آٹھویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 5: سبق 5: سورت زخرف — مشقی سوالات

تیارمختصر سوالات، تفصیلی سوالات اور سرگرمیاں · 11 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر سوالات

1 مختصر سوالات

وَمَا يَأْتِيهِم مِّن نَّبِيِّ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ ۔

آیت کریمہ کی روشنی میں امم سابقہ کی انبیاء کے حوالے سے کیا روش بیان ہوئی ہے۔

ترجمہ

اور کوئی نبی ان کے پاس نہیں آتا تھا مگر وہ اس کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔

امم سابقہ کی روش (خصوصیات)

1 استہزا اور تمسخر — سابقہ قوموں کا یہ مستقل شیوہ رہا ہے کہ انہوں نے اللہ کے انبیاء کی دعوت کو سنجیدہ لینے کے بجائے ہمیشہ ان کا مذاق اڑایا۔
2 سرکشی کا تسلسل — کلامِ الٰہی میں لفظ ”إِلَّا كَانُوا“ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ یہ محض ایک بار کا اتفاق نہیں تھا، بلکہ ان کا مستقل اور پکا طریقہ یہی تھا کہ جو بھی پیغمبر آیا، وہ اس کے مسخرے اور منکر بن گئے۔
3 تسلی و تشفیِ رسول — اس آیت کے ذریعے دراصل نبی کریم ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپ کی قوم کا رویہ بھی پرانی سرکش قوموں جیسا ہے، لہذا آپ ان کے مذاق اور جھٹلانے پر غمزدہ نہ ہوں۔
2 مختصر سوالات

وَجَعَلُوا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّحْمَانِ إِنَاثًا ۚ أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْأَلُونَ

آیت کریمہ کی رو سے ملائکہ کے حوالے سے مشرکین کا کیا عقیدہ رہا؟ا

ترجمہ

اور انہوں نے فرشتوں کو، جو خدائے رحمان کے بندے ہیں، عورتیں قرار دیا۔ کیا وہ ان کی پیدائش کے وقت حاضر تھے؟ عنقریب ان کی یہ گواہی لکھ لی جائے گی اور ان سے بازپرس (سوال) کی جائے گی

عقائد اور قرآن کی تردید

1 فرشتوں کو مونث قرار دینا — مشرکینِ عرب فرشتوں کو خدا کی اولاد اور مونث (عورتیں/بیٹیاں) مانتے تھے۔
2 تخلیق پر بے بنیاد دعویٰ — قرآن نے ان کے اس عقیدے کو رد کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا یہ لوگ فرشتوں کی پیدائش کے وقت خود موجود تھے؟
3 عبودیت کی نفی — مشرکین فرشتوں کو اللہ کا بیٹیاں کہہ کر ان کی حقیقی حیثیت یعنی «عِبَادُ الرَّحْمَٰنِ» (رحمٰن کے بندے) ہونے کو جھٹلاتے تھے
4 روزِ قیامت بازپرس — ان کی یہ جھوٹی گواہی اور افترا بازی نامہ اعمال میں لکھی جا رہی ہے اور قیامت کے دن ان سے اس کا حساب لیا جائے گا
3 مختصر سوالات

وَمَنْ يَعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَانًا فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ۔

آیت کریمہ کی روسے کس پر شیطان مقرر کیا جاتا ہے؟

ترجمہ

اور جو شخص رحمٰن (خدا) کے ذکر سے غفلت برتے (منہ پھیرے)، ہم اس پر ایک شیطان مقرر کر دیتے ہیں تو وہ اسی کا ساتھی بنا رہتا ہے۔

1 غفلت کی سزا — جو انسان اللہ تعالیٰ کی یاد، فرمانبرداری اور قرآن مجید کی ہدایت سے آنکھیں بند کر لیتا ہے، اسے سزا کے طور پر شیطان گھیر لیتا ہے۔
2 شیطان کی رفاقت — وہ مقرر کردہ شیطان ہر وقت اس انسان کے ساتھ جڑا رہتا ہے اور اسے سیدھے راستے سے بھٹکاتا ہے۔
3 غلط فہمی — وہ گمراہ انسان یہ سمجھتا ہے کہ وہ ٹھیک راستے پر ہے، جبکہ حقیقت میں وہ شیطان کے قبضے میں ہوتا ہے
4 مختصر سوالات

اِنْ هُوَ اِلَّا عَبْدٌ اَنْعَمْنَا عَلَیْهِ وَجَعَلْنٰهُ مَثَلًا لِّبَنِیْ اِسْرَآءِيلَ ۔

آیت کریمہ میں حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں کیا حقیقت واضح کی گی؟

ترجمہ

نہیں ہے وہ مگر ایک بندہ جس پر ہم نے انعام کیا اور ہم نے اسے بنی اسرائیل کے لیے ایک مثال (نشانی) بنا دیا۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں واضح کی گئی حقیقتیں

1 بندۂ خدا ہونا — اس آیت میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا یا خدا کے بیٹے نہیں ہیں، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے عام بندوں میں سے ایک بندے اور اس کے برگزیدہ رسول ہیں۔
2 منصبِ نبوت اور انعام — اللہ تعالیٰ نے ان پر نبوت اور رسالت کا انعام و احسان فرمایا تھا، جس کی وجہ سے وہ بلند مقام پر فائز ہوئے لیکن وہ خدائی درجے تک نہیں پہنچے۔
3 قدرت کی نشانی (مثلاً) — بنا باپ کے پیدا ہونے اور معجزات عطا کیے جانے کی وجہ سے انہیں بنی اسرائیل کے لیے قدرتِ الٰہیہ کا ایک نمونہ اور عجیب نشانی بنایا گیا تاکہ لوگ اس سے اللہ کی زبردست قدرت کو پہچانیں۔
4 عقائد کی تردید — یہ آیت ان لوگوں کے نظریات کا رد کرتی ہے جو انہیں خدا کا بیٹا یا معبود مانتے ہیں۔
5 مختصر سوالات

لا يُفَتَّرُ عَنْهُمْ وَهُمْ فِيهِ مُبْلِسُونَ

آیت کریمہ میں مجرمین کا کیا حال بیان کیا گیا ہے؟

ترجمہ

وہ (عذاب) کبھی ان سے ہلکا نہ کیا جائے گا اور وہ اس میں مایوس پڑے رہیں گے

مجرمین کا حال

1 عذاب میں کمی نہ ہونا — مجرموں پر جہنم کا عذاب مسلط رہے گا اور اس کی شدت میں ایک لمحے کے لیے بھی کمی یا وقفہ نہیں آئے گا۔
2 شدید مایوسی (مبلسون) — وہ عذابِ الٰہی کے اندر اس حال میں ہوں گے کہ رحمتِ خداوندی اور نجات سے بالکل ناامید ہو چکے ہوں گے۔
3 دائمی ہلاکت — انہیں چھٹکارا پانے یا موت آنے کی کوئی امید باقی نہیں رہے گی

تفصیلی سوالات

6 تفصیلی سوالات

سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ ۔ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ ۔

آیت کا ترجمہ اور مفہوم کریں ۔

ترجمہ

وہ (اللہ )پاک ہے جس نے اس (سواری )کو ہمارے تابع کر دیا اور ہم میں طاقت نہ تھی اس کو قابو میں لا سکتے ۔اور بے شک ہم اپنے رب کی طرف ضرور پلٹ کر جانے والے ہیں۔

مفہوم

1 تسخیرِ حیوانات — ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے جانوروں اور سواریوں کو انسان کے تابع کر دیا ہے تاکہ انسان ان پر بیٹھ کر سفر کرے اور آسانی سے اپنے کام انجام دے۔
2 شکرِ نعمت اور دعا — سواری پر بیٹھنے کے بعد اللہ کی اس نعمت کا اعتراف کرنا اور زبان سے یہ کہنا مسنون ہے کہ ”سبحن الذي سخر لنا هذا“ (پاک ہے وہ ذات جس نے اسے ہمارے تابع کیا)، کیونکہ اگر اللہ کی قدرت شاملِ حال نہ ہوتی تو انسان طاقتور جانوروں کو اپنے قابو میں نہ لا سکتا۔
3 آخرت کی یاد دہانی — سواری پر سفر کرتے وقت انسان کو اپنی اس آخری سفر کی یاد بھی تازہ کرنی چاہیے کہ جس طرح وہ دنیا میں ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کر رہا ہے، اسی طرح ایک دن اس نے دنیا سے رخصت ہو کر اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہے
7 تفصیلی سوالات

قُلْ إِن كَانَ لِلرَّحْمَـٰنِ وَلَدٌ فَأَنَا أَوَّلُ الْعَابِدِينَ۔ سُبْحَانَ رَبِّ السَّمَاوَاتِ وَالْرَّضِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُونَ۔

ترجمہ اور مفہوم لکھیں۔

ترجمہ

آپ فرما دیجیے کہ اگر بالفرض محال اللہ کی کوئی اولاد ہوتی تو میں سب سے پہلا عابد ہوں (مجھے تو اس کا علم ضرور ہوتا) پاک ہے آسمانوں اور زمینوں کا رب اور عرش کا رب ان (باتوں )سے جو یہ بیان کرتے ہیں۔

جواب اس آیت میں ایک فرضی اور محال بات کہی گئی ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد نہیں ہے، اس لیے یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مطلب یہ ہے کہ اگر بالفرض رحمان کی اولاد ہوتی تو میں سب سے پہلے اس کی تعظیم و بندگی کرتا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ اس عیب اور شریک سے بالکل پاک ہے۔ عربی محاورے کے اعتبار سے یہاں ”عابدین“ کا معنی ”منکر یا انکار کرنے والا“ بھی کیا گیا ہے، یعنی اگر رحمان کی کوئی اولاد ہوتی تو میں سب سے پہلا شخص ہوتا جو اس کا انکار کرتا کیونکہ اس کی ذات اولاد سے پاک ہے اس آیت میں مشرکین کے اس دعوے کی تردید کی گئی ہے جو وہ اللہ کے لیے اولاد یا شریک ہونے کی باتیں بناتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی پاکی بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جو رب پوری کائنات (زمین و آسمان) اور عظیم الشان عرش کا مالک ہے، وہ کافروں اور مشرکین کے تمام جھوٹے اور گندے خیالات سے بہت بلند اور پاک ہے۔
8 تفصیلی سوالات

وَتَبَارَكَ الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَعِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ۔

ترجمہ اور مفہوم

ترجمہ

اور بہت بابرکت ہے وہ (اللہ )جس کے لیے آسمانوں اور زمینوں کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کی) بادشاہت ہے اور اسی کے پاس قیامت کا علم ہے اور اسی کی طرف تم سب لوٹائے جاؤ گے۔

1 1۔ کلمہ ”تبارک“ کی وسعت (وَتَبَارَكَ الَّذِي): لفظ ”تبارک“ برکت سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں ”خیرِ کثیر“ (بہت زیادہ بھلائی) اور ثبات و دوام (ہمیشہ رہنا)۔ یہاں اس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات تمام نقصائص سے پاک، نہایت بلند و برتر، اور ہر قسم کی خیر و برکت کا سرچشمہ ہے۔ اس کلمے سے واضح ہوتا ہے کہ کائنات میں جو بھی بھلائی یا نظام چل رہا ہے، وہ اسی ایک ذات کی بدولت ہے۔
2 2۔ کائنات پر مطلق حاکمیت (لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا): آیت کا یہ حصہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی اکیلی بادشاہت کو ثابت کرتا ہے: مطلق ملکیت: آسمان، زمین اور ان کے درمیان جو کچھ بھی موجود ہے (جیسے بادل، فضائیں، اور دیگر مخلوقات)، ان سب کا خالق، مالک اور مدبر صرف اللہ ہے۔ مشرکین کا رد: مکہ کے مشرکین یہ تو مانتے تھے کہ کائنات کا خالق اللہ ہے، لیکن وہ عبادت میں دوسروں کو شریک کرتے تھے۔ اللہ نے واضح فرما دیا کہ جب بادشاہی اور نفع و نقصان صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے، تو عبادت کا مستحق بھی صرف وہی ہے۔
3 3۔ قیامت کا علم صرف اللہ کے پاس ہے (وَعِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ): ”الساعة“ سے مراد قیامت کی گھڑی ہے۔ اس کائنات کا یہ نظام کب ختم ہوگا اور کب سب کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا، اس کا دقیق اور حتمی علم اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس محفوظ رکھا ہے۔ اس علم میں نہ تو کوئی مقرب فرشتہ شریک ہے اور نہ ہی کوئی نبی یا رسول۔ یہ عقیدہ انسان کو ہر وقت چوکنا رکھتا ہے کہ قیامت اچانک آ سکتی ہے، اس لیے ہر لمحہ آخرت کی تیاری کرنی چاہیے۔
4 4۔ بازگشت اور احتساب (وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ): آیت کے اختتام پر انسان کو اس کے انجام کی یاد دہانی کرائی گئی ہے: دنیا کی زندگی عارضی ہے اور موت آخری منزل نہیں، بلکہ ایک نئی زندگی کا آغاز ہے۔ تم سب کو بہرصورت اپنے اصل مالک (اللہ) کے پاس واپس جانا ہے، جہاں ہر شخص کو اس کے اعمال کا حساب دینا ہوگا اور اسی کے مطابق جزا یا سزا پائے گا۔

سرگرمیاں

9 سرگرمیاں

سُبۡحٰنَ الَّذِىۡ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَمَا كُنَّا لَهٗ مُقۡرِنِيۡنَۙ ۔وَاِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنۡقَلِبُوۡنَ

سواری پر سوار ہونے کی دعا ترجمے کے ساتھ یاد کریں

ترجمہ

پاک ہے وہ ذات جس نے سواری کو ہمارے بس میں دے دیا ور نہ ہم میں یہ طاقت نہیں تھی کہ اس کو قابو میں لا سکے اور بے شک ہم اپنے رب ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں

10 سرگرمیاں

سورہ زخرف میں کوئی سے 10 عربی الفاظ تلاش کریں جو اردو میں بھی استعمال کئےجاتے ہیں؟

جواب قرآن ،عربی ،قوم ،انسان ،کلمہ ،مشرکین، رب ،اللہ ،عرش ،شفاعت ،حق
11 سرگرمیاں

دوست کے انتخاب میں کن صفات کو ملحوظ رکھنا چاہیےنیز اچھی اور بری صحبت سے زندگی پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں ؟

دوست کا انتخاب کرتے وقت نیک نیتی، سچائی اور اعلیٰ کردار جیسی صفات کو دیکھنا چاہیے۔ اچھی صحبت انسان کو بہتر بناتی اور سکون دیتی ہے، جبکہ بری صحبت اخلاقی بگاڑ، ناکامی اور برے راستے پر لے جاتی ہے۔

1 دوست کے انتخاب میں مطلوبہ صفات: سچائی اور دیانت داری — دوست جھوٹ سے پاک اور اپنے قول کا سچا ہو۔
2 دوست کے انتخاب میں مطلوبہ صفات: اخلاق اور کردار — اچھے اخلاق والا انسان اور برائیوں سے دور ہو۔
3 دوست کے انتخاب میں مطلوبہ صفات: علم اور سمجھداری — جو اچھے اور برے کی تمیز رکھتا ہو اور صحیح مشورہ دے۔
4 اچھی صحبت کے اثرات: نیکی کی رغبت — انسان اچھے کاموں کی طرف مائل ہوتا ہے۔
5 اچھی صحبت کے اثرات: کردار کی بہتری — اچھی عادتیں خود بخود انسان میں آجاتی ہیں۔
6 اچھی صحبت کے اثرات: مشکل وقت میں مدد، — سچا دوست پریشانی میں ساتھ دیتا ہے۔
7 بری صحبت کے اثرات: اخلاقی زوال — انسان آہستہ آہستہ بری عادتیں سیکھ لیتا ہے۔
8 بری صحبت کے اثرات: وقت کا ضیاع — بے مقصد اور برے کاموں میں وقت برباد ہوتا ہے۔
9 بری صحبت کے اثرات: بدنامی اور نقصان — معاشرے میں عزت کا خاتمہ اور دنیاوی نقصان ہوتا ہے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.