نویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 11: سبق 11: سورۃ النمل (حصہ اول) — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں برائے طلبہ · 15 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

ٱلَّذِينَ يُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤۡتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَهُم بِٱلۡأٓخِرَةِ هُمۡ يُوقِنُونَ (سورۃ النمل ۔ آیت 3)

آیتِ کریمہ میں اہلِ ایمان کی کون سی تین صفات بیان ہوئی ہیں؟

ترجمہ

"(یہ ہدایت اور خوش خبری ان مومنوں کے لیے ہے) جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔"

آیتِ کریمہ میں اہلِ ایمان کی درج ذیل تین صفات بیان ہوئی ہیں:

1 نماز قائم کرنا (يُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ) — وہ نماز کو پابندی، خشوع اور اس کے تمام آداب و شرائط کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔
2 زکوٰۃ ادا کرنا (يُؤۡتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ) — وہ اپنے مال میں سے اللہ کا مقرر کردہ حق (زکوٰۃ) خوش دلی سے نکال کر مستحقین تک پہنچاتے ہیں۔
3 آخرت پر یقین رکھنا (بِٱلۡأٓخِرَةِ هُمۡ يُوقِنُونَ) — وہ قیامت کے دن، حساب کتاب اور جزا و سزا پر پختہ یقین رکھتے ہیں، اور یہی یقین انہیں نیک اعمال پر آمادہ رکھتا ہے۔
2 مختصر جوابات

وَجَحَدُوۡا بِهَا وَاسۡتَيۡقَنَـتۡهَاۤ اَنۡفُسُهُمۡ ظُلۡمًا وَّعُلُوًّا​ ؕ (سورۃ النمل ۔ آیت 14)

آیتِ کریمہ کے مطابق آلِ فرعون نے کس وجہ سے انکار کیا؟

ترجمہ

"اور انہوں نے ان (معجزات/آیات) کا ظلم اور تکبر کی وجہ سے انکار کر دیا، حالانکہ ان کے دل ان کا یقین کر چکے تھے۔"

آلِ فرعون کے انکار کی دو بنیادی وجوہات یہ تھیں:

1 ظلم (حق تلفی اور سرکشی) — وہ جانتے تھے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سچے نبی ہیں اور معجزات سچے ہیں، لیکن انہوں نے محض ضد، عناد اور سرکشی کی بنا پر حق کو ماننے سے انکار کر دیا۔
2 عُلُوّ (تکبر اور غرور) — آلِ فرعون اپنے اقتدار، طاقت اور بڑائی کے نشے میں بدمست تھے؛ وہ تکبر کی وجہ سے ایک بنی اسرائیلی (حضرت موسیٰ علیہ السلام) کی پیروی اور اطاعت کرنا اپنی توہین سمجھتے تھے۔
جواب خلاصہ: آلِ فرعون نے دل سے سچائی کا یقین ہونے کے باوجود صرف ظلم (سرکشی) اور عُلُوّ (تکبر و غرور) کی وجہ سے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور اللہ کے معجزات کا انکار کیا۔
3 مختصر جوابات

جِئۡتُكَ مِنۡ سَبَاٍۢ بِنَبَاٍ يَّقِيۡنٍ۔اِنِّىۡ وَجَدتُّ امۡرَاَةً تَمۡلِكُهُمۡ وَاُوۡتِيَتۡ مِنۡ كُلِّ شَىۡءٍ وَّلَهَا عَرۡشٌ عَظِيۡمٌ۔ (سورۃ النمل ۔ آیات 22 تا 23)

آیاتِ کریمہ کے مطابق ہدہد نے سیدنا سلیمان علیہ السلام کو کیا خبر دی؟

ترجمہ

"میں تمہارے پاس (شہر) سبا سے ایک پکی اور یقینی خبر لایا ہوں۔ میں نے ایک عورت دیکھی جو ان پر حکومت کر رہی ہے اور اسے ہر قسم کا سامان/نعمتیں دی گئی ہیں اور اس کا ایک بہت بڑا اور عظیم الشان تخت ہے۔"

آیاتِ کریمہ کے مطابق ہدہد نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو تین اہم باتیں بتائیں:

1 ایک ملکہ کی حکومت — اس نے خبر دی کہ ملکِ سبا پر ایک عورت (ملکہ بلقیس) حکومت کر رہی ہے۔
2 نعمتوں اور وسائل کی فراوانی — اسے حکومت، سلطنت، مال و دولت اور اقتدار کے لیے درکار تمام ضروری چیزیں اور نعمتیں میسر ہیں۔
3 عظیم الشان تخت — اس ملکہ کے پاس ایک انتہائی بڑا، خوب صورت اور شان و شوکت والا تخت (عرشِ عظیم) ہے۔
جواب خلاصہ: ہدہد نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو قومِ سبا کی ملکہ (بلقیس)، اس کی عظیم سلطنت، اسے حاصل نعمتوں اور اس کے شاہانہ تخت کی خبر دی۔
4 مختصر جوابات

قَالَتۡ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلۡمَلَؤُاْ أَفۡتُونِي فِيٓ أَمۡرِي مَا كُنتُ قَاطِعَةً أَمۡرًا حَتَّىٰ تَشۡهَدُونِ (سورۃ النمل ۔ آیت 32)

آیتِ کریمہ میں کس چیز کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے؟

ترجمہ

"اس (ملکہ) نے کہا: اے (میری سلطنت کے) سردارو! میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو، میں کسی معاملے کا حتمی فیصلہ کرنے والی نہیں ہوں جب تک تم میرے پاس موجود (اور متفق) نہ ہو۔"

اس آیتِ کریمہ میں مشورے (شوریٰ) کی اہمیت اور مشاورتی طرزِ حکومت کے اصول کو اجاگر کیا گیا ہے:

1 مشاورت کی اہمیت — ملکہ بلقیس کے پاس کامل اختیار اور اقتدار ہونے کے باوجود اس نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے خط کا جواب دینے کا فیصلہ تنہا نہیں کیا، بلکہ اپنے اہم درباریوں اور وزراء کو جمع کر کے ان سے رائے طلب کی۔
2 خود سری اور انفرادی فیصلہ سازی کی ممانعت — بڑے اور حساس امور (جیسے جنگ، امن یا سفارتی تعلقات) میں خود سری سے کام لینے کے بجائے متعلقہ اور باصلاحیت لوگوں سے مشورہ کرنا چاہیے۔
3 حکمرانی میں ارکان کا اعتماد — کامیاب اور دانش مندانہ حکمرانی کا اصول یہ ہے کہ اہم فیصلوں میں ذمہ دار ارکانِ سلطنت کو شامل رکھا جائے تاکہ ملک و قوم کو درپیش مسائل کا بہترین حل نکالا جا سکے۔
جواب خلاصہ: اس آیت میں باہمی مشاورت اور حکمتِ عملی کی اہمیت کو واضح کیا گیا ہے کہ انسان کو بڑے اور اہم معاملے میں یک طرفہ فیصلہ کرنے کے بجائے اہلِ رائے افراد سے مشورہ لینا چاہیے۔
5 مختصر جوابات

فَلَمَّا جَآءَ سُلَيۡمَٰنَ قَالَ أَتُمِدُّونَنِ بِمَالٖ فَمَآ ءَاتَىٰنِۦَ ٱللَّهُ خَيۡرٞ مِّمَّآ ءَاتَىٰكُمۚ بَلۡ أَنتُم بِهَدِيَّتِكُمۡ تَفۡرَحُونَ (سورۃ النمل ۔ آیت 36)

آیتِ کریمہ کی رو سے سیدنا سلیمان علیہ السلام نے ملکہ سبا کے قاصد کو کیا جواب دیا؟

ترجمہ

"پس جب وہ (ملکہ بلقیس کا قاصد) سلیمان کے پاس پہنچا تو انہوں نے فرمایا: کیا تم مال کے ذریعے میری مدد کرنا چاہتے ہو؟ پس جو کچھ اللہ نے مجھے دیا ہے وہ اس سے کہیں بہتر ہے جو اس نے تمہیں دیا ہے، بلکہ تم ہی اپنے تحفے سے خوش ہوتے ہو۔"

جب ملکہ بلقیس نے حضرت سلیمان علیہ السلام کا خط ملنے کے بعد انہیں آزمانے کے لیے قیمتی تحائف کے ساتھ اپنے قاصد بھیجے، تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے وہ تحائف رد کر دیے اور قاصد کو درج ذیل جواب دیا:

1 مال و دولت کی بے حقیقتی — انہوں نے فرمایا کہ کیا تم مجھے مال و دولت کے ذریعے خریدنا یا راضی کرنا چاہتے ہو؟
2 اللہ کی نعمتوں پر شکر گزاری — انہوں نے واضح کیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جو نبوت، علم، حکمت اور عظیم سلطنت دی ہے، وہ تمہاری ان دنیوی دولتوں اور تحائف سے کہیں زیادہ بہتر اور افضل ہے۔
3 تحفے کی واپسی — انہوں نے قاصد سے فرمایا کہ تم لوگ اپنے ان تحائف پر خوش ہوتے رہو، مجھے اس مال کی کوئی طمع یا ضرورت نہیں۔
4 حق کی دعوت — انہوں نے قاصد کو یہ پیغام دے کر واپس بھیجا کہ ہمارا مقصد مال و دولت حاصل کرنا نہیں بلکہ اللہ کے دین اور توحید کو پھیلانا ہے؛ اگر تم اطاعت قبول نہیں کرو گے تو ہم لشکر کے ساتھ آئیں گے۔
جواب خلاصہ: سیدنا سلیمان علیہ السلام نے ملکہ کے قاصد کو عزتِ نفس اور ایمان کی مضبوطی کا درس دیتے ہوئے تحائف واپس کر دیے اور فرمایا کہ اللہ کا دیا ہوا فضل و ہدایت تمہارے ان دنیاوی تحائف سے کہیں بڑھ کر ہے، اس لیے مجھے مال کی نہیں بلکہ توحید و اطاعت کی ضرورت ہے۔

تفصیلی جوابات

6 تفصیلی جوابات

إِذۡ قَالَ مُوسَىٰ لِأَهۡلِهِۦٓ إِنِّيٓ ءَانَسۡتُ نَارٗا سَـَٔاتِيكُم مِّنۡهَا بِخَبَرٍ أَوۡ ءَاتِيكُم بِشِهَابٖ قَبَسٖ لَّعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُونَ (سورۃ النمل ۔ آیت 7)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت تحریر کریں۔

ترجمہ

"اور (وہ وقت یاد کرو) جب موسیٰ نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ میں نے ایک آگ دیکھی ہے، میں ابھی وہاں سے تمہارے پاس (راستے کی) کوئی خبر لاتا ہوں یا تمہارے پاس کوئی دہکتا ہوا انگارہ لاتا ہوں تاکہ تم تاپ سکو۔"

یہ آیتِ مبارکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی کے اس عظیم موڑ کی نشان دہی کرتی ہے جہاں انہیں نبوت عطا کی گئی:

آیت کی وضاحت و تفسیر

1 پس منظر اور سفر کا ماحول — حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی زوجہ محترمہ کے ساتھ مدین سے مصر کی طرف سفر کر رہے تھے۔ رات کا وقت تھا، شدید سردی تھی اور وہ راستے سے بھٹک چکے تھے۔ ایسے میں انہیں دور سے طُور کی وادی میں ایک آگ چمکتی ہوئی نظر آئی۔
2 دوہری ضرورت (راستہ اور گرمی) — انہوں نے اپنے اہلِ خانہ کی دو بنیادی ضرورتوں کے لیے آگ کی طرف جانے کا ارادہ کیا: (1) راستے کی رہنمائی — وہاں کوئی موجود ہوا تو صحیح راستے کی معلومات مل جائے گی (سَـَٔاتِيكُم مِّنۡهَا بِخَبَرٍ)؛ (2) حرارت — کوئی نہ ملا تو کم از کم آگ کا سلگتا ہوا انگارہ لے آئیں گے تاکہ سردی سے بچا جا سکے (أَوۡ ءَاتِيكُم بِشِهَابٖ قَبَسٖ لَّعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُونَ)۔
3 آگ کا حقیقت میں "نورِ الٰہی" ہونا — ظاہری طور پر جسے حضرت موسیٰ علیہ السلام آگ سمجھ رہے تھے، وہ درحقیقت آگ نہیں بلکہ نورِ الٰہی (تجلی) تھا۔ جب وہ اس جگہ پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے ان سے کلام فرمایا، انہیں معجزات (عصا اور یدِ بیضا) عطا فرمائے اور فرعون کی طرف ہدایت و تبلیغ کا پیغام دے کر بطورِ رسول مبعوث فرمایا۔
جواب خلاصہ: یہ آیتِ مبارکہ انسان کے ظاہری اندازوں اور اللہ تعالیٰ کی حکمت کے فرق کو ظاہر کرتی ہے: حضرت موسیٰ علیہ السلام دنیاوی ضرورت (آگ اور راستے) کی تلاش میں گئے تھے، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں نبوت، کلامِ الٰہی اور ہدایت کے نورِ اعظم سے سرفراز فرما دیا۔
7 تفصیلی جوابات

سورۃ النمل کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔

جواب نوٹ: اس سوال کا جواب نصابی کتاب کے صفحہ نمبر 78 پر موجود ہے۔
8 تفصیلی جوابات

فَتَبَسَّمَ ضَاحِكٗا مِّن قَوۡلِهَا وَقَالَ رَبِّ أَوۡزِعۡنِيٓ أَنۡ أَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ ٱلَّتِيٓ أَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَٰلِدَيَّ وَأَنۡ أَعۡمَلَ صَٰلِحٗا تَرۡضَىٰهُ وَأَدۡخِلۡنِي بِرَحۡمَتِكَ فِي عِبَادِكَ ٱلصَّـٰلِحِينَ (سورۃ النمل ۔ آیت 19)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت تحریر کریں۔

ترجمہ

"تو سلیمان اس (چیونٹی) کی بات سے مسکرا کر ہنس پڑے اور کہنے لگے: اے میرے پروردگار! مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کی ہے، اور یہ کہ میں ایسے نیک عمل کروں جن سے تو راضی ہو جائے، اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں میں شامل فرما۔"

آیت کی وضاحت و تفسیر اور خلاصہ و اسباق

1 آیت کی وضاحت و تفسیر — واقعے کا پس منظر — حضرت سلیمان علیہ السلام اپنے لشکر (جنوں، انسانوں اور پرندوں) کے ساتھ ایک وادی سے گزر رہے تھے جسے "وادیِ نمل" (چیونٹیوں کی وادی) کہا جاتا ہے۔ ایک چیونٹی نے لشکر کو آتے دیکھا تو دوسری چیونٹیوں سے کہا کہ جلدی سے اپنے بلوں میں چلی جاؤ تاکہ سلیمان اور ان کا لشکر بے خبری میں تمہیں کچل نہ ڈالے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو جانوروں اور پرندوں کی بولیاں سمجھنے کا معجزہ عطا فرمایا تھا، چنانچہ انہوں نے چیونٹی کی یہ بات سن لی۔
2 آیت کی وضاحت و تفسیر — چیونٹی کی بات پر مسکرانا — حضرت سلیمان علیہ السلام چیونٹی کی اس بات پر مسکرا دیے: (1) تعجب اور خوشی — چیونٹی کی حکمت اور اپنے ساتھیوں کی حفاظت کی فکر پر؛ (2) عدل و انصاف کا اعتراف — چیونٹی کا یہ جملہ کہ "وہ بے خبری میں تمہیں کچل نہ دیں" اس بات کا ثبوت تھا کہ چیونٹیوں کو بھی حضرت سلیمان علیہ السلام کے عدل اور رحم دلی پر پورا یقین تھا کہ وہ جان بوجھ کر کسی پر ظلم نہیں کر سکتے۔
3 آیت کی وضاحت و تفسیر — حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعا — چیونٹی کی بات سن کر وہ غرور میں مبتلا نہیں ہوئے، بلکہ فوراً اللہ کے حضور جھک گئے اور جامع دعا مانگی: (1) شکرِ نعمت کی توفیق (رَبِّ أَوۡزِعۡنِيٓ...) — اس عظیم معجزے اور اپنے والدین (حضرت داؤد علیہ السلام) پر کیے گئے احسانات پر شکر ادا کرنے کی توفیق؛ (2) رضائے الٰہی کے مطابق اعمال (وَأَنۡ أَعۡمَلَ صَٰلِحٗا تَرۡضَىٰهُ) — صرف نیک اعمال نہیں بلکہ ایسے نیک اعمال جن سے اللہ راضی ہو؛ (3) صالحین میں شمولیت (وَأَدۡخِلۡنِي بِرَحۡمَتِكَ...) — بادشاہت، معجزات اور نبوت کے باوجود انہوں نے اپنی تمام کامیابیوں کو اللہ کی رحمت کا مرہونِ منت قرار دیا اور صالحین کی معیت کی دعا کی۔
4 خلاصہ و اسباق — عاجزی و انکساری — انسان کو جتنی بھی طاقت، علم یا اقتدار مل جائے، اسے تکبر کے بجائے اللہ کی بارگاہ میں عاجز ہونا چاہیے۔
5 خلاصہ و اسباق — نعمتوں پر شکر — اللہ کی عطا کردہ ہر نعمت (علم، معجزہ یا سہولت) کا شکر ادا کرنا مومن کی شان ہے۔
6 خلاصہ و اسباق — صالحین کی صحبت — انسان کو ہمیشہ اللہ سے نیک بندوں کے زمرے میں شامل ہونے کی دعا کرتے رہنا چاہیے۔
9 تفصیلی جوابات

سورۃ النمل کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔

جواب نوٹ: اس سوال کا جواب نصابی کتاب کے صفحہ نمبر 78 پر موجود ہے۔
10 تفصیلی جوابات

إِنِّي وَجَدتُّ ٱمۡرَأَةٗ تَمۡلِكُهُمۡ وَأُوتِيَتۡ مِن كُلِّ شَيۡءٖ وَلَهَا عَرۡشٌ عَظِيمٞ وَجَدتُّهَا وَقَوۡمَهَا يَسۡجُدُونَ لِلشَّمۡسِ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَزَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيۡطَٰنُ أَعۡمَٰلَهُمۡ فَصَدَّهُمۡ عَنِ ٱلسَّبِيلِ فَهُمۡ لَا يَهۡتَدُونَ (سورۃ النمل ۔ آیات 23 تا 24)

آیاتِ کریمہ کے مطابق ہدہد نے سلیمان علیہ السلام کو قومِ سبا کی کیا تفصیلات بتائیں؟

ترجمہ

"میں نے ایک عورت دیکھی جو ان پر حکومت کر رہی ہے، اور اسے ہر طرح کی چیز (سلطنت کا سامان) دی گئی ہے اور اس کا ایک بڑا عظیم الشان تخت ہے۔ میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں، اور شیطان نے ان کے اعمال ان کے لیے خوب صورت بنا کر دکھائے ہیں اور انہیں (سیدھے) راستے سے روک دیا ہے، سو وہ ہدایت نہیں پاتے۔"

ہدہد نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو قومِ سبا کی سیاسی، معاشی اور دینی حالت کی مکمل اور جامع رپورٹ دی:

1 عورت کی حکمرانی (سیاسی حالت) — اس قوم پر ایک عورت حکومت کر رہی ہے (جس کا نام تاریخ اور تفاسیر میں ملکہ بلقیس بتایا گیا ہے)۔
2 فراوانی اور خوش حالی (معاشی و مادی حالت) — ملکہ کو وہ تمام وسائل، اسباب اور سامانِ سلطنت میسر ہیں جو ایک عظیم اور طاقت ور حکمران کے پاس ہونے چاہئیں۔
3 عظیم الشان تخت (شوکت و شان) — ملکہ کے پاس ایک نہایت عالی شان، بڑا اور مزین تخت ہے جو اس کی سلطنت کے جاہ و جلال اور طاقت کا مظہر ہے۔
4 شرک اور سورج پرستی (دینی حالت) — وہ قوم توحید سے محروم ہے؛ ملکہ اور اس کی قوم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر سورج کی پرستش کرتی ہے۔
5 شیطانی فریب (نفسیاتی حالت) — شیطان نے ان کے اس باطل عمل کو ان کی نظروں میں خوب صورت اور پسندیدہ بنا دیا ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنے شرک کو ہی عین حق سمجھتے ہیں اور حق و ہدایت کے راستے سے بالکل محروم ہو چکے ہیں۔
جواب خلاصہ: ہدہد نے واضح کیا کہ قومِ سبا مادی اعتبار سے نہایت ترقی یافتہ، خوش حال اور طاقت ور ہے، لیکن روحانی اور دینی اعتبار سے شدید گمراہی اور سورج پرستی کا شکار ہے۔
11 تفصیلی جوابات

قَالَتۡ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلۡمَلَؤُاْ إِنِّيٓ أُلۡقِيَ إِلَيَّ كِتَٰبٞ كَرِيمٌ إِنَّهُۥ مِن سُلَيۡمَٰنَ وَإِنَّهُۥ بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ أَلَّا تَعۡلُواْ عَلَيَّ وَأۡتُونِي مُسۡلِمِينَ (سورۃ النمل ۔ آیات 29 تا 31)

آیاتِ کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت تحریر کریں۔

ترجمہ

"(ملکہ نے) کہا: اے دربار والو! میری طرف ایک عزت والا (اہم) خط پھینکا گیا ہے۔ وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور وہ یہ ہے کہ: اللہ کے نام سے (شروع) جو نہایت مہربان، رحم والا ہے۔ (مضمون یہ ہے کہ) میرے مقابلے میں سرکشی نہ کرو اور میرے پاس اطاعت گزار (مسلمان) بن کر حاضر ہو جاؤ۔"

آیات کی وضاحت و تفسیر اور خلاصہ و اسباق

1 آیات کی وضاحت و تفسیر — ملکہ کا درباریوں سے مشورہ اور خط کا احترام (كِتَٰبٞ كَرِيمٌ) — جب ہدہد نے حضرت سلیمان علیہ السلام کا خط ملکہ سبا کے محل میں پہنچایا تو ملکہ نے اسے پڑھنے کے بعد اپنے سرداروں اور وزراء کو جمع کیا۔ ملکہ نے اس خط کو "کتابٌ کریم" (عزت والا/باعظمت خط) کہا، جس کی چند وجوہات تفاسیر میں بیان کی گئی ہیں: خط کا انداز نہایت مؤدبانہ، حاکمانہ اور سنجیدہ تھا؛ اس کا آغاز اللہ تعالیٰ کے مبارک نام سے تھا؛ اور خط لانے کا طریقہ غیر معمولی اور معجزانہ (پرندے کے ذریعے) تھا۔
2 آیات کی وضاحت و تفسیر — خط کا آغاز (بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ) — حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنے خط کا آغاز اللہ کے نام سے کیا۔ تفاسیر میں آتا ہے کہ خطوط اور تحریروں کا آغاز تسمیہ (بسم اللہ) سے کرنا سنتِ انبیاء ہے۔
3 آیات کی وضاحت و تفسیر — خط کا مختصر مگر جامع مضمون — خط کسی طویل تمہید کے بغیر نہایت مختصر، جامع اور پُراثر تھا: "أَلَّا تَعۡلُواْ عَلَيَّ" (مجھ پر سرکشی نہ کرو) — یعنی اپنے اقتدار یا طاقت کے غرور میں آ کر حق کی مخالفت نہ کرو؛ "وَأۡتُونِي مُسۡلِمِينَ" (اور میرے پاس مطیع بن کر آ جاؤ) — یعنی اللہ کی توحید قبول کرتے ہوئے اور اطاعت اختیار کرتے ہوئے حاضر ہو جاؤ۔
4 خلاصہ و اسباق — دعوتِ دین میں اختصار اور اثر پذیری — حضرت سلیمان علیہ السلام کا خط اس بات کا بہترین نمونہ ہے کہ حق کی بات کو بغیر فضول طوالت کے، واضح اور دو ٹوک انداز میں پیش کرنا چاہیے۔
5 خلاصہ و اسباق — حکمرانوں کی دانش مندی — ملکہ سبا نے ایک اہم اور نازک صورتِ حال پر تنہا فیصلہ کرنے کے بجائے اپنے ارکانِ دولت سے مشورہ کیا، جو اس کی بصیرت کو ظاہر کرتا ہے۔
6 خلاصہ و اسباق — بسم اللہ کی اہمیت — کسی بھی اہم کام یا خط و کتابت کا آغاز "بسم اللہ الرحمن الرحیم" سے کرنا انبیاء کا طریقہ ہے۔

سرگرمیاں برائے طلبہ

12 سرگرمیاں برائے طلبہ

وَجَدتُّهَا وَقَوۡمَهَا يَسۡجُدُونَ لِلشَّمۡسِ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَزَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيۡطَٰنُ أَعۡمَٰلَهُمۡ فَصَدَّهُمۡ عَنِ ٱلسَّبِيلِ فَهُمۡ لَا يَهۡتَدُونَ

شیطان برے اعمال کو کس طرح خوش نما بنا کر پیش کرتا ہے؟ برے اعمال سے بچنے کی تدابیر پر مذاکرہ تحریر کریں۔

سورۃ النمل میں ہدہد کے واقعے میں ذکر آتا ہے کہ شیطان کس طرح انسانوں کو گمراہ کرتا ہے: "اور شیطان نے ان کے اعمال ان کے لیے خوش نما بنا دیے، پھر انہیں (سیدھے) راستے سے روک دیا۔"

شیطان کا برے اعمال کو خوش نما (مزین) بنا کر پیش کرنا اور برے اعمال سے بچنے کی تدابیر

1 شیطان کا برے اعمال کو خوش نما (مزین) بنا کر پیش کرنا — نام تبدیل کرنا اور دھوکا دینا — گناہ کو اچھے اور جدید نام دے کر پیش کرتا ہے — مثلاً سود کو "منافع"، بے حیائی کو "فیشن" یا "آزادی"، اور غیبت کو "تبصرہ" یا "حق گوئی" کا نام دینا۔
2 شیطان کا برے اعمال کو خوش نما (مزین) بنا کر پیش کرنا — عقل اور منطق کے پردے میں پیش کرنا — انسان کو یہ باور کراتا ہے کہ وہ جو کر رہا ہے بالکل صحیح اور وقت کی ضرورت ہے۔
3 شیطان کا برے اعمال کو خوش نما (مزین) بنا کر پیش کرنا — فانی فائدے اور لذت کو نمایاں کرنا — گناہ کے عارضی فائدے یا لذت کو بڑا کر کے دکھاتا ہے اور اس کے مستقل نقصان (آخرت کی سزا) کو بھلا دیتا ہے۔
4 شیطان کا برے اعمال کو خوش نما (مزین) بنا کر پیش کرنا — توبہ کی جھوٹی امید — انسان کو یہ وسوسہ دیتا ہے کہ "ابھی تو عمر پڑی ہے، بعد میں توبہ کر لینا، اللہ غفور رحیم ہے۔"
5 برے اعمال سے بچنے کی تدابیر — اللہ کی پناہ مانگنا (تعوذ) — جب بھی دل میں برائی کا خیال آئے تو "أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ" پڑھیں اور استغفار کی کثرت کریں۔
6 برے اعمال سے بچنے کی تدابیر — نیک اور اچھے دوستوں کی صحبت — برے ماحول اور بری صحبت سے پرہیز کریں، کیونکہ انسان اپنے دوستوں کے دین اور اندازِ فکر سے متاثر ہوتا ہے۔
7 برے اعمال سے بچنے کی تدابیر — قرآن و سنت سے گہرا تعلق — قرآن مجید کو ترجمہ و تفہیم کے ساتھ پڑھیں تاکہ حق و باطل کی تمیز قائم رہے۔
8 برے اعمال سے بچنے کی تدابیر — حلال و حرام کی تمیز — روزمرہ زندگی اور روزگار میں حلال اور حرام کا خاص خیال رکھیں، کیونکہ حرام روزی انسان کے دل کو سخت کر دیتی ہے۔
9 برے اعمال سے بچنے کی تدابیر — خود احتسابی (محاسبۂ نفس) — روزانہ سونے سے پہلے اپنے دن بھر کے اعمال کا جائزہ لیں، برائیوں پر معافی مانگیں اور اچھے کاموں پر اللہ کا شکر ادا کریں۔
10 برے اعمال سے بچنے کی تدابیر — نماز کی پابندی — باقاعدگی سے نماز ادا کریں، کیونکہ نماز انسان کو بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔
13 سرگرمیاں برائے طلبہ

حَتَّىٰٓ إِذَآ أَتَوۡاْ عَلَىٰ وَادِ ٱلنَّمۡلِ قَالَتۡ نَمۡلَةٞ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّمۡلُ ٱدۡخُلُواْ مَسَٰكِنَكُمۡ لَا يَحۡطِمَنَّكُمۡ سُلَيۡمَٰنُ وَجُنُودُهُۥ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُونَ

چیونٹیاں کس طرح باہمی تعاون اور مسلسل کوشش سے اپنا کام جاری رکھتی ہیں؟ چیونٹیوں کے اس منظم نظام کے بارے میں تحقیق کریں، نیز اس سے حاصل ہونے والے اسباق نوٹ کریں۔

قرآن مجید کی سورۃ النمل کا نام ہی چیونٹی (النمل) کے نام پر رکھا گیا ہے۔ اس سورت میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے لشکر کی آمد پر ایک چیونٹی کا اپنی قوم کو خبردار کرنے کا واقعہ درج ہے، جو ان کی حسِ ذمہ داری اور نظم و ضبط کو ظاہر کرتا ہے۔

چیونٹیوں کا منظم نظام اور باہمی تعاون اور چیونٹیوں کے نظام سے حاصل ہونے والے اسباق

1 چیونٹیوں کا منظم نظام اور باہمی تعاون — تقسیمِ کار — چیونٹیوں کی کالونی میں ہر رکن کی ذمہ داری طے ہوتی ہے: ملکہ، کارکن چیونٹیاں اور محافظ سب اپنے اپنے فرائض بغیر کسی سستی کے انجام دیتے ہیں۔
2 چیونٹیوں کا منظم نظام اور باہمی تعاون — کیمیائی مواصلات (فیرومونز) — چیونٹیاں ایک دوسرے سے رابطے کے لیے خاص قسم کا کیمیائی مادہ چھوڑتی ہیں؛ اسی کی مدد سے وہ قطار میں چلتی ہیں، خوراک کے راستے کی نشان دہی کرتی ہیں اور خطرے کی صورت میں ایک دوسرے کو آگاہ کرتی ہیں۔
3 چیونٹیوں کا منظم نظام اور باہمی تعاون — باہمی تعاون اور اتحاد — جب خوراک کا کوئی بڑا ٹکڑا ملتا ہے جو ایک چیونٹی کے بس سے باہر ہو تو وہ مل جل کر اسے اٹھاتی ہیں؛ مشکل راستوں پر وہ ایک دوسرے کے جسموں سے "زندہ پل" بنا کر راستہ عبور کرتی ہیں۔
4 چیونٹیوں کا منظم نظام اور باہمی تعاون — مسلسل کوشش اور محنت — چیونٹی کبھی ہار نہیں مانتی؛ راستہ روک دیا جائے تو متبادل راستہ تلاش کرتی ہے۔ وہ اپنے وزن سے تقریباً 50 گنا زیادہ وزنی اشیاء اٹھانے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور آئندہ (مثلاً سردیوں) کے لیے خوراک ذخیرہ کرتی ہیں۔
5 چیونٹیوں کے نظام سے حاصل ہونے والے اسباق — نظم و ضبط — چیونٹیاں ہمیشہ ایک لائن اور ترتیب سے چلتی ہیں؛ یہ ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں ڈسپلن قائم رکھنے کا درس دیتی ہیں۔
6 چیونٹیوں کے نظام سے حاصل ہونے والے اسباق — باہمی اتحاد و یک جہتی — اکیلی چیونٹی کمزور ہوتی ہے لیکن مل کر وہ بڑے سے بڑا کام کر لیتی ہیں؛ معاشرتی ترقی کے لیے باہمی تعاون لازمی ہے۔
7 چیونٹیوں کے نظام سے حاصل ہونے والے اسباق — مستقل مزاجی اور جدوجہد — چیونٹی کبھی تھک کر بیٹھتی نہیں اور نہ رکاوٹوں سے گھبراتی ہے؛ کامیابی کا راز مسلسل محنت میں پنہاں ہے۔
8 چیونٹیوں کے نظام سے حاصل ہونے والے اسباق — مستقبل کی منصوبہ بندی — چیونٹیاں گرمیوں میں محنت کر کے سردیوں کے لیے کھانا جمع کرتی ہیں؛ ہمیں بھی اپنے مستقبل اور بالخصوص آخرت کی تیاری وقت پر کرنی چاہیے۔
9 چیونٹیوں کے نظام سے حاصل ہونے والے اسباق — ہمدردی اور حسِ ذمہ داری — ایک چیونٹی نے خطرہ دیکھ کر پوری قوم کو بچانے کی فکر کی (النمل: 18)؛ ہمیں بھی اپنے معاشرے کی خیر خواہی اور حفاظت کا جذبہ رکھنا چاہیے۔
14 سرگرمیاں برائے طلبہ

سیدنا سلیمان علیہ السلام کا واقعہ اور اس سے حاصل ہونے والے اسباق سے طلبہ کو آگاہ کریں۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو ایسی عظیم الشان سلطنت اور معجزات عطا فرمائے جو ان سے پہلے یا بعد میں کسی کو نہیں ملے۔ آپ کو انسانوں، جنوں، پرندوں اور ہواؤں پر حکومت دی گئی، اور آپ پرندوں اور جانوروں کی بولیاں بھی سمجھتے تھے۔ سورۃ النمل میں آپ کے واقعے کے نمایاں پہلو یہ ہیں:

واقعے کا مختصر پس منظر اور واقعے سے حاصل ہونے والے اسباق

1 واقعے کا مختصر پس منظر — چیونٹی کا واقعہ — ایک مرتبہ آپ اپنے لشکر کے ساتھ ایک وادی سے گزر رہے تھے تو ایک چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں سے کہا کہ جلدی سے اپنے بلوں میں چلی جاؤ تاکہ سلیمان اور ان کا لشکر تمہیں بے خبری میں روند نہ ڈالے۔ آپ نے اس کی بات سن کر مسکرا کر اللہ کا شکر ادا کیا۔
2 واقعے کا مختصر پس منظر — ہدہد اور ملکہ سبا کا واقعہ — جب آپ نے پرندوں کا جائزہ لیا تو ہدہد غائب تھا۔ بعد میں ہدہد نے آ کر خبر دی کہ قومِ سبا کی ایک ملکہ ہے جس کے پاس تمام نعمتیں ہیں، لیکن وہ اور اس کی قوم اللہ کے بجائے سورج کو سجدہ کرتے ہیں۔
3 واقعے کا مختصر پس منظر — دعوتِ توحید — آپ نے ملکہ سبا (بلقیس) کو خط لکھا جس میں اللہ کی توحید اور اطاعت کی دعوت دی۔ بالآخر ملکہ سبا نے آپ کے محل اور حکمت کو دیکھ کر اسلام قبول کر لیا۔
4 واقعے سے حاصل ہونے والے اسباق — عاجزی اور انکساری — اتنی بڑی سلطنت اور قوت کے باوجود حضرت سلیمان علیہ السلام نے کبھی تکبر نہیں کیا؛ چیونٹی کی بات سن کر بھی اللہ کا شکر ادا کیا۔ طالب علم کے لیے سبق: علم، قابلیت یا اعلیٰ نمبر ملنے پر کبھی غرور نہ کریں، بلکہ اسے اللہ کی نعمت سمجھ کر عاجزی اختیار کریں۔
5 واقعے سے حاصل ہونے والے اسباق — نعمتوں پر شکر گزاری — حضرت سلیمان علیہ السلام ہر نعمت پر دعا فرماتے: "اے میرے رب! مجھے توفیق دے کہ میں تیری ان نعمتوں کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کیں" (النمل: 19)۔ طالب علم کے لیے سبق: صحت، عقل، والدین اور اساتذہ کی نعمتوں پر ہمیشہ اللہ کا شکر ادا کریں۔
6 واقعے سے حاصل ہونے والے اسباق — حسِ ذمہ داری اور حاضری کی پابندی — آپ نے اپنے لشکر میں سے ایک چھوٹے سے پرندے (ہدہد) کی غیر حاضری کو بھی فوراً محسوس کر لیا۔ طالب علم کے لیے سبق: اسکول اور زندگی میں وقت کی پابندی اور حاضری کا خیال رکھیں، اور جو کام ذمے لگایا جائے اسے پوری ذمہ داری سے پورا کریں۔
7 واقعے سے حاصل ہونے والے اسباق — پیغام رسانی اور سچائی — ہدہد نے بغیر کسی خوف کے بالکل سچی اور دقیق معلومات اپنے بادشاہ تک پہنچائیں۔ طالب علم کے لیے سبق: ہمیشہ سچ بولیں، اور کوئی خبر آگے پھیلانے سے پہلے اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیں۔
8 واقعے سے حاصل ہونے والے اسباق — حکمت اور دانش مندی سے دعوت دینا — آپ نے ملکہ سبا کے ساتھ جنگ کرنے کے بجائے پہلے خط اور حکمت کے ذریعے حق کی دعوت دی۔ طالب علم کے لیے سبق: مسائل کو لڑائی جھگڑے کے بجائے بات چیت، اخلاق اور حکمت سے حل کریں۔
15 سرگرمیاں برائے طلبہ

وَأَدۡخِلۡ يَدَكَ فِي جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوٓءٖۖ فِي تِسۡعِ ءَايَٰتٍ إِلَىٰ فِرۡعَوۡنَ وَقَوۡمِهِۦٓۚ إِنَّهُمۡ كَانُواْ قَوۡمٗا فَٰسِقِينَ

اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو کون سے معجزات عطا فرمائے تھے؟ طلبہ کو ان معجزات کے بارے میں بتائیں۔

ترجمہ

"اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو، وہ بغیر کسی عیب کے چمکتا ہوا نکلے گا؛ (یہ) فرعون اور اس کی قوم کی طرف (لے جانے والی) نو نشانیوں میں سے ہے۔"

اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون اور اس کی قوم کی ہدایت کے لیے متعدد روشن اور واضح معجزات عطا فرمائے۔ اہم اور مشہور معجزات درج ذیل ہیں:

طلبہ کے لیے اسباق

1 عصا (لاٹھی) کا اژدہا بن جانا — جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی لاٹھی زمین پر پھینکتے تو وہ اللہ کے حکم سے ایک بڑا حقیقی اژدہا بن جاتی، اور اٹھانے پر دوبارہ عام لاٹھی بن جاتی۔ اس معجزے نے فرعون کے بڑے بڑے جادوگروں کے جھوٹے جادو کو نگل لیا، جس پر تمام جادوگر سجدے میں گر پڑے۔
2 یدِ بیضا (روشن اور چمکتا ہوا ہاتھ) — حضرت موسیٰ علیہ السلام جب اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالتے تو وہ کسی بیماری (مثلاً برص) کے بغیر سورج کی طرح چمکنے لگتا۔
3 سمندر کا دو ٹکڑے ہونا — جب فرعون اور اس کا لشکر بنی اسرائیل کا پیچھا کرتے ہوئے پہنچا تو اللہ کے حکم سے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا سمندر پر مارا؛ پانی دو بڑے پہاڑوں کی طرح الگ ہو گیا اور درمیان میں خشک راستہ بن گیا، جس سے بنی اسرائیل بحفاظت پار ہو گئے اور فرعون اپنے لشکر سمیت غرق ہو گیا۔
4 چٹان سے بارہ چشمے جاری ہونا — صحرائے سینا میں جب بنی اسرائیل کو پیاس لگی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے چٹان پر عصا مارا، جس سے پانی کے بارہ چشمے پھوٹ پڑے اور بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں نے اپنا اپنا پانی حاصل کر لیا۔
5 قومِ فرعون پر عذاب (نشانیوں کے طور پر) — فرعون اور اس کی قوم کی سرکشی پر اللہ تعالیٰ نے یکے بعد دیگرے مختلف عذاب بھیجے: طوفان (شدید بارشیں اور سیلاب)، ٹڈی دل (جنہوں نے فصلیں تباہ کر دیں)، جوئیں (ہر جگہ کیڑے پھیل گئے)، مینڈک (کھانوں اور برتنوں تک میں بھر گئے) اور خون (پینے کا پانی خون میں تبدیل ہو جاتا تھا)۔
6 اللہ کی قدرت و طاقت — معجزات اس بات کا ثبوت ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور تمام اسباب کا مالک ہے۔
7 حق کی فتح — باطل (فرعون اور جادو) کتنا ہی طاقت ور کیوں نہ ہو، حق (اللہ کا پیغام) کے سامنے ہمیشہ شکست کھاتا ہے۔
8 توکل اور ایمان — جب انسان اللہ پر سچا بھروسا رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ ناممکن کو بھی ممکن بنا دیتا ہے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.