نویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 14: سبق 14: سورۃ العنکبوت (حصہ دوم) — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں برائے طلبہ · 14 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

وَزَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيۡطَٰنُ أَعۡمَٰلَهُمۡ فَصَدَّهُمۡ عَنِ ٱلسَّبِيلِ وَكَانُواْ مُسۡتَبۡصِرِينَ (سورۃ العنکبوت ۔ آیت 38)

آیتِ کریمہ کے مطابق شیطان نے کس طرح سابقہ قوموں کے سمجھ دار لوگوں کو سیدھے راستے سے روکا؟

اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ سابقہ قومیں (جیسے عاد اور ثمود) عقل مند، سمجھ دار اور حالات کو پرکھنے کی صلاحیت رکھتی تھیں، لیکن شیطان نے درج ذیل طریقے سے انہیں سیدھے راستے سے روکا:

1 اعمال کی زیبائش (جھوٹی دل کشی) — شیطان نے ان کے برے کاموں، شرک اور سرکشی کو ان کی نظروں میں خوب صورت اور خوش نما بنا کر پیش کیا، جس سے وہ اپنے غلط راستے کو ہی صحیح سمجھنے لگے۔
2 عقل پر غفلت کا پردہ — باوجود اس کے کہ وہ دیکھنے بھالنے والے اور سمجھ دار لوگ (مُسۡتَبۡصِرِين) تھے، اپنی خواہشاتِ نفس اور شیطان کی دکھائی ہوئی ظاہری دل کشی کی وجہ سے ان کی عقل پر غفلت کا پردہ پڑ گیا اور وہ حق کا راستہ چھوڑ کر گمراہی کی طرف نکل گئے۔
2 مختصر جوابات

فَمِنۡهُمۡ مَّنۡ اَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِ حَاصِبًا​ ۚ وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ اَخَذَتۡهُ الصَّيۡحَةُ​ ۚ وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ خَسَفۡنَا بِهِ الۡاَرۡضَ​ ۚ وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ اَغۡرَقۡنَا​ ۚ۔ (سورۃ العنکبوت ۔ آیت 40)

آیتِ کریمہ میں نافرمانوں کے لیے کن عذابوں کا ذکر ہے؟

اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے نافرمانوں اور سرکشوں پر آنے والے چار مختلف قسم کے عذابوں کا ذکر کیا ہے:

1 پتھراؤ والی آندھی (حَاصِبٗا) — بعض نافرمانوں پر اللہ تعالیٰ نے پتھر برسانے والی آندھی بھیجی (جیسے قومِ لوط پر)۔
2 ہولناک چنگھاڑ (ٱلصَّيۡحَةُ) — بعض کو ایک سخت اور ہولناک آواز نے آ پکڑا جس سے وہ ہلاک ہو گئے (جیسے قومِ ثمود اور اہلِ مدین)۔
3 زمین میں دھنسا دینا (خَسَفۡنَا بِهِ ٱلۡأَرۡضَ) — بعض نافرمانوں کو اللہ تعالیٰ نے ان کے تکبر کی وجہ سے زمین میں دھنسا دیا (جیسے قارون)۔
4 غرق کر دینا (أَغۡرَقۡنَا) — اور بعض سرکشوں کو پانی میں ڈبو کر غرق کر دیا گیا (جیسے فرعون اور قومِ نوح)۔
جواب نوٹ: آیت کے آخر میں واضح کیا گیا ہے کہ اللہ نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا، بلکہ وہ اپنے گناہوں کی وجہ سے خود اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے تھے۔
3 مختصر جوابات

اُتۡلُ مَاۤ اُوۡحِىَ اِلَيۡكَ مِنَ الۡكِتٰبِ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ ​ؕ۔ (سورۃ العنکبوت ۔ آیت 45)

آیت میں کن باتوں کا حکم دیا گیا ہے؟

اس آیتِ مبارکہ میں دو بنیادی امور کا حکم دیا گیا ہے:

آیت کا بقیہ حصہ اور اس کی حکمت

1 تلاوتِ قرآن مجید کا حکم — آپ ﷺ (اور تمام مسلمانوں) کو ہدایت دی گئی کہ اللہ کی نازل کردہ کتاب (قرآنِ مجید) کی تلاوت کریں اور اس کی تعلیمات کو پڑھیں۔
2 نماز قائم کرنے کا حکم — نماز کو پابندی، خشوع و خضوع اور اس کے تمام آداب و ارکان کے ساتھ قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
3 برائیوں سے رکاوٹ — بے شک نماز انسان کو بے حیائی (فحشاء) اور برے کاموں (منکر) سے روکتی ہے۔
4 اللہ کا ذکر — اور اللہ کا ذکر سب سے بڑی چیز ہے۔
5 اللہ کا علم — اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔
4 مختصر جوابات

وَمَا هَٰذِهِ ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَآ إِلَّا لَهۡوٞ وَلَعِبٞۚ وَإِنَّ ٱلدَّارَ ٱلۡأٓخِرَةَ لَهِيَ ٱلۡحَيَوَانُۚ لَوۡ كَانُواْ يَعۡلَمُونَ (سورۃ العنکبوت ۔ آیت 64)

آیتِ کریمہ میں دنیا اور آخرت کے بارے میں کیا بتایا گیا ہے؟

1 دنیاوی زندگی کی حقیقت — اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس دنیا کی زندگی محض کھیل اور تماشے (عارضی اور بے ثبات چیز) کے سوا کچھ نہیں؛ اس کی رونقیں اور خوشیاں فانی ہیں جو بہت جلد ختم ہو جائیں گی۔
2 آخرت کی زندگی کی حقیقت — دنیا کے مقابلے میں آخرت کا گھر ہی واقعی اور حقیقی زندگی (ٱلۡحَيَوَان) ہے؛ وہاں نہ فنا ہے، نہ زوال، اور وہ زندگی ہمیشہ رہنے والی ہے۔
جواب آیت کا حاصل: آیت کے آخر میں فرمایا گیا: "کاش! وہ اس بات کا علم رکھتے" — یعنی کاش لوگ اس حقیقت کو سمجھ لیں کہ عارضی کھیل تماشے کی زندگی پر ہمیشہ رہنے والی آخرت کی زندگی کو ترجیح دی جائے۔
5 مختصر جوابات

وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوۡ كَذَّبَ بِالۡحَـقِّ لَـمَّا جَآءَهٗ​ؕ (سورۃ العنکبوت ۔ آیت 68)

آیتِ کریمہ میں ظالم کی کون سی دو نشانیاں بیان کی گئی ہیں؟

اس آیتِ مبارکہ میں سب سے بڑے ظالم کی دو بنیادی نشانیاں بیان کی گئی ہیں:

1 اللہ پر جھوٹ گھڑنا — ایسا شخص جو اللہ تعالیٰ کی طرف غلط باتیں، شرک یا جھوٹے احکام منسوب کرتا ہے۔
2 حق کو جھٹلانا — جب سچا دین، قرآن یا حق بات اس کے پاس آ جائے تو وہ بغیر سوچے سمجھے اور ضد کی بنا پر اسے جھٹلا دیتا ہے۔
جواب آیت کا نتیجہ: آیت کے آخر میں ان ظالموں اور کافروں کے انجام کے بارے میں فرمایا گیا: "کیا کافروں کا ٹھکانا جہنم میں نہیں ہے؟" — یعنی ایسے سرکش اور ظالم لوگوں کے لیے جہنم ہی آخری ٹھکانا ہے۔

تفصیلی جوابات

6 تفصیلی جوابات

وَلَمَّا جَآءَتۡ رُسُلُنَآ إِبۡرَٰهِيمَ بِٱلۡبُشۡرَىٰ قَالُوٓاْ إِنَّا مُهۡلِكُوٓاْ أَهۡلِ هَٰذِهِ ٱلۡقَرۡيَةِۖ إِنَّ أَهۡلَهَا كَانُواْ ظَٰلِمِينَ (سورۃ العنکبوت ۔ آیت 31)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت تحریر کریں۔

ترجمہ

"اور جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس بشارت لے کر آئے تو انہوں نے کہا: ہم اس بستی والوں کو ہلاک کرنے والے ہیں، بے شک اس بستی کے لوگ سخت ظالم ہیں۔"

مفصل وضاحت

1 فرشتوں کی انسانی روپ میں آمد — اللہ تعالیٰ نے فرشتوں (حضرت جبرائیل علیہ السلام اور دیگر) کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس انسانوں کے روپ میں بھیجا۔ وہ دو خبریں دینے آئے تھے: (1) خوش خبری — حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بڑھاپے کی عمر میں بیٹے (حضرت اسحاق علیہ السلام) اور پوتے (حضرت یعقوب علیہ السلام) کی ولادت کی بشارت؛ (2) ہلاکت کی خبر — حضرت لوط علیہ السلام کی قوم (سدوم کی بستی) کی تباہی کا حکم۔
2 بستی کی ہلاکت کا سبب (ظلم و سرکشی) — فرشتوں نے واضح لفظوں میں بتایا کہ ہم اس بستی کے رہنے والوں کو ہلاک کرنے جا رہے ہیں کیونکہ "اس بستی کے لوگ سخت ظالم ہیں۔" یہاں ظلم سے مراد: شرک و کفر (اللہ کی توحید کا انکار اور رسول حضرت لوط علیہ السلام کی تکذیب)؛ بدفعلی اور بے حیائی (وہ ایسے قبیح کام میں مبتلا تھے جو ان سے پہلے دنیا میں کسی قوم نے نہیں کیا تھا)؛ اور رہزنی و گناہ (راستے کاٹنا، مسافروں کو لوٹنا اور اپنی مجلسوں میں علانیہ برے کام کرنا)۔
3 انبیاء کی شفقت اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ردِ عمل — اس آیت کے بعد کی آیات میں ذکر آتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جیسے ہی بستی والوں پر عذاب کی خبر ملی، انہوں نے حضرت لوط علیہ السلام کی فکر کرتے ہوئے فرشتوں سے بات کی، کیونکہ انبیاء اپنی قوم اور مومنین کے لیے انتہائی شفیق و مہربان ہوتے ہیں۔ فرشتوں نے واضح کر دیا کہ اللہ تعالیٰ حضرت لوط علیہ السلام اور ان کے مومن گھر والوں کو نجات دے گا، سوائے ان کی بیوی کے جو ان ظالموں کے ساتھ عذاب میں ہلاک ہونے والوں میں شامل تھی۔
جواب درس و ہدایت: جب کوئی قوم یا معاشرہ مسلسل ظلم، سرکشی اور بے حیائی میں حد سے بڑھ جاتا ہے اور اصلاح کی تمام کوششوں کو رد کر دیتا ہے، تو اللہ تعالیٰ کا قانونِ مکافاتِ عمل حرکت میں آتا ہے اور ظالم اپنے انجام کو پہنچتے ہیں۔
7 تفصیلی جوابات

مَثَلُ ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُواْ مِن دُونِ ٱللَّهِ أَوۡلِيَآءَ كَمَثَلِ ٱلۡعَنكَبُوتِ ٱتَّخَذَتۡ بَيۡتٗاۖ وَإِنَّ أَوۡهَنَ ٱلۡبُيُوتِ لَبَيۡتُ ٱلۡعَنكَبُوتِۚ لَوۡ كَانُواْ يَعۡلَمُونَ (سورۃ العنکبوت ۔ آیت 41)

آیتِ کریمہ میں باطل معبودوں کی حقیقت کو مکڑی کی مثال سے کس طرح واضح کیا گیا ہے؟

اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے شرک اور غیر اللہ کو معبود یا مددگار بنانے کی حقیقت کو مکڑی کے گھر (جالے) کی مثال سے نہایت جامع انداز میں واضح فرمایا ہے:

1 سب سے کمزور اور ناپائیدار سہارا — مکڑی بڑی محنت سے اپنا جالا بنتی ہے اور سمجھتی ہے کہ یہ اس کی حفاظت کرے گا، لیکن حقیقت میں یہ دنیا کے تمام گھروں میں سب سے زیادہ کمزور (أَوۡهَنَ ٱلۡبُيُوتِ) ہوتا ہے — نہ گرمی سردی سے بچاتا ہے، نہ بارش اور ہوا کا مقابلہ کر سکتا ہے، اور ذرا سی انگلی لگنے سے تباہ ہو جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح جو لوگ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر بتوں، انسانوں یا دیگر مخلوقات کو اپنا معبود، حاجت روا یا مشکل کشا بناتے ہیں، ان کا سہارا بھی مکڑی کے جالے کی طرح انتہائی کمزور اور بے بنیاد ہے۔
2 مصیبت کے وقت بے بسی — جب مکڑی پر کوئی مصیبت یا خطرہ آتا ہے تو اس کا اپنا جالا اسے کسی قسم کا تحفظ فراہم نہیں کر سکتا؛ بعینہٖ جن معبودوں کی مشرکین عبادت کرتے ہیں، وہ نہ خود کو کسی نفع و نقصان سے بچا سکتے ہیں اور نہ اپنے پکارنے والوں کی کسی مشکل، بیماری یا قیامت کے دن عذاب سے حفاظت کر سکتے ہیں۔
3 علم اور شعور کی کمی — آیت کے آخر میں فرمایا گیا: "کاش! وہ جانتے" — یعنی کاش یہ مشرکین اپنے معبودوں اور اپنے عقیدے کی بے ثباتی کو جانتے تو اللہ تعالیٰ کے در کو چھوڑ کر مکڑی کے جالے جیسے کمزور سہاروں کی طرف نہ بھاگتے۔
4 علمی و جدید نقطۂ نظر (اضافی حکمت) — جدید تحقیقات کے مطابق مکڑی کا جالا محض ساخت کے اعتبار سے ہی کمزور نہیں، بلکہ معاشرتی اور حفاظتی لحاظ سے بھی بدترین ہوتا ہے؛ مکڑی بسا اوقات انڈے دینے کے بعد نر مکڑی کو خود ہلاک کر دیتی ہے اور بچے بڑے ہو کر ایک دوسرے کو کھا جاتے ہیں۔ پس جس طرح وہ گھر امن و سکون سے خالی ہے، اسی طرح غیر اللہ کا آستانہ بھی انسان کو روحانی اور اخروی سکون فراہم نہیں کر سکتا۔
جواب حاصلِ کلام: یہ تمثیل بتاتی ہے کہ توحید کے سوا باقی تمام سہاروں کی حقیقت صفر اور مکڑی کے جالے کی طرح ناپائیدار ہے، جب کہ حقیقی طاقت، حفاظت اور سہارا صرف اور صرف اللہ رب العزت کی ذات ہے۔
8 تفصیلی جوابات

وَلَئِن سَأَلۡتَهُم مَّنۡ خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ وَسَخَّرَ ٱلشَّمۡسَ وَٱلۡقَمَرَ لَيَقُولُنَّ ٱللَّهُۖ فَأَنَّىٰ يُؤۡفَكُونَ (سورۃ العنکبوت ۔ آیت 61)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت تحریر کریں۔

ترجمہ

"اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا اور سورج اور چاند کو کس نے مسخر (کام میں لگا) رکھا ہے؟ تو وہ ضرور کہیں گے کہ ’اللہ نے‘۔ پھر وہ کہاں الٹے بہکے جا رہے ہیں؟"

مفصل وضاحت

1 توحیدِ ربوبیت کا اعتراف — مشرکینِ مکہ بالکل بے دین یا ملحد نہیں تھے؛ وہ اس بات کے قائل تھے کہ تمام کائنات، آسمانوں اور زمین کا اکیلا خالق اللہ تعالیٰ ہی ہے، اور سورج و چاند کا نظام چلانے والا بھی صرف اللہ ہی ہے۔ جب بھی ان سے پوچھا جاتا کہ اس عظیم کائنات کو کس نے بنایا، تو وہ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے جواب دیتے کہ یہ سب اللہ کا کام ہے۔
2 مشرکین کا فکری تضاد — آیت کے دوسرے حصے "فَأَنَّىٰ يُؤۡفَكُونَ" (پھر وہ کہاں الٹے بہکے جا رہے ہیں؟) میں ان کے عجیب رویے پر تعجب اور افسوس کا اظہار کیا گیا ہے: جب وہ مانتے ہیں کہ خالق، مالک اور کائنات کا نظام چلانے والا اکیلا اللہ ہے، تو پھر عبادت، دعا اور حاجت روائی کے لیے بتوں اور دیگر باطل معبودوں کی طرف کیوں جاتے ہیں؟ خالق اور رازق کو ایک ماننا لیکن عبادات میں دوسروں کو شریک کرنا ایسا الٹا اور عقل سے بعید رویہ ہے جس کی کوئی منطقی دلیل ان کے پاس نہیں تھی۔
3 اتمامِ حجت اور درس — اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ: خالق ہونا ہی معبود ہونے کا مستحق بناتا ہے — جو ذات کائنات کو پیدا کرنے اور چلانے کی طاقت رکھتی ہے، صرف وہی عبادت کی حق دار ہے؛ اور شرک کی منطق بے بنیاد ہے — جن بتوں یا مخلوقات کو وہ اللہ کا شریک ٹھہراتے تھے، وہ نہ آسمان و زمین کی تخلیق میں شامل تھے اور نہ سورج و چاند کی گردش پر ان کا کوئی اختیار تھا۔
جواب حاصلِ کلام: یہ آیت انسان کو اپنی عقل استعمال کرنے کی دعوت دیتی ہے کہ جب انسان دل سے اللہ تعالیٰ کو کائنات کا اکیلا خالق و مالک تسلیم کرتا ہے، تو پھر تمام تر عبادات، پکار اور التجا کا مرکز بھی صرف اللہ کی ذات کو ہونا چاہیے، نہ کہ غیر اللہ کو۔
9 تفصیلی جوابات

وَلَا تُجَٰدِلُوٓاْ أَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ إِلَّا بِٱلَّتِي هِيَ أَحۡسَنُ إِلَّا ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ مِنۡهُمۡۖ وَقُولُوٓاْ ءَامَنَّا بِٱلَّذِيٓ أُنزِلَ إِلَيۡنَا وَأُنزِلَ إِلَيۡكُمۡ وَإِلَٰهُنَا وَإِلَٰهُكُمۡ وَٰحِدٞ وَنَحۡنُ لَهُۥ مُسۡلِمُونَ (سورۃ العنکبوت ۔ آیت 46)

آیتِ کریمہ کی رو سے اہلِ کتاب سے مکالمے کے کیا آداب سکھائے گئے ہیں؟

اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اہلِ کتاب (یہود و نصاریٰ) کے ساتھ دعوت، گفتگو اور بحث و مباحثے کے بہترین اور شائستہ آداب سکھائے ہیں:

1 احسن اور عمدہ طریقے سے گفتگو (إِلَّا بِٱلَّتِي هِيَ أَحۡسَنُ) — اہلِ کتاب سے بحث یا گفتگو کرتے وقت نرمی، شائستگی اور دلیل و منطق کا راستہ اختیار کیا جائے: بدزبانی، سخت کلامی، گالی گلوچ یا طنز سے سخت پرہیز؛ بات کو خوب صورت، مدلل اور دل میں اتر جانے والے انداز میں پیش کیا جائے تاکہ مقصد سچائی کو سمجھانا ہو، نہ کہ ضد اور انا کا مسئلہ بنانا۔
2 ظالموں اور معاندین سے استثنا (إِلَّا ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ مِنۡهُمۡ) — یہ شائستہ اور نرم رویہ ان لوگوں کے لیے ہے جو حق کے طالب اور سنجیدہ ہوں؛ لیکن جو اہلِ کتاب ظلم، ہٹ دھرمی، دشمنی، توہین یا جنگ پر اتر آئیں، ان کے ساتھ نرمی کے بجائے سخت اور مؤثر جواب دینے کی اجازت ہے۔
3 مشترکہ بنیادوں پر بات چیت — دعوت اور مکالمے کو اثر انگیز بنانے کے لیے وہ باتیں سامنے لائی جائیں جو دونوں میں مشترک ہیں: "اور کہو کہ ہم ایمان لائے اس (کتاب) پر جو ہم پر نازل کی گئی اور جو تم پر نازل کی گئی" — یعنی ہم قرآن کے ساتھ ساتھ تورات اور انجیل کے اصل نسخوں کو بھی اللہ کی نازل کردہ کتابیں مانتے ہیں۔
4 ایک ہی معبودِ برحق کا اقرار — "اور ہمارا معبود اور تمہارا معبود ایک ہی ہے" — مکالمے میں اس بات پر زور دیا جائے کہ مسلمان اور اہلِ کتاب دونوں ایک ہی رب (اللہ تعالیٰ) کی عبادت کے داعی ہیں، لہٰذا اختلاف کے بجائے توحید کی بنیاد پر اکٹھا ہوا جائے۔
5 کامل اطاعت اور تسلیم و رضا (وَنَحۡنُ لَهُۥ مُسۡلِمُونَ) — "اور ہم اسی (اللہ) کے فرماں بردار ہیں" — مسلمان ہونے کے ناتے اپنے رویے سے ثابت کیا جائے کہ ہم اللہ کے ہر حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے والے ہیں، اور اسی اخلاص و بندگی کی طرف انہیں بھی دعوت دی جائے۔
جواب حاصلِ کلام: یہ آیت مسلم امت کو بین المذاہب مکالمے کی حکمتِ عملی کا سنہری اصول سکھاتی ہے کہ غیر مسلموں خصوصاً اہلِ کتاب سے بات چیت کا مقصد انہیں نیچا دکھانا نہیں، بلکہ مشترکہ عقائد کی بنیاد پر محبت، احترام، دلیل اور احسن انداز سے سچائی اور توحید کا پیغام پہنچانا ہے۔
10 تفصیلی جوابات

وَٱلَّذِينَ جَٰهَدُواْ فِينَا لَنَهۡدِيَنَّهُمۡ سُبُلَنَاۚ وَإِنَّ ٱللَّهَ لَمَعَ ٱلۡمُحۡسِنِينَ (سورۃ العنکبوت ۔ آیت 69)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت تحریر کریں۔

ترجمہ

"اور جن لوگوں نے ہمارے راستے میں مجاہدہ (کوشش و جہاد) کیا، ہم انہیں اپنے راستے ضرور دکھائیں گے، اور بے شک اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں (محسنین) کے ساتھ ہے۔"

مفصل وضاحت

1 مجاہدے سے مراد (وَٱلَّذِينَ جَٰهَدُواْ فِينَا) — یہاں "جَٰهَدُواْ" کا لفظ بہت وسیع معنوں میں استعمال ہوا ہے، جس میں ہر وہ کوشش شامل ہے جو اللہ کی رضا کے لیے کی جائے: نفس کے خلاف جہاد (اپنی خواہشات، برے خیالات اور گناہوں کو چھوڑ کر اللہ کے احکام پر چلنا)؛ دین پر قائم رہنے کی کوشش (مشکلات کے باوجود اسلام کے اصولوں اور عبادات پر سختی سے کاربند رہنا)؛ اور دعوت و تبلیغ اور قتال (اللہ کے دین کو پھیلانے کے لیے مال، زبان اور جان سے جدوجہد کرنا)۔
2 ہدایت کا الٰہی وعدہ (لَنَهۡدِيَنَّهُمۡ سُبُلَنَا) — اللہ تعالیٰ کا یہ حتمی اور پکا وعدہ ہے کہ جو شخص محض اللہ کی رضا کی خاطر اس کے راستے میں قدم بڑھاتا ہے: اللہ اس کے لیے ہدایت کے راستے کھول دیتا ہے؛ اسے خیر اور شر کے درمیان تمیز اور حق پر جمے رہنے کی توفیق عطا فرماتا ہے؛ اور جب انسان ایک نیکی کی طرف بڑھتا ہے تو اللہ اس کے لیے مزید نیکیوں کے راستے آسان کر دیتا ہے۔
3 اللہ کی معیت اور بشارت (وَإِنَّ ٱللَّهَ لَمَعَ ٱلۡمُحۡسِنِينَ) — آیت کے آخری حصے میں "محسنین" (نیکی اور اخلاص کے ساتھ عمل کرنے والوں) کو اللہ کی خاص قربت کا مژدہ سنایا گیا ہے: اللہ تعالیٰ ان کی مدد، نصرت، حفاظت اور توفیق کے ذریعے ہر وقت ان کے ساتھ رہتا ہے۔ احسان کا مطلب یہ ہے کہ انسان اللہ کی بندگی اس طرح کرے گویا وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے، یا کم از کم یہ احساس رکھے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔
جواب حاصلِ کلام: سورۃ العنکبوت کا اختتام اس خوب صورت پیغام پر ہوتا ہے کہ دینِ اسلام کے راستے میں آنے والی آزمائشوں اور مشکلات سے گھبرانے کی ضرورت نہیں؛ انسان کا کام صرف سچے دل سے کوشش اور مجاہدہ کرنا ہے، باقی راستے کھولنا، ہدایت دینا اور انجامِ کار کامیاب کرنا اللہ تعالیٰ کی ذمہ داری ہے۔
11 تفصیلی جوابات

وَيَسۡتَعۡجِلُوۡنَكَ بِالۡعَذَابِ​ؕ وَلَوۡلَاۤ اَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَآءَهُمُ الۡعَذَابُؕ (سورۃ العنکبوت ۔ آیت 53)

آیتِ کریمہ میں جلدی عذاب طلب کرنے والوں کو کیا جواب دیا گیا ہے؟

اس آیتِ مبارکہ میں کفار اور منکرینِ حق کے اس طعنے اور مطالبے کا جواب دیا گیا ہے جو وہ نبی کریم ﷺ سے استہزا کے طور پر عذابِ الٰہی جلد لانے کا کرتے تھے۔ انہیں درج ذیل تین بنیادی جوابات دیے گئے:

1 عذاب کا وقت پہلے سے مقرر ہے (وَلَوۡلَآ أَجَلٞ مُّسَمّٗى) — عذاب کے آنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک خاص وقت اور مدت مقرر ہے؛ اللہ اپنے فیصلے اور حکمت کے تحت ہر کام کا وقت طے رکھتا ہے۔ اگر یہ وقت مقرر نہ ہوتا تو ان کی سرکشی اور مطالبے پر فوراً عذاب نازل کر دیا جاتا۔
2 عذاب کا اچانک اور ناگہانی آنا (وَلَيَأۡتِيَنَّهُم بَغۡتَةٗ) — انہیں خبردار کیا گیا کہ عذاب اپنے مقررہ وقت پر اچانک اور ناگہانی طور پر ان پر آ پڑے گا؛ جب عذاب آئے گا تو انہیں پہلے سے اس کا اندازہ یا خبر تک نہ ہوگی۔
3 بے خبری اور حسرت (وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُونَ) — جس وقت عذاب آئے گا، وہ اپنی غفلت اور دنیاوی رنگ رلیوں میں مست ہوں گے اور انہیں اس کے آنے کا شعور تک نہ ہوگا؛ پھر ان کے پاس سنبھلنے یا توبہ کرنے کا کوئی موقع باقی نہیں رہے گا۔
جواب حاصلِ کلام: عذاب کی تاخیر کو کفار اپنی فتح یا عذاب کا انکار نہ سمجھیں، بلکہ یہ اللہ کی طرف سے دی گئی مہلت ہے۔ عذاب کا نہ آنا اس بات کی دلیل نہیں کہ عذاب نہیں آئے گا، بلکہ وہ اپنے مقررہ وقت پر اچانک انہیں آ گھیرے گا۔

سرگرمیاں برائے طلبہ

12 سرگرمیاں برائے طلبہ

سورۃ العنکبوت میں قرآن مجید کی حقانیت اور نبی کریم ﷺ کی رسالت کے حوالے سے دیے گئے دلائل تلاش کر کے مذاکرہ کریں۔

سورۃ العنکبوت کے دوسرے حصے (خاص طور پر آیات 48 تا 51) میں اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید کو برحق ثابت کرنے اور حضرت محمد ﷺ کی نبوت و رسالت کو ماننے کے لیے انتہائی معقول اور ناقابلِ تردید دلائل پیش کیے ہیں۔ مذاکرہ درج ذیل نکات کی روشنی میں کیا جا سکتا ہے:

1 نبی کریم ﷺ کا "امی" (ناخواندہ) ہونا — آیت 48 — قرآنی دلیل — "اور (اے نبی!) آپ اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتے تھے اور نہ اپنے ہاتھ سے اسے لکھتے تھے، اگر ایسا ہوتا تو باطل پرست ضرور شک میں پڑ جاتے۔"
2 نبی کریم ﷺ کا "امی" (ناخواندہ) ہونا — آیت 48 — تاریخی حقیقت — مکہ کے تمام لوگ جانتے تھے کہ نبی کریم ﷺ نے نہ کسی استاد سے پڑھا تھا، نہ آپ لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔
3 نبی کریم ﷺ کا "امی" (ناخواندہ) ہونا — آیت 48 — معجزانہ پہلو — ایک ناخواندہ شخصیت کی زبانِ مبارک سے اتنا فصیح و بلیغ، علمی اور حکمت سے بھرپور کلام (قرآن) جاری ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ ان کا اپنا بنایا ہوا کلام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ کلام ہے۔
4 نبی کریم ﷺ کا "امی" (ناخواندہ) ہونا — آیت 48 — شک کا خاتمہ — اگر آپ ﷺ پہلے سے لکھنا پڑھنا جانتے ہوتے تو کافروں کو بہانہ مل جاتا کہ آپ نے پرانی کتابوں سے نقل کیا ہے؛ لیکن اللہ نے ان کے اس شک کا باب پہلے ہی بند کر دیا۔
5 اہلِ علم کے سینوں میں محفوظ ہونا — آیت 49 — قرآنی دلیل — "بلکہ یہ (قرآن) تو روشن آیات ہیں ان لوگوں کے سینوں میں جنہیں علم دیا گیا ہے۔"
6 اہلِ علم کے سینوں میں محفوظ ہونا — آیت 49 — حفظِ قرآن کا معجزہ — دنیا کی دیگر کتابوں کے برعکس قرآنِ مجید کا سب سے بڑا معجزہ یہ ہے کہ یہ صرف کاغذوں پر نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں کے سینوں (دلوں) میں محفوظ ہے۔
7 اہلِ علم کے سینوں میں محفوظ ہونا — آیت 49 — حق کی پہچان — جو لوگ منصف مزاج اور صاحبِ علم ہیں، وہ قرآن کی فصاحت، بلاغت اور سچائی کو فوراً پہچان لیتے ہیں۔
8 قرآنِ مجید کا خود ایک دائمی معجزہ ہونا — آیات 50 تا 51 — قرآنی دلیل — "اور انہوں نے کہا: ان پر ان کے رب کی طرف سے نشانیاں (معجزے) کیوں نہیں اتاری گئیں؟ آپ کہہ دیجیے کہ نشانیاں تو صرف اللہ کے پاس ہیں … کیا ان کے لیے یہ کافی نہیں کہ ہم نے آپ پر کتاب نازل کی جو ان پر پڑھ کر سنائی جاتی ہے؟"
9 قرآنِ مجید کا خود ایک دائمی معجزہ ہونا — آیات 50 تا 51 — حسی معجزات بمقابلہ عقلی معجزہ — پچھلی قوموں کو جو معجزات دیے گئے (جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مردوں کو زندہ کرنا) وہ عارضی تھے اور اسی وقت ختم ہو گئے۔
10 قرآنِ مجید کا خود ایک دائمی معجزہ ہونا — آیات 50 تا 51 — دائمی نشانی — کفارِ مکہ نبی کریم ﷺ سے عجیب و غریب حسی معجزات کا مطالبہ کرتے تھے، جس پر اللہ نے فرمایا کہ قرآنِ مجید خود اتنا بڑا اور زندہ معجزہ ہے جو قیامت تک قائم رہے گا؛ اس کے ہوتے ہوئے کسی اور معجزے کی ضرورت ہی نہیں۔
11 قرآنِ مجید کا خود ایک دائمی معجزہ ہونا — آیات 50 تا 51 — رحمت اور نصیحت — اس کتاب میں لوگوں کے لیے ہدایت، رحمت اور نصیحت کا کامل سامان موجود ہے۔
جواب مذاکرے کا حاصلِ کلام: نبی کریم ﷺ کی امی شخصیت قرآن کے سچے اور منجانب اللہ ہونے کا سب سے بڑا ثبوت ہے؛ قرآن کا محفوظ ہونا اور انسان کے لیے رہنما ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں؛ اور قرآن ایسا معجزہ ہے جو عقل کو دعوتِ فکر دیتا ہے اور انسان کو باطل سہاروں (مکڑی کے جالے جیسے عقائد) سے نکال کر ایک اللہ کی توحید کی طرف لاتا ہے۔
13 سرگرمیاں برائے طلبہ

موت ایک اٹل حقیقت ہے جسے آج تک کسی نے نہیں جھٹلایا؛ مختلف مذاہب میں موت کے بعد کی رسومات پر مذاکرہ کریں۔

موت ایک ایسی عالم گیر اور اٹل حقیقت ہے جسے تاریخ کا کوئی ملحد، سائنس دان یا کافر جھٹلا نہیں سکا۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے: "كُلُّ نَفۡسٖ ذَآئِقَةُ ٱلۡمَوۡتِ" (ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے)۔ دنیا کا ہر مذہب موت کو تسلیم کرتا ہے، لیکن اس کے بعد روح کے سفر اور آخری رسومات کے بارے میں ہر مذہب کا نقطۂ نظر مختلف ہے:

1 اسلام — عقیدہ — اسلام کے مطابق موت زندگی کا خاتمہ نہیں بلکہ عارضی دنیا سے ابدی اور دائمی زندگی (آخرت) کی طرف منتقلی کا نام ہے۔ انسان کا جسم مٹی سے بنا ہے اور اسے مٹی میں ہی لوٹنا ہے، جب کہ روح کا معاملہ برزخ، قیامت اور جزا و سزا سے جڑا ہے۔
2 اسلام — آخری رسومات — غسل اور کفن (میت کو پاک پانی سے غسل دے کر سادہ سفید کپڑے میں لپیٹا جاتا ہے تاکہ سادگی اور مساوات کا درس ملے)؛ نمازِ جنازہ (اجتماعی دعا اور مغفرت کی نماز)؛ تدفین (میت کو عزت و احترام کے ساتھ قبلہ رخ کر کے دفن کیا جاتا ہے)؛ سوگ (تین دن سے زیادہ سوگ منانے یا چیخنے چلانے سے منع کیا گیا ہے؛ ایصالِ ثواب اور دعا پر زور دیا گیا ہے)۔
3 ہندو مت — عقیدہ — ہندو دھرم میں تکرارِ جنم (آواگون) پر ایمان رکھا جاتا ہے؛ ان کے مطابق جسم فانی ہے مگر روح (آتما) امر ہے اور انسان کے کرموں کے مطابق ایک جسم چھوڑ کر نیا جسم اختیار کرتی ہے۔
4 ہندو مت — آخری رسومات — نذرِ آتش کرنا ("انتم سنسکار" — میت کو جلایا جاتا ہے تاکہ بنیادی عناصر اپنے اصل میں مل جائیں)؛ کپال کریا (میت کا بڑا بیٹا چتا کو آگ لگاتا ہے)؛ استھیاں بہانا (راکھ اور ہڈیوں کو کسی مقدس ندی، جیسے گنگا، میں بہایا جاتا ہے)۔
5 عیسائیت — عقیدہ — عیسائیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان کے ذریعے جی اٹھنے اور ابدی زندگی پر یقین رکھا جاتا ہے؛ ان کے مطابق وفات پانے والا فرد قیامت کے دن دوبارہ اٹھے گا۔
6 عیسائیت — آخری رسومات — چرچ میں میت کو تابوت میں رکھ کر دعائیہ تقریب ہوتی ہے اور مرحوم کی زندگی کو یاد کیا جاتا ہے؛ روایتی طور پر تدفین کا طریقہ رائج رہا ہے، تاہم جدید دور میں بعض حلقوں میں جلانے کا رواج بھی ہے؛ دفناتے وقت تابوت پر مٹی ڈالتے ہوئے کہا جاتا ہے: "مٹی مٹی سے، راکھ راکھ سے"۔
7 یہودیت — عقیدہ — یہودیت میں بھی روح کی ابدیت اور آخرت میں دوبارہ زندہ کیے جانے پر ایمان موجود ہے؛ میت کے احترام کو انتہائی اہمیت حاصل ہے۔
8 یہودیت — آخری رسومات — سادہ تدفین (میت کو غسل دے کر سادہ سفید لباس پہنایا جاتا ہے اور جتنا جلد ممکن ہو دفنایا جاتا ہے)؛ جسم کو جلانا یا اس میں تبدیلی کرنا سخت ممنوع ہے؛ "شِوا" — دفن کے بعد لواحقین سات دن گھر میں بیٹھ کر سوگ مناتے اور تعزیت قبول کرتے ہیں۔
9 بدھ مت — عقیدہ — بدھ مت میں روح کے مستقل وجود کے بجائے "سمسار" (تناسخ اور کرم کا چکر) کو مانا جاتا ہے؛ حتمی مقصد "نروان" (دکھ اور جنم کے چکر سے آزادی) حاصل کرنا ہے۔
10 بدھ مت — آخری رسومات — جلانا یا دفن کرنا دونوں مقبول ہیں، لیکن عام طور پر جلانے کو ترجیح دی جاتی ہے؛ بدھ راہب میت کے پاس بیٹھ کر تعلیمات اور سُتر پڑھتے ہیں۔
جواب مذاکرے کا حاصلِ کلام: تمام انسان خواہ کسی بھی مذہب سے ہوں، موت کو ناگزیر مانتے ہیں؛ ہر مذہب میں میت اور لواحقین کے احترام پر زور دیا گیا ہے؛ اور اسلامی رسومات سادگی، صفائی، مساوات (ایک ہی سفید کفن) اور آخرت کی فکر پر مبنی ہیں، جو انسان کو غرور و تکبر سے نکال کر اپنے خالق کے سامنے جواب دہی کا احساس دلاتی ہیں۔
14 سرگرمیاں برائے طلبہ

سورۃ العنکبوت اس زمانے میں نازل ہوئی جب مسلمانوں پر ظلم و ستم کی انتہا کر دی گئی، لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کفار و مشرکین کے سامنے صبر و استقامت کے پہاڑ بنے رہے۔ اس دور میں صحابہ کرام پر ہونے والے ظلم و ستم کے چند واقعات سے طلبہ کو آگاہ کریں۔

سورۃ العنکبوت مکی زندگی کے اس دور میں نازل ہوئی جب مکہ مکرمہ میں مسلمانوں پر کافروں کا ظلم و ستم عروج پر تھا۔ کافروں کا مقصد یہ تھا کہ مسلمان کسی طرح دینِ اسلام کو چھوڑ دیں، لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ثابت قدمی، صبر اور ایمان کی وہ تاریخ رقم کی جس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔ چند ایمان افروز واقعات درج ذیل ہیں:

طلبہ کے لیے حاصلِ درس

1 حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کی استقامت — حضرت بلال رضی اللہ عنہ ایک حبشی غلام تھے اور ان کا مالک امیہ بن خلف تھا۔ جب اسے معلوم ہوا کہ وہ اسلام قبول کر چکے ہیں تو وہ ان پر درد ناک مظالم ڈھانے لگا: مکہ کی تپتی دوپہر میں انہیں جلتی ہوئی ریت پر لٹا دیا جاتا اور سینے پر بھاری گرم پتھر رکھ دیا جاتا تاکہ وہ ہل بھی نہ سکیں۔ اس انتہائی تکلیف دہ حالت میں بھی ان کی زبان سے صرف ایک ہی آواز نکلتی: "أَحَد أَحَد" (اللہ ایک ہے، اللہ ایک ہے)۔
2 آلِ یاسر رضی اللہ عنہم کا عظیم خاندان اور شہادت — حضرت یاسر رضی اللہ عنہ، ان کی زوجہ حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا اور بیٹے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کا پورا خاندان اسلام لانے کی وجہ سے نشانۂ ستم بنا: بنو مخزوم کے کافر پورے خاندان کو مکہ کی دوپہر میں تپتی دھوپ میں کھڑا کر دیتے۔ جب رسول اللہ ﷺ ان کے پاس سے گزرتے اور تکلیف دیکھتے تو فرماتے: "اے آلِ یاسر! صبر کرو، تمہارے لیے جنت کا وعدہ ہے۔" ابو جہل نے انتہائی بے رحمی سے حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا کو نیزہ مار کر شہید کر دیا — وہ اسلام کی پہلی خاتون شہید بنیں؛ بعد میں حضرت یاسر رضی اللہ عنہ بھی اسی ظلم کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے۔
3 حضرت خباب بن الارت رضی اللہ عنہ کی قربانیاں — حضرت خباب رضی اللہ عنہ ایک لوہار تھے اور مکہ کے مظلوم و بے بس صحابہ میں شمار ہوتے تھے: کافر انہیں جلتے ہوئے دہکتے کوئلوں پر لٹا دیتے اور سینے پر پاؤں رکھ دیتے تاکہ وہ ہل نہ سکیں؛ ان کی پیٹھ کی چربی پگھل کر کوئلوں کو بجھا دیتی تھی۔ سالوں بعد بھی ان کی پیٹھ پر گہرے نشانات باقی تھے، جو اس بات کا ثبوت تھے کہ انہوں نے ایمان کی خاطر کتنی سخت اذیت برداشت کی۔
4 حضرت خبیب بن عدی اور حضرت حبیب بن زید رضی اللہ عنہما — حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو جب کافروں نے قید کر کے سولی دینے کا فیصلہ کیا تو سولی پر چڑھانے سے پہلے پوچھا: "کیا تم پسند کرتے ہو کہ تمہاری جگہ محمد (ﷺ) کو سولی دے دی جائے اور تم بچ جاؤ؟" آپ نے جواب دیا: "خدا کی قسم! مجھے تو یہ بھی گوارا نہیں کہ محمد ﷺ کے پاؤں میں ایک کانٹا بھی چبھے اور میں اپنے گھر میں آرام سے بیٹھوں۔" حضرت حبیب رضی اللہ عنہ کا مسیلمہ کذاب نے ایک ایک عضو کاٹ کر پوچھا: "کیا تم محمد ﷺ کو رسول مانتے ہو؟" تو وہ فرماتے: "ہاں"، اور جب مسیلمہ کے بارے میں پوچھا جاتا تو انکار کر دیتے، یہاں تک کہ اسی حال میں ٹکڑے ٹکڑے ہو کر شہید ہو گئے۔
5 حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی مالی قربانی — حضرت مصعب رضی اللہ عنہ مکہ کے سب سے امیر، خوب صورت اور ناز و نعم میں پلنے والے نوجوان تھے: جب ان کی والدہ کو ان کے اسلام کا علم ہوا تو انہیں گھر میں قید کر دیا، جائیداد اور کپڑے چھین لیے اور گھر سے نکال دیا۔ جس نوجوان کے پاس مکہ کے قیمتی ترین لباس اور عطر ہوتے تھے، اسلام لانے کے بعد ان پر سختیوں کا یہ عالم ہوا کہ غزوۂ احد میں شہادت کے وقت ان کے پاس اتنا کپڑا بھی نہیں تھا کہ پورا جسم ڈھانپا جا سکے۔
6 ایمان کی قیمت — صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سچا ایمان حاصل کرنے کے لیے اپنا مال، جان، عزت اور خاندان سب کچھ قربان کر دیا۔
7 صبر و استقامت — حالات چاہے کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں، حق اور سچائی کا راستہ نہیں چھوڑنا چاہیے۔
8 سورۃ العنکبوت کا پیغام — سچی کامیابی اور ہدایت صرف زبانی دعوے سے نہیں، بلکہ آزمائشوں اور مشکلات میں صبر و استقامت دکھانے سے حاصل ہوتی ہے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.