نویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 15: سبق 15: سورۃ الروم (حصہ اول) — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں برائے طلبہ · 12 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

وَعۡدَ ٱللَّهِۖ لَا يُخۡلِفُ ٱللَّهُ وَعۡدَهُۥ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ (سورۃ الروم ۔ آیت 6)

آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی کس صفت کا ذکر ہے؟

ترجمہ

"(یہ) اللہ کا وعدہ (ہے)؛ اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔"

جواب اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی سچائی اور وعدہ وفائی (وعدہ پورا کرنے) کی صفت بیان کی گئی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ جو وعدہ فرماتا ہے اسے لازماً پورا کرتا ہے اور کبھی اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔
2 مختصر جوابات

وَلَمۡ يَكُن لَّهُم مِّن شُرَكَآئِهِمۡ شُفَعَـٰٓؤُاْ وَكَانُواْ بِشُرَكَآئِهِمۡ كَٰفِرِينَ (سورۃ الروم ۔ آیت 13)

آیتِ کریمہ میں مشرکین کے سفارشیوں کی کس بے بسی کا بیان ہے؟

ترجمہ

"اور ان کے شریکوں میں سے کوئی ان کا سفارشی نہ ہوگا اور وہ خود بھی اپنے شریکوں سے منکر (انکاری) ہو جائیں گے۔"

اس آیتِ کریمہ میں مشرکین اور ان کے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کی قیامت کے دن کی مکمل بے بسی اور لاچاری کا بیان ہے:

1 عدمِ سفارش — قیامت کے دن مشرکین کے گھڑے ہوئے شریک (معبود) ان کی کوئی سفارش یا مدد نہیں کر سکیں گے۔
2 باہمی انکار — خود مشرکین بھی اپنے ان شریکوں کا انکار کر دیں گے اور ان کا آپس کا تعلق بالکل ختم ہو جائے گا۔
3 مختصر جوابات

وَأَمَّا ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَكَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَا وَلِقَآيِٕ ٱلۡأٓخِرَةِ فَأُوْلَـٰٓئِكَ فِي ٱلۡعَذَابِ مُحۡضَرُونَ (سورۃ الروم ۔ آیت 16)

آیتِ کریمہ کے مطابق جہنمی کن جرائم کی وجہ سے عذاب میں حاضر کیے جائیں گے؟

اس آیتِ مبارکہ کے مطابق جہنمی درج ذیل تین بڑے جرائم کی وجہ سے عذاب میں حاضر کیے جائیں گے:

1 کفر کرنا — اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور دینِ حق کا انکار کرنا۔
2 اللہ کی آیات کو جھٹلانا — قرآن مجید، احکامِ الٰہی اور معجزات کی تکذیب کرنا۔
3 آخرت کی پیشی کا انکار — قیامت کے دن، حساب کتاب اور اللہ کے سامنے حاضر ہونے کا انکار کرنا۔
4 مختصر جوابات

يُخۡرِجُ ٱلۡحَيَّ مِنَ ٱلۡمَيِّتِ وَيُخۡرِجُ ٱلۡمَيِّتَ مِنَ ٱلۡحَيِّ وَيُحۡيِ ٱلۡأَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَاۚ وَكَذَٰلِكَ تُخۡرَجُونَ (سورۃ الروم ۔ آیت 19)

آیت میں دی گئی مثالیں کس حقیقت کو واضح کرتی ہیں؟

اس آیتِ مبارکہ میں دی گئی مثالیں درج ذیل بنیادی حقائق کو واضح کرتی ہیں:

1 دوبارہ زندہ کیے جانے (بعث بعد الموت) کی حقیقت — جس طرح اللہ تعالیٰ مردہ (بے جان) چیز سے زندہ کو نکالتا ہے (مثلاً انڈے سے پرندہ یا گٹھلی سے درخت) اور خشک و بنجر زمین کو بارش کے ذریعے دوبارہ شاداب اور زندہ کر دیتا ہے، بالکل اسی طرح وہ انسانوں کو مرنے کے بعد قیامت کے دن دوبارہ زندہ کر کے قبروں سے نکالے گا۔
2 اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت — یہ مثالیں اللہ تعالیٰ کی بے پناہ طاقت اور قدرتِ کاملہ کو ثابت کرتی ہیں کہ جو ذات مردہ زمین کو دوبارہ زندگی بخش سکتی ہے، اس کے لیے انسانوں کو دوبارہ زندہ کرنا بالکل آسان ہے۔
5 مختصر جوابات

وَمِنۡ ءَايَٰتِهِۦ خَلۡقُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَٱخۡتِلَٰفُ أَلۡسِنَتِكُمۡ وَأَلۡوَٰنِكُمۡۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّلۡعَٰلِمِينَ (سورۃ الروم ۔ آیت 22)

آیتِ کریمہ کے مطابق انسانوں کی کون سی حالتیں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کو ظاہر کرتی ہیں؟

اس آیتِ مبارکہ کے مطابق انسانوں کی درج ذیل دو حالتیں (اور اختلافات) اللہ تعالیٰ کی قدرت اور وحدانیت کی عظیم نشانیوں کو ظاہر کرتی ہیں:

1 زبانوں کا اختلاف (ٱخۡتِلَٰفُ أَلۡسِنَتِكُمۡ) — انسانوں کی بولیوں، لہجوں اور زبانوں کا تنوع؛ کہ ایک ہی نوعِ انسانی کے ہونے کے باوجود دنیا میں سینکڑوں مختلف زبانیں اور لہجے بولے جاتے ہیں۔
2 رنگتوں کا اختلاف (وَأَلۡوَٰنِكُمۡ) — انسانوں کی رنگت، چہرے کی ساخت اور جسمانی بناوٹ کا فرق؛ کہ سب ایک ہی ماں باپ (آدم و حوا علیہما السلام) کی اولاد ہونے کے باوجود ان کے رنگ، چہرے اور خد و خال ایک دوسرے سے بالکل مختلف اور منفرد ہیں۔
جواب حاصلِ کلام: زبانوں اور رنگتوں کا یہ عظیم تنوع کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی تخلیقی حکمت اور کامل قدرت کی واضح نشانی ہے جو اہلِ علم اور فکر و تدبر کرنے والوں کے لیے ہدایت کا ذریعہ ہے۔

تفصیلی جوابات

6 تفصیلی جوابات

ثُمَّ كَانَ عَٰقِبَةَ ٱلَّذِينَ أَسَـٰٓـُٔواْ ٱلسُّوٓأَىٰٓ أَن كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَكَانُواْ بِهَا يَسۡتَهۡزِءُونَ (سورۃ الروم ۔ آیت 10)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت تحریر کریں۔

ترجمہ

"پھر ان لوگوں کا انجام بہت برا ہوا جنہوں نے برائیاں کی تھیں، اس لیے کہ انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا تھا اور ان کا مذاق اڑاتے تھے۔"

مفصل وضاحت

1 گناہوں کا تدریجی اثر (بدسلوکی سے کفر تک) — انسان جب گناہ اور برائی کا راستہ اختیار کرتا ہے اور اس پر مداومت کرتا ہے تو آہستہ آہستہ اس کا دل زنگ آلود ہو جاتا ہے؛ مسلسل گناہ کرنے سے ایمان کی حلاوت ختم ہو جاتی ہے اور بالآخر بات یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ انسان اللہ کی آیات کو جھٹلانے اور دین کا تمسخر اڑانے لگتا ہے۔
2 تکذیب اور استہزا کا درد ناک انجام — آیت میں "ٱلسُّوٓأَىٰ" کا لفظ استعمال ہوا ہے، جس کے دو اہم مفہوم ہیں: بہت ہی برا انجام (دنیا میں ذلت و رسوائی اور عذابِ الٰہی کے ذریعے تباہی) اور جہنم کا شدید عذاب (آخرت میں ان کے لیے دائمی اور درد ناک عذابِ جہنم تیار ہے)۔
3 پچھلی قوموں کی تباہی سے عبرت — اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے زمین میں سیر کرنے اور ماضی کی سرکش قوموں (جیسے عاد اور ثمود) کے انجام کو دیکھنے کی دعوت دی تھی۔ اس آیت میں خلاصہ بیان فرمایا کہ ان قوموں کی تباہی کا بنیادی سبب یہی تھا کہ وہ مسلسل گناہوں میں مبتلا رہے، یہاں تک کہ انہوں نے انبیاء علیہم السلام کی دعوت اور اللہ کی آیات کا مذاق اڑایا اور یوں غضبِ الٰہی کا شکار ہو گئے۔
جواب حاصلِ کلام: چھوٹے سے چھوٹے گناہ کو بھی معمولی نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ گناہوں کی کثرت انسان کو حق کے انکار اور دین کے استہزا کی طرف لے جاتی ہے، جس کا حتمی نتیجہ دنیا و آخرت میں مکمل ناکامی اور تباہی ہے۔
7 تفصیلی جوابات

فَسُبۡحَٰنَ ٱللَّهِ حِينَ تُمۡسُونَ وَحِينَ تُصۡبِحُونَ وَلَهُ ٱلۡحَمۡدُ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَعَشِيّٗا وَحِينَ تُظۡهِرُونَ (سورۃ الروم ۔ آیات 17 تا 18)

آیاتِ کریمہ کا ترجمہ اور تشریح تحریر کریں۔

ترجمہ

"پس اللہ کی پاکی بیان کرو جب تم شام کرتے ہو اور جب تم صبح کرتے ہو۔ اور آسمانوں اور زمین میں اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں، اور (پاکی بیان کرو) تیسرے پہر (عصر کے وقت) اور جب تم پر دوپہر ڈھلتی ہے۔"

مفصل تشریح اور حاصلِ کلام (اسباق)

1 مفصل تشریح — اللہ کی تسبیح اور پاکی کا حکم — آیت کے آغاز میں "فَسُبۡحَٰنَ ٱللَّهِ" سے مراد اللہ تعالیٰ کو ہر قسم کے شرک، عیب، نقص اور کمزوری سے پاک ماننا اور اس کی عظمت کا اقرار کرنا ہے۔
2 مفصل تشریح — شب و روز کے چار اہم اوقات اور ان کا ربط — آیات میں دن اور رات کے چار خاص اوقات کا ذکر ہے: "حِينَ تُمۡسُونَ" (شام کا وقت — مغرب اور عشاء)؛ "وَحِينَ تُصۡبِحُونَ" (صبح کا وقت — فجر)؛ "وَعَشِيّٗا" (تیسرا پہر — عصر)؛ اور "وَحِينَ تُظۡهِرُونَ" (دوپہر ڈھلنے کا وقت — ظہر)۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور دیگر مفسرین فرماتے ہیں کہ ان دو آیات کے اندر پنج گانہ نمازوں کے اوقات کی طرف واضح اشارہ موجود ہے۔
3 مفصل تشریح — کائنات میں صرف اللہ کے لیے حمد و ثنا — "وَلَهُ ٱلۡحَمۡدُ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ" کا مطلب یہ ہے کہ زمین و آسمان کی تمام مخلوقات — خواہ فرشتے ہوں، انسان ہوں، چرند پرند ہوں یا جمادات — سب زبانِ قال یا زبانِ حال سے اللہ تعالیٰ کی عظمت، نعمتوں اور احسانات کی تعریف و توصیف میں مصروف ہیں۔
4 حاصلِ کلام (اسباق) — نمازِ پنج گانہ کی پابندی — صبح، دوپہر، عصر، شام اور رات کے اوقات میں اللہ کی تسبیح و عبادات (خصوصاً نماز) کا اہتمام کرنا چاہیے۔
5 حاصلِ کلام (اسباق) — تغیرِ احوال سے عبرت — دن اور رات کا بدلنا اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت اور تدبیر کی علامت ہے، اس لیے انسان کو ہر وقت اور ہر حال میں اپنے خالق و مالک کا شکر گزار رہنا چاہیے۔
8 تفصیلی جوابات

وَهُوَ ٱلَّذِي يَبۡدَؤُاْ ٱلۡخَلۡقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥ وَهُوَ أَهۡوَنُ عَلَيۡهِۚ وَلَهُ ٱلۡمَثَلُ ٱلۡأَعۡلَىٰ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ (سورۃ الروم ۔ آیت 27)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ اور تشریح تحریر کریں۔

ترجمہ

"اور وہی ہے جو تخلیق کی ابتدا کرتا ہے، پھر وہی اسے دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ اس کے لیے زیادہ آسان ہے۔ اور آسمانوں اور زمین میں اسی کی صفتِ عالیہ (اور اعلیٰ مثال) ہے، اور وہی غالب حکمت والا ہے۔"

مفصل تشریح اور حاصلِ کلام (اسباق)

1 مفصل تشریح — تخلیق کی ابتدا اور اس کا اعادہ — "يَبۡدَؤُاْ ٱلۡخَلۡقَ" — انسانوں اور تمام مخلوقات کو پہلی بار عدم سے وجود میں لانے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے؛ "ثُمَّ يُعِيدُهُۥ" — وہی ذات قیامت کے دن تمام انسانوں کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرے گی۔
2 مفصل تشریح — "وَهُوَ أَهۡوَنُ عَلَيۡهِ" کا مفہوم (انسانی فہم کے مطابق استدلال) — انسان کے عام عقل و تجربے کے مطابق کسی چیز کو پہلی بار بنانا مشکل ہوتا ہے، جب کہ بنی ہوئی چیز کو دوبارہ بنانا زیادہ آسان۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ کے لیے پہلی بار بنانا اور دوبارہ بنانا دونوں برابر ہیں اور وہ کسی بھی کام کے لیے صرف "كُن" (ہو جا) فرماتا ہے تو وہ کام ہو جاتا ہے، لیکن انسانوں کو سمجھانے کے لیے ان کی عقلی منطق کے مطابق فرمایا گیا کہ جب اللہ کے لیے پہلی بار پیدا کرنا ممکن تھا، تو تمہارے اپنے معیار کے مطابق دوبارہ پیدا کرنا تو اس سے بھی زیادہ آسان ہونا چاہیے۔
3 مفصل تشریح — "وَلَهُ ٱلۡمَثَلُ ٱلۡأَعۡلَىٰ" (اللہ کے لیے اعلیٰ صفات) — آسمانوں اور زمین کی تمام مخلوقات میں سب سے بلند تر اور اعلیٰ صفات صرف اللہ تعالیٰ کی ہیں؛ کائنات کی ہر کامل صفت (علم، قدرت، حکمت، رحمت) کا حقیقی سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور اس کی ذات و صفات میں کوئی اس کا شریک نہیں۔
4 مفصل تشریح — "وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ" (غالب اور حکمت والا) — العزیز (غالب): وہ اتنی طاقت و قدرت رکھتا ہے کہ کوئی اس کے فیصلے کو روک نہیں سکتا اور نہ دوبارہ زندہ کرنے سے مانع ہو سکتا ہے؛ الحکیم (حکمت والا): اس کی تمام تدابیر، احکام اور کائنات کو دوبارہ زندہ کرنے کا نظام انتہائی حکمت پر مبنی ہے۔
5 حاصلِ کلام (اسباق) — عقیدۂ آخرت کی صداقت — جس طرح اللہ نے پہلی بار انسان کو پیدا کیا، اسی طرح وہ قیامت کے دن دوبارہ زندہ کرنے پر مکمل قادر ہے۔
6 حاصلِ کلام (اسباق) — عقلی دلیل کا فہم — اسلام محض اندھے اعتقاد کی دعوت نہیں دیتا بلکہ عقلی دلائل سے انسان کے قلب و ذہن کو مطمئن کرتا ہے۔
7 حاصلِ کلام (اسباق) — اللہ کی عظمتِ مطلق — کائنات میں تمام تعریفیں اور اعلیٰ صفات صرف ایک اللہ ہی کے لیے شایانِ شان ہیں۔
9 تفصیلی جوابات

وَمِنۡ ءَايَٰتِهِۦ يُرِيكُمُ ٱلۡبَرۡقَ خَوۡفٗا وَطَمَعٗا وَيُنَزِّلُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ فَيُحۡيِۦ بِهِ ٱلۡأَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَآۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يَعۡقِلُونَ (سورۃ الروم ۔ آیت 24)

آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی کون سی نشانیاں بیان ہوئی ہیں؟

ترجمہ

"اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ تمہیں خوف اور امید پیدا کرنے کے لیے بجلی دکھاتا ہے، اور آسمان سے پانی برساتا ہے، پھر اس کے ذریعے زمین کو اس کی موت (خشک سالی) کے بعد زندہ کر دیتا ہے۔ بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں۔"

اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے کائنات کے قدرتی نظام میں سے تین بڑی نشانیوں کو اپنی قدرت اور وحدانیت کے ثبوت کے طور پر پیش فرمایا ہے:

1 بجلی کا چمکنا (خوف اور امید کا ذریعہ) — آسمان میں بجلی کی چمک اور کڑک انسان کے اندر ایک وقت میں دو مختلف جذبات پیدا کرتی ہے: خوف (خَوۡفٗا) — اس بات کا ڈر کہ کہیں بجلی نہ گر جائے یا طوفان و سیلاب سے جانی و مالی نقصان نہ ہو؛ اور امید (طَمَعٗا) — اس بات کی آرزو کہ اس کڑک کے بعد رحمت کی بارش برسے گی، جس سے فصلیں اور باغات سیراب ہوں گے۔
2 آسمان سے بارش کا نازل ہونا — اللہ تعالیٰ کا بارش کا نظام بنانا، بادلوں کو حرکت دینا اور ایک خاص مقدار اور طریقے سے پانی برسانا انسان کے لیے حیات کا سبب ہے۔
3 مردہ زمین کا دوبارہ زندہ ہونا — خشک، بنجر اور بے جان زمین پر جب بارش پڑتی ہے تو اس سے ہریالی، سبزہ اور طرح طرح کی نباتات اگتی ہیں۔
جواب فکر و تدبر کی دعوت: آیت کے آخر میں فرمایا گیا: "بے شک اس میں عقل سے کام لینے والوں کے لیے نشانیاں ہیں" — یعنی قدرت کی یہ نشانیاں ان لوگوں پر حقیقت کھولتی ہیں جو عقل، فہم اور تدبر سے کام لیتے ہیں کہ جو ذات مردہ زمین کو حیات بخش سکتی ہے، وہی مرنے کے بعد انسانوں کو بھی دوبارہ زندہ کرے گی۔

سرگرمیاں برائے طلبہ

10 سرگرمیاں برائے طلبہ

سورۃ الروم میں بیان کی گئی اللہ تعالیٰ کی قدرت کی مختلف نشانیوں کی فہرست بنائیں۔

سورۃ الروم کی آیات 20 تا 25 میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات، وحدانیت اور قدرتِ کاملہ کو ثابت کرنے کے لیے انسان اور کائنات کی اہم نشانیوں کا تذکرہ فرمایا ہے۔ ان تمام نشانیوں کے آغاز میں "وَمِنۡ ءَايَٰتِهِۦ" ("اور اس کی نشانیوں میں سے ہے…") کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں:

1 مٹی سے انسان کی تخلیق — انسان کی اصل بنیاد مٹی سے رکھی گئی اور پھر وہ اشرف المخلوقات بن کر دنیا میں پھیلا اور زندگی گزار رہا ہے۔
2 ازدواجی زندگی اور دلوں میں محبت و رحمت — انسانوں کے لیے انہی کی جنس سے جوڑے پیدا کیے تاکہ وہ ایک دوسرے سے سکون حاصل کر سکیں، اور ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے الفت اور رحم دلی پیدا فرما دی۔
3 آسمانوں اور زمین کی پیدائش — اتنی وسیع و عریض کائنات، آسمانوں اور زمین کا بغیر کسی ستون اور سہارے کے قائم ہونا اللہ کی بے پناہ قدرت کی دلیل ہے۔
4 زبانوں اور رنگتوں کا تنوع — ایک ہی ماں باپ (آدم و حوا علیہما السلام) کی اولاد ہونے کے باوجود انسانوں کے رنگ، روپ، خد و خال، بولیوں اور زبانوں میں بے شمار تنوع کا ہونا۔
5 رات اور دن کا نظام (سونا اور روزی تلاش کرنا) — رات کو انسانوں کے سکون و آرام کے لیے نیند کا نظام بنانا اور دن کے وقت رزق اور فضلِ الٰہی کی تلاش کا نظام قائم کرنا۔
6 بجلی کی چمک (خوف اور امید کا ذریعہ) — آسمانی بجلی کا چمکنا جو انسانوں کے دلوں میں خوف (بجلی گرنے یا نقصان کا) اور امید (رحمت کی بارش کی) ایک ساتھ پیدا کرتا ہے۔
7 آسمان سے بارش اور مردہ زمین کا زندہ ہونا — آسمان سے پانی نازل کر کے بنجر، خشک اور بے جان زمین کو دوبارہ شاداب اور پُر رونق بنانا۔
8 آسمان و زمین کا قائم رہنا — اللہ تعالیٰ کے حکم اور تدبیر کے ساتھ پورے نظامِ عالم (آسمان اور زمین) کا اپنی جگہوں پر منظم طریقے سے قائم رہنا۔
جواب حاصلِ کلام: یہ تمام نشانیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ اس کائنات کا خالق و مالک صرف ایک اللہ ہے، اور وہی انسانوں کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر مکمل قادر ہے۔
11 سرگرمیاں برائے طلبہ

صبح اور شام کے مسنون اذکار اور دعائیں تحریر کریں۔

صبح اور شام کے مسنون اذکار اور دعائیں انسان کو دن بھر کی آفتوں، پریشانیوں اور شیطان کی شرارتوں سے محفوظ رکھتی ہیں۔ چند اہم اور جامع مسنون اذکار درج ذیل ہیں:

1 آیت الکرسی (صبح اور شام ایک ایک بار) — «اللَّهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ…» — فضیلت: جو شخص اسے صبح پڑھے گا وہ شام تک، اور جو شام کو پڑھے گا وہ صبح تک جنات اور شر سے محفوظ رہے گا۔
2 معوذات — سورۃ الاخلاص، الفلق اور الناس (صبح اور شام تین تین بار) — «قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ…»، «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ…»، «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ…» — فضیلت: ہر چیز کی حفاظت اور ہر شر سے بچاؤ کے لیے کافی ہیں۔
3 ہر قسم کے نقصان اور ناگہانی آفت سے حفاظت کی دعا (صبح اور شام تین تین بار) — «بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ» — ترجمہ: "اللہ کے نام سے (آغاز کرتا ہوں) جس کے نام کی برکت سے زمین اور آسمان میں کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی اور وہی خوب سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔" فضیلت: جو اسے صبح اور شام تین بار پڑھے گا اسے کوئی ناگہانی آفت یا نقصان نہیں پہنچے گا۔
4 سید الاستغفار — بخشش کی بہترین دعا (صبح اور شام ایک بار) — «اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ، وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ، وَأَبُوءُ لَذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي فَإِنَّهُ لاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ أَنْتَ» — فضیلت: جو شخص اسے یقین کے ساتھ دن میں پڑھے اور شام سے پہلے فوت ہو جائے، یا رات کو پڑھے اور صبح سے پہلے فوت ہو جائے، تو وہ جنتی ہے۔
5 دنیا و آخرت کی عافیت کی دعا (صبح اور شام ایک بار) — «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ…» — ترجمہ: "اے اللہ! میں تجھ سے دنیا و آخرت میں معافی اور عافیت کا سوال کرتا ہوں؛ اپنے دین، دنیا، اہل و عیال اور مال میں عافیت کا طلب گار ہوں؛ میرے عیبوں کو چھپا لے اور میری گھبراہٹوں کو امن دے؛ میری حفاظت فرما آگے سے، پیچھے سے، دائیں، بائیں اور اوپر سے، اور میں تیری عظمت کی پناہ مانگتا ہوں کہ اپنے نیچے سے اچانک ہلاک کر دیا جاؤں۔"
6 زہریلے جانوروں اور مخلوق کے شر سے پناہ (خاص طور پر شام کے وقت تین بار) — «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ» — ترجمہ: "میں اللہ کے مکمل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں اس کی تمام مخلوق کے شر سے۔" فضیلت: شام کے وقت پڑھنے سے رات بھر کسی زہریلے کیڑے یا جانور کا ڈنک نقصان نہیں پہنچائے گا۔
7 تسبیح و تحمید (صبح اور شام سو بار) — «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ» — فضیلت: جو شخص اسے دن میں سو بار پڑھتا ہے، اس کے گناہ مٹا دیے جاتے ہیں خواہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔
12 سرگرمیاں برائے طلبہ

الٓمٓ غُلِبَتِ ٱلرُّومُ فِيٓ أَدۡنَى ٱلۡأَرۡضِ وَهُم مِّنۢ بَعۡدِ غَلَبِهِمۡ سَيَغۡلِبُونَ فِي بِضۡعِ سِنِينَۗ لِلَّهِ ٱلۡأَمۡرُ مِن قَبۡلُ وَمِنۢ بَعۡدُۚ وَيَوۡمَئِذٖ يَفۡرَحُ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ

رومی اہلِ کتاب اور ایرانی آتش پرستوں کے حوالے سے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور مشرکین کے درمیان مکالمے کے بارے میں طلبہ کو آگاہ کریں تاکہ وہ برے انجام سے بچنے کی فکر کرنے لگیں۔

یہ ایک انتہائی ایمان افروز اور تاریخی واقعہ ہے جس کا براہِ راست تعلق سورۃ الروم کے نزول سے ہے۔ اس واقعے سے طلبہ کو یہ بات سمجھائی جا سکتی ہے کہ دنیاوی غلبہ، فتح اور شکست سب اللہ کے حکم کے تابع ہیں اور حق بالآخر غالب ہو کر رہتا ہے۔

1 تاریخی پس منظر (واقعے کی تفصیل) — دو بڑی طاقتیں — بعثتِ نبوی کے ابتدائی دور میں دنیا کی دو بڑی سپر پاورز تھیں: رومی (روم) — یہ اہلِ کتاب (عیسائی) تھے اور ایک اللہ اور انبیاء کو مانتے تھے؛ اور ایرانی (فارس) — یہ مجوسی/آتش پرست اور مشرک تھے۔ جب ایرانیوں نے رومیوں پر حملہ کیا تو رومیوں کو شدید ترین شکست ہوئی اور ایرانیوں نے ان کے علاقے فتح کر لیے۔
2 تاریخی پس منظر (واقعے کی تفصیل) — مشرکینِ مکہ کی خوشی اور مسلمانوں کا غم — مشرکینِ مکہ اس شکست پر بہت خوش ہوئے اور مسلمانوں کو طعنہ دینے لگے کہ "جس طرح ہمارے مشرک بھائیوں (ایرانیوں) نے تمہارے کتابی بھائیوں (رومیوں) کو ہرا دیا، اسی طرح ہم بھی عنقریب تمہیں ختم کر دیں گے۔" مسلمان رومیوں کی اس شکست پر رنجیدہ تھے کیونکہ وہ عقیدۂ توحید اور کتبِ آسمانی کے قریب تر تھے۔
3 سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور مشرکین کا مکالمہ — سورۃ الروم کی ابتدائی آیات کا نزول — اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے آیات نازل فرمائیں: "رومی مغلوب ہو گئے ہیں، قریب کی زمین میں، اور وہ اپنی اس شکست کے بعد عنقریب چند سال میں غالب آ جائیں گے…"
4 سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور مشرکین کا مکالمہ — سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا دعویٰ اور شرط — جب یہ آیات نازل ہوئیں تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کامل ایمان کے ساتھ مشرکینِ مکہ (جن میں ابوجہل اور اُبی بن خلف شامل تھے) کے پاس گئے اور فرمایا: "تم لوگ زیادہ خوش نہ ہو! اللہ کی قسم! چند سالوں کے اندر اندر رومی دوبارہ ایرانیوں پر غالب آ جائیں گے۔" مشرکین نے مذاق اڑایا اور اُبی بن خلف نے کہا: "کیا تم اس بات پر ہم سے شرط لگاتے ہو؟" حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اللہ کے سچے وعدے پر پورا بھروسا کرتے ہوئے شرط باندھ لی (یہ حرمتِ قمار/جوے کا حکم نازل ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے)۔
5 سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور مشرکین کا مکالمہ — پیش گوئی کی سچائی — چند سالوں کے اندر (تقریباً سات سال بعد، جب بدر کی جنگ ہو رہی تھی) اللہ کا وعدہ سچ ثابت ہوا: رومیوں نے ایرانیوں کو ایسی عبرت ناک شکست دی کہ ایرانی سلطنت کی بنیادیں ہلا دیں۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ شرط جیت گئے اور مشرکینِ مکہ کو شدید ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔
6 طلبہ کے لیے عبرت اور برے انجام سے بچنے کے اسباق — اللہ کا وعدہ سچا ہے — مشرکینِ مکہ نے اللہ کے کلام کا مذاق اڑایا اور اپنی بظاہر طاقت پر غرور کیا، لیکن بالآخر ذلیل و خوار ہوئے۔ جو لوگ حق کا انکار کرتے ہیں اور اللہ کے احکام سے منہ موڑتے ہیں، ان کا انجام دنیا اور آخرت دونوں میں تباہی ہے۔
7 طلبہ کے لیے عبرت اور برے انجام سے بچنے کے اسباق — دنیاوی عروج و زوال عارضی ہے — ایرانیوں نے اپنی وقتی فتح پر تکبر کیا اور اہلِ کتاب پر مظالم ڈھائے، لیکن چند سالوں میں ہی ان کا تکبر خاک میں مل گیا۔ انسان کو اپنی طاقت، علم یا کامیابی پر کبھی غرور نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ انجام صرف تقویٰ اختیار کرنے والوں کے حق میں ہوتا ہے۔
8 طلبہ کے لیے عبرت اور برے انجام سے بچنے کے اسباق — کامل ایمان اور حق پر ڈٹ جانا — حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ایمان اس قدر مضبوط تھا کہ انہوں نے پوری دنیا کے حالات کے برعکس، محض اللہ کے قرآن پر یقین رکھتے ہوئے شرط باندھی۔ حالات جیسے بھی ہوں، حق اور سچائی کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے۔
9 طلبہ کے لیے عبرت اور برے انجام سے بچنے کے اسباق — استہزا (مذاق اڑانے) کا انجام — اُبی بن خلف اور دیگر مشرکین نے دین اور غیبی خبروں کا مذاق اڑایا؛ آگے چل کر انہی مشرکین کو جنگِ بدر اور احد میں درد ناک موت کا سامنا کرنا پڑا۔ دینِ اسلام یا شعائرِ اسلام کا مذاق اڑانا انسان کو برے انجام کی طرف لے جاتا ہے۔
جواب خلاصۂ درس: عزیز طلبہ! سورۃ الروم کا یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ ظاہری حالات چاہے کچھ بھی ہوں، آخری فتح اور کامیابی صرف اللہ پر ایمان رکھنے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کی ہوتی ہے۔ جو لوگ سرکشی، غرور اور حق کی تکذیب کا راستہ چنتے ہیں، ان کا انجام ذلت اور ناکامی کے سوا کچھ نہیں۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.