نویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 13: سبق 13: سورۃ العنکبوت (حصہ اول) — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں برائے طلبہ · 15 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

أَمۡ حَسِبَ ٱلَّذِينَ يَعۡمَلُونَ ٱلسَّيِّـَٔاتِ أَن يَسۡبِقُونَاۚ سَآءَ مَا يَحۡكُمُونَ (سورۃ العنکبوت ۔ آیت 4)

«اَمْ حَسِبَ الَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ السَّيِّاٰتِ اَنْ يَّسْبِقُوْنَا» — آیتِ کریمہ میں برے اعمال کرنے والوں کے کس خیال کا ذکر ہے؟

ترجمہ

کیا وہ لوگ جو برائیاں کرتے ہیں یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ وہ ہم سے آگے نکل جائیں گے؟ بہت برا ہے جو فیصلہ وہ کر رہے ہیں۔

اس آیتِ کریمہ میں گناہ اور برے اعمال کرنے والوں کے اس خام خیال اور غلط فہمی کا ذکر ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے قابو سے نکل جائیں گے اور اس کی پکڑ سے بچ نکلیں گے۔

اہم نکات

1 غلط فہمی — گنہگار اور نافرمان لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ شاید اللہ تعالیٰ انھیں سزا نہ دے سکے گا یا وہ اس کی گرفت سے بچ کر نکل جائیں گے۔
2 اللہ کا جواب — اللہ تعالیٰ نے ان کے اس گمان کو نہایت برا فیصلہ قرار دیا، کیونکہ کوئی مخلوق اللہ کی قدرت اور اس کے عدل سے بھاگ نہیں سکتی۔
2 مختصر جوابات

وَمَن جَٰهَدَ فَإِنَّمَا يُجَٰهِدُ لِنَفۡسِهِۦٓۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنِ ٱلۡعَٰلَمِينَ (سورۃ العنکبوت ۔ آیت 6)

«وَمَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖ» — آیتِ کریمہ میں کس بات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے؟

ترجمہ

اور جو شخص جدوجہد کرتا ہے، وہ اپنے ہی نفع کے لیے جدوجہد کرتا ہے۔ بے شک اللہ تمام جہانوں سے بے نیاز ہے۔

اس آیتِ کریمہ میں اس بات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ انسان کی تمام محنت، کوشش اور دین کی خاطر جدوجہد کا فائدہ خود اسی کی ذات کو پہنچتا ہے؛ اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی حاجت نہیں۔

اہم نکات

1 ذاتی فائدہ — انسان ایمان، اطاعت اور نیک اعمال کے لیے جتنی مشقت اٹھاتا ہے، اس کا اجر اور دنیا و آخرت کی کامیابی خود اسی کو ملتی ہے۔
2 اللہ کی بے نیازی (غنا) — اگر سب لوگ اطاعت کریں تو اللہ کی بادشاہی میں اضافہ نہیں ہوتا اور اگر سب نافرمانی کریں تو اس کی شان میں کمی نہیں آتی۔
3 عملی سبق — بندہ نیکی کر کے اللہ پر کوئی احسان نہیں کرتا، بلکہ اپنا ہی بھلا کرتا ہے۔
3 مختصر جوابات

وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّبِعُواْ سَبِيلَنَا وَلۡنَحۡمِلۡ خَطَٰيَٰكُمۡ وَمَا هُم بِحَٰمِلِينَ مِنۡ خَطَٰيَٰهُم مِّن شَيۡءٍۖ إِنَّهُمۡ لَكَٰذِبُونَ ۝ وَلَيَحۡمِلُنَّ أَثۡقَالَهُمۡ وَأَثۡقَالٗا مَّعَ أَثۡقَالِهِمۡۖ وَلَيُسۡـَٔلُنَّ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ عَمَّا كَانُواْ يَفۡتَرُونَ (سورۃ العنکبوت ۔ آیات 12، 13)

«وَمَا هُمْ بِحَامِلِيْنَ … اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ» — دوسروں کے گناہوں کا بوجھ اٹھانے کے حوالے سے کفار کے دعوے کا کیا جواب دیا گیا ہے؟

ترجمہ

اور یہ لوگ ان کے گناہوں میں سے کچھ بھی اٹھانے والے نہیں، بے شک یہ جھوٹے ہیں۔ اور یہ ضرور اپنے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ کچھ اور بوجھ بھی، اور قیامت کے دن ان سے ان بہتانوں کے بارے میں ضرور پوچھا جائے گا جو وہ گھڑتے تھے۔

کفار اہلِ ایمان سے کہتے تھے کہ تم ہمارے راستے پر چلو، تمھارے گناہوں کا بوجھ ہم اپنے اوپر لے لیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس دعوے کو سراسر جھوٹ قرار دیا۔

دعوے کا جواب

1 دعویٰ جھوٹا ہے — وہ اہلِ ایمان کے گناہوں میں سے ذرا برابر بوجھ بھی اٹھانے والے نہیں، وہ بالکل جھوٹے ہیں۔
2 ہر شخص اپنے عمل کا ذمہ دار ہے — قیامت کے دن کوئی کسی دوسرے کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔
3 دوہرا بوجھ — وہ اپنے گناہوں کا بوجھ بھی اٹھائیں گے اور ان لوگوں کو گمراہ کرنے کا بوجھ بھی جنھیں انھوں نے غلط راستے پر ڈالا۔
4 بازپرس — قیامت کے دن ان سے ان گھڑی ہوئی باتوں کے بارے میں ضرور پوچھ گچھ ہو گی۔
4 مختصر جوابات

إِنَّمَا تَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ أَوۡثَٰنٗا وَتَخۡلُقُونَ إِفۡكًاۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ تَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ لَا يَمۡلِكُونَ لَكُمۡ رِزۡقٗا فَٱبۡتَغُواْ عِندَ ٱللَّهِ ٱلرِّزۡقَ وَٱعۡبُدُوهُ وَٱشۡكُرُواْ لَهُۥٓۖ إِلَيۡهِ تُرۡجَعُونَ (سورۃ العنکبوت ۔ آیت 17)

«اِنَّ الَّذِيْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا يَمْلِكُوْنَ لَكُمْ رِزْقًا» — آیتِ کریمہ میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے بتوں کی کس بے بسی کا ذکر فرمایا ہے؟

ترجمہ

بے شک تم اللہ کے سوا جن کی عبادت کرتے ہو، وہ تمھارے لیے رزق کا کچھ اختیار نہیں رکھتے؛ پس تم اللہ ہی کے پاس رزق تلاش کرو اور اسی کی عبادت کرو اور اسی کا شکر ادا کرو، تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔

سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے بتوں کی اس بے بسی کا ذکر فرمایا کہ وہ انسانوں کو رزق دینے کا کوئی اختیار اور ملکیت نہیں رکھتے۔ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا کہ جن بتوں کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو، وہ تمھیں معمولی سا رزق بھی نہیں دے سکتے، کیونکہ رزق کے تمام خزانے صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں۔

اہم اسباق

1 بتوں کی بے بسی — باطل معبود اپنے پجاریوں کو نہ خوراک دے سکتے ہیں، نہ روزی کا کوئی ذریعہ بنا سکتے ہیں۔
2 رزق کا حقیقی مالک — رزق صرف اللہ تعالیٰ سے مانگنا چاہیے، وہی حقیقی رازق ہے۔
3 توحیدِ عبادت — جب رزق دینے والا صرف اللہ ہے تو عبادت اور شکر گزاری بھی صرف اسی کی ہونی چاہیے۔
5 مختصر جوابات

وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَلِقَآئِهِۦٓ أُوْلَـٰٓئِكَ يَئِسُواْ مِن رَّحۡمَتِي وَأُوْلَـٰٓئِكَ لَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ (سورۃ العنکبوت ۔ آیت 23)

«وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا … مِنْ رَّحْمَتِيْ» — آیتِ کریمہ کے مطابق اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کون لوگ مایوس ہوں گے؟

ترجمہ

اور جن لوگوں نے اللہ کی آیات اور اس کی ملاقات کا انکار کیا، وہی لوگ میری رحمت سے مایوس ہوئے اور انھی کے لیے دردناک عذاب ہے۔

آیتِ کریمہ کے مطابق دو قسم کے لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہوں گے:

اہم نکات

1 وہ لوگ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات (احکامات و نشانیوں) کا انکار کیا۔
2 وہ لوگ جنھوں نے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے حضور پیشی اور ملاقات کا انکار کیا۔
3 محرومی کا سبب — اللہ کی نازل کردہ آیات اور آخرت کی جوابدہی کا انکار انسان کو اللہ کی رحمت و مغفرت سے محروم کر دیتا ہے۔
4 دردناک انجام — ایسے لوگوں کے لیے صرف رحمت سے محرومی نہیں، بلکہ سخت اور دردناک عذاب بھی تیار ہے۔

تفصیلی جوابات

6 تفصیلی جوابات

وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنۡهُمۡ سَيِّـَٔاتِهِمۡ وَلَنَجۡزِيَنَّهُمۡ أَحۡسَنَ ٱلَّذِي كَانُواْ يَعۡمَلُونَ ۝ وَوَصَّيۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ بِوَٰلِدَيۡهِ حُسۡنٗاۖ وَإِن جَٰهَدَاكَ لِتُشۡرِكَ بِي مَا لَيۡسَ لَكَ بِهِۦ عِلۡمٞ فَلَا تُطِعۡهُمَآۚ إِلَيَّ مَرۡجِعُكُمۡ فَأُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ ۝ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ لَنُدۡخِلَنَّهُمۡ فِي ٱلصَّـٰلِحِينَ (سورۃ العنکبوت ۔ آیات 7 تا 9)

«وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا … كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» — آیاتِ کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت تحریر کریں۔

ترجمہ

اور جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے، ہم ان سے ان کی برائیاں ضرور دور کر دیں گے اور ہم انھیں ان کے بہترین اعمال کا بدلہ ضرور عطا کریں گے۔ (آیت 7) اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کی تاکید کی، اور اگر وہ دونوں تجھ پر زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک ٹھہرائے جس کا تجھے علم نہیں تو ان کی اطاعت نہ کر۔ تم سب کو میری ہی طرف لوٹنا ہے، پھر میں تمھیں بتاؤں گا جو کچھ تم کرتے تھے۔ (آیت 8) اور جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے، ہم انھیں ضرور صالحین میں داخل کریں گے۔ (آیت 9)

ان آیاتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کے اجر، والدین کے حقوق کی حدود اور آخرت میں صالحین کی رفاقت کا ذکر فرمایا ہے۔

1 ایمان اور عملِ صالح کا اجر (آیت 7) — گناہوں کی معافی — سچے ایمان اور نیک اعمال (توبہ، نماز، صدقہ وغیرہ) کی برکت سے اللہ تعالیٰ بندے کی ماضی کی برائیوں کو مٹا دیتا ہے۔
2 ایمان اور عملِ صالح کا اجر (آیت 7) — بہترین بدلہ — اللہ تعالیٰ بندے کے معمولی عمل کو بھی شرفِ قبولیت بخش کر اس کا بہترین اور بڑھ چڑھ کر اجر عطا فرماتا ہے۔
3 والدین سے حسنِ سلوک اور اس کی حدود (آیت 8) — شانِ نزول: یہ آیت حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے واقعے میں نازل ہوئی۔ جب انھوں نے اسلام قبول کیا تو ان کی والدہ نے قسم کھا لی کہ جب تک سعد اسلام سے دستبردار نہیں ہوتے، وہ نہ کچھ کھائیں گی نہ پئیں گی۔
4 والدین سے حسنِ سلوک اور اس کی حدود (آیت 8) — حسنِ سلوک کی تاکید — اسلام میں توحید کے بعد سب سے زیادہ تاکید والدین کے ساتھ اچھے برتاؤ اور خدمت کی کی گئی ہے۔
5 والدین سے حسنِ سلوک اور اس کی حدود (آیت 8) — شرک و معصیت میں اطاعت نہیں — اگر والدین کفر، شرک یا نافرمانی کا حکم دیں تو اس معاملے میں ان کی بات نہیں مانی جائے گی، کیونکہ خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔
6 والدین سے حسنِ سلوک اور اس کی حدود (آیت 8) — ادب کا دامن نہ چھوٹے — بات نہ ماننے کا مطلب بدتمیزی نہیں؛ دین کے معاملے میں پختہ رہتے ہوئے بھی دنیاوی معاملات میں ان کے ساتھ حسنِ اخلاق برقرار رکھنا لازم ہے۔
7 صالحین کی رفاقت (آیت 9) — انسان دنیا میں جن نیک لوگوں اور انبیاء و صدیقین کے نقشِ قدم پر چلتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے انھی صالحین کے زمرے میں شامل فرمائے گا۔
8 صالحین کی رفاقت (آیت 9) — وہ اس بات کا اہل ہو جائے گا کہ جنت میں انبیاء، شہداء اور صالحین کی مبارک صحبت حاصل کرے۔
7 تفصیلی جوابات

سورۃ العنکبوت کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔

جواب نوٹ: اس سوال کا جواب کتاب کے صفحہ نمبر 92 پر موجود ہے۔
8 تفصیلی جوابات

وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَقُولُ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ فَإِذَآ أُوذِيَ فِي ٱللَّهِ جَعَلَ فِتۡنَةَ ٱلنَّاسِ كَعَذَابِ ٱللَّهِۖ وَلَئِن جَآءَ نَصۡرٞ مِّن رَّبِّكَ لَيَقُولُنَّ إِنَّا كُنَّا مَعَكُمۡۚ أَوَلَيۡسَ ٱللَّهُ بِأَعۡلَمَ بِمَا فِي صُدُورِ ٱلۡعَٰلَمِينَ (سورۃ العنکبوت ۔ آیت 10)

«وَمِنَ النَّاسِ مَنْ … فِى الصُّدُوْرِ الْعٰلَمِيْنَ» — آیتِ کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت تحریر کریں۔

ترجمہ

اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر ایمان لائے، پھر جب انھیں اللہ کے راستے میں کوئی تکلیف پہنچائی جاتی ہے تو وہ لوگوں کی طرف سے آنے والی آزمائش کو اللہ کے عذاب کی مانند سمجھ لیتے ہیں۔ اور اگر تیرے رب کی طرف سے کوئی مدد آ جائے تو ضرور کہتے ہیں کہ ہم تو تمھارے ہی ساتھ تھے۔ کیا اللہ تمام جہان والوں کے سینوں کے بھید سے خوب واقف نہیں؟

اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کے محض زبانی دعوے داروں اور منافقانہ ذہنیت رکھنے والوں کے رویے کو بے نقاب فرمایا ہے۔

1 آزمائش کے وقت کمزوری — سطحی ایمان — کچھ لوگ زبان سے اسلام کا اقرار کر لیتے ہیں، لیکن ان کے دلوں میں ایمان کی جڑیں مضبوط نہیں ہوتیں۔
2 آزمائش کے وقت کمزوری — لوگوں کی تکلیف کو عذاب سمجھنا — جب دین کی راہ میں (جیسے مکہ کے ابتدائی دور میں) کفار کی طرف سے کوئی سختی یا مالی و جانی نقصان پہنچتا ہے تو وہ ڈر کر دین سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں، گویا وہ اللہ کے عذاب سے ڈر رہے ہوں۔
3 کامیابی کے وقت فائدہ سمیٹنا — موقع پرستی — یہی لوگ جب دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کو اللہ کی مدد اور فتح حاصل ہو گئی ہے تو فوراً آ کر دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم تو دل سے تمھارے ہی ساتھ تھے، لہٰذا ہمیں بھی شریک کرو۔
4 دلوں کے بھید اور اللہ کا علم — آیت کے آخری حصے میں اللہ تعالیٰ نے ان کی چالاکی کا جواب دیا کہ بندہ زبان سے کچھ بھی کہے، اللہ سے اپنے دل کا بھید نہیں چھپا سکتا۔
5 دلوں کے بھید اور اللہ کا علم — اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے کہ کس کے دل میں سچا ایمان ہے اور کس کے دل میں نفاق پوشیدہ ہے۔
جواب خلاصہ: سچا مومن وہ ہے جو راحت اور مصیبت دونوں حالتوں میں ثابت قدم رہے، جبکہ منافق صرف فائدے کے وقت ساتھ رہتا ہے اور آزمائش آتے ہی دین سے منہ موڑ لیتا ہے۔
9 تفصیلی جوابات

سورۃ العنکبوت کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔

جواب نوٹ: اس سوال کا جواب کتاب کے صفحہ نمبر 92 پر موجود ہے۔
10 تفصیلی جوابات

وَقَالَ إِنَّمَا ٱتَّخَذۡتُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ أَوۡثَٰنٗا مَّوَدَّةَ بَيۡنِكُمۡ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَاۖ ثُمَّ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ يَكۡفُرُ بَعۡضُكُم بِبَعۡضٖ وَيَلۡعَنُ بَعۡضُكُم بَعۡضٗا وَمَأۡوَىٰكُمُ ٱلنَّارُ وَمَا لَكُم مِّن نَّـٰصِرِينَ (سورۃ العنکبوت ۔ آیت 25)

«اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ … وَمَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ» — آیتِ کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت تحریر کریں۔

ترجمہ

اور ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: تم نے اللہ کے سوا بتوں کو صرف دنیوی زندگی میں باہمی محبت کا ذریعہ بنا رکھا ہے، پھر قیامت کے دن تم میں سے ایک دوسرے کا انکار کرے گا اور ایک دوسرے پر لعنت بھیجے گا، اور تمھارا ٹھکانا آگ ہے اور تمھارا کوئی مددگار نہ ہو گا۔

اس آیتِ مبارکہ میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کے سامنے ان کے باطل معبودوں اور بت پرستی کا عبرت ناک انجام پیش فرمایا ہے۔

1 بت پرستی کا دنیوی پس منظر — برادری اور خاندانی تعلق — قومِ ابراہیم میں بت پرستی محض ایک عقیدہ نہ تھی، بلکہ ان کا قومی و خاندانی روایتی نظام تھی؛ بتوں کے میلوں اور تہواروں پر اکٹھے ہونے سے ان کی باہمی دوستی قائم ہوتی تھی۔
2 بت پرستی کا دنیوی پس منظر — دنیوی مفاد — ان کے معبودوں کی بنیاد کسی عقلی یا الہامی دلیل پر نہیں، صرف دنیوی تعلقات اور روایات پر تھی۔
3 قیامت کے دن کا انجام — دوستی دشمنی میں بدل جائے گی — جن لوگوں اور معبودوں کے ساتھ شرک کی بنیاد پر محبتیں قائم کی گئی تھیں، قیامت کے دن وہ سب ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے۔
4 قیامت کے دن کا انجام — ایک دوسرے سے بیزاری — پجاری اپنے پیشواؤں اور بتوں کو قصوروار ٹھہرائیں گے، اور پیشوا اپنے پیروکاروں سے صاف مکر جائیں گے۔
5 قیامت کے دن کا انجام — لعنت بھیجنا — دونوں فریق غصے اور حسرت میں ایک دوسرے پر لعنت کریں گے کہ تمھاری وجہ سے ہم اس بربادی تک پہنچے۔
6 جہنم کا ٹھکانا اور مددگاروں کی غیر موجودگی — بے بسی — دنیا میں مشرکین سمجھتے تھے کہ ان کے معبود یا برادری کے لوگ قیامت میں ان کی سفارش کریں گے یا انھیں بچا لیں گے۔
7 جہنم کا ٹھکانا اور مددگاروں کی غیر موجودگی — حقیقت — اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ ان سب کا ٹھکانا آتشِ جہنم ہے اور وہاں ان کی مدد کرنے والا کوئی نہ ہو گا۔
جواب خلاصہ: باطل کی بنیاد پر قائم ہونے والے تمام رشتے اور دوستیاں قیامت کے دن شدید دشمنی اور حسرت کا سبب بنیں گی، جبکہ صرف توحید و تقویٰ پر مبنی تعلقات ہی آخرت میں قائم رہیں گے۔
11 تفصیلی جوابات

أَئِنَّكُمۡ لَتَأۡتُونَ ٱلرِّجَالَ وَتَقۡطَعُونَ ٱلسَّبِيلَ وَتَأۡتُونَ فِي نَادِيكُمُ ٱلۡمُنكَرَۖ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوۡمِهِۦٓ إِلَّآ أَن قَالُواْ ٱئۡتِنَا بِعَذَابِ ٱللَّهِ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّـٰدِقِينَ (سورۃ العنکبوت ۔ آیت 29)

«اَىِٕنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ … اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ» — آیتِ کریمہ کے مطابق سیدنا لوط علیہ السلام نے اپنی قوم سے ان کی برائیوں کے متعلق کیا سوالات پوچھے اور قوم کا کیا جواب تھا؟

یہ آیتِ مبارکہ سیدنا لوط علیہ السلام اور ان کی سرکش قوم کے درمیان مکالمے اور اس قوم کی اخلاقی پستی کا نقشہ کھینچتی ہے۔

سیدنا لوط علیہ السلام کے سوالات اور قوم کا جواب

1 سیدنا لوط علیہ السلام کے سوالات — آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کو ان کی قبیح حرکات پر تنبیہ کرنے کے لیے سوالیہ انداز میں تین اعتراضات فرمائے:
2 سیدنا لوط علیہ السلام کے سوالات — بے حیائی — کیا تم شہوت رانی کے لیے عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس جاتے ہو؟ (یہ ایک انتہائی غیر فطری اور بے حیا عمل تھا۔)
3 سیدنا لوط علیہ السلام کے سوالات — راہ زنی — اور کیا تم راستے کاٹتے ہو؟ (وہ مسافروں کا مال لوٹتے اور ان کے ساتھ بدفعلی کرتے تھے۔)
4 سیدنا لوط علیہ السلام کے سوالات — مجالس میں کھلی برائی — اور کیا تم اپنی محفلوں میں کھلے عام برے کام کرتے ہو؟ (انھیں برائی کرتے ہوئے نہ اللہ کا خوف تھا نہ بندوں کی شرم۔)
5 قوم کا جواب — ان نصیحتوں اور تنبیہ کے جواب میں قوم نے شرمندگی یا توبہ کے بجائے تکبر اور مذاق کا رویہ اپنایا اور کہا:
6 قوم کا جواب — اگر تم سچے ہو تو ہم پر اللہ کا عذاب لے آؤ!
جواب خلاصہ: قومِ لوط بدکاری، راہ زنی اور کھلے عام بے حیائی جیسی ہولناک برائیوں میں مبتلا تھی، اور جب سیدنا لوط علیہ السلام نے انھیں روکا تو انھوں نے ماننے کے بجائے سرکشی دکھاتے ہوئے اللہ کے عذاب کا مطالبہ کر دیا۔

سرگرمیاں برائے طلبہ

12 سرگرمیاں برائے طلبہ

سورۃ العنکبوت میں قرآنِ مجید کی حقانیت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے حوالے سے دیے گئے دلائل تلاش کر کے تحریر کریں۔

سورۃ العنکبوت میں اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید کے من جانب اللہ ہونے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو ثابت کرنے کے لیے واضح اور عقلی دلائل عطا فرمائے ہیں۔

1 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا امی ہونا — وَمَا كُنتَ تَتۡلُواْ مِن قَبۡلِهِۦ مِن كِتَٰبٖ وَلَا تَخُطُّهُۥ بِيَمِينِكَۖ إِذٗا لَّٱرۡتَابَ ٱلۡمُبۡطِلُونَاور آپ اس سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھتے تھے اور نہ اپنے ہاتھ سے کچھ لکھتے تھے، ورنہ باطل والے ضرور شک کرتے۔ (آیت 48)
2 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا امی ہونا — دلیل کی وضاحت: اہلِ مکہ جانتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے لکھنا پڑھنا نہیں سیکھا۔ ایسی ذات کی زبان سے اتنا فصیح اور علمی کلام جاری ہونا اس بات کا صریح ثبوت ہے کہ یہ آپ کا اپنا کلام نہیں بلکہ وحیِ الٰہی ہے۔
3 اہلِ علم کے سینوں میں محفوظ ہونا — بَلۡ هُوَ ءَايَٰتُۢ بَيِّنَٰتٞ فِي صُدُورِ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡعِلۡمَۚ وَمَا يَجۡحَدُ بِـَٔايَٰتِنَآ إِلَّا ٱلظَّـٰلِمُونَبلکہ یہ روشن آیتیں ہیں ان لوگوں کے سینوں میں جنھیں علم دیا گیا۔ (آیت 49)
4 اہلِ علم کے سینوں میں محفوظ ہونا — دلیل کی وضاحت: قرآن کا حفاظ کے سینوں میں اس طرح محفوظ ہو جانا کہ اس کا ایک حرف بھی تبدیل نہ ہو، اس کے کلامِ الٰہی ہونے کی زندہ دلیل ہے۔
5 قرآن کا بذاتِ خود ایک عظیم معجزہ ہونا — وَقَالُواْ لَوۡلَآ أُنزِلَ عَلَيۡهِ ءَايَٰتٞ مِّن رَّبِّهِۦۚ قُلۡ إِنَّمَا ٱلۡأٓيَٰتُ عِندَ ٱللَّهِ وَإِنَّمَآ أَنَا۠ نَذِيرٞ مُّبِينٌ ۝ أَوَلَمۡ يَكۡفِهِمۡ أَنَّآ أَنزَلۡنَا عَلَيۡكَ ٱلۡكِتَٰبَ يُتۡلَىٰ عَلَيۡهِمۡۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَرَحۡمَةٗ وَذِكۡرَىٰ لِقَوۡمٖ يُؤۡمِنُونَاور انھوں نے کہا: ان پر ان کے رب کی طرف سے نشانیاں کیوں نہ اتاری گئیں؟ فرما دیجیے: نشانیاں تو اللہ ہی کے پاس ہیں اور میں تو صرف کھلا ڈرانے والا ہوں۔ کیا انھیں یہ کافی نہیں کہ ہم نے آپ پر کتاب اتاری جو ان پر پڑھی جاتی ہے؟ (آیات 50، 51)
6 قرآن کا بذاتِ خود ایک عظیم معجزہ ہونا — دلیل کی وضاحت: سابقہ انبیاء کے معجزات عارضی تھے، جبکہ قرآن ایک دائمی اور زندہ معجزہ ہے؛ رسالت کی سچائی کے لیے تنہا یہی کافی ہے۔
7 قرآن کا سرچشمۂ رحمت و نصیحت ہونا — اسی آیت کے آخر میں فرمایا گیا کہ بے شک اس کتاب میں ایمان لانے والوں کے لیے رحمت اور نصیحت ہے۔ (آیت 51) جو لوگ تعصب کی عینک اتار کر قرآن سنتے اور سمجھتے ہیں، ان کی زندگیوں میں انقلاب آ جاتا ہے؛ ایک کتاب کا انسانوں کے اخلاق اور روح کو بدل دینا اس کے حق ہونے کی کھلی دلیل ہے۔
8 اللہ تعالیٰ کی گواہی — قُلۡ كَفَىٰ بِٱللَّهِ بَيۡنِي وَبَيۡنَكُمۡ شَهِيدٗاۖ يَعۡلَمُ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۗ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ بِٱلۡبَٰطِلِ وَكَفَرُواْ بِٱللَّهِ أُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡخَٰسِرُونَفرما دیجیے: میرے اور تمھارے درمیان اللہ کا گواہ ہونا کافی ہے، وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ (آیت 52)
9 اللہ تعالیٰ کی گواہی — دلیل کی وضاحت: اللہ تعالیٰ کی گواہی سے بڑھ کر کوئی گواہی نہیں؛ جو ذات کائنات کی ہر شے سے واقف ہے، اسی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا سچا رسول بنا کر بھیجا۔
10 خلاصہ — آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا امی ہونا ثابت کرتا ہے کہ قرآن آپ کی اپنی تصنیف نہیں۔
11 خلاصہ — قرآن کا مسلسل محفوظ رہنا اور بذاتِ خود ایک کامل معجزہ ہونا اس کی حقانیت کی دلیل ہے۔
12 خلاصہ — ہدایت کے لیے کسی اور نشانی کے بجائے تنہا قرآن کا وجود ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی رسالت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔
13 سرگرمیاں برائے طلبہ

وَوَصَّيۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ بِوَٰلِدَيۡهِ حُسۡنٗاۖ وَإِن جَٰهَدَاكَ لِتُشۡرِكَ بِي مَا لَيۡسَ لَكَ بِهِۦ عِلۡمٞ فَلَا تُطِعۡهُمَآۚ إِلَيَّ مَرۡجِعُكُمۡ فَأُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ (سورۃ العنکبوت ۔ آیت 8)

سورۃ العنکبوت میں اللہ تعالیٰ نے والدین سے حسنِ سلوک کے متعلق جو ہدایت فرمائی ہے، اس کی وضاحت معلوم کریں۔

ترجمہ

اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیا، اور اگر وہ دونوں تجھ پر زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی ایسے کو شریک ٹھہرائے جس کا تجھے کوئی علم نہیں تو ان کا کہا نہ مان۔ تم سب کو میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے، پھر میں تمھیں بتاؤں گا جو کچھ تم کرتے تھے۔

1 حسنِ سلوک کا عام اور مطلق حکم — اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید کے ذکر کے ساتھ ہی والدین سے نیکی، احترام اور حسنِ سلوک کی سخت تاکید فرمائی ہے۔
2 حسنِ سلوک کا عام اور مطلق حکم — والدین کا رشتہ ان دنیوی تعلقات میں سب سے مقدم ہے جن کی خدمت اور ادب ہر حال میں واجب ہے۔
3 اطاعتِ والدین کی حدود — اگر والدین شرک یا کسی گناہ پر مجبور کریں تو اس خاص معاملے میں ان کی بات نہیں مانی جائے گی۔
4 اطاعتِ والدین کی حدود — شریعت کا بنیادی اصول ہے کہ خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں کی جا سکتی۔
5 نافرمانی کے باوجود حسنِ سلوک قائم رکھنا — صرف والدین کے غلط حکم کو تسلیم نہ کرنا مقصود ہے؛ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ان سے بدتمیزی کی جائے یا ان کا احترام چھوڑ دیا جائے۔
6 نافرمانی کے باوجود حسنِ سلوک قائم رکھنا — دیگر تمام جائز امور میں ان کی خدمت، دیکھ بھال اور ادب و احترام بدستور واجب رہے گا۔
7 آخرت کی جوابدہی کی یاد دہانی — آیت کے آخر میں فرمایا گیا کہ تم سب کو میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے؛ یعنی ہر شخص کو والدین کا حق ادا کرنے اور ایمان پر قائم رہنے کا پورا بدلہ دیا جائے گا۔
جواب خلاصہ: والدین کا احترام اور خدمت ہر حال میں لازم ہے، مگر عقیدہ و ایمان والدین کی اطاعت پر مقدم ہے؛ اگر وہ شرک یا گناہ کا حکم دیں تو اس معاملے میں ان کی بات رد کر دی جائے گی، تاہم ادب و احترام کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا جائے گا۔
14 سرگرمیاں برائے طلبہ

أَحَسِبَ ٱلنَّاسُ أَن يُتۡرَكُوٓاْ أَن يَقُولُوٓاْ ءَامَنَّا وَهُمۡ لَا يُفۡتَنُونَ ۝ وَلَقَدۡ فَتَنَّا ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡۖ فَلَيَعۡلَمَنَّ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ صَدَقُواْ وَلَيَعۡلَمَنَّ ٱلۡكَٰذِبِينَ (سورۃ العنکبوت ۔ آیات 2، 3)

سورۃ العنکبوت کی روشنی میں طلبہ کو بتائیں کہ اہلِ ایمان کے لیے آزمائش شرط ہے؛ چند مثالوں کے ذریعے اس حقیقت کو سمجھائیں۔

ترجمہ

کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ وہ صرف اتنی بات کہنے پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے، اور ان کی آزمائش نہ کی جائے گی؟ اور بے شک ہم نے ان لوگوں کو بھی آزمایا جو ان سے پہلے تھے، پس اللہ ضرور ان لوگوں کو ظاہر کر دے گا جو سچے ہیں اور جھوٹوں کو بھی ضرور ظاہر کر دے گا۔

سورۃ العنکبوت کا آغاز ہی اس حقیقت سے ہوتا ہے کہ ایمان کے دعوے کے بعد آزمائش کا آنا ایک لازمی سنتِ الٰہی ہے۔ صرف زبان سے «ہم ایمان لائے» کہہ دینا کافی نہیں، بلکہ حالات کے ذریعے سچے اور جھوٹے کا فرق ظاہر کیا جاتا ہے۔

آزمائش کی حکمت اور مقصد اور طلبہ کے لیے چند روزمرہ مثالیں

1 آزمائش کی حکمت اور مقصد — سچے اور جھوٹے کا فرق — جیسے سنار سونے کو آگ میں تپا کر کھوٹ الگ کرتا ہے، اسی طرح آزمائشیں ایمان کو نکھارتی ہیں اور دعوے کی سچائی ظاہر کرتی ہیں۔
2 آزمائش کی حکمت اور مقصد — درجات کی بلندی — آزمائش پر صبر کرنے سے گناہ معاف ہوتے ہیں اور اللہ کے ہاں بندے کے درجات بلند ہوتے ہیں۔
3 طلبہ کے لیے چند روزمرہ مثالیں — مثال 1: امتحان — کوئی طالب علم صرف یہ کہہ کر اگلی کلاس میں نہیں جا سکتا کہ میں نے سارا سال پڑھائی کی ہے؛ دعوے کو ثابت کرنے کے لیے امتحان لیا جاتا ہے۔ اسی طرح دنیا کی زندگی ایک امتحان گاہ ہے اور اللہ تعالیٰ مختلف حالات کے ذریعے ایمان کا امتحان لیتا ہے۔
4 طلبہ کے لیے چند روزمرہ مثالیں — مثال 2: سونے کی پرکھ — کچا سونا جب تک بھٹی سے نہ گزرے، چمکدار اور قیمتی زیور نہیں بن سکتا۔ آزمائشیں بھی بھٹی کی طرح انسان کے کردار اور ایمان کا کھوٹ ختم کر کے اسے خالص بناتی ہیں۔
5 طلبہ کے لیے چند روزمرہ مثالیں — مثال 3: ڈرائیونگ ٹیسٹ — اچھا ڈرائیور ہونے کا دعویٰ سڑک پر ٹیسٹ دے کر ثابت کرنا پڑتا ہے۔ ایمان بھی محض زبانی دعویٰ نہیں؛ سچے مومن کی پہچان تب ہوتی ہے جب سچ بولنے پر نقصان ہو رہا ہو اور وہ پھر بھی سچ بولے۔
6 طلبہ کے لیے چند روزمرہ مثالیں — مثال 4: ٹیم کا انتخاب — کسی کھلاڑی کو محض دعوے پر ٹیم میں شامل نہیں کیا جاتا؛ کوچ اس کا ٹرائل لیتا ہے۔ اسی طرح جن لوگوں نے انبیاء کا ساتھ دیا، ان پر سخت حالات آئے مگر وہ ایمان پر قائم رہے اور اللہ کی قربت کے مستحق ٹھہرے۔
جواب خلاصہ: طلبہ کو یہ بات ذہن نشین کرنی چاہیے کہ مشکلات کا آنا اس بات کی دلیل نہیں کہ اللہ ناراض ہے، بلکہ یہ ایمان کی پختگی اور تربیت کا لازمی مرحلہ ہے۔ آزمائش کے وقت گھبرانے کے بجائے صبر، استقامت اور توکل ہی سچے مومن کا شیوہ ہے۔
15 سرگرمیاں برائے طلبہ

سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی حیاتِ مبارکہ قربانیوں سے بھری ہوئی ہے؛ اس حوالے سے طلبہ کو آپ علیہ السلام کے واقعات سنائیں۔

سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو «خلیل اللہ» اور «ابو الانبیاء» کا مقام حاصل ہے۔ آپ کی پوری زندگی اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے قربانیوں سے عبارت ہے۔ طلبہ کو سنانے کے لیے چند اہم واقعات درج ذیل ہیں:

1 والد اور قوم کی مخالفت اور ہجرت — آپ علیہ السلام کی قوم اور آپ کے والد بت تراشی اور بت پرستی کرتے تھے۔ جب آپ نے انھیں توحید کی دعوت دی تو والد نے سخت ناراضی کا اظہار کیا اور گھر سے نکال دینے کی دھمکی دی۔
2 والد اور قوم کی مخالفت اور ہجرت — سبق: آپ علیہ السلام نے حق کی خاطر اپنے گھر، برادری اور والد کی محبت کو قربان کر دیا اور اللہ کے حکم پر ہجرت فرمائی۔
3 دہکتی آگ میں ڈالے جانے کی قربانی — جب آپ علیہ السلام نے قوم کے باطل معبودوں کی بے بسی ثابت کرنے کے لیے بتوں کو توڑ دیا تو نمرود اور اس کی قوم نے آپ کو زندہ آگ میں جلانے کا فیصلہ کیا۔ ایک بہت بڑی آگ جلائی گئی اور آپ علیہ السلام کو منجنیق کے ذریعے اس میں پھینک دیا گیا، مگر آپ نے مخلوق سے مدد لینے کے بجائے صرف اپنے رب پر بھروسا کیا۔
4 دہکتی آگ میں ڈالے جانے کی قربانی — قُلۡنَا يَٰنَارُ كُونِي بَرۡدٗا وَسَلَٰمًا عَلَىٰٓ إِبۡرَٰهِيمَہم نے فرمایا: اے آگ! ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔ (سورۃ الانبیاء ۔ آیت 69)
5 دہکتی آگ میں ڈالے جانے کی قربانی — سبق: آپ علیہ السلام نے اللہ پر کامل توکل کرتے ہوئے اپنی جان کی پروا نہ کی، اور اللہ تعالیٰ نے آگ ہی کو ٹھنڈی کر دیا۔
6 اہل و عیال کو بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑنے کی قربانی — بڑھاپے میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو سیدنا اسماعیل علیہ السلام عطا فرمائے۔ پھر حکم ہوا کہ اپنی زوجہ سیدہ ہاجرہ اور شیر خوار بچے کو مکہ کی ایک بنجر وادی میں چھوڑ آئیں، جہاں نہ پانی تھا نہ کوئی انسان۔ جب آپ واپس لوٹنے لگے تو سیدہ ہاجرہ نے پوچھا: کیا اللہ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ اس پر انھوں نے کہا: تو پھر اللہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔
7 اہل و عیال کو بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑنے کی قربانی — سبق: معصوم اولاد اور اہلیہ کو محض اللہ کے حکم پر وادی کے سپرد کر دینا محبتِ الٰہی کی عظیم مثال ہے۔ بعد میں اسی مقام پر زمزم جاری ہوا اور شہرِ مکہ آباد ہوا۔
8 لختِ جگر کی قربانی کا امتحان — جب سیدنا اسماعیل علیہ السلام والد کا ہاتھ بٹانے کے قابل ہوئے تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں، اور انبیاء کا خواب وحی ہوتا ہے۔
9 لختِ جگر کی قربانی کا امتحان — فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ ٱلسَّعۡيَ قَالَ يَٰبُنَيَّ إِنِّيٓ أَرَىٰ فِي ٱلۡمَنَامِ أَنِّيٓ أَذۡبَحُكَ فَٱنظُرۡ مَاذَا تَرَىٰۚ قَالَ يَـٰٓأَبَتِ ٱفۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُۖ سَتَجِدُنِيٓ إِن شَآءَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلصَّـٰبِرِينَپھر جب وہ آپ کے ساتھ دوڑنے کی عمر کو پہنچا تو آپ نے فرمایا: اے میرے بیٹے! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں، سو دیکھ تیری کیا رائے ہے؟ اس نے کہا: اے میرے ابا جان! جو آپ کو حکم دیا گیا ہے کر گزریے، ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔ (سورۃ الصافات ۔ آیت 102)
10 لختِ جگر کی قربانی کا امتحان — وَنَٰدَيۡنَٰهُ أَن يَـٰٓإِبۡرَٰهِيمُ ۝ قَدۡ صَدَّقۡتَ ٱلرُّءۡيَآۚ إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجۡزِي ٱلۡمُحۡسِنِينَاور ہم نے اسے پکارا کہ اے ابراہیم! تو نے خواب سچ کر دکھایا؛ بے شک ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔ (سورۃ الصافات ۔ آیات 104، 105)
جواب سبق: اللہ تعالیٰ نے بیٹے کے بدلے ایک عظیم قربانی عطا فرمائی، اور اسی عظیم قربانی کی یاد میں ہر سال دنیا بھر کے مسلمان عید الاضحیٰ مناتے ہیں۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.