وَعۡدَ ٱللَّهِۖ لَا يُخۡلِفُ ٱللَّهُ وَعۡدَهُۥ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ (سورۃ الروم ۔ آیت 6)
آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی کس صفت کا ذکر ہے؟
"(یہ) اللہ کا وعدہ (ہے)؛ اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔"
نویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ
وَعۡدَ ٱللَّهِۖ لَا يُخۡلِفُ ٱللَّهُ وَعۡدَهُۥ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ (سورۃ الروم ۔ آیت 6)
آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی کس صفت کا ذکر ہے؟
"(یہ) اللہ کا وعدہ (ہے)؛ اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔"
وَلَمۡ يَكُن لَّهُم مِّن شُرَكَآئِهِمۡ شُفَعَـٰٓؤُاْ وَكَانُواْ بِشُرَكَآئِهِمۡ كَٰفِرِينَ (سورۃ الروم ۔ آیت 13)
آیتِ کریمہ میں مشرکین کے سفارشیوں کی کس بے بسی کا بیان ہے؟
"اور ان کے شریکوں میں سے کوئی ان کا سفارشی نہ ہوگا اور وہ خود بھی اپنے شریکوں سے منکر (انکاری) ہو جائیں گے۔"
اس آیتِ کریمہ میں مشرکین اور ان کے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کی قیامت کے دن کی مکمل بے بسی اور لاچاری کا بیان ہے:
وَأَمَّا ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَكَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَا وَلِقَآيِٕ ٱلۡأٓخِرَةِ فَأُوْلَـٰٓئِكَ فِي ٱلۡعَذَابِ مُحۡضَرُونَ (سورۃ الروم ۔ آیت 16)
آیتِ کریمہ کے مطابق جہنمی کن جرائم کی وجہ سے عذاب میں حاضر کیے جائیں گے؟
اس آیتِ مبارکہ کے مطابق جہنمی درج ذیل تین بڑے جرائم کی وجہ سے عذاب میں حاضر کیے جائیں گے:
يُخۡرِجُ ٱلۡحَيَّ مِنَ ٱلۡمَيِّتِ وَيُخۡرِجُ ٱلۡمَيِّتَ مِنَ ٱلۡحَيِّ وَيُحۡيِ ٱلۡأَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَاۚ وَكَذَٰلِكَ تُخۡرَجُونَ (سورۃ الروم ۔ آیت 19)
آیت میں دی گئی مثالیں کس حقیقت کو واضح کرتی ہیں؟
اس آیتِ مبارکہ میں دی گئی مثالیں درج ذیل بنیادی حقائق کو واضح کرتی ہیں:
وَمِنۡ ءَايَٰتِهِۦ خَلۡقُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَٱخۡتِلَٰفُ أَلۡسِنَتِكُمۡ وَأَلۡوَٰنِكُمۡۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّلۡعَٰلِمِينَ (سورۃ الروم ۔ آیت 22)
آیتِ کریمہ کے مطابق انسانوں کی کون سی حالتیں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کو ظاہر کرتی ہیں؟
اس آیتِ مبارکہ کے مطابق انسانوں کی درج ذیل دو حالتیں (اور اختلافات) اللہ تعالیٰ کی قدرت اور وحدانیت کی عظیم نشانیوں کو ظاہر کرتی ہیں:
ثُمَّ كَانَ عَٰقِبَةَ ٱلَّذِينَ أَسَـٰٓـُٔواْ ٱلسُّوٓأَىٰٓ أَن كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَكَانُواْ بِهَا يَسۡتَهۡزِءُونَ (سورۃ الروم ۔ آیت 10)
آیتِ کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت تحریر کریں۔
"پھر ان لوگوں کا انجام بہت برا ہوا جنہوں نے برائیاں کی تھیں، اس لیے کہ انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا تھا اور ان کا مذاق اڑاتے تھے۔"
مفصل وضاحت
فَسُبۡحَٰنَ ٱللَّهِ حِينَ تُمۡسُونَ وَحِينَ تُصۡبِحُونَ وَلَهُ ٱلۡحَمۡدُ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَعَشِيّٗا وَحِينَ تُظۡهِرُونَ (سورۃ الروم ۔ آیات 17 تا 18)
آیاتِ کریمہ کا ترجمہ اور تشریح تحریر کریں۔
"پس اللہ کی پاکی بیان کرو جب تم شام کرتے ہو اور جب تم صبح کرتے ہو۔ اور آسمانوں اور زمین میں اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں، اور (پاکی بیان کرو) تیسرے پہر (عصر کے وقت) اور جب تم پر دوپہر ڈھلتی ہے۔"
مفصل تشریح اور حاصلِ کلام (اسباق)
وَهُوَ ٱلَّذِي يَبۡدَؤُاْ ٱلۡخَلۡقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥ وَهُوَ أَهۡوَنُ عَلَيۡهِۚ وَلَهُ ٱلۡمَثَلُ ٱلۡأَعۡلَىٰ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ (سورۃ الروم ۔ آیت 27)
آیتِ کریمہ کا ترجمہ اور تشریح تحریر کریں۔
"اور وہی ہے جو تخلیق کی ابتدا کرتا ہے، پھر وہی اسے دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ اس کے لیے زیادہ آسان ہے۔ اور آسمانوں اور زمین میں اسی کی صفتِ عالیہ (اور اعلیٰ مثال) ہے، اور وہی غالب حکمت والا ہے۔"
مفصل تشریح اور حاصلِ کلام (اسباق)
وَمِنۡ ءَايَٰتِهِۦ يُرِيكُمُ ٱلۡبَرۡقَ خَوۡفٗا وَطَمَعٗا وَيُنَزِّلُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ فَيُحۡيِۦ بِهِ ٱلۡأَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَآۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يَعۡقِلُونَ (سورۃ الروم ۔ آیت 24)
آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی کون سی نشانیاں بیان ہوئی ہیں؟
"اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ تمہیں خوف اور امید پیدا کرنے کے لیے بجلی دکھاتا ہے، اور آسمان سے پانی برساتا ہے، پھر اس کے ذریعے زمین کو اس کی موت (خشک سالی) کے بعد زندہ کر دیتا ہے۔ بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں۔"
اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے کائنات کے قدرتی نظام میں سے تین بڑی نشانیوں کو اپنی قدرت اور وحدانیت کے ثبوت کے طور پر پیش فرمایا ہے:
سورۃ الروم میں بیان کی گئی اللہ تعالیٰ کی قدرت کی مختلف نشانیوں کی فہرست بنائیں۔
سورۃ الروم کی آیات 20 تا 25 میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات، وحدانیت اور قدرتِ کاملہ کو ثابت کرنے کے لیے انسان اور کائنات کی اہم نشانیوں کا تذکرہ فرمایا ہے۔ ان تمام نشانیوں کے آغاز میں "وَمِنۡ ءَايَٰتِهِۦ" ("اور اس کی نشانیوں میں سے ہے…") کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں:
صبح اور شام کے مسنون اذکار اور دعائیں تحریر کریں۔
صبح اور شام کے مسنون اذکار اور دعائیں انسان کو دن بھر کی آفتوں، پریشانیوں اور شیطان کی شرارتوں سے محفوظ رکھتی ہیں۔ چند اہم اور جامع مسنون اذکار درج ذیل ہیں:
الٓمٓ غُلِبَتِ ٱلرُّومُ فِيٓ أَدۡنَى ٱلۡأَرۡضِ وَهُم مِّنۢ بَعۡدِ غَلَبِهِمۡ سَيَغۡلِبُونَ فِي بِضۡعِ سِنِينَۗ لِلَّهِ ٱلۡأَمۡرُ مِن قَبۡلُ وَمِنۢ بَعۡدُۚ وَيَوۡمَئِذٖ يَفۡرَحُ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ
رومی اہلِ کتاب اور ایرانی آتش پرستوں کے حوالے سے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور مشرکین کے درمیان مکالمے کے بارے میں طلبہ کو آگاہ کریں تاکہ وہ برے انجام سے بچنے کی فکر کرنے لگیں۔
یہ ایک انتہائی ایمان افروز اور تاریخی واقعہ ہے جس کا براہِ راست تعلق سورۃ الروم کے نزول سے ہے۔ اس واقعے سے طلبہ کو یہ بات سمجھائی جا سکتی ہے کہ دنیاوی غلبہ، فتح اور شکست سب اللہ کے حکم کے تابع ہیں اور حق بالآخر غالب ہو کر رہتا ہے۔
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔