نویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 16: سبق 16: سورۃ الروم (حصہ دوم) — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں برائے طلبہ · 14 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

بَلِ ٱتَّبَعَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓاْ أَهۡوَآءَهُم بِغَيۡرِ عِلۡمٖۖ فَمَن يَهۡدِي مَنۡ أَضَلَّ ٱللَّهُۖ وَمَا لَهُم مِّن نَّـٰصِرِينَ (سورۃ الروم ۔ آیت 29)

آیتِ کریمہ کی رو سے ظالم لوگ کس چیز کی پیروی کرتے ہیں؟

جواب آیتِ کریمہ کے مطابق ظالم لوگ بغیر کسی علم، دلیل اور ہدایت کے محض اپنے نفس کی خواہشات (اہواء) کی پیروی کرتے ہیں۔
2 مختصر جوابات

مُنِيبِينَ إِلَيۡهِ وَٱتَّقُوهُ وَأَقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَلَا تَكُونُواْ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ (سورۃ الروم ۔ آیت 31)

آیتِ کریمہ میں کیا تعلیمات بیان ہوئی ہیں؟

اس آیتِ مبارکہ میں مسلمانوں کو درج ذیل بنیادی اسلامی تعلیمات اور احکام دیے گئے ہیں:

1 انابت (اللہ کی طرف رجوع کرنا) — ہر معاملے میں مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا اور اسی سے لو لگانا۔
2 تقویٰ (خشیتِ الٰہی) — اللہ تعالیٰ سے ڈرنا اور زندگی کے ہر شعبے میں اس کے احکام کی فرماں برداری کرنا۔
3 اقامتِ نماز — نماز کو اس کے تمام حقوق، خشوع و خضوع اور پابندیِ وقت کے ساتھ قائم کرنا۔
4 اجتنابِ شرک — مشرکین کی روش سے دور رہنا اور اللہ کی ذات و صفات یا عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرانا۔
3 مختصر جوابات

ظَهَرَ ٱلۡفَسَادُ فِي ٱلۡبَرِّ وَٱلۡبَحۡرِ بِمَا كَسَبَتۡ أَيۡدِي ٱلنَّاسِ لِيُذِيقَهُم بَعۡضَ ٱلَّذِي عَمِلُواْ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُونَ (سورۃ الروم ۔ آیت 41)

آیتِ کریمہ میں فساد کی وجہ کیا بتائی گئی ہے؟

ترجمہ

"خشکی اور تری میں فساد پھیل گیا ان برائیوں کی وجہ سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمائیں، تاکہ اللہ انہیں ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے تاکہ وہ (گناہوں سے) باز آ جائیں۔"

جواب اس آیتِ کریمہ کی رو سے خشکی اور تری میں فساد پھیلنے کی اصل وجہ انسانوں کے اپنے ہاتھوں کے برے اعمال اور گناہ بتائے گئے ہیں۔
4 مختصر جوابات

وَيَوۡمَ تَقُومُ ٱلسَّاعَةُ يُقۡسِمُ ٱلۡمُجۡرِمُونَ مَا لَبِثُواْ غَيۡرَ سَاعَةٖۚ كَذَٰلِكَ كَانُواْ يُؤۡفَكُونَ (سورۃ الروم ۔ آیت 55)

آیتِ کریمہ کی رو سے قیامت کے دن مجرم لوگ کس بات کی قسم اٹھائیں گے؟

ترجمہ

"اور جس دن قیامت قائم ہوگی، مجرم قسمیں کھائیں گے کہ وہ ایک گھڑی سے زیادہ نہیں ٹھہرے تھے؛ اسی طرح وہ (دنیا میں بھی حق سے) الٹے پھیرے جاتے تھے۔"

جواب اس آیتِ کریمہ کی رو سے قیامت کے دن مجرم لوگ قسم اٹھا کر کہیں گے کہ وہ (دنیا یا برزخ میں) ایک گھڑی (تھوڑی سی دیر) سے زیادہ نہیں ٹھہرے۔

تفصیلی جوابات

5 تفصیلی جوابات

فَأَقِمۡ وَجۡهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفٗاۚ فِطۡرَتَ ٱللَّهِ ٱلَّتِي فَطَرَ ٱلنَّاسَ عَلَيۡهَاۚ لَا تَبۡدِيلَ لِخَلۡقِ ٱللَّهِۚ ذَٰلِكَ ٱلدِّينُ ٱلۡقَيِّمُ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ (سورۃ الروم ۔ آیت 30)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت تحریر کریں۔

ترجمہ

"پس (اے نبی!) آپ اپنا رخ یکسو ہو کر اس دین کی طرف جمائے رکھیے، (یہ) اللہ کی بنائی ہوئی فطرت ہے جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے، اللہ کی تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی، یہی سیدھا اور قائم رہنے والا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔"

تفصیلی وضاحت

1 دینِ اسلام پر یکسوئی اور استقامت (حَنِيفٗا) — "حنیف" کا مطلب ہے تمام باطل راستوں، معبودوں اور نظریات سے کٹ کر صرف ایک اللہ کی طرف متوجہ ہونا۔ آیت کے پہلے حصے میں حکم دیا گیا ہے کہ انسان اپنی تمام تر توجہ، نیت اور اعمال کو دینِ اسلام کے لیے خالص کر لے اور شرک و باطل نظریات کی ملاوٹ سے پاک ہو کر صراطِ مستقیم پر قائم رہے۔
2 فطرتِ الٰہی (فِطۡرَتَ ٱللَّهِ) — اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو ایک خالص اور پاکیزہ فطرت پر پیدا کیا ہے؛ اس بنیادی ساخت کا تقاضا ہے کہ انسان اپنے خالق و مالک کو پہچانے اور اسی کی عبادت کرے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "ہر بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں" (صحیح بخاری) — اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی اصل بناوٹ توحید اور اطاعت پر مبنی ہے، لیکن برا ماحول اور گمراہ کن نظریات اسے سیدھے راستے سے ہٹا دیتے ہیں۔
3 تخلیقِ الٰہی میں کوئی تبدیلی نہیں (لَا تَبۡدِيلَ لِخَلۡقِ ٱللَّهِ) — اللہ تعالیٰ نے جو فطری قانون اور توحید کا نظام انسانوں کے لیے بنایا ہے، وہ لازوال ہے؛ حق و صداقت کی بنیادی حقیقتیں کبھی بدلتی نہیں۔ انسان چاہے جتنا بھی بدلاؤ لانے کی کوشش کرے، اس کی روح کا حقیقی سکون صرف اپنے خالق کی بندگی میں مضمر ہے۔
4 دینِ قیم (ذَٰلِكَ ٱلدِّينُ ٱلۡقَيِّمُ) — "الدین القیم" سے مراد نہایت سیدھا، محکم اور درست نظامِ زندگی ہے؛ اسلام انسان کی ذہنی، جسمانی اور روحانی تمام ضروریات سے مطابقت رکھتا ہے کیونکہ یہ اسی ذات کا نازل کردہ ہے جس نے انسان کو پیدا کیا۔
5 اکثر لوگوں کی لاعلمی (وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ) — آیت کے آخر میں فرمایا گیا کہ اکثریت اس حقیقت سے ناواقف ہے اور ظاہری و عارضی فائدوں کے پیچھے بھاگ کر اپنی فطرت اور اصل دین سے دور ہو جاتی ہے۔
جواب خلاصہ و سبق: یہ آیت درس دیتی ہے کہ اسلام کوئی مصنوعی یا مسلط کردہ مذہب نہیں، بلکہ انسان کی اپنی فطری آواز ہے۔ کامیابی اسی میں ہے کہ ہم باطل اور نفسانی خواہشات سے ہٹ کر اپنی زندگی کو اللہ کے بتائے ہوئے فطری راستے (اسلام) کے مطابق ڈھالیں۔
6 تفصیلی جوابات

وَإِذَآ أَذَقۡنَا ٱلنَّاسَ رَحۡمَةٗ فَرِحُواْ بِهَاۖ وَإِن تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةُۢ بِمَا قَدَّمَتۡ أَيۡدِيهِمۡ إِذَا هُمۡ يَقۡنَطُونَ (سورۃ الروم ۔ آیت 36)

آیتِ کریمہ کے مطابق رحمت اور برائی پر لوگوں کا کیا رویہ ہوتا ہے؟

ترجمہ

"اور جب ہم لوگوں کو کسی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ اس پر اترانے لگتے ہیں، اور اگر ان کے اپنے ہاتھوں کے کیے دھرے کی وجہ سے ان پر کوئی مصیبت آ جائے تو وہ فوراً ناامید (مایوس) ہو جاتے ہیں۔"

اس آیتِ کریمہ میں عام انسانوں (بالخصوص ایمان سے محروم یا کمزور ایمان والے لوگوں) کی ایک بنیادی نفسیاتی اور اخلاقی کمزوری کا نقشہ کھینچا گیا ہے:

1 رحمت (نعمت و خوش حالی) ملنے پر رویہ — اتراؤ اور تکبر (فَرِحُواْ بِهَا) — جب اللہ تعالیٰ انسان کو کوئی نعمت، صحت، مال، کامیابی یا خوش حالی عطا فرماتا ہے تو وہ اللہ کا شکر ادا کرنے کے بجائے اترانے لگتا ہے؛ وہ اس نعمت کو اللہ کا فضل سمجھنے کے بجائے اپنی تدبیر، محنت یا لیاقت کا نتیجہ سمجھ کر غرور و غفلت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
2 برائی (مصیبت و تکالیف) آنے پر رویہ — مایوسی اور ناامیدی (إِذَا هُمۡ يَقۡنَطُونَ) — جب انسان کو اپنے برے اعمال کی وجہ سے کسی مصیبت، بیماری، تنگ دستی یا آزمائش کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ فوراً اللہ کی رحمت سے ناامید ہو جاتا ہے؛ صبر اور استغفار کرنے اور اللہ کی طرف رجوع کرنے کے بجائے حوصلہ ہار بیٹھتا ہے۔
جواب خلاصہ: آیت کے مطابق کمزور ایمان والے لوگ خوش حالی اور نعمت میں اتراتے اور غافل ہوتے ہیں، جب کہ تکلیف اور مصیبت میں ناامید ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس ایک حقیقی مومن کا رویہ یہ ہوتا ہے کہ وہ نعمت پر شکر ادا کرتا ہے اور مصیبت پر صبر و استغفار کرتا ہے۔
7 تفصیلی جوابات

وَمِنۡ ءَايَٰتِهِۦٓ أَن يُرۡسِلَ ٱلرِّيَاحَ مُبَشِّرَٰتٖ وَلِيُذِيقَكُم مِّن رَّحۡمَتِهِۦ وَلِتَجۡرِيَ ٱلۡفُلۡكُ بِأَمۡرِهِۦ وَلِتَبۡتَغُواْ مِن فَضۡلِهِۦ وَلَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُونَ (سورۃ الروم ۔ آیت 46)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت تحریر کریں۔

ترجمہ

"اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ (بھی) ہے کہ وہ خوش خبری دینے والی ہواؤں کو بھیجتا ہے تاکہ تمہیں اپنی رحمت کا مزہ چکھائے، اور تاکہ اس کے حکم سے کشتیاں (اور جہاز) چلیں، اور تاکہ تم اس کا فضل (رزق) تلاش کرو، اور تاکہ تم شکر ادا کرو۔"

تفصیلی وضاحت

1 خوش خبری دینے والی ہوائیں (مُبَشِّرَٰتٖ) — بارش سے پہلے ٹھنڈی اور خوش گوار ہوائیں چلتی ہیں جو انسانوں، حیوانوں اور نباتات کے لیے رحمت (بارش) کی آمد کی خوش خبری بن کر آتی ہیں؛ یہ ہوائیں مردہ زمین میں زندگی کی نئی لہر پھونکنے کا پیغام دیتی ہیں۔
2 رحمتِ الٰہی کا ذائقہ (وَلِيُذِيقَكُم مِّن رَّحۡمَتِهِۦ) — ہواؤں کے ذریعے جب بادل بنتے ہیں اور بارش ہوتی ہے تو زمین سے اناج، پھل اور سبزیاں اگتی ہیں؛ اس طرح اللہ تعالیٰ انسانوں کو اپنی رحمت، رزق اور نعمتوں کا مزہ چکھاتا ہے جس سے زندگی کا نظام قائم رہتا ہے۔
3 سمندری نقل و حمل اور تجارت (وَلِتَجۡرِيَ ٱلۡفُلۡكُ بِأَمۡرِهِۦ) — ہوا کا نظام سمندروں میں کشتیوں اور بحری جہازوں کی آمد و رفت میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے؛ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوائیں سمندری سفر کو ممکن بناتی ہیں، جس سے انسان ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرتے ہیں۔
4 فضلِ الٰہی (رزق) کی تلاش (وَلِتَبۡتَغُواْ مِن فَضۡلِهِۦ) — ہواؤں اور سمندری سفر کے ذریعے انسان بین الاقوامی تجارت کرتے ہیں، ایک ملک کا سامان دوسرے ملک منتقل کرتے ہیں اور رزقِ حلال تلاش کرتے ہیں؛ یہ معاشی اور تجارتی ترقی کا بڑا ذریعہ ہے۔
5 شکر گزاری کا تقاضا (وَلَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُونَ) — آیت کے آخر میں ان تمام نعمتوں کا مقصد بیان فرمایا گیا کہ انسان ان نشانیوں پر غور کرے، اپنے رب کی معرفت حاصل کرے اور زبان و عمل سے اس کا شکر گزار بنے، نہ کہ شرک و کفر کی راہ اختیار کرے۔
جواب خلاصہ و سبق: ہواؤں اور بارش کا پورا نظام اللہ کی توحید اور قدرت کی روشن دلیل ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ ان نعمتوں کو محض ایک قدرتی عمل نہ سمجھے بلکہ ان کے پیچھے کارفرما رب کی ذات کو پہچانے اور اس کا شکر ادا کرے۔
8 تفصیلی جوابات

وَمَآ ءَاتَيۡتُم مِّن رِّبٗا لِّيَرۡبُوَاْ فِيٓ أَمۡوَٰلِ ٱلنَّاسِ فَلَا يَرۡبُواْ عِندَ ٱللَّهِۖ وَمَآ ءَاتَيۡتُم مِّن زَكَوٰةٖ تُرِيدُونَ وَجۡهَ ٱللَّهِ فَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُضۡعِفُونَ (سورۃ الروم ۔ آیت 39)

آیتِ کریمہ میں سود اور زکوٰۃ کے درمیان کیا موازنہ کیا گیا ہے؟

ترجمہ

"اور جو تم سود (یا مال بڑھانے کی غرض سے کوئی تحفہ) دیتے ہو تاکہ وہ لوگوں کے مال میں مل کر بڑھ جائے، تو وہ اللہ کے ہاں نہیں بڑھتا۔ اور جو تم زکوٰۃ دیتے ہو جس سے تمہارا مقصد صرف اللہ کی رضا حاصل کرنا ہو، تو ایسے ہی لوگ (اپنے مال کو) کئی گنا کرنے والے ہیں۔"

اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے سود اور زکوٰۃ کے درمیان ایک واضح اخلاقی، معاشی اور روحانی موازنہ بیان فرمایا ہے:

1 سود (ربا): ظاہری اضافہ، حقیقی کمی — انسان جب سود پر رقم دیتا ہے یا اس نیت سے کسی کو مال دیتا ہے کہ بدلے میں زیادہ ملے، تو بظاہر لگتا ہے کہ مال بڑھ رہا ہے؛ لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں اس مال میں کوئی برکت یا معنوی برتری نہیں ہوتی (فَلَا يَرۡبُواْ عِندَ ٱللَّهِ) — نہ یہ آخرت میں ثواب کا باعث بنتا ہے اور نہ اللہ کے ہاں مقبول ہوتا ہے۔ دنیوی معیشت میں بھی سود ظلم، استحصال اور بے برکتی کا سبب بنتا ہے۔
2 زکوٰۃ: ظاہری کمی، حقیقی اضافہ — جب انسان اپنے مال میں سے زکوٰۃ یا صدقہ دیتا ہے تو بظاہر لگتا ہے کہ مال کم ہو گیا؛ لیکن اگر یہ زکوٰۃ محض اللہ کی رضا (وَجۡهَ ٱللَّهِ) کے لیے دی جائے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے دنیا میں مال و نعمتوں میں برکت عطا فرماتا ہے اور آخرت میں اجر و ثواب کئی گنا (ٱلۡمُضۡعِفُونَ) بڑھا کر عطا کرتا ہے۔
3 موازنے کا خلاصہ — مقصد: سود میں خود غرضی اور ظاہری مال کا اضافہ؛ زکوٰۃ میں اللہ کی رضا اور غریبوں کی امداد۔ ظاہری صورت: سود میں مال بڑھتا نظر آتا ہے؛ زکوٰۃ میں کم ہوتا نظر آتا ہے۔ اللہ کے ہاں مقام: سود میں کوئی اضافہ اور برکت نہیں؛ زکوٰۃ میں کئی گنا اضافہ اور اجر و ثواب۔ نتائج: سود میں بے برکتی اور آخرت میں خسارہ؛ زکوٰۃ میں برکت، پاکیزگی اور آخرت میں عظیم کامیابی۔
جواب سبق: حقیقی وسعت اور ترقی مال کی ظاہری تعداد میں نہیں، بلکہ اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرنے اور اس کی دی ہوئی برکت میں ہے۔ سود مال کو گھٹاتا اور بے برکت کرتا ہے، جب کہ زکوٰۃ مال کو پاک کرتی اور اسے کثرت سے بڑھاتی ہے۔
9 تفصیلی جوابات

وَلَقَدۡ ضَرَبۡنَا لِلنَّاسِ فِي هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانِ مِن كُلِّ مَثَلٖۚ وَلَئِن جِئۡتَهُم بِـَٔايَةٖ لَّيَقُولَنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ إِنۡ أَنتُمۡ إِلَّا مُبۡطِلُونَ كَذَٰلِكَ يَطۡبَعُ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِ ٱلَّذِينَ لَا يَعۡلَمُونَ (سورۃ الروم ۔ آیات 58 تا 59)

آیاتِ کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت تحریر کریں۔

ترجمہ

"اور ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی مثال بیان کر دی ہے، اور اگر آپ ان کے پاس کوئی بھی نشانی (معجزہ) لے آئیں تو یہ کافر یقیناً یہی کہیں گے کہ تم تو بس باطل پر ہو (جھوٹ گھڑتے ہو)۔ اسی طرح اللہ ان لوگوں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے جو علم نہیں رکھتے (حق کو نہیں سمجھتے)۔"

تفصیلی وضاحت

1 تمام دلائل اور مثالوں کی جامعیت (مِن كُلِّ مَثَلٖ) — اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے قرآنِ کریم میں ہر طرح کی آسان، واضح اور مؤثر مثالیں، سابقہ قوموں کے واقعات اور کائنات کے عبرت ناک مناظر بیان کر دیے ہیں، تاکہ ہر انسان اپنی عقل، فہم اور صلاحیت کے مطابق حق کو آسانی سے سمجھ سکے اور توحید، آخرت اور رسالت کا اقرار کرے۔
2 کافروں اور منکرین کی ہٹ دھرمی — جب انسان تعصب، ضد اور عناد کا شکار ہو جائے تو روشن دلائل اور کھلے معجزات دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاتا۔ مکہ کے کافروں کی یہی روش تھی کہ آپ ﷺ جتنے بھی واضح معجزات یا قرآنی آیات ان کے سامنے پیش کرتے، وہ فوراً یہی الزام لگاتے کہ "تم لوگ تو بالکل جھوٹے اور باطل پر ہو۔"
3 دلوں پر مہر لگنا (يَطۡبَعُ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِ…) — "یطبع" (مہر لگانا) سے مراد یہ ہے کہ جب انسان مسلسل حق کا انکار کرتا ہے، اپنی عقل اور تدبر کو استعمال نہیں کرتا اور جہالت پر اڑا رہتا ہے، تو بطورِ سزا اس کے دل سے حق کو قبول کرنے کی صلاحیت ختم کر دی جاتی ہے۔ "ٱلَّذِينَ لَا يَعۡلَمُونَ" سے مراد وہ لوگ ہیں جو حقیقت اور علمِ حق سے منہ موڑتے ہیں اور جان بوجھ کر ناواقف بنے رہتے ہیں۔
جواب خلاصہ و سبق: قرآنِ مجید میں ہدایت کے تمام راستے اور دلائل واضح کر دیے گئے ہیں۔ ہدایت اسی کو ملتی ہے جو کھلے دل اور طلبِ صادق کے ساتھ حق کی تلاش کرتا ہے؛ جو شخص ضد، عناد اور ہٹ دھرمی اختیار کرتا ہے، اس کا دل سخت ہو جاتا ہے اور وہ روشن ترین معجزات دیکھ کر بھی ہدایت سے محروم رہتا ہے۔
10 تفصیلی جوابات

فَٱصۡبِرۡ إِنَّ وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقّٞۖ وَلَا يَسۡتَخِفَّنَّكَ ٱلَّذِينَ لَا يُوقِنُونَ (سورۃ الروم ۔ آیت 60)

آیتِ کریمہ میں کس بات کی ہدایت دی گئی ہے؟

ترجمہ

"پس (اے نبی!) آپ صبر سے کام لیجیے، بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے، اور جو لوگ (آخرت اور حق پر) یقین نہیں رکھتے وہ آپ کو ہلکا (یا بے صبرا) نہ بنا سکیں۔"

اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے واسطے سے تمام اہلِ ایمان کو درج ذیل بنیادی ہدایات عطا فرمائی ہیں:

1 صبر و استقامت کا حکم (فَٱصۡبِرۡ) — مخالفین کی طرف سے تکذیب، تمسخر، ہٹ دھرمی اور رکاوٹوں کے باوجود حق کے راستے پر ثابت قدم رہنے اور صبر سے کام لینے کی ہدایت دی گئی ہے۔
2 وعدۂ الٰہی پر پختہ یقین (إِنَّ وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقّٞ) — یہ تسلی دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فتح، نصرت اور بالآخر حق کے غالب آنے کا وعدہ بالکل سچا اور برحق ہے؛ باطل کی بظاہر طاقت سے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔
3 بے یقین لوگوں کے اثر سے بچنا (وَلَا يَسۡتَخِفَّنَّكَ ٱلَّذِينَ لَا يُوقِنُونَ) — جن لوگوں کے دل ایمان اور یقینِ کامل سے محروم ہیں، ان کی باتوں، مخالفانہ رویوں، طعن و تشنیع یا مذاق اڑانے کی وجہ سے اپنے موقف میں کوئی کمزوری نہ آنے دیں اور نہ جذباتی ہو کر بے صبری کا مظاہرہ کریں۔
جواب حاصلِ کلام: دینِ حق کی دعوت دینے والوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ حالات کی سختی پر صبر کریں، اللہ کے سچے وعدے پر یقین رکھیں اور بے یقین و کم ظرف لوگوں کی باتوں سے متاثر ہوئے بغیر اپنے مقصد پر ڈٹے رہیں۔

سرگرمیاں برائے طلبہ

11 سرگرمیاں برائے طلبہ

فَأَقِمۡ وَجۡهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفٗاۚ فِطۡرَتَ ٱللَّهِ ٱلَّتِي فَطَرَ ٱلنَّاسَ عَلَيۡهَاۚ لَا تَبۡدِيلَ لِخَلۡقِ ٱللَّهِۚ ذَٰلِكَ ٱلدِّينُ ٱلۡقَيِّمُ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ

سورۃ الروم میں "فطرت اللہ" کا ذکر ہے؛ اس کی وضاحت کریں۔

سورۃ الروم کی آیت نمبر 30 میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: "پس آپ یکسو ہو کر اپنا رخ (اسلامی) دین کی طرف قائم رکھیے، یہی اللہ کی پیدا کردہ فطرت ہے جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے، اللہ کی تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں، یہی سیدھا اور قائم رہنے والا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔" "فطرت اللہ" کے کئی اہم پہلو اور مفاہیم ہیں:

1 توحید اور اسلام پر پیدائش (فطرتِ اسلام) — "فطرت اللہ" سے مراد وہ پاکیزہ جبلت اور اندرونی صلاحیت ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کی روح اور ساخت کے اندر ودیعت کی ہے؛ اس کا بنیادی مطلب توحید (ایک اللہ کو ماننا) اور دینِ اسلام کو قبول کرنے کی صلاحیت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "ہر بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں" (صحیح بخاری)۔
2 عقلِ سلیم اور نیکی کی پہچان — اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر قدرتی طور پر سچائی، عدل، پاکیزگی اور نیکی کی محبت اور برائی، شرک و ظلم سے نفرت کا شعور رکھا ہے۔ اگر انسان کو کسی برے ماحول، باطل نظریات یا نفسانی خواہشات کی گمراہی کا سامنا نہ ہو، تو اس کی عقلِ سلیم خود بخود اللہ کی توحید اور اس کے احکام کی طرف راغب ہوتی ہے۔
3 "لَا تَبۡدِيلَ لِخَلۡقِ ٱللَّهِ" (فطرت میں تبدیلی نہ ہونا) — اللہ تعالیٰ نے انسان کی بناوٹ میں جو توحید اور ہدایت قبول کرنے کا مادہ رکھا ہے، اسے مکمل طور پر ختم یا تبدیل نہیں کیا جا سکتا؛ اور شرعی حکم یہ ہے کہ انسانوں کے لیے جائز نہیں کہ وہ اللہ کے بتائے ہوئے فطری راستے (اسلام) کو چھوڑ کر خود ساختہ باطل راستے اور شرک اختیار کریں۔
جواب حاصلِ کلام: سورۃ الروم کی روشنی میں "فطرت اللہ" سے مراد دینِ اسلام ہی ہے، جو انسانی زندگی کا واحد قدرتی، سیدھا اور قائم بالذات راستہ ہے۔ انسان کی حقیقی کامیابی اسی میں ہے کہ وہ دنیاوی آلودگیوں اور باطل اثرات سے بچ کر اپنی اصل فطرت (توحید و اطاعتِ الٰہی) پر قائم رہے۔
12 سرگرمیاں برائے طلبہ

مُنِيبِينَ إِلَيۡهِ وَٱتَّقُوهُ وَأَقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَلَا تَكُونُواْ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ مِنَ ٱلَّذِينَ فَرَّقُواْ دِينَهُمۡ وَكَانُواْ شِيَعٗاۖ كُلُّ حِزۡبِۭ بِمَا لَدَيۡهِمۡ فَرِحُونَ

پچھلی قوموں نے اپنے دین کو ٹکڑوں ٹکڑوں میں تقسیم کر لیا؛ اس کی مثالیں تلاش کر کے مذاکرہ کریں۔

سورۃ الروم کی آیات 31 اور 32 میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: "اور مشرکوں میں سے نہ ہو جاؤ، ان لوگوں میں سے جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور گروہوں میں بٹ گئے، ہر گروہ اسی سے خوش ہے جو اس کے پاس ہے۔"

تاریخی مثالیں (پچھلی قوموں کا رویہ) اور کلاس روم مذاکرہ برائے طلبہ

1 تاریخی مثالیں (پچھلی قوموں کا رویہ) — یہود (بنی اسرائیل) کی تقسیم — یہود نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات کو مسخ کر کے مختلف مذہبی و سیاسی فرقوں (مثلاً فریسی، صدوقی، اسینی وغیرہ) میں خود کو تقسیم کر لیا؛ ہر فرقے نے شریعت کی اپنی مرضی سے تاویلات کیں اور دوسرے کو گمراہ قرار دیا۔
2 تاریخی مثالیں (پچھلی قوموں کا رویہ) — نصاریٰ (عیسائیوں) کی تقسیم — حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفعِ آسمانی کے بعد عیسائیوں میں عقیدۂ توحید کو چھوڑ کر تثلیث (تین خداؤں کا عقیدہ) داخل ہو گیا، جس سے ان کے درمیان شدید مذہبی مناقشات پیدا ہوئے اور وہ فرقوں (مثلاً کیتھولک، آرتھوڈوکس، پروٹسٹنٹ وغیرہ) میں بٹ گئے۔
3 تاریخی مثالیں (پچھلی قوموں کا رویہ) — مشرکینِ مکہ کی تقسیم — مشرکینِ مکہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دینِ حنیف (توحید) کو چھوڑ کر الگ الگ بتوں، فرشتوں اور جنات کی عبادت شروع کر دی اور قبیلے کی بنیاد پر اپنے الگ الگ دیوتا بنا لیے۔
4 کلاس روم مذاکرہ برائے طلبہ — موضوعِ مذاکرہ: "دین میں تفریق و گروہ بندی کا سبب کیا بنتا ہے اور اس کا انجام کیا ہوتا ہے؟"
5 کلاس روم مذاکرہ برائے طلبہ — تفریق کا بنیادی سبب — نفسانی خواہشات اور تعصب — پچھلی قومیں علم آنے کے بعد صرف اپنی ضد، انا اور مفادات کی وجہ سے بٹیں؛ اور حبل اللہ (قرآن و سنت) کو چھوڑنا — جب انسان اللہ کے اصل کلام کو چھوڑ کر انسانی آرا اور من گھڑت نظریات کو دین کا حصہ بنا لیتا ہے تو تفرقہ جنم لیتا ہے۔
6 کلاس روم مذاکرہ برائے طلبہ — گروہ بندی کا المیہ (كُلُّ حِزۡبِۭ بِمَا لَدَيۡهِمۡ فَرِحُونَ) — ہر گروہ اس زعم اور غرور میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ صرف وہی حق پر ہے اور باقی سب باطل پر؛ یہ رویہ اصلاح کا راستہ بند کر دیتا ہے۔
7 کلاس روم مذاکرہ برائے طلبہ — تفرقے کا ہلاکت خیز انجام — اتحاد کا خاتمہ — امت کی اجتماعی طاقت اور رعب ختم ہو جاتا ہے؛ دشمنوں کا غلبہ — تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی قومیں آپس میں بٹیں، غیروں نے ان پر تسلط حاصل کر لیا۔
جواب حاصلِ کلام: عزیز طلبہ! پچھلی قوموں کی اس تاریخ سے مسلمانوں کے لیے سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ ہم اللہ کی رسی (قرآنِ مجید) اور سنتِ رسول ﷺ کو مضبوطی سے تھامے رکھیں؛ تعصب، ذاتی انا اور فرقہ واریت سے بچ کر "امتِ واحدہ" کی صورت میں اتحاد قائم رکھیں تاکہ انفرادی و اجتماعی بربادی سے محفوظ رہ سکیں۔
13 سرگرمیاں برائے طلبہ

ظَهَرَ ٱلۡفَسَادُ فِي ٱلۡبَرِّ وَٱلۡبَحۡرِ بِمَا كَسَبَتۡ أَيۡدِي ٱلنَّاسِ لِيُذِيقَهُم بَعۡضَ ٱلَّذِي عَمِلُواْ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُونَ

خشکی اور تری کے فساد اور اس سے حاصل ہونے والے اسباق طلبہ پر واضح کریں۔

آیتِ کریمہ میں "خشکی اور تری کے فساد" کا مطلب یہ ہے کہ انسانوں کے رویوں اور گناہوں کی وجہ سے زمین کے فطری، معاشی اور امن و امان کے نظام کا بگڑ جانا:

خشکی اور تری کے فساد سے کیا مراد ہے؟ اور طلبہ کے لیے اہم ترین اسباق

1 خشکی اور تری کے فساد سے کیا مراد ہے؟ — خشکی کا فساد — معاشی و معاشرتی: قحط سالی، خشک سالی، زراعت کی بربادی، بدامنی، ظلم، قتل و غارت گری اور بیماریوں کا پھیلنا؛ ماحولیاتی: جنگلات کی کٹائی، زمینی آلودگی اور گلوبل وارمنگ کی وجہ سے موسموں کا توازن بگڑنا۔
2 خشکی اور تری کے فساد سے کیا مراد ہے؟ — تری (سمندر/پانی) کا فساد — معاشی: سمندری طوفان، آبی حیات کی بربادی، اور سمندروں کے ذریعے ہونے والی تجارت اور نقل و حمل میں رکاوٹیں؛ ماحولیاتی: سمندروں میں زہریلے کیمیکل اور پلاسٹک کا کچرا پھینکنے سے آبی آلودگی اور نظامِ قدرت کا درہم برہم ہونا۔
3 طلبہ کے لیے اہم ترین اسباق — گناہ اور نافرمانی ہی تمام مصائب کی جڑ ہیں — انسان جو گناہ کرتا ہے، اللہ کے احکام سے منہ موڑتا ہے اور ناانصافی کرتا ہے، اس کے بھیانک اثرات صرف اس کی ذات تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے ماحول اور معاشرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
4 طلبہ کے لیے اہم ترین اسباق — دنیاوی تکالیف ایک انتباہ ہیں — اللہ تعالیٰ بندوں کو مکمل ہلاک کرنے کے بجائے دنیا میں چھوٹی موٹی تکالیف، زلزلے، وبائیں یا قحط اس لیے بھیجتا ہے تاکہ وہ اپنے خالق کو یاد کریں اور اپنے برے اعمال کو محسوس کریں؛ یہ مصائب اللہ کی طرف سے تنبیہ کا ذریعہ ہوتے ہیں۔
5 طلبہ کے لیے اہم ترین اسباق — توبہ اور رجوع الی اللہ کی اہمیت (لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُونَ) — انسان جب بھی محسوس کرے کہ حالات بگڑ رہے ہیں تو اسے فوراً سچی توبہ کرنی چاہیے اور اللہ کی طرف لوٹ آنا چاہیے؛ توبہ و استغفار سے اللہ تعالیٰ مصائب کو دور فرماتا ہے اور برکتیں نازل کرتا ہے۔
6 طلبہ کے لیے اہم ترین اسباق — نظامِ قدرت اور ماحول کی حفاظت (ماحولیاتی ذمہ داری) — اللہ کے بنائے ہوئے قدرتی نظام (زمین، پانی، ہوا) میں بگاڑ پیدا نہ کریں؛ صفائی کا خیال رکھنا، درخت لگانا، اور قدرتی وسائل کا بے جا ضیاع نہ کرنا بھی اسلامی تعلیمات اور فساد سے بچنے کا اہم حصہ ہے۔
جواب خلاصہ: عزیز طلبہ! جب انسانی معاشرے میں گناہ، ظلم اور اللہ کی نافرمانی بڑھ جاتی ہے تو دنیا کا امن اور فطری توازن بگڑ جاتا ہے۔ اگر ہم دنیا و آخرت کے برے انجام سے بچنا چاہتے ہیں تو ہمیں سچی توبہ اختیار کرنی ہوگی، اپنے کردار کو پاکیزہ بنانا ہوگا اور اللہ کی زمین پر اصلاح و خیر کا ذریعہ بننا ہوگا، نہ کہ فساد کا۔
14 سرگرمیاں برائے طلبہ

ٱللَّهُ ٱلَّذِي خَلَقَكُم مِّن ضَعۡفٖ ثُمَّ جَعَلَ مِنۢ بَعۡدِ ضَعۡفٖ قُوَّةٗ ثُمَّ جَعَلَ مِنۢ بَعۡدِ قُوَّةٖ ضَعۡفٗا وَشَيۡبَةٗۚ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُۚ وَهُوَ ٱلۡعَلِيمُ ٱلۡقَدِيرُ

انسان کی زندگی کے مختلف مراحل کو مثالوں کے ذریعے طلبہ کو سمجھائیں۔

ترجمہ

"اللہ ہی تو ہے جس نے تمہیں کمزوری کی حالت سے پیدا کیا، پھر اس کمزوری کے بعد توانائی (قوت) عطا کی، پھر اس توانائی کے بعد (دوبارہ) کمزوری اور بڑھاپا دیا؛ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہی سب کچھ جاننے والا، بڑی قدرت والا ہے۔"

قرآنِ کریم کی اس آیت کی روشنی میں انسان کی زندگی تین اہم مراحل پر مشتمل ہے، جنہیں آسان مثالوں کے ذریعے یوں بیان کیا جا سکتا ہے:

طلبہ کے لیے اہم اخلاقی و ایمانی اسباق

1 پہلا مرحلہ: ابتدائی کمزوری (طفولیت اور بچپن) — خَلَقَكُم مِّن ضَعۡفٖ — انسان جب دنیا میں آتا ہے تو وہ جسمانی اور عقلی طور پر انتہائی کمزور اور بے بس ہوتا ہے؛ نہ چل سکتا ہے، نہ بول سکتا ہے اور نہ اپنے ہاتھوں سے کھانا کھا سکتا ہے۔ مثال — پودے کا بیج: جس طرح ایک چھوٹا سا بیج زمین سے نازک کونپل کی صورت میں نکلتا ہے اور ذرا سی تیز ہوا یا دھوپ اسے مرجھا سکتی ہے، بالکل اسی طرح انسان کا بچپن انتہائی نازک ہوتا ہے۔
2 دوسرا مرحلہ: جوانی اور توانائی (شباب اور قوت) — ثُمَّ جَعَلَ مِنۢ بَعۡدِ ضَعۡفٖ قُوَّةٗ — بچپن کی کمزوری ختم ہوتی ہے اور انسان جوانی میں قدم رکھتا ہے؛ جسم مضبوط، عقل تیز، حواس بیدار اور طاقت عروج پر ہوتی ہے اور وہ مشکل سے مشکل کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مثال — مضبوط تناور درخت: وہ نازک پودا وقت کے ساتھ ایک سایہ دار اور مضبوط تناور درخت بن جاتا ہے، جس پر پھل آتے ہیں اور وہ سخت آندھیوں کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔
3 تیسرا مرحلہ: آخری کمزوری اور بڑھاپا — ثُمَّ جَعَلَ مِنۢ بَعۡدِ قُوَّةٖ ضَعۡفٗا وَشَيۡبَةٗ — جوانی کا عروج ختم ہوتا ہے اور انسان ڈھلتی عمر کی طرف جاتا ہے؛ بال سفید ہو جاتے ہیں، بینائی اور سماعت کمزور ہو جاتی ہے، اور انسان جسمانی طور پر دوبارہ دوسروں کا محتاج ہونے لگتا ہے۔ مثال — پت جھڑ کا موسم: موسمِ خزاں میں درخت کے پتے زرد پڑ کر جھڑنے لگتے ہیں اور اس کی شاخیں سوکھ جاتی ہیں، بالکل اسی طرح بڑھاپے میں انسان کی طاقت اور خوب صورتی ڈھل جاتی ہے۔
4 غرور و تکبر سے بچنا — جوانی اور طاقت انسان کی اپنی کمائی نہیں بلکہ اللہ کی عطا ہے؛ اس لیے کبھی اپنے حسن، طاقت یا عقل پر غرور نہیں کرنا چاہیے۔
5 جوانی کی نعمت کا صحیح استعمال — جوانی کی طاقت اور وقت کو اللہ کی اطاعت، تعلیم کے حصول اور خلقِ خدا کی خدمت میں لگانا چاہیے۔
6 آخرت کی تیاری — جس طرح دن کے بعد رات اور جوانی کے بعد بڑھاپا لازمی ہے، اسی طرح زندگی کے بعد موت اور اللہ کے سامنے پیشی برحق ہے۔ یہ تینوں مراحل یاد دلاتے ہیں کہ دنیا کی کوئی چیز دائمی نہیں؛ انسان کی پیدائش سے بڑھاپے تک کا یہ سفر اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ کا شاہکار ہے، تاکہ انسان اپنی اصل حقیقت کو پہچانے اور اپنے خالقِ حقیقی کا شکر گزار بندہ بنے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.