آٹھویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 20: سبق 20: سورۃ الجن

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں · 13 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوا إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا ﴿١﴾ َهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ وَلَن نُّشْرِكَ بِرَبِّنَا أَحَدًا ﴿٢﴾

آیت کی رو سے جنات نے کن باتوں کا اقرار کیا؟

ترجمہ

آپ فرما دیجئے کہ میری طرف یہ وحی بھیجی گئی ہے کہ جنات کی ایک جماعت نے (قرآن) سنا تو (اپنی قوم سے) کہنے لگے کہ ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے۔ جو بھلائی کی راہ دکھاتا ہے، سو ہم اس پر ایمان لے آئے اور ہم اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔

ان آیات کی رو سے جنات نے درج ذیل اہم باتوں کا اقرار کیا:

آیت کی رو سے جنات کے اقرار

1 قرآن کی عظمت — انہوں نے قرآن پاک کو ایک عجیب (حیرت انگیز اور بے مثال) کلام تسلیم کیا۔
2 سیدھی راہ کی ہدایت — انہوں نے اقرار کیا کہ یہ قرآن انسانوں اور جنات کی بھلائی اور سیدھے راستے (رشُد) کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔
3 ایمان کا اعلان — جنات نے کھلے عام اس قرآن پر اپنے ایمان لانے کا اقرار کیا
4 توحید کا پختہ عہد — انہوں نے اس بات کا پختہ عہد اور اقرار کیا کہ وہ اپنے پروردگار (اللہ) کے ساتھ کبھی کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔
2 مختصر جوابات

وَأَنَّهُ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْإِنسِ يَعُوذُونَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوهُمْ رَهَقاً ۔

آیت کریمہ کی رو سے جنات کی سرکشی کس چیز نے بڑھائی؟

ترجمہ

اور یہ کہ آدمیوں میں سے کچھ مرد، جنوں کے کچھ مردوں کی پناہ لیا کرتے تھے، تو انہوں نے ان (جنات) کی سرکشی میں مزید اضافہ کر دیا۔

آیت کی رو سے، جنات کے سرکش ہونے اور ان کے غرور میں اضافے کی وجہ خود انسانوں کا طرزِ عمل تھا۔ اس کی وضاحت تفاسیر میں یوں بیان کی گئی ہے

جنات کی سرکشی میں اضافہ کس چیز نے کیا؟

1 زمانہ جاہلیت کا رواج — عرب کے مشرکوں کی عادت تھی کہ جب وہ سفر کرتے ہوئے کسی سنسان، خوفناک وادی یا جنگل میں پڑاؤ ڈالتے تو یہ ڈر کر پکارتے کہ ”ہم اس وادی کے سردار (جن) کی پناہ مانگتے ہیں تاکہ ہمیں کوئی نقصان نہ پہنچے۔
2 جنات کا ردِ عمل — جب جنات نے دیکھا کہ افضل المخلوقات ہونے کے باوجود انسان ان سے ڈرتے ہیں اور مشکل گھڑی میں انہیں اپنا محافظ و پناہ دہندہ مانتے ہیں، تو جنات کے تکبر اور سرکشی میں اور زیادہ اضافہ ہو گیا۔ اس خوف کو محسوس کرتے ہوئے انہوں نے انسانوں کو مزید ڈرانا اور ستانا شروع کر دیا تاکہ وہ ہمیشہ ان کے خوف میں مبتلا رہیں۔
3 مختصر جوابات

وَاَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآءَ فَوَجَدْنٰهَا مُلِئَتْ حَرَصًا شَدِيْدًا وَّشُهُبًاۙ

آیت کی رو سے جنات نے آسمان کو کیسا پایا؟

ترجمہ

اور یہ کہ ہم نے آسمان کو چھوا تو اسے پایا کہ سخت پہرے اور آگ کی چنگاریوں (شعلوں) سے بھر دیا گیا ہے۔

اس آیتِ مبارکہ کے مطابق، جنات نے آسمان کو ٹٹولنے پر مندرجہ ذیل صورتحال میں پایا :

آیت کی رو سے آسمان کی حالت

1 سخت پہرے داری — آسمان کو طاقتور اور مضبوط فرشتوں کے پہرے میں پایا۔
2 آتشی شعلے — اسے جلنے والے اور چمکدار ستاروں/آگ کے انگاروں سے بھرا ہوا پایا تاکہ غیب کی باتیں چوری کرنے والے شیاطین یا جنات کو روکا جا سکے۔
3 یہ تبدیلی اس وقت رونما ہوئی تھی جب زمین پر آخری نبی، حضرت محمد ﷺ پر وحی کا نزول شروع ہوا اور آسمانی خبروں کو جنات اور شیاطین کی پہنچ سے مکمل طور پر محفوظ بنا دیا گیا۔
4 مختصر جوابات

قُلْ اِنَّما اَدْعُوْا رَبِّيْ وَلَا اُشْرِكُ بِهٖ اَحَدًا۔

آیت کی رو سے نبی کریم ﷺ کو کن دو باتوں کے اعلان کا حکم دیا گیا ہے؟

ترجمہ

(اے نبی!) آپ فرما دیجئے کہ میں تو صرف اپنے رب ہی کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا۔

اس آیت کی رو سے نبی کریم ﷺ کو درج ذیل دو باتوں کے اعلان کا حکم دیا گیا ہے:

1 صرف اللہ کی عبادت (پکار) کا اعلان — آپ لوگوں پر یہ واضح کر دیں کہ میں اپنی ہر حاجت میں صرف اور صرف اپنے رب کی عبادت اور اسی کو پکارتا ہوں
2 شرک کی نفی کا اعلان — آپ یہ اعلان کریں کہ میں اس (اللہ) کی ذات اور صفات میں کسی کو بھی شریک نہیں بناتا۔
5 مختصر جوابات

الّا بَلٰغًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِسٰلٰتِهٖ ۚ وَمَنْ يَّعْصِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ فَإِنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا ۔

آیت کی رو سے کون لوگ ہمیشہ جہنم میں رہنے والےہیں ؟

ترجمہ

سوائے اس کے کہ (میرا کام) اللہ کی طرف سے پہنچا دینا اور اس کے پیغامات (لوگوں تک پہنچانا) ہے اور جو کوئی بھی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا، تو بے شک اس کے لیے جہنم کی آگ ہے، جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے

آیت کی رو سے ہمیشہ جہنم میں رہنے والے لوگ

جواب اس آیت کی رو سے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرنے والے وہ لوگ ہیں جو ہمیشہ جہنم کی آگ میں رہیں گے۔ اس زمرے میں وہ نافرمان، منکر اور کفار آتے ہیں جو اللہ کے احکامات اور اس کے بھیجے گئے احکامات کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں۔

تفصیلی جوابات

6 تفصیلی جوابات

وَاَنَّا لَا نَدْرِیْٓ اَشَرٌّ اُرِیْدَ بِمَنْ فِی الْاَرْضِ اَمْ اَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًا

آیات کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں۔

ترجمہ

اور یہ کہ ہم نہیں جانتے کہ کیا زمین والوں سے کسی برائی کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے رب نے ان کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرمایا ہے۔

جواب جنات اپنے سابقہ حالات کا ذکر کر رہے ہیں کہ جب آسمانوں کے دروازے ان پر بند کر دیئے گئے اور انہیں آسمانی خبریں (غیب کی باتیں) سننا نصیب نہ ہوئیں، تو انہیں یہ معلوم نہ ہوسکا کہ آیا یہ زمین والوں پر کسی آسمانی عذاب کا ارادہ ہے یا اللہ تعالی نے ان کی ہدایت اور بھلائی کا فیصلہ فرمایا ہے۔ وَاَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوْنَ وَمِنَّا دُوْنَ ذٰلِكَ کُنَّا طَرَآئِقَ قِدَدًا۔ اور یہ کہ ہم میں سے کچھ نیک ہیں اور کچھ اس کے علاوہ ہیں، ہم مختلف طریقوں پر بٹے ہوئے تھے۔ اس آیت میں جنات کے عقائد اور رویوں کا اعتراف ہے کہ انسانوں کی طرح جنات بھی سب ایک جیسے نہیں ہیں۔ ان میں بھی نیک، صالح، اور مختلف گمراہ گروہ شامل ہیں۔
7 تفصیلی جوابات

سورۃ الجن کا تعارف اور مرکزی مضمون لکھیں۔

جواب صفحہ 148 پر ہے۔
8 تفصیلی جوابات

وَاَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًا۔ وَاَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ یَدْعُوْهُ كَادُوْا یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِ لِبَدًا

آیات کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں۔

ترجمہ

اور یہ کہ مسجدیں اللہ ہی کے لیے ہیں، تو اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔ اور یہ کہ جب اللہ کا بندہ (محمد ﷺ) اسے پکارنے کے لیے کھڑا ہوا، تو قریب تھا کہ وہ (جنّات) اس پر ہجوم کر کے (یا خوشی سے لپٹ کر) ایک دوسرے کے اوپر گر پڑیں۔

1 مفہوم: عبادت گاہیں — اس سے مراد زمین پر بنائی گئی تمام مسجدیں ہیں (خصوصاً مسجد حرام)۔ یہ جگہیں صرف اللہ کی یاد کے لیے مخصوص ہیں۔
2 مفہوم: انسانی اعضاء — بعض مفسرین کے مطابق ”مساجد“ سے مراد انسان کے وہ سات اعضاء بھی ہیں جن پر سجدہ کیا جاتا ہے (پیشانی، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے، اور دونوں پاؤں)۔ یعنی یہ اعضاء اللہ کے بنائے ہوئے ہیں، اس لیے ان سے سجدہ بھی صرف اللہ ہی کو کیا جائے۔
3 شرک کی نفی اور خالص توحید: اس دور میں مشرکینِ مکہ بیت اللہ میں بتوں کی پوجا کرتے تھے اور یہودی و نصاریٰ اپنی عبادت گاہوں میں انبیاء اور صالحین کو پکارتے تھے۔ اس آیت نے واضح کر دیا کہ مسجدوں میں اللہ کے سوا کسی نبی، ولی، فرشتے یا بت کو پکارنا یا اس سے دعا مانگنا سخت ممنوع ہے۔ عبادت اور دعا صرف اللہ کا حق ہے
4 ”عبد اللہ“ (اللہ کا بندہ): یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمدﷺ کو اپنے سب سے پسندیدہ لقب ”عبد“ (بندے) سے نوازا ہے۔ یہ آپﷺ کے لیے ایک عظیم اعزاز ہے کہ کائنات کی سب سے معزز ہستی کو اللہ نے اپنا بندہ کہا۔
5 جنات کا ہجوم (لِبَداً): لفظ ”لِبَد“ کے معنی ایسی چیز کے ہیں جو ایک دوسرے پر تہہ بہ تہہ جمی ہوئی ہو۔ جب نبی کریمﷺ وادیِ نخلہ یا نماز میں بلند آواز سے قرآن کی تلاوت فرما رہے تھے، تو جنات کا وہ گروہ جو وہاں سے گزر رہا تھا، قرآن کی فصاحت و بلاغت اور اس کے جادوئی اثر سے اس قدر متاثر ہوا کہ وہ آپﷺ کے بالکل قریب آ گئے۔ وہ ایک دوسرے پر سوار ہونے لگے تاکہ قرآن کا ایک ایک لفظ غور سے سن سکیں اور تلاوت کی برکت حاصل کر سکیں۔
6 مشرکین کا رویہ (دوسرا رخ): کچھ مفسرین کے مطابق اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ جب آپﷺ نے توحید کی دعوت شروع کی، تو مکہ کے مشرکین آپﷺ کی مخالفت میں اس طرح آپ پر ٹوٹ پڑے جیسے بھیڑ اکٹھی ہو جاتی ہے، تاکہ آپﷺ کے مشن کو دبا سکیں، مگر اللہ نے آپﷺ کی حفاظت فرمائی۔
9 تفصیلی جوابات

سورۃ الجن کے چند بنیادی مضامین لکھیں۔

جواب صفحہ 148 پر ہے۔
10 تفصیلی جوابات

عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖٓ اَحَدًا۔ اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَسُوْلٍ فَاِنَّهٗ یَسْلُكُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًا

آیات کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں۔

ترجمہ

(اللہ ہی) غیب کا جاننے والا ہے، پس وہ اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں فرماتا۔ سوائے اپنے پسندیدہ رسول کے، تو بیشک وہ اس کے آگے اور پیچھے پہرے دار مقرر کر دیتا ہے۔

جواب اللہ تبارک و تعالیٰ ہی کائنات کا واحد غیب دان ہے اور وہ بلا شرکتِ غیرے تمام چھپی ہوئی باتوں کو جانتا ہے۔ وہ اپنی مرضی کے بغیر کسی پر بھی غیب کے راز ظاہر نہیں کرتا۔ اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ غیب کی خبریں جاننے کے لیے اللہ تعالیٰ اپنے چنے ہوئے رسولوں کو چنتا ہے۔ جب وہ کسی رسول کو غیب کی خبر (وحی) دیتا ہے، تو اس وحی کی حفاظت کے لیے اللہ رب العزت رسول کے آگے اور پیچھے فرشتے مقرر فرما دیتا ہے تاکہ وحی میں کوئی شیطانی دخل اندازی نہ ہو سکے۔

سرگرمیاں

11 سرگرمیاں

قرآن مجید کی تلاوت کا جنات پر کیا اثر ہوا ؟ اس واقعے سے ہمارے لیے کیا سبق ہے؟

قرآن مجید کی تلاوت کا جنات پر گہرا اثر ہوتا ہے۔ سورۃ الجن اور احادیث کے مطابق، قرآن کی آواز سن کر جنات نہ صرف خوفزدہ ہوتے ہیں اور تلاوت کی طرف متوجہ ہو کر خاموشی سے سنتے ہیں، بلکہ اس کی تاثیر سے ان میں ایمان کی ہدایت بھی پیدا ہوتی ہے۔

قرآن کی تلاوت سننے کے بعد جنات کی کیفیت اور ان کے اس تاریخی واقعے سے ہمیں یہ اہم اسباق ملتے ہیں

1 حق کی فوری قبولیت — جنات نے پہلی ہی بار میں قرآن کی عظمت کو پہچان لیا اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اسے ہدایت قرار دے کر اللہ پر ایمان لے آئے
2 قرآن کی تاثیر — کلامِ الٰہی میں ایسی مقناطیسی کشش ہے جو انسان تو درک کرتے ہی ہیں، بلکہ پوشیدہ مخلوق (جنات) بھی اس کی تاثیر سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی۔
3 دعوتِ دین کی ذمہ داری — جنات قرآن سن کر خاموش نہیں رہے، بلکہ اپنی قوم کی طرف واپس گئے اور انہیں بھی راہِ راست کی دعوت دی۔
4 حق کا احترام — جنات کی اس کیفیت سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ کا کلام سُن کر ہر ذی شعور مخلوق پر ایک خاص سکتہ اور اثر طاری ہوتا ہے اور وہ حق ماننے پر مجبور ہو جاتی ہے۔
12 سرگرمیاں

انسان ، جنات اور فرشتوں کے حوالے سے ان مخلوقات کے مشترک اور متفرق نکات لکھیں

اسلامی تعلیمات کے مطابق انسان، جنات اور فرشتے اللہ تعالیٰ کی تین اہم ترین مخلوقات ہیں۔ ان میں کچھ خصوصیات مشترک ہیں جبکہ بہت سے پہلوؤں سے یہ ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔

1 مشترک نکات: تخلیق کا مقصد — تینوں مخلوقات کو اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اطاعت کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔
2 مشترک نکات: شعور اور اختیار — تینوں میں عقل، شعور اور سمجھ بوجھ موجود ہے۔
3 مشترک نکات: ایمان و عمل کی جزا — تینوں مخلوقات میں نیک اور بد، یا فرمانبردار اور نافرمان کا تصور موجود ہے۔
4 متفرق نکات ۔ 1. فرشتے: تخلیق — نور (روشنی) سے پیدا کیے گئے ہیں۔
5 متفرق نکات ۔ 1. فرشتے: فطرت — مکمل طور پر معصوم اور بے گناہ ہیں۔ ان میں گناہ یا نافرمانی کا مادہ نہیں ہے؛ یہ ہر وقت اللہ کے احکامات کی تعمیل کرتے ہیں۔
6 متفرق نکات ۔ 1. فرشتے: جسمانی خصوصیات — یہ مادی جسم (کھانے پینے، سونے یا تولیدی عمل) سے پاک ہیں۔ ان کے لیے جنس (مرد یا عورت) کا تصور نہیں ہے۔
7 متفرق نکات ۔ 1. فرشتے: خوراک — انہیں کھانے پینے کی ضرورت نہیں، ان کی خوراک اللہ کی تسبیح و عبادت ہے۔
8 2. جنات: تخلیق — آگ کے شعلوں سے پیدا کیے گئے ہیں۔
9 2. جنات: فطرت — ان میں انسانوں کی طرح عقل اور ارادے کی مکمل آزادی ہے۔ یہ مومن (نیک) اور کافر (بد) دونوں ہو سکتے ہیں۔
10 2. جنات: جسمانی خصوصیات — یہ نوری نہیں بلکہ ناری (آگ سے بنی) مخلوق ہیں جو عام آنکھ سے نظر نہیں آتے۔ یہ شکلیں بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
11 2. جنات: خوراک — یہ انسانوں کی طرح کھاتے پیتے ہیں (ہڈی اور گوبر وغیرہ ان کی خوراک کا حصہ بنتے ہیں)۔
12 3. انسان: تخلیق — مٹی (اور پانی) سے پیدا کیے گئے ہیں۔
13 3. انسان: فطرت — یہ بھی ارادے اور اختیار میں آزاد ہیں، اور نیکی یا بدی کا راستہ چننے میں خود مختار ہیں۔
14 3. انسان: جسمانی خصوصیات — گوشت اور پوست کا مادی جسم رکھتے ہیں۔ ان میں نسل بڑھانے کا نظام (تولید) موجود ہے۔
15 3. انسان: خوراک — دنیاوی خوراک (پھل، سبزیاں، اناج وغیرہ) پر انحصار کرتے ہیں۔
13 سرگرمیاں

سورۃ الجن (سورۃ نمبر ۷۲) میں اللہ رب العزت کی درج ذیل بنیادی صفاتِ کاملہ

سورۃ الجن (سورۃ نمبر ۷۲) میں اللہ رب العزت کی درج ذیل بنیادی صفاتِ کاملہ کا ذکر کیا گیا ہے:

1 عالم الغیب (پوشیدہ اور غیب کا جاننے والا) — اللہ تعالیٰ غیب کا قطعی اور مکمل علم رکھتا ہے، اور اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا (سوائے اس کے کہ جس رسول کو وہ خود منتخب فرمائے)۔
2 قادرِ مطلق (ہر چیز پر قدرت رکھنے والا) — اللہ تعالیٰ اس بات پر مکمل قادر ہے کہ وہ اس بات کا فیصلہ فرمائے کہ انسانوں یا جنوں کے وعدوں کا وقت قریب ہے یا اس نے اس کے لیے کوئی طویل مدت مقرر کر رکھی ہے۔
3 مالک و مختارِ کل — ساری کائنات اور اس کا نظام اسی کے ہاتھ میں ہے۔ کوئی بھی اس کی حکمت اور ارادے کو روکنے والا نہیں ہے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.