آٹھویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 19: سبق 19: سورۃ نوح

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں · 13 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاتَّقُوهُ وَأَطِيعُونِ

حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو کیا دعوت دی؟

ترجمہ

کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو اور میرا حکم مانو۔

حضرت نوح علیہ السلام کی اپنی قوم کو دعوت۔ آیتِ کریمہ کی رو سے حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو بنیادی طور پر تین اہم باتوں کی دعوت دی۔

1 اللہ کی عبادت — تمام جھوٹے معبودوں اور شرک کو چھوڑ کر صرف ایک اللہ کو پکارنا اور اسی کی بندگی کرنا۔
2 تقویٰ اور خوفِ خدا — اللہ کی نافرمانیوں سے بچنا اور اس کی ناراضی سے ڈرتے ہوئے زندگی گزارنا۔
3 رسول کی اطاعت — حضرت نوح علیہ السلام کی بات ماننا اور دین کے احکام میں ان کی پیروی کرنا ۔
2 مختصر جوابات

فَلَمْ يَزِدْهُمْ دُعَآءِيْٓ اِلَّا فِرَارًا۔

آیت کریمہ کی رو سے حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کی کس روش کوبیان فرمایاہے؟

ترجمہ

مگر میرے بلانے سے یہ لوگ اور زیادہ بھاگنے لگے۔

قوم کی روش کی وضاحت

جواب اس آیت کریمہ کی رو سے حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کی یہ روش بیان فرمائی ہے کہ وہ حق اور ہدایت کی راہ سے مسلسل گریزاں اور فرار اختیار کرتے تھے۔ جب بھی آپ علیہ السلام نے انہیں کفر و شرک سے نکال کر اللہ کی توحید اور بخشش کی طرف بلایا، تو اس دعوتِ حق کا مثبت اثر لینے کے بجائے ان کی ہٹ دھرمی اور دشمنی میں مزید اضافہ ہو گیا اور وہ آپ سے دور بھاگنے لگے۔
3 مختصر جوابات

وَإِنِّي كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوا أَصَابِعَهُمْ فِي آذَانِهِمْ وَاسْتَغْشَوْا ثِيَابَهُمْ وَأَصَرُّوا وَاسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًا ۔

نوحؑ کی دعوت پر قوم نے کیا روش اختیار کی؟

ترجمہ

اور یہ کہ جب بھی میں نے انہیں بلایا تاکہ تو انہیں معاف فرما دے، تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیں اور اپنے کپڑے لپیٹ لیے اور اڑ گئے (یعنی ضد اور استکبار پر قائم رہے) اور خوب تکبر کیا۔

حضرت نوح علیہ السلام نے لگ بھگ ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کو مسلسل اللہ کی وحدانیت اور عذاب سے ڈرانے کی دعوت دی۔ اس دعوت کے جواب میں ان کی قوم نے انتہائی ہٹ دھرمی، استکبار (تکبر) اور دشمنی کا رویہ اپنایا۔ ان کی روش کی تفصیلات درج ذیل ہیں

قوم کی روش اور رویہ

1 کانوں میں انگلیاں ٹھونس لینا — جب بھی حضرت نوح علیہ السلام انہیں دین کی طرف بلاتے تاکہ وہ ایمان لائیں اور اللہ سے بخشش مانگیں، تو وہ اپنی انگلیاں کانوں میں ڈال لیتے تاکہ آپ کی آواز ان تک نہ پہنچ سکے۔
2 منہ چھپا لینا — انہوں نے اپنے چہروں پر اپنے کپڑے اوڑھ لیے یا سروں تک کپڑے لپیٹ لیے تاکہ آپ کا چہرہ نہ دیکھ سکیں۔
3 سخت ضد اور اصرار — وہ اپنے کفر و شرک پر ڈٹے رہے اور انہوں نے اپنی بداعمالیوں پر اصرار کیا۔
4 بڑھ چڑھ کر تکبر کرنا — وہ حق کی بات سننے، سمجھنے یا ماننے کے لیے قطعاً تیار نہ تھے بلکہ اپنی سرکشی میں حد سے تجاوز کر گئے۔
4 مختصر جوابات

ثُمَّ اِنِّیْ دَعَوْتُهُمْ جِهَارًا ۙ ثُمَّ اِنی اَعْلَنْتُ لَهُمْ وَ اَسْرَرْتُ لَهُمْ اِسْرَارًا ۙ

4:

ترجمہ

پھر یقیناً میں نے ان کو بلند آواز سے (کھلے عام) دعوت دی۔ پھر یقیناً میں نے ان سے اعلانیہ بھی کہا اور آہستہ (خفیہ) طریقے سے بھی سمجھایا۔

ان آیات کی رو سے حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو راہِ راست پر لانے کے لیے انتہائی متنوع، صبر آزما اور جامع اندازِ دعوت اپنایا:

حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کا اندازِ بیان

1 رات دن مسلسل محنت — اس سے قبل (آیت 5 میں) آپ نے فرمایا کہ میں نے اپنی قوم کو رات اور دن برابر دعوتِ حق دی۔
2 کھلے عام اور بلند آواز سے تبلیغ (جِھَارًا) — آپ نے کسی بھی قسم کے خوف یا دباؤ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے، مجمع عام میں بلند آواز کے ساتھ اعلانیہ توحید کا پرچار کیا۔
3 خفیہ اور انفرادی انداز (اِسْرَارًا) — آپ نے صرف پبلک اجتماعات پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ لوگوں سے تنہائی اور انفرادی سطح پر ملاقاتیں کر کے رازدارانہ انداز میں بھی انہیں سمجھایا تاکہ وہ ضد اور تکبر چھوڑ دیں۔
جواب مختصر یہ کہ آپ نے بیک وقت عمومی، انفرادی، اعلانیہ اور خفیہ طریقے استعمال کیے تاکہ قوم کا کوئی بھی فرد ہدایت پانے سے محروم نہ رہ جائے اور اللہ کی حجت تمام ہو جائے۔
5 مختصر جوابات

يُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَيْكُمْ مِّدْرَارًا ۙ وَّيُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِيْنَ وَيَجْعَلْ لَّكُمْ جَنّٰتٍ وَّيَجْعَلْ لَّكُمْ اَنْهٰرًا ۭ

حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو استغفار کے کیا کیا ثمرات بتائے ؟

ترجمہ

وہ تم پر آسمان سے (موسلا دھار) بارشیں برسائے گا۔ اور تمہارے مال اور بیٹوں میں ترقی دے گا اور تمہارے لیے باغات بنائے گا اور تمہارے لیے نہریں جاری کر دے گا۔

سورۃ نوح (آیت 11 اور 12) میں حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ سے معافی (استغفار) مانگنے کے مندرجہ ذیل 4 بڑے ثمرات بتائے ہیں:

آیات اور ترجمہ

1 کثرت سے بارش — ایسی بارش جو زمین کی زرخیزی اور فصلوں کے لیے فائدہ مند ہو۔
2 مال و دولت میں اضافہ — اللہ تعالیٰ مال و دولت میں برکت عطا فرمائے گا۔
3 اولاد میں اضافہ — کثرت سے اولاد کی نعمت سے نوازا جائے گا۔
4 باغات اور نہریں — سرسبز باغات اور بہتے پانی کی سہولیات عطا کی جائیں گی۔

تفصیلی جوابات

6 تفصیلی جوابات

وَ قَالُوۡا لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّلَا سُوَاعًا ۙ وَّلَا یَغُوْثَ وَیَعُوْقَ وَنَسْرًا ۔

آیات کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں ۔

ترجمہ

اور انہوں نے کہا: تم اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا، اور نہ وَدّ کو، اور نہ سُوَاع کو، اور نہ یَغُوث، یَعُوق اور نَسر (نامی بتوں) کو چھوڑنا۔

جواب اس آیت میں حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے سرداروں اور بت پرستوں کی ہٹ دھرمی اور گمراہی کا تذکرہ ہے۔ انہوں نے اپنے پیروکاروں اور عام لوگوں کو سختی سے تاکید کی تھی کہ کسی بھی حالت میں اپنے آبائی بتوں کی پوجا ترک نہ کریں۔ خاص طور پر انہوں نے پانچ بڑے بتوں وَدّ، سُوَاع، یَغُوث، یَعُوق اور نَسْر — کے نام لے کر انہیں پوجتے رہنے کا حکم دیا۔ یہ بت دراصل قومِ نوح کے نیک اور صالح لوگوں کے نام تھے جن کی وفات کے بعد شیطان نے لوگوں کو ان کی مورتیاں بنا کر پوجنے کی ترغیب دی تھی۔ یہ سردار اپنی ضد پر قائم تھے اور حق بات ماننے سے صاف انکاری تھے۔ آپ پر یہ واضح ہو گیا کہ ان کی نسلیں بھی گمراہی اور کفر پر ہی قائم رہیں گی، تو آپ نے اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعا فرمائی۔
7 تفصیلی جوابات

سورۃ نوح کا تعارف اور مرکزی مضمون بیان کریں ۔

جواب صفحہ 143 پر ہے
8 تفصیلی جوابات

وَقَالَ نُوحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا ۔ إِنَّكَ إِن تَذَرْهُمْ يُضِلُّوا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوا إِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا۔

آیات کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں ۔

ترجمہ

اور نوح(علیہ السلام) نے عرض کیا: اے میرے رب! زمین پر کافروں میں سے کوئی بسنے والا باقی نہ چھوڑ۔ بیشک اگر تو نے انہیں چھوڑ دیا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کر دیں گے اور ان کی نسل سے جو بھی پیدا ہوگا وہ بدکار (فاجر) اور سخت ناشکرا (کافر) ہی ہوگا۔

جواب جب حضرت نوح علیہ السلام کو صدیوں کی مسلسل تبلیغ کے باوجود اپنی قوم کی طرف سے ہدایت کی کوئی امید نہ رہی توحضرت نوح علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے التجا کی کہ زمین پر کسی بھی کافر کو زندہ نہ چھوڑا جائے۔ آپ نے اپنی عرض میں یہ استدلال پیش کیا کہ اگر یہ کافر زمین پر زندہ رہے، تو یہ نئے آنے والے لوگوں اور آپ کے عبادت گزار بندوں کو بھی گمراہ کر دیں گے۔ مزید یہ کہ ان کی آنے والی نسلیں بھی اتنی ہی نافرمان، بدکار اور ناشکری ہوں گی، اس لیے روئے زمین کو ان کے وجود سے پاک کر دیا جائے۔
9 تفصیلی جوابات

سورۃ نوح کے چند بنیادی مضمون لکھیں ۔

جواب صفحہ 143 پر ہے۔
10 تفصیلی جوابات

رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَلِوَالِدَيَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَيْتِيَ مُؤْمِنًا وَّلِلْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ ۠ وَلَا تَزِدِ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا تَبَارًا ۔

آیات کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں ۔

ترجمہ

اے میرے رب! مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو اور اسے جو ایمان کے ساتھ میرے گھر میں ہے اور سب مسلمان مردوں اور سب مسلمان عورتوں کو اور کافروں کو نہ بڑھا مگر تباہی۔

جواب اس آیت میں حضرت نوح علیہ السلام اپنی قوم کی مسلسل نافرمانی اور تکذیب کے بعد اللہ تعالیٰ سے دعا کر رہے ہیں۔ اس دعا میں آپ نے مغفرت کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے پہلے اپنے لیے، پھر اپنے والدین کے لیے، اور ان لوگوں کے لیے دعا کی جو مومن ہو کر آپ کے گھر (یا کشتی) میں داخل ہوئے۔ اس کے بعد آپ نے تمام مومن مردوں اور مومن عورتوں کی مغفرت کی التجا کی اور آخر میں ظالم و کافر قوم کے لیے بددعا کی کہ ان کی ہلاکت و بربادی میں مزید اضافہ فرما۔

سرگرمیاں

11 سرگرمیاں

دعوت دین کو جھٹلانے والوں کے انجام بیان کریں ۔

قرآن کریم کے مطابق، دعوتِ حق کو جھٹلانے والوں کا انجام انتہائی بھیانک اور عبرتناک ہے۔ دنیا میں انہیں مختلف قسم کے عذاب، تباہی اور گمراہی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ آخرت میں ہمیشہ کے لیے جہنم کا عذاب ان کا مقدر بنتا ہے۔

۱۔ دنیاوی عذاب اور تباہی اور ۲۔ اخروی انجام

1 ۱۔ دنیاوی عذاب اور تباہی: قدرتی آفات — قومِ نوح، قومِ عاد اور قومِ ثمود کی تاریخ بتاتی ہے کہ انبیاء کی دعوت کو ٹھکرانے والوں کو طوفانوں، زلزلوں اور آسمانی بجلی جیسے عذابوں کے ذریعے صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا۔
2 ۱۔ دنیاوی عذاب اور تباہی: ذلت و رسوائی — حق سے منہ موڑنے والوں کو دنیا میں بھی ذلت اور احساسِ کمتری کا شکار ہونا پڑتا ہے اور ان کی تمام تدبیریں ناکام ہو جاتی ہیں
3 ۱۔ دنیاوی عذاب اور تباہی: دل کی مہر — مسلسل انکار کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے جس کے باعث انہیں نیکی اور بھلائی سمجھ نہیں آتی۔
4 ۲۔ اخروی انجام: دوزخ کا عذاب — آخرت میں ان کا ٹھکانہ جہنم کی جلتی ہوئی آگ ہوگی، جہاں انہیں کھولتا ہوا پانی اور زقوم (کانٹے دار درخت) بطورِ خوراک دیا جائے گا۔
5 ۲۔ اخروی انجام: دائمی محرومی — وہ اللہ کی رحمت سے ہمیشہ کے لیے محروم کر دیے جائیں گے اور ان کی توبہ یا معذرت قبول نہیں کی جائے گی۔
6 ۲۔ اخروی انجام: بے سود پشیمانی — جہنم میں پہنچ کر وہ شدید پچھتاوے کا اظہار کریں گے، لیکن یہ توبہ اور افسوس ان کے کسی کام نہیں آئے گا
12 سرگرمیاں

حضرت نوح ؑ کا واقعہ کہانی کی صورت میں لکھیں۔

جواب حضرت نوحؑ کی کہانی توحید کی دعوت، طویل صبر اور ایک عظیم الشان سیلاب کی داستان ہے۔ وہ اللہ کے برگزیدہ نبی تھے جنہوں نے اپنی قوم کو بت پرستی سے روک کر صرف ایک خدا کی عبادت کا راستہ دکھایا۔ صدیوں کی مسلسل تبلیغ کے باوجود قوم کے رویے میں کوئی تبدیلی نہ آئی۔ آخر کار، اللہ کے حکم سے حضرت نوحؑ نے ایک بہت بڑی کشتی بنانا شروع کی۔ قوم کے لوگ ان کا مذاق اڑاتے، لیکن انہوں نے صبر سے اپنا کام جاری رکھا۔ جب کشتی مکمل ہوئی، تو ہر جانور اور پرندے کا جوڑا اس میں سوار کیا گیا۔ حضرت نوحؑ کے اہل خانہ اور چند ایمان لانے والے بھی اس میں سوار ہو گئے۔ پھر آسمان سے موسلادھار بارش شروع ہوئی اور زمین سے پانی ابل پڑا۔ ہر طرف پانی ہی پانی تھا، حتیٰ کہ پہاڑ بھی ڈوب گئے۔ حضرت نوحؑ کا نافرمان بیٹا بھی پانی کی موجوں میں بہہ گیا اور کشتی میں سوار لوگ ہی اس طوفانِ عظیم سے محفوظ رہے۔ بالآخر اللہ کے حکم سے پانی اترا اور کشتی کوہ جودی پر جا کر ٹھہری۔ اس طوفان کے بعد کشتی میں سوار لوگوں نے نئی دنیا کا آغاز کیا، اور حضرت نوحؑ کو ان کی عظیم نسل کے باعث ”آدم ثانی“ بھی کہا جاتا ہے۔
13 سرگرمیاں

استغفار کی اہمیت اور فضیلت لکھیں ۔

جواب : استغفار کی اہمیت و فضیلت

1 گناہوں کا تریاق — رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب بندہ گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ دھبہ لگ جاتا ہے، لیکن جب وہ توبہ اور استغفار کرتا ہے تو اس کا دل دوبارہ صاف اور روشن ہو جاتا ہے۔
2 رزق اور بارش کا حصول — قرآن پاک میں سورۃ ہود (آیت 52) کے مطابق استغفار کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ آسمان سے موسلادھار بارش برساتا ہے اور مال و اولاد میں برکت کے ساتھ ساتھ قوت میں اضافہ فرماتا ہے۔
3 مشکلات اور تنگی سے نجات — حدیث مبارکہ میں ہے کہ جو شخص استغفار کو لازم پکڑ لے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ، ہر غم سے نجات، اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرماتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔
4 اللہ کی محبت — اللہ تعالیٰ ان بندوں کو پسند فرماتا ہے جو اپنے گناہوں پر نادم ہو کر فوراً اس کی طرف رجوع کرتے ہیں اور مغفرت طلب کرتے ہیں

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.