آیات کریمہ میں بیان کردہ متقین کے لیے جنت کی کن نعمتوں کا ذکر ہے ؟
ترجمہ
بے شک پرہیزگار باغوں اور نعمتوں میں ہوں گے جو نعمتیں ان کا رب انہیں عطا فرمائے گا ان سے لطف اندوز ہو رہے ہوں گے اور ان کا رب انہیں جہنم کی عذاب سے محفوظ فرمائے گا
جنت کی نعمتیں اور انعامات
1باغات اور نعمتیں — متقی لوگ سرسبز و شاداب جنتوں اور دائمی راحت و آسائش میں ہوں گے۔
2رب کی عطا پر خوشی — وہ اللہ تعالیٰ کے انعام واکرام اور عطاؤں پر نہایت شاداں و فرحاں ہوں گے۔
3عذابِ جہنم سے بچاؤ — سب سے بڑی روحانی و جسمانی راحت یہ ہوگی کہ رب نے انہیں دوزخ کے جلانے والے عذاب سے محفوظ رکھا۔
قرآن حکیم پر کفار کے اعتراض کا کیا جواب دیا گیا ہے؟
ترجمہ
تو چاہیے کہ وہ اس جیسا کوئی کلام لے آئیں اگر وہ سچے ہیں۔
سورۃ الطور کی آیت نمبر 34 میں کفار کے اس اعتراض کا عملی اور واضح جواب دیا گیا ہے جس میں وہ دعویٰ کرتے تھے کہ قرآن مجید اللہ کا کلام نہیں بلکہ معاذ اللہ آپ ﷺ کا خود ساختہ کلام ہے۔ اللہ تعالی نے انہیں چیلنج دیا کہ
1چیلنجِ کلام — اس جیسا کلام لانے کا مطالبہ
2سچائی کا امتحان — اگر وہ اپنے اس دعویٰ میں سچے ہیں
3عاجزی کا اظہار — کہ وہ عرب کے فصحاء اور بلغا کو ملا کر بھی اس جیسا ایک فصیح و بلیغ کلام پیش نہیں کر سکتے
تو اس دن جھٹلانے والوں کے لیے ہلاکت ہے جو بیہودہ باتوں میں کھیل رہے ہیں۔
مفہوم
1ویل (ویل کا معنی) — ویل“ کا لفظ سخت عذاب، ہلاکت اور بربادی کے معنی میں آتا ہے۔ یہ اس دن (قیامت کے دن) کا عذاب ہے جو کافروں اور منکرین پر نازل ہوگا۔
2المکذبین (تکذیب کرنے والے) — اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ کے رسولوں، قرآن اور آخرت کے دن کو جھٹلاتے ہیں۔
3خوض (باطل میں مشغولیت) — ”خوض“ کا مطلب ہے کسی لغو یا باطل کام میں گہرائی میں اتر جانا یا بے بنیاد باتیں کرنا۔ مفسرین کے مطابق یہ دنیا کی زندگی میں دین کا مذاق اڑانے اور قرآن و نبوت کے خلاف شک اور بہتان تراشی کرنے میں مصروف تھے۔
4یلعبون (کھیل کود) — یہ لوگ اپنی زندگی کو سنجیدہ نہیں لیتے بلکہ دنیا کی عارضی زندگی کو ایک کھیل تماشا سمجھتے ہیں، غافل رہتے ہیں کہ ان کو مرنے کے بعد اپنے اعمال کا حساب دینا ہے
کیا وہ کسی خالق کے بغیر ہی پیدا کئے گئے ہیں یا وہ خود ہی اپنے خالق ہیں ۔کیا انہوں نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا ہے ہرگز نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ وہ یقین نہیں رکھتے ۔کیا ان کے پاس آپ کے رب کے خزانے ہیں یا وہ حاکم بنے ہوئے ہیں۔
سورۃ الطور کی آیات 35، 36 اور 37 میں اللہ تعالی نے مشرکینِ مکہ کے من گھڑت عقائد اور تکبر کا عقلی اور دلائل پر مبنی رد کیا ہے
1کیا وہ بغیر خالق کے پیدا ہوئے یا خود اپنے خالق ہیں؟
2کیا انہوں نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے؟
3غیب کے خزانے ان کے پاس ہیں یا وہ مسلط ہیں؟
4توحید اور تخلیق کا عقلی ثبوت (آیت 35): خالقِ حقیقی — اللہ تعالی فرماتا ہے کہ یہ انسان خود بخود بغیر کسی خالق کے پیدا نہیں ہوگئے، اور نہ ہی یہ خود اپنے آپ کو پیدا کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔
5توحید اور تخلیق کا عقلی ثبوت (آیت 35): لازم نتیجہ — پس یہ بات طے ہے کہ ان کا ایک عظیم خالق (اللہ تعالی) موجود ہے، لہٰذا انہیں اس کی بندگی کرنی چاہیے۔
6کائنات کی بادشاہی (آیت 36): زمین و آسمان کی تخلیق — کیا ان کافروں نے آسمانوں اور زمین کو بنایا ہے؟ ہرگز نہیں۔
7کائنات کی بادشاہی (آیت 36): یقین کی کمی — اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ حق بات پر یقین نہیں رکھتے اور ضد کی وجہ سے توحید کا انکار کرتے ہیں۔
8اختیارات اور غیب کا دعویٰ (آیت 37): خزانے اور نگران — کیا اللہ کے خزانے ان کے پاس ہیں کہ وہ جسے چاہیں نبوت دیں یا نہ دیں؟
9اختیارات اور غیب کا دعویٰ (آیت 37): حکمرانی — یا یہ کائنات کے نگران اور زبردست حاکم ہیں جو اپنے طور پر فیصلے کرتے ہیں؟ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے، بلکہ یہ سب ان کا غرور ہے۔
جس دن ان کی کوئی چال ان کے کام نہیں آئے گی اور نہ ان کی کوئی مدد کی جائے گی اور جن لوگوں نے ظلم کیا ان کے لیے اس کے علاوہ دنیا میں بھی عذاب ہے لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔
مفہوم
1فریب کاری کی ناکامی — قیامت کے روز کفار جو دنیا میں اسلام کے خلاف سازشیں اور تدبیریں کرتے تھے، وہ سب دھریں کی دھریں رہ جائیں گی۔
2بے بسی — اس دن نہ تو ان کی اپنی طاقت کوئی کام آئے گی اور نہ ہی کوئی دوسرا ان کی مدد کرنے کے لیے آگے بڑھ سکے گا۔
3دنیوی عذاب (عذاب ادنیٰ) — مفسرین کے مطابق ”اس سے پہلے کا عذاب“ سے مراد وہ دنیوی مشکلات، بیماریاں، قحط سالی یا غزوہ بدر جیسی شکستیں ہیں جو کافروں کو آخرت سے پہلے اس دنیا میں چکھائی گئیں۔
4۔غفلت۔ کفار کی اکثریت اس نکتہ سے ناواقف ہے کہ یہ چھوٹی مصیبتیں اور آزمائشیں اللہ کی طرف سے تنبیہ ہوتی ہیں تاکہ وہ توبہ کر کے سیدھے راستے پر آ جائیں، مگر وہ عبرت حاصل کرنے کے بجائے غفلت میں رہتے ہیں۔
11تفصیلی جوابات
سورہ الطور میں مرکب توصیفی کی کوئی سی چار مثالیں تلاش کر کے لکھیں
مرکب تو صیفی کی چار مثالیں
1کتاب مسطور ( لکھی ہوئی کتاب )
2رق منشور (کھلا ہوا کاغذ )
3البیت المعمور (آباد گھر)
4السقف المرفوع (اونچی چھت)
سرگرمی
12سرگرمی
۔سورہ الطور کی روشنی میں اہل جنت کی انعامات کی فہرست تیار کریں؟
جواب ۔ جنت کے انعامات اور نعمتیں
1باغات اور چشمے — جنت میں سرسبز باغات اور بہتے ہوئے چشمے ہوں گے۔
2مزے دار کھانے — ان کو ان کی پسند کے پھل اور گوشت کثرت سے ملیں گے۔
3جامِ شراب — جنت میں ایسے جام کا دور چلےگا جس سے نہ بیہوددہ بات ہوگی اور نہ ہی گناہ کی بات۔
4خوبصورت ساتھی — ان کے نکاح بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں سے کیے جائیں گے۔
5خاندان کا ساتھ — جو لوگ ایمان لائے، اللہ ان کی اولاد کو بھی ان کے ساتھ جنت میں ملائے گا۔
6سلامتی اور عزت — وہاں کوئی فضول بات یا گناہ کا کلام نہیں سنا جائے گا، ہر طرف سے ”سلام! سلام!“ کی آوازیں آئیں گے۔
13سرگرمی
تین صحابہ کرام کے قبول اسلام کا واقعہ تحریر کریں
1حضرت زبیر بن مطعم کا قبول اسلام کا واقعہ: حضرت زبیر بدری قیدیوں میں قیدی بن کر آئے تھے ایک روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں سورہ طور کی آیت نمبر 37 تلاوت فرما رہے تھے حضرت زبیر فرماتے ہیں میں کان لگا کر سن رہا تھا آپ ﷺ اس آیت پر پہنچے کیا ان کے پاس اللہ کے خزانے ہیں یا وہ حاکم بنے ہوئے ہیں ۔تک پہنچے تو میری حالت یہ ہو گئی کہ میرا دل اڑا جا رہا ہے ان آیتوں کا سننا تھا کہ میرا دل اسلام کی طرف مائل ہو گیا اور میں نے فورا اسلام قبول کر لیا
2سیدنا خالد بن ولید کے ایمان لانے کا واقعہ: ۔فتح مکہ سے پہلے اور صلح حدیبیہ کے بعد جب حضور اکرم عمرہ قضا کے لیے مکہ تشریف لائے تو خالد بن ولید کے بھائی ولید بن ولید جو پہلے مسلمان ہو چکے تھے حضور کے ساتھ تھے حضور نے ان سے خالد بن ولید کے بارے میں پوچھا کہ خالد جیسا سمجھدار آدمی اسلام سے کیسے دور ہو سکتا ہے بھائی نے خالد کو خط لکھا جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس گفتگو کا تذکرہ کیا ۔اس خط نے حضرت خالد کے دل پر گہرا اثر کیا ۔حضرت خالد کے دل میں حق کی تڑپ پیدا ہوئی اور ہجرت مدینہ کا ارادہ کیا ۔راستے میں ان کی ملاقات عمر بن عاص اور عثمان بن طلحہ سے ہوئی آٹھ ہجری فتح مکہ سے کچھ پہلے بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کر لیا۔
3سیدنا حضرت حمزہ کے ایمان لانے کا واقعہ: ابو جہل نے کوہ صفا کے قریب حضور کے ساتھ بدتمیزی کی ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صبر کیا حضرت حمزہ شکار سے واپس آئے تو ایک باندی نے آپ کو اطلا ع دی حضرت حمزہ سیدھے کعبہ پہنچے جہاں ابوجہل دیگر سرداروں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا حضرت حمزہ نے کمان ابو جہل کے سر پر دے ماری اور ساتھ ہی اسلام قبول کرنے کا اعلان کر دیا ۔
4حضرت عمر فاروق کے اسلام لانے کا واقعہ: حضرت عمررضی اللہ تعالی عنہ کے اسلام لانے کا واقعہ سن 6 نبوی کا ہے جب حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو معلوم ہوا کہ آپ کے بہنوئی اور بہن ایمان لا چکے ہیں تو آپ نے دونوں پر تشدد کیا جس سےآپ کی بہن کا سر پھٹ گیااور خون بہنے لگا مگر بہن نے ان کے تشدد کے باوجود صبر کیا اور اللہ اور اس کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا برملا اعلان کیا اور حضرت عمر فاروق کی تمام تر سختی کے باوجود اس پر استقامت اختیار کی ۔ اس بار آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا دل بہت متاثر ہوا ۔آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا مجھے وہ کتاب دکھاؤ جو تم لوگ پڑھ رہے تھے آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی بہن فرمانے لگی ” اے عمر“ تم مشرک ہو اورمشرک ناپاک ہوتا ہے اور اس کلام کو صرف پاک شخص ہاتھ لگا سکتا ہے ان کی اس بات سے متاثر ہو کر حضرت عمر فاروق ایمان لے آئے۔
14سرگرمی
بیت المعمور کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟
بیت المعمور ساتویں آسمان پر واقع فرشتوں کا ایک مقدس عبادت خانہ ہے، جو زمین پر موجود خانہ کعبہ کی بالکل سیدھ میں واقع ہے۔
مقام اور حیثیت اور قرآنی تذکرہ
1مقام اور حیثیت: محل وقوع — یہ ساتویں آسمان پر کعبے کے عین بالمقابل ہے۔
2مقام اور حیثیت: فرشتوں کی عبادت — ہر روز اس میں ستر ہزار فرشتے عبادت اور طواف کے لیے داخل ہوتے ہیں۔
3مقام اور حیثیت: دوبارہ باری — ایک بار طواف یا عبادت کرنے کے بعد قیامت تک ان فرشتوں کو دوبارہ باری نہیں ملتی۔
4قرآنی تذکرہ: قرآن مجید میں سورۃ الطور (آیت نمبر 4) میں اس کی قسم اٹھائی گئی ہے۔
5قرآنی تذکرہ: اسے ”آباد گھر“ کہا جاتا ہے کیونکہ یہ ہمیشہ فرشتوں کی کثرت سے آباد رہتا ہے
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔