہ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں۔
2 نکتہ 1: توحید اور والدین کا احترام (آیات 13 تا 15) — طالب علم اول — "والدین کی خدمات کا کوئی نعم البدل نہیں؛ ان کے ساتھ بدتمیزی یا اف کہنا بھی اخلاقی زوال ہے۔"
3 نکتہ 1: توحید اور والدین کا احترام (آیات 13 تا 15) — طالب علم دوم — "لیکن جہاں دین اور اخلاقی حدود کا معاملہ آئے، وہاں حق کا ساتھ دینا ضروری ہے، اگرچہ احترام کا دامن پھر بھی ہاتھ سے نہیں چھوٹنا چاہیے۔"
4 نکتہ 2: نماز کی پابندی اور دعوتِ حق (آیت 17) — بحث کا محور — نماز قائم کرنا، نیکی کا حکم دینا، برائی سے روکنا اور مصیبت پر صبر کرنا۔
5 نکتہ 2: نماز کی پابندی اور دعوتِ حق (آیت 17) — طالب علم سوم — "نماز صرف ایک عبادت نہیں بلکہ طالب علم کو وقت کی پابندی اور خود ضبطی سکھاتی ہے۔"
6 نکتہ 2: نماز کی پابندی اور دعوتِ حق (آیت 17) — طالب علم چہارم — "جب ایک طالب علم نیکی کی طرف بلاتا ہے یا برائی (مثلاً نقل، جھوٹ) سے روکتا ہے، تو اسے دوستوں کی طرف سے تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کے لیے صبر اور عزم کی ضرورت ہوتی ہے۔"
7 نکتہ 3: تکبر سے پرہیز اور عاجزی (آیت 18) — بحث کا محور — لوگوں سے منہ پھیر کر بات نہ کرنا اور زمین پر اتراتے ہوئے نہ چلنا۔
8 نکتہ 3: تکبر سے پرہیز اور عاجزی (آیت 18) — طالب علم پنجم — "آج کے دور میں علم، اچھے نمبروں یا سوشل میڈیا لائکس پر غرور کرنا عام ہو چکا ہے؛ حضرت لقمان نے منہ پھیر کر بات کرنے سے منع فرما کر عاجزی کا درس دیا۔"
9 نکتہ 3: تکبر سے پرہیز اور عاجزی (آیت 18) — طالب علم ششم — "تکبر انسان کے اخلاق اور رشتے تباہ کر دیتا ہے، جب کہ عاجزی انسان کو لوگوں کے دلوں میں محترم بناتی ہے۔"
10 نکتہ 4: درمیانی چال اور آواز کی شائستگی (آیت 19) — بحث کا محور — اپنی چال میں اعتدال رکھنا اور اپنی آواز کو دھیما رکھنا۔
11 نکتہ 4: درمیانی چال اور آواز کی شائستگی (آیت 19) — طالب علم ہفتم — "کلاس روم ہو یا عام زندگی، اونچی آواز میں بولنا یا دوسروں پر چیخنا دانائی نہیں؛ قرآن نے اسے گدھے کی آواز سے تشبیہ دی ہے جو ناگوار ہوتی ہے۔"
12 نکتہ 4: درمیانی چال اور آواز کی شائستگی (آیت 19) — طالب علم ہشتم — "شائستہ گفتگو اور اعتدال پسندی طالب علم کی شخصیت کو باوقار بناتی ہے۔"
جواب اختتامی حاصلِ کلام (ناظم/استاد): "اس مباحثے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اگر آج کے طلبہ حضرت لقمان کی ان نصیحتوں — عقیدہ، عبادات، صبر، عاجزی اور شائستگی — کو اپنی روزمرہ زندگی میں اپنا لیں، تو وہ نہ صرف بہترین طالبِ علم بن سکتے ہیں بلکہ ایک مثالی اور بااخلاق معاشرے کی بنیاد بھی رکھ سکتے ہیں۔"

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.