آٹھویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 6: سبق 6: سورہ الدخان — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمی · 13 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

اَن اَدُّوا اِلَیَّ عِبَادَ اللّٰہِ اِنِّی لَکُم رَسُولٌ اَمِینٌ ۔وَّ اَن لَّا تَعلُوا عَلَی اللّٰہِ اِنِّیۤ اٰتِیکُم بِسُلطٰنٍ مُّبِین ۔ٍوَّ اِنِّی عُذت ُ بِرَبِّی وَرَبِّکُم اَن تَرجُمُونِ ۔

آیات کریمہ کی رو سے سیدنا موسی کی دعوت کے تین نکات بیان کریں؟

ترجمہ

انہوں نے فرمایا اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کر دو بے شک میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں اور یہ کہ اللہ کے خلاف سرکشی نہ کرو بے شک میں تمہارے پاس واضح دلیل لے کر آیا ہوں اور بے شک میں اپنے رب اور تمہارے رب کی پناہ میں آتا ہوں کہ تم مجھے سنگسار کرو۔

آیاتِ کریمہ کی رو سے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی دعوت کے تین اہم نکات یہ ہیں: اللہ کے بندوں کو اپنا تابع کرنا، اللہ کے مقابلے میں سرکشی سے باز رہنا، اور اللہ کی پناہ حاصل کرنا۔

دعوتِ موسیٰ کے تین اہم نکات

1 توحید اور رسالت کا اقرار — اللہ کے بندوں کو اپنا سچا اور امین رسول ماننے کی دعوت دینا۔
2 سرکشی اور تکبر سے ممانعت — اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں برتری اور سرکشی نہ کرنے کی تلقین اور واضح دلیل پیش کرنا۔
3 اللہ کی پناہ کا حصول — قوم کے شر اور سنگسار کیے جانے کے خوف سے اپنے اور ان کے پروردگار کی پناہ میں آ جانا۔
2 مختصر جوابات

كَمۡ تَرَكُوۡا مِنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۔ وَّزُرُوۡعٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۔ وَّنَعۡمَةٍ كَانُوۡا فِيۡهَا فٰكِهِيۡنَۙ۔

آیت کریمہ کی رو سے اللہ نے ال فرعون کو کن چیزوں سے محروم کر دیا؟

ترجمہ

وہ لوگ کتنے ہی باغات اور چشمے چھوڑ گئے اور کھیت اور عمدہ مقامات اور نعمتیں جن میں وہ مزےکر رہے تھے۔

جواب اس آیت مبارکہ کی رو سے اللہ تعالی نے ال فرعون کو درج ذیل نعمتوں سے محروم کیا ۔باغات ،چشمے ،کھیت ،عمدہ مقامات اور تمام نعمتیں جن میں وہ مزے کر رہے تھے۔
3 مختصر جوابات

اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوۡمِۙ ۔طَعَامُ الۡاَثِيۡمِ ۛۚ ۔كَالۡمُهۡلِ ۛۚ يَغۡلِىۡ فِى الۡبُطُوۡنِۙ

آیات کریمہ میں اہل جہنم پر اللہ کس عذاب کا ذکر ہے؟

ترجمہ

بے شک زقوم کا درخت گنہگار کا کھانا ہے وہ پگلے ہوئےتانبے کی طرح پیٹوں میں کھولے گا جیسے کھولتا ہوا پانی۔

جواب آیت کریمہ کی رو سے قیامت کے دن اہل جہنم کو کھانے کے لیے زقوم کے درخت کا پھل دیا جائے گا ۔اردو میں اسے تھوہر کہتے ہیں جو جہنم کی تہہ سے نکلے گا ذائقے میں نہایت زہریلااور حلق میں پھنسنے والا ہوگا اور یہ جہنم کے بدترین عذابوں میں سے ایک عذاب ہوگا جہنمی زقوم کے اس پھل کو جیسےہی کھائیں گے وہ پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ان کے پیٹوں میں کھولے گا بالکل ایسے جیسے کھولتا ہوا پانی ہو ۔پھر اس کے بعد انہیں پکڑ کر گھسیٹ کر جہنم میں لے جایا جائے گا اور ان کے سروں پر کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا انہیں کہا جائے گا کہ اب اپنے گناہوں کا مزہ چکھو۔
4 مختصر جوابات

اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ فِىۡ مَقَامٍ اَمِيۡنٍۙ۔ فِىۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ ۙ ۚ۔يَّلۡبَسُوۡنَ مِنۡ سُنۡدُسٍ وَّاِسۡتَبۡرَقٍ مُّتَقٰبِلِيۡنَۚ ۙ۔كَذٰلِكَ وَزَوَّجۡنٰهُمۡ بِحُوۡرٍ عِيۡنٍؕ۔ يَدۡعُوۡنَ فِيۡهَا بِكُلِّ فَاكِهَةٍ اٰمِنِيۡنَۙ۔

آیات کریمہ میں اہل جنت پر اللہ کی کن نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے؟

ترجمہ

بے شک پرہیزگار لوگ امن والے مقام میں ہوں گے یعنی باغات اور چشموں میں باریک اور موٹے ریشم کا لباس پہنے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے ۔اسی طرح ہوگا اور ہم بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں کو ان کی بیویاں بنا دیں گے اور وہ وہاں منگوائیں گے ہر قسم کے میوے بڑے اطمینان کے ساتھ۔

اور وہ اس جنت میں موت کا مزہ نہیں چکھیں گے سوائے دنیا میں پہلی موت کے اور وہ اللہ انہیں جہنم کی عذاب سے محفوظ رکھے گا۔ آیات کریمہ میں اہل جنت پر اللہ کی درج ذیل نعمتوں کا ذکر ہے

1 وہ امن والی جگہ میں ہوں گے یعنی وہاں کوئی پریشانی کوئی خطرہ اور اندیشہ مشقت اور تکلیف نہ ہوگی
2 وہ باغات اور چشموں میں ہوں گے۔
3 ریشم کا لباس پہنے ہوئے ہوں گے اور آمنے سامنے بیٹھے بے تکلف دوستوں کی طرح ہوں گے
4 اللہ ان پرہیزگاروں کو حوریں عطا فرمائے گا سفید فام سیاہ آنکھوں والی ہونگی حور کا معنی ہے رکی ہوئی یعنی ان کی آنکھیں اور خواہشات اپنے شوہروں پر رکی ہوں گی۔
5 جنت میں پرہیزگار لوگ بڑے اطمینان کے ساتھ ہر قسم کی میوے یعنی پھل وغیرہ اور دیگر میوہ جات منگوائیں گے یعنی جو چیز جتنی چاہیں گے بے فکری کے ساتھ جنت کے خادموں کو اس کے لانے کا حکم دے دیں گے اور وہ حاضر کر دیں گے
6 پرہیزگاروں کے لیے جنت میں ایک اور انعام یہ ہوگا کہ وہ جنت میں موت کا مزہ نہیں چکھیں گے ۔یعنی دنیا میں انہیں جو موت ائی تھی اس موت کے بعد انہیں موت کا مزہ نہیں چکھنا پڑے گا
7 اللہ پرہیزگاروں پر ایک احسان یہ فرمائے گا کہ دوزخ کی آگ کے عذاب سے انہیں بچا لے گا۔
5 مختصر جوابات

وَاِنۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا لِىۡ فَاعۡتَزِلُوۡنِ۔

آیت کریمہ کی رو سے سیدنا موسی نے اپنی قوم سے کیا کہا؟

جواب آیت مبارکہ کی رو سے موسی علیہ السلام نے قوم فرعون سے کہا کہ اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے الگ ہو جاؤ۔

تفصیلی جوابات

6 تفصیلی جوابات

اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰهُ فِىۡ لَيۡلَةٍ مُّبٰـرَكَةٍ​ اِنَّا كُنَّا مُنۡذِرِيۡنَ۔ فِيۡهَا يُفۡرَقُ كُلُّ اَمۡرٍ حَكِيۡمٍۙ۔

آیات کا ترجمہ اور مفہوم بیان کریں۔

ترجمہ

بے شک ہم نے اس کتاب کو ایک مبارک رات میں نازل کیا ۔بے شک ہم ڈرانے والے ہیں ۔اس رات میں ہر مستحکم کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے

جواب آیت مبارکہ میں کتاب سے مراد قرآن حکیم ہے جو کہ کتاب مبین ہے یعنی اس کے احکامات بالکل واضح ہیں لیلہ مبارکہ سے مراد شب قدر ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ۔اس رات میں ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے یہ ایک ایسی رات ہے جس میں اللہ افراد ،قوموں اور ملکوں کی قسمتوں کے فیصلے کر کے اپنے فرشتوں کے حوالے کر دیتے ہیں پھر وہ انہی فیصلوں کے مطابق عمل کرتے رہتے ہیں ۔یہ مبارک رات رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں آتی ہے اور ان طاق راتوں سے مراد 21، 23، 25، 27، اور 29 کی راتوں میں سے ایک رات ہے۔ ۔اور اس طاق رات میں اللہ کے حکم سے تمام احکامات جاری ہوتے ہیں اس لیے ہمیں طاق راتوں میں عبادت کرنی چاہیے
عام غلطی

سورہ دخان کا تعارف اور مرکزی مضمون (کتاب میں درج ہے )

7 تفصیلی جوابات

وَلَقَدۡ نَجَّيۡنَا بَنِىۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ مِنَ الۡعَذَابِ الۡمُهِيۡنِۙ۔ مِنۡ فِرۡعَوۡنَ​ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَالِيًا مِّنَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ۔

آیات کا ترجمہ ،مفہوم تحریر کریں

ترجمہ

اور یقینا ہم نے بنی اسرائیل کو نجات عطا فرمائی ذلت والےعذاب سے یعنی فرعون کے ظلم سے بے شک وہ بڑا سرکش حد سے گزرنے والوں میں سے تھا۔

مفہوم

1 العذاب المهين — (ذلت کا عذاب): اس سے مراد وہ سخت اور ذلت آمیز تکلیفیں ہیں جو فرعون اور اس کی قوم (قبطی) بنی اسرائیل کو دیتے تھے۔ وہ ان کے لڑکوں کو ذبح کرتے اور لڑکیوں کو خدمت کے لیے زندہ رکھتے تھے، اور انہیں سخت مشقت والے کاموں میں جکڑ رکھا تھا۔
2 من فرعون — (فرعون سے): اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر یہ احسان جتایا کہ اس نے انہیں فرعون کے پنجۂ ظلم سے چھڑایا اور بحرِ قرمز (دریا) کو چیر کر انہیں بحفاظت پار کرایا جبکہ فرعون اپنے لشکر سمیت غرق ہو گیا۔
3 إنه كان عالياً من المسرفين — (وہ متکبر اور حد سے بڑھنے والا تھا): یعنی فرعون زمین میں بڑا سرکش، متکبر، اور جبار بن بیٹھا تھا۔ وہ حق کی اطاعت کرنے کے بجائے اپنے آپ کو سب سے بڑا حاکم سمجھتا تھا اور حد سے تجاوز کرنے والے کافروں میں شامل تھا۔ ان آیات کے ذریعے مککہ کے کافروں کو بھی تنبیہ کی گئی ہے کہ غرور اور سرکشی کا انجام فرعون کی طرح ہلاکت ہوتا ہے
8 تفصیلی جوابات

فَإِنَّمَا يَسَّرْنَاهُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ۔فَارْتَقِبْ إِنَّهُمْ مُرْتَقِبُونَ۔

آیات کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں ۔اور مفہوم بیان کریں؟

ترجمہ

تو ہم نے آپ کی زبان میں اس قرآن کو آسان فرما دیا ہے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں تو آپ انتظار کیجئے بے شک وہ لوگ بھی انتظار کرنے والے ہیں۔

1 شانِ نزول اور پس منظر: مکی دور کا اختتام — یہ آیات مکہ مکرمہ میں اس وقت نازل ہوئیں جب قریشِ مکہ کی مخالفت اور ہٹ دھرمی عروج پر تھی۔
2 شانِ نزول اور پس منظر: آخری وارننگ — یہ سورہ الدخان کی بالکل آخری آیات ہیں، جو منکرینِ حق کو ایک آخری اور سخت ترین تنبیہ کے طور پر نازل ہوئیں۔
3 آیت 58: فَإِنَّمَا يَسَّرْنَاهُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ: زبان کی آسانی — اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو نبی کریم ﷺ کی مادری زبان (عربی) میں نازل فرمایا۔ یہ اس لیے کیا تاکہ قریش مکہ یہ عذر نہ تراش سکیں کہ یہ کتاب ہماری سمجھ سے باہر ہے۔
4 آیت 58: فَإِنَّمَا يَسَّرْنَاهُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ: بلاغت اور فصاحت — آسان کرنے سے مراد یہ نہیں کہ اس کے علمی مرتبے میں کمی کی گئی، بلکہ اس کے الفاظ کو دلنشیں، سمجھنے میں واضح اور یاد کرنے میں آسان (حفظ کے لیے) بنا دیا گیا ہے۔
5 آیت 58: فَإِنَّمَا يَسَّرْنَاهُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ: اتمامِ حجت — اس کا مقصد یہ تھا کہ لوگ نصیحت پکڑیں اور سیدھا راستہ اختیار کریں۔ اگر وہ اب بھی ایمان نہیں لاتے، تو ان کے پاس کوئی بہانہ باقی نہیں رہتا۔
6 آیت 59: فَارْتَقِبْ إِنَّهُمْ مُرْتَقِبُونَ: نبی ﷺ کو تسلی — جب کفار نے اتنی واضح کتاب سننے کے بعد بھی ضد نہ چھوڑی، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا کہ اب آپ ان کے پیچھے خود کو ہلکان نہ کریں۔ کفار کا انتظار: وہ اس انتظار میں تھے کہ (معاذ اللہ) اسلام کی دعوت کب ختم ہوتی ہے یا کب نبی ﷺ پر کوئی مصیبت آتی ہے۔
7 آیت 59: فَارْتَقِبْ إِنَّهُمْ مُرْتَقِبُونَ: اللہ کا حکم — اللہ نے فرمایا کہ آپ بھی انتظار کیجیے کہ کب ان پر اللہ کا عذاب یا مسلمانوں کی فتح کی صورت میں اللہ کا فیصلہ نازل ہوتا ہے۔ تاریخ نے ثابت کیا کہ چند ہی سالوں بعد غزوۂ بدر اور فتح مکہ کی صورت میں اللہ کا یہ فیصلہ سامنے آ گیا۔
9 تفصیلی جوابات

سورہ دخان میں فعل امر کی کوئی دو مثالیں تلاش کریں اور کسی ایک فعل امر کی گردان لکھیں۔

سورہ دخان میں فعل امر کی دو مثالیں

گردان

1 ارتقب (آپ انتظار کریں )
2 اکشف (تو دور کر دے )
3 اترک (تو چھوڑ دے )
4 گردان: اترک ،اترکا ،اترکوا ،اترکی ،اترکا ،اترکن

سرگرمی

10 سرگرمی

سورہ دخان میں اللہ کی کئی صفات کا ذکر اور میں سے چند صفات تحریر کریں۔

جواب سورہ دخان میں اللہ تعالی کی بیان کی گئی صفات سمیع ،رحیم ،علیم ،عزیز ،کریم ،رب السموات والارض ،یحیی ویمیت
11 سرگرمی

سورہ دخان کی پہلی آیت کی فضیلت لکھیں ۔

دخان کی پہلی آیت حم ہے یہ قرآن مجید کے ان حروف مقطعات میں سے جن کا حقیقی معنی اللہ ہی بہتر جانتا ہے ۔

فضیلت

1 یہ آیت قرآن مجید کے اعجاز اور عظمت کی طرف اشارہ کر کرتی ہے
2 حروف مقطعات قاری کو قرآن پر غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں ۔
3 سورۃ خان کی تلاوت مجموعی طور پر بہت فضیلت رکھتی ہے اور اس کی ابتدا حم سے ہونے کی وجہ سے یہ ان مبارک سورتوں میں شامل ہیں جنہیں حوا میم کہا جاتا ہے ۔
4 سورۃ دخان کی پہلی آیت حم اللہ کے رازوں میں سے ایک راز ہے یہ قرآن کی عظمت ،اعجاز اور حقانیت کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔
12 سرگرمی

سورۃ دخان کے مطابق جہنمیوں کو کن عذابوں کا سامنا کرنا پڑے گا اور ان سے بچنے کے لیے کیا تدابیر ہونی چاہییں؟

سورۃ دخان کے مطابق جہنمیوں کو زقوم کے درخت کا پھل کھانے کو ملے گا جو ان کے پیٹوں میں پگھلے ہوئے تانبے کی طرح کھولے گا ان کو جہنم میں گھسیٹا جائے گا پھر ان کے سروں پر کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا اور کہا جائے گا کہ اب اس عذاب کا مزہ چکھو۔

عذابوں سے بچنے کی تدابیر

1 اللہ تعالی پر سچا ایمان لانا ۔
2 نماز روزہ اور دیگر عبادات کی پابندی کرنا ۔
3 قرآن کریم کی تعلیمات پر عمل کرنا ۔
4 گناہوں سے بچنا اور توبہ کرنا ۔
5 سچائی ،امانت داری اور نیک اعمال ا ختیار کرنا ۔
6 اللہ تعالی سے مغفرت اور جنت کی دعا مانگتے رہنا
13 سرگرمی

ہمیں قیامت کے لیے کیسے تیاری کرنی چاہیے؟

قیامت کی تیاری کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کو اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کے مطابق گزارے۔اس کے لیے درج ذیل باتوں پر عمل کرنا چاہیے

1 اللہ تعالی پر پختہ ایمان رکھنا اور ہر قسم کے شرک سے بچنا ۔
2 پانچ وقت کی نماز پابندی سے ادا کرنا ۔
3 قرآن مجید کی تلاوت کرنا اور اس پر عمل کرنا ۔
4 سچ بولنا ،امانت داری اختیار کرنا اور اچھے اخلاق اپنانا ۔
5 والدین ،رشتہ داروں اور لوگوں کے حقوق ادا کرنا ۔
6 گناہوں سے بچنا توبہ استغفار کرنا اور نیک اعمال میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ۔
7 زکوۃ ،صدقہ اور ضرورت مندوں کی مدد کرنا ۔
8 ہمیشہ آخرت کو یاد رکھنا اور ہر کام اللہ کی رضا کے لیے کرنا۔
جواب جو شخص ایمان ،عبادت ،نیک اعمال اور اچھے اخلاق کے ساتھ زندگی گزارتا ہے وہ انشاءاللہ قیامت کے دن کامیاب ہوگا اور اللہ تعالی کی رحمت کا مستحق بنے گا۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.