آیت کریمہ میں حضرت خضر علیہ السلام نے موسی علیہ السلام کو کیا ہدایت کی؟
ترجمہ
(خضر علیہ السلام نے) کہا: پس اگر آپ میرے ساتھ رہیں تو مجھ سے کسی چیز کی بابت سوال نہ کریں یہاں تک کہ میں خود آپ سے اس کا ذکر کر دوں۔
جوابحضرت خضر علیہ السلام نے حضرت موسی علیہ السلام کو یہ ہدایت کی کہ اگر آپ میرے ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو مجھ سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہ کرنا یہاں تک کہ میں خود آپ کو اس کے بارے میں نہ بتا دوں
کشتی کو عیب دار کرنے کی عزیز علیہ السلام نے کیا وجہ بیان کی؟
ترجمہ
وہ جو کشتی تھی تو وہ کچھ مسکین لوگوں کی تھی جو دریا میں کام کرتے تھے تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں اور ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر صحیح سلامت کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا۔
جوابکشتی کو عیب دارکرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا کہ کشتی کا تختہ توڑنے کی وجہ یہ تھی کہ اس کے مالک چند غریب اور مسکین لوگ تھے جو کشتی چلا کر مزدوری سے اپنے گھر والوں کا پیٹ پالتے تھے جس طرف کشتی جا رہی تھی وہاں کا ظالم بادشاہ اچھی کشتیوں کو پکڑ کر ضبط کر رہا تھا اس لیے میں نے چاہا کہ کشتی کو عیب دار کر دوں تاکہ وہ اس ظالم بادشاہ کے ہاتھوں سے محفوظ رہےاور کشتی والے پھر سے کشتی کو درست کر کے اپنی روزی کماتے رہیں۔
جن لوگوں نے کفر کیا وہ کیا یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو مددگار بنا لیں گے بے شک ہم نے ایسے کافروں کی مہمانی کے لیے جنت تیار کر رکھی ہے۔
جواباس آیت میں کافروں کے بارے میں فرمایا کہ انہیں پہلے سے بتا دیا گیا ہے کہ کفر کا انجام برا ہے ان کے لیے دوزخ ہے پھر بھی کفر پر جمے ہیں اور شرک اختیار کیے ہوئے ہیں میرے بندوں کو اپنا معبود اور کارساز بنا رکھا ہے اور اس کو اپنے لیے بہتر سمجھتے ہیں کفر اور شرک کو بہتر سمجھنا حماقت اور جہالت ہے کافروں کے لیے جہنم کو تیار کی گئی ہے اس سے ان کی مہمانی ہوگی۔ سے مراد اس جگہ فرشتے اور وہ انبیاء کرام ہیں جن کی دنیا میں لوگوں نے پرستش کی ۔ان کو اللہ کا شریک ٹھہرایا جس طرح حضرت عزیر علیہ السلام کو یہود نے حضرت عیسی علیہ السلام کو نصاری نے خدا کا شریک قرار دیا اور مشرکین فرشتوں کی عبادت کرتے تھے۔الذین کافرو سے اس آیت میں کفار کے یہی فرقےمراد ہے اور جن مفسرین کرام نے اس جگہ عبادی سے مراد شیاطین لئے تو الذین کافرو سے وہ کفار مراد ہوں گے جو جنا ت و شیاطین کی پرستش کرتے تھے بعض مفسرین نےاس جگہ لفظ عبادی کو مخلوق ومملوک کے معنی میں لے کر عام قرار دیا جس میں سب معبودان باطلہ ،بت ،آگ اور ستارے بھی شامل ہیں
7تفصیلی سوالات
سورۃ کہف کی رو سے حضرت خضر علیہ السلام اور موسی علیہ السلام کے واقعے میں ہمارے لیے کیا سبق ہے؟
جواب: اہم اسباق
1علم کے لیے تواضع اور سفر — پیغمبر ہونے کے باوجود حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مزید علم حاصل کرنے کے لیے سفر کرنا یہ سکھاتا ہے کہ انسان کتنا ہی بڑا عالم کیوں نہ ہو، اسے سیکھنے کے لیے ہمیشہ عاجز رہنا چاہیے۔
2صبر کی اہمیت — ظاہری حالات دیکھ کر جلد باز نہ ہونا اور انجامِ کار تک صبر کرنا، جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے بار بار تاخیر پر صبر چھوٹ جاتا ہے۔
3خفیہ الٰہی حکمت — ظاہری نقصان یا تکلیف کے پیچھے اکثر اللہ تعالیٰ کی کوئی بڑی رحمت اور بہتری پوشیدہ ہوتی ہے جسے محدود انسانی عقل فوراً نہیں سمجھ سکتی۔
آیات کریمہ کا ترجمہ مفہوم کریں ۔نیز بتائیں کہ اعمال کے لحاظ سے سب سے زیادہ خسارے والے کون سے لوگ ہیں
ترجمہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما دیجیے کہ کیا ہم تمہیں بتائیں اعمال کے اعتبار سے سب سے زیادہ خسارے والے کون ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کی کوششیں دنیا کی زندگی میں ضائع ہو گئیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں
جوابنیزاعمال کے لحاظ سے سب سے زیادہ خسارے اور نقصان میں وہ لوگ ہیں جو دن رات دنیا کے حصول کے لیے مارے مارے پھرتے ہیں ان کی زندگی کا بس ایک ہی مقصد ہے کہ زیادہ سے زیادہ دولت جمع کی جائے مکانات اور محلات تعمیر کیے جائیں دنیا میں اعلی عہدے پر فائز ہو ں انہیں کبھی اپنے رب کی خوشنودی حاصل کرنے کا خیال ہی نہیں آیا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو کچھ اعمال کو نیک سمجھ کر اس میں جدوجہد اور محنت کرتے ہیں مگر اللہ کے نزدیک ان کی محنت برباد اور عمل ضائع ہے۔کیونکہ جس شخص کا عقیدہ اور ایمان درست نہ ہو وہ عمل کتنےہی اچھے کرے اور کتنی ہی محنت اٹھائے وہ اخرت میں بیکار اور ضائع ہیں۔
9تفصیلی سوالات
سیدنا خضر علیہ السلام نے دیوار درست کرنے کی کیا وجہ بیان فرمائی؟
جوابحضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا کہ اس دیوار کو درست کرنے کی وجہ یہ تھی کہ اس کے مالک دو یتیم بچے تھے جن کا باپ بہت نیک آدمی تھا اس دیوار کے نیچے ان کا خزانہ دفن تھا اللہ نے چاہا کہ اس دیوار کو درست کر دیا جائے تاکہ ان بچوں کےجوان ہونے تک ان کا خزانہ محفوظ رہے اور جوان ہو کر وہ دیوار کے نیچے سے اپنا خزانہ نکال لیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما دیجیے کہ اگر میرے رب کی باتوں کے لکھنے کے لیے سمندر سیاہی بن جائے تو سمندر کا پانی ضرور ختم ہو جائے گا اس سے پہلے کہ میرے رب کی باتیں ختم ہوں اگرچہ ہم اس کی مدد کے لیے ویسے ہی سمندر اور لےآئیں۔
جوابکلمات سے مراد اللہ تعالی کی قدرت و حکمت کی وہ نشانیاں ہیں جو آفاق میں پھیلی ہوئی ہیں کلمات سے مراد اللہ تعالی کے کمالات اور عجائبات قدرت ہیں اور یہ لامتناہی اور بے حد و حساب ہیں جس میں ہر لمحہ مزید وسعت ہوتی رہتی ہے سمندر یا سمندروں کا پانی خواہ کتنا ہی زیادہ مقدار میں ہو بہرحال اس کی ایک حد ہے اور ایک محدود چیز کا لامحدود چیز سے کیا مقابلہ ہو سکتا ہے لہذا سمندروں کی سیاہی تو ختم ہو سکتی ہے لیکن اللہ کے کلمات ختم نہیں ہو سکتے اور اللہ کے کلمات کی کوئی انتہا نہیں اگر اللہ کے علم کے کلمات اور اس کے احکام کو لکھا جائے اور سمندر ان کے لیے سیاہی ہو جائے تو اس کے تمام کلمات کو لکھا نہیں جا سکتا خواہ وہ سمندر کتنا ہی وسیع و عریض کیوں نہ ہوں۔
سرگرمیاں
11سرگرمیاں
سفر کیسے حصول علم کا بڑا ذریعہ ہے ؟
سفر حصولِ علم کا سب سے بڑا ذریعہ ہے کیونکہ یہ انسان کو کتابی علم سے نکال کر عملی تجربات، نئی تہذیبوں اور براہِ راست مشاہدات سے روشناس کرواتا ہے۔ اس کے اہم ذرائع میں عملی تجربہ، ثقافتی تبادلہ اور تاریخ و جغرافیہ کا فہم شامل ہیں۔
1عملی مشاہدہ اور تجربہ: نئی دنیا کی شناخت — کتابوں میں پڑھی گئی باتیں صرف تصوراتی ہوتی ہیں جبکہ سفر سے وہ آنکھوں کے سامنے حقیقت بن جاتی ہیں۔
2عملی مشاہدہ اور تجربہ: مشاہداتی صلاحیت — انسان مختلف ماحول، آب و ہوا اور لوگوں کو دیکھ کر کائنات کی گہرائی کو سمجھتا ہے۔
3عملی مشاہدہ اور تجربہ: فطرت سے قربت — پہاڑوں، دریاؤں اور جنگلات کا سفر انسان کو قدرت کے اصول سکھاتا ہے۔
4ثقافتی اور سماجی آگاہی: زبان اور رسم و رواج — دوسرے علاقوں میں جا کر وہاں کی زبان، رہن سہن اور تہذیب کو قریب سے سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔
5ثقافتی اور سماجی آگاہی: رواداری اور بھائی چارہ — مختلف لوگوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے سے انسان میں برداشت، محبت اور ایک دوسرے کو قبول کرنے کا حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔
6ثقافتی اور سماجی آگاہی: خیالات کا تبادلہ — بیرونی دنیا کے لوگوں سے ملنے سے خیالات کا دائرہ وسیع ہوتا ہے۔
7ذہنی اور شخصی ترقی: خود اعتمادی — مشکلات کا سامنا کرنے اور نئے راستے تلاش کرنے سے انسان خود کفیل اور بہادر بنتا ہے۔
8ذہنی اور شخصی ترقی: تاریخی مقامات کی سیاحتی اہمیت — پرانی عمارتیں اور کھنڈرات ماضی کے عروج و زوال کی داستانیں خود سناتے ہیں۔
9ذہنی اور شخصی ترقی: نئی راہیں — انسان اپنی روٹین سے باہر نکل کر زندگی کو ایک نئے زاویے سے دیکھنا سیکھتا ہے۔
12سرگرمیاں
ایک فہرست تیار کریں جس میں سفر کے دوران لے جانے والی ضروری چیزوں کی تفصیل ہو۔
1جواب : اہم دستاویزات اور رقم: شناختی کارڈ اور پاسپورٹ — سفر اور تصدیق کے لیے لازمی ہیں۔
2جواب : اہم دستاویزات اور رقم: ٹکٹ اور ریزرویشن — ہوائی جہاز، ٹرین یا ہوٹل کی پرچی۔
3جواب : اہم دستاویزات اور رقم: نقدی اور کارڈ — مقامی کرنسی اور کریڈٹ کارڈ۔
4لباس اور جوتے: روزمرہ کے کپڑے — موسم کے لحاظ سے مناسب جوڑے (جیسے جیکٹ یا ہلکے کپڑے)۔
5لباس اور جوتے: سونے کے لباس — رات کے لیے آرام دہ کپڑے (نائٹ سوٹ)۔
6لباس اور جوتے: جوتے — ایک جوڑا پیدل چلنے کے لیے اور ایک آرام دہ جوتا۔
7ذاتی نگہداشت اور ادویات: فرسٹ ایڈ باکس — بنیادی درد کش گولیاں اور ذاتی ادویات۔
8ذاتی نگہداشت اور ادویات: ٹوتھ پیسٹ اور برش — دانتوں کی صفائی کا سامان۔
9ذاتی نگہداشت اور ادویات: صابن اور شیمپو — چھوٹے سائز کی بوتلیں۔
13سرگرمیاں
سفر میں کون سی احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہیے؟
سفر کو محفوظ بنانے کے لیے سیٹ بیلٹ کا استعمال، نیند یا غنودگی میں ڈرائیونگ سے گریز، اور بنیادی طبی سامان یا پانی ساتھ رکھنا انتہائی ضروری ہے۔
ذاتی اور جسمانی حفاظت اور ڈرائیونگ اور سواری کے دوران احتیاط
1ذاتی اور جسمانی حفاظت: زیادہ سے زیادہ پانی اور لیموں پانی کا استعمال کریں تاکہ گرمی یا تھکن سے بچا جا سکے۔
2ذاتی اور جسمانی حفاظت: ضروری ادویات اور فرسٹ ایڈ باکس ہمیشہ اپنے پاس رکھیں۔
3ذاتی اور جسمانی حفاظت: قیمتی سامان اور زیادہ نقدی کی نمائش سے گریز کریں۔
4ڈرائیونگ اور سواری کے دوران احتیاط: گاڑی چلاتے وقت ہمیشہ سیٹ بیلٹ باندھیں۔
5ڈرائیونگ اور سواری کے دوران احتیاط: نیند یا تھکن کی حالت میں ہرگز ڈرائیونگ نہ کریں۔
6ڈرائیونگ اور سواری کے دوران احتیاط: بس یا پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرتے وقت ہمیشہ مقررہ اسٹاپ پر انتظار کریں اور چلتی گاڑی میں سوار نہ ہوں
14سرگرمیاں
سورۃ کہف کی روشنی میں حضرت خضر علیہ السلام اورحضرت موسی علیہ السلام کے واقعہ سے حاصل ہونے والے اسباق کی اہم نکات لکھیں۔
سورۃ کہف کی روشنی میں حضرت خضراور موسی علیہ السلام کے واقعے سے حاصل ہونے والی اسباق کے اہم نکات درج ذیل ہیں۔
اہم اسباق اور نکات
1علم کا غرور نہ کرنا — حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جب یہ گمان ہوا کہ ان سے زیادہ علم والا کوئی نہیں، تو اللہ نے انہیں ایک ایسے بندے کے پاس بھیجا جنہیں اپنے خاص علم سے نوازا تھا، تاکہ عاجزی پیدا ہو۔
2ظاہر بین نہ ہونا — حضرت خضر علیہ السلام کے کاموں (کشتی میں سوراخ کرنا، لڑکے کو قتل کرنا، دیوار سیدھی کرنا) کا ظاہری روپ خطرناک یا برا تھا، لیکن ان کے پیچھے پوشیدہ حکمتیں بالکل مختلف اور رحمت پر مبنی تھیں۔
3صبر اور استقامت — اللہ کے فیصلوں یا حکمتوں کو فوری نہ سمجھ پانے پر جلد بازی کرنے کے بجائے صبر کرنا چاہیے، جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پہلے وعدہ لیا گیا تھا۔
4استاد کا ادب اور اطاعت — شاگرد کو چاہیے کہ وہ اپنے استاد یا معلم کے ساتھ تحمل سے رہے اور بلا وجہ بحث کرنے سے گریز کرے۔
5عوامی مفاد اور حفاظت — ظالم بادشاہ سے کشتی کو بچانے کے لیے اس میں عیب پیدا کرنا اور یتیم بچوں کے خزانے کی حفاظت کے لیے دیوار بنانا یہ سکھاتا ہے کہ وقتی نقصان اٹھا کر بڑے نقصان سے بچنا حکمت ہے۔
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔