سورۃ النمل میں ہدہد کے واقعے میں ذکر آتا ہے کہ شیطان کس طرح انسانوں کو گمراہ کرتا ہے: "اور شیطان نے ان کے اعمال ان کے لیے خوش نما بنا دیے، پھر انہیں (سیدھے) راستے سے روک دیا۔"
شیطان کا برے اعمال کو خوش نما (مزین) بنا کر پیش کرنا اور برے اعمال سے بچنے کی تدابیر
1
شیطان کا برے اعمال کو خوش نما (مزین) بنا کر پیش کرنا — نام تبدیل کرنا اور دھوکا دینا — گناہ کو اچھے اور جدید نام دے کر پیش کرتا ہے — مثلاً سود کو "منافع"، بے حیائی کو "فیشن" یا "آزادی"، اور غیبت کو "تبصرہ" یا "حق گوئی" کا نام دینا۔
2
شیطان کا برے اعمال کو خوش نما (مزین) بنا کر پیش کرنا — عقل اور منطق کے پردے میں پیش کرنا — انسان کو یہ باور کراتا ہے کہ وہ جو کر رہا ہے بالکل صحیح اور وقت کی ضرورت ہے۔
3
شیطان کا برے اعمال کو خوش نما (مزین) بنا کر پیش کرنا — فانی فائدے اور لذت کو نمایاں کرنا — گناہ کے عارضی فائدے یا لذت کو بڑا کر کے دکھاتا ہے اور اس کے مستقل نقصان (آخرت کی سزا) کو بھلا دیتا ہے۔
4
شیطان کا برے اعمال کو خوش نما (مزین) بنا کر پیش کرنا — توبہ کی جھوٹی امید — انسان کو یہ وسوسہ دیتا ہے کہ "ابھی تو عمر پڑی ہے، بعد میں توبہ کر لینا، اللہ غفور رحیم ہے۔"
5
برے اعمال سے بچنے کی تدابیر — اللہ کی پناہ مانگنا (تعوذ) — جب بھی دل میں برائی کا خیال آئے تو "أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ" پڑھیں اور استغفار کی کثرت کریں۔
6
برے اعمال سے بچنے کی تدابیر — نیک اور اچھے دوستوں کی صحبت — برے ماحول اور بری صحبت سے پرہیز کریں، کیونکہ انسان اپنے دوستوں کے دین اور اندازِ فکر سے متاثر ہوتا ہے۔
7
برے اعمال سے بچنے کی تدابیر — قرآن و سنت سے گہرا تعلق — قرآن مجید کو ترجمہ و تفہیم کے ساتھ پڑھیں تاکہ حق و باطل کی تمیز قائم رہے۔
8
برے اعمال سے بچنے کی تدابیر — حلال و حرام کی تمیز — روزمرہ زندگی اور روزگار میں حلال اور حرام کا خاص خیال رکھیں، کیونکہ حرام روزی انسان کے دل کو سخت کر دیتی ہے۔
9
برے اعمال سے بچنے کی تدابیر — خود احتسابی (محاسبۂ نفس) — روزانہ سونے سے پہلے اپنے دن بھر کے اعمال کا جائزہ لیں، برائیوں پر معافی مانگیں اور اچھے کاموں پر اللہ کا شکر ادا کریں۔
10
برے اعمال سے بچنے کی تدابیر — نماز کی پابندی — باقاعدگی سے نماز ادا کریں، کیونکہ نماز انسان کو بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔