آٹھویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 9: سبق 9: سورہ الذاریات — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمی · 15 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ ۔ وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ۔

آیات کریمہ میں متقین کی کون سی صفات بیان ہوئی ہیں؟

ترجمہ

اور سحری کے اوقات میں وہ استغفار کرتے تھے اور ان کے مالوں میں سوال کرنے والوں اور محتاجوں کا حق ہوتا تھا۔

متقین کی صفات

1 رات کے آخری وقت استغفار — رات کے پچھلے پہر (سحری کے وقت) جاگ کر اللہ تعالی سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں۔
2 یہ وقت قبولیتِ دعا کا خاص وقت ہوتا ہے، جہاں متقین عبادت اور توبہ میں مشغول ہوتے ہیں۔
3 مال میں حق داروں کا حصہ — اپنے مال میں محتاجوں، سائلین (مانگنے والوں) اور محروموں (جو سوال نہیں کرتے مگر ضرورت مند ہیں) کا حق مقرر کرتے ہیں۔
4 زکوٰۃ اور صدقات کے ذریعے غریبوں کی مالی مدد کرتے ہیں۔
2 مختصر جوابات

فَرَاغَ إِلَىٰ أَهْلِهِ فَجَاءَ بِعِجْلٍ سَمِينٍ۔

آیت کریمہ کی رو سے سیدنا ابراہیم نے کس شے سے مہمان نوازی فرمائی؟

ترجمہ

پھر خاموشی سے اپنے گھر والوں کی طرف گئے تو ایک بھنا ہوا موٹا بچھڑا لے آئے ۔

جواب آیت کریمہ کی رو سے سیدنا ابراہیم نے بھنے ہوئے بچھڑے سے مہمانوں کی مہمان نوازی فرمائی ۔۔یہ مہمان دراصل اللہ تعالی کی تین معزز فرشتے تھے جو انسانی شکل میں ابراہیم علیہ السلام کے پاس تشریف لائے تھے اور یہ حضرت جبرائیل علیہ السلام حضرت میکائیل علیہ السلام اور حضرت اسرافیل علیہ السلام تھے ۔
3 مختصر جوابات

فَأَخَذْنَاهُ وَجُنُودَهُ فَنَبَذْنَاهُمْ فِي الْيَمِّ وَهُوَ مُلِيمٌ۔

آیت کریمہ میں فرعون اور اس کے لشکر کا کیا انجام بیان ہوا؟

ترجمہ

اور ہم نے اسے اور اس کے لشکر کو پکڑ لیا پھر ان کو سمندر میں پھینک دیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرنے والا تھا۔

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالی نے بیان کیا ہے کہ اس نے فرعون اور اس کے لشکر کو سخت گرفت میں لے کر سمندر (یم) میں غرق کر دیا۔ اس وقت وہ ایسے برے اور گناہ والے کام کر چکے تھے جن کی وجہ سے وہ خود ملامت کے حق دار اور لائقِ مذمت تھے۔

فرعون اور لشکر کا انجام

1 گرفت اور ہلاکت — اللہ نے فرعون اور اس کے لشکر کو طاقت کے ساتھ پکڑا اور سب کو دریا میں پھینک کر ڈبو دیا۔
2 ملامت زدہ حالت (مُلیم) — وہ اپنے کفر، سرکشی، ظلم اور دعویٰ خدائی جیسے جرائم کی وجہ سے خود ملامت کے مستحق قرار پائے
4 مختصر جوابات

وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرَىٰ تَنفَعُ الْمُؤْمِنِينَ۔

آیت کریمہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا تلقین فرمائی گئی؟

ترجمہ

اور آپ نصیحت کرتے رہیے بے شک نصیحت مومنوں کو فائدہ دیتی ہے

اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نصیحت اور یاددہانی (تذکیر) جاری رکھنے کی تلقین فرمائی ہے، کیونکہ کافروں کی ہٹ دھرمی کے باوجود یہ عمل ایمان والوں کے لیے نفع بخش ہے۔

تبلیغی اور تربیتی ہدایات

1 نصیحت جاری رکھیں — کافروں کی بے رخی پر دل تنگ ہو کر تبلیغ کا کام نہ چھوڑیں بلکہ مسلسل سمجھاتے رہیں۔
2 مؤمنین کو فائدہ — نصیحت سے اہل ایمان کے علم، بصیرت اور ایمان میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔
3 ذمہ داری کی تکمیل — اس سےپہلی آیت میں تسلی دی گئی تھی کہ ہٹ دھرموں کے نہ ماننے پر آپ پر کوئی ملامت نہیں ہے
5 مختصر جوابات

اِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ۔

آیت کریمہ میں اللہ کی کون سی صفات ذکر کی گئی ہیں؟

ترجمہ

بے شک اللہ ہی سب سے بڑھ کر رزق دینے والا ہے بڑی قوت والا مضبوط ہے

آیت کریمہ میں اللہ تعالی کی تین صفات کا ذکر ہے

صفات کی تفصیل

1 الرزاق (بہت زیادہ رزق دینے والا) — تمام مخلوقات کو ان کی ضرورت کا رزق دینے والا ذات۔
2 ذُو الْقُوَّةِ — (بڑی طاقت والا): وہ ذات جو کامل اور عظیم قدرت کی مالکن ہے۔
3 المتین (بہت مضبوط) — وہ ذات جس کی طاقت اور قوت میں کبھی کمزوری نہیں آتی۔

تفصیلی جوابات

6 تفصیلی جوابات

قُتِلَ الخَرّٰصُونَ۔ الَّذِينَ هُمْ فِي غَمْرَةٍ سَاهُونَ۔ يَسْأَلُونَ أَيَّانَ يَوْمُ الدَِّينِ۔ يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ۔

آیات کریمہ کا ترجمہ کریں اور مفہوم بیان کریں۔

ترجمہ

ہلاک ہو جائیں جھوٹے اندازے لگانے والے جو غفلت میں پڑے حق کو بھولے ہوئے ہیں وہ پوچھتے ہیں بدلے کا دن کب ہوگا اس دن جب وہ آگ میں جلائےجائیں گے۔

مفہوم

1 الخرّاصون (اٹکل دوڑانے والے) — اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو بغیر کسی علم، دلیل یا سچائی کے محض قیاس آرائیاں کرتے ہیں اور کائنات کے نظام اور آخرت کے بارے میں جھوٹے تخمینے لگاتے ہیں۔ یہ لوگ قیامت اور زندگی بعد الموت کے منکر تھے۔
2 غمرۃ ساہون (غفلت میں ڈوبے ہوئے) — یہ لوگ جہالت کی ایسی گہرائی میں پڑے ہیں جہاں دنیا کی عیش و عشرت نے انہیں غافل کر رکھا ہے اور وہ اپنے انجام سے بے خبر غفلت کی نیند سو رہے ہیں۔
3 قیامت کے بارے میں تمسخرانہ سوال — جب ان کے پاس حق کا کوئی جواب نہیں رہتا تو وہ بطور استہزا (مذاق) اور انکار کے پوچھتے ہیں کہ ”آخر وہ جزا کا دن کب آئے گا؟“۔
4 آگ کا عذاب — اللہ تعالیٰ ان کے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ ان کے اس دن (قیامت) کے آنے کی خبر بالکل برحق ہے، اور وہ دن دور نہیں جب انہیں جہنم کی آگ کے سامنے لایا جائے گا اور اس میں جلایا/آزمایا جائے گا۔
7 تفصیلی جوابات

سورہ الذاریات کا تعارف اور مرکزی مضمون لکھیں؟

جواب کتاب صفحہ نمبر 80 پر جواب ہے
8 تفصیلی جوابات

وَلَا تَجْعَلُوا مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ ۖ إِنِّي لَكُمْ مِنْهُ نَذِيرٌ مُبِينٌ۔ كَذَٰلِكَ مَا أَتَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا قَالُوا سَاحِرٌ أَوْ مَجْنُونٌ۔

ترجمہ اور مفہوم لکھیں ۔

ترجمہ

اور اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود نہ بناؤ بے شک میں اس کی طرف سے تمہیں واضح ڈرانے والا ہوں اسی طرح ان سے پہلے لوگوں کی طرف جب بھی کوئی رسول آیا تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ یہ جادوگر یا مجنوں ہے

جواب اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے شرک سے سختی سے منع فرمایا ہے اور صرف ایک اکیلے اللہ کی عبادت کا حکم دیا ہے۔ نبی کریم ﷺ اپنی امت کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ میں تمہیں اس معبودِ برحق کی طرف سے نافرمانی اور شرک کے انجامِ بد اور عذاب سے صاف صاف ڈرانے والا نذیر ہوں۔ یہ آیت نبی کریم ﷺ کو تسلی دینے کے لیے نازل ہوئی۔ جب کفارِ مکہ آپ ﷺ کو جادوگر یا مجنون (دیوانہ) کہتے تو اللہ نے فرمایا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ آپ سے پہلے جتنے بھی انبیاء اپنے دور کی سرکش قوموں کے پاس آئے، ان کی قوموں نے بھی ان پر یہی بہتانات باندھے اور انہیں ساحر یا مجنون قرار دیا۔۔
9 تفصیلی جوابات

سورہ ازاریات کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں

جواب کتاب صفحہ نمبر 80
10 تفصیلی جوابات

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ۔ مَا أُرِيدُ مِنْهُمْ مِنْ رِزْقٍ وَمَا أُرِيدُ أَنْ يُطْعِمُونِ۔

آیات کریمہ کا ترجمہ اور مفہوم تحریر کریں۔

ترجمہ

اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا فرمایا کہ وہ میری عبادت کریں میں ان سے کوئی رزق نہیں چاہتا اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں۔

مفہوم

1 عبادتِ الٰہی مقصدِ تخلیق (آیت 56) — اللہ تعالیٰ نے جنات اور انسانوں کو جو عقل، شعور اور اختیار کی صلاحیتیں دی ہیں، ان کا اصل تقاضا یہ ہے کہ وہ صرف ایک اللہ کو اپنا معبود سمجھیں، اسی کے احکام مانیں اور عاجزی کا راستہ اختیار کریں۔ اس سے مراد اللہ کا وہ حکمی اور دینی ارادہ ہے جو وہ اپنے بندوں سے چاہتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہاں ”لیعبدون“ کا مطلب ”معرفتِ الٰہی“ یعنی اللہ کو پہچاننا بھی ہے۔
2 بے نیازیِ پروردگار (آیت 57) — چونکہ دنیا کے بادشاہ یا آقا اپنے ملازموں اور رعایا کو اس لیے پیدا کرتے یا رکھتے ہیں تاکہ وہ ان کے لیے کمائی کریں یا ان کے کام آئیں ، اس لیے اللہ نے واضح کر دیا کہ وہ اس طرح کی کسی احتیاج سے پاک ہے۔ اللہ تعالی نہ تو بندوں سے کوئی رزق مانگتا ہے اور نہ ہی اس بات کا محتاج ہے کہ بندے اسے کھلائیں، بلکہ وہ خود تمام مخلوق کو رزق دینے والا ہے۔ بندوں کی عبادت کا فائدہ خود بندوں کو ہی ملتا ہے، اس سے اللہ کی شان میں کوئی اضافہ یا کمی نہیں ہوتی
11 تفصیلی جوابات

سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور ان کے معزز مہمانوں کے قصے سے ہمارے لیے کیا سبق ہے؟

سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور فرشتوں کے واقعے سے ہمیں مہمان نوازی کا ادب، خوش دلی سے خدمت، اور نیک لوگوں کو اچھی خبر ملنے کا سبق ملتا ہے۔ اس واقعے کے اہم اسباق یہ ہیں: سلام کرنا ،مہمان کی عزت کرنا، جلدی سے کھانا حاضر کرنا، اور اچھے اخلاق اپنانا۔

مہمان نوازی اور آداب

1 سلام — ملاقات کے وقت سب سے پہلے سلام کرنا چاہیے اس کے بعد بات چیت کرنی چاہیے۔جیسا کہ فرشتوں نے کیا۔
2 خاموش خدمت — آپ نے مہمانوں کو دیکھا تو بغیر بتائے فوراً اچھے کھانے کا انتظام کیا۔
3 عمدہ طعام — مہمانوں کے آگے بھنا ہوا موٹا بچھڑا لا کر رکھا، جو کہ بہترین سخاوت کی نشانی ہے۔
4 خوش اخلاقی — مہمانوں سے نرمی اور عزت سے بات چیت کی

سرگرمی

12 سرگرمی

ایک فہرست بنائیں کہ ہم کن کن طریقوں سے اللہ کی عبادت کر سکتے ہیں

ہم درج ذیل طریقوں سے اللہ تعالی کی عبادت کر سکتے ہیں

1 فرائض کی ادائیگی مثلا نماز ،روزہ، زکوۃ اور حج وغیرہ ادا کر کے
2 ذکر و اذکار اور تلاوت قرآن کر کے
3 اخلاقی اور سماجی عبادات یعنی حقوق العباد ،والدین کی خدمت، صلہ رحمی ،انسانیت کی خدمت ،سچائی اور دیانت داری وغیرہ کو اپنا کر
4 توکل ،شکر ،صبراور اخلاص وغیرہ کو اختیار کر کے
5 علم کی طلب اور اشاعت ۔دین کا علم حاصل کرنا دوسروں کو دین کی دعوت دینا وغیرہ
13 سرگرمی

ملاقات کے آداب تحریر کریں۔

جواب ۔ملاقات کے آداب

1 ۔جب کسی مسلمان بہن بھائی سے ملیں تو ان کو سلام میں پہل کریں
2 اگر کوئی ہمیں سلام کرے تو پھر لازما سلام کا جواب دینا چاہیے
3 خندہ پیشانی سے استقبال کرنا چاہیے
4 نہایت ادب و احترام سے بیٹھنے کے لیے جگہ دینی چاہیے
5 اگر عمر میں بڑے اور بزرگ اآجائیں تو فورا اپنی جگہ سے اٹھ کر ان کو جگہ دینی چاہیے
6 مصافہ یعنی ہاتھ ملا کر ملنا چاہیے اور زیادہ بہتر ہے کہ معانقہ کیا جائے یعنی گلے ملنا چاہیے
7 اگر کھانے کا وقت ہو تو کھانا کھلانا چاہیے اور اگر کھانا کھلانے کی استطاعت نہ ہو تو اپنی استطاعت کے مطابق کچھ نہ کچھ مہمان نوازی ضرور کرنی چاہیے۔
14 سرگرمی

سلام کی اہمیت قرآن و سنت کی روشنی میں ۔

سلام کی اہمیت قرآن و سنت کی روشنی میں بہت زیادہ ہے، کیونکہ سلام [اسلامی تعارف، محبت کا ذریعہ اور امن کی ضمانت] ہے۔

قرآن مجید کی روشنی میں سلام کی اہمیت اور سنتِ نبوی کی روشنی میں سلام کی اہمیت

1 قرآن مجید کی روشنی میں سلام کی اہمیت: آدابِ ملاقات — جب گھروں میں داخل ہوں تو اپنے گھر والوں کو سلام کرو، جو اللہ کی طرف سے بابرکت اور پاکیزہ تحفہ ہے (سورۃ النور: 61)۔
2 قرآن مجید کی روشنی میں سلام کی اہمیت: تحفہِ تحیت — جب تمہیں سلام کیا جائے تو اس سے اچھے طریقے سے سلام کا جواب دو یا اسی طرح لوٹا دو (سورۃ النساء: 86)۔
3 قرآن مجید کی روشنی میں سلام کی اہمیت: فرشتوں کا سلام — جب جنتی جنت میں جائیں گے تو فرشتے کہیں گے ”سلام علیکم“ (سورۃ الرعد: 24)۔
4 سنتِ نبوی کی روشنی میں سلام کی اہمیت: بہترین عمل — آپ ﷺ سے پوچھا گیا کہ کون سا اسلام کا عمل بہتر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کھانا کھلاؤ اور ہر شخص کو سلام کرو خواہ اسے جانتے ہو یا نہ جانتے“ (بخاری و مسلم)۔
5 سنتِ نبوی کی روشنی میں سلام کی اہمیت: محبت کا فروغ — آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اس وقت تک جنت میں نہیں جاؤ گے جب تک ایمان نہ لاؤ گے، اور اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک آپس میں محبت نہ کرو۔ کیا میں تمہیں ایسی بات نہ بتاؤں کہ جب تم اسے کرو گے تو آپس میں محبت ہونے لگے گی؟ آپس میں سلام کو عام کرو“
6 سنتِ نبوی کی روشنی میں سلام کی اہمیت: حقوق المسلم — مسلمان کے مسلمان پر پانچ حقوق ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ جب وہ ملے تو اسے سلام کہے (بخاری و مسلم)۔
15 سرگرمی

مرکب تام اور مرکب ناقص کی چند قرآنی مثالیں تحریر کریں

جواب مرکب تام اور مرکب ناقص کی چند قرآنی مثالیں جیسے ۔یومھم ان کے اس دن ۔ذوالقوہ بڑی قوت والا ۔قوم نوح نوح علیہ السلام کی قوم کتاب اللہ اللہ کی کتاب وغیرہ مرکب تام جیسے اللہ احد ۔اللہ الصمد ۔ینقضون عھداللہ (وہ اللہ کے عہد کو توڑتے ہیں)

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.