آٹھویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 1: سبق 1: سورۃ یوسف

تیارمختصر سوالات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں · 13 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر سوالات

1 مختصر سوالات

اَرۡسِلۡهُ مَعَنَا غَدًا يَّرۡتَعۡ وَيَلۡعَبۡ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰـفِظُوۡنَ۔

آیت کریمہ میں برادران یوسف نے اپنے والد سے کیا درخواست کی؟

ترجمہ

کل انہیں ہمارے ساتھ بھیج دیجیے کہ خوب کھائیں پییں اور کھیلیں کودیں، اور ہم ان کے نگہبان (حفاظت کرنے والے) ہیں

آیت کریمہ میں برادران یوسف نے اپنے والد سے حضرت یوسف علیہ السلام کو اپنے ساتھ کھیلنے اور سیر کرنے کے لیے بھیجنے کی درخواست کی تھی۔ اس درخواست میں انہوں نے یوسف علیہ السلام کی حفاظت کی یقین دہانی بھی کرائی تھی۔

درخواست کی تفصیل

1 سیر و تفریح — انہوں نے کہا کہ کل یوسف کو ہمارے ساتھ بھیجیں تاکہ وہ کھائے پیے اور کھیل کود کرے۔
2 نگہبانی — انہوں نے یقین دلایا کہ ہم خود اس کی پوری حفاظت کرنے والے ہیں۔
2 مختصر سوالات

قَالَ رَبِّ السِّجنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدعُونَنِی اِلَیہِ۔

آیت کریمہ کے روسے یوسف علیہ السلام نے کس چیز کے مقابلے میں کس چیز کو پسند فرمایا؟ا

ترجمہ

یوسف نے عرض کی: ”اے میرے رب! مجھے قید خانہ زیادہ پسند ہے اس کام سے جس کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں اور اگر تو مجھ سے ان کا مکر نہ پھیرے گا تو میں ان کی طرف مائل ہو جاؤں گا اور نادانوں میں سے ہو جاؤں گا

اس آیتِ کریمہ میں حضرت یوسف علیہ السلام نے گناہ اور بے حیائی (زنا) کے مقابلے میں قید خانہ (جیل) جانے کو پسند فرمایا۔

تفصیل

1 پسندیدہ چیز — قید خانہ (السجن) — یعنی اللہ کی نافرمانی سے بچنے کے لیے قید کی صعوبتیں برداشت کرنا۔
2 مقابلہ کی چیز — وہ دعوت یا گناہ جس کی طرف عزیزِ مصر کی بیوی اور شہر کی عورتیں انہیں مائل کر رہی تھیں (یعنی بدکاری اور فحش فعل کی دعوت)
3 مختصر سوالات

إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ أَمَرَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ ذَلِكَ

آیت کریمہ کی روشنی میں یوسف علیہ السلام نے کیا دعوت دی؟

ترجمہ

حکم کسی کا نہیں سوائے اللہ کے، اس نے حکم دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، یہی بالکل سیدھا دین ہے

دعوتِ توحید اور اس کے اہم پہلو

1 باطل معبودوں کی حقیقت — آپ نے واضح کیا کہ جن خداؤں کو لوگ پوجتے ہیں وہ اللہ کی طرف سے کسی دلیل کے بغیر صرف خود ساختہ نام ہیں۔
2 حاکمیتِ اعلیٰ — فیصلہ کرنے، حکم چلانے اور قانون سازی کا کل اختیار صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کے پاس ہے۔
3 عبادت کی نفی و اثبات — تمام غیر اللہ کی بندگی چھوڑ کر صرف ایک اللہ کی عبادت کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
4 صحیح دین — یہی اکیلا خدا کی وحدانیت کا اقرار اور اطاعت سیدھا اور مضبوط دین ہے۔
4 مختصر سوالات

وَقَالَ الْمَلِكُ إِنِّي أَرَىٰ سَبْعَ بَقَرَاتٍ سِمَانٍ يَأْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَسَبْعَ سُنبُلَاتٍ خُضْرٍ وَأُخَرَ يَابِسَاتٍ ۖ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ أَفْتُونِي فِي رُؤْيَايَ إِن كُنتُمْ لِلرُّؤْيَا تَعْبُرُونَ۔

آیت کریمہ میں بادشاہ نے درباریوں سے کس چیز کے متعلق پوچھا؟

ترجمہ

اور بادشاہ نے کہا: بے شک میں (ایک خواب میں) سات موٹی گائیں دیکھ رہا ہوں جنہیں سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات سبز خوشے ہیں اور دوسرے سات خشک (خوشے ہیں)۔ اے درباریو! مجھے میرے اس خواب کی تعبیر بتاؤ اگر تم خواب کی تعبیر دینا جانتے ہو۔

آیت کریمہ میں مصر کے بادشاہ نے اپنے خواب کی تعبیر کے متعلق پوچھا تھا

خواب کی تفصیل اور سوال

1 گائیں — سات موٹی تازی گائیں جنہیں سات لاغر اور کمزور گائیں کھا رہی ہیں۔
2 خوشے — سات سبز خوشے اور سات خشک خوشے
3 استفسار — بادشاہ نے درباریوں سے اس عجیب و غریب خواب کا مطلب اور اس کی حقیقت جاننے کا مطالبہ کیا تھا۔
5 مختصر سوالات

قَالَ اجْعَلْنِي عَلَى خَزَائِنِ الْأَرْضِ ۖ إِنِّي حَفِيظٌ عَلِيمٌ

آیت کریمہ میں عہدہ اورذمہ داری کے لیے کون سی دو صفات بیان ہوئی ہیں؟

ترجمہ

(یوسف علیہ السلام نے) کہا: مجھے اس ملک کے خزانوں پر مقرر کر دیجیئے، بیشک میں حفاظت کرنے والا (اور) علم والا ہوں۔

آیت کریمہ میں کسی عہدے اور ذمہ داری کے لیے دو اہم صفات حفیظ (امانت دار اور حفاظت کرنے والا) اور علیم (صلاحیت مند اور علم والا) بیان ہوئی ہیں

صفات کی وضاحت

1 حفیظ (امانت داری) — اس سے مراد امانت کی حفاظت، دیانت داری اور ذمہ داری کو بخوبی نبھانا ہے تاکہ خیانت نہ ہو۔
2 علیم (اہلیت و علم) — اس سے مراد اس منصب یا کام سے متعلقہ پورا علم، تجربہ اور بہترین انتظامی صلاحیت کا ہونا ہے

تفصیلی جوابات

6 تفصیلی جوابات

وَاللَّهُ غالِبٌ عَلى أَمْرِهِ وَلكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لا يَعْلَمُونَ ۔

آیت کا ترجمہ تحریر کریں نیز یہ بتائیں کہ کائنات میں کس کی تدبیر کار گر رہتی ہے؟

ترجمہ

اور اللہ اپنے کام پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

اللہ تعالیٰ کی تدبیر ہی غالب ہے اور اس کا حکم اٹل ہے۔ کائنات میں صرف اللہ کی تدبیر کارگر رہتی ہے۔

کائنات میں تدبیرِ الٰہی

1 حکمرانی — کائنات کا ہر معاملہ اللہ کے حکم اور ارادے کے تحت چلتا ہے۔
2 غلبہ — انسان لاکھ تدبیریں کرے، نفاذ صرف اسی کا ہوتا ہے جو اللہ کو منظور ہو۔
3 بے خبری — اکثر لوگ اللہ کی اس حکمت اور غلبے کو نہیں سمجھتے۔
7 تفصیلی جوابات

قَالَ رَبِّ السِّجۡنُ اَحَبُّ اِلَىَّ مِمَّا يَدۡعُوۡنَنِىۡۤ اِلَيۡهِ​ۚ وَاِلَّا تَصۡرِفۡ عَنِّىۡ كَيۡدَهُنَّ اَصۡبُ اِلَيۡهِنَّ وَاَكُنۡ مِّنَ الۡجٰهِلِيۡنَ۔

ایت کا ترجمہ کریں نیز یہ بتائیں کہ یہ دعا کس نبی نے مانگی ہے اور آیت کا مفہوم بھی لکھیں؟

ترجمہ

(یوسف ؑ نے ) عرٖض کیا اے میرے رب !مجھے اس کے مقابلے میں قید زیادہ پسند ہے جس کام کی طرف مجھے یہ بلاتی ہے اور اگر تو نے ان عورتوں کا فریب مجھ سے نہ ہٹایا تو میں ان کی طرف مائل ہو جاوں گا اور میں نادانوں میں سے ہو جاو ں گا۔

یہ دعا حضرت یوسفؑ نے مانگی تھی اور اس آیت کا مفہوم یہ ہے

مفہوم

1 گناہوں سے بچنے کی ترجیح — حضرت یوسف علیہ السلام نے اللہ کے حضور عاجزی کرتے ہوئے قید خانے کی سختی کو قبول کیا، مگر مصر کے امرا کی بیویوں کے گناہ اور بے حیائی کے راستے کو مسترد کیا۔
2 اللہ کی مدد پر انحصار — آپ نے یہ تسلیم کیا کہ انسان کی اپنی طاقت کمزور ہے، اور جب تک اللہ خود انسان کو برائی اور اس کے مکر سے نہ بچائے، اکیلا انسان خود کو نہیں بچا سکتا۔
8 تفصیلی جوابات

وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي ۚ إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّي ۚ إِنَّ رَبِّي غَفُورٌ رَّحِيمٌ۔

آیت کا ترجمہ کریں اور آیت کا مفہوم لکھیں۔

ترجمہ

اور میرا دعوی نہیں کہ میرا نفس بالکل پاک ہے ۔بے شک نفس تو برائی کا بہت ہی حکم دینے والا ہے سوائے اس کے کہ جس پر میرا رب رحم فرما دے بےشک میرا رب بڑا ہی بخشنے والا نہایت رحم فرمانے والا ہے۔

1 آیت کا پس منظر — یہ الفاظ حضرت یوسف علیہ السلام یا مصر کے عزیز (قتیفر) کی بیوی نے کہے تھے (مفسرین کی راجح رائے کے مطابق یہ حضرت یوسف علیہ السلام کا قول ہے)۔
2 بنیادی مفہوم — انسان کا اپنا دل اور نفس قدرتی طور پر اسے برائی اور گناہوں کی طرف کھینچتا ہے۔
3 عاجزی کا اظہار — اس آیت میں انسان کو سکھایا گیا ہے کہ وہ اپنے نفس پر پورا بھروسہ نہ کرے اور کبھی خود کو معصوم یا گناہوں سے پاک نہ سمجھے۔
4 اللہ کی رحمت کا سہارا — گناہوں اور برائیوں سے بچاؤ کا واحد ذریعہ اللہ کی رحمت اور اس کی توفیق ہے۔
5 مغفرت کی امید — اگر انسان سے کوئی لغزش ہو جائے، تو وہ اللہ کی بخشش اور رحمت کی طرف رجوع کرے، کیونکہ اللہ اپنے توبہ کرنے والے بندوں کو معاف کرنے والا ہے۔
9 تفصیلی جوابات

سورہ یوسف میں اسماء کی کوئی سی پانچ مثالیں تلاش کریں اور کسی ایک اسم کی گردان کریں۔

غدا، لامارۃ ، السجن ، النصحون ، ارباب

گردان

1 ناصح
2 ناصحان
3 ناصحون
4 ناصحۃ
5 ناصحتان
6 ناصحات

سرگرمیاں

10 سرگرمیاں

حسد کی مذمت کے حوالے سے احادیث لکھیں اور حسد کے نقصانات لکھیں؟

حسد ایک باطنی بیماری ہے جس کا مطلب ہے کسی کی نعمت کے زوال کی خواہش کرنا۔ اس کی مذمت میں احادیثِ مبارکہ وارد ہوئی ہیں اور اس کے شدید نقصانات ہیں۔

احادیثِ مبارکہ اور حسد کے نقصانات

1 احادیثِ مبارکہ: نیکیوں کا زوال — رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إيَّاكُمْ والحَسَدَ، فإنَّ الحَسَدَ يَأْكُلُ الحَسَناتِ كما تَأْكُلُ النَّارُ الحَطَبَ» (ترجمہ: حسد سے بچو، کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو جلا دیتی ہے)۔
2 احادیثِ مبارکہ: بغض اور حسد سے پرہیز — آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لا تَبَاغَضوا، ولا تَحَاسَدوا، ولا تَدَابَروا، وكونوا عبادَ اللهِ إخوانًا» (ترجمہ: آپس میں بغض نہ رکھو، حسد نہ کرو، ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرو اور اللہ کے بندے بھائی بھائی بن کر رہو)۔
3 حسد کے نقصانات: روحانی تباہی — حاسد کی نیکیاں ضائع ہو جاتی ہیں اور اس کا دل ایمان کی حلاوت سے محروم ہو جاتا ہے۔
4 حسد کے نقصانات: دینی و دنیاوی بے سکونی — حاسد ہمیشہ اندرونی جلن، ذہنی دباؤ، غم اور پریشانی میں مبتلا رہتا ہے کیونکہ وہ دوسروں کی خوش حالی برداشت نہیں کر سکتا۔
5 حسد کے نقصانات: تقدیر پر اعتراض — حسد کرنے والا دراصل اللہ تعالیٰ کی تقسیم اور تقدیر پر ناخوش ہوتا ہے۔
6 حسد کے نقصانات: معاشرتی بگاڑ — یہ بیماری معاشرے میں نفرت، بغض، دشمنی اور باہمی رنجشوں کو جنم دیتی ہے
11 سرگرمیاں

سورہ یوسف سے غیر منصرف اسماء تلاش کر کے تحریر کریں؟

جواب یوسف ،سنین ،امرات، برہان ،ابراہیم ،اسحاق ،یعقوب
12 سرگرمیاں

یوسف علیہ السلام کے واقعے کی اہم نکات اور اسباق لکھیں؟

حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ صبر، تقویٰ، اور عفو و درگزر کا عظیم درس ہے۔ اس کے اہم نکات میں بھائیوں کا حسد اور کنویں میں ڈالنا، عزیزِ مصر کے گھر آزمائش اور قید خانہ، اور خواب کی تعبیر کے ذریعے مصر کا خزانہ سنبھالنا شامل ہیں۔

اہم نکات اور اہم اسباق

1 اہم نکات: بھائیوں کا حسد — بھائیوں کی جلن اور یوسفؑ کو کنویں میں پھینکنا۔
2 اہم نکات: عزیزِ مصر کا گھر — زلیخا کی آزمائش اور یوسفؑ کا پاک دامن رہنا۔
3 اہم نکات: قید خانہ اور تعبیر — جیل میں قیدیوں کے خوابوں کی تعبیر بتانا۔
4 اہم نکات: بادشاہ کا خواب — سات سال کی خوشحالی اور قحط کی تعبیر دے کر اقتدار پانا۔
5 اہم نکات: معافی — قحط کے دوران بھائیوں کی آمد اور ان کا عفو و درگزر۔
6 اہم اسباق: صبر کا پھل — مصیبت میں صبر کرنے سے اللہ بہترین بدلہ دیتا ہے۔
7 اہم اسباق: پاک دامنی — گناہ کے موقع پر اللہ کا خوف انسان کو بچاتا ہے۔
8 اہم اسباق: معاف کرنے کی عادت — قدرت ملنے کے بعد دشمنوں کو معاف کرنا انبیاء کی سنت ہے۔
13 سرگرمیاں

سیدنا یوسف علیہ السلام کی پاکدامنی میں ہمارے نوجوانوں کے لیے کیا سبق ہے؟

سیدنا یوسف علیہ السلام کا واقعہ قرآن مجید میں احسن القصص کہلاتا ہے اس واقعے میں آج کے دور کے نوجوانوں کے ایک مکمل اور عملی گائیڈ لائن موجود ہے۔ موجودہ دور کے تناظر میں اس واقعے سے حاصل ہونے والے اہم اسباق درج ذیل ہیں:

1 تنہائی میں اللہ کا خوف (خشیۃ اللہ): سیدنا یوسف علیہ السلام کو جس ماحول میں گناہ کی دعوت دی گئی، وہاں دنیا کا کوئی انسان دیکھنے والا نہیں تھا، دروازے بند تھے، اور دعوت دینے والی وقت کی سب سے بااثر خاتون تھی۔ آج کا نوجوان: سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے اس دور میں نوجوان اکثر تنہائی میں ہوتے ہیں جہاں کوئی انہیں دیکھ نہیں رہا ہوتا۔ سبق: نوجوان کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ جب دنیا کی کوئی آنکھ نہیں دیکھ رہی ہوتی، تب بھی اللہ دیکھ رہا ہوتا ہے۔ ا یوسف علیہ السلام کا پہلا جملہ تھا ”مَعَاذَ اللہِ“ (اللہ کی پناہ)۔
2 فتنہ اور برائی کی جگہ سے فوری فرار: جب زلیخا نے گناہ پر اصرار کیا، تو سیدنا یوسف علیہ السلام نے وہاں کھڑے رہ کر بحث نہیں کی، بلکہ وہ فوراً دروازے کی طرف بھاگے۔ آج کا نوجوان: نوجوان اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ برے دوستوں کی محفل یا برے ماحول میں رہ کر بھی خود کو بچا لیں گے۔ سبق: برائی کے اسباب اور ماحول سے جتنی جلدی ہو سکے دور بھاگنا چاہیے۔ گناہ کے مواقع سے دوری ہی انسان کی سب سے بڑی جیت ہے۔
3 دنیاوی نقصان پر آخرت کو ترجیح دینا: جب سیدنا یوسف علیہ السلام نے گناہ سے انکار کیا، تو انہیں جیل بھیجنے کی دھمکی دی گئی۔ انہوں نے محل کے عیش و آرام اور گناہ کی زندگی پر جیل کی سختیوں کو ترجیح دی۔ آج کا نوجوان: بعض اوقات پاکدامن رہنے کی وجہ سے دوستوں میں مذاق اڑایا جاتا ہے یا دنیاوی طور پر پیچھے رہ جانے کا خوف ہوتا ہے۔ سبق: عارضی دنیاوی لذت یا سستی واہ واہ کے لیے اپنی آخرت اور اخلاقیات کا سودا کبھی نہیں کرنا چاہیے۔
4 اللہ پر پکا بھروسہ اور دعا کا سہارا: سیدنا یوسف علیہ السلام نے اپنی پاکدامنی پر غرور نہیں کیا، بلکہ اللہ سے دعا کی اگر تو نے ان کے فریب کو مجھ سے دور نہ کیا تو میں ان کی طرف مائل ہو جاؤں گا ۔ آج کا نوجوان: گناہ کے ماحول سے بچنے کے لیے صرف اپنی ہمت پر ناز نہیں کرنا چاہیے۔ سبق: ہر وقت اللہ سے اپنے ایمان کی حفاظت کی دعا مانگتے رہنا چاہیے، کیونکہ گناہ سے بچنے کی توفیق صرف اللہ ہی کی طرف سے ملتی ہے۔
5 صبر کا بہترین انجام: سیدنا یوسف علیہ السلام نے پاکدامنی کا راستہ چنا، جس کی وجہ سے انہیں کئی سال جیل میں گزارنے پڑے۔ لیکن اللہ نے اس صبر کے بدلے انہیں مصر کا اقتدار، عزت اور نبوت عطا فرمائی۔ آج کا نوجوان: پاکدامنی کا راستہ شروع میں مشکل اور تنہائی کا لگ سکتا ہے۔ سبق: جو نوجوان اللہ کے لیے اپنی جوانی کی خواہشات کو قربان کرتا ہے، اللہ دنیا اور آخرت دونوں میں اس کا مقام بہت بلند فرما دیتا ہے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.