نویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 12: سبق 12: سورۃ النمل (حصہ دوم) — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات اور تفصیلی جوابات · 11 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوۡمِهِۦٓ إِلَّآ أَن قَالُوٓاْ أَخۡرِجُوٓاْ ءَالَ لُوطٖ مِّن قَرۡيَتِكُمۡۖ إِنَّهُمۡ أُنَاسٞ يَتَطَهَّرُونَ (سورۃ النمل ۔ آیت 56)

قوم نے سیدنا لوط علیہ السلام کے حوالے سے آپس میں کیا تبصرہ کیا؟

قومِ لوط نے سیدنا لوط علیہ السلام اور ان کے پیروکاروں کے بارے میں آپس میں یہ تبصرہ کیا: "آلِ لوط کو اپنی بستی سے نکال باہر کرو، یہ لوگ بڑے پاک باز بنتے ہیں۔"

جواب مختصر وضاحت: انہوں نے حضرت لوط علیہ السلام کی پاک دامن اور باحیا زندگی کا مذاق اڑاتے ہوئے اور اسی کو ان کا جرم بناتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ ہماری بے حیائی کو پسند نہیں کرتے اور پاکیزگی کا دعویٰ کرتے ہیں، لہٰذا انہیں اس شہر میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔
2 مختصر جوابات

أَمَّن يُجِيبُ ٱلۡمُضۡطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكۡشِفُ ٱلسُّوٓءَ وَيَجۡعَلُكُمۡ خُلَفَآءَ ٱلۡأَرۡضِۗ أَءِلَٰهٞ مَّعَ ٱللَّهِۚ قَلِيلٗا مَّا تَذَكَّرُونَ (سورۃ النمل ۔ آیت 62)

آیتِ کریمہ میں بندے پر اللہ تعالیٰ کے کن احسانات کا ذکر ہے؟

اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں پر اپنے تین بنیادی احسانات اور عنایات کا ذکر فرمایا ہے:

1 بے قرار اور مجبور کی دعا قبول کرنا — جب انسان ہر طرف سے مایوس ہو کر اور بے بس (مضطر) ہو کر اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے، تو اللہ تعالیٰ ہی اس کی فریاد سنتا اور دعا قبول فرماتا ہے۔
2 تکلیف اور مصیبت کو دور کرنا — انسان پر آنے والی ہر قسم کی سختی، بیماری، پریشانی اور برائی (السُّوٓء) کو ختم کرنا صرف اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے۔
3 زمین میں نائب (جانشین) بنانا — اللہ نے انسانوں کو زمین میں ایک دوسرے کا قائم مقام اور جانشین بنایا تاکہ وہ زمین کا نظام سنبھالیں اور اس کی نعمتوں سے فائدہ اٹھائیں۔
3 مختصر جوابات

وَلَا تَحۡزَنۡ عَلَيۡهِمۡ وَلَا تَكُن فِي ضَيۡقٖ مِّمَّا يَمۡكُرُونَ (سورۃ النمل ۔ آیت 70)

آیتِ کریمہ میں نبی کریم ﷺ کو کیا تسلی دی گئی ہے؟

اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ کو دو بنیادی باتوں کے ذریعے تسلی اور حوصلہ دیا ہے:

1 غم نہ کرنے کی تسلی — کفار کے ایمان نہ لانے، ان کی سرکشی اور تکذیب پر آپ ﷺ رنجیدہ اور غمگین نہ ہوں۔ ان کے انکار سے آپ کے دل پر بوجھ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ہدایت دینا اللہ کے ہاتھ میں ہے اور آپ کی ذمہ داری صرف پیغام پہنچا دینا ہے۔
2 مکر و فریب سے دل تنگ نہ کرنے کی تسلی — کفار اسلام اور آپ ﷺ کے خلاف جو ہتھکنڈے، سازشیں اور مکر کر رہے ہیں، ان کی وجہ سے اپنے دل کو تنگ نہ کریں اور نہ گھبرائیں؛ اللہ تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر ہے اور ان کی تمام سازشیں ناکام کر دی جائیں گی۔
4 مختصر جوابات

مَن جَآءَ بِٱلۡحَسَنَةِ فَلَهُۥ خَيۡرٞ مِّنۡهَا وَهُم مِّن فَزَعٖ يَوۡمَئِذٍ ءَامِنُونَ (سورۃ النمل ۔ آیت 89)

آیتِ کریمہ میں نیکی کا کیا نتیجہ ذکر ہوا ہے؟

اس آیتِ مبارکہ میں نیکی (حسنہ) کا دوہرا اور عظیم الشان نتیجہ بیان کیا گیا ہے:

1 نیکی سے بہتر اور بڑا اجر — جو شخص قیامت کے دن کوئی نیکی لے کر آئے گا، اللہ تعالیٰ اسے اس نیکی کا بدلہ اس کی اصل سے کہیں بہتر اور بڑھ چڑھ کر عطا فرمائے گا۔
2 قیامت کے دن کی گھبراہٹ سے امان — نیکی کرنے والے لوگ قیامت کے دن کے ہولناک خوف، دہشت اور گھبراہٹ سے بالکل محفوظ و مامون رہیں گے۔
5 مختصر جوابات

وَمَن جَآءَ بِٱلسَّيِّئَةِ فَكُبَّتۡ وُجُوهُهُمۡ فِي ٱلنَّارِ هَلۡ تُجۡزَوۡنَ إِلَّا مَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ (سورۃ النمل ۔ آیت 90)

آیتِ کریمہ میں برائی کا کیا نتیجہ ذکر ہوا ہے؟

اس آیتِ مبارکہ میں برائی (گناہ اور شرک) کا نتیجہ اور سزا یوں بیان کی گئی ہے:

1 آگ میں منہ کے بل پھینکا جانا — جو شخص قیامت کے دن برائی (شرک و گناہ) لے کر آئے گا، اسے جہنم کی آگ میں اوندھے منہ پھینک دیا جائے گا۔
2 عین عدل و انصاف کا بدلہ — ان سے کہا جائے گا کہ تمہیں صرف انہی اعمال کا بدلہ دیا جا رہا ہے جو تم دنیا میں کرتے رہے تھے — یعنی ان کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کی جائے گی۔

تفصیلی جوابات

6 تفصیلی جوابات

قُلِ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ وَسَلَٰمٌ عَلَىٰ عِبَادِهِ ٱلَّذِينَ ٱصۡطَفَىٰٓۗ ءَآللَّهُ خَيۡرٌ أَمَّا يُشۡرِكُونَ (سورۃ النمل ۔ آیت 59)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں اور وضاحت بیان کریں۔

ترجمہ

"آپ (ﷺ) فرمائیے کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں اور اس کے ان بندوں پر سلام ہو جنہیں اس نے چن لیا ہے۔ کیا اللہ بہتر ہے یا وہ (معبود) جنہیں یہ لوگ شریک ٹھہراتے ہیں؟"

اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے توحید کی اہمیت اور شرک کے بطلان کو جامع انداز میں بیان فرمایا ہے:

وضاحت

1 تمام تعریفوں کا مستحق صرف اللہ ہے (قُلِ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ) — آیت کے آغاز میں نبی کریم ﷺ کو ہدایت دی جا رہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کریں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام نعمتوں، ہدایت اور رسولوں کی بعثت پر صرف اللہ تعالیٰ ہی شکر اور حمد کا مستحق ہے۔
2 برگزیدہ بندوں پر سلام (وَسَلَٰمٌ عَلَىٰ عِبَادِهِ ٱلَّذِينَ ٱصۡطَفَىٰٓ) — "اصطفیٰ" (چنے ہوئے بندے) سے مراد اللہ تعالیٰ کے انبیاء و رسل علیہم السلام اور وہ بابرکت مومنین ہیں جنہیں اللہ نے اپنے دین کی خدمت اور توحید کی اشاعت کے لیے چن لیا۔ اس حصے میں انبیاء اور ان کے سچے پیروکاروں پر سلامتی بھیج کر ان کی عظمت اور رفعتِ شان کو واضح کیا گیا ہے۔
3 توحید اور شرک کا موازنہ (ءَآللَّهُ خَيۡرٌ أَمَّا يُشۡرِكُونَ) — یہ استفہامِ انکاری (سوال کے ذریعے لاجواب کرنا) ہے۔ اللہ تعالیٰ مشرکین سے پوچھتا ہے: کیا تمام کائنات کا خالق اور مالک اللہ بہتر ہے یا وہ بے بس بت اور معبود جن کی تم پوجا کرتے ہو؟ اس سوال کا مقصد مشرکین کی عقل و فہم کو بیدار کرنا ہے کہ جن معبودوں کو تم نے گھڑ رکھا ہے، وہ نہ کچھ پیدا کر سکتے ہیں اور نہ کسی کا نفع یا نقصان — جب کہ تمام اختیارات اور نعمتوں کا سرچشمہ صرف ایک اللہ ہے۔
7 تفصیلی جوابات

أَمَّن جَعَلَ ٱلۡأَرۡضَ قَرَارٗا وَجَعَلَ خِلَٰلَهَآ أَنۡهَٰرٗا وَجَعَلَ لَهَا رَوَٰسِيَ وَجَعَلَ بَيۡنَ ٱلۡبَحۡرَيۡنِ حَاجِزًاۗ أَءِلَٰهٞ مَّعَ ٱللَّهِۚ بَلۡ أَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ (سورۃ النمل ۔ آیت 61)

آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی کن قدرتوں کا بیان ہے؟

اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی چار عظیم قدرتوں اور نشانیوں کا ذکر فرمایا ہے:

1 زمین کو ٹھہرنے کی جگہ (قرار) بنانا — اللہ تعالیٰ نے زمین کو اس انداز سے ساکن اور متوازن بنایا کہ انسان، حیوانات اور دیگر مخلوقات اس پر اطمینان اور سکون سے رہ سکیں، عمارتیں بنا سکیں اور زندگی بسر کر سکیں۔
2 زمین کے درمیان ندی نالے اور نہریں جاری کرنا — انسانوں، جانوروں اور کھیتی باڑی کی سیرابی کے لیے زمین کے اندر اور اوپر میٹھے اور صاف پانی کی نہریں اور دریا جاری کیے۔
3 زمین پر مضبوط پہاڑ قائم کرنا — زمین کو لرزنے اور ڈگمگانے سے بچانے کے لیے اس پر وزنی اور مضبوط پہاڑ (رَوَٰسِي) بنا دیے جو اس کے توازن کو قائم رکھتے ہیں۔
4 دو سمندروں کے درمیان آڑ (پردہ) قائم کرنا — میٹھے اور کھاری پانی کے سمندروں/دریاؤں کو ساتھ ساتھ بہانے کے باوجود ان کے درمیان ایک نادیدہ آڑ (حاجز) بنا دی تاکہ وہ ایک دوسرے میں مل کر اپنا ذائقہ اور اثر خراب نہ کریں۔
8 تفصیلی جوابات

قُلۡ سِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَٱنظُرُواْ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلۡمُجۡرِمِينَ (سورۃ النمل ۔ آیت 69)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت تحریر کریں۔

ترجمہ

"آپ (ﷺ) فرمائیے کہ زمین میں چلو پھرو، پھر دیکھو کہ مجرموں (گنہگاروں اور انکار کرنے والوں) کا انجام کیسا ہوا!"

اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے منکرینِ حق اور کافروں کو تاریخ سے سبق حاصل کرنے کی دعوت دی ہے:

وضاحت

1 زمین میں سیر و سیاحت کا مقصد — اسلام میں زمین پر چلنے پھرنے اور سفر کرنے کا ایک بڑا مقصد یہ ہے کہ انسان محض تفریح نہ کرے، بلکہ عبرت اور نصیحت حاصل کرے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو ہدایت فرمائی کہ وہ منکرینِ آخرت سے کہیں کہ وہ سابقہ اقوام کے مساکن اور تباہ شدہ بستیوں کا مشاہدہ کریں۔
2 مجرموں کے انجام سے عبرت — "مجرمین" سے مراد وہ اقوام ہیں جنہوں نے اللہ کے انبیاء علیہم السلام کو جھٹلایا، توحید کا انکار کیا اور زمین میں سرکشی اور فساد پھیلایا (جیسے قومِ نوح، عاد، ثمود، قومِ لوط اور آلِ فرعون)۔ جب انہوں نے سرکشی کی تمام حدیں پار کر دیں تو اللہ تعالیٰ کا عذاب ان پر نازل ہوا اور وہ تباہ و برباد کر دیے گئے۔
3 قریش اور تمام انسانوں کے لیے تنبیہ — اس آیت میں مکہ کے مشرکین اور قیامت تک آنے والے تمام سرکشوں کے لیے سخت تنبیہ ہے کہ اگر وہ اپنی ضد، تکذیب اور گناہوں سے باز نہ آئے تو ان کا انجام بھی ماضی کی تباہ شدہ قوموں سے مختلف نہیں ہوگا۔ سنتِ الٰہی یہی ہے کہ جو قومیں حق کا انکار کرتی ہیں اور ظلم و مجرمانہ رویہ اختیار کرتی ہیں، وہ آخرکار تباہی کا شکار ہو جاتی ہیں۔
9 تفصیلی جوابات

وَيَوۡمَ يُنفَخُ فِي ٱلصُّورِ فَفَزِعَ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَن فِي ٱلۡأَرۡضِ إِلَّا مَن شَآءَ ٱللَّهُۚ وَكُلٌّ أَتَوۡهُ دَٰخِرِينَ (سورۃ النمل ۔ آیت 87)

صور پھونکے جانے کے بعد کیا حالات پیش آئیں گے؟

اس آیتِ مبارکہ میں صور پھونکے جانے کے بعد کے ہولناک اور عظیم حالات کو یوں بیان کیا گیا ہے:

1 زبردست دہشت اور گھبراہٹ (فَفَزِعَ) — جب حضرت اسرافیل علیہ السلام اللہ کے حکم سے صور پھونکیں گے تو اس کی ہیبت ناک اور سخت آواز سے آسمانوں اور زمین کی تمام مخلوقات سخت خوف، دہشت اور گھبراہٹ میں مبتلا ہو جائے گی۔
2 برگزیدہ بندوں کا استثنا (إِلَّا مَن شَآءَ ٱللَّهُ) — اس عام گھبراہٹ سے صرف وہ مخصوص بندے محفوظ رہیں گے جنہیں اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے خوف اور دہشت سے محفوظ رکھنا چاہے گا (مثلاً انبیاءِ کرام اور بعض برگزیدہ مومنین)۔
3 عاجزی کے ساتھ بارگاہِ الٰہی میں حاضری (وَكُلٌّ أَتَوۡهُ دَٰخِرِينَ) — صور پھونکے جانے کے بعد تمام مخلوق (انسان، جنات اور فرشتے) بالکل عاجز اور بے بس ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور حساب و کتاب کے لیے حاضر ہو جائے گی؛ اس دن کسی کو بھی اللہ کے سامنے سرکشی یا انکار کی مجال نہیں ہوگی۔
10 تفصیلی جوابات

أَمَّن يَبۡدَؤُاْ ٱلۡخَلۡقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥ وَمَن يَرۡزُقُكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِۗ أَءِلَٰهٞ مَّعَ ٱللَّهِۚ قُلۡ هَاتُواْ بُرۡهَٰنَكُمۡ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ (سورۃ النمل ۔ آیت 64)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت تحریر کریں۔

ترجمہ

"بھلا وہ کون ہے جو مخلوق کو پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر اسے دوبارہ پیدا کرے گا، اور جو تمہیں آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے؟ (اے نبی ﷺ) آپ فرمائیے کہ اگر تم سچے ہو تو اپنی کوئی دلیل پیش کرو!"

اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ربوبیت اور رزاقیت کے ذریعے توحید کو ثابت فرمایا ہے اور شرک کی نفی کی ہے:

وضاحت

1 آسمان اور زمین سے رزق کی فراہمی — آسمان سے رزق سے مراد بارش، سورج کی روشنی اور ہوا کا نظام ہے جو زندگی اور رزق کے لیے بنیادی شرط ہیں؛ زمین سے رزق سے مراد زمین سے اگنے والے اناج، پھل، سبزیاں اور زیرِ زمین موجود معدنیات و پانی کے ذخائر ہیں۔ اللہ تعالیٰ منکرین کو متوجہ کرتا ہے کہ آسمان سے پانی برسانے اور زمین سے غلہ اگانے پر صرف ایک اللہ کا اختیار ہے۔
2 توحید پر استدلال (أَءِلَٰهٞ مَّعَ ٱللَّهِ) — جب یہ بات طے ہے کہ رزق دینے والا صرف اللہ ہے تو پھر عبادت اور بندگی کے لائق کوئی دوسرا کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ سوال مشرکین پر حجت تمام کرنے کے لیے ہے کہ جس بت یا معبود کی تم پوجا کرتے ہو، کیا اس نے کبھی آسمان سے ایک قطرہ بھی برسایا یا زمین سے ایک دانہ بھی اگایا؟
3 دلیل کا مطالبہ (قُلۡ هَاتُواْ بُرۡهَٰنَكُمۡ) — آیت کے آخری حصے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کے ذریعے مشرکین کو چیلنج دیا کہ اگر تمہارا یہ دعویٰ سچا ہے کہ اللہ کے علاوہ بھی کوئی معبود یا رزق دینے والا ہے تو اس پر کوئی عقلی یا نقلی دلیل (برہان) پیش کرو۔ چونکہ ان کے پاس شرک کی کوئی دلیل نہیں، لہٰذا ان کا یہ عقیدہ محض جہالت اور بے بنیاد وہم پر مبنی ہے۔
11 تفصیلی جوابات

وَتَرَى ٱلۡجِبَالَ تَحۡسَبُهَا جَامِدَةٗ وَهِيَ تَمُرُّ مَرَّ ٱلسَّحَابِۚ صُنۡعَ ٱللَّهِ ٱلَّذِيٓ أَتۡقَنَ كُلَّ شَيۡءٍۚ إِنَّهُۥ خَبِيرُۢ بِمَا تَفۡعَلُونَ (سورۃ النمل ۔ آیت 88)

آیتِ کریمہ کے مطابق قیامت کے دن پہاڑوں کی کیا کیفیت ہوگی؟

اس آیتِ مبارکہ کے مطابق قیامت کے دن پہاڑوں کی کیفیت درج ذیل ہوگی:

1 ساکن اور جامد نظر آنا — ظاہری طور پر پہاڑ اتنے بڑے اور بھاری نظر آئیں گے کہ دیکھنے والے کو لگے گا کہ وہ اپنی جگہ پر بالکل ساکن اور جمے ہوئے (جَامِدَة) ہیں۔
2 بادلوں کی طرح اڑنا اور چلنا — حقیقت میں وہ پہاڑ اپنی جگہ پر قائم نہیں رہیں گے، بلکہ بادلوں کی طرح تیزی سے اڑتے اور چلتے (تَمُرُّ مَرَّ ٱلسَّحَابِ) نظر آئیں گے۔
جواب مختصر خلاصہ: قیامت کے ہولناک دن اللہ تعالیٰ کے حکم سے اتنے بڑے اور مضبوط پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اور اپنی جڑیں چھوڑ کر فضا میں اس طرح اڑ رہے ہوں گے جیسے بادل ہوا میں تیرتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ کا ایک عظیم شاہکار ہوگا۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.