آٹھویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 10: سبق 10: سورہ الطور

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمی · 14 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَنَعِيمٍ ۔ فَاكِهِينَ بِمَا آتَاهُمْ رَبُّهُمْ وَوَقَاهُمْ رَبُّهُمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ

آیات کریمہ میں بیان کردہ متقین کے لیے جنت کی کن نعمتوں کا ذکر ہے ؟

ترجمہ

بے شک پرہیزگار باغوں اور نعمتوں میں ہوں گے جو نعمتیں ان کا رب انہیں عطا فرمائے گا ان سے لطف اندوز ہو رہے ہوں گے اور ان کا رب انہیں جہنم کی عذاب سے محفوظ فرمائے گا

جنت کی نعمتیں اور انعامات

1 باغات اور نعمتیں — متقی لوگ سرسبز و شاداب جنتوں اور دائمی راحت و آسائش میں ہوں گے۔
2 رب کی عطا پر خوشی — وہ اللہ تعالیٰ کے انعام واکرام اور عطاؤں پر نہایت شاداں و فرحاں ہوں گے۔
3 عذابِ جہنم سے بچاؤ — سب سے بڑی روحانی و جسمانی راحت یہ ہوگی کہ رب نے انہیں دوزخ کے جلانے والے عذاب سے محفوظ رکھا۔
2 مختصر جوابات

مُتَّكِئِينَ عَلَىٰ سُرُرٍ مَصْفُوفَةٍ ۖ وَزَوَّجْنَاهُمْ بِحُورٍ عِينٍ۔۔

آیت کریمہ میں ا ہل جنت کے لیے کن انعامات کا ذکر کیا گیا ہے؟

ترجمہ

وہ قطاروں میں بچھے ہوئے تختوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے اور ہم بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں کے ساتھ ان کا نکاح کر دیں گے۔

جنت کے انعامات

1 تختوں پر آرام — جنتی حضرات قطار اندر قطار (یا آمنے سامنے) خوبصورت بچھونوں سے آراستہ تختوں پر تکیے لگائے قرار اور آرام سے براجمان ہوں گے۔
2 حورِ عین کی زوجیت — اللہ تعالیٰ جنت میں ان کا نکاح بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں والی پاکیزہ حوروں سے فرما دیں گے
3 مختصر جوابات

قَالُوا إِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِي أَهْلِنَا مُشْفِقِينَ ۔

اہل جنت عذاب سے بچائے جانے کی کیا وجہ بیان کریں گے؟

ترجمہ

وہ کہیں گے بے شک ہم اس سے پہلے اپنے گھر والوں میں اللہ کے عذاب سے ڈرتے رہتے تھے

دنیا میں خوفِ خدا اور اعمالِ صالحہ کا اہتمام

1 دنیا میں خوفِ خدا: وہ دنیا کی زندگی میں اللہ کی نافرمانی اور اس کے عذاب سے ڈرتے رہتے تھے۔
2 دنیا میں خوفِ خدا: یہ ڈر انہیں برے کاموں سے روکتا تھا اور اچھے کام کرنے کی طاقت دیتا تھا۔
3 اعمالِ صالحہ کا اہتمام: عذاب کے ڈر کی وجہ سے وہ عبادت اور تقویٰ کی راہ پر پکے رہتے تھے۔
4 اعمالِ صالحہ کا اہتمام: انہوں نے اپنی دنیاوی زندگی اللہ کے احکام کے مطابق گزاری
4 مختصر جوابات

فَلْيَأْتُوا بِحَدِيثٍ مِثْلِهِ إِنْ كَانُوا صَادِقِينَ ۔

قرآن حکیم پر کفار کے اعتراض کا کیا جواب دیا گیا ہے؟

ترجمہ

تو چاہیے کہ وہ اس جیسا کوئی کلام لے آئیں اگر وہ سچے ہیں۔

سورۃ الطور کی آیت نمبر 34 میں کفار کے اس اعتراض کا عملی اور واضح جواب دیا گیا ہے جس میں وہ دعویٰ کرتے تھے کہ قرآن مجید اللہ کا کلام نہیں بلکہ معاذ اللہ آپ ﷺ کا خود ساختہ کلام ہے۔ اللہ تعالی نے انہیں چیلنج دیا کہ

1 چیلنجِ کلام — اس جیسا کلام لانے کا مطالبہ
2 سچائی کا امتحان — اگر وہ اپنے اس دعویٰ میں سچے ہیں
3 عاجزی کا اظہار — کہ وہ عرب کے فصحاء اور بلغا کو ملا کر بھی اس جیسا ایک فصیح و بلیغ کلام پیش نہیں کر سکتے
5 مختصر جوابات

وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنَا ۖ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِينَ تَقُومُ۔

آیت کریمہ میں نبی کریم کو کیا تلقین فرمائی گئی ہے؟

ترجمہ

اور آپ اپنے رب کا حکم آنے تک صبر کیجئے تو بے شک آپ ہماری انکھوں کے سامنے ہیں اور جب بھی آپ اٹھیں اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجیے۔

اہم تلقین اور ہدایات

1 صبر کا حکم — کافروں کی تکلیف دہ باتوں اور مخالفت پر دل تنگ نہ کرنے اور اللہ کے فیصلے یا حکم کا انتظار کرنے کی تلقین۔
2 الہی نگرانی کا یقین — تسلی دی گئی کہ آپ بے یارومددگار نہیں ہیں بلکہ ہماری آنکھوں کے سامنے اور مکمل حفاظت میں ہیں۔
3 ذکر و تسبیح — جب بھی آپ (عبادت یا نماز کے لیے) کھڑے ہوں، اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی پاکی بیان کریں

تفصیلی جوابات

6 تفصیلی جوابات

فَوَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِلْمُكَذِّبِينَ ۔ الَّذِينَ هُمْ فِي خَوْضٍ يَلْعَبُونَ۔

آیات کریمہ کا ترجمہ اورمفہوم لکھیں۔

ترجمہ

تو اس دن جھٹلانے والوں کے لیے ہلاکت ہے جو بیہودہ باتوں میں کھیل رہے ہیں۔

مفہوم

1 ویل (ویل کا معنی) — ویل“ کا لفظ سخت عذاب، ہلاکت اور بربادی کے معنی میں آتا ہے۔ یہ اس دن (قیامت کے دن) کا عذاب ہے جو کافروں اور منکرین پر نازل ہوگا۔
2 المکذبین (تکذیب کرنے والے) — اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ کے رسولوں، قرآن اور آخرت کے دن کو جھٹلاتے ہیں۔
3 خوض (باطل میں مشغولیت) — ”خوض“ کا مطلب ہے کسی لغو یا باطل کام میں گہرائی میں اتر جانا یا بے بنیاد باتیں کرنا۔ مفسرین کے مطابق یہ دنیا کی زندگی میں دین کا مذاق اڑانے اور قرآن و نبوت کے خلاف شک اور بہتان تراشی کرنے میں مصروف تھے۔
4 یلعبون (کھیل کود) — یہ لوگ اپنی زندگی کو سنجیدہ نہیں لیتے بلکہ دنیا کی عارضی زندگی کو ایک کھیل تماشا سمجھتے ہیں، غافل رہتے ہیں کہ ان کو مرنے کے بعد اپنے اعمال کا حساب دینا ہے
7 تفصیلی جوابات

سورہ طور کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔

جواب کتاب صفحہ نمبر 87
8 تفصیلی جوابات

أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ۔ أَمْ خَلَقُوا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ۚ بَلْ لَا يُوقِنُونَ۔ أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُونَ۔

آیات کا ترجمہ تحریر کریں اور وضاحت کریں۔

ترجمہ

کیا وہ کسی خالق کے بغیر ہی پیدا کئے گئے ہیں یا وہ خود ہی اپنے خالق ہیں ۔کیا انہوں نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا ہے ہرگز نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ وہ یقین نہیں رکھتے ۔کیا ان کے پاس آپ کے رب کے خزانے ہیں یا وہ حاکم بنے ہوئے ہیں۔

سورۃ الطور کی آیات 35، 36 اور 37 میں اللہ تعالی نے مشرکینِ مکہ کے من گھڑت عقائد اور تکبر کا عقلی اور دلائل پر مبنی رد کیا ہے

1 کیا وہ بغیر خالق کے پیدا ہوئے یا خود اپنے خالق ہیں؟
2 کیا انہوں نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے؟
3 غیب کے خزانے ان کے پاس ہیں یا وہ مسلط ہیں؟
4 توحید اور تخلیق کا عقلی ثبوت (آیت 35): خالقِ حقیقی — اللہ تعالی فرماتا ہے کہ یہ انسان خود بخود بغیر کسی خالق کے پیدا نہیں ہوگئے، اور نہ ہی یہ خود اپنے آپ کو پیدا کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔
5 توحید اور تخلیق کا عقلی ثبوت (آیت 35): لازم نتیجہ — پس یہ بات طے ہے کہ ان کا ایک عظیم خالق (اللہ تعالی) موجود ہے، لہٰذا انہیں اس کی بندگی کرنی چاہیے۔
6 کائنات کی بادشاہی (آیت 36): زمین و آسمان کی تخلیق — کیا ان کافروں نے آسمانوں اور زمین کو بنایا ہے؟ ہرگز نہیں۔
7 کائنات کی بادشاہی (آیت 36): یقین کی کمی — اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ حق بات پر یقین نہیں رکھتے اور ضد کی وجہ سے توحید کا انکار کرتے ہیں۔
8 اختیارات اور غیب کا دعویٰ (آیت 37): خزانے اور نگران — کیا اللہ کے خزانے ان کے پاس ہیں کہ وہ جسے چاہیں نبوت دیں یا نہ دیں؟
9 اختیارات اور غیب کا دعویٰ (آیت 37): حکمرانی — یا یہ کائنات کے نگران اور زبردست حاکم ہیں جو اپنے طور پر فیصلے کرتے ہیں؟ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے، بلکہ یہ سب ان کا غرور ہے۔
9 تفصیلی جوابات

سورہ طور کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں

جواب جواب کتاب صفحہ نمبر 87
10 تفصیلی جوابات

يَوْمَ لَا يُغْنِي عَنْهُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا وَلَا هُمْ يُنْصَرُونَ۔ وَإِنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا عَذَابًا دُونَ ذَلِكَ وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ۔

آیات مبارکہ کا ترجمہ مفہوم تحریر کریں

ترجمہ

جس دن ان کی کوئی چال ان کے کام نہیں آئے گی اور نہ ان کی کوئی مدد کی جائے گی اور جن لوگوں نے ظلم کیا ان کے لیے اس کے علاوہ دنیا میں بھی عذاب ہے لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔

مفہوم

1 فریب کاری کی ناکامی — قیامت کے روز کفار جو دنیا میں اسلام کے خلاف سازشیں اور تدبیریں کرتے تھے، وہ سب دھریں کی دھریں رہ جائیں گی۔
2 بے بسی — اس دن نہ تو ان کی اپنی طاقت کوئی کام آئے گی اور نہ ہی کوئی دوسرا ان کی مدد کرنے کے لیے آگے بڑھ سکے گا۔
3 دنیوی عذاب (عذاب ادنیٰ) — مفسرین کے مطابق ”اس سے پہلے کا عذاب“ سے مراد وہ دنیوی مشکلات، بیماریاں، قحط سالی یا غزوہ بدر جیسی شکستیں ہیں جو کافروں کو آخرت سے پہلے اس دنیا میں چکھائی گئیں۔
4 ۔غفلت۔ کفار کی اکثریت اس نکتہ سے ناواقف ہے کہ یہ چھوٹی مصیبتیں اور آزمائشیں اللہ کی طرف سے تنبیہ ہوتی ہیں تاکہ وہ توبہ کر کے سیدھے راستے پر آ جائیں، مگر وہ عبرت حاصل کرنے کے بجائے غفلت میں رہتے ہیں۔
11 تفصیلی جوابات

سورہ الطور میں مرکب توصیفی کی کوئی سی چار مثالیں تلاش کر کے لکھیں

مرکب تو صیفی کی چار مثالیں

1 کتاب مسطور ( لکھی ہوئی کتاب )
2 رق منشور (کھلا ہوا کاغذ )
3 البیت المعمور (آباد گھر)
4 السقف المرفوع (اونچی چھت)

سرگرمی

12 سرگرمی

۔سورہ الطور کی روشنی میں اہل جنت کی انعامات کی فہرست تیار کریں؟

جواب ۔ جنت کے انعامات اور نعمتیں

1 باغات اور چشمے — جنت میں سرسبز باغات اور بہتے ہوئے چشمے ہوں گے۔
2 مزے دار کھانے — ان کو ان کی پسند کے پھل اور گوشت کثرت سے ملیں گے۔
3 جامِ شراب — جنت میں ایسے جام کا دور چلےگا جس سے نہ بیہوددہ بات ہوگی اور نہ ہی گناہ کی بات۔
4 خوبصورت ساتھی — ان کے نکاح بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں سے کیے جائیں گے۔
5 خاندان کا ساتھ — جو لوگ ایمان لائے، اللہ ان کی اولاد کو بھی ان کے ساتھ جنت میں ملائے گا۔
6 سلامتی اور عزت — وہاں کوئی فضول بات یا گناہ کا کلام نہیں سنا جائے گا، ہر طرف سے ”سلام! سلام!“ کی آوازیں آئیں گے۔
13 سرگرمی

تین صحابہ کرام کے قبول اسلام کا واقعہ تحریر کریں

1 حضرت زبیر بن مطعم کا قبول اسلام کا واقعہ: حضرت زبیر بدری قیدیوں میں قیدی بن کر آئے تھے ایک روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں سورہ طور کی آیت نمبر 37 تلاوت فرما رہے تھے حضرت زبیر فرماتے ہیں میں کان لگا کر سن رہا تھا آپ ﷺ اس آیت پر پہنچے کیا ان کے پاس اللہ کے خزانے ہیں یا وہ حاکم بنے ہوئے ہیں ۔تک پہنچے تو میری حالت یہ ہو گئی کہ میرا دل اڑا جا رہا ہے ان آیتوں کا سننا تھا کہ میرا دل اسلام کی طرف مائل ہو گیا اور میں نے فورا اسلام قبول کر لیا
2 سیدنا خالد بن ولید کے ایمان لانے کا واقعہ: ۔فتح مکہ سے پہلے اور صلح حدیبیہ کے بعد جب حضور اکرم عمرہ قضا کے لیے مکہ تشریف لائے تو خالد بن ولید کے بھائی ولید بن ولید جو پہلے مسلمان ہو چکے تھے حضور کے ساتھ تھے حضور نے ان سے خالد بن ولید کے بارے میں پوچھا کہ خالد جیسا سمجھدار آدمی اسلام سے کیسے دور ہو سکتا ہے بھائی نے خالد کو خط لکھا جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس گفتگو کا تذکرہ کیا ۔اس خط نے حضرت خالد کے دل پر گہرا اثر کیا ۔حضرت خالد کے دل میں حق کی تڑپ پیدا ہوئی اور ہجرت مدینہ کا ارادہ کیا ۔راستے میں ان کی ملاقات عمر بن عاص اور عثمان بن طلحہ سے ہوئی آٹھ ہجری فتح مکہ سے کچھ پہلے بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کر لیا۔
3 سیدنا حضرت حمزہ کے ایمان لانے کا واقعہ: ابو جہل نے کوہ صفا کے قریب حضور کے ساتھ بدتمیزی کی ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صبر کیا حضرت حمزہ شکار سے واپس آئے تو ایک باندی نے آپ کو اطلا ع دی حضرت حمزہ سیدھے کعبہ پہنچے جہاں ابوجہل دیگر سرداروں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا حضرت حمزہ نے کمان ابو جہل کے سر پر دے ماری اور ساتھ ہی اسلام قبول کرنے کا اعلان کر دیا ۔
4 حضرت عمر فاروق کے اسلام لانے کا واقعہ: حضرت عمررضی اللہ تعالی عنہ کے اسلام لانے کا واقعہ سن 6 نبوی کا ہے جب حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو معلوم ہوا کہ آپ کے بہنوئی اور بہن ایمان لا چکے ہیں تو آپ نے دونوں پر تشدد کیا جس سےآپ کی بہن کا سر پھٹ گیااور خون بہنے لگا مگر بہن نے ان کے تشدد کے باوجود صبر کیا اور اللہ اور اس کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا برملا اعلان کیا اور حضرت عمر فاروق کی تمام تر سختی کے باوجود اس پر استقامت اختیار کی ۔ اس بار آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا دل بہت متاثر ہوا ۔آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا مجھے وہ کتاب دکھاؤ جو تم لوگ پڑھ رہے تھے آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی بہن فرمانے لگی ” اے عمر“ تم مشرک ہو اورمشرک ناپاک ہوتا ہے اور اس کلام کو صرف پاک شخص ہاتھ لگا سکتا ہے ان کی اس بات سے متاثر ہو کر حضرت عمر فاروق ایمان لے آئے۔
14 سرگرمی

بیت المعمور کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟

بیت المعمور ساتویں آسمان پر واقع فرشتوں کا ایک مقدس عبادت خانہ ہے، جو زمین پر موجود خانہ کعبہ کی بالکل سیدھ میں واقع ہے۔

مقام اور حیثیت اور قرآنی تذکرہ

1 مقام اور حیثیت: محل وقوع — یہ ساتویں آسمان پر کعبے کے عین بالمقابل ہے۔
2 مقام اور حیثیت: فرشتوں کی عبادت — ہر روز اس میں ستر ہزار فرشتے عبادت اور طواف کے لیے داخل ہوتے ہیں۔
3 مقام اور حیثیت: دوبارہ باری — ایک بار طواف یا عبادت کرنے کے بعد قیامت تک ان فرشتوں کو دوبارہ باری نہیں ملتی۔
4 قرآنی تذکرہ: قرآن مجید میں سورۃ الطور (آیت نمبر 4) میں اس کی قسم اٹھائی گئی ہے۔
5 قرآنی تذکرہ: اسے ”آباد گھر“ کہا جاتا ہے کیونکہ یہ ہمیشہ فرشتوں کی کثرت سے آباد رہتا ہے

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.