آٹھویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 22: سبق 22: سورۃ المدثر — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں · 10 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُۙ قُمْ فَاَنْذِرْۙ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْۙ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْۙ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْۙ

آیات میں نبی ﷺ کو کیا احکامات دیے گئے ہیں؟

ترجمہ

”اے (خوابیدہ حالت میں) چادر اوڑھنے والے۔ اٹھو اور (لوگوں کو اللہ کے عذاب سے) ڈراؤ۔ اور اپنے رب ہی کی بڑائی بیان کرو۔ اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو۔ اور ہر قسم کی ناپاکی (شرک اور بتوں) سے دور رہو۔

ان ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے آپ ﷺ کو درج ذیل اہم احکامات دیے گئے ہیں:

آیات میں دیے گئے احکامات کی تفصیل

1 تبلیغ اور تنبیہ کا آغاز (قم فأنذر) — آپ ﷺ کو حکم دیا گیا کہ اب آرام کا وقت ختم ہوا، آپ لوگوں کو غفلت سے بیدار کریں اور انہیں نافرمانی کے برے انجام اور جہنم کی آگ سے خبردار کریں۔
2 توحید کی دعوت (وربک فکبر) — آپ ﷺ اپنے رب کی کبریائی کا اعلان کریں اور لوگوں کو بتائیں کہ صرف اور صرف اللہ ہی سب سے بڑا ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ اپنی ساری زندگی میں عملی طور پر اللہ کی بڑائی قائم کریں۔
3 طہارت اور پاکیزگی (وثیابک فطہر) — مفسرین کے مطابق اس سے مراد ظاہری لباس کی پاکیزگی کے ساتھ ساتھ باطنی پاکیزگی (اعمال کی درستی، بداخلاقی اور گناہوں سے بچنا) ہے۔
4 شرک اور برائی سے دوری (والرجز فاہجرز) — حکم دیا گیا کہ بتوں، شرک اور تمام اخلاقی و روحانی گندگیوں سے مکمل کنارہ کشی اختیار کریں۔
2 مختصر جوابات

لَا تُبْقِيْ وَلَا تَذَرُ ۔ لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِ۔ عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ ۔

آیات میں جہنم کی کیا صفات بیان ہوئی ہیں ؟

ترجمہ

وہ (ایسی آگ ہے جو) نہ باقی رکھتی ہے اور نہ چھوڑتی ہے۔ وہ کھال کو جھلسا دینے والی ہے۔ اس پر انیس (19) فرشتے مقرر ہیں۔

ان تین آیات میں دوزخ کے حوالے سے درج ذیل اہم خصوصیات اور کیفیات کا بیان ملتا ہے:

آیات کی روشنی میں جہنم کی صفات

1 ہمیشگی اور شدت عذاب (نہ باقی رکھتی نہ چھوڑتی) — جہنم ہر اس شخص کو جو اس میں ڈالا جائے گا جلائے گی اور بھون دے گی۔ یہ انسان کے گوشت، پٹھوں اور کھال کو ختم کر دے گی مگر نہ تو انسان کو موت دے کر راحت دے گی اور نہ ہی عذاب میں کوئی کمی کرے گی۔
2 چہرے اور جلد کی تبدیلی — دوزخ ایسی خوفناک آگ ہے جو انسانی جلد کو جھلسا کر سیاہ کر دے گی۔
3 فرشتوں کی تعیناتی — جہنم کے نظام کو چلانے اور کفار پر سختی کرنے کے لیے کل انیس (۱۹) سخت گیر اور طاقتور فرشتے مقرر کیے گئے ہیں۔
3 مختصر جوابات

۞ كَلَّا وَالْقَمَرِ ۔وَاللَّيْلِ إِذْ أَدْبَرَ ﴿33﴾ وَالصُّبْحِ إِذَا أَسْفَرَ ﴿34﴾

آیات کریمہ مین جہنم کی ہولناکی کے متعلق کن قسموں کا ذکرہے؟

ترجمہ

ہرگز نہیں! (جہنم کا انکار ممکن ) نہیں چاند کی قسم۔ اور رات کی قسم جب وہ پیٹھ پھیر کر جانے لگے۔ اور صبح کی قسم جب کہ وہ روشن ہو جائے۔

جہنم کی ہولناکی کے ضمن میں قسموں کا ذکر

جواب سورۃ المدثر کی ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کی صداقت اور جہنم کی ہولناکی کی تصدیق کے لیے چاند، رات اور صبح کی قسمیں کھائی ہیں تاکہ انسانوں کو غفلت سے بیدار کیا جا سکے۔ ان آیات میں براہِ راست دوزخ کے عذاب کی تفصیل کے بجائے اللہ تعالیٰ نے اپنی کائنات کے تین عظیم مظاہر (چاند، رات اور صبح) کی قسمیں کھائی ہیں۔ مفسرین کے مطابق، ان قسموں کا مقصد جہنم کی ہولناکی اور اس کی حقانیت پر زور دینا ہے۔
4 مختصر جوابات

قَالُوْا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّيْنَ ﴿43﴾ وَ لَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِيْنَ ﴿44﴾ كُنَّا نَخُوْضُ مَعَ الْخَائِضِيْنَ ﴿45﴾ وَ كُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّيْنِ ﴿46﴾

آیت کریمہ کی رو سے مجرم جہنم میں جانے کیا وجوہات بیان کریں گے؟

ترجمہ

وہ کہیں گے: ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہ تھے۔ اور ہم محتاجوں اور مسکینوں کو کھانا نہیں کھلاتے تھے۔ اور ہم (اہل باطل کے ساتھ مل کر) فضول اور بے ہودہ گفتگو (یا حق کی مخالفت) میں لگے رہتے تھے۔

قرآن مجید کی ان آیات کی رو سے جہنم میں داخل ہونے والے مجرموں میں یہ چار بڑی خامیاں پائی جائیں گی:

جہنم میں جانے کی وجوہات (آیات کی روشنی میں)

1 نماز کی ادائیگی میں غفلت — وہ دنیا میں اللہ کے حضور جھکنے (نماز پڑھنے) والوں میں شامل نہیں تھے۔ یہ حقوق اللہ کی ادائیگی میں سب سے بڑی کوتاہی تھی
2 حقوق العباد کی ادائیگی نہ کرنا — وہ غریبوں، یتیموں اور نادار لوگوں کی خبرگیری نہیں کرتے تھے اور نہ ہی انہیں بھوک کی حالت میں کھانا کھلاتے تھے۔
3 گمراہ کن صحبت اور باطل افکار — وہ حق کا ساتھ دینے کے بجائے برے لوگوں، مذاق اڑانے والوں اور اہل باطل کی صحبت میں بیٹھ کر بیہودہ باتوں میں مشغول رہتے تھے۔
4 آخرت کا انکار — وہ اس بات پر یقین نہیں رکھتے تھے کہ انہیں ایک دن اپنے اعمال کا حساب دینے کے لیے اللہ کے حضور پیش ہونا ہے۔
5 مختصر جوابات

فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيْنَ

آیات کی رو سے مجرموں کو کیا چیز نفع نہیں دے گی؟

ترجمہ

پس انھیں سفارش کرنے والوں کی کوئی سفارش نفع نہیں دے گی۔

جواب سورۃ المدثر کی رو سے جہنم میں جانے والے مجرموں اور کفار کو شفاعت کرنے والوں کی کوئی سفارش نفع نہیں دے گی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سفارش صرف ان لوگوں کے حق میں قبول ہوگی جن پر اللہ تعالیٰ راضی ہوگا۔ کفار اور مجرم اس شفاعت کے اہل ہی نہیں ہوں گے

تفصیلی جوابات

6 تفصیلی جوابات

کَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰہُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَھدِیْ مَنْ یَّشَآءُ ؕ وَ مَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّكَ اِلَّا ھوَ ؕ وَ مَا ھیَ اِلَّا ذِکْرٰی لِلْبَشَرِ ۧ

آیات کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں۔

ترجمہ

اسی طرح اللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے۔ اور تیرے رب کے لشکروں کو کوئی نہیں جانتا سوائے اس کے، اور یہ (جہنم یا نصیحت) انسانوں کے لیے بس ایک یاددہانی ہے۔

مفہوم و تفسیر

1 ہدایت و گمراہی کا اختیار — اللہ تعالیٰ اپنی حکمتِ بالغہ کے تحت انسان کے ارادے اور اس کی نیت کو دیکھتے ہوئے اسے ہدایت یا گمراہی پر لگاتا ہے۔ جو نیکی کا راستہ چنتا ہے، اللہ اس کے لیے ہدایت آسان کر دیتا ہے اور جو برائی کو ترجیح دیتا ہے، اللہ اسے اسی کی گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے۔
2 اللہ کے لشکر — اس کائنات میں موجود ہر چیز، خواہ وہ فرشتے ہوں، ہوائیں ہوں، بیماریاں ہوں، یا کوئی بھی ظاہری و باطنی مخلوق، سب اللہ کے لشکر ہیں۔ ان کی تعداد اور حقیقت کا علم صرف اور صرف اللہ ہی کو ہے۔
3 نصیحت — یہ کلامِ الٰہی یا جہنم کا تذکرہ انسانوں کے لیے محض ایک تنبیہ اور یاددہانی ہے تاکہ وہ غفلت سے بیدار ہو کر صحیح راستے کا انتخاب کریں۔
7 تفصیلی جوابات

كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ۔ إِلَّا أَصْحَٰبَ ٱلْيَمِينِ

آیات کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں۔

ترجمہ

ہر جان ان اعمال کے بدلے گروی ہے جو اس نے کما رکھے ہیں ۔مگر داہنی طرف والے

مفہوم و تفسیر

1 ہر جان گروی ہے — ان آیات میں ”رھینہ“ (گروی / رہن) کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ عربی میں رہن اس چیز کو کہتے ہیں جو کسی قرض کے بدلے میں روک لی جائے اور اس وقت تک واپس نہ ملے جب تک قرض ادا نہ کر دیا جائے۔ مفہوم یہ ہے کہ ہر انسان دنیا میں اپنے برے اعمال کا مقروض ہے۔ قیامت کے دن ہر شخص اپنے گناہوں کی وجہ سے جہنم میں قید کر دیا جائے گا، جب تک کہ وہ اپنے گناہوں کی سزا نہ بھگت لے۔
2 دائیں طرف والے — آیت 39 میں استثناء ہے کہ وہ لوگ جنہیں قیامت کے دن ان کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں ملے گا، وہ جہنم میں نہیں روکے جائیں گے اور نہ ہی گناہوں کے بدلے گروی رکھے جائیں گے۔ انہیں دنیا میں کیے گئے نیک اعمال کی جزا کے طور پر فوراً نجات مل جائے گی اور وہ اللہ کی رحمت سے جنت کے باغات میں داخل کر دیے جائیں گے۔
8 تفصیلی جوابات

وَ مَا یَذکُرُونَ اِلَّا اَن یَّشَآءَ اللّٰہُ ھوَ اَھلُ التَّقوٰی وَ اَھلُ المَغفِرَۃِ ﴿۵۶﴾

3(الف)

ترجمہ

اور وہ نصیحت حاصل نہیں کریں گے مگر یہ کہ اللہ ہی ایسا چاہے۔ وہی ڈرنے کے لائق ہے اور وہی مغفرت کا اہل ہے۔

اس آیت کا مفہوم درج ذیل نکات پر مشتمل ہے:

1 توفیقِ الٰہی — اس قرآن پاک سے کوئی شخص اُس وقت تک ہدایت اور نصیحت حاصل نہیں کر سکتا، جب تک اللہ تعالیٰ خود ایسا نہ چاہے۔ یعنی ہدایت اسی کو ملتی ہے جس کے لیے اللہ کی مشیت فیصلہ کرتی ہے۔
2 اللہ کی کبریائی — وہی ذات اس لائق ہے کہ اس کی عظمت کا خیال رکھا جائے، اس کی اطاعت کی جائے اور اس کی نافرمانی سے بچا جائے (یہی تقویٰ ہے)۔
3 مغفرت کا اختیار — وہ اللہ ہی ہے جو اپنے عذاب سے ڈرنے والے اور توبہ کرنے والے بندوں کو معاف فرماتا ہے اور مغفرت کا تنہا مالک ہے۔

سرگرمیاں

9 سرگرمیاں

سورۃ المدثر کی روشنی میں چندعملی نکات لکھیں ۔

سورۃ المدثر قرآنِ مجید کی ابتدائی نازل ہونے والی سورتوں میں سے ایک ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے توسط سے پوری امت کو دعوتِ دین، کردار کی بلندی اور اللہ کی راہ میں مشکلات کا سامنا کرنے کے لیے اہم ہدایات دی ہیں۔ اس کی روشنی میں چند کلیدی عملی نکات درج ذیل ہیں:

1 دعوتِ حق کا آغاز اور تبلیغ — آیت نمبر 2 میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا: ﴿قُمْ فَأَنْذِرْ﴾ (اٹھو اور خبردار کرو)۔ اس سے یہ عملی سبق ملتا ہے کہ دین کی تبلیغ اور معاشرے کی اصلاح کے لیے خاموش بیٹھنے کے بجائے اٹھ کھڑا ہونا اور لوگوں کو برے انجام سے ڈرانا ہر مسلمان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
2 کردار اور لباس کی پاکیزگی — آیت نمبر 4 میں فرمایا گیا: ﴿وَثِیَابَکَ فَطَہِّرْ﴾ (اپنے کپڑے پاک رکھو)۔ بظاہر لباس کی طہارت کے ساتھ ساتھ اس کا گہرا عملی مفہوم باطنی پاکیزگی، عادات کی درستگی اور گناہوں سے مکمل دوری اختیار کرنا ہے۔
3 برائی اور غلاظت سے دوری — آیت نمبر 5 میں ہدایت ہے: ﴿وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ﴾ (ناپاکی چھوڑ دو)۔ اس کی روشنی میں ہمیں ہر قسم کے باطنی اور ظاہری شرک، بت پرستی، اور اخلاقی برائیوں سے قطعی اور مستقل اجتناب کرنا چاہیے۔
4 اعمال میں اخلاص اور عاجزی — آیت نمبر 6 میں اللہ نے فرمایا: وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَکْثِرُ کوئی احسان نہ جتاؤ زیادہ حاصل کرنے کے لیے اس کا عملی نکتہ یہ ہے کہ انسان کو اللہ کی راہ میں جو بھی نیکی، مال یا محنت کرنی پڑے اس میں احسان جتلانے کا عنصر نہیں ہونا چاہیے بلکہ نیت میں خالص عاجزی ہونی چاہیے۔
5 اللہ کی رضا کے لیے صبر و استقامت — آیت نمبر 7 میں حکم ہے: ﴿وَلِرَبِّکَ فَاصْبِرْ﴾ (اور اپنے رب کی خاطر صبر کرو)۔ دعوت و تبلیغ یا زندگی کے کسی بھی مرحلے میں اللہ کی راہ میں آنے والی تمام مشکلات اور تکالیف کو صبر کے ساتھ برداشت کرنا کامیابی کی کنجی ہے۔
10 سرگرمیاں

نماز کی پابندی کی اہمیت لکھیں

نماز اسلام کا بنیادی ستون اور اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنے کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔ قرآن و سنت میں اس کی فرضیت، پابندی اور باجماعت ادائیگی پر شدید زور دیا گیا ہے، کیونکہ یہی عمل انسان کو گناہوں سے بچاتا ہے اور کامیابی کی ضمانت ہے۔

قرآن مجید کی روشنی میں اور سنتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں

1 قرآن مجید کی روشنی میں: اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں بارہا نماز قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ”بیشک نماز بے حیائی اور بری بات سے روکتی ہے“ ایک اور مقام پر فرمایا گیا: ”نمازوں کی حفاظت کرو، بالخصوص درمیانی (عصر کی) نماز کی، اور اللہ کے سامنے باادب کھڑے ہو جاؤ۔“
2 سنتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں: پیارے نبی حضرت محمد ﷺ نے نماز کو مومن کی معراج اور دین کا ستون قرار دیا ہے۔ ایمان اور کفر میں فرق: آپ ﷺ کا فرمان ہے: ”بندے اور کفر و شرک کے درمیان فرق (صرف) نماز چھوڑنا ہے۔“ (صحیح مسلم) پہلا حساب: روزِ قیامت سب سے پہلے نماز ہی کا حساب لیا جائے گا۔ اگر نماز درست ہوئی تو باقی تمام اعمال بھی کامیاب ہوں گے۔ گناہوں کی معافی: آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر کسی کے دروازے کے باہر نہر بہتی ہو اور وہ روزانہ اس میں پانچ بار نہائے، تو کیا اس کے جسم پر کوئی میل باقی رہے گی؟ صحابہ نے عرض کیا: نہیں! آپ ﷺ نے فرمایا: ”پانچوں نمازوں کی مثال بھی ایسی ہی ہے، اللہ ان کے ذریعے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔“ (صحیح بخاری) نماز صرف ایک عبادت نہیں، بلکہ یہ انسان کی روحانی، اخلاقی اور جسمانی زندگی کو نظم و ضبط بخشتی ہے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.