آٹھویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 2: سبق 2: سورۃ یوسف — مشقی سوالات

تیارمختصر سوالات، تفصیلی سوالات اور سرگرمیاں · 14 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر سوالات

1 مختصر سوالات

وَلَمَّا جَهَّزَهُم بِجَهَازِهِمْ قَالَ ائْتُونِي بِأَخٍ لَّكُم مِّنْ أَبِيكُمْ ۚ أَلَا تَرَوْنَ أَنِّي أُوفِي الْكَيْلَ وَأَنَا خَيْرُ الْمُنزِلِينَ ۔

آیت کی روشنی میں سیدنا یوسف علیہ السلام نے اپنی کن دو صفات کو بیان کیا؟

ترجمہ

اور جب یوسف نے ان کا سامان تیار کر دیا تو فرمایا کہ اپنے اس بھائی کو بھی میرے پاس لے کر آنا جو تمہارے والد کی طرف سے تمہارا بھائی ہے، کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ میں پورا ناپ دیتا ہوں اور میں سب سے اچھا مہمان نواز ہوں۔

سورۃ یوسف کی آیت 59 کی روشنی میں سیدنا یوسف علیہ السلام نے اپنی جن دو صفات کا ذکر فرمایا، وہ پورا ناپنا (دیانت داری اور انصاف) اور بہترین مہمان نواز ہونا ہیں

صفات کی وضاحت

1 أُوفِي الْكَيْلَ — (پورا ناپنا) اس سے مراد غلے یا غلے کے پیمانے میں عدل، دیانت اور حق تلفی سے گریز کرنا ہے کہ وہ کسی کا حق نہیں مارتے اور پورا غلہ عطا کرتے ہیں
2 وَأَنَا خَيْرُ الْمُنزِلِين — (بہترین مہمان نواز) — اس سے مراد مسافروں اور مہمانوں کی بہترین خاطر مدارات، عزت افزائی اور بہترین رہائش و طعام کا انتظام کرنا ہے۔
2 مختصر سوالات

قَالُوءَاِنَّکَ لَاَنتَ یُوسُفُ قَالَ اَنَا یُوسُفُ وَ ہٰذَا اَخِی قَد مَنَّ اللّٰہُ عَلَینَا اِنَّہٗ مَن یَّتَّقِ وَ یَصبِر فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یُضِیعُ اَجرَ المحسِنِینَ۔

آیت کریمہ کی رو سے نیک لوگوں کی دو صفات لکھیں۔

ترجمہ

انہوں نے کہا: کیا واقعی آپ ہی یوسف ہیں؟ آپ نے فرمایا: میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے، بیشک اللہ نے ہم پر احسان کیا۔ بیشک جو شخص پرہیزگاری (تقویٰ) اور صبر کرے تو اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

نیک لوگوں کی دو صفات

1 تقویٰ (پرہیزگاری) — اللہ کے خوف اور گناہوں سے بچنے کی روش اختیار کرنا۔
2 صبر — مصیبتوں اور حالات میں ثابت قدم رہنا۔
3 مختصر سوالات

قَالُواْ يَٰٓأَبَانَا ٱستَغفِر لَنَا ذُنُوبَنَآ إِنَّا كُنَّا خَٰطِٔينَ۔۔

سیدنا یعقوب علیہ السلام کے بیٹوں نے اپنی والد صاحب سے کس چیز کی درخواست کی؟

ترجمہ

بیٹوں نے کہا: اے ہمارے باپ! ہمارے گناہوں کی معافی مانگئے، بیشک ہم خطاکار ہیں۔

جواب سیدنا یعقوب علیہ السلام کے بیٹوں نے اپنے والد سے اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے گناہوں کی مغفرت اور بخشش کی دعا کرنے کی درخواست کی۔
4 مختصر سوالات

وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَخَرُّو لَهُ سُجَّدًا وَقَالَ يَا أَبَتِ هَٰذَا تَأْوِيلُ رُؤْيَايَ مِن قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّي حَقًّا وَقَدْ أَحْسَنَ بِي إِذْ أَخْرَجَنِي مِنَ السِّجْنِ وَجَاءَ بِكُم مِّنَ الْبَدْوِ مِن بَعْدِ أَن نَّزغَ الشَّيْطَانُ بَيْنِي وَبَيْنَ إِخْوَتِي إِنَّ رَبِّي لَطِيفٌ لِّمَا يَشَاءُ إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ ۔

آیت کی روسے سیدنا یوسف علیہ السلام نے اللہ کے کن احسانات کا ذکر فرمایا؟

ترجمہ

اور اس نے اپنے ماں باپ کو تخت پر بٹھایا اور سب اس کے آگے سجدے میں گر پڑے (تعظیمی سجدہ کیا)۔ اور یوسف نے کہا: اے میرے ابا جان! یہ میری اس پہلی خواب کی تعبیر ہے، میرے رب نے اسے سچ کر دکھایا۔ اور اس نے مجھ پر بڑا احسان کیا جب مجھے قید خانے سے نکالا اور آپ سب کو دیہات (صحرا) سے لے آیا اس کے بعد کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈال دیا تھا۔ بے شک میرا رب جو چاہتا ہے اس کے لیے لطیف (اور بہترین تدبیر کرنے والا) ہے۔ بے شک وہی سب کچھ جاننے والا، حکمت والا ہے۔

ذکر کردہ احسانات

1 قید سے رہائی — اللہ کا یہ احسان کہ اس نے آپ کو قید خانے کی سختیوں سے نجات دی۔
2 خاندان کا ملاپ — والدین اور اہل خانہ کو دیہات/صحرا سے اپنے پاس بلا کر پورا خاندان دوبارہ اکٹھا کیا۔
3 تلخیوں کا خاتمہ — بھائیوں کے درمیان شیطان کی ڈالی ہوئی عداوت اور فساد کے بعد باہمی تعلقات کو درست اور شیریں فرما دیا۔
5 مختصر سوالات

قُلْ هٰذِهٖ سَبِیْلِی اَدْعُوْا اِلَى اللّٰهِ عَلٰى بَصِیْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیْ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ مَااَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ۔

آیت کریمہ کی روشنی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت دین کے حوالے سے کیا فرمایا؟

ترجمہ

تم فرماؤ: یہ میرا راستہ ہے، میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں، میں اور میری پیروی کرنے والے کامل بصیرت (اور یقین) پر ہیں، اور اللہ ہر عیب سے پاک ہے، اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔

دعوتِ دین کے حوالے سے تعلیمات و ہدایات

1 اللہ کی طرف دعوت — دعوت کا مقصد لوگوں کو اپنی ذات یا کسی اور کی طرف نہیں بلکہ خالصۃً اللہ کی وحدانیت اور اطاعت کی طرف بلانا ہے۔
2 علم اور بصیرت — داعی کے لیے ضروری ہے کہ وہ اندھی تقلید یا جذباتی نعروں کے بجائے پختہ علم، دلیل اور بصیرت کی بنیاد پر بات کرے۔
3 نبی کے پیروکاروں کی ذمہ داری — دین کی تبلیغ اور دعوت صرف اکیلے نبی کا فریضہ نہیں ہے، بلکہ آپ کے تمام سچے متبعین (امت) کی بھی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اس راستے کو اپنائیں
4 توحید اور تنزیہِ الٰہی — دعوت کے اندر عقیدہ توحید کی ترویج اور شرک بیزاری بنیادی حیثیت رکھتی ہے

تفصیلی سوالات

6 تفصیلی سوالات

قَالَ اِنَّمَا اَشكُوا بَثِّى وَحُزنِى اِلَى اللّٰهِ وَاَعلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعلَمُونَ۔

ترجمہ اور مفہوم لکھیں ۔

ترجمہ

یقوب علیہ السلام فرمایا بے شک میں فریاد کرتا ہوں اللہ سے اپنی پریشانی اور غم کی اور میں اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔

مفہوم

1 شکایت صرف اللہ سے — جب حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹوں نے کہا کہ آپ یوسف (علیہ السلام) کی یاد میں گھلتے چلے جا رہے ہیں، تو آپ نے فرمایا کہ میں اپنے دل کی گھبراہٹ (بث) اور صدمے (حزن) کا اظہار مخلوق کے سامنے رونے دھونے کے لیے نہیں بلکہ صرف اللہ کے سامنے کرتا ہوں۔ مصیبت میں اللہ کے سوا کسی اور کے آگے شکوہ کرنا مناسب نہیں۔
2 اللہ کی معرفت اور امید — ”میں اللہ کی طرف سے وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے“ سے مراد حضرت یعقوب علیہ السلام کا وہ پختہ یقین تھا کہ جو خواب حضرت یوسف نے بچپن میں دیکھا تھا (کہ سورج، چاند اور گیارہ ستارے انہیں سجدہ کر رہے ہیں)، وہ سچ ہو کر رہے گا۔ آپ کو قوی امید تھی کہ یوسف اور بنیامین دونوں زندہ ہیں اور اللہ تعالی انہیں ضرور واپس لوٹائے گا
7 تفصیلی سوالات

يٰبَنِىَّ اذهَبُوا فَتَحَسَّسُوا مِن يُّوسُفَ وَاَخِيهِ وَلَا تَايئَسُوا مِن رَّوحِ اللّٰهِ‌ اِنَّهٗ لَا يَايئَسُ مِن رَّوحِ اللّٰهِ اِلَّا القَومُ الكٰفِرُونَ۔

آیت کریمہ میں کیا حکم بیان ہوا ہے؟

ترجمہ

اے میرے بیٹو! جاؤ یوسف اور اس کے بھائی کا سراغ لگاؤ اور اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو، بے شک اللہ کی رحمت سے ناامید نہیں ہوتے مگر کافر لوگ۔

اہم احکام اور ہدایات

1 تلاش اور جستجو کا حکم — حضرت یعقوب علیہ السلام نے مصیبت اور پریشانی کے وقت بیٹھ رہنے کے بجائے ذرائع بروئے کار لانے اور حضرت یوسف اور بنیامین کا سراغ لگانے کی ہدایت فرمائی۔
2 مایوسی سے ممانعت — سخت ترین حالات میں بھی اللہ کی رحمت، فضل اور کشائش سے ناامید ہونے کو سخت ناپسند قرار دیا گیا۔
3 کافروں کا شیوہ — اللہ کی رحمت سے مایوسی کو کفر اور گمراہی کے شیوے سے تشبیہ دی گئی ہے کیونکہ مومن کی شان ہمیشہ امید اور توکل پر مبنی ہوتی ہے
8 تفصیلی سوالات

رَبِّ قَد اٰتَیتَنِی مِنَ الۡمُلۡكِ وَ عَلَّمتَنِی مِن تَاوِیلِ الاَحَادِیثِ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الاَرضِ اَنتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنیَا وَ الاٰخِرَۃِ تَوَفَّنِی مُسلِمًا وَّ اَلحِقنِی بِالصّٰلِحِینَ۔

ترجمہ اور مفہوم لکھیں ۔

ترجمہ

اے میرے رب یقینا تو نے مجھے حکومت سے حصہ عطا فرمایا اور مجھے باتوں (خوابوں )کی تعبیر کا علم بخشا ہے آسمان اور زمینوں کو پیدا فرمانے والے تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا کارساز ہے مجھے دنیا سے مسلمان اٹھا اور مجھے اپنے مقرب نیک لوگوں کے ساتھ ملا۔

حضرت یوسف علیہ السلام نے اللہ کا شکر ان الفاظ میں ادا کیا کہ اے میرے رب تو نے مجھے حکومت سے حصہ عطا فرمایا اور مجھے باتوں یعنی خوابوں کی تعبیر کا علم بخشا۔

1 نعمتوں کا اعتراف — حضرت یوسف علیہ السلام نے مصر کی وزارت و بادشاہت اور خوابوں کی تعبیر کے علم کو اللہ کا انعام مانا۔
2 توحید اور مہرِ بندگی — تمام کاموں میں اللہ کو اپنا حقیقی مددگار اور نگہبان تسلیم کیا۔
3 اصلی کامیابی کی طلب — اتنے بڑے منصب کے باوجود دنیا کی بے ثباتی کا دھیان رکھا اور آخری وقت میں ایمان پر ثابت قدمی اور نیکوں کا ساتھ مانگا۔ اس دعا سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ موت صرف اسلام (فرمانبرداری) کی حالت میں ہی مانگنی چاہیے
9 تفصیلی سوالات

سورہ یوسف کو روشنی میں سیدنا یعقوب علیہ السلام کی بینائی واپس آنے کا واقعہ مختصرا تحریر کریں؟

یہ واقعہ حضرت یوسف علیہ السلام کی جدائی کے طویل اور دردناک دور کے خاتمے کا ایک انتہائی رقت آمیز اور معجزاتی منظر ہے۔

1 یوسف علیہ السلام کا حکم: جب حضرت یوسف علیہ السلام نے مصر میں اپنے بھائیوں کے سامنے اپنی اصل پہچان ظاہر کی، تو انہوں نے اپنے بوڑھے والد محترم حضرت یعقوب علیہ السلام کی خیریت دریافت کی۔ بھائیوں نے بتایا کہ آپ کی جدائی کے غم میں رو رو کر ان کی بینائی چلی گئی ہے۔ اس پر حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنی ایک قمیص بھائیوں کے حوالے کی اور فرمایا: ”میری یہ قمیص لے جاؤ اور اسے میرے والد کے چہرے پر ڈال دینا، ان کی بینائی واپس آ جائے گی، اور پھر اپنے تمام اہل و عیال کو میرے پاس (مصر) لے آؤ۔“
2 معجزاتی خوشبو کا احساس: ابھی بھائیوں کا یہ قافلہ مصر کی حدود سے نکلا ہی تھا کہ سینکڑوں میل دور کنعان میں موجود حضرت یعقوب علیہ السلام کو اپنے بیٹے کی خوشبو محسوس ہونے لگی۔ انہوں نے اپنے پاس بیٹھے لوگوں سے کہا: ”اگر تم مجھے بوڑھا اور سٹھایا ہوا نہ سمجھو، تو مجھے یوسف کی خوشبو آ رہی ہے۔“ آس پاس موجود لوگوں نے ان کی اس بات کو ان کا پرانا وہم اور پرانی محبت قرار دے کر رد کر دیا۔
3 بینائی کی واپسی کا منظر: کچھ دنوں بعد جب قافلہ کنعان پہنچا، تو بشارت دینے والا (خوشخبری لانے والا بھائی) تیزی سے آگے بڑھا۔ اس نے حضرت یوسف علیہ السلام کی وہ قمیص حضرت یعقوب علیہ السلام کے چہرے پر ڈال دی۔ قمیص کا چہرے پر لگنا تھا کہ اللہ کے حکم سے ایک بڑا معجزہ رونما ہوا۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کی آنکھوں کا نور فورا لوٹ آیا اور وہ بالکل ٹھیک دیکھنے لگے۔ بینائی واپس آتے ہی انہوں نے اپنے بیٹوں اور گھر والوں کی طرف دیکھا اور فرمایا: ”کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں اللہ کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے؟“ اس کے بعد تمام بیٹوں نے اپنے گناہوں اور زیادتیوں پر والد سے معافی مانگی، اور یہ پورا خاندان مصر کی طرف روانہ ہو گیا جہاں ایک طویل عرصے بعد باپ اور بیٹے کی تاریخی ملاقات ہوئی۔
10 تفصیلی سوالات

لَقَدْ كَانَ فِي قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ ۗ مَا كَانَ حَدِيثًا يُفْتَرَىٰ وَلَٰكِنْ تَصْدِيقَ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ۔۔

آیت کا ترجمہ کریں اور آیت کا مفہوم لکھیں۔

ترجمہ

یقینا ان کے قصےمیں عقلمندوں کے لیے عبرت ہے یہ قرآن کوئی ایسی بات نہیں ہے جو گھڑ لی گئی ہو بلکہ یہ اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے اور ہر چیز کی تفصیل ہے اور مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔

اس آیتِ مبارکہ کو مفسرین نے بنیادی طور پر چار اہم حصوں میں تقسیم کر کے اس کی تشریح کی ہے

1 1۔ قصصِ انبیاء کا حقیقی مقصد (عبرت اور نصیحت): آیت کے آغاز میں فرمایا گیا کہ انبیاء (خصوصاً حضرت یوسف علیہ السلام اور ان کے خاندان) کے حالات میں عقلِ سلیم رکھنے والوں کے لیے عبرت ہے۔ عبرت کا مادہ: لفظ ”عبرت“ عربی کے لفظ ’عبور‘ سے نکلا ہے، جس کے معنی ”پار اترنے“ کے ہیں۔ یعنی انسان کسی دوسرے کے واقعے کو دیکھ کر اپنے حالات کا جائزہ لے اور ظاہری واقعے سے گزر کر اس کی حقیقت تک پہنچے۔ حضرت یوسفؑ کے قصے سے عبرتیں: حسد کا انجام: بھائیوں نے حسد کیا کہ یوسفؑ کو نیچا دکھائیں، لیکن اللہ نے اسی حسد کو یوسفؑ کی بادشاہت کا ذریعہ بنا دیا۔ صبر کا پھل: کنویں کی تنہائی، غلامی کا دور، اور قید خانے کی سختیاں صبر کی وجہ سے سلطنتِ مصر پر منتج ہوئیں۔ تقویٰ کی جیت: زلیخا کے فتنے کے سامنے دامن بچانے کا صلہ دنیا میں عزت اور آخرت میں بلندی کی شکل میں ملا۔ مشرکینِ مکہ کے لیے پیغام: یہ سورت مکہ کے کٹھن دور (شعب ابی طالب سے نکلنے اور عام الحزن) کے بعد نازل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے مکہ کے کافروں کو اشارہ کیا کہ جس طرح یوسفؑ کے بھائیوں نے انہیں نقصان پہنچانا چاہا مگر ناکام رہے، اسی طرح اے اہل مکہ! تم محمد ﷺ کو نقصان نہیں پہنچا سکو گے، اور بالاخر فتح آپ ﷺ ہی کی ہوگی (جیسا کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ نے مکہ والوں سے وہی جملہ کہا جو یوسفؑ نے اپنے بھائیوں سے کہا تھا: ”آج تم پر کوئی ملامت نہیں“)۔
2 2۔ قرآن کی حقانیت (مَا كَانَ حَدِيثًا يُفْتَرَىٰ): یہ قصہ یا پورا قرآن کوئی بناوٹی داستان یا افسانہ نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے امّی (ناخواندہ) ہونے کے باوجود صدیوں پرانے تاریخی واقعات کو اتنی باریکی اور سچائی سے بیان کیا کہ اس دور کے یہودی اور عیسائی علماء بھی حیران رہ گئے۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ علم کسی انسانی دماغ کی پیداوار نہیں بلکہ خالص وحیِ الٰہی ہے۔
3 3۔ سابقہ کتب کی تصدیق اور دین کی تفصیل: تَصْدِيقَ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ — قرآن مجید تورات اور انجیل کے اصل اور سچے حصوں کی تصدیق کرتا ہے کہ یہ سب ایک ہی سچے خدا کی طرف سے نازل ہوئے ہیں۔
4 3۔ سابقہ کتب کی تصدیق اور دین کی تفصیل: وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ — اس سے مراد یہ ہے کہ انسان کو اپنی دنیا اور آخرت سنوارنے کے لیے، عقائد، اخلاقیات، حلال و حرام، اور زندگی گزارنے کے اصولوں کی جتنی ضرورت ہے، وہ سب قرآن نے تفصیل سے بیان کر دیے ہیں۔ یہ سائنس یا تاریخ کی روایتی کتاب نہیں، بلکہ انسان کی رہنمائی کی مکمل کتاب ہے۔
5 4۔ ہدایت اور رحمت کا سرچشمہ: آیت کے آخر میں فرمایا کی یہ کتاب ہدایت اور رحمت ہے مگر شرط یہ ہے کہ انسان مومن ہو۔ : قرآن کا فیض عام ہے، لیکن اس سے فائدہ صرف وہی اٹھا سکتا ہے جو دل میں سچائی کی طلب رکھتا ہو اور اس پر یقین لانے کے لیے تیار ہو۔ جس طرح بارش زمین پر یکساں گرتی ہے مگر ہریالی صرف زرخیز زمین سے نکلتی ہے، اسی طرح قرآن کی رحمت صرف اس دل میں اترتی ہے جو ایمان کے لیے آمادہ ہو۔
11 تفصیلی سوالات

سیدنا یوسف علیہ السلام کے قصے میں ہمارے لیے کیا رہنمائی ہے کوئی سےچار نکات لکھیں۔

سیدنا یوسف علیہ السلام کے قصے میں صبرِ جمیل، معاف کرنے کی صفت، مشکل وقت میں استقامت اور پاکدامنی کا درس اہم ترین رہنمائی ہے۔

اہم نکات

1 صبر اور استقامت — مشکلات اور آزمائشوں میں صبر کرنے کا حکم ملتا ہے، جیسا کہ کنویں اور قید خانے کی سختیوں میں حضرت یوسف نے صبر کیا۔
2 عفو و درگزر (معاف کرنا) — طاقت ملنے کے بعد اپنے بھائیوں کو معاف کرنا بہترین اخلاق اور عاجزی کی بڑی مثال ہے۔
3 پاکدامنی اور تقویٰ — گناہ کے پرکشش موقع پر بھی اللہ کے خوف کو ترجیح دینا اور پاک دامن رہنا کامیابی کی علامت ہے۔
4 اللہ پر توکل — ہر مشکل حالات میں صرف اللہ کی ذات پر بھروسہ رکھنا چاہیے، کیونکہ وہی اچھے وقت کو لانے والا ہے۔

سرگرمیاں

12 سرگرمیاں

کسی قصوروار کو معاف کرنے سے معاشرے پر کیا اثرات مرتب ہوتےہیں؟

کسی قصوروار کو معاف کرنے سے معاشرے پر درج ذیل اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔

معاشرتی اثرات

1 امن اور بھائی چارہ — دشمنی اور انتقام کی آگ ٹھنڈی ہوتی ہے۔
2 لوگوں کے دلوں میں محبت اور سکون بڑھتا ہے۔
3 اصلاح کا موقع — گناہگار یا قصوروار کو اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے۔
4 وہ شخص سدھر کر ایک اچھا شہری بن سکتا ہے۔
5 تحمل اور برداشت — معاشرے میں معاف کرنے کی اچھی عادت پھیلتی ہے۔
6 غصے اور لڑائی جھگڑے کی جگہ صبر لیتا ہے۔
13 سرگرمیاں

یوسف علیہ السلام کے قصے سے حاصل ہونے والے اسباق کے اہم نکات لکھیں۔

جواب: اہم نکات

1 ہمیں اللہ پر توکل کرتے ہوئے جائزتدبیر اختیار کرنی چاہیے
2 حسد انسان کو بڑے بڑے گناہوں کی طرف لے جاتا ہے۔
3 ہمیں ہر حال میں صبر کرنا چاہیے اور اللہ سے مدد مانگنی چاہیے ۔
4 اپنے نفس کی حفاظت کرنے والوں کو اللہ برائی اور بے حیائی سے بچا لیتا ہے
5 ہمیں علم و حکمت کی باتوں کو چھپانا نہیں چاہیے بلکہ لوگوں کے فائدے کے لیے انہیں عام کرنا چاہیے
6 ہمیں مہمانوں کی خوب خاطر تواضع کرنی چاہیے کیونکہ مہمان نوازی انبیاء کی سنت ہے ۔
7 ہمیں اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے ۔
8 اپنے والدین کی عزت اور احترام کرنا چاہیے یہ انبیاء کا طریقہ ہے اور اسلام کی بنیادی عقائد میں سے ہے ۔
9 اللہ کی طرف بلانا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا راستہ ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے والوں کا طریقہ ہے
14 سرگرمیاں

اِنَّهٗ لَا يَايۡــَٔسُ مِنۡ رَّوۡحِ اللّٰهِ اِلَّا الۡقَوۡمُ الۡكٰفِرُوۡنَ۔ آیت کریمہ کی روسے وہ مواقع بتائیں جن میں لوگ مایوس ہو جاتے ہیں اور ایسے مواقعوں پر کیا طرز عمل ہونا چاہیے؟

جواب: مایوسی کے مواقع اور مطلوبہ طرز عمل

1 جواب: مایوسی کے مواقع: مسلسل نقصانات — ایک کے بعد دوسرا عزیز یا سہارا گم ہو جانا (جیسے حضرت یوسف اور پھر بنیامین کا المیہ)۔
2 جواب: مایوسی کے مواقع: شدید معاشی تنگی — قحط سالی اور وسائل کا بالکل ناپید ہو جانا۔
3 جواب: مایوسی کے مواقع: ظاہری اسباب کا خاتمہ — تمام تدبیریں ناکام ہو جانے پر انسان کا اندرونی طور پر ٹوٹ جانا
4 مطلوبہ طرز عمل: ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھنے کے بجائے تدبیر اور جستجو جاری رکھنی چاہیے۔ جیسے فرمایا جاؤ اور یوسف اور اس کے بھائی کا سراغ لگاؤ“)۔
5 مطلوبہ طرز عمل: امیدِ رحمت کا دامن نہ چھوڑنا — حالات کتنے ہی تاریک کیوں نہ ہوں، اللہ کی رحمت اور کشائش پر کامل یقین رکھنا چاہیے۔
6 مطلوبہ طرز عمل: کافروں مشابہت سے گریز — مایوسی اور ناامیدی کو کفار کا شیوہ قرار دیا گیا ہے، اس لیے مومن کو ہر حال میں امید اور توکل کا پیکر رہنا چاہیے

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.