بَلِ ٱتَّبَعَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓاْ أَهۡوَآءَهُم بِغَيۡرِ عِلۡمٖۖ فَمَن يَهۡدِي مَنۡ أَضَلَّ ٱللَّهُۖ وَمَا لَهُم مِّن نَّـٰصِرِينَ (سورۃ الروم ۔ آیت 29)
آیتِ کریمہ کی رو سے ظالم لوگ کس چیز کی پیروی کرتے ہیں؟
نویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ
بَلِ ٱتَّبَعَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓاْ أَهۡوَآءَهُم بِغَيۡرِ عِلۡمٖۖ فَمَن يَهۡدِي مَنۡ أَضَلَّ ٱللَّهُۖ وَمَا لَهُم مِّن نَّـٰصِرِينَ (سورۃ الروم ۔ آیت 29)
آیتِ کریمہ کی رو سے ظالم لوگ کس چیز کی پیروی کرتے ہیں؟
مُنِيبِينَ إِلَيۡهِ وَٱتَّقُوهُ وَأَقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَلَا تَكُونُواْ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ (سورۃ الروم ۔ آیت 31)
آیتِ کریمہ میں کیا تعلیمات بیان ہوئی ہیں؟
اس آیتِ مبارکہ میں مسلمانوں کو درج ذیل بنیادی اسلامی تعلیمات اور احکام دیے گئے ہیں:
ظَهَرَ ٱلۡفَسَادُ فِي ٱلۡبَرِّ وَٱلۡبَحۡرِ بِمَا كَسَبَتۡ أَيۡدِي ٱلنَّاسِ لِيُذِيقَهُم بَعۡضَ ٱلَّذِي عَمِلُواْ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُونَ (سورۃ الروم ۔ آیت 41)
آیتِ کریمہ میں فساد کی وجہ کیا بتائی گئی ہے؟
"خشکی اور تری میں فساد پھیل گیا ان برائیوں کی وجہ سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمائیں، تاکہ اللہ انہیں ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے تاکہ وہ (گناہوں سے) باز آ جائیں۔"
وَيَوۡمَ تَقُومُ ٱلسَّاعَةُ يُقۡسِمُ ٱلۡمُجۡرِمُونَ مَا لَبِثُواْ غَيۡرَ سَاعَةٖۚ كَذَٰلِكَ كَانُواْ يُؤۡفَكُونَ (سورۃ الروم ۔ آیت 55)
آیتِ کریمہ کی رو سے قیامت کے دن مجرم لوگ کس بات کی قسم اٹھائیں گے؟
"اور جس دن قیامت قائم ہوگی، مجرم قسمیں کھائیں گے کہ وہ ایک گھڑی سے زیادہ نہیں ٹھہرے تھے؛ اسی طرح وہ (دنیا میں بھی حق سے) الٹے پھیرے جاتے تھے۔"
فَأَقِمۡ وَجۡهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفٗاۚ فِطۡرَتَ ٱللَّهِ ٱلَّتِي فَطَرَ ٱلنَّاسَ عَلَيۡهَاۚ لَا تَبۡدِيلَ لِخَلۡقِ ٱللَّهِۚ ذَٰلِكَ ٱلدِّينُ ٱلۡقَيِّمُ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ (سورۃ الروم ۔ آیت 30)
آیتِ کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت تحریر کریں۔
"پس (اے نبی!) آپ اپنا رخ یکسو ہو کر اس دین کی طرف جمائے رکھیے، (یہ) اللہ کی بنائی ہوئی فطرت ہے جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے، اللہ کی تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی، یہی سیدھا اور قائم رہنے والا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔"
تفصیلی وضاحت
وَإِذَآ أَذَقۡنَا ٱلنَّاسَ رَحۡمَةٗ فَرِحُواْ بِهَاۖ وَإِن تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةُۢ بِمَا قَدَّمَتۡ أَيۡدِيهِمۡ إِذَا هُمۡ يَقۡنَطُونَ (سورۃ الروم ۔ آیت 36)
آیتِ کریمہ کے مطابق رحمت اور برائی پر لوگوں کا کیا رویہ ہوتا ہے؟
"اور جب ہم لوگوں کو کسی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ اس پر اترانے لگتے ہیں، اور اگر ان کے اپنے ہاتھوں کے کیے دھرے کی وجہ سے ان پر کوئی مصیبت آ جائے تو وہ فوراً ناامید (مایوس) ہو جاتے ہیں۔"
اس آیتِ کریمہ میں عام انسانوں (بالخصوص ایمان سے محروم یا کمزور ایمان والے لوگوں) کی ایک بنیادی نفسیاتی اور اخلاقی کمزوری کا نقشہ کھینچا گیا ہے:
وَمِنۡ ءَايَٰتِهِۦٓ أَن يُرۡسِلَ ٱلرِّيَاحَ مُبَشِّرَٰتٖ وَلِيُذِيقَكُم مِّن رَّحۡمَتِهِۦ وَلِتَجۡرِيَ ٱلۡفُلۡكُ بِأَمۡرِهِۦ وَلِتَبۡتَغُواْ مِن فَضۡلِهِۦ وَلَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُونَ (سورۃ الروم ۔ آیت 46)
آیتِ کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت تحریر کریں۔
"اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ (بھی) ہے کہ وہ خوش خبری دینے والی ہواؤں کو بھیجتا ہے تاکہ تمہیں اپنی رحمت کا مزہ چکھائے، اور تاکہ اس کے حکم سے کشتیاں (اور جہاز) چلیں، اور تاکہ تم اس کا فضل (رزق) تلاش کرو، اور تاکہ تم شکر ادا کرو۔"
تفصیلی وضاحت
وَمَآ ءَاتَيۡتُم مِّن رِّبٗا لِّيَرۡبُوَاْ فِيٓ أَمۡوَٰلِ ٱلنَّاسِ فَلَا يَرۡبُواْ عِندَ ٱللَّهِۖ وَمَآ ءَاتَيۡتُم مِّن زَكَوٰةٖ تُرِيدُونَ وَجۡهَ ٱللَّهِ فَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُضۡعِفُونَ (سورۃ الروم ۔ آیت 39)
آیتِ کریمہ میں سود اور زکوٰۃ کے درمیان کیا موازنہ کیا گیا ہے؟
"اور جو تم سود (یا مال بڑھانے کی غرض سے کوئی تحفہ) دیتے ہو تاکہ وہ لوگوں کے مال میں مل کر بڑھ جائے، تو وہ اللہ کے ہاں نہیں بڑھتا۔ اور جو تم زکوٰۃ دیتے ہو جس سے تمہارا مقصد صرف اللہ کی رضا حاصل کرنا ہو، تو ایسے ہی لوگ (اپنے مال کو) کئی گنا کرنے والے ہیں۔"
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے سود اور زکوٰۃ کے درمیان ایک واضح اخلاقی، معاشی اور روحانی موازنہ بیان فرمایا ہے:
وَلَقَدۡ ضَرَبۡنَا لِلنَّاسِ فِي هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانِ مِن كُلِّ مَثَلٖۚ وَلَئِن جِئۡتَهُم بِـَٔايَةٖ لَّيَقُولَنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ إِنۡ أَنتُمۡ إِلَّا مُبۡطِلُونَ كَذَٰلِكَ يَطۡبَعُ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِ ٱلَّذِينَ لَا يَعۡلَمُونَ (سورۃ الروم ۔ آیات 58 تا 59)
آیاتِ کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت تحریر کریں۔
"اور ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی مثال بیان کر دی ہے، اور اگر آپ ان کے پاس کوئی بھی نشانی (معجزہ) لے آئیں تو یہ کافر یقیناً یہی کہیں گے کہ تم تو بس باطل پر ہو (جھوٹ گھڑتے ہو)۔ اسی طرح اللہ ان لوگوں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے جو علم نہیں رکھتے (حق کو نہیں سمجھتے)۔"
تفصیلی وضاحت
فَٱصۡبِرۡ إِنَّ وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقّٞۖ وَلَا يَسۡتَخِفَّنَّكَ ٱلَّذِينَ لَا يُوقِنُونَ (سورۃ الروم ۔ آیت 60)
آیتِ کریمہ میں کس بات کی ہدایت دی گئی ہے؟
"پس (اے نبی!) آپ صبر سے کام لیجیے، بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے، اور جو لوگ (آخرت اور حق پر) یقین نہیں رکھتے وہ آپ کو ہلکا (یا بے صبرا) نہ بنا سکیں۔"
اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے واسطے سے تمام اہلِ ایمان کو درج ذیل بنیادی ہدایات عطا فرمائی ہیں:
فَأَقِمۡ وَجۡهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفٗاۚ فِطۡرَتَ ٱللَّهِ ٱلَّتِي فَطَرَ ٱلنَّاسَ عَلَيۡهَاۚ لَا تَبۡدِيلَ لِخَلۡقِ ٱللَّهِۚ ذَٰلِكَ ٱلدِّينُ ٱلۡقَيِّمُ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ
سورۃ الروم میں "فطرت اللہ" کا ذکر ہے؛ اس کی وضاحت کریں۔
سورۃ الروم کی آیت نمبر 30 میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: "پس آپ یکسو ہو کر اپنا رخ (اسلامی) دین کی طرف قائم رکھیے، یہی اللہ کی پیدا کردہ فطرت ہے جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے، اللہ کی تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں، یہی سیدھا اور قائم رہنے والا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔" "فطرت اللہ" کے کئی اہم پہلو اور مفاہیم ہیں:
مُنِيبِينَ إِلَيۡهِ وَٱتَّقُوهُ وَأَقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَلَا تَكُونُواْ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ مِنَ ٱلَّذِينَ فَرَّقُواْ دِينَهُمۡ وَكَانُواْ شِيَعٗاۖ كُلُّ حِزۡبِۭ بِمَا لَدَيۡهِمۡ فَرِحُونَ
پچھلی قوموں نے اپنے دین کو ٹکڑوں ٹکڑوں میں تقسیم کر لیا؛ اس کی مثالیں تلاش کر کے مذاکرہ کریں۔
سورۃ الروم کی آیات 31 اور 32 میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: "اور مشرکوں میں سے نہ ہو جاؤ، ان لوگوں میں سے جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور گروہوں میں بٹ گئے، ہر گروہ اسی سے خوش ہے جو اس کے پاس ہے۔"
تاریخی مثالیں (پچھلی قوموں کا رویہ) اور کلاس روم مذاکرہ برائے طلبہ
ظَهَرَ ٱلۡفَسَادُ فِي ٱلۡبَرِّ وَٱلۡبَحۡرِ بِمَا كَسَبَتۡ أَيۡدِي ٱلنَّاسِ لِيُذِيقَهُم بَعۡضَ ٱلَّذِي عَمِلُواْ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُونَ
خشکی اور تری کے فساد اور اس سے حاصل ہونے والے اسباق طلبہ پر واضح کریں۔
آیتِ کریمہ میں "خشکی اور تری کے فساد" کا مطلب یہ ہے کہ انسانوں کے رویوں اور گناہوں کی وجہ سے زمین کے فطری، معاشی اور امن و امان کے نظام کا بگڑ جانا:
خشکی اور تری کے فساد سے کیا مراد ہے؟ اور طلبہ کے لیے اہم ترین اسباق
ٱللَّهُ ٱلَّذِي خَلَقَكُم مِّن ضَعۡفٖ ثُمَّ جَعَلَ مِنۢ بَعۡدِ ضَعۡفٖ قُوَّةٗ ثُمَّ جَعَلَ مِنۢ بَعۡدِ قُوَّةٖ ضَعۡفٗا وَشَيۡبَةٗۚ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُۚ وَهُوَ ٱلۡعَلِيمُ ٱلۡقَدِيرُ
انسان کی زندگی کے مختلف مراحل کو مثالوں کے ذریعے طلبہ کو سمجھائیں۔
"اللہ ہی تو ہے جس نے تمہیں کمزوری کی حالت سے پیدا کیا، پھر اس کمزوری کے بعد توانائی (قوت) عطا کی، پھر اس توانائی کے بعد (دوبارہ) کمزوری اور بڑھاپا دیا؛ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہی سب کچھ جاننے والا، بڑی قدرت والا ہے۔"
قرآنِ کریم کی اس آیت کی روشنی میں انسان کی زندگی تین اہم مراحل پر مشتمل ہے، جنہیں آسان مثالوں کے ذریعے یوں بیان کیا جا سکتا ہے:
طلبہ کے لیے اہم اخلاقی و ایمانی اسباق
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔