آیت کریمہ میں قیام اللیل کے کیافوائد بیان ہوئے ہیں ؟۔
ترجمہ
بیشک رات کا اٹھنا (نفس کو) کچلنے میں بہت سخت ہے اور بات کو زیادہ درست نکالنے والا ہے۔
سورۃ المزمل آیت نمبر 6 میں رات کے وقت عبادت کے لیے اٹھنے (قیام اللیل) کی فضیلت اور اس کے دو اہم ترین فوائد کا ذکر کیا گیا ہے: نفس پر قابو پانا اور قرآن پاک کی درست اور پختہ تلاوت کے
قیام اللیل کے بیان کردہ فوائد
1نفس پر قابو (اشد وطأً) — رات کے وقت اٹھ کر عبادت کرنا، بستر کی لذت اور آرام کو ترک کرنا نفسِ امارہ کی سرکشی کو توڑنے اور اسے گناہوں سے پاک کرنے میں سب سے زیادہ موثر ہے۔
2دل اور زبان کی یکسوئی (أقوم قیلا) — دن کے مقابلے میں رات کا ماحول پرسکون اور شور و غل سے پاک ہوتا ہے۔ اس تنہائی میں تلاوت کرنے سے دل اور زبان کا باہمی ربط مضبوط ہوتا ہے، تلاوت میں خشوع و خضوع پیدا ہوتا ہے، اور قرآن پاک کے معانی کو سمجھنا اور یاد رکھنا زیادہ آسان ہو جاتا ہے۔
اور اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کر اور تمام خلائق سے کٹ کر (پورے انہماک کے ساتھ) اسی کے ہو رہ۔
اور اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کر اور تمام خلائق سے کٹ کر (پورے انہماک کے ساتھ) اسی کے ہو رہ۔ یہ آیت دراصل انسان کی روحانی تربیت اور یکسوئی کے لیے عظیم الشان اصول سکھاتی ہے:
آیت میں دی گئی بنیادی تعلیمات
1اللہ کے ذکر کی کثرت — دن کے وقت انسان دنیا کے مختلف کاموں میں الجھ جاتا ہے، اس لیے تاکید کی گئی ہے کہ ہر حال میں اللہ کو یاد رکھیں۔
2یکسوئی (تبتل) — اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان دنیا اور غیر اللہ کی محبت و فکر سے دل کو آزاد کر کے، اخلاص کے ساتھ مکمل طور پر اللہ کی ذات کی طرف متوجہ ہو جائے۔
3اعتماد باللہ — مشکلات میں بھی اللہ کا نام لینا اور اسی پر مکمل بھروسہ رکھنا سکھایا گیا ہے۔
آیت کریمہ میں کفار کی مخالفت پر نبی ﷺ کو کیا تلقین فرمائی گئی ہے؟
ترجمہ
اور جو باتیں وہ (کفار) بناتے ہیں ان پر صبر کرو اور خوبصورتی کے ساتھ اُن سے الگ ہو جاؤ
اس آیت مبارکہ میں کفار کی جانب سے دی جانے والی اذیتوں اور مخالفت کے جواب میں آپ ﷺ کو حکمت و صبر کا درج ذیل راستہ اپنانے کی تلقین کی گئی ہے:
کفار کی مخالفت پر نبی ﷺ کو تلقین
1صبر کی تلقین — کفار آپ ﷺ کو طرح طرح کے الزامات (جیسے جادوگر، شاعر یا مجنون کہنا) دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ان کی بیہودہ باتوں اور طعنوں پر غصہ کرنے کے بجائے صبر کا دامن تھامیں۔
2ہجر جمیل (خوبصورتی سے کنارہ کشی) — اس سے مراد ایسی علیحدگی نہیں ہے جس میں بدزبانی یا لڑائی جھگڑا ہو، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ نہایت خندہ پیشی، متانت اور شرافت کے ساتھ ان کی برائیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے الگ تھلگ رہیں۔
3دعوت سے دستبرداری نہ ہو — اس جدائی کا مقصد یہ ہرگز نہیں تھا کہ کفار سے قطع تعلق کر کے تبلیغ کا سلسلہ ہی ترک کر دیا جائے، بلکہ اس کا بنیادی مفہوم یہ تھا کہ انتقامی جذبے سے دور رہتے ہوئے ان کے شر سے بچیں اور اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کر دیں۔
قیامت کے دن زمین اور پہاڑوں کی کیا کیفیت بیان کی گئی ہے؟
ترجمہ
جس دن زمین اور پہاڑ لرزنے لگیں گے اور پہاڑ (بکھرتی ہوئی) ریت کے ٹیلے ہو جائیں گے۔
قرآن مجید میں مختلف مقامات پر قیامت کے دن کائنات کی تباہی اور زمین و پہاڑوں کی کیفیت کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے، جس کی تفصیل درج ذیل ہے:
قیامت کے دن زمین اور پہاڑوں کی کیفیت
1زمین کی کیفیت — پوری زمین ایک زبردست زلزلے سے کانپ اٹھے گی۔ زمین کے اندر چھپا ہوا تمام خزانہ اور مردے باہر نکال دیے جائیں گے۔ پہاڑ، درخت اور عمارتیں سب ختم ہو جائیں گی اور زمین ایک بالکل ہموار اور سپاٹ میدان بن جائے گی جس میں کوئی اونچ نیچ یا نشیب و فراز نہیں رہے گا۔
2پہاڑوں کی کیفیت — سب سے پہلے پہاڑ اپنی جگہ سے چلائے جائیں گے اور انہیں ہلا دیا جائے گا۔ کششِ ثقل ختم ہونے کے بعد وہ ریزہ ریزہ ہو کر باریک اور بھربھری ریت کے ٹیلوں کی طرح بن جائیں گے جنہیں قدموں تلے روند کر اڑایا جا سکے۔ اس کے بعد وہ دھنی ہوئی رنگ برنگی اون کی طرح فضا میں اڑتے ہوئے نظر آئیں گے، اور بالآخر فضا میں غبار بن کر بکھر جائیں گے۔
5مختصر جوابات
ان هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌۚ فَمَنْ شَاءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِيْلًا
آیت میں کیا تعلیم دی گئی ہے؟
ترجمہ
بے شک یہ (قرآن) سراسر نصیحت ہے، پس جو شخص چاہے اپنے رب (کی طرف پہنچنے) کا راستہ اختیار کر لے۔
آیت میں دی گئی تعلیمات
1قرآن سراسر نصیحت ہے — یہ کلامِ الٰہی انسانوں کو غفلت سے جگانے اور سیدھا راستہ دکھانے کے لیے ایک واضح اور مکمل ہدایت ہے۔
2انسان کو اختیار دیا گیا ہے — اللہ تعالیٰ نے انسان کو سمجھ بوجھ دی ہے اور ہدایت و گمراہی کا راستہ کھول دیا ہے۔
3اب یہ انسان کی اپنی مرضی اور نیت پر منحصر ہے کہ وہ اچھے راستے کو منتخب کرے یا برے کو۔
4اللہ کی طرف راستہ — دنیا میں انسان کے پاس سب سے بہترین راستہ وہ ہے جو اسے اس کے خالق و مالک (اللہ) کی رضا اور قربت تک پہنچا دے۔
پس جتنا قرآن اس میں سے ممکن ہو، پڑھ لیا کرو، اور نماز قائم کرو، اور زکوٰۃ ادا کرو، اور اللہ کو قرض حسنہ (اچھا قرض) دو۔ اور جو نیکی بھی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے، اسے اللہ کے پاس اپنے لیے زیادہ بہتر اور اجر میں کہیں بڑھ کر پاؤ گے۔
مفہوم
1آسانی کا حکم — ابتدائے اسلام میں رات کا ایک بڑا حصہ (نصف یا دوتہائی) عبادت اور تلاوت میں گزارنا فرض تھا۔ اس آیت میں اس تخفیف کا ذکر ہے کہ امت کی مجبوریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فرضیت ختم کر دی گئی اور حکم دیا گیا کہ جتنا قرآن پڑھنا بآسانی ممکن ہو، پڑھ لیا کرو۔
2مختلف عذر (مجبوریاں) — اللہ تعالیٰ نے تین قسم کے لوگوں کا خاص ذکر فرمایا ہے جنہیں رات کے قیام میں تنگی ہو سکتی ہے بیمار جو رات کو جاگنے کی طاقت نہیں رکھتے
3مسافر جو معاش کی تلاش میں سفر کرتے ہیں
4مجاہدین جو اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں
5عبادت اور مالی حقوق — اس آیت کے ذریعے اللہ نے قرآن کی تلاوت میں تخفیف کے ساتھ ساتھ فرائض کی پابندی پر زور دیا ہے نماز قائم رکھنے، زکوٰۃ دینے، اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے (قرض حسنہ) کی تلقین کی گئی ہے۔
6آخرت کا اجر — نیکیوں کو ”قرض حسنہ“ سے تشبیہ دی گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ صدقہ و خیرات اللہ کے پاس محفوظ ہو جاتا ہے۔ دنیا میں دی جانے والی ہر نیکی، آخرت میں کئی گنا بہتر اور اجر عظیم کی صورت میں ملے گی۔
7استغفار — چونکہ انسان سے عبادات اور معاملات میں کوتاہیاں ہو جاتی ہیں، اس لیے آخر میں کثرت سے استغفار (بخشش مانگنے) کا حکم دیا گیا ہے، تاکہ انسان اللہ کی رحمت اور مغفرت کا مستحق بن سکے
بے شک ہم نے تمہاری طرف ایک رسول (ﷺ) بھیجا ہے جو تم پر گواہی دینے والا ہے، بالکل اسی طرح جیسے ہم نے فرعون کی طرف ایک رسول (حضرت موسیٰ علیہ السلام) بھیجا تھا
یہ سورت مکہ مکرمہ کے بالکل ابتدائی دور میں نازل ہوئی جب نبی کریم ﷺ نے اسلام کی دعوت کا آغاز ہی کیا تھا۔
1کفارِ مکہ کا رویہ — قریش مکہ نے آپ ﷺ کی دعوت کو جھٹلایا، آپ کا مذاق اڑایا اور آپ کو طرح طرح کی تکلیفیں دیں۔
2اہلِ مکہ کو تنبیہ — مکہ کے لوگ تجارت کے سلسلے میں مصر اور شام کا سفر کرتے رہتے تھے، اس لیے وہ فرعون کی طاقت اور اس کی ہلاکت کے قصے سے اچھی طرح واقف تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعے مکہ کے سرداروں کو خبردار کیا کہ تم فرعون سے زیادہ طاقتور نہیں ہو، اگر اس نے رسول کی نافرمانی کر کے عبرت ناک انجام پایا تو تمہارا بچنا بھی ممکن نہیں۔
جواباس آیت میں اللہ تعالیٰ کفارِ مکہ کو متنبہ فرما رہا ہے کہ اے اہل مکہ! جس طرح تم نے اپنے درمیان بھیجے گئے آخری رسول حضرت محمد ﷺ کی مخالفت کی، تو یاد رکھو کہ کل بروزِ قیامت یہی رسول تمہارے اعمال کے حق یا خلاف گواہ ہوں گے۔ اللہ نے اس بات کی مثال دیتے ہوئے قوم کو ڈرایا ہے کہ تکبر اور سرکشی کا وہی انجام ہوتا ہے جو فرعون نے موسیٰ علیہ السلام کی نافرمانی کر کے بھگتا تھا۔
پھر اگر تم نے کفر کیا تو تم اس دن کے عذاب سے کیسے بچ سکو گے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا۔ جس کی ہیبت سے آسمان پھٹ جائے گا، اللہ کا یہ وعدہ پورا ہو کر رہے گا۔
ان آیات میں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کی ہولناکی اور خوفناک مناظر کو بیان فرما رہا ہے۔ اس کا مفہوم کچھ یوں ہے۔
1شدتِ عذاب — قیامت کا دن اتنا سخت اور خوفناک ہوگا کہ اس کی دہشت اور پریشانی کے عالم میں چھوٹے بچوں کے بال بھی سفید ہو جائیں گے (بچے بوڑھے ہو جائیں گے)۔ یہ دن کی ہولناکی کی انتہا کو ظاہر کرنے کے لیے ایک تمثیل ہے۔
2آسمان کا پھٹنا — اتنے بڑے اور مضبوط آسمان بھی اس دن کے عذاب اور اللہ کے جلال کے سامنے ٹک نہ پائیں گے اور پھٹ جائیں گے۔
3اللہ کا اٹل فیصلہ — اللہ تعالیٰ نے روزِ جزا اور عذاب کا جو وعدہ فرمایا ہے، وہ برحق ہے اور ہر صورت پورا ہو کر رہنا ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔
جوابان آیات میں بنیادی طور پر منکرین کو ڈرایا گیا ہے کہ وہ دنیا میں تکبر اور کفر کا راستہ چھوڑ کر اللہ کی طرف رجوع کریں کیونکہ روزِ قیامت کے عذاب سے کسی کو چھٹکارا نہیں ملے گا۔
سرگرمیاں
10سرگرمیاں
رزق حلال کی اہمیت لکھیں ۔
رزق حلا ل کمانا اور کھانا ایک بنیادی اور انتہائی اہم فریضہ ہے۔ حلال رزق انسان کی روحانی اور جسمانی زندگی پر گہرے مثبت اثرات مرتب کرتا ہے، جبکہ رزقِ حرام سے نہ صرف عبادات قبول نہیں ہوتیں بلکہ انسان اخلاقی اور دنیاوی تباہی کی طرف چلا جاتا ہے۔ رزقِ حلال کی اہمیت درج ذیل نکات سے واضح ہوتی ہے:
1عبادت کی قبولیت کی بنیاد — نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ حرام رزق کھانے والے کی کوئی دعا یا عبادت قبول نہیں ہوتی۔ پاکیزہ رزق ہی اعمال کی قبولیت کی پہلی شرط ہے۔
2روحانی سکون اور پاکیزگی — حلال روزی انسان کے دل کو منور کرتی ہے، نیکی کی توفیق بخشتی ہے اور برائی سے دور رکھتی ہے۔
3اولاد اور نسل پر اثر — حلال مال سے پرورش پانے والی اولاد فرمانبردار، نیک اور معاشرے کے لیے مفید ثابت ہوتی ہے۔
4جہنم سے نجات — جس جسم کی پرورش حرام مال سے ہوئی ہو، اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ رزقِ حلال انسان کو آخرت کے عذاب سے بچاتا ہے
5دعاؤں کی قبولیت — جو شخص حلال کماتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی دعاؤں کو شرفِ قبولیت بخشتا ہے۔
6رزقِ حلال کی برکت سے انسان کی تھوڑی سی روزی میں بھی بے پناہ سکون اور فراوانی ہوتی ہے، جو کہ اصل کامیابی ہے۔
11سرگرمیاں
قرآن مجید کو درست انداز میں تلاوت کرنے کے لیے کن ذرائع کو اختیار کیا جا سکتا ہے؟
قرآن مجید کو درست انداز (تجوید و ترتیل) سے پڑھنے کے لیے کسی مستند اور باصلاحیت قاری (استاد) کی رہنمائی اختیار کرنا سب سے بہترین اور بنیادی ذریعہ ہے اس کے ساتھ آپ درج ذیل ذرائع اور طریقوں کو بھی اپنا سکتے ہیں:
1مستند قراء کی آڈیو سنیں — مشہور قراء کی تلاوت باقاعدگی سے سنیں اور ان کے تلفظ کی نقل کر کے اپنی ادائیگی کو درست کریں
2مخارج کی ادائیگی سیکھیں — ہر حرف کی ادائیگی کی صحیح جگہ (مخرج) جاننا ضروری ہے، جیسے حروفِ حلقی، حروفِ شفویہ وغیرہ
3تجوید کے قواعد سیکھیں — قواعدِ تجوید، مدات، غُنّہ، اور وقف و ابتدا (کہ کہاں رکنا ہے اور کہاں سے ملانا ہے) کا علم حاصل کریں۔
4آن لائن یا براہِ راست کلاسز — اپنے قریبی کسی بھی دینی مدرسے یا آن لائن قرآن اکیڈمی کے ذریعے کسی عالمِ دین یا قاری صاحب کی نگرانی میں قواعد کی مشق کریں
5موبائل ایپس — آپ اپنے تلفظ کو بہتر بنانے کے لیے ویب سائٹس اور ویڈیوز سے بھی مدد لے سکتے ہیں
12سرگرمیاں
سورۃ المزمل کی روشنی میں قیام الیل کے فضائل و برکات و ثمرات لکھیں۔
قیام اللیل (تہجد) اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے اور سورہ مزمل میں اس کے بے شمار فضائل و برکات بیان کیے گئے ہیں۔
قیام اللیل کے اہم فضائل و برکات درج ذیل ہیں
1روحانی مضبوطی اور تربیت — رات کی تنہائی میں عبادت انسان کے دل کو مضبوط کرتی ہے اور قرآن پاک کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے سے انسان میں حقائق کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے (سورۃ المزمل آیت ۴) ۔
2بہترین یکسوئی — رات کا وقت دنیا کے شور و ہنگامے سے پاک ہوتا ہے، جس میں انسان کا دل اور زبان دنیاوی الجھنوں سے نکل کر اللہ کی یاد میں پوری طرح یکسو ہو جاتے ہیں (سورۃ المزمل آیت ۶)
3خالق سے تعلق کی پختگی — رات کی عبادت انسان کے اندر روحانی برداشت اور صبر پیدا کرتی ہے، اور یہ اللہ کی جانب مکمل توجہ اور لگن کا اظہار ہے (سورۃ المزمل آیت ۸)
4دنیاوی مشکلات سے نجات — یہ عبادت انسان کو مشکل ترین حالات اور تکالیف میں ثابت قدم رکھتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے کی بہترین کفالت اور مدد کا ذریعہ بنتی ہے
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔