آٹھویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 4: سبق 4: سورۃ کہف — مشقی سوالات

تیارمختصر سوالات، تفصیلی سوالات اور سرگرمیاں · 14 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر سوالات

1 مختصر سوالات

قَالَ سَتَجِدُنِیْ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّ لَا اَعْصِیْ لَكَ اَمْرًا

آیت کریمہ میں موسی علیہ السلام نے خضر علیہ السلام سے کیا فرمایا؟

ترجمہ

موسیٰ نے کہا: اگر اللہ چاہے گا تو عنقریب آپ مجھے صبر کرنے والا پاؤ گے اور میں آپ کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہ کروں گا،

جواب آیت کریمہ میں موسی علیہ السلام نے حضر علیہ السلام سے فرمایا کہ آپ مجھے صابر پائیں گے، میں آپ کے کسی معاملے میں نافرمانی نہیں کروں گا
2 مختصر سوالات

قَالَ فَإِنِ اتَّبَعْتَنِي فَلَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ حَتَّىٰ أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا۔

آیت کریمہ میں حضرت خضر علیہ السلام نے موسی علیہ السلام کو کیا ہدایت کی؟

ترجمہ

(خضر علیہ السلام نے) کہا: پس اگر آپ میرے ساتھ رہیں تو مجھ سے کسی چیز کی بابت سوال نہ کریں یہاں تک کہ میں خود آپ سے اس کا ذکر کر دوں۔

جواب حضرت خضر علیہ السلام نے حضرت موسی علیہ السلام کو یہ ہدایت کی کہ اگر آپ میرے ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو مجھ سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہ کرنا یہاں تک کہ میں خود آپ کو اس کے بارے میں نہ بتا دوں
3 مختصر سوالات

اَمَّا السَّفِیْنَةُ فَكَانَتْ لِمَسٰكِیْنَ یَعْمَلُوْنَ فِی الْبَحْرِ فَاَرَدْتُّ اَنْ اَعِیْبَهَا وَ كَانَ وَرَآءَهُمْ مَّلِكٌ یَّاْخُذُ كُلَّ سَفِیْنَةٍ غَصْبًا

کشتی کو عیب دار کرنے کی عزیز علیہ السلام نے کیا وجہ بیان کی؟

ترجمہ

وہ جو کشتی تھی تو وہ کچھ مسکین لوگوں کی تھی جو دریا میں کام کرتے تھے تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں اور ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر صحیح سلامت کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا۔

جواب کشتی کو عیب دارکرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا کہ کشتی کا تختہ توڑنے کی وجہ یہ تھی کہ اس کے مالک چند غریب اور مسکین لوگ تھے جو کشتی چلا کر مزدوری سے اپنے گھر والوں کا پیٹ پالتے تھے جس طرف کشتی جا رہی تھی وہاں کا ظالم بادشاہ اچھی کشتیوں کو پکڑ کر ضبط کر رہا تھا اس لیے میں نے چاہا کہ کشتی کو عیب دار کر دوں تاکہ وہ اس ظالم بادشاہ کے ہاتھوں سے محفوظ رہےاور کشتی والے پھر سے کشتی کو درست کر کے اپنی روزی کماتے رہیں۔
4 مختصر سوالات

فَمَا اسطَاعُوا اَن یَّظهَرُوهُ وَمَا استَطَاعُوا لَهٗ نَقبًا ۔

آیت کریمہ میں بادشاہ ذوالقرنین نےدیوار کی کیا خصوصیات بیان کی ہیں؟

ترجمہ

پھر نہ تو وہ اس پر چڑھ سکیں اور نہ اس میں سوراخ کر سکیں۔

آیت کریمہ میں بادشاہ ذولقرنین نے دیوار کی دو خصوصیات بیان کی ہیں

1 یاجوج ماجوج اس دیوار کے اوپر چڑھ نہ سکیں گے
2 اور نہ ہی اس میں کوئی سوراخ کر سکیں گے
5 مختصر سوالات

اِنَّ الَّذِینَ اٰمَنُوا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ کَانَت لَہُم جَنّٰتُ الفِردَوسِ نُزُلًا

آیت کریمہ کی رو سے جنت الفردوس کے مہمان کون ہوں گے؟

ترجمہ

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور اچھے اعمال کیے، ان کی مہمانی (استقبال) کے لیے فردوس کے باغات ہیں۔

جواب ایمان لانے والوں اور نیک اعمال کرنے والوں کو جنت الفردوس کا مہمان کہا گیا ہے

تفصیلی سوالات

6 تفصیلی سوالات

اَفَحَسِبَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَنۡ يَّتَّخِذُوۡا عِبَادِىۡ مِنۡ دُوۡنِىۡۤ اَوۡلِيَآءَ​ ؕ اِنَّاۤ اَعۡتَدۡنَا جَهَـنَّمَ لِلۡكٰفِرِيۡنَ نُزُلًا ۔

آیت کا ترجمہ کریں اور مفہوم بیان کریں۔

ترجمہ

جن لوگوں نے کفر کیا وہ کیا یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو مددگار بنا لیں گے بے شک ہم نے ایسے کافروں کی مہمانی کے لیے جنت تیار کر رکھی ہے۔

جواب اس آیت میں کافروں کے بارے میں فرمایا کہ انہیں پہلے سے بتا دیا گیا ہے کہ کفر کا انجام برا ہے ان کے لیے دوزخ ہے پھر بھی کفر پر جمے ہیں اور شرک اختیار کیے ہوئے ہیں میرے بندوں کو اپنا معبود اور کارساز بنا رکھا ہے اور اس کو اپنے لیے بہتر سمجھتے ہیں کفر اور شرک کو بہتر سمجھنا حماقت اور جہالت ہے کافروں کے لیے جہنم کو تیار کی گئی ہے اس سے ان کی مہمانی ہوگی۔ سے مراد اس جگہ فرشتے اور وہ انبیاء کرام ہیں جن کی دنیا میں لوگوں نے پرستش کی ۔ان کو اللہ کا شریک ٹھہرایا جس طرح حضرت عزیر علیہ السلام کو یہود نے حضرت عیسی علیہ السلام کو نصاری نے خدا کا شریک قرار دیا اور مشرکین فرشتوں کی عبادت کرتے تھے۔الذین کافرو سے اس آیت میں کفار کے یہی فرقےمراد ہے اور جن مفسرین کرام نے اس جگہ عبادی سے مراد شیاطین لئے تو الذین کافرو سے وہ کفار مراد ہوں گے جو جنا ت و شیاطین کی پرستش کرتے تھے بعض مفسرین نےاس جگہ لفظ عبادی کو مخلوق ومملوک کے معنی میں لے کر عام قرار دیا جس میں سب معبودان باطلہ ،بت ،آگ اور ستارے بھی شامل ہیں
7 تفصیلی سوالات

سورۃ کہف کی رو سے حضرت خضر علیہ السلام اور موسی علیہ السلام کے واقعے میں ہمارے لیے کیا سبق ہے؟

جواب: اہم اسباق

1 علم کے لیے تواضع اور سفر — پیغمبر ہونے کے باوجود حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مزید علم حاصل کرنے کے لیے سفر کرنا یہ سکھاتا ہے کہ انسان کتنا ہی بڑا عالم کیوں نہ ہو، اسے سیکھنے کے لیے ہمیشہ عاجز رہنا چاہیے۔
2 صبر کی اہمیت — ظاہری حالات دیکھ کر جلد باز نہ ہونا اور انجامِ کار تک صبر کرنا، جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے بار بار تاخیر پر صبر چھوٹ جاتا ہے۔
3 خفیہ الٰہی حکمت — ظاہری نقصان یا تکلیف کے پیچھے اکثر اللہ تعالیٰ کی کوئی بڑی رحمت اور بہتری پوشیدہ ہوتی ہے جسے محدود انسانی عقل فوراً نہیں سمجھ سکتی۔
8 تفصیلی سوالات

قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمَالًا۔ اَلَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا۔

آیات کریمہ کا ترجمہ مفہوم کریں ۔نیز بتائیں کہ اعمال کے لحاظ سے سب سے زیادہ خسارے والے کون سے لوگ ہیں

ترجمہ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما دیجیے کہ کیا ہم تمہیں بتائیں اعمال کے اعتبار سے سب سے زیادہ خسارے والے کون ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کی کوششیں دنیا کی زندگی میں ضائع ہو گئیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں

جواب نیزاعمال کے لحاظ سے سب سے زیادہ خسارے اور نقصان میں وہ لوگ ہیں جو دن رات دنیا کے حصول کے لیے مارے مارے پھرتے ہیں ان کی زندگی کا بس ایک ہی مقصد ہے کہ زیادہ سے زیادہ دولت جمع کی جائے مکانات اور محلات تعمیر کیے جائیں دنیا میں اعلی عہدے پر فائز ہو ں انہیں کبھی اپنے رب کی خوشنودی حاصل کرنے کا خیال ہی نہیں آیا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو کچھ اعمال کو نیک سمجھ کر اس میں جدوجہد اور محنت کرتے ہیں مگر اللہ کے نزدیک ان کی محنت برباد اور عمل ضائع ہے۔کیونکہ جس شخص کا عقیدہ اور ایمان درست نہ ہو وہ عمل کتنےہی اچھے کرے اور کتنی ہی محنت اٹھائے وہ اخرت میں بیکار اور ضائع ہیں۔
9 تفصیلی سوالات

سیدنا خضر علیہ السلام نے دیوار درست کرنے کی کیا وجہ بیان فرمائی؟

جواب حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا کہ اس دیوار کو درست کرنے کی وجہ یہ تھی کہ اس کے مالک دو یتیم بچے تھے جن کا باپ بہت نیک آدمی تھا اس دیوار کے نیچے ان کا خزانہ دفن تھا اللہ نے چاہا کہ اس دیوار کو درست کر دیا جائے تاکہ ان بچوں کےجوان ہونے تک ان کا خزانہ محفوظ رہے اور جوان ہو کر وہ دیوار کے نیچے سے اپنا خزانہ نکال لیں۔
10 تفصیلی سوالات

قُلۡ لَّوۡ كَانَ الۡبَحۡرُ مِدَادًا لِّـكَلِمٰتِ رَبِّىۡ لَـنَفِدَ الۡبَحۡرُ قَبۡلَ اَنۡ تَـنۡفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّىۡ وَلَوۡ جِئۡنَا بِمِثۡلِهٖ مَدَدًا۔

آیت کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں ؟

ترجمہ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما دیجیے کہ اگر میرے رب کی باتوں کے لکھنے کے لیے سمندر سیاہی بن جائے تو سمندر کا پانی ضرور ختم ہو جائے گا اس سے پہلے کہ میرے رب کی باتیں ختم ہوں اگرچہ ہم اس کی مدد کے لیے ویسے ہی سمندر اور لےآئیں۔

جواب کلمات سے مراد اللہ تعالی کی قدرت و حکمت کی وہ نشانیاں ہیں جو آفاق میں پھیلی ہوئی ہیں کلمات سے مراد اللہ تعالی کے کمالات اور عجائبات قدرت ہیں اور یہ لامتناہی اور بے حد و حساب ہیں جس میں ہر لمحہ مزید وسعت ہوتی رہتی ہے سمندر یا سمندروں کا پانی خواہ کتنا ہی زیادہ مقدار میں ہو بہرحال اس کی ایک حد ہے اور ایک محدود چیز کا لامحدود چیز سے کیا مقابلہ ہو سکتا ہے لہذا سمندروں کی سیاہی تو ختم ہو سکتی ہے لیکن اللہ کے کلمات ختم نہیں ہو سکتے اور اللہ کے کلمات کی کوئی انتہا نہیں اگر اللہ کے علم کے کلمات اور اس کے احکام کو لکھا جائے اور سمندر ان کے لیے سیاہی ہو جائے تو اس کے تمام کلمات کو لکھا نہیں جا سکتا خواہ وہ سمندر کتنا ہی وسیع و عریض کیوں نہ ہوں۔

سرگرمیاں

11 سرگرمیاں

سفر کیسے حصول علم کا بڑا ذریعہ ہے ؟

سفر حصولِ علم کا سب سے بڑا ذریعہ ہے کیونکہ یہ انسان کو کتابی علم سے نکال کر عملی تجربات، نئی تہذیبوں اور براہِ راست مشاہدات سے روشناس کرواتا ہے۔ اس کے اہم ذرائع میں عملی تجربہ، ثقافتی تبادلہ اور تاریخ و جغرافیہ کا فہم شامل ہیں۔

1 عملی مشاہدہ اور تجربہ: نئی دنیا کی شناخت — کتابوں میں پڑھی گئی باتیں صرف تصوراتی ہوتی ہیں جبکہ سفر سے وہ آنکھوں کے سامنے حقیقت بن جاتی ہیں۔
2 عملی مشاہدہ اور تجربہ: مشاہداتی صلاحیت — انسان مختلف ماحول، آب و ہوا اور لوگوں کو دیکھ کر کائنات کی گہرائی کو سمجھتا ہے۔
3 عملی مشاہدہ اور تجربہ: فطرت سے قربت — پہاڑوں، دریاؤں اور جنگلات کا سفر انسان کو قدرت کے اصول سکھاتا ہے۔
4 ثقافتی اور سماجی آگاہی: زبان اور رسم و رواج — دوسرے علاقوں میں جا کر وہاں کی زبان، رہن سہن اور تہذیب کو قریب سے سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔
5 ثقافتی اور سماجی آگاہی: رواداری اور بھائی چارہ — مختلف لوگوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے سے انسان میں برداشت، محبت اور ایک دوسرے کو قبول کرنے کا حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔
6 ثقافتی اور سماجی آگاہی: خیالات کا تبادلہ — بیرونی دنیا کے لوگوں سے ملنے سے خیالات کا دائرہ وسیع ہوتا ہے۔
7 ذہنی اور شخصی ترقی: خود اعتمادی — مشکلات کا سامنا کرنے اور نئے راستے تلاش کرنے سے انسان خود کفیل اور بہادر بنتا ہے۔
8 ذہنی اور شخصی ترقی: تاریخی مقامات کی سیاحتی اہمیت — پرانی عمارتیں اور کھنڈرات ماضی کے عروج و زوال کی داستانیں خود سناتے ہیں۔
9 ذہنی اور شخصی ترقی: نئی راہیں — انسان اپنی روٹین سے باہر نکل کر زندگی کو ایک نئے زاویے سے دیکھنا سیکھتا ہے۔
12 سرگرمیاں

ایک فہرست تیار کریں جس میں سفر کے دوران لے جانے والی ضروری چیزوں کی تفصیل ہو۔

1 جواب : اہم دستاویزات اور رقم: شناختی کارڈ اور پاسپورٹ — سفر اور تصدیق کے لیے لازمی ہیں۔
2 جواب : اہم دستاویزات اور رقم: ٹکٹ اور ریزرویشن — ہوائی جہاز، ٹرین یا ہوٹل کی پرچی۔
3 جواب : اہم دستاویزات اور رقم: نقدی اور کارڈ — مقامی کرنسی اور کریڈٹ کارڈ۔
4 لباس اور جوتے: روزمرہ کے کپڑے — موسم کے لحاظ سے مناسب جوڑے (جیسے جیکٹ یا ہلکے کپڑے)۔
5 لباس اور جوتے: سونے کے لباس — رات کے لیے آرام دہ کپڑے (نائٹ سوٹ)۔
6 لباس اور جوتے: جوتے — ایک جوڑا پیدل چلنے کے لیے اور ایک آرام دہ جوتا۔
7 ذاتی نگہداشت اور ادویات: فرسٹ ایڈ باکس — بنیادی درد کش گولیاں اور ذاتی ادویات۔
8 ذاتی نگہداشت اور ادویات: ٹوتھ پیسٹ اور برش — دانتوں کی صفائی کا سامان۔
9 ذاتی نگہداشت اور ادویات: صابن اور شیمپو — چھوٹے سائز کی بوتلیں۔
13 سرگرمیاں

سفر میں کون سی احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہیے؟

سفر کو محفوظ بنانے کے لیے سیٹ بیلٹ کا استعمال، نیند یا غنودگی میں ڈرائیونگ سے گریز، اور بنیادی طبی سامان یا پانی ساتھ رکھنا انتہائی ضروری ہے۔

ذاتی اور جسمانی حفاظت اور ڈرائیونگ اور سواری کے دوران احتیاط

1 ذاتی اور جسمانی حفاظت: زیادہ سے زیادہ پانی اور لیموں پانی کا استعمال کریں تاکہ گرمی یا تھکن سے بچا جا سکے۔
2 ذاتی اور جسمانی حفاظت: ضروری ادویات اور فرسٹ ایڈ باکس ہمیشہ اپنے پاس رکھیں۔
3 ذاتی اور جسمانی حفاظت: قیمتی سامان اور زیادہ نقدی کی نمائش سے گریز کریں۔
4 ڈرائیونگ اور سواری کے دوران احتیاط: گاڑی چلاتے وقت ہمیشہ سیٹ بیلٹ باندھیں۔
5 ڈرائیونگ اور سواری کے دوران احتیاط: نیند یا تھکن کی حالت میں ہرگز ڈرائیونگ نہ کریں۔
6 ڈرائیونگ اور سواری کے دوران احتیاط: بس یا پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرتے وقت ہمیشہ مقررہ اسٹاپ پر انتظار کریں اور چلتی گاڑی میں سوار نہ ہوں
14 سرگرمیاں

سورۃ کہف کی روشنی میں حضرت خضر علیہ السلام اورحضرت موسی علیہ السلام کے واقعہ سے حاصل ہونے والے اسباق کی اہم نکات لکھیں۔

سورۃ کہف کی روشنی میں حضرت خضراور موسی علیہ السلام کے واقعے سے حاصل ہونے والی اسباق کے اہم نکات درج ذیل ہیں۔

اہم اسباق اور نکات

1 علم کا غرور نہ کرنا — حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جب یہ گمان ہوا کہ ان سے زیادہ علم والا کوئی نہیں، تو اللہ نے انہیں ایک ایسے بندے کے پاس بھیجا جنہیں اپنے خاص علم سے نوازا تھا، تاکہ عاجزی پیدا ہو۔
2 ظاہر بین نہ ہونا — حضرت خضر علیہ السلام کے کاموں (کشتی میں سوراخ کرنا، لڑکے کو قتل کرنا، دیوار سیدھی کرنا) کا ظاہری روپ خطرناک یا برا تھا، لیکن ان کے پیچھے پوشیدہ حکمتیں بالکل مختلف اور رحمت پر مبنی تھیں۔
3 صبر اور استقامت — اللہ کے فیصلوں یا حکمتوں کو فوری نہ سمجھ پانے پر جلد بازی کرنے کے بجائے صبر کرنا چاہیے، جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پہلے وعدہ لیا گیا تھا۔
4 استاد کا ادب اور اطاعت — شاگرد کو چاہیے کہ وہ اپنے استاد یا معلم کے ساتھ تحمل سے رہے اور بلا وجہ بحث کرنے سے گریز کرے۔
5 عوامی مفاد اور حفاظت — ظالم بادشاہ سے کشتی کو بچانے کے لیے اس میں عیب پیدا کرنا اور یتیم بچوں کے خزانے کی حفاظت کے لیے دیوار بنانا یہ سکھاتا ہے کہ وقتی نقصان اٹھا کر بڑے نقصان سے بچنا حکمت ہے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.