آٹھویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 3: سبق 3: سورۃ الکھف — مشقی سوالات اور سرگرمیاں

تیارمختصر سوالات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں · 12 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر سوالات

1 مختصر سوالات

مَنۡ يَّهۡدِ اللّٰهُ فَهُوَ الۡمُهۡتَدِ ​ۚ وَمَنۡ يُّضۡلِلۡ فَلَنۡ تَجِدَ لَهٗ وَلِيًّا مُّرۡشِدًا ۔

آیت کریمہ میں ہدایت اور گمراہی کے حوالے سے کیا بیان ہوا ہے؟

ترجمہ

جسے اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پانے والا ہے اور جسے وہ گمراہ کر دے تو آپ ہرگز اس کے لیے کوئی کارساز اور رہنمائی کرنے والا نہیں پائیں گے۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا ہے کہ جسے وہ ہدایت دے وہی اصل ہدایت پانے والا ہے اور جسے وہ گمراہ چھوڑ دے، اس کے لیے آپ کوئی دوست یا رہبر نہیں پائیں گے۔

ہدایت اور گمراہی کا مفہوم

1 ہدایت کا اختیار — اللہ تعالیٰ جسے توفیق دے، وہی سیدھے راستے پر چلتا ہے۔
2 گمراہی کا انجام — جو شخص اللہ کا حکم ٹھکرائے، اسے کوئی دوسرا بچانے والا نہیں مل سکتا۔
3 حقیقی سرپرست — انسان کی کامیابی صرف اللہ کی رہنمائی پر منحصر ہے۔
2 مختصر سوالات

وَلَبِثُوا فِي كَهْفِهِمْ ثَلَاثَ مِائَةٍ سِنِينَ وَازْدَادُوا تِسْعًا ۔

آیت کریمہ میں اصحاب کہف کا غار میں کتنے عرصے ٹھہرنے کا ذکر ہے؟

ترجمہ

اور وہ اپنے غار میں تین سو سال رہے اور نو برس اور زیادہ رہے

آیت میں اصحاب کہف کا غار میں تقریبا 309 سال ٹھہرنے کا ذکر ہے

اہم باتیں

1 تین سو سال — شمسی حساب سے بنتے ہیں۔
2 نو برس — کا اضافہ قمری (چاند کے) سالوں کے فرق کی وجہ سے ہے، کیونکہ قمری سال شمسی سال سے چھوٹے ہوتے ہیں (تین سو شمسی سال، قمری حساب سے تین سو نو سال کے برابر ہوتے ہیں)۔
3 مختصر سوالات

اِنَّا أَعْتَدْنَا لِلظَّالِمِينَ نَارًا أَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا وَإِن يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوهَ بِئْسَ الشَّرَابُ وَسَآءَتْ مُرْتَفَقًا

آیت کریمہ میں اہل جہنم کی کیا کیفیت بیان ہوئی ہے؟

ترجمہ

بے شک ہم نے ظالموں کے لیے ایک آگ تیار کر رکھی ہے، جس کی قناتوں (دیواروں) نے انھیں گھیر رکھا ہے اور اگر وہ فریاد کریں گے تو ایسے پانی سے ان کی داد رسی کی جائے گی جو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہوگا، جو چہروں کو بھون ڈالے گا، بہت برا پانی ہے اور بہت بری آرام گاہ ہے۔

اہل جہنم کی کیفیت

1 آگ کا گھراؤ — جہنم کی آگ کی دیواریں یا شعلے چاروں طرف سے ان کا احاطہ کیے ہوں گے، جہاں سے نکلنا ممکن نہ ہوگا۔
2 شدید پیاس اور فریاد — جب وہ پیاس کی شدت سے فریاد اور پانی کا مطالبہ کریں گے۔
3 کھولتا ہوا بدترین پانی — انہیں پانی کے نام پر پگھلے ہوئے تانبے، پیپ اور تیل کی تلچھٹ جیسا سیاہ اور غلیظ پانی دیا جائے گا۔
4 چہروں کا جلنا — جیسے ہی وہ اس کھولتے ہوئے پانی کو چہروں کے قریب کریں گے، اس کی حرارت سے چہرے کا گوشت اور کھال جھلس کر گر جائے گی
4 مختصر سوالات

اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ مَنۡ اَحۡسَنَ عَمَلًا​۔

آیت کریمہ میں سےفعل ماضی تلاش کر کے لکھیں

جواب امنو ا ، عملوا ، احسن
5 مختصر سوالات

وَرَبُّكَ الْغَفُورُ ذُو الرَّحْمَةِ ۖ لَوْ يُؤَاخِذُهُم بِمَا كَسَبُوا لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعَذَابَ ۚ بَل لَّهُم مَّوْعِدٌ لَّن يَجِدُوا مِن دُونِهِ مَوْئِلًا ۔

آیت کریمہ میں اللہ کے کس فضل کا ذکر فرمایا گیا ہے؟

ترجمہ

ا ور آپ کا رب بڑا بخشنے والا، صاحبِ رحمت ہے۔ اگر وہ ان کے اعمال (گناہوں) پر ان کی گرفت کرتا، تو ان پر جلد عذاب بھیج دیتا؛ بلکہ ان کے لیے ایک وعدہ (مقرر) ہے جس سے بچنے کی وہ ہرگز کوئی پناہ گاہ نہیں پائیں گے

فضلِ الٰہی کی تفصیل

1 حلم اور مہلت (ڈھیل) — اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے برے اعمال اور کفر و نافرمانی کے باوجود انہیں فوراً ہلاک یا عذاب میں مبتلا نہیں کرتا۔
2 مغفرت اور رحمت — وہ ”الغفور“ (بہت بخشنے والا) اور ”ذو الرحمة“ (رحمت والا) ہے کہ اگر بندہ گناہ کے بعد بھی رجوع کرے تو معاف فرما دیتا ہے۔
3 انتباہ — عذاب میں تاخیر کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ بھول گیا ہے، بلکہ ایک وقت طے ہے جس پر پکڑ ہو گی اور اس سے کوئی پناہ یا بچاؤ کا مقام نہیں ملے گا

تفصیلی جوابات

6 تفصیلی جوابات

وَاتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ وَلَنْ تَجِدَ مِنْ دُونِهِ مُلْتَحَدًا۔

ترجمہ لکھیں اور آیت کا مفہوم لکھیں

ترجمہ

اور جو آپ کی طرف آپ کے رب کی کتاب میں وحی فرمائی گئی ہے اس کی تلاوت کیجیے ۔اس کی باتوں کو بدلنے والا کوئی نہیں اور آپ اس کے سوا کوئی پناہ کی جگہ ہرگز نہیں پائیں گے۔

مفسرینِ کرام (جیسے ابن کثیر، معارف القرآن، اور تدبر قرآن) کے مطابق اس آیت کے تین بنیادی حصے ہیں، جن کی تفصیل یہ ہے:

1 1۔ وحی الٰہی کی تلاوت اور اتباع کا حکم: معنی — ”وَاتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ“ (اور پڑھو جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کی کتاب سے وحی کیا گیا ہے)۔
2 1۔ وحی الٰہی کی تلاوت اور اتباع کا حکم: تشریح — یہاں لفظ ”اتلُ“ (تلاوت) صرف زبان سے پڑھنے کے لیے نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب پیروی کرنا اور اوردنیا تک پہنچانا بھی ہے۔
3 1۔ وحی الٰہی کی تلاوت اور اتباع کا حکم: مفہوم — اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ اور ان کے واسطے سے پوری امت کو یہ حکم دے رہے ہیں کہ ہدایت کا واحد ذریعہ قرآن کریم ہے۔ اس دنیا کے فتنوں اور آزمائشوں سے بچنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ جو وحی آپ پر اتاری گئی ہے، اسی کو مضبوطی سے تھامے رکھیں، اسی کے احکامات پر عمل کریں اور اسی کی تبلیغ کریں۔
4 2۔ کلماتِ الٰہی کی لامتناہی طاقت اور حفاظت: معنی — ”لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ“ (اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں ہے)۔
5 2۔ کلماتِ الٰہی کی لامتناہی طاقت اور حفاظت: تشریح — اس کے دو گہرے مفہوم مفسرین نے بیان کیے ہیں: تکوینی کلمات (تقدیر اور فیصلے): اللہ تعالیٰ نے کائنات کے لیے جو قوانین، فیصلے اور تقدیر لکھ دی ہے، اسے کوئی بھی طاقتور انسان یا جن بدل نہیں سکتا۔ اس کا فیصلہ اٹل ہے۔
6 2۔ کلماتِ الٰہی کی لامتناہی طاقت اور حفاظت: تشریعی کلمات (قرآن اور احکامات) — ماضی کی کتابوں (تورات، انجیل) میں لوگوں نے تحریف (تبدیلی) کر دی تھی، لیکن اللہ نے اعلان کر دیا کہ قرآن کے الفاظ اور احکام کو اب کوئی تبدیل نہیں کر سکتا۔ یہ قیامت تک محفوظ ہے۔
7 3۔ اللہ کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں: معنی — ”وَلَنْ تَجِدَ مِنْ دُونِهِ مُلْتَحَدًا“ (اور آپ ہرگز اس کے سوا کوئی پناہ کی جگہ نہیں پائیں گے)۔
8 3۔ اللہ کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں: تشریح — لفظ ”مُلتَحَد“ کا مطلب ہے ایسی جگہ جہاں انسان کسی آفت یا دشمن سے بچ کر چھپ جائے یا پناہ لے۔
9 3۔ اللہ کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں: مفہوم — اگر کوئی شخص اللہ کے احکامات کی نافرمانی کرتا ہے، یا وحی کو چھوڑ کر کسی اور راستے پر چلتا ہے، تو پوری کائنات میں کوئی ایسی جگہ، بادشاہ، یا طاقت نہیں ہے جو اسے اللہ کے عذاب یا پکڑ سے بچا سکے۔ انسان کے لیے حقیقی جائے پناہ صرف اور صرف اللہ کی ذات اور اس کی اطاعت ہے۔
7 تفصیلی جوابات

وَلَوۡلَاۤ اِذۡ دَخَلۡتَ جَنَّتَكَ قُلۡتَ مَا شَآءَ اللّٰهُ ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ​ ۚ اِنۡ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنۡكَ مَالًا وَّوَلَدًا​ ۚ۔

آیت کا ترجمہ کریں اور بتائیں کہ مومن شخص نے اپنے ساتھی کو کیا نصیحت کی اور ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ کا کیا معنی ہے ؟

ترجمہ

اور جب تم اپنے باغ میں داخل ہوئےتو تم نے کیوں نہیں کہا (وہی ہوتا ہے ) جو اللہ چاہتا ہے اور اللہ کی مدد کے بغیر (کسی میں ) کوئی قوت نہیں اگر تم مجھے مال و اولاد میں اپنے سے کم دیکھتے ہو ۔

جواب مومن نے اپنے ساتھی کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تمہیں اللہ پر توکل کرنا چاہیے اور اسی کو نفع نقصان کا مالک سمجھنا چاہیے یعنی یہ باغ جو تم کو ملاہے یہ اللہ نے چاہا تو تم کو مل گیا اگر وہ نہ چاہتا تو تم کو یہ باغ نہ ملتا اسی طرح تمہارے پاس جو مال ہے وہ اللہ کی قدرت ہے اس میں تمہاری طاقت اور قدرت کا کوئی دخل نہیں اور اگر اللہ چاہتا تو تمہارے مال سے برکت اٹھا لیتا پھر تمہارے پاس وہ مال جمع نہ ہوتا۔ اس کلمے کا معنی ہے اپنے معاملات کو اللہ کے سپردکر دینا اور یہ بتانا کہ بندہ اپنی کسی چیز کا مالک نہیں اور اس کے پاس برائی کو دور کرنے کی کوئی تدبیر نہیں اور نیکی کو حاصل کرنے کی کوئی طاقت نہیں سوائے اس کے کہ اللہ اس کو گناہوں سے دور کر دے اور نیکی کی طاقت عطا فرمائے۔
8 تفصیلی جوابات

اَلْمَالُ وَالْبَنُوْنَ زِیْنَةُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَاۚ وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَيْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ اَمَلًا۔

آیت کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں ۔

ترجمہ

مال اوراولا دنیا کی زینت ہے اور جو باقی رہنے والی نیکیاں ہیں جو آپ کے رب کے نزدیک ثواب میں بہتر اور امید کے اعتبار سے بھی بہت اچھی ہیں

جواب مال و اولادتو صرف دنیاوی زندگی کے رونق ہیں ان نعمتوں سے انسان دنیا میں فائدہ اٹھا سکتے ہیں باقی رہنے والی چیز صرف نیک اعمال ہیں جن کا ثواب اللہ کے پاس ہے اور اسی سے خیر کے توقع وابستہ کی جائے :باقیا ت صالحات :میں ہر وہ عمل یا قول شامل ہے جو اللہ کی محبت اور اطاعت کی طرف لے جانے والا ہو۔ قریش کے متکبرین اپنے مال و دولت اور طاقت کی وجہ سے فقراء مسلمانوں کو حقیر جانتے تھے اور ان کے پاس بیٹھنے کوعار سمجھتےتھے اللہ ان پر رد فرماتا ہے کہ جن چیزوں پر تم گھمنڈ کر رہے ہو یہ ختم ہو جانے والی ہے اس لیے مال اور بیٹوں پر نہ اتراؤ اور ان کی وجہ سے کسی کو حقیر نہ جانو۔
9 تفصیلی جوابات

سورۃ کہف کی روشنی میں باغ والوں کا باہمی مکالمہ بیان کریں

سورۃ الکہف (آیات 32 تا 44) میں اللہ تعالیٰ نے دو شخصوں کی ایک تمثیل بیان فرمائی ہے، جن میں سے ایک مال و دولت کے نشے میں چور، مغرور اور منکرِ آخرت تھا، جبکہ دوسرا غریب، شاکر، توحید پرست اور سچا مومن تھا۔ ان دونوں کے درمیان ہونے والا تفصیلی مکالمہ انسانی نفسیات، تکبر اور ایمان کی حقیقت کو واضح کرتا ہے۔

1 1۔ مغرور شخص کا تکبر اور مفاخرت: مکالمے کا آغاز مغرور شخص کے فخر اور شیخی سے ہوتا ہے۔ وہ اپنے مومن ساتھی کو حقیر سمجھتے ہوئے کہتا ہے: ”میں تجھ سے مال میں زیادہ ہوں اور جتھے (افراد، طاقت اور مددگاروں) کے لحاظ سے بھی زیادہ معزز ہوں۔“ دنیا کی ابدی زندگی کا وہم: جب وہ اپنے سرسبز اور پھلوں سے لادے باغ میں داخل ہوا تو اپنی خوش فہمی کا اظہار کرتے ہوئے بولا: ”میں نہیں سمجھتا کہ یہ باغ کبھی برباد یا فنا ہو جائے گا۔“ آخرت کا انکار اور خوش فہمی: اس نے مزید کہا: ”اور نہ ہی میں سمجھتا ہوں کہ قیامت کبھی قائم ہوگی۔ اور اگر (بالفرض) میں اپنے رب کی طرف لوٹایا بھی گیا، تو یقیناً وہاں اس سے بھی زیادہ شاندار جگہ پاؤں گا۔“ (اس کا خیال تھا کہ دنیا کی مادی نعمتیں اس بات کی دلیل ہیں کہ اللہ اس سے راضی ہے)۔
2 2۔ مومن ساتھی کا حکیمانہ اور مخلصانہ جواب: مومن ساتھی نے اس کے تکبر کو دیکھ کر اسے نہایت مؤثر اور ایمان افروز انداز میں سمجھایا: تخلیقِ انسانی کی یاددہانی: ”کیا تو اس ذات کا انکار کرتا ہے جس نے تجھے مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفے سے، پھر تجھے ایک پورا مرد بنا کر کھڑا کیا؟“ عقیدہ توحید پر استقامت: ”لیکن میرا عقیدہ تو یہ ہے کہ اللہ ہی میرا رب ہے اور میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا۔“ شکر گزاری کی تلقین: ماشاءاللہ لا قوۃ الا باللہ : اس نے مغرور کو صحیح طریقہ بتاتے ہوئے کہا: ”جب تو اپنے باغ میں داخل ہوا تھا، تو (جو اللہ چاہے، اللہ کی مدد کے بغیر کوئی طاقت نہیں)۔ اگر تو مجھے مال اور اولاد میں اپنے سے کم دیکھتا ہے (تو یہ اللہ کی حکمت ہے)۔“ انجامِ بد سے ڈرانا: مومن نے اسے متنبہ کیا: ”بعید نہیں کہ میرا رب مجھے تیرے اس باغ سے بہتر عطا کر دے، اور تیرے اس باغ پر آسمان سے کوئی عذاب بھیج دے، جس سے یہ صاف چٹیل میدان بن جائے۔ یا اس کا پانی زمین میں اتر جائے اور تو اسے کبھی تلاش نہ کر سکے۔“
3 3۔ انجام اور پشیمانی: مکالمے کے بعد اللہ کا عذاب آیا اور مغرور شخص کا پورا باغ تباہ ہو گیا۔ وہ اپنی بربادی پر ہاتھ ملتا رہ گیا اور پکار اٹھا: مایوسی کا اقرار: ”کاش! میں نے اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہوتا۔“

سرگرمیاں

10 سرگرمیاں

غور و فکر کر کے ایسی 10 مثالیں لکھیں جہاں اللہ پر توکل کرنے کے بجائے اسباب اور اپنی محنت پر بھروسہ کر لیا جاتا ہے۔

اللہ پر توکل کے بجائے اسباب پر بھروسہ کرنے کی دس مثالیں یہ ہیں: کاروبار میں صرف اپنی عقل پر ناز کرنا، ملازمت میں سفارش یا ہنر کو سب کچھ سمجھنا، اور بیماری میں صرف ڈاکٹر کو شفا کا منبع مان لینا۔

غفلت اور توکل کی کمی کی مثالیں

1 کاروبار میں نفع — صرف اپنی چالاکی اور مارکیٹ کی حکمت عملی کو کامیابی کی ضمانت سمجھنا۔
2 نوکری اور رزق — یہ سوچنا کہ اگر میں نے دن رات محنت نہ کی تو مجھے رزق نہیں مل سکتا۔
3 بیماری کا علاج — ڈاکٹر اور دوا کو ہی اصل شفا دینے والا مان کر دعا چھوڑ دینا۔
4 امتحان میں کامیابی — صرف اپنی پڑھائی اور تیاری پر اعتماد کرنا اور اللہ سے مدد نہ مانگنا۔
5 حفاظت اور سلامتی — اپنے حفاظتی انتظامات اور ہتھیاروں کو ہی محافظ سمجھ لینا۔
6 مشکلات کا حل — پریشانی کے وقت سب سے پہلے انسانوں سے مدد مانگنا اور اللہ کو بھول جانا۔
7 مال و دولت کی حفاظت — بینک بیلنس اور لاکرز کو اپنے مستقبل کا حقیقی ضامن سمجھنا۔
8 اولاد کی تربیت — صرف اچھے اسکولوں اور پیسوں پر بھروسہ کرنا کہ اولاد خود بخود نیک ہو جائے گی
9 خوراک اور توانائی — یہ یقین رکھنا کہ کھانا ہی جسم کو طاقت دیتا ہے، اللہ کا حکم نہیں۔
10 فیصلے اور حکمت عملی — اپنے مشوروں کو حتمی سمجھ کر استخارہ یا اللہ کی رضا نہ ڈھونڈنا۔
11 سرگرمیاں

سورۃ الکھف آیت نمبر 57 کی روشنی میں بتائیں کہ کون لوگ ہدایت سے محروم رہتے ہیں؟

سورۃ الکھف کی آیت نمبر 57 کے مطابق، ہدایت سے وہ لوگ محروم رہتے ہیں جو اللہ کی آیات سے نصیحت کیے جانے پر اس سے منہ پھیر لیتے ہیں، اپنے برے اعمال کو بھول جاتے ہیں، اور ہٹ دھرمی اختیار کرتے ہیں۔

ہدایت سے محروم رہنے والے لوگوں کی خصوصیات

1 آیات سے روگردانی — جنہیں رب کی کتاب اور نشانیوں کے ذریعے سمجھایا جائے مگر وہ غرور اور غفلت کی وجہ سے منہ موڑ لیں۔
2 اپنے اعمال کو فراموش کرنا — جو اپنے ہاتھوں آگے بھیجے گئے گناہوں اور ان کے برے انجام کو بالکل بھول بیٹھیں۔
3 دلوں پر پردے اور کانوں میں بوجھ — جن کی مسلسل ہٹ دھرمی اور سرکشی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر غلاف اور کانوں میں گرانی ڈال دیتا ہے، جس سے وہ حق کو سمجھنے اور سننے سے محروم ہو جاتے ہیں۔
12 سرگرمیاں

غار والوں کے قصےسے حاصل ہونے والے اسباق لکھیں۔

جواب اصحاب کہف کے قصے میں ہمارے لیے سبق یہ ہے کہ چاہے حالات کتنےناموافق کیوں نہ ہوں اہل باطل طاقتور اور اہل حق کتنے کمزور کیوں نہ ہو ہمیں ہمیشہ اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے اور اسی سے مدد اور پناہ طلب کرنی چاہیے کیونکہ حقیقتااور مستقلا مددگار اللہ تعالی ہی ہے ہمارے پاس سب سے زیادہ قیمتی چیز اللہ پر ایمان لانا ہے ہمیں اپنے ایمان کی حفاظت اپنی جان و مال سے بڑھ کر کرنی چاہیے اللہ تعالی نے اس قصےکے ذریعے مادہ پرستی کا رد کیا ہے کہ وہ اسباب کا محتاج نہیں وہ خود اسباب پیدا فرمانے والا ہے جس طرح اس نے اصحاب کہف کو برسوں کے بعد دوبارہ زندگی بخشی اسی طرح وہ ہم سب کو روزقیامت زندہ فرما کر حساب کتاب کرے گا اس لیے ہمیں ہمیشہ رہنے والی زندگی کی تیاری کی فکر کرنی چاہیے ۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.