ٱلَّذِينَ يُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤۡتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَهُم بِٱلۡأٓخِرَةِ هُمۡ يُوقِنُونَ (سورۃ لقمان ۔ آیت 4)
آیتِ کریمہ میں محسنین کی کیا صفات بیان ہوئی ہیں؟
اس آیتِ مبارکہ میں محسنین (نیکی کرنے والوں) کی درج ذیل بنیادی صفات بیان کی گئی ہیں:
نویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ
ٱلَّذِينَ يُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤۡتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَهُم بِٱلۡأٓخِرَةِ هُمۡ يُوقِنُونَ (سورۃ لقمان ۔ آیت 4)
آیتِ کریمہ میں محسنین کی کیا صفات بیان ہوئی ہیں؟
اس آیتِ مبارکہ میں محسنین (نیکی کرنے والوں) کی درج ذیل بنیادی صفات بیان کی گئی ہیں:
خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ بِغَيۡرِ عَمَدٖ تَرَوۡنَهَاۖ وَأَلۡقَىٰ فِي ٱلۡأَرۡضِ رَوَٰسِيَ أَن تَمِيدَ بِكُمۡ وَبَثَّ فِيهَا مِن كُلِّ دَآبَّةٖۚ وَأَنزَلۡنَا مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ فَأَنۢبَتۡنَا فِيهَا مِن كُلِّ زَوۡجٖ كَرِيمٍ (سورۃ لقمان ۔ آیت 10)
آیتِ کریمہ میں بیان کی گئی اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں لکھیں۔
اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور توحید کی پانچ بڑی نشانیاں بیان کی گئی ہیں:
يَٰبُنَيَّ أَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَ وَأۡمُرۡ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَٱنۡهَ عَنِ ٱلۡمُنكَرِ وَٱصۡبِرۡ عَلَىٰ مَآ أَصَابَكَۖ إِنَّ ذَٰلِكَ مِنۡ عَزۡمِ ٱلۡأُمُورِ (سورۃ لقمان ۔ آیت 17)
آیتِ کریمہ کی رو سے حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو کیا نصیحتیں کیں؟
اس آیتِ مبارکہ کی رو سے حضرت لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو درج ذیل چار اہم نصیحتیں فرمائیں:
وَلَوۡ أَنَّمَا فِي ٱلۡأَرۡضِ مِن شَجَرَةٍ أَقۡلَٰمٞ وَٱلۡبَحۡرُ يَمُدُّهُۥ مِنۢ بَعۡدِهِۦ سَبۡعَةُ أَبۡحُرٖ مَّا نَفِدَتۡ كَلِمَٰتُ ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٞ (سورۃ لقمان ۔ آیت 27)
آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی شان بیان کرنے کے لیے کیا مثال دی گئی ہے؟
اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی لامحدود حکمت، علم اور عظمت کو بیان کرنے کے لیے درج ذیل بے مثال مثال دی گئی ہے:
مَّا خَلۡقُكُمۡ وَلَا بَعۡثُكُمۡ إِلَّا كَنَفۡسٖ وَٰحِدَةٍۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعُۢ بَصِيرٌ (سورۃ لقمان ۔ آیت 28)
انسان کو پیدا فرمانے اور روزِ قیامت اٹھائے جانے کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے کیا فرمایا ہے؟
وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَشۡتَرِي لَهۡوَ ٱلۡحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ بِغَيۡرِ عِلۡمٖ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًاۚ أُوْلَـٰٓئِكَ لَهُمۡ عَذَابٞ مُّهِينٞ (سورۃ لقمان ۔ آیت 6)
آیتِ کریمہ کا ترجمہ اور تفصیلی وضاحت تحریر کریں۔
"اور لوگوں میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو بیہودہ/فضول باتوں (کلام) کے خریدار بنتے ہیں تاکہ بغیر کسی علم کے (لوگوں کو) اللہ کے راستے سے بہکا دیں اور اس (اللہ کے راستے یا آیات) کا مذاق اڑائیں؛ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔"
تفصیلی وضاحت اور حاصلِ کلام (اسباق)
سورۃ لقمان کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔
وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَا لُقۡمَٰنَ ٱلۡحِكۡمَةَ أَنِ ٱشۡكُرۡ لِلَّهِۚ وَمَن يَشۡكُرۡ فَإِنَّمَا يَشۡكُرُ لِنَفۡسِهِۦۖ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٞ (سورۃ لقمان ۔ آیت 12)
آیتِ کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت تحریر کریں۔
"اور بلاشبہ ہم نے لقمان کو حکمت عطا فرمائی کہ اللہ کا شکر ادا کرو؛ اور جو شخص شکر ادا کرتا ہے وہ اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے، اور جو ناشکری کرتا ہے تو بے شک اللہ بے نیاز اور ذاتی طور پر قابلِ تعریف ہے۔"
تفصیلی وضاحت اور حاصلِ کلام (اسباق)
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱتَّقُواْ رَبَّكُمۡ وَٱخۡشَوۡاْ يَوۡمٗا لَّا يَجۡزِي وَالِدٌ عَن وَلَدِهِۦ وَلَا مَوۡلُودٌ هُوَ جَازٍ عَن وَالِدِهِۦ شَيۡـًٔاۚ إِنَّ وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقّٞۖ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَا وَلَا يَغُرَّنَّكُم بِٱللَّهِ ٱلۡغَرُورُ (سورۃ لقمان ۔ آیت 33)
آیتِ کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت تحریر کریں۔
"اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو اور اس دن (قیامت) سے ڈرو جس میں نہ کوئی باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آ سکے گا اور نہ کوئی بیٹا ہی اپنے باپ کو کچھ فائدہ پہنچا سکے گا۔ بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے، پس دنیاوی زندگی تمہیں ہرگز دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ ہی وہ بڑا دھوکے باز (شیطان) تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکے میں رکھے۔"
تفصیلی وضاحت اور حاصلِ کلام (اسباق)
إِنَّ ٱللَّهَ عِندَهُۥ عِلۡمُ ٱلسَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ ٱلۡغَيۡثَ وَيَعۡلَمُ مَا فِي ٱلۡأَرۡحَامِۖ وَمَا تَدۡرِي نَفۡسٞ مَّاذَا تَكۡسِبُ غَدٗاۖ وَمَا تَدۡرِي نَفۡسُۢ بِأَيِّ أَرۡضٖ تَمُوتُۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرُۢ (سورۃ لقمان ۔ آیت 34)
آیتِ کریمہ کی رو سے کن پانچ چیزوں کا علم صرف اللہ کے پاس ہے؟
"بے شک اللہ ہی کے پاس ہے قیامت کا علم، وہی بارش برساتا ہے، اور وہی جانتا ہے جو کچھ ماؤں کے پیٹ (رحم) میں ہے؛ اور کوئی نفس نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا، اور نہ ہی کسی نفس کو معلوم ہے کہ وہ کس زمین میں مرے گا۔ بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا، پوری خبر رکھنے والا ہے۔"
اس آیتِ مبارکہ کی رو سے درج ذیل پانچ چیزوں کا حتمی اور کامل علم صرف اللہ تعالیٰ کی ذاتِ بابرکات کے پاس ہے (علومِ خمسہ):
سورۃ لقمان میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی مختلف نشانیوں کو دیکھنے اور ان پر غور کرنے کی دعوت دی ہے؛ اپنا جائزہ لیں۔
سورۃ لقمان میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنے اردگرد موجود کائنات کی حیرت انگیز نشانیوں کو دیکھنے، سمجھنے اور ان پر غور و فکر کرنے کی دعوت دی ہے، تاکہ انسان اللہ کی وحدانیت اور عظمت کا اعتراف کر سکے۔
سورۃ لقمان میں بیان کردہ قدرت کی اہم نشانیاں اور اپنا جائزہ (خود احتسابی)
سورۃ لقمان میں اللہ تعالیٰ کے مختلف ناموں اور صفات کا بیان ہے؛ فہرست بنائیں۔
سورۃ لقمان میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات، عظمت اور قدرت کا تعارف کروانے کے لیے اپنے مختلف اسماء و صفات کا ذکر فرمایا ہے۔ ان صفاتی ناموں کی فہرست اور معانی درج ذیل ہیں:
صفات سے حاصل ہونے والا فکری سبق
وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَشۡتَرِي لَهۡوَ ٱلۡحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ بِغَيۡرِ عِلۡمٖ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًاۚ أُوْلَـٰٓئِكَ لَهُمۡ عَذَابٞ مُّهِينٞ
"لہو الحدیث" کا مفہوم معلوم کر کے اپنے معاشرے سے چند مثالیں جمع کریں اور مذاکرہ کریں کہ کیسے ان سے بچ سکتے ہیں۔
اس سورت میں جناب لقمان کا ذکر ہے؛ قرآنِ حکیم کے بیان کردہ دو مزید نیک کرداروں کے بارے میں تحریر کریں۔
سورۃ لقمان میں حضرت لقمان علیہ السلام کی دانائی اور نصائح کا ذکر ان کے بہترین اخلاق اور تربیت کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ قرآنِ مجید میں ان کے علاوہ بھی کئی ایسے نیک صالح کرداروں کے قصے بیان ہوئے ہیں جن کی زندگی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ان میں سے دو اہم نیک کردار درج ذیل ہیں:
ذوالقرنین (سورۃ الکہف، آیات 83 تا 98) اور مردِ مومن / حبیب نجار (سورۃ یٰس، آیات 20 تا 27)
إِنَّ ٱللَّهَ عِندَهُۥ عِلۡمُ ٱلسَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ ٱلۡغَيۡثَ وَيَعۡلَمُ مَا فِي ٱلۡأَرۡحَامِۖ وَمَا تَدۡرِي نَفۡسٞ مَّاذَا تَكۡسِبُ غَدٗاۖ وَمَا تَدۡرِي نَفۡسُۢ بِأَيِّ أَرۡضٖ تَمُوتُۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرُۢ
سورۃ لقمان کی آخری آیت میں بیان کی گئی اللہ تعالیٰ کی صفتِ علم پر مذاکرہ کریں۔
سورۃ لقمان کی آخری آیت (آیت 34) کا اختتام اللہ تعالیٰ کے ان دو مبارک صفاتی ناموں پر ہوتا ہے: "إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرُۢ" ("بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا، پوری خبر رکھنے والا ہے")۔ یہ آیت اللہ تعالیٰ کی صفتِ علم کے احاطے اور کمال کا سب سے واضح بیان ہے، جس میں علومِ خمسہ کا ذکر کر کے ثابت کیا گیا ہے کہ حقیقی، ذاتی اور کامل علم صرف اور صرف اللہ ہی کا ہے۔
حضرت لقمان کی وصیتوں کو سامنے رکھتے ہوئے طلبہ کے درمیان مباحثہ کرائیں۔
کلاس روم میں مباحثہ کروانے کے لیے سورۃ لقمان کی نصیحتیں ایک بہترین اور جامع موضوع ہیں۔ اس سرگرمی کو مؤثر بنانے کے لیے طلبہ کو دو گروہوں (یا موضوع وار) میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ مباحثے کا خاکہ درج ذیل ہے: مباحثے کا عنوان: "حضرت لقمان کی نصیحتیں اور موجودہ دور میں طالبِ علم کی کردار سازی" ابتدائیہ (صدرِ مجلس/ناظم): "سورۃ لقمان میں ایک دانش مند باپ کی اپنے بیٹے کو دی گئی نصیحتیں صرف ایک تاریخی قصہ نہیں، بلکہ ہر دور کے انسان — خصوصاً طلبہ — کی اخلاقی و روحانی تربیت کا ایک مکمل نصاب ہیں۔ آئیے آج ان نصیحتوں کے عملی اثرات پر مباحثہ کرتے ہیں۔"
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔