وَمَا يَأْتِيهِم مِّن نَّبِيِّ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ ۔
آیت کریمہ کی روشنی میں امم سابقہ کی انبیاء کے حوالے سے کیا روش بیان ہوئی ہے۔
اور کوئی نبی ان کے پاس نہیں آتا تھا مگر وہ اس کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔
امم سابقہ کی روش (خصوصیات)
آٹھویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ
وَمَا يَأْتِيهِم مِّن نَّبِيِّ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ ۔
آیت کریمہ کی روشنی میں امم سابقہ کی انبیاء کے حوالے سے کیا روش بیان ہوئی ہے۔
اور کوئی نبی ان کے پاس نہیں آتا تھا مگر وہ اس کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔
امم سابقہ کی روش (خصوصیات)
وَجَعَلُوا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّحْمَانِ إِنَاثًا ۚ أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْأَلُونَ
آیت کریمہ کی رو سے ملائکہ کے حوالے سے مشرکین کا کیا عقیدہ رہا؟ا
اور انہوں نے فرشتوں کو، جو خدائے رحمان کے بندے ہیں، عورتیں قرار دیا۔ کیا وہ ان کی پیدائش کے وقت حاضر تھے؟ عنقریب ان کی یہ گواہی لکھ لی جائے گی اور ان سے بازپرس (سوال) کی جائے گی
عقائد اور قرآن کی تردید
وَمَنْ يَعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَانًا فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ۔
آیت کریمہ کی روسے کس پر شیطان مقرر کیا جاتا ہے؟
اور جو شخص رحمٰن (خدا) کے ذکر سے غفلت برتے (منہ پھیرے)، ہم اس پر ایک شیطان مقرر کر دیتے ہیں تو وہ اسی کا ساتھی بنا رہتا ہے۔
اِنْ هُوَ اِلَّا عَبْدٌ اَنْعَمْنَا عَلَیْهِ وَجَعَلْنٰهُ مَثَلًا لِّبَنِیْ اِسْرَآءِيلَ ۔
آیت کریمہ میں حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں کیا حقیقت واضح کی گی؟
نہیں ہے وہ مگر ایک بندہ جس پر ہم نے انعام کیا اور ہم نے اسے بنی اسرائیل کے لیے ایک مثال (نشانی) بنا دیا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں واضح کی گئی حقیقتیں
لا يُفَتَّرُ عَنْهُمْ وَهُمْ فِيهِ مُبْلِسُونَ
آیت کریمہ میں مجرمین کا کیا حال بیان کیا گیا ہے؟
وہ (عذاب) کبھی ان سے ہلکا نہ کیا جائے گا اور وہ اس میں مایوس پڑے رہیں گے
مجرمین کا حال
سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ ۔ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ ۔
آیت کا ترجمہ اور مفہوم کریں ۔
وہ (اللہ )پاک ہے جس نے اس (سواری )کو ہمارے تابع کر دیا اور ہم میں طاقت نہ تھی اس کو قابو میں لا سکتے ۔اور بے شک ہم اپنے رب کی طرف ضرور پلٹ کر جانے والے ہیں۔
مفہوم
قُلْ إِن كَانَ لِلرَّحْمَـٰنِ وَلَدٌ فَأَنَا أَوَّلُ الْعَابِدِينَ۔ سُبْحَانَ رَبِّ السَّمَاوَاتِ وَالْرَّضِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُونَ۔
ترجمہ اور مفہوم لکھیں۔
آپ فرما دیجیے کہ اگر بالفرض محال اللہ کی کوئی اولاد ہوتی تو میں سب سے پہلا عابد ہوں (مجھے تو اس کا علم ضرور ہوتا) پاک ہے آسمانوں اور زمینوں کا رب اور عرش کا رب ان (باتوں )سے جو یہ بیان کرتے ہیں۔
وَتَبَارَكَ الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَعِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ۔
ترجمہ اور مفہوم
اور بہت بابرکت ہے وہ (اللہ )جس کے لیے آسمانوں اور زمینوں کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کی) بادشاہت ہے اور اسی کے پاس قیامت کا علم ہے اور اسی کی طرف تم سب لوٹائے جاؤ گے۔
سُبۡحٰنَ الَّذِىۡ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَمَا كُنَّا لَهٗ مُقۡرِنِيۡنَۙ ۔وَاِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنۡقَلِبُوۡنَ
سواری پر سوار ہونے کی دعا ترجمے کے ساتھ یاد کریں
پاک ہے وہ ذات جس نے سواری کو ہمارے بس میں دے دیا ور نہ ہم میں یہ طاقت نہیں تھی کہ اس کو قابو میں لا سکے اور بے شک ہم اپنے رب ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں
سورہ زخرف میں کوئی سے 10 عربی الفاظ تلاش کریں جو اردو میں بھی استعمال کئےجاتے ہیں؟
دوست کے انتخاب میں کن صفات کو ملحوظ رکھنا چاہیےنیز اچھی اور بری صحبت سے زندگی پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں ؟
دوست کا انتخاب کرتے وقت نیک نیتی، سچائی اور اعلیٰ کردار جیسی صفات کو دیکھنا چاہیے۔ اچھی صحبت انسان کو بہتر بناتی اور سکون دیتی ہے، جبکہ بری صحبت اخلاقی بگاڑ، ناکامی اور برے راستے پر لے جاتی ہے۔
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔