سورۃ العنکبوت میں اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید کے من جانب اللہ ہونے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو ثابت کرنے کے لیے واضح اور عقلی دلائل عطا فرمائے ہیں۔
1
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا امی ہونا — وَمَا كُنتَ تَتۡلُواْ مِن قَبۡلِهِۦ مِن كِتَٰبٖ وَلَا تَخُطُّهُۥ بِيَمِينِكَۖ إِذٗا لَّٱرۡتَابَ ٱلۡمُبۡطِلُونَاور آپ اس سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھتے تھے اور نہ اپنے ہاتھ سے کچھ لکھتے تھے، ورنہ باطل والے ضرور شک کرتے۔ (آیت 48)
2
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا امی ہونا — دلیل کی وضاحت: اہلِ مکہ جانتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے لکھنا پڑھنا نہیں سیکھا۔ ایسی ذات کی زبان سے اتنا فصیح اور علمی کلام جاری ہونا اس بات کا صریح ثبوت ہے کہ یہ آپ کا اپنا کلام نہیں بلکہ وحیِ الٰہی ہے۔
3
اہلِ علم کے سینوں میں محفوظ ہونا — بَلۡ هُوَ ءَايَٰتُۢ بَيِّنَٰتٞ فِي صُدُورِ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡعِلۡمَۚ وَمَا يَجۡحَدُ بِـَٔايَٰتِنَآ إِلَّا ٱلظَّـٰلِمُونَبلکہ یہ روشن آیتیں ہیں ان لوگوں کے سینوں میں جنھیں علم دیا گیا۔ (آیت 49)
4
اہلِ علم کے سینوں میں محفوظ ہونا — دلیل کی وضاحت: قرآن کا حفاظ کے سینوں میں اس طرح محفوظ ہو جانا کہ اس کا ایک حرف بھی تبدیل نہ ہو، اس کے کلامِ الٰہی ہونے کی زندہ دلیل ہے۔
5
قرآن کا بذاتِ خود ایک عظیم معجزہ ہونا — وَقَالُواْ لَوۡلَآ أُنزِلَ عَلَيۡهِ ءَايَٰتٞ مِّن رَّبِّهِۦۚ قُلۡ إِنَّمَا ٱلۡأٓيَٰتُ عِندَ ٱللَّهِ وَإِنَّمَآ أَنَا۠ نَذِيرٞ مُّبِينٌ أَوَلَمۡ يَكۡفِهِمۡ أَنَّآ أَنزَلۡنَا عَلَيۡكَ ٱلۡكِتَٰبَ يُتۡلَىٰ عَلَيۡهِمۡۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَرَحۡمَةٗ وَذِكۡرَىٰ لِقَوۡمٖ يُؤۡمِنُونَاور انھوں نے کہا: ان پر ان کے رب کی طرف سے نشانیاں کیوں نہ اتاری گئیں؟ فرما دیجیے: نشانیاں تو اللہ ہی کے پاس ہیں اور میں تو صرف کھلا ڈرانے والا ہوں۔ کیا انھیں یہ کافی نہیں کہ ہم نے آپ پر کتاب اتاری جو ان پر پڑھی جاتی ہے؟ (آیات 50، 51)
6
قرآن کا بذاتِ خود ایک عظیم معجزہ ہونا — دلیل کی وضاحت: سابقہ انبیاء کے معجزات عارضی تھے، جبکہ قرآن ایک دائمی اور زندہ معجزہ ہے؛ رسالت کی سچائی کے لیے تنہا یہی کافی ہے۔
7
قرآن کا سرچشمۂ رحمت و نصیحت ہونا — اسی آیت کے آخر میں فرمایا گیا کہ بے شک اس کتاب میں ایمان لانے والوں کے لیے رحمت اور نصیحت ہے۔ (آیت 51) جو لوگ تعصب کی عینک اتار کر قرآن سنتے اور سمجھتے ہیں، ان کی زندگیوں میں انقلاب آ جاتا ہے؛ ایک کتاب کا انسانوں کے اخلاق اور روح کو بدل دینا اس کے حق ہونے کی کھلی دلیل ہے۔
8
اللہ تعالیٰ کی گواہی — قُلۡ كَفَىٰ بِٱللَّهِ بَيۡنِي وَبَيۡنَكُمۡ شَهِيدٗاۖ يَعۡلَمُ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۗ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ بِٱلۡبَٰطِلِ وَكَفَرُواْ بِٱللَّهِ أُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡخَٰسِرُونَفرما دیجیے: میرے اور تمھارے درمیان اللہ کا گواہ ہونا کافی ہے، وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ (آیت 52)
9
اللہ تعالیٰ کی گواہی — دلیل کی وضاحت: اللہ تعالیٰ کی گواہی سے بڑھ کر کوئی گواہی نہیں؛ جو ذات کائنات کی ہر شے سے واقف ہے، اسی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا سچا رسول بنا کر بھیجا۔
10
خلاصہ — آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا امی ہونا ثابت کرتا ہے کہ قرآن آپ کی اپنی تصنیف نہیں۔
11
خلاصہ — قرآن کا مسلسل محفوظ رہنا اور بذاتِ خود ایک کامل معجزہ ہونا اس کی حقانیت کی دلیل ہے۔
12
خلاصہ — ہدایت کے لیے کسی اور نشانی کے بجائے تنہا قرآن کا وجود ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی رسالت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔