سورۃ العنکبوت کے دوسرے حصے (خاص طور پر آیات 48 تا 51) میں اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید کو برحق ثابت کرنے اور حضرت محمد ﷺ کی نبوت و رسالت کو ماننے کے لیے انتہائی معقول اور ناقابلِ تردید دلائل پیش کیے ہیں۔ مذاکرہ درج ذیل نکات کی روشنی میں کیا جا سکتا ہے:
1
نبی کریم ﷺ کا "امی" (ناخواندہ) ہونا — آیت 48 — قرآنی دلیل — "اور (اے نبی!) آپ اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتے تھے اور نہ اپنے ہاتھ سے اسے لکھتے تھے، اگر ایسا ہوتا تو باطل پرست ضرور شک میں پڑ جاتے۔"
2
نبی کریم ﷺ کا "امی" (ناخواندہ) ہونا — آیت 48 — تاریخی حقیقت — مکہ کے تمام لوگ جانتے تھے کہ نبی کریم ﷺ نے نہ کسی استاد سے پڑھا تھا، نہ آپ لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔
3
نبی کریم ﷺ کا "امی" (ناخواندہ) ہونا — آیت 48 — معجزانہ پہلو — ایک ناخواندہ شخصیت کی زبانِ مبارک سے اتنا فصیح و بلیغ، علمی اور حکمت سے بھرپور کلام (قرآن) جاری ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ ان کا اپنا بنایا ہوا کلام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ کلام ہے۔
4
نبی کریم ﷺ کا "امی" (ناخواندہ) ہونا — آیت 48 — شک کا خاتمہ — اگر آپ ﷺ پہلے سے لکھنا پڑھنا جانتے ہوتے تو کافروں کو بہانہ مل جاتا کہ آپ نے پرانی کتابوں سے نقل کیا ہے؛ لیکن اللہ نے ان کے اس شک کا باب پہلے ہی بند کر دیا۔
5
اہلِ علم کے سینوں میں محفوظ ہونا — آیت 49 — قرآنی دلیل — "بلکہ یہ (قرآن) تو روشن آیات ہیں ان لوگوں کے سینوں میں جنہیں علم دیا گیا ہے۔"
6
اہلِ علم کے سینوں میں محفوظ ہونا — آیت 49 — حفظِ قرآن کا معجزہ — دنیا کی دیگر کتابوں کے برعکس قرآنِ مجید کا سب سے بڑا معجزہ یہ ہے کہ یہ صرف کاغذوں پر نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں کے سینوں (دلوں) میں محفوظ ہے۔
7
اہلِ علم کے سینوں میں محفوظ ہونا — آیت 49 — حق کی پہچان — جو لوگ منصف مزاج اور صاحبِ علم ہیں، وہ قرآن کی فصاحت، بلاغت اور سچائی کو فوراً پہچان لیتے ہیں۔
8
قرآنِ مجید کا خود ایک دائمی معجزہ ہونا — آیات 50 تا 51 — قرآنی دلیل — "اور انہوں نے کہا: ان پر ان کے رب کی طرف سے نشانیاں (معجزے) کیوں نہیں اتاری گئیں؟ آپ کہہ دیجیے کہ نشانیاں تو صرف اللہ کے پاس ہیں … کیا ان کے لیے یہ کافی نہیں کہ ہم نے آپ پر کتاب نازل کی جو ان پر پڑھ کر سنائی جاتی ہے؟"
9
قرآنِ مجید کا خود ایک دائمی معجزہ ہونا — آیات 50 تا 51 — حسی معجزات بمقابلہ عقلی معجزہ — پچھلی قوموں کو جو معجزات دیے گئے (جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مردوں کو زندہ کرنا) وہ عارضی تھے اور اسی وقت ختم ہو گئے۔
10
قرآنِ مجید کا خود ایک دائمی معجزہ ہونا — آیات 50 تا 51 — دائمی نشانی — کفارِ مکہ نبی کریم ﷺ سے عجیب و غریب حسی معجزات کا مطالبہ کرتے تھے، جس پر اللہ نے فرمایا کہ قرآنِ مجید خود اتنا بڑا اور زندہ معجزہ ہے جو قیامت تک قائم رہے گا؛ اس کے ہوتے ہوئے کسی اور معجزے کی ضرورت ہی نہیں۔
11
قرآنِ مجید کا خود ایک دائمی معجزہ ہونا — آیات 50 تا 51 — رحمت اور نصیحت — اس کتاب میں لوگوں کے لیے ہدایت، رحمت اور نصیحت کا کامل سامان موجود ہے۔