آیت کریمہ میں عقل والوں کے لیے کون سی نشانیاں بیان ہوئی ہیں؟
ترجمہ
اور رات اور دن کے آنے جانے میں اور جو اللہ نے آسمان سے رزق یعنی پانی نازل فرمایا پھر اس سے زمین کو اس کی مردہ ہو جانے کے بعد زندہ فرمایا اور ہواؤں کی پھیرنے میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو عقل رکھتے ہیں۔
آیت مبارکہ کی رو سے عقل والوں کے لیے درج ذیل نشانیاں بیان کی گئی ہیں۔
آیت کریمہ میں سمندر کے کیا فوائد بیان کیے گئے ہیں؟
ترجمہ
اللہ وہ ہے جس نے سمندر کو تمہارے کام میں لگا دیا تاکہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں چلیں اور تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم شکر ادا کرو۔
اس آیت مبارکہ کی رو سے سمندر کے درج ذیل فوائد بیان کیے گئے ہیں
1سمندر کو انسان کے لیے مسخر کر دیا گیا ہے اس میں ہمارے فائدے کی چیزیں رکھ دی گئی ہیں اور ہمیں ان سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت بھی عطا کی گئی ہے۔
2۔سمندر میں اللہ کے حکم سے کشتیاں چلتی ہیں پھر انسان ان سمندری جہازوں کے ذریعے تجارت کرتا ہے ۔ یہ کشتیاں اور جہاز سامان کو لانے اور لے جانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ان کے ذریعے دور دراز کے سفر کو آسان کر دیا گیا ہے ۔اور ان کے ذریعے انسان سمندروں کی تحقیق کر کے مختلف اقسام کی اشیاء حاصل کرتا ہے۔
3یہ سمندر انسان کے لیے رزق کا بھی ذریعہ ہیں ۔ان سے کھانے پینے کے لیے مچھلیاں وغیرہ بھی حاصل کی جا تی ہیں اور قیمتی پتھر موتی اور جواہرات وغیرہ حاصل کر کے ان سے خوب فائدہ حاصل کیا جاتا ہے
آیت کریمہ میں نیکی اور برائی کے حوالے سے کیا حقیقت بیان کی گئی ہے؟
ترجمہ
جو کوئی نیک عمل کرتا ہے تو اپنے لیے کرتا ہے اور جو کوئی برائی کرتا ہے اس کا نقصان اسی کو ہوگا پھر تم سب اپنے رب کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔
جوابآیت مبارکہ کی رو سے نیکی کی یہ حقیقت بیان کی گئی ہے کہ جو شخص نیکی کرے گا اس کا اجر و ثواب خود اسی کو ہی حاصل ہوگا اور جو شخص برائی یا گناہ کرے گا اس کا وبال اور اس کا عذاب اس شخص کو ہی ملے گا کسی کی نیکی کا فائدہ کسی اور شخص کو نہیں دیا جائے گا اور کسی کی برائی اورگناہ کی سزا کسی اور کو نہیں دی جائے گی ۔یعنی ہر شخص اپنے اپنے عمل کا ذمہ دار ہے اور اس کو اس کے اپنے عمل کا ہی بدلہ ملے گا
آیت کریمہ میں خواہش نفس کی پیروی کرنے والوں کا کیا انجام بیان ہوا ہے ؟ آیت نمبر 23
ترجمہ
کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنا لیا اور اللہ نے اپنے علم کی بنیاد پر اسے گمراہ کر دیا ۔اور اللہ نے اس کے کانوں پر اور اس کے دل پر مہر لگا دی اور اللہ نے اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا۔
جوابجو لوگ خواہش نفس کو معبود بنا لیتے ہیں یعنی اپنی خواہشات کے بندے بن کر رہ جاتے ہیں یعنی جس کام کو ان کا دل چاہے اسے کر گزرتے ہیں خواہ اللہ نے اس سے منع کیا ہو اور جس کام کو ان کا دل نہ چاہے وہ اسے نہیں کرتے اللہ نے اسے ضروری قرار دے دیا ایسے لوگوں کو انجام بیان کرتے ہوئے بتایا گیا کہ اللہ ایسے لوگوں کو خواہش نفس کی پیروی کرنے کی وجہ سے گمراہ کر دیتا ہے وہ علم کے باوجود ہدایت کی تڑپ نہیں رکھتے اور علم پر عمل نہیں کرتے ۔پھر اللہ ان کی سماعت اور دل پر مہر لگا دیتا ہے اور آنکھوں پر پردہ ڈال دیتا ہے یعنی جب انسان خواہشات نفس کی پیروی کرتے ہوئے اللہ کے احکام سے جان بوجھ کر موڑ لیتا ہے اور کفر میں بڑھتا چلا جاتا ہے تو اللہ اسے گمراہیوں میں بھٹکتا ہوا چھوڑ دیتا ہے
کیا جنہوں نے برے کام کیے وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم ان کو ان لوگوں جیسا کر دیں گے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے ان سب کی زندگی اور موت برابر ہو جائے برا ہے جو یہ فیصلہ کرتے ہیں۔
جوابآیت مبارکہ میں برے کام کرنے والوں کے گمان کا ذکر ہے کہ وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ اللہ انہیں ایمان لانے اور نیک اعمال کرنے والوں کے برابر کر دے گا ۔اور یہ لوگ دوسرا گمان یہ کرتے ہیں کہ نیک اور بد کی زندگی برابر ہے ۔تو ایسے لوگوں کو باآورکروایا جا رہا ہے یہ ہرگز ایسا نہیں ہوگا نیک اور بد لوگ کبھی برابر نہیں ہو سکتے یہ جو گمان کر بیٹھے ہیں نہایت برا گمان ہے اور غلط گمان ہے۔ دراصل دنیا کا بھی یہی قانون ہے کہ دنیا میں بھی ہم اچھائی کے اچھے بدلہ اور جرم کی سزا کی توقع رکھتے ہیں ایک ملک کے فرمانبردار اور باغی شہری برابر نہیں مانے جاتے اس طرح اللہ کے فرمانبردار اور باقی برابر نہیں ہوں گے برائی کرنے والوں کی موت عبرتناک ہوتی ہے جبکہ نیک لوگوں کی موت اللہ کی رضا اور فضل کا پیغام بن کر جاتی ہے
اور آپ دیکھیں گے کہ ہر گروہ گھٹنوں کے بل گرا ہوگا اور ہر گروہ کو اس کتاب (نامہ اعمال )کی طرف بلایا جائے گا آج تمہیں اس کا بدلہ دیا جائے گا جو تم کیا کرتے تھے۔
جوابآیت مبارکہ میں قیامت کے دن کی منظر کشی کی جا رہی ہے اور بتایا جا رہا ہے کہ قیامت کے مناظر کی دہشت اس قدر زیادہ ہوگی کہ مجرم کھڑے نہ رہ سکیں گے اور گھٹنوں کے بل بیٹھے ہوئے اور سہمے ہوئے اس انتظار میں ہوں گے کہ ان کے حق میں کیا فیصلہ ہوگا اس وقت تکبر کرنے والوں کی سب اکڑ ختم ہو جائے گی اس کے بعد ہر گروہ کو ان کے نامہ اعمال کی طرف بلایا جائے گا ۔اور پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا یعنی جس نے نیک اعمال کیے ہوں گے اسے نیک بدلہ اورجس نے برے اعمال کیے ہوں گے اسے برا بدلہ دیا جائے گا۔
اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے تو ان کا رب انہیں اپنی رحمت میں داخل فرمائے گا یہی واضح کامیابی ہے
11۔ ایمان اور عملِ صالح کا لازمی تعلق: آیت کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے کامیابی کے لیے دو بنیادی شرطیں بیان فرمائی ہیں: ایمان: اس سے مراد اللہ کی توحید، رسولوں، کتابوں، فرشتوں اور آخرت پر سچا دل سے یقین ہے۔ عملِ صالح (نیک اعمال): صرف زبان سے دعویٰ کافی نہیں، بلکہ اس ایمان کا اثر انسان کے اعمال (نماز، روزہ، اخلاق، حقوق العباد کی ادائیگی) سے ظاہر ہونا ضروری ہے۔ قرآنی اسلوب: قرآن مجید میں جہاں بھی ایمان کا ذکر آیا ہے، وہاں اکثر ساتھ ہی ”عملِ صالح“ کا ذکر ملتا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ عمل کے بغیر ایمان کی جڑیں کمزور رہتی ہیں۔
22۔ ”ربہِم“ (ان کا پروردگار) کے لفظ میں خاص شفقت: آیت میں یہ نہیں فرمایا گیا کہ ”اللہ انہیں داخل کرے گا“ بلکہ فرمایا: فَيُدْخِلُهُمْ رَبُّهُمْ کہ داخل کرے گا انھیں ان کا رب یہاں ”رب“ کا لفظ استعمال کر کے اللہ تعالیٰ نے مومنین کے لیے اپنی خاص محبت اور پرورش کا اظہار فرمایا ہے۔ جس طرح ایک رب (پالنے والا) دنیا میں انسان کی مادی ضرورتیں پوری کرتا ہے، اسی طرح آخرت میں بھی وہ اپنے بندوں کو اکیلا نہیں چھوڑے گا بلکہ خود بڑھ کر ان کی ضیافت کرے گا۔
33۔ رحمت سے مراد ”جنت“ ہے: مفسرینِ کرام (جیسے ابنِ کثیر اور دیگر) کے مطابق اس آیت میں ”رحمت“ سے مراد خاص طور پر جنت ہے۔ انسان کے اعمال اور جنت: کوئی بھی انسان محض اپنے اعمال کے بل بوتے پر جنت میں نہیں جا سکتا جب تک کہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت شاملِ حال نہ ہو۔ نیک اعمال دراصل اللہ کی رحمت کو متوجہ کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ حدیثِ پاک میں بھی آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں نہیں لے جا سکے گا۔“ صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا: ”ہاں مجھے بھی نہیں، الا یہ کہ اللہ مجھے اپنی رحمت اور فضل سے ڈھانپ لے۔“
44۔ ”الفوز المبين“ (کھلی اور صریح کامیابی): آیت کے آخری حصے میں جنت کے اس داخلے کو ”الفوز المبین“ کہا گیا ہے۔ حقیقی کامیابی کیا ہے؟: دنیا کی مال و دولت، ڈگری، عہدہ یا شہرت عارضی اور مٹ جانے والی چیزیں ہیں۔ مستقل اور حقیقی کامیابی صرف یہ ہے کہ انسان آخرت کے دن رسوائی اور جہنم کے عذاب سے بچ جائے اور ہمیشہ کی آرام گاہ (جنت) پا لے۔ ”مبین“ کا مطلب ہے بالکل واضح، جس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہ ہو۔ یعنی اس دن مومن کا چہرہ دیکھ کر ہی سب کو معلوم ہو جائے گا کہ یہ کامیاب ہو چکا ہے۔
11تفصیلی جوابات
سورہ الجاثیہ میں فعل نہی کی ایک مثال تلاش کر کے اس کی گردان لکھیں۔
گردان
جوابفعل نہی سے مراد وہ فعل ہے جس کے ذریعے کسی کام سے روکا اور منع کیا جاتا ہے ۔جیسے لا تکتب تم ایک مرد نہ لکھو لا تخرجوا تم سب مرد نہ نکلو ۔فعل مضارع سے پہلے لا آتا ہے جو اس کے آخر کو مجزوم کر دیتا ہے۔فعل نہی چھ صیغوں پر مشتمل گردان ہوتی ہے مثلا لا تکتب ۔ لا تکتبا ۔لاتکتبوا ۔لاتکتبی ۔لا تکتبا ۔ لا تکتبن
سرگرمی
12سرگرمی
سورہ الجاثیہ میں موجود اللہ کی نشانیوں میں سے پانچ کا ذکر کریں اور ان کی فوائد بھی تحریر کریں؟
جوابسورہ جاثیہ کے پہلے رکوع میں اللہ تعالی کی درج ذیل نشانیوں کا ذکر ہے ۔آسمان، زمین ،انسان ،جاندار ،رات دن، بارش اور ہوائیں۔، اسی طرح سورہ جاثیہ میں سمندر کوبھی اللہ کی نشانی قرار دیا گیا ہے اور اس سے حاصل ہونے والے فوائد کا بھی ذکر ہے کشتیاں چلانا اور مچھلیاں پکڑنا ،موتی نکالنا ،سامان اور سواری ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا اسی طرح آسمان اور زمین سے بھی انسان بے شمار فوائد حاصل کرتا ہے آسمان سے بارش زمین سے نباتات ،جما دات رزق روزی وغیرہ سورج اور چاند سے ماہ و سال کا حساب لگایا جاتا ہے ۔یہ روشنی اور حرارت فراہم کرتے ہیں ۔پھلوں کو پکانے کے کام آتے ہیں ۔ستاروں کی روشنی راستہ دکھانے کی کام آتی ہے ۔بارش زمین کو زرخیز کرتی ہے پانی فراہم کرنے کا ذریعہ ہے اورہر جاندار کی زندگی کا انحصار اس پانی پر ہے۔
13سرگرمی
سورۃ الجاثیہ کی آیت 23 کی روشنی میں خواہش نفس کی غلامی کے نقصانات اور اس سے بچنے کی تدابیر
جواب: خواہشِ نفس کی غلامی کے نقصانات اور اس سے بچنے کی تدابیر
1جواب: خواہشِ نفس کی غلامی کے نقصانات: گمراہی — انسان حق کو چھوڑ کر اپنی مرضی کے پیچھے چلتا ہے اور سیدھے راستے سے بھٹک جاتا ہے۔
2جواب: خواہشِ نفس کی غلامی کے نقصانات: مہر لگ جانا — اللہ تعالیٰ اس کے دل اور کانوں پر مہر لگا دیتا ہے جس سے وہ حق بات کو سمجھ نہیں سکتا۔
3جواب: خواہشِ نفس کی غلامی کے نقصانات: آنکھوں پر پردہ — اس کی بصیرت ختم ہو جاتی ہے اور اسے نیکی اور بدی کا فرق نظر نہیں آتا۔
4اس سے بچنے کی تدابیر: اللہ کا خوف — دل میں اللہ کی پکڑ کا ڈر رکھنا اور ہر کام میں اس کی رضا کو دیکھنا۔
5اس سے بچنے کی تدابیر: علمِ دین — قرآن و سنت کا علم حاصل کرنا تاکہ صحیح اور غلط کی تمیز ہو سکے۔
6اس سے بچنے کی تدابیر: نفس کی مخالفت — برے خیالات اور بری خواہشات کے سامنے ہتھیار نہ ڈالنا اور خود پر قابو رکھنا۔
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔