آٹھویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 23: سبق 23: سورۃالقیامہ — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں · 16 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

لَا تُحَرِّك بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖ ﴿ؕ۱۶﴾ اِنَّ عَلَينَا جَمعَهٗ وَقُرۡءَانَهٗ۔ فَاِذَا قَرَانٰهُ فَاتَّبِع قُرءَانَهٗ ﴿ۚ۱۸﴾

آیاتِ کریمہ میں قرآن کے حوالے سے کیابیان ہوا ہے؟

ترجمہ

(اے حبیب!) آپ (قرآن کو جلدی) یاد کرنے کے لئے اپنی زبان کو حرکت نہ دیا کریں۔ بیشک اس (قرآن) کو آپ کے سینے میں جمع کرنا اور اسے پڑھوا دینا ہمارے ذمہ ہے۔ پھر جب ہم اسے (جبریل کے ذریعے) پڑھ لیں تو آپ اس پڑھے ہوئے کی پیروی کیا کریں۔

ان آیات میں قرآنِ مجید کے حوالے سے درج ذیل بنیادی امور بیان ہوئے ہیں:

آیاتِ کریمہ میں قرآن کے حوالے سے بیان

1 حفاظتِ قرآن کی ذمہ داری — اللہ تعالیٰ نے اعلان فرمایا ہے کہ قرآن کا آپ ﷺ کے سینے میں جمع ہونا اور اس کی تلاوت کا جاری رہنا خالصتاً اللہ کی ذمہ داری ہے، اس میں آپ کو جلدی یا مشقت کرنے کی ضرورت نہیں۔
2 آدابِ تلاوت — اللہ نے رسول ﷺ کو ہدایت فرمائی کہ جبریلِ امین جب وحی لائیں تو آپ خاموشی سے سنیں، زبان کو ساتھ نہ ہلائیں۔ جب وحی مکمل ہو جائے تب آپ اس کی تلاوت کریں۔
3 قرآن کا الہامی اور قطعی ہونا — یہ کلام براہِ راست اللہ کی طرف سے نازل ہوتا ہے اور وہی اس کے معانی اور احکامات کو واضح فرماتا ہے۔
2 مختصر جوابات

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌۙ اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌۚ وَوُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ بَاسِرَةٌۭۙ

آیات کی رو سے قیامت کے دن کامیاب اور ناکام انسانوں کے چہرے کیسے ہوں گے؟

ترجمہ

کچھ چہرے اس دن تر و تازہ (خوش و خرم) ہوں گے۔ اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔ اور بہت سے چہرے اس دن اداس ہوئے (بدرونق اور خوف سے سیاہ) ہوں گے۔

1 آیات کی روشنی میں چہروں کی کیفیت: ان آیات کریمہ سے واضح ہوتا ہے کہ قیامت کے دن انسانوں کا انجام ان کے چہروں سے عیاں ہو گا۔
2 1۔ کامیاب انسان (اہلِ ایمان): ان کے چہرے خوشی، شادمانی اور تروتازگی سے دمک رہے ہوں گے۔
3 1۔ کامیاب انسان (اہلِ ایمان): دنیا میں کی گئی نیکیوں اور اپنے اچھے انجام کو دیکھ کر یہ بے حد مسرور ہوں گے۔
4 1۔ کامیاب انسان (اہلِ ایمان): ان کی سب سے بڑی کامیابی اور نعمت اللہ تعالیٰ کا دیدار (بغیر کسی کیفیت یا جہت کے) ہوگا۔
5 2۔ ناکام انسان (کفار و گناہگار): ان کے چہرے خوف، ندامت اور غم سے مرجھائے اور اترے ہوئے ہوں گے۔
6 2۔ ناکام انسان (کفار و گناہگار): سخت پریشانی کے عالم میں ان کے چہرے بگڑے ہوئے اور سیاہ ہوں گے کیونکہ انہیں معلوم ہوگا کہ آج ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔
3 مختصر جوابات

کلَّآ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ ۔ وَقِيْلَ مَنْ رَاقٍ۔ وَظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُ۔ وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ۔

آیات میں مرتے وقت کی سختیاں کس طرح بیان ہوئی ہیں ؟

ترجمہ

ہرگز نہیں ! جب جان حلق تک پہنچ جائے گی ۔ اور کہا جائے کہ ہے کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا (یا بچانے والا)؟ اور وہ سمجھ جائے گا کہ بے شک یہ جدائی کا وقت ہے۔ اور پنڈلی سے پنڈلی لپٹ جائے گی ۔

ان آیات کریمہ میں سکراتِ موت (جان کنی) کی شدت کو نہایت مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے:

آیات کی روشنی میں مرتے وقت کی سختیاں

1 گلے میں جان کا اٹکنا — قرآن مجید بتاتا ہے کہ نزع کے وقت روح جسم کے تمام حصوں سے نکل کر حلق (ہنسلیوں کی ہڈی کے پاس) جمع ہو جاتی ہے، جو دنیا کی سانس اور آخرت کے درمیان کا آخری اور انتہائی تکلیف دہ مرحلہ ہوتا ہے۔
2 علاج و معالجے سے مایوسی — موت کی اس گھڑی میں جب انسان بے بس ہوتا ہے، تو ارد گرد کے لوگ ڈاکٹروں یا عاملوں کو پکارتے ہیں کہ شاید کوئی اس کی جان بچا لے، مگر حقیقت کھل جاتی ہے کہ اللہ کے حکم کے آگے کوئی دوا یا دعا کام نہیں آتی۔
3 دنیا سے حتمی جدائی کا یقین — مرنے والے پر جب غشی اور سکرات طاری ہوتی ہے، تو اسے یقین ہو جاتا ہے کہ اب اس کا مال، اولاد، اور دنیا کی رنگینیاں سب چھوٹ رہی ہیں، اور یہ دنیا سے ہمیشہ کے لیے جدائی کا لمحہ ہے۔
4 پنڈلی سے پنڈلی کا لپٹنا — اس کیفیت کی تفسیر میں مفسرین (جیسے حضرت ابن عباسؓ اور حسن بصریؒ) فرماتے ہیں کہ یہ شدتِ کرب کی حالت ہوتی ہے جس میں انسان بے قراری اور تکلیف سے ہاتھ پاؤں مارتا ہے۔ یہ حالت اتنی سخت ہوتی ہے کہ پنڈلی دوسری پنڈلی سے لپٹ جاتی ہے، اور انسان کا دنیا سے رشتہ کٹنے کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔
4 مختصر جوابات

فلَا صَدَّقَ وَ لَا صَلّٰىۙ وَ لٰکِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىۙ) ثُمَّ ذَهَبَ اِلٰى اَهْلِهٖ يَتَمَطّٰى۔

آیات کی روشنی میں اہل جہنم (کفار و سرکش) کے کیا جرائم بیان ہوئے ہیں ؟

ترجمہ

”پھر اس (کافر/بدنصیب) نے نہ تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی۔“ ”اور لیکن اس نے جھٹلایا اور منہ پھیرا۔ پھر اپنے گھر والوں کی طرف اکڑتا ہوا چلا۔“

ان تین آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اہل جہنم کے بنیادی جرائم اور ان کی بد اعمالیوں کی نشاندہی فرمائی ہے:

آیات کی روشنی میں اہل جہنم (کفار و سرکش) کے جرائم

1 دین کی صداقت کو جھٹلانا — (تکذیب): انہوں نے اللہ کے احکامات، نبی کی تعلیمات اور قرآن کی سچی باتوں پر یقین نہیں کیا بلکہ انہیں جھوٹ قرار دیا۔
2 عبادت سے غفلت (بے نمازی پن) — سچ نہ ماننے کے ساتھ ساتھ انہوں نے اللہ کے حضور جھکنے (نماز پڑھنے) سے گریز کیا۔
3 حق سے اعراض کرنا — اللہ کی ہدایت اور احکاماتِ الٰہی سے جان بوجھ کر منہ موڑا اور ان کی پرواہ نہ کی۔
4 تکبر اور غرور (اکڑ کر چلنا) — گناہوں اور نافرمانیوں پر ندامت کے بجائے وہ اپنے گھر والوں کی طرف نہایت تکبر، غرور اور اتراتے ہوئے واپس لوٹے۔
5 مختصر جوابات

ایَحسَبُ الإِنسَٰنُ أَن يُترَكَ سُدًى ۔

آیت کے مطابق انسان کیا خیال کرتا ہے ؟

ترجمہ

کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ اُسے یونہی (بے کار اور غیر جوابدہ) چھوڑ دیا جائے گا؟

جواب انسان کا خیال۔ آیتِ مبارکہ کے مطابق انسان (خصوصاً جو آخرت اور جزا و سزا کا منکر ہے) یہ گمان کرتا ہے کہ اسے اس دنیا میں بالکل آزاد پیدا کیا گیا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اسے کسی بھی اچھے یا برے کام کا حساب نہیں دینا پڑے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے احکام کا پابند نہیں کیا اور نہ ہی اسے کسی چیز سے روکا گیا ہے۔ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا نہیں جائے گا اور اسے کوئی جزا یا سزا نہیں ملے گی۔ قرآنِ مجید اس خیال کی سختی سے تردید کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ انسان کو مقصد کے بغیر نہیں چھوڑا گیا، بلکہ وہ اپنے اعمال کا جوابدہ ہے۔

تفصیلی جوابات

6 تفصیلی جوابات

أَيَحْسَبُ الْإِنْسَانُ أَلَّن نَّجْمَعَ عِظَامَهُ۔ بَلَىٰ قَادِرِينَ عَلَىٰ أَن نُّسَوِّيَ بَنَانَهُ ۔ بَلْ يُرِيدُ الْإِنْسَانُ لِيَفْجُرَ أَمَامَهُ۔

آیات کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں ۔

ترجمہ

کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو ہرگز جمع نہیں کر یں گے۔ کیوں نہیں! ہم اس پر پوری طرح قادر ہیں کہ اس کی انگلیوں کے پور تک (بالکل ٹھیک) درست کر دیں۔ بلکہ انسان یہ چاہتا ہے کہ آئندہ بھی گناہ کرتا رہے۔

مفہوم و تفسیر

1 قادرِ مطلق کی قدرت — ان آیات میں ان لوگوں کے شک کا جواب دیا گیا ہے جو دوبارہ زندہ کیے جانے کا انکار کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ دوبارہ زندہ کرنا تو بہت معمولی بات ہے، ہم انسان کی ان چھوٹی چھوٹی ہڈیوں (جیسے انگلیوں کے پور ہیں) تک کو ہو بہو ویسا ہی بنانے پر قادر ہیں۔
2 گناہوں کی بے باکی — انسان حقیقتِ موت اور حساب و کتاب سے اس لیے انکار کرتا ہے یا غفلت برتتا ہے کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ آئندہ بھی اپنی مرضی کی زندگی گزارتا رہے اور بغیر کسی روک ٹوک کے گناہوں میں مبتلا رہے۔
7 تفصیلی جوابات

سورۃ القیامہ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں ۔

جواب صفحہ 165 پر ہے
8 تفصیلی جوابات

يَقُولُ الْإِنسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ ﴿١٠﴾ كَلَّا لَا وَزَرَ ﴿١١﴾ إِلَىٰ رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ ﴿١٢﴾ يُنَبَّأُ الْإِنسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ ﴿١٣﴾

آیات کا ترجمہ اور مفہوم

ترجمہ

اس دن انسان کہے گا کہ کہاں ہے بھاگنے کی جگہ ؟ ہرگز نہیں! کوئی پناہ کی جگہ نہیں۔ اس دن آپ کے رب ہی کی طرف ٹھکانا (جانا) ہے۔ اس دن انسان کو بتا دیا جائے گا جو کچھ اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے چھوڑا۔

ان آیات میں قیامت کے ہولناک مناظر اور انسان کی بے بسی کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔

1 جب انسان قیامت کی ہولناکیاں، اللہ کا جلال اور جہنم کا خوف دیکھے گا تو دنیا کی طرح وہاں بھی بھاگنے کی راہ تلاش کرے گا لیکن اسے کوئی پناہ گاہ یا جائے فرار نہیں ملے گی۔ اس کے بعد واضح کر دیا گیا ہے کہ آخری اور حتمی ٹھکانا صرف اللہ کی بارگاہ میں ہے۔
2 ہر انسان کو اس کا مکمل نامہ اعمال دکھا دیا جائے گا، یعنی اس نے اپنی زندگی میں جو اچھے اور برے کام کیے، اور جو اثرات یا طریقے وہ پیچھے دنیا میں چھوڑ کر گیا (جن کا اسے بعد میں بھی ثواب یا گناہ ملتا رہا)، وہ سب اسے بتا دیے جائیں گے۔
9 تفصیلی جوابات

سورۃ القیامہ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔

جواب صفحہ 165 پر ہے
10 تفصیلی جوابات

اوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ ﴿٣٤﴾

س3(الف)

جواب تمہارے لئے (مرتے وقت) تباہی ہے، پھر تباہی ہے۔ یہ دراصل کفار اور حق کے دشمنوں کے لیے ایک سخت تنبیہ اور وعید ہے۔ ان لوگوں کے لیے جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرتے ہیں، دنیا میں بھی ذلت ہے اور مرتے وقت بھی شدید عذاب اور ہلاکت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ثُمَّ أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ ﴿٣٥﴾ پھر تمہارے لئے (روزِ قیامت) ہلاکت ہے، پھر ہلاکت ہے۔ اس آیت میں اسی تنبیہ کو مزید مؤکّد کیا گیا ہے کہ موت کے بعد بھی انسان کی مشکلات ختم نہیں ہوں گی، بلکہ روزِ قیامت اور اس کے بعد جہنم کی صورت میں بھی ان کے لیے مسلسل ہلاکت اور دردناک عذاب تیار ہے۔ أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَن يُتْرَكَ سُدًى ﴿٣٦﴾ کیا انسان نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ اسے یونہی (بیکار) چھوڑ دیا جائے گا؟ یہاں سرکش انسان کی بنیادی غلط فہمی کو ہدفِ تنقید بنایا گیا ہے۔ انسان سمجھتا ہے کہ وہ اس دنیا میں اپنی مرضی کا مالک ہے، اسے نہ کسی اچھے کام کا حکم دیا جائے گا اور نہ برے کام پر کوئی پکڑ ہو گی۔ اللہ تعالیٰ اس باطل خیال کو رد فرماتے ہیں کہ انسان کو بغیر کسی مقصد، محاسبہ اور جوابدہی کے نہیں چھوڑا گیا۔

سرگرمیاں

11 سرگرمیاں

قرآن مجید کو سمجھنے کے لیے کون سے ذرائع اور طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں ان کی فہرست بنائیں ۔

قرآن مجید کو سمجھنے اور اس سے براہ راست ہدایت حاصل کرنے کے لیے ٹھوس علمی ذرائع اور عملی طریقوں کو اپنایا جا سکتا ہے۔ ان طریقوں کو اختیار کر کے کوئی بھی شخص قرآنی تعلیمات سے مستفید ہو سکتا ہے:

1 مستند تراجم کا مطالعہ (Translation) — قرآن کو اپنی مادری زبان (جیسے اردو) میں سمجھنے کے لیے کسی مستند عالمِ دین کا ترجمہ پڑھنا سب سے پہلا قدم ہے۔ اس سے آپ کو مفہوم کا بنیادی خاکہ ملتا ہے۔
2 تفاسیر کا مطالعہ (Tafseer) —
3 عربی گرامر اور لغات (Grammar & Vocabulary) — عربی زبان سیکھنا قرآنی فہمی کی کنجی ہے۔ گرامر اور الفاظ کے معنی سمجھنے سے الفاظ کی اصل روح تک رسائی ہوتی ہے۔ ۔ اس کے علاوہ لغت القرآن (ڈکشنری) کا استعمال کریں۔
4 کورسز اور دروس (Quranic Courses) — آج کل باقاعدہ قرآنی کورسز دستیاب ہیں جو فہمِ قرآن کے اصول سکھاتے ہیں۔ طریقہ: آن لائن ویڈیوز، لائیو کلاسز یا قریبی مدارس میں مختصر عربی گرامر اور فہمِ قرآن کے شارٹ کورسز میں شرکت کریں
5 تدبر اور غور و فکر۔ (Reflection) — قرآنِ پاک کو ٹھہر ٹھہر کر، ترجمے اور تفسیر کے ساتھ پڑھیں اور سوچیں کہ یہ آیات ہماری روزمرہ زندگی میں کس طرح لاگو ہوتی ہیں۔
6 ڈیجیٹل ذرائع اور ایپس (Digital Tools) — ٹیکنالوجی نے قرآن فہمی کو انتہائی آسان بنا دیا ہے۔ ویب سائٹس اور ایپس: آپ قرآن پاکی ویب سائٹ کا استعمال کرکے عربی، اردو ترجمہ اور آڈیو بیک وقت سن سکتے ہیں۔
12 سرگرمیاں

نماز ادا نہ کرنے کے نقصانات لکھیں

اسلام میں نماز ادا نہ کرنے کے بہت سے دینی، دنیوی اور اخروی نقصانات ہیں۔ ترکِ نماز سے انسان اللہ کی رحمت اور برکت سے محروم ہو جاتا ہے

دنیوی نقصانات اور دینی و اخروی نقصانات

1 دنیوی نقصانات: نماز نہ پڑھنے کے چند بڑے نقصانات درج ذیل ہیں بے برکتی۔ رزق: اور مال سے برکت ختم ہو جاتی ہے۔ بے سکونی: انسان ذہنی اور قلبی سکون سے محروم رہتا ہے۔ چہرے کا نور ختم ہونا: چہرے کی رونق اور روحانی چمک ختم ہو جاتی ہے۔ بدبختی اور محرومی: انسان نیکی کی راہ سے دور اور گناہوں کی دلدل میں پھنستا چلا جاتا ہے
2 دینی و اخروی نقصانات: کفر سے مشابہت — احادیث میں نماز چھوڑنے والے
3 دینی و اخروی نقصانات: سب سے بڑا گناہ — نماز اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل ہے، اور اسے جان بوجھ کر چھوڑنا کبیرہ گناہوں میں شمار ہوتا ہے۔
4 دینی و اخروی نقصانات: قیامت کے دن پکڑ — روزِ محشر سب سے پہلے نماز کا حساب ہوگا۔ جس کی نمازیں پوری نہ ہوئیں، وہ ناکام و نامراد رہے گا۔
5 دینی و اخروی نقصانات: جہنم کا عذاب — ترکِ نماز پر قرآن و حدیث میں سخت وعیدیں اور جہنم (جیسے سقر یا ویل) کا عذاب بیان کیا گیا ہے
13 سرگرمیاں

سورۃ القیامہ کی روشنی میں قیامت کا منظر چند نکات کی صورت میں لکھیں ۔

سورۃ القیامہ میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کی ہولناکیوں، اس کے قریب ہونے اور انسان کی غفلت کا بہت تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ آیات 6 تا 12 میں قیامت کی چار نمایاں نشانیوں (نکات) کا تذکرہ فرمایا گیا ہے:

1 نگاہ کا خیرہ ہو جانا — شدتِ خوف اور حیرت سے انسان کی آنکھیں پتھرا جائیں گی اور اس کی بینائی ختم ہو جائے گی۔
2 چاند کا بے نور ہو جانا — چاند کی روشنی مکمل طور پر ماند پڑ جائے گی اور وہ بے رونق ہو جائے گا۔
3 سورج اور چاند کا ایک ساتھ مل جانا — نظامِ کائنات درہم برہم ہو جائے گا اور سورج اور چاند بے نور ہو کر ایک جگہ جمع کر دیے جائیں گے۔
4 انسان کی فرار کی تلاش — اس روز خوف کی شدت ایسی ہوگی کہ انسان پکار اٹھے گا کہ ”آج بھاگنے کی کوئی جگہ (جائے پناہ) نہیں ہے
14 سرگرمیاں

قرآنِ مجید کی حفاظت، جمع اور تدوین کے حوالے سے مکمل تفصیلات لکھیں ۔

قرآنِ مجید کی حفاظت، جمع اور تدوین کے حوالے سے بنیادی اور قطعی ضمانت سورہ القیامہ (آیت 16 سے 19) میں دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس میں واضح فرمایا ہے کہ اس کا سینوں میں محفوظ ہونا اور قاری کی زبان پر جاری ہونا خود اللہ کی ذمہ داری ہے۔

1 1. وحی کے نزول کا قرآنی طریقہ: تفصیل درج ذیل ہے سورہ القیامہ کی آیات (16 تا 18) میں اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو ہدایت فرمائی کہ آپ جلدی میں وحی کو دہرایا نہ کریں۔ آپ ﷺ نزولِ وحی کے وقت اس خوف سے اپنی زبان مبارک کو حرکت دیتے تھے کہ کہیں کوئی حصہ یادداشت سے نکل نہ جائے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے تسلی دی کہ اسے آپ کے سینے میں جمع کرنا اور پڑھوا دینا ہماری ذمہ داری ہے۔ جبریلِ امین جب وحی پڑھا کریں تو آپ ﷺ توجہ سے سنا کریں اور پھر اللہ خود آپ کی زبان سے اسی طرح اس کی تلاوت کروا دے گا۔
2 2. حفاظتِ قرآن کی ضمانت: سورہ القیامہ میں مذکور آیت اِنَّ عَلَينَا جَمعَهٗ وَقُراٰنَهٗ (بے شک اس کا جمع کرنا اور پڑھنا ہمارے ذمہ ہے) اور ثُمَّ اِنَّ عَلَينَا بَيَانَهٗ (پھر اس کا سمجھا دینا بھی ہمارے ذمہ ہے) دراصل حفاظتِ قرآن کا ابدی اعلان ہیں۔ اسی وعدے کے تحت قرآن کو دنیا کی کوئی تباہی یا پانی مٹا نہیں سکتا، کیونکہ یہ کتبِ سابقہ کی طرح صرف کاغذوں تک محدود نہیں، بلکہ کروڑوں مسلمانوں کے سینوں میں محفوظ ہے
3 3. عملی جمع و تدوین کے مراحل: سورہ القیامہ میں وحی کی حفاظت کے اس ضمانتی عمل کے بعد، عہدِ نبوی ﷺ اور خلفائے راشدین کے دور میں عملی طور پر اس کی تدوین کے درج ذیل مراحل طے پائے: عہدِ نبوی ﷺ میں کتابت: جب بھی کوئی آیت نازل ہوتی، آپ ﷺ کاتبینِ وحی کو بلا کر اسے خاص سورتوں میں لکھوا دیتے تھے۔ یہ تحریریں چمڑے کے ٹکڑوں، ہڈیوں اور کھجور کی شاخوں پر ہوتی تھیں، جبکہ اصل حفاظت کا ذریعہ صحابہ کا حافظہ تھا عہدِ صدیقی (حضرت ابوبکر صدیقؓ): جنگِ یمامہ میں بہت سے حفاظِ قرآن کی شہادت کے بعد، حضرت عمرؓ کے مشورے سے حضرت ابوبکرؓ نے تمام متفرق تحریروں کو یکجا کر کے ایک کتابی شکل (مصحف) میں جمع کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ ذمہ داری کاتبِ وحی حضرت زید بن ثابتؓ نے پوری کی۔ عہدِ عثمانی (حضرت عثمان غنیؓ): اسلام کی وسیع پیمانے پر اشاعت کے بعد مختلف لہجات میں تلاوت کے فرق کو مٹانے کے لیے، حضرت عثمانؓ نے حضرت ابوبکرؓ والے مصحف کی مستند نقول تیار کروائیں اور انہیں اسلامی ریاست کے مختلف علاقوں میں سرکاری طور پر بھجوا دیا اس طرح سورہ القیامہ میں کیے گئے خدائی وعدے کے عین مطابق، قرآنِ مجید اپنی اصلی حالت میں تحفّظ اور تدوین کے مراحل سے گزر کر آج تک امت کے پاس بعینہٖ موجود ہے۔
15 سرگرمیاں

سورہ القیامہ میں انسان کو غفلت سے نکالنے نکات لکھیں ۔

سورہ القیامہ میں انسان کو غفلت سے نکالنے اور آخرت کی تیاری کی یاد دہانی کروانے کے لیے درج ذیل اہم نکات بیان کیے گئے ہیں:

1 روزِ قیامت کی قسم اور حقیقت — اللہ تعالیٰ نے قیامت اور نفسِ لوامہ (غلطی پر ملامت کرنے والے ضمیر) کی قسم کھا کر یہ واضح کیا ہے کہ انسان کا دوبارہ زندہ کیا جانا اور اس کے اعمال کا حساب کتاب قطعی اٹل ہے۔
2 انسان کی پیدائش پر غور — انسان کی غفلت توڑنے کے لیے اسے اس کی حقیر ابتدا (نطفے سے لے کر مکمل انسان بننے) کی یاد دلائی گئی ہے تاکہ وہ اپنی اوقات اور اللہ کی قدرت کو پہچانے۔
3 اعمال نامے کی پیشی — ہر انسان کے اعمال اس کے سامنے پیش کیے جائیں گے اور اسے اس کے اپنے کرتوت (خواہ وہ اچھے ہوں یا برے، یا بعد میں چھوڑے گئے کام ہوں) بتا دیے جائیں گے۔
4 اپنے خلاف گواہی — انسان خود اپنے اعمال کا سب سے بڑا گواہ ہوگا۔ چاہے وہ کتنے ہی عذر یا بہانے تراشنے کی کوشش کرے، اس کے اعضاء اس کے خلاف سچی گواہی دیں گے۔
5 دنیا کی محبت کی نفی — انسان کی سب سے بڑی غفلت کی وجہ دنیا کی محبت اور آخرت کو بھلا دینا ہے۔ قرآن واضح کرتا ہے کہ انسان دنیا سے فوری فائدہ اٹھاتا ہے اور ہمیشہ باقی رہنے والی آخرت کو پسِ پشت ڈال دیتا ہے۔
6 موت کی سختی اور بے بسی — سکراتِ موت کے عالم کا نقشہ کھینچ کر انسان کو جھنجھوڑا گیا ہے کہ اس وقت کوئی مال، طاقت یا سفارش کام نہیں آئے گی اور انسان کو دنیا سے کوچ کرنا ہی پڑے گا۔
16 سرگرمیاں

سورۃ القیامہ کی آیات 3 اور 4 آیات کی روشنی میں انگلیوں کے نشانات کی اہمیت لکھیں۔

سورۃ القیامہ کی آیات 3 اور 4 انسانی تخلیق اور روزِ قیامت دوبارہ زندہ کیے جانے کی اٹل حقیقت کو واضح کرتی ہیں۔ ان آیات کی روشنی میں انگلیوں کے نشانات کی اہمیت اور سائنسی پہلوؤں کا خلاصہ درج ذیل ہے:

1 قرآنی آیات اور ترجمہ: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”کیا انسان یہ گمان کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو جمع نہ کر سکیں گے؟ کیوں نہیں! ہم تو اس پر بھی قادر ہیں کہ اس کی پور پور (انگلیوں کے پوروں) تک بالکل درست بنا دیں۔“ [سورہ القیامہ, آیات 3-4]
2 1. انفرادی شناخت اور پہچان: ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسانی ہڈیوں کے ساتھ ساتھ خاص طور پر انگلیوں کے پوروں کا ذکر کیا ہے۔ جدید سائنسی تحقیق نے یہ ثابت کیا ہے کہ دنیا میں ہر انسان کے انگوٹھے اور انگلیوں کے نشانات دوسرے انسان سے 100٪ مختلف اور منفرد ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ جڑواں بچوں (کے فنگر پرنٹس بھی ایک جیسے نہیں ہوتے۔ یہ نشانات پیدائش سے لے کر موت تک تبدیل نہیں ہوتے۔
3 2. قیامت کے دن ہر فرد کی الگ حیثیت: مکہ کے کافر اور منکرینِ آخرت یہ سمجھتے تھے کہ مرنے کے بعد جب جسم مٹی ہو جائے گا اور ہڈیاں گل سڑ جائیں گی، تو انسان کا دوبارہ زندہ ہونا ناممکن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انگلیوں کے نشانات کا ذکر فرما کر یہ واضح کیا کہ وہ قادرِ مطلق ہے جو نہ صرف انسان کے بڑے اعضاء بلکہ انگلیوں کی باریک لکیروں اور پوروں تک کو ہو بہو اور درست حالت میں واپس لوٹا سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ روزِ محشر ہر انسان کی ذاتی شناخت مکمل طور پر محفوظ رہے گی اور کوئی شخص کسی دوسرے کی پہچان میں نہیں ملے گا۔
4 3. خالق کی کامل قدرت اور کاریگری کا ثبوت: صدیاں قبل جب قرآن نازل ہوا، اس وقت تک انگلیوں کے نشانات کی سائنسی اہمیت اور ان کی انفرادیت دریافت نہیں ہوئی تھی۔ آج بائیومیٹرک (Biometrics) اور فرانزک سائنس میں انگلیوں کے نشانات کو انسان کی حتمی شناخت مانا جاتا ہے۔ قرآن مجید کا اتنی تفصیل سے انگلیوں کے پوروں کا ذکر کرنا اور ان کی درستگی کی قسم کھانا اس بات کا واضح سائنسی اور ایمانی ثبوت ہے کہ یہ کلام کسی انسان کا نہیں، بلکہ اس ذات کا ہے جس نے کائنات کے ذرے ذرے کو اور ہر انسان کو تخلیق کیا ہے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.