آٹھویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 25: سبق 25: سورۃ المرسلت — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں · 14 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

فَإِذَا النُّجُومُ طُمِسَتْ۔ وَإِذَا السَّمَاءُ فُرِجَتْ۔ وَإِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْ۔ وَإِذَا الرُّسُلُ أُقِّتَتْ۔

آیاتِ کریمہ میں قیامت کا کیامنظر بیان کیا گیا ہے؟

ترجمہ

پھر جب ستارے بے نور کر دیئے جائیں گے۔ اور جب آسمان پھاڑ دیا جائے گا۔ اور جب پہاڑ (ریزہ ریزہ کر کے )اُڑا دیئے جائیں گے۔ اور جب رسول مقررہ وقت پر جمع کیے جائیں گے۔

ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن رونما ہونے والے ہولناک اور خوفناک مناظر کی عکاسی کی ہے، جو اس کائنات کے مکمل نظام کے درہم برہم ہونے کو ظاہر کرتے ہیں۔

آیاتِ کریمہ میں قیامت کا منظر

1 ستاروں کا بے نور ہونا — کائنات کا سب سے پہلا منظر یہ بیان کیا گیا ہے کہ چمکتے دمکتے ستارے اپنی روشنی کھو دیں گے، بجھ جائیں گے اور مٹا دیئے جائیں گے۔
2 آسمان کا شگاف ہونا — مضبوط اور بلند آسمان اپنی جگہ پر قائم نہیں رہے گا بلکہ اس میں دراڑیں پڑ جائیں گی اور وہ پھٹ جائے گا۔
3 پہاڑوں کا اُڑایا جانا — زمین پر میخ کی طرح گڑے ہوئے اور مضبوط پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح ریزہ ریزہ ہو کر غبار بن جائیں گے اور فضا میں اڑا دیئے جائیں گے۔
4 رسولوں کی پیشی — اس افراتفری اور کائناتی تباہی کے بعد تمام انبیاء و رسل علیہم السلام کو ایک مقررہ وقت پر لوگوں کے اعمال کی شہادت کے لیے حاضر کیا جائے گا تاکہ عدل و انصاف کا فیصلہ ہو سکے۔
جواب یہ سارا منظر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جس قیامت کا مذاق اڑایا جا رہا تھا، وہ کتنی بھیانک اور یقینی حقیقت بن کر سامنے آئے گی۔
2 مختصر جوابات

انْطَلِقُوْٓا اِلٰى ظِلٍّ ذِيْ ثَلٰثِ شُعَبٍۙ﴾﴿لَّا ظَلِيْلٍ وَّلَا يُغْنِيْ مِنَ اللَّهَبِۙ﴾

آیت کریمہ میں جہنم کے سائے کی کیاکیفیت بیان ہوئی ہیں؟

ترجمہ

چلو اس سائے کی طرف جس کی تین شاخیں ہیں۔ (جونہ (ٹھنڈا)سایہ ہے اور نہ شعلوں سے بچانے والا ہے۔

ان آیات میں جہنم کے سائے کی درج ذیل ہولناک خصوصیات بیان کی گئی ہیں

جہنم کے سائے کی کیفیت

1 دھوئیں کا طوفان — یہ سایہ درختوں یا محلات کی ٹھنڈی چھاؤں جیسا نہیں ہوگا، بلکہ جہنم کی آگ اور ایندھن سے اٹھنے والے شدید سیاہ دھوئیں کا سایہ ہوگا۔
2 تین شاخیں — یہ دھواں اوپر اٹھ کر تین حصوں (یا شاخوں) میں تقسیم ہو جائے گا۔ ایک حصہ دائیں جانب، ایک بائیں جانب اور ایک کفار کے سروں پر سایہ فگن ہوگا۔
3 نہ فرحت، نہ راحت — چونکہ یہ آگ کے دھوئیں پر مبنی سایہ ہے، اس لیے نہ تو اس سے انسان کو کوئی ٹھنڈک یا سکون ملے گا اور نہ ہی یہ جہنم کی شدید تپش اور شعلوں کی لپٹ سے بچاؤ کا کوئی ذریعہ بنے گا۔
3 مختصر جوابات

انَّھا تَرْمِیْ بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ۔ كَاَنَّہٗ جِمٰلَتٌ صُفْرٌ۔

س3:

ترجمہ

بیشک وہ (دوزخ) اونچے محل کی طرح (بڑے بڑے) شعلے اور چنگاریاں اڑاتی ہے۔ گویا وہ (چنگاریاں) زرد رنگ کے اونٹ ہیں۔

مذکورہ بالا آیات کی روشنی میں مفسرین نے جہنم کی چنگاریوں (شراروں) کی جو ہولناک کیفیت بیان کی ہے، اس کی تفصیل یہ ہے

جہنم کی چنگاریوں کی کیفیت

1 جسامت میں محل کی مانند — جہنم کے شعلے اتنے بلند اور چنگاریاں اتنی بڑی اور خوفناک ہوں گی جیسے بڑے بڑے عالیشان قلعے یا محل ہوتے ہیں۔
2 تیزی اور اچھل کود میں زرد اونٹوں جیسے — جب یہ چنگاریاں اڑ کر بکھریں گی، تو آگے کی طرف لپکتے ہوئے یوں محسوس ہوں گی جیسے زرد رنگ کے اونٹوں کا ایک بڑا غول تیزی سے اچھل کود کر رہا ہو۔
3 خوفناک رنگت — بعض روایات اور تفاسیر میں ”صفر“ کا مطلب زردی مائل سیاہ اونٹ بھی بیان کیا گیا ہے، جو آگ کی تپش، دھویں اور ہولناکی کی عکاسی کرتا ہے۔
4 مختصر جوابات

انَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ ظِلٰلٍ وَّعُيُوْنٍ۔ وَفَوَٰكِهَ مِمَّا يَشْتَهُوْنَ۔ كُلُوْا وَاشْرَبُوْا هَنِيْٓابما كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔

پرہیزگاروں کا کیا انجامِ بیان کیا گیا ہے؟

ترجمہ

بیشک پرہیزگار سایوں اور چشموں میں ہوں گے۔ اور پھلوں میں جو وہ چاہیں گے۔ ( کہا جائے گا ) تم مزے سے کھاؤ اور پیو ۔ان ( اعمال ) کے بدلہ جوتم کیا کرتے تھے ۔)۔

ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے پرہیزگاروں کے لیے درج ذیل انعامات اور انجام کو بیان فرمایا ہے:

پرہیزگاروں کا انجامِ بیان

1 پر سکون اور ٹھنڈا ماحول — وہ لوگ جہنم کی گرمی اور سگریٹ نما دھوئیں سے دور، گھنے اور ٹھنڈے درختوں کے سایوں اور بہتے ہوئے پانی کے صاف شفاف چشموں کے پاس ہوں گے۔
2 مرغوب غذائیں — انہیں ہر قسم کے وہ لذیذ پھل اور میوے کھانے کو ملیں گے جن کی وہ خواہش کریں گے۔
3 مبارک باد اور راحت — انہیں خوش دلی کے ساتھ حکم دیا جائے گا کہ اپنی نیکیوں اور اچھے اعمال کے بدلے خوب مزے لے کر کھاؤ پیو۔
جواب مذکورہ بالا تمام انعامات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پرہیزگاروں کا انجام بے انتہا سکون، دائمی خوشی اور کامیابی ہے۔
5 مختصر جوابات

وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ٱرْكَعُوا لَا يَرْكَعُونَ ﴿٤٨﴾

آیت میں جہنمیوں کے کس جرم کا ذکرہے؟

ترجمہ

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ (اللہ کے آگے) جھکو، تو وہ نہیں جھکتے۔

جہنمیوں کا ذکر کردہ جرم

جواب اس آیت میں جہنمیوں (مکذبین) کے جس جرم کا ذکر ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کی نافرمانی اور تکبر ہے۔ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو دنیا میں اللہ کے حضور رکوع اور سجدہ کرنے (یعنی نماز ادا کرنے اور احکاماتِ الٰہی ماننے) سے انکار کرتے تھے۔ تفسیر کی رو سے، اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ جب انہیں اللہ کے حضور جھکنے کی دعوت دی جاتی ہے تو وہ تکبر کی وجہ سے انکار کر دیتے ہیں اور قیامت کے دن بھی یہ لوگ سجدہ کرنے سے محروم اور عاجز ہوں گے

تفصیلی جوابات

6 تفصیلی جوابات

وَالْمُرْسَلٰتِ عُرْفًا ﴿1﴾ فَالْعٰصِفٰتِ عَصْفًا ﴿2﴾ وَالنّٰشِرٰتِ نَشْرًا ﴿3﴾

آیات کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں۔

ترجمہ

قسم ہےان ہوائیں جو لگاتار چلتی ہیں)۔ پھر زور سے چلنے والی ہواؤںکی۔ اور (بادلوں کو) اٹھا کر پھیلانے والی ہواؤں کی۔

ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے مختلف قوتوں کی قسم کھا کر یہ یقین دلایا ہے کہ قیامت کا وعدہ برحق ہے۔ مفسرین کے درمیان ان آیات کے مصداق (یعنی جن چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے) کے حوالے سے دو اہم آراء ہیں:

آیات کا مفہوم و تفسیر

1 فرشتے مراد ہیں — اکثر مفسرین کے نزدیک ان سے مراد وہ فرشتے ہیں جنہیں اللہ کے احکامات کے ساتھ لگاتار بھیجا جاتا ہے، جو طوفانی ہواؤں کی طرح تیز اور پھر زمین پر رحمت کے پروں کو خوب پھیلا دیتے ہیں۔
2 ہوائیں مراد ہیں — دوسری رائے کے مطابق ان سے مراد تیز ہوائیں ہیں جو ابتدائی طور پر نرمی سے چلتی ہیں، پھر طوفانی جھکڑ بن جاتی ہیں اور بارش لانے والے بادلوں کو فضا میں چاروں طرف پھیلا دیتی ہیں۔
7 تفصیلی جوابات

سورۃ المرسلٰت کا تعارف اور مرکزی مضمون لکھیں

جواب صفحہ 175 پر ہے
8 تفصیلی جوابات

أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَاتًا۔ أَحْيَاءً وَأَمْوَاتًا۔ وَجَعَلْنَا فِيهَا رَوَاسِيَ شَامِخَاتٍ وَأَسْقَيْنَاكُم مَّاءً فُرَاتًا۔

آیات کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں ۔

ترجمہ

کیا ہم نے زمین کو نہیں بنایا سمیٹنے والی۔ زندوں اور مردوں کو۔ اور ہم نے اس میں جمےہوئےاونچے اونچے پہاڑ بنا دے اور ہم نےتمہیں میٹھا پانی پلایا۔

ان آیات میں اللہ رب العزت نے اپنی قدرتِ کاملہ اور انسانوں پر اپنے احسانات کا ذکر فرمایا ہے:

مفہوم و تفسیر

1 زمین کی ایک بڑی صفت بیان کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ”سمیٹنے والی“ (کفاتا) بنایا ہے۔ یعنی یہ زمین دنیا میں تمام انسانوں اور جانداروں کو اپنی سطح پر اور اپنی پیٹھ پر سمیٹے ہوئے (رکھے ہوئے) ہے، اور بعدِ وفات تمام مردوں کو اپنے پیٹ (اندر) میں سمیٹ لیتی ہے۔
2 زمین کو انسانوں کے رہنے کے قابل بنانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس میں مضبوط اور بلند و بالا پہاڑ گاڑ دیے تاکہ زمین اپنے محور پر قائم رہے اور ہلے نہیں۔ نیز، قدرت نے زمین کے اندر پانی کا بہترین نظام بنایا اور تمہیں پینے کے لیے نہایت میٹھا اور خوشگوار پانی عطا فرمایا۔
جواب ان آیات میں بنیادی طور پر اللہ کی ان عظیم نعمتوں اور قدرت کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے تاکہ انسان سمجھے کہ جو ذات زمین، پہاڑ اور پانی جیسے عظیم نظام چلا سکتی ہے، وہ روزِ قیامت مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر بھی پوری طرح قادر ہے۔
9 تفصیلی جوابات

سورۃ المرسلٰت کے چند بنیادی مضامین لکھیں۔

جواب صفحہ 175 پر ہے
10 تفصیلی جوابات

وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ارْكَعُوا لَا يَرْكَعُونَ

آیات کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں ۔

ترجمہ

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ (اللہ کے آگے) جھکو، تو وہ نہیں جھکتے۔

جواب اس آیت میں ان نافرمانوں اور منکرینِ حق کا ذکر ہے جو دنیا میں تکبر اور غرور کی راہ اپناتے ہیں۔ جب انہیں اللہ کی عبادت کرنے اور اس کے سامنے رکوع و سجود کرنے کا حکم دیا جاتا ہے، تو وہ تکبراورہٹ دھرمی کے باعث ایسا کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ س دن جھٹلانے والوں کے لیے بڑی تباہی (اور ہلاکت) ہے۔ یہ تنبیہ روزِ قیامت کے ان منکرین کے لیے ہے جو حق بات کو ماننے سے گریز کرتے ہیں۔ یہ جملہ اس سورہ میں بار بار تکرار کے ساتھ آیا ہے تاکہ اللہ کی قدرت اور عذاب کی وعید کو سختی کے ساتھ ذہن نشین کروایا جائے۔ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ پس اس (قرآن) کے بعد اب اور کون سی بات ہے جس پر وہ ایمان لائیں گے؟ قرآنِ مجید اللہ کی آخری اور واضح ترین کتاب ہے جو انسان کی ہدایت کے لیے تمام دلائل مکمل کرتی ہے۔ جب لوگ اتنی روشن ہدایات اور کھلے معجزات کے باوجود ہدایت قبول نہیں کرتے، تو پھر اس کے بعد کائنات میں کوئی ایسی دلیل یا کلام باقی نہیں رہتا جو انہیں راہِ راست پر لا سکے۔
11 تفصیلی جوابات

سورۃ المرسلٰت میں جمع مؤنث کی کوئی سی چار مثالیں لکھیں ۔

1 الْمُرْسَلَاتِ
2 الْعَاصِفَاتِ
3 النَّاشِرَاتِ
4 الْفَارِقَاتِ

سرگرمیاں

12 سرگرمیاں

سورہ المرسلت میں انسان کی تخلیق کے جو مراحل بیان ہوئے ہیں انھیں نکات کی صورت میں لکھیں۔

سورہ المرسلت میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی پیدائش کے مراحل کا نہایت جامع اور خوبصورت انداز میں ذکر کیا ہے۔ انسان کی تخلیق کے ان مراحل کو ذیل کے نکات میں بیان کیا گیا ہے

1 حقیر پانی (نطفہ) — اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک حقیر اور کمزور پانی کے قطرے سے پیدا کیا۔
2 محفوظ جگہ (رحم) — اس پانی کے قطرے کو ایک مضبوط اور محفوظ جگہ (ماں کے رحم) میں ٹھہرایا گیا۔
3 مقررہ مدت — یہ تخلیق ایک خاص اور مقررہ وقت (قدر) کے اندر مکمل ہوتی ہے۔
4 قدرتِ کاملہ — ان تمام مراحل میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو بالکل ٹھیک انداز اور بہترین شکل میں بنایا، اور وہ اس پر مکمل قادر ہے۔
13 سرگرمیاں

قرآن مجید ہمیں کس طرح نصیحت کرتا ہے اور کیوں اس پر غور کرنا ضروری ہے؟

قرآن مجید انسانوں کی فلاح و ہدایت کے لیے ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، جو براہِ راست اور مؤثر انداز میں نصیحت کرتا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد انسان کو دنیا کی عارضی زندگی کی حقیقت سے روشناس کروا کر آخرت کی ابدی کامیابی کے لیے تیار کرنا ہے۔ قرآن مجید میں نصیحت کا طریقہ کار اور اس پر غور کرنے کی اہمیت درج ذیل ہے:

قرآن مجید میں نصیحت کا طریقہ کار اور قرآن مجید پر غور و فکر کرنا کیوں ضروری ہے؟

1 قرآن مجید میں نصیحت کا طریقہ کار: واقعات اور تاریخی حقائق — قرآن مجید پچھلی قوموں کے واقعات، انبیاء علیہم السلام کی جدوجہد اور نافرمان قوموں کے انجام کا ذکر کر کے عبرت اور نصیحت حاصل کرنے کی دعوت دیتا ہے۔
2 قرآن مجید میں نصیحت کا طریقہ کار: تمثیلات (مثالیں) — حقائق کو سمجھانے کے لیے روزمرہ کی زندگی اور فطرت سے خوبصورت مثالیں دی جاتی ہیں تاکہ انسان باآسانی بات کی گہرائی تک پہنچ سکے۔
3 قرآن مجید میں نصیحت کا طریقہ کار: ترغیب و ترہیب — انسان کی اصلاح کے لیے جنت کی نعمتوں کا شوق (ترغیب) اور جہنم کے عذاب کا خوف (ترہیب) دونوں کا متوازن استعمال کیا گیا ہے۔
4 قرآن مجید میں نصیحت کا طریقہ کار: فطرتِ انسانی سے ہم آہنگی — قرآن کی نصیحتیں انسان کے ضمیر اور عقل کو جھنجھوڑتی ہیں، اور اسے اس کی پیدائش کے مقصد (عبادت اور خلافتِ الٰہی) کی یاد دلاتی ہیں۔
5 قرآن مجید پر غور و فکر کرنا کیوں ضروری ہے؟: اصل مقصد کا حصول — قرآن مجید نازل ہی اس لیے کیا گیا ہے کہ انسان اس کی آیات پر غور کرے اور اپنی عملی زندگی کو اس کے مطابق ڈھالے۔ جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ”یہ ایک بابرکت کتاب ہے جو ہم نے آپ کی طرف نازل کی ہے تاکہ لوگ اس کی آیات پر غور کریں اور عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں۔“ (سورۃ ص: 29)
6 قرآن مجید پر غور و فکر کرنا کیوں ضروری ہے؟: دل کا زنگ دور ہونا — غفلت اور گناہوں سے دل پر زنگ لگ جاتا ہے۔ قرآن مجید پر غور کرنے سے انسان کو اپنی کوتاہیوں کا احساس ہوتا ہے اور دل میں خوفِ خدا اور نیکی کی تڑپ پیدا ہوتی ہے۔
7 قرآن مجید پر غور و فکر کرنا کیوں ضروری ہے؟: صحیح اور غلط میں تمیز — جب انسان قرآنی احکامات پر غور کرتا ہے تو اس پر حلال و حرام، اچھے اور برے، اور حق و باطل کے درمیان واضح فرق عیاں ہو جاتا ہے۔
8 قرآن مجید پر غور و فکر کرنا کیوں ضروری ہے؟: دین و دنیا کی کامیابی — قرآن میں دنیا اور آخرت دونوں کی فلاح کے راز پوشیدہ ہیں۔ اس پر تدبر کرنے سے انسان کو ذہنی سکون، مشکلات میں صبر کا راستہ اور زندگی کے ہر موڑ پر بہترین رہنمائی ملتی ہے۔
14 سرگرمیاں

سورہ المرسلت میں قیامت کےدن کے اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کی جو نشانیاں بتائی گئی ہیں وہ تحریر کریں؟

سورہ المرسلت میں قیامت کی ہولناکیوں، اس دن کے لازمی وقوع، اور اللہ تعالیٰ کی قدرت و تخلیق کی نشانیوں کا بہت مؤثر انداز میں ذکر کیا گیا ہے۔

قیامت کے دن کا ذکر اور اس کی ہولناکیاں اور اللہ کی قدرت اور تخلیق کی نشانیاں

1 قیامت کے دن کا ذکر اور اس کی ہولناکیاں: آفتاب و ماہتاب کی بے نوری — قیامت کے دن سورج اور چاند کی روشنی ختم ہو جائے گی اور ستارے بے نور ہو جائیں گے۔
2 قیامت کے دن کا ذکر اور اس کی ہولناکیاں: پہاڑوں کا اڑنا — پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر ہوا میں اڑتے پھریں گے۔
3 قیامت کے دن کا ذکر اور اس کی ہولناکیاں: نظامِ کائنات کی درہمی — آسمان پھٹ جائے گا اور انبیاءؑ کے لیے مقررہ وقت پر گواہیوں کا سلسلہ قائم کیا جائے گا۔
4 قیامت کے دن کا ذکر اور اس کی ہولناکیاں: منکرینِ حق کی سزا — جھٹلانے والوں اور اللہ کی آیات سے منہ موڑنے والوں کے لیے اس دن شدید تباہی اور ویل (جہنم کی ایک وادی) کی وعید سنائی گئی ہے۔
5 اللہ کی قدرت اور تخلیق کی نشانیاں: انسانی تخلیق: اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک حقیر اور کمزور پانی (نطفہ) سے پیدا کیا۔ مرحلہ وار پیدائش: اس نطفے کو ایک محفوظ جگہ (ماں کے رحم) میں ایک مقررہ مدت تک رکھا، جس سے انسان کو مکمل شکل اور ساخت عطا کی۔ زمین کی کشش اور وسعت: زمین کو تمام جانداروں (زندوں اور مردوں) کے لیے سمیٹنے اور ٹھہرنے کی جگہ بنایا۔ پہاڑ اور پانی: زمین پر اونچے اونچے پہاڑ جمائے اور انسانوں کو پینے کے لیے میٹھا اور خوشگوار پانی مہیا کیا۔ ان تمام نشانیوں کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ نے بار بار یہ تنبیہ فرمائی ہے کہ ”اس دن جھٹلانے والوں کے لیے بڑی تباہی ہے“، تاکہ انسان اپنی غفلت چھوڑ کر سیدھی راہ اختیار کرے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.