آیت کریمہ میں انسان کے اختیار سے متعلق کیا بیان ہوا ہے؟
ترجمہ
بیشک ہم نے اسے راستہ دکھا یا، اب چاہے وہ شکر گزار بنے یا ناشکرا۔
اس آیت میں فلسفۂ جبر و قدر اور انسان کے ارادے و اختیار کی مکمل تصویر کشی کی گئی ہے، جس کی تفصیل درج ذیل ہے:
آیت کریمہ میں انسان کے اختیار سے متعلق بیان
1راستہ دکھانا (ہدایت کا اہتمام) — اللہ تعالیٰ نے انسان کو اندھیرے میں نہیں چھوڑا، بلکہ عقل، شعور، اور بصیرت عطا کرنے کے ساتھ ساتھ انبیاء اور آسمانی کتابوں کے ذریعے نیکی اور بدی دونوں راستے واضح کر دیے ہیں۔
2عمل میں مکمل آزادی (اختیار) — انسان کسی بے جان پتھر کی طرح مجبورِ محض نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ”سمیع و بصیر“ (سننے اور دیکھنے کی صلاحیت) اور عقل دے کر خود مختار بنایا ہے تاکہ وہ اچھے اور برے میں فرق کر سکے۔
3دو راستے اور دو انجام — انسان کو مکمل اختیار دیا گیا ہے کہ وہ چاہے تو اطاعت کا راستہ چن کر شکر گزار (مومن) بن جائے، اور اگر چاہے تو نافرمانی کا راستہ چن کر ناشکرا (کافر) بن جائے۔
4جزا و سزا کا دارومدار — چونکہ انسان اپنے اعمال کے انتخاب میں خود مختار ہے، اسی لیے وہ اپنے اچھے اعمال کی جزا اور برے اعمال کی سزا کا مستحق ٹھہرتا ہے۔
آیت کریمہ میں کفار کے لیے کیا چیزیں تیار کر رکھی ہیں؟
ترجمہ
بیشک ہم نے کافروں کے لیے زنجیریں، اور طوق (گلے کے بند)، اور بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔
اس آیت کریمہ میں کفار کے انجام کو واضح کرنے کے لیے تین بنیادی چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے:
کفار کے لیے تیار کی گئی سزائیں
1سلاسل (زنجیریں) — یہ لوہے کی وہ بھاری زنجیریں ہوں گی جن میں کفار کے ہاتھ اور پاؤں جکڑ دیے جائیں گے۔
2اغلال (طوق) — یہ لوہے کے وہ سخت اور بھاری حلقے یا گلے کے طوق ہوں گے جو ان کی گردنوں میں ڈالے جائیں گے، جس سے ان کے سر جھکے رہیں گے اور حرکت ناممکن ہو جائے گی۔
3سعیرا (بھڑکتی ہوئی آگ) — یہ جہنم کی وہ تپتی ہوئی اور شعلے مارتی ہوئی آگ ہے، جس میں ان ظالموں کو جلایا جائے گا۔
جوابقرآنِ پاک کی سورۃ الدھر میں یہ منظر اس لیے بیان کیا گیا ہے تاکہ انسان کو اس دنیا کی عارضی زندگی میں اپنی روش پر غور کرنے اور اللہ کی ناشکری سے بچنے کی تنبیہ کی جائے۔
وہ لوگ (اپنی )نذریں پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی سختی ہرطرف پھیل ہوئی ہوگی۔ اور وہ اس کی محبت میں مسکین ، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں۔
ان دو آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک اور مقبول بندوں کی درج ذیل صفات بیان فرمائی ہیں:
نیک لوگوں کی بیان کردہ صفات
1نذر و عہد کی پاسداری — نیک لوگ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے جو منت یا نذر مانتے ہیں، اسے ہر حال میں پورا کرتے ہیں۔
2روزِ قیامت کے عذاب کا خوف — ان کے دلوں میں آخرت کی ہولناکیوں اور اللہ کی پکڑ کا خوف اس قدر ہوتا ہے کہ وہ گناہوں سے بچتے ہیں اور نیک اعمال میں مشغول رہتے ہیں۔
3ایثار اور ضرورت کے وقت مدد — یہ لوگ خود کھانے کے محتاج ہونے اور خود بھوک لگنے کے باوجود اپنا کھانا غریبوں اور محتاجوں میں بانٹ دیتے ہیں۔
4مستحقین کی خبر گیری — وہ معاشرے کے بے سہارا لوگوں (مسکینوں اور یتیموں) اور قیدیوں کے ساتھ حسنِ سلوک کرتے ہیں۔ قیدیوں کے ساتھ بہترین رویہ رکھنا اسلام کی اعلیٰ ترین اخلاقی تعلیمات میں سے ایک ہے۔
ور ان کے صبر کے بدلے انہیں جنت اور (مخملی) ریشم عطا فرمائے گا۔ وہ اس میں تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے، وہاں نہ دھوپ کی تپش دیکھیں گے اور نہ سخت سردی (کی شدت)۔ اور اس (جنت کے درختوں) کے سائے ان پر جھکے رہے ہوں گے اور ان (درختوں )کے پھل بہت قریب کر دیئے جائیں گے۔
ان آیات کریمہ میں اہل جنت کے لیے درج ذیل انعامات بیان ہوئے ہیں:
اہل جنت کے لیے انعامات کی تفصیل
1صبر کا بہترین صلہ — اللہ تعالیٰ کی راہ میں، آزمائشوں اور عبادات پر ثابت قدم رہنے کے بدلے انہیں باغات (جنت) اور نفیس ریشمی لباس کی نعمت سے نوازا جائے گا۔
2آرام دہ مسندیں — اہل جنت وہاں تختوں پر تکیے لگا کر انتہائی سکون اور راحت کے ساتھ براجمان ہوں گے۔
3موسم کی شدت سے نجات — جنت کے موسم کو اس قدر معتدل اور خوشگوار بنایا جائے گا کہ نہ وہاں چلچلاتی دھوپ کی تکلیف ہو گی اور نہ ہی موسمِ سرما کی کڑاکے کی ٹھنڈ۔
4سائے اور پھلوں کی فراوانی — جنت کے درختوں کے سایے ہر وقت اہل جنت کے اوپر جھکے رہیں گے۔ پھل اس قدر قریب اور تابع ہوں گے کہ انہیں بغیر کسی مشقت کے توڑا جا سکے گا۔
1مفہوم: اس آیت میں انسان کو اس کی حقیقت یاد دلائی گئی ہے کہ وہ اپنی پیدائش سے پہلے کچھ بھی نہیں تھا۔ کائنات کی طویل تاریخ میں ایک وقت ایسا بھی تھا کہ اس کا نام و نشان تک نہ تھا اور نہ ہی اسے کوئی جانتا تھا۔ یہ اس لیے بیان کیا گیا ہے تاکہ انسان اپنی اوقات اور کمزوری کو پہچانے اور اپنے پیدا کرنے والے (اللہ) کے سامنے عاجزی اختیار کرے۔
2آیت 2: اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ نَّبْتَلِیْهِ فَجَعَلْنٰهُ سَمِیْعًا بَصِیْرًا بیشک ہم نے انسان کو (مرد و عورت کے) ملے ہوئے نطفے سے پیدا کیا، تاکہ ہم اسے آزمائیں، پس ہم نے اسے سننے والا(اور) دیکھنے والا بنا دیا۔
3مفہوم: اللہ تعالیٰ نے انسان کی پیدائش کا مرحلہ بیان فرمایا ہے کہ اسے حقیر قطرے (نطفے) سے تخلیق کیا۔ اس کے بعد اسے مختلف مراحل سے گزار کر اس قابل بنایا کہ وہ سن اور دیکھ سکے۔ آنکھ اور کان جیسی عظیم نعمتیں اس لیے دی گئی ہیں تاکہ وہ حق کو پہچانے اور دنیا میں اللہ کی اطاعت کر کے اپنی آزمائش میں پورا اترے۔
اور ان پر پھرائے جائیں گے چاندی کے برتن اور شیشے کے گلاس۔ (یہ ) شیشے (جیسے برتن )چاندی کے ہوں گے۔ جنہیں( پلانے والوں نے )ٹھیک اندازے سے بھراہوگا۔
مفہوم و تفسیر
جواب(یہ ) شیشے (جیسے برتن )چاندی کے ہوں گے۔ جنہیں( پلانے والوں نے )ٹھیک اندازے سے بھراہوگا۔ ان آیات میں جنت کے خوبصورت ماحول اور وہاں کے خادموں کی خوبصورتی کا بیان ہے۔ اللہ تبارک و تعالی اہل جنت کی راحت اور تکریم کا ذکر فرماتے ہوئے فرماتا ہے کہ ان کے درمیان ایسے برتن اور جام پھرائے جائیں گے جو چاندی کی طرح چمکدار اور شیشے کی طرح شفاف ہوں گے۔ ان برتنوں کی کاریگری اتنی اعلیٰ اور نفیس ہوگی کہ وہ چاندی کی شفافیت اور شیشے کی نزاکت کا انوکھا امتزاج ہوں گے۔ اس کے علاوہ خادم ان برتنوں کو جنتیوں کی طلب اور خواہش کے مطابق ٹھیک ٹھیک اندازے سے بھر کر لائیں گے تاکہ نہ پانی یا مشروب ضائع ہو اور نہ ہی ضرورت سے کم ہو، بلکہ ہر چیز ہر لحاظ سے مکمل اور متناسب ہوگی۔
سو آپ اپنے رب کے حکم کے انتظار میں صبر کیجیے اور ان میں سے کسی گنہگار یا ناشکرے (انسان) کا کہا نہ مانئے۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسلی اور استقامت کی تلقین فرما رہے ہیں کہ کفار کی مخالفت اور تکلیفوں پر صبر کریں اور دین کی تبلیغ میں ان کے کسی دباؤ، گناہ یا کفر پر مبنی مطالبے کی پیروی نہ کریں۔
آیت 25 اور آیت 26
1آیت 25: وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَأَصِيلًا اور صبح اور شام اپنے رب کے نام کا ذکر (عبادت) کیا کریں۔ اللہ کی یاد اور عبادت کو ہر حال میں جاری رکھنے کا حکم ہے۔ ”بکرۃ و اصیلاً“ سے مراد دن اور رات کے وہ اوقات ہیں جن میں اللہ کی حمد و ثناء (جیسے نماز فجر اور نماز عصر) بہت فضیلت رکھتی ہے۔
2آیت 26: وَمِنَ اللَّيْلِ فَاسْجُدْ لَهُ وَسَبِّحْهُ لَيْلًا طَوِيلًا اور رات کے کچھ حصے میں بھی اسی کو سجدہ کیجیے اور رات کے طویل حصے میں اس کی تسبیح (پاکیزگی بیان) کیجئے۔ اس آیت میں رات کی عبادت (خصوصاً تہجد) کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے کہ دن کی مصروفیات کے بعد رات کے سناٹے میں اللہ کے حضور سجدہ ریز ہونا اور اس کی تسبیح کرنا روحانی بلندی اور قربتِ الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے۔
10تفصیلی جوابات
سورۃ الدھر میں اسماء اشارہ اور افعال ناقصہ کی کوئی دو دو مثالیں لکھیں۔
32. افعال ناقصہ: ھَلْ أَتَىٰ عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئًا مَذْكُورًا۔ (اس میں ’يَكُنْ‘ اصل میں كَانَ کا ہی مضارع ہے
42. افعال ناقصہ: إِنَّ كَانَ لَكُمْ جَزَاءً
سرگرمیاں
11سرگرمیاں
صبر اور اس کے اجر پر ایک پیراگراف لکھیں نیز سورۃ الدھر میں بیان کی گئی صبر کی مثالیں دیں۔
صبر دراصل مشکلات، آزمائشوں اور مصائب میں ڈٹے رہنے کا نام ہے، جس میں انسان شکوہ کیے بغیر اللہ کی رضا پر راضی رہتا ہے۔ اس عظیم وصف کا اجر بے حساب ہے اور یہ انسان کو روحانی بلندی اور دائمی سکون عطا کرتا ہے۔ سورۃ الدھر (یا سورۃ الانسان) میں صبر کی جامع ترین مثالیں بیان کی گئی ہیں جن میں نیک لوگوں کے کردار کو نمایاں کیا گیا ہے۔ اس سورۃ میں صبر کے عمل کو تین بنیادی پہلوؤں سے واضح کیا گیا ہے:
1عبادت اور اطاعت پر استقامت — اللہ کی بندگی اور اطاعت پر قائم رہنا۔
2خواہشاتِ نفس کی قربانی — دنیاوی لذتوں، گناہوں اور ناجائز خواہشات کو ترک کر دینا۔
3ایثار اور آزمائش پر ثابت قدمی — خود بھوکے رہ کر یتیموں، مسکینوں اور قیدیوں کو کھانا کھلانا، اور اس نیکی کی راہ میں پیش آنے والی تمام تکالیف اور مشکلات کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنا۔
جوابقرآن مجید میں واضح کیا گیا ہے کہ دنیا میں ان مشکلات اور صبر کا بہترین اجر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مومنین کو اس دن کے شر سے محفوظ رکھے گا اور بدلے میں انہیں جنت، ریشمی لباس اور ابدی راحت سے نوازے گا۔
12سرگرمیاں
اللہ تعالیٰ کے لیے کیے گئے اعمال کیسے زندگی میں برکت کا باعث بنتے ہیں۔ اور کون سے نیک اعمال انسان کو اللہ کے قریب کرتے ہیں؟
اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کیے گئے اعمال انسان کی زندگی میں سکون، قلبی اطمینان اور رزق و وقت میں برکت کا باعث بنتے ہیں۔ جب انسان خالص ہو کر اللہ کی خوشنودی کے لیے کام کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے کاموں میں آسانیاں پیدا فرما دیتا ہے اور چھوٹی نیکیوں کو بھی کئی گنا بڑھا کر ثواب سے نوازتا ہے۔ قرآنِ کریم اور احادیثِ نبویہ کی روشنی میں درج ذیل نیک اعمال انسان کو اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ قریب کرتے ہیں:
1فرض نمازوں کی ادائیگی — وقت پر باجماعت نماز ادا کرنا اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہے۔ حدیثِ قدسی کے مطابق، فرائض کی ادائیگی سے بندہ اللہ کا قرب حاصل کرتا ہے۔
2کثرتِ ذکر اور استغفار — ہر وقت اللہ کی یاد (ذکر) میں مشغول رہنا اور گناہوں کی بخشش مانگنا دلوں کو منور کرتا ہے اور پریشانیوں کو دور کرتا ہے۔
3صدقہ و خیرات — غریبوں، یتیموں اور نادار لوگوں کی مدد کرنا مال میں برکت ڈالتا ہے اور اللہ کے غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے۔
4والدین کے ساتھ حسنِ سلوک — والدین کی خدمت اور ان کی اطاعت اللہ کی رضا حاصل کرنے اور زندگی میں برکت کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔
5قرآنِ مجید کی تلاوت اور عمل — کلامِ پاک کو سمجھ کر پڑھنا اور اس کے احکام پر عمل کرنا انسان کی دنیا اور آخرت دونوں سنوار دیتا ہے۔
6حسنِ اخلاق اور صلہ رحمی — لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آنا اور رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنا عمر میں اضافے اور برکت کا باعث بنتا ہے۔
13سرگرمیاں
توبہ کی اہمیت بیان کریں۔
توبہ گناہوں کی معافی، اللہ کی رحمت کے حصول اور روحانی پاکیزگی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ اس سے انسان کا تعلق اپنے خالق سے بحال ہوتا ہے، دل سے گناہوں کا زنگ دور ہوتا ہے اور سکونِ قلب نصیب ہوتا ہے۔
توبہ کی اہمیت کو درج ذیل نکات سے واضح کیا جا سکتا ہے اور سچی توبہ کے لیے تین بنیادی شرائط ہیں
1توبہ کی اہمیت کو درج ذیل نکات سے واضح کیا جا سکتا ہے: رضائے الٰہی کا حصول — اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں سے بے حد محبت فرماتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے: ”بے شک اللہ توبہ کرنے والوں اور پاک صاف رہنے والوں سے محبت کرتا ہے۔“
2توبہ کی اہمیت کو درج ذیل نکات سے واضح کیا جا سکتا ہے: گناہوں کی معافی — سچی توبہ سے تمام چھوٹے بڑے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور انسان ایسے پاک ہو جاتا ہے جیسے اس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو۔
3توبہ کی اہمیت کو درج ذیل نکات سے واضح کیا جا سکتا ہے: عذاب سے نجات — توبہ دنیا کی پریشانیوں اور آخرت کے عذاب سے بچنے کا بہترین اور واحد راستہ ہے۔
4توبہ کی اہمیت کو درج ذیل نکات سے واضح کیا جا سکتا ہے: رحمت اور فلاح — توبہ کے ذریعے اللہ کی ناراضگی خوشنودی میں بدل جاتی ہے اور انسان دنیا و آخرت کی کامیابی سے ہمکنار ہوتا ہے
5سچی توبہ کے لیے تین بنیادی شرائط ہیں: گناہ پر دلی ندامت اور شرمندگی کا احساس۔
6سچی توبہ کے لیے تین بنیادی شرائط ہیں: اس گناہ کو فوراً ترک کر دینا۔
7سچی توبہ کے لیے تین بنیادی شرائط ہیں: آئندہ کبھی اس گناہ کے نہ کرنے کا پختہ ارادہ کرنا۔
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔