آٹھویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 8: سبق 8: سورہ قٓ — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں · 13 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

بَلۡ عَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَهُمۡ مُّنۡذِرٌ مِّنۡهُمۡ فَقَالَ الۡكٰفِرُوۡنَ هٰذَا شَىۡءٌ عَجِيۡبٌ​ۚ۔

آیت کریمہ کی رو سے کفار نے کس بات پر تعجب کا اظہار کیا؟

ترجمہ

لیکن انہوں نے تعجب کیا کہ ان کے پاس انہی میں سے ایک ڈر سنانے والا آیا ۔پس کافر کہنے لگے یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔

جواب آیت کریمہ کی روسے کفار کو اس بات کا تعجب تھا کہ اللہ نے انسانوں میں سے رسول بنا کر کیوں بھیجا ۔انہیں یہ بھی تعجب اور اعتراض تھا کہ رسول انہی میں سے کیوں ہے ۔ان کا ایک تعجب اور اعتراض یہ بھی تھا کہ ڈرانے کے لیے کوئی رسول کیوں بھیج دیا گیا ہے پھر انہیں اس بات پر بھی تعجب تھا کہ ڈرانے والا اگر آیا ہے تو کوئی غیر انسان یا فرشتہ کیوں نہیں آیا۔
2 مختصر جوابات

وَنَزَّلۡنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰـرَكًا فَاَنۡۢبَـتۡـنَا بِهٖ جَنّٰتٍ وَّحَبَّ الۡحَصِيۡدِ ۙ۔ وَالنَّخۡلَ بٰسِقٰتٍ لَّهَا طَلۡـعٌ نَّضِيۡدٌ ۙ۔

آیات کریمہ میں بارش کے کیا فوائد بیان کیے گئے ہیں؟

ترجمہ

اور ہم نے آسمان سے برکت والا پانی نازل فرمایا پھر ہم نے اس پانی سے باغات اگائے اور کاٹے جانے والے کھیتوں کا اناج اور لمبی لمبی کھجور کے درخت جن کے خوشےتہہ بہ تہہ ہوتے ہیں۔

آیت مبارکہ کی رو سے بارش کے درج ذیل فوائد بیان کیے گئے ہیں۔

1 آسمان سے نازل ہونے والا پانی بہت برکت والا ہوتا ہے یعنی ایسا پاک پانی ہوتا ہے جس سے زمین پر بسنے والی تمام مخلوقات فائدہ اٹھاتی ہیں جس کے ذریعے سے مردہ زمین میں زندگی آجاتی ہے اور زمین سے مخلوق کے فائدے کے لیے کھیتیاں پھل وغیرہ اگتے ہیں پھر اس پانی کو انسان جانور پینے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں اور کھیتوں کا سیراب کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں اس طرح بارش کا پانی بنجر اور ویران زمینوں کی زرخیزی کا باعث بھی بنتا ہے
2 بارش کے ذریعے کھیتوں میں اناج پیدا ہوتا ہے اور باغات میں کھجوروں کا پھل بھی آ جاتا ہے دراصل یہاں کھجور کا خصوصی طور پر ذکر کرنے کا مقصد اس کی اہمیت کو واضح کرنا ہے جو اسے عرب میں حاصل ہے۔
3 مختصر جوابات

كَذَّبَتۡ قَبۡلَهُمۡ قَوۡمُ نُوۡحٍ وَّاَصۡحٰبُ الرَّسِّ وَثَمُوۡدُۙ۔ وَعَادٌ وَّفِرۡعَوۡنُ وَاِخۡوَانُ لُوۡطٍۙ۔ وَّاَصۡحٰبُ الۡاَيۡكَةِ وَقَوۡمُ تُبَّعٍ​ؕ كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِيۡدِ۔

آیت کریمہ کی رو سے رسولوں کو جھٹلانے والی کن قوموں کا ذکر ہے اور ان کا کیا انجام بیان ہوا ہے؟

ترجمہ

اور ان سے پہلے جھٹلایا تھا نوح علیہ السلام کی قوم نے اور کنویں والوں اور ثمود نے اور قوم عاد اور فرعون اور لوط کی قوم والوں نے بھی اور ایکہ والوں یعنی شعیب علیہ السلام کی قوم اور قوم تبع نے بھی ان سب نے رسولوں کو جھٹلایا تو ان پر میرے عذاب کی وعید ثابت ہو کر رہی۔

جواب ان ایت مبارکہ میں رسولوں کو جھٹلانے والی جن قوموں کا ذکر ہے وہ یہ ہیں حضرت نوح علیہ السلام کی قوم اور اصحاب الرس۔ رس کنویں کا نام ہے یعنی کنویں والے یہ قوم ثمود کا کوئی قبیلہ تھا جنھوں نےاپنے نبی کو جھٹلایا اور کنویں میں پھینک کر شہید کر دیا تھا پھر اللہ نے لوگوں پر عذاب نازل کیا اور اللہ نے اس کنویں سمیت اس بستی کو زمین میں دھنسا دیا اس کے بعد قوم ثمود کا ذکر ہے ان کی طرف حضرت صالح علیہ السلام کو پیغمبر بنا کر بھیجا گیا تھا پھر قوم عاد کا ذکر ہے جن کی طرف حضرت ہود علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا گیا تھا پھر قوم فرعون کا ذکر ہے جن کی طرف حضرت موسی علیہ السلام کو پیغمبر بنا کر بھیجا گیا تھا اس کے بعد قوم لوط کا ذکر ہے جن کی طرف حضرت لوط علیہ السلام کو پیغمبر بنا کر بھیجا گیا تھا پھر اصحاب ایکہ اور قوم تبع کا ذکر ہے اصحاب ایکہ سے مراد حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم ہے اور قوم تبع سے مراد یمن کے لوگ تھے تبع لقب تھا یمن کے بادشاہ کا۔ ان کی حکومت سبا اور حضر موت کے علاقوں پر تھی۔ ان تمام قوموں کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا جس کی وجہ سے یہ اللہ کے عذاب کے مستحق ہوئے اور ان پر مختلف طرح کے عذاب آئے۔
4 مختصر جوابات

قَالَ قَرِيۡنُهٗ رَبَّنَا مَاۤ اَطۡغَيۡتُهٗ وَلٰـكِنۡ كَانَ فِىۡ ضَلٰلٍۢ بَعِيۡدٍ۔

آیت کریمہ کی رو سے قیامت کے دن شیطان کیاعذر پیش کرے گا؟

ترجمہ

اس کا ساتھی شیطان کہے گا اے ہمارے رب ہم نے اسے گمراہ نہیں کیا تھا بلکہ یہ خود ہی راستے سے دور بھٹکا ہوا تھا۔

جواب آیت مبارکہ میں ساتھی سے مراد شیطان ہے جو دنیا میں انسان کے ساتھ لگا ہوا تھا قیامت کے دن یہ شیطان انسان کی گمراہی کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہے گا کہ میں نے اسے گمراہ نہیں کیا تھا بلکہ وہ خود راستے سے بھٹکا ہوا تھا پھر اس روز انسان اور شیطان کے درمیان جھگڑا ہوگا وہ ایک دوسرے کو قصوروار ٹھہرا رہے ہوں گے اللہ تعالی فرمائیں گے کہ میرے سامنے جھگڑا مت کرو ۔اس دن جہنم کے عذاب سے بچنے کے لیے جو بھی عذر پیش کریں گے ان سے قبول نہیں کیے جائیں گے ۔
5 مختصر جوابات

اِنَّ فِىۡ ذٰلِكَ لَذِكۡرٰى لِمَنۡ كَانَ لَهٗ قَلۡبٌ اَوۡ اَلۡقَى السَّمۡعَ وَهُوَ شَهِيۡدٌ۔

آیت کریمہ میں قرآن حکیم سے نصیحت حاصل کرنے کی کیا شرائط مذکور ہیں؟

ترجمہ

یقینا اس میں نصیحت ہے اس شخص کے لیے جو دل رکھتا ہو یا کان لگا کر سنتا ہو اور وہ دل و دماغ سے حاضر ہو۔

آیت مبارکہ کی رو سے قرآن حکیم سے نصیحت حاصل کرنے کے لیے دو شرائط مقرر کی گئی ہیں

1 وہ شخص قلب سلیم رکھنے والا ہو۔
2 حاضر دماغی کے ساتھ غور سے سننے والا ہو
3 1۔ بیدار دل (قَلْبٌ) زندہ دل: ایسا دل جو حق کو پہچاننے اور اسے قبول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
4 1۔ بیدار دل (قَلْبٌ) زندہ دل: حق کی طلب — دل غفلت اور تعصب کی بیماریوں سے پاک ہو تاکہ بات اثر کرے۔
5 2۔ متوجہ ہو کر سننا (أَلْقَى السَّمْعَ): انسان اپنی پوری توجہ بات سننے پر لگا دے۔
6 2۔ متوجہ ہو کر سننا (أَلْقَى السَّمْعَ): ظاہری دھیان — آس پاس کی آوازوں اور خیالات سے کٹ کر صرف کلام الہی پر دھیان ہو۔
7 3۔ حاضر دماغی (وَهُوَ شَهِيدٌ): دماغی موجودگی: سنتے وقت انسان کا ذہن کہیں اور نہ بھٹک رہا ہو۔ تدبر و تفکر: جو کچھ سنا جا رہا ہو، عقل اور سوچ کے ساتھ اس کے معنی کو سمجھا جائے۔ مراد یہ کہ دل میں ہدایت کی تڑپ ہو تو انسان حق بات کو سمجھ لیتا ہے یا کم از کم توجہ سے سمجھانے والے کی بات کو سنے تو حق بات کو پا سکتا ہے جیسا کہ ایک اور مقام پہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا : اور وہ اپنی طرف راستہ دکھا دیتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے ۔یعنی نصیحت انہی لوگوں کو فائدہ دیتی ہے جو ہدایت کے طلبگار ہوتے ہیں

تفصیلی جوابات

6 تفصیلی جوابات

وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ وَنَعۡلَمُ مَا تُوَسۡوِسُ بِهٖ نَفۡسُهٗ ۖۚ وَنَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَيۡهِ مِنۡ حَبۡلِ الۡوَرِيۡدِ۔

آیت کریمہ کا ترجمہ اور مفہوم تحریر کریں۔

ترجمہ

اور یقینا ہم نے ہی انسان کو پیدا فرمایا اور ہم جانتے ہیں جو خیالات اس کے دل میں آتے ہیں اور ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں ۔

1 شانِ نزول اور سیاق و سباق: آخرت کا انکار — یہ سورت مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی جب کفار مکہ اس بات پر حیرت کا اظہار کرتے تھے کہ مرنے اور مٹی ہونے کے بعد انسان دوبارہ کیسے زندہ ہوگا۔
2 شانِ نزول اور سیاق و سباق: دلیلِ خلقت — اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں جواب دیا کہ جس نے پہلی بار انسان کو عدم سے وجود بخشا، اس کے لیے دوبارہ پیدا کرنا بالکل مشکل نہیں۔
3 شانِ نزول اور سیاق و سباق: حساب کتاب کی بنیاد — دوبارہ زندگی دینے کے بعد جزا و سزا کا فیصلہ اسی مکمل ریکارڈ اور علم کی بنیاد پر ہوگا جو اللہ کو انسان کے ہر پوشیدہ خیال تک کا ہے۔
4 علمِ الٰہی اور قربِ خداوندی: علمِ الٰہی کی وسعت — انسان خود اپنے دل میں آنے والے تمام خطرات اور وسوسوں پر قابو نہیں رکھ پاتا، لیکن اللہ ان کے پیدا ہونے سے بھی پہلے ان سے واقف ہوتا ہے۔
5 علمِ الٰہی اور قربِ خداوندی: رگِ جاں سے قرب کا مطلب — مفسرین فرماتے ہیں کہ اس قرب سے مراد جسمانی یا مادی قرب نہیں، بلکہ علم، قدرت اور نفاذِ امر کا قرب ہے۔ یعنی اللہ کا علم انسان پر اس کی اپنی جان سے بھی زیادہ حاوی ہے۔
6 علمِ الٰہی اور قربِ خداوندی: فرشتوں کی موجودگی — اس آیت کے فوراً بعد ذکر ہے کہ دو فرشتے (کراماً کاتبین) دائیں اور بائیں بیٹھے ہر لفظ کو ریکارڈ کر رہے ہیں، جو اللہ کے نظامِ عدل کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے۔
7 ہماری عملی زندگی پر اثر: خوفِ خدا اور تقویٰ — جب انسان کو یہ یقین ہو جائے کہ اس کی سوچیں بھی اللہ سے چھپی نہیں ہیں، تو وہ گناہوں کے خیال سے بھی بچنے کی کوشش کرتا ہے۔
8 ہماری عملی زندگی پر اثر: تنہائی کی پاکیزگی — یہ آیت انسان کو تنہائی میں بھی گناہ کرنے سے روکتی ہے کیونکہ وہاں بھی خدا کی ذات رگِ جاں سے زیادہ قریب موجود ہے۔
9 ہماری عملی زندگی پر اثر: سکونِ قلب — ایک مومن کے لیے یہ آیت اس لحاظ سے باعثِ راحت ہے کہ اس کا پروردگار اس کی ہر تکلیف، پکار اور دل کے حال کو بن کہے بھی جانتا ہے۔
7 تفصیلی جوابات

سُورَةُ قٓ کا تعارف اور مرکزی مضمون بیان کریں

جواب جواب کتاب سے صفحہ نمبر 74
8 تفصیلی جوابات

مَنۡ خَشِىَ الرَّحۡمٰنَ بِالۡغَيۡبِ وَجَآءَ بِقَلۡبٍ مُّنِيۡبِۙ۔ اࣙدۡخُلُوۡهَا بِسَلٰمٍ​ؕ ذٰلِكَ يَوۡمُ الۡخُلُوۡدِ۔

آیات کریمہ کا ترجمہ اور مفہوم تحریر کریں۔

ترجمہ

جو رحمن سے بغیر دیکھے ڈرتا رہا اور اللہ کی طرف رجوع کرنے والا دل لے کر آیا انہیں کہا جائے گا اس جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ یہ ہمیشہ رہنے کا دن ہے۔

جواب ان آیات مبارکہ میں اہل جنت کی دو صفات کا ذکر ہے ۱ اللہ سے ڈرنا ۲۔اللہ کی طرف رجوع کرنے والا دل لانا یعنی ایسا دل جو اللہ کو یاد رکھے پہلی ایت مبارکہ مومن کی دو بنیادی خوبیوں کی طرف اشارہ کرتی ہے ایک یہ کہ وہ محسوس نہ ہونے اور نظر نہ آنے کے باوجود اللہ سے ڈرتا ہے دوسرے یہ کہ وہ اللہ کی صفت رحمت سے اچھی طرح واقف ہونے کے باوجود گناہوں پر ڈٹا نہیں رہتا یہی دو خوبیاں اسے اللہ کے ہاں عزت کا مستحق بناتی ہیں۔پھر ان درج ذیل صفات رکھنے والے نیک لوگوں کا انجام بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ ان سے کہا جائے گا کہ جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ ۔اور سلامتی کے ساتھ داخل ہونے کا ایک مطلب تو یہ ہے ہر قسم کے رنج و غم اور فکر اور آفات سے محفوظ ہو کر اس جنت میں داخل ہو جاؤ اور دوسرے معنی ہیں کہ آؤ اس جنت میں اللہ اور اس کے ملائکہ کی طرف سے تم پر سلام ہے۔
9 تفصیلی جوابات

سُورَةُ قٓ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں؟

جواب جواب کتاب سے صفحہ نمبر 74
10 تفصیلی جوابات

فَاصۡبِرۡ عَلٰى مَا يَقُوۡلُوۡنَ وَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ قَبۡلَ طُلُوۡعِ الشَّمۡسِ وَقَبۡلَ الۡغُرُوۡبِ​ۚ۔ وَمِنَ الَّيۡلِ فَسَبِّحۡهُ وَاَدۡبَارَ السُّجُوۡدِ۔

آیات کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں۔

ترجمہ

تو اس پر صبر کیجئے جو یہ کفار کہتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجئے سورج طلوع ہونے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے اور رات کے اوقات میں بھی اس کی تسبیح کیجئے اور سجدوں کے بعد بھی ۔

آیت مبارکہ میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہے اور اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار کے طرز عمل پر صبر کرنے کی تلقین فرمائی ہے دوسری تلقین یہ فرمائی ہے کہ آپ اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کریں ۔کیونکہ اللہ کی تسبیح اور حمد کرنے سے اللہ کے ساتھ تعلق مضبوط ہوتا ہے اور مشکلات کو برداشت کرنے کی ہمت بڑھتی ہے پھر اس کے بعدآپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی نے درج ذیل اوقات میں اپنی حمد اور تسبیح کرنے کی تلقین فرمائی ہے

1 سورج طلوع ہونے سے پہلے یعنی تہجد اور فجر کی نماز ہے
2 سورج غروب ہونے سے پہلے یعنی ظہر اور عصر کی نماز ہے ۔
3 پھر رات کے اوقات میں یعنی مغرب اور عشاء کی نماز میں
جواب اور پھر فرمایا کہ سجدوں کے بعد بھی تسبیح کرو ۔یہاں تسبیحات سے مراد اذکار مسنونہ اور نوافل ہیں
11 تفصیلی جوابات

سُورَةُ قٓ سے فعل امر اور اسماء اشارہ کی کوئی سی دو مثالیں تحریر کریں۔

فعل امر اور اسم اشارہ

1 فعل امر: اصبر ۔آپ صبر کرو ۔استمع ۔توجہ سے سنو ۔ سبح ۔تسبیح بیان کرو ۔ القیا ۔دونوں کو ڈال دو ۔
2 اسم اشارہ: ذلک یوم الخروج
3 اسم اشارہ: ذلک رجع بعید
4 اسم اشارہ: ذلک یوم الوعید
5 اسم اشارہ: ھذا ما لدی عتید
12 تفصیلی جوابات

فعل مضارع منفی اور فعل مضارع نہی کا فرق بیان کریں اور چند مثالیں تحریر کریں۔

1 فعل مضارع نہی — وہ فعل ہے جس کے ذریعے کسی کو کسی کام سے روکا جائے ا سے فیل نہی کہتے ہیں ۔جیسے لا تکتب تم ایک مرد نہ لکھو ۔لا تخرجوا تم سب مرد نہ نکلو ۔فعل مضارع سے پہلے جب لا آتا ہے تو اس کے آخر کو مجزوم کر دیتا ہے فعل نہی کی گردان میں کل چھ صیغے ہوتے ہیں تین مذکر حاضر کے تین مونث حاضر کے
2 فعل مضارع منفی — جب زمانہ حال یامستقبل میں بات کی نفی کرنا ہو تو فعل مضارع کے شروع میں لا لگا دیں گے جیسے لا یکتب وہ نہیں لکھتا یا نہیں لکھے گا ۔ لا نافیہ صرف کسی کام کے نہ ہونے کو بیان کرتا ہے ۔اس سے فعل مضارع میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ۔

سرگرمیاں

13 سرگرمیاں

گفتگو کے آداب

بہترین گفتگو کے بنیادی آداب میں سچ بولنا، نرمی اختیار کرنا، اور دھیان سے سننا شامل ہیں۔ یہ اصول انسان کو معاشرے میں باوقار بناتے ہیں۔

بنیادی اصول اور آداب

1 سچائی اور دیانت — ہمیشہ سچ بولیں اور جھوٹ یا فریب سے پرہیز کریں۔
2 نرمی اور شائستگی — لہجے میں مٹھاس رکھیں، اور غصے یا تلخ الفاظ سے بچیں۔
3 غور سے سننا — سامنے والے کی بات پوری ہونے دیں، درمیان میں نہ کاٹیں۔
4 مناسب آواز — آواز نہ زیادہ اونچی ہو کہ ناگوار گزرے اور نہ اتنی دھیمی کہ سنائی نہ دے۔
5 موقع کی مناسبت — بات مختصر، واضح اور مقصد کی ہو، فضول گوئی سے گریز کریں۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.