آیت کریمہ کی روسے قیامت کے دن مجرم کس خواہش کا اظہار کریں گے؟
ترجمہ
(حالانکہ) وہ (ایک دوسرے کو) دکھائے جا رہے ہوں گے۔ مجرم (اس دن) خواہش کرے گا کہ کاش! وہ اس دن کے عذاب (سے رہائی) کے بدلے میں اپنے بیٹے دے دے۔ اور اپنی بیوی اور اپنے بھائی کو۔ اور اپنے اس خاندان کو جو اسے پناہ دیتا تھا۔
جوابقیامت کے دن عذاب کی ہولناکی کو دیکھ کر مجرم یہ خواہش کریں گے کہ کاش وہ اس خوفناک عذاب سے رہائی کے بدلے اپنے بچوں، بیوی، بھائی، اپنے خاندان اور روئے زمین کے تمام انسانوں کو فدیہ (بدلہ) میں دے دیں اور خود کو عذاب الٰہی سے چھڑا لیں۔
(جہنم) پکارے گی اس شخص کو جس نے (حق سے) پیٹھ پھیری اور منہ موڑا، اور (مال) جمع کیا اور (اپنے پاس) بند کر کے رکھ لیا۔
ان آیات کی رو سے جہنم کی آگ ہر اس انسان کو اپنی طرف پکارے گی جس میں درج ذیل دو بنیادی خرابیاں ہوں گی:
1حق سے انحراف — وہ شخص جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے منہ موڑا اور احکامِ الہیٰ کی پرواہ نہ کی
2مال کی ہوس اور بخل — وہ شخص جس نے مال جمع کیا، اسے دنیاوی لذتوں اور حرص میں بند کر کے رکھا (خزانے بنائے) اور اللہ کی راہ میں (زکوٰۃ و صدقات کی صورت میں) خرچ نہیں کیا۔
جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو بہت گھبرا جانے والا ہے۔ اور جب اسے بھلائی (مال و دولت) ملتی ہے تو بہت بخیل بن جاتا ہے۔
ان آیات میں بنیادی طور پر انسان کی جبلت اور نفسیات کی دو حالتوں کا ذکر کیا گیا ہے:
آیات کی رو سے انسان کی حالتیں
1تکلیف اور مصیبت میں بے صبری — جب انسان کو کوئی بیماری، معاشی تنگی یا ناگوار صورتحال پیش آتی ہے، تو وہ سخت بے چین اور بے صبرا ہو جاتا ہے۔ وہ گھبراہٹ کا شکار ہو کر شکوہ شکایت کرنے لگتا ہے اور حوصلہ ہار بیٹھتا ہے۔
2خوشحالی اور دولت میں بخل (منوعاً) — جب اللہ اسے مال و دولت، صحت یا خوشحالی عطا کرتا ہے، تو وہ انتہائی کنجوس بن جاتا ہے۔ وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے یا غریبوں کی مدد کرنے سے کتراتا ہے اور دولت کو اپنے پاس سمیٹ کر رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔
آیات کریمہ میں اہل ایمان کی کون سی صفات بیان ہوئی ہیں؟
ترجمہ
اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا پاس (اور حفاظت) کرنے والے ہیں۔ اور وہ جو اپنی گواہیوں پر قائم رہنے والے ہیں۔
امانت و عہد کی پاسداری اور گواہی کا قیام
1امانت و عہد کی پاسداری: اہل ایمان کی بیان کردہ صفات وہ لوگ جو اپنی امانتوں (حقوقِ اللہ اور حقوقِ العباد) کی حفاظت کرتے ہیں۔ وہ اپنے کیے ہوئے وعدوں کو پورا کرتے ہیں اور ان کی رعایت رکھتے ہیں۔
2گواہی کا قیام: وہ لوگ جو اپنی گواہیوں میں عدل اور حق پر قائم رہتے ہیں۔
3گواہی کا قیام: وہ بغیر کسی خوف یا جانبداری کے سچی گواہی دیتے ہیں۔
جس دن وہ قبروں سے تیزی سے نکلیں گے، گویا وہ کسی مقررہ نشانے کی طرف دوڑ رہے ہیں۔ ان کی نگاہیں جھکی ہوئی ہوں گی، ان پر ذلت و رسوائی چھا رہی ہوگی۔ یہی وہ دن ہے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا تھا۔
ان آیات کی رو سے، میدانِ حشر میں کافروں اور منکرینِ قیامت کی حالت درج ذیل ہوگی:
قیامت کے دن لوگوں کی حالت
1انتہائی تیزی اور بے بسی — وہ اپنی قبروں سے اتنی تیزی اور جلدی کے ساتھ نکلیں گے جیسے کوئی بت پرست یا مشرک اپنے جھوٹے معبودوں یا مقرر کردہ نشانیوں کی طرف تیزی سے لپکتا ہے
2حواس باختہ — وہ اس قدر حواس باختہ ہوں گے کہ انہیں فرشتوں کی پکار پر فوراً میدانِ حشر کی طرف دوڑنا پڑے گا۔
3نگاہیں جھکی ہوئی — شدید خوف اور شرمندگی کے باعث ان کی نظریں اوپر نہیں اٹھیں گی بلکہ وہ خوف کے عالم میں نیچے زمین پر ٹکی ہوں گی
4ذلت و رسوائی — دنیا میں تکبر کرنے والے اس دن سر تا پا ذلت و رسوائی میں مبتلا ہوں گے، اور وہ سمجھ جائیں گے کہ حق سچ تھا جس کا انہیں دنیا میں انکار تھا۔
ایک مانگنے والے نے اس عذاب کا سوال کیا جو واقع ہونے والا ہے۔ جو کافروں کے لیے ہے، اسے کوئی ٹالنے والا نہیں۔
آیات کا مفہوم :مانگنے والا (سائل): ان آیات میں ”مانگنے والے“ سے مراد بعض کفارِ مکہ (مثلاً ابو جہل یا نضر بن حارث) ہیں۔ جب نبی اکرم ﷺ انہیں اللہ کے عذاب اور قیامت سے ڈراتے تھے، تو وہ ازراہِ مذاق اور تکبر کے طور پر کہتے تھے: ”اے اللہ! اگر واقعی یہ تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا ہم پر کوئی دردناک عذاب نازل کر۔“
1عذابِ واقع — اس سے مراد وہ عذاب ہے جو دنیا میں (جیسے جنگِ بدر میں) یا پھر آخرت (قیامت کے دن) میں کافروں پر نازل ہو کر رہنا ہے
2کوئی ٹالنے والا نہیں — اللہ تعالیٰ واضح فرما رہے ہیں کہ جو عذاب کفار کے مقدر میں لکھ دیا گیا ہے، وہ یقینی طور پر آ کر رہے گا۔ زمین و آسمان کی کوئی طاقت یا سفارش اسے روک یا ٹال نہیں سکتی۔
جواباور وہ لوگ جن کے مالوں میں ایک مقررہ حصہ ہے۔ مانگنے والے (سائل) اور نہ مانگنے والے (محروم) کے لیے۔ اور جو روزِ جزا (قیامت) پر سچا یقین رکھتے ہیں۔ آیات (۲۴ تا ۲۶) کا مفہوم: ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے کامیاب اور جنتی انسانوں کی صفات بیان کی ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں صفت ان کی سخاوت اور ہمدردی ہے کہ وہ اپنے مال میں سے غریبوں اور ناداروں کا حصہ نکالتے ہیں۔ یہ حصہ صرف مانگنے والوں (سائل) تک محدود نہیں ہوتا، بلکہ اس میں وہ مجبور اور بے بس لوگ بھی شامل ہیں جو اپنی سفید پوشی یا غیرت کی وجہ سے کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے (محروم)۔ مزید یہ کہ ان کا یہ عمل دکھلاوے کے لیے نہیں ہوتا بلکہ اس کی جڑ میں روزِ قیامت پر ان کا پختہ اور سچا یقین ہوتا ہے۔
پس کیا ہوا ہے ان کافروں کو کہ (اے پیغمبر!) آپ کی طرف دوڑے چلے آ رہے ہیں۔ دائیں اور بائیں سے الگ الگ گروہ بنا کر۔ کیا ان میں سے ہر آدمی یہ طمع رکھتا ہے کہ وہ نعمتوں والی جنت میں داخل کر دیا جائے گا؟
جوابآیات (۳۶ تا ۳۸) کا مفہوم: ان آیات میں مکہ کے کافروں کی اس عجیب اور ہٹ دھرمی والی کیفیت پر تبصرہ کیا گیا ہے جو وہ آپ ﷺ کے سامنے اپناتے تھے۔ جب آپ ﷺ انہیں اللہ کے عذاب اور قیامت سے ڈراتے تھے، تو وہ مذاق اڑانے کے لیے آپ کی مجلس کے قریب آتے اور دائیں بائیں سے الگ الگ ٹولیاں (گروہ) بنا کر بیٹھ جاتے تاکہ قرآن اور آپ ﷺ کا استہزاء (مذاق) اڑائیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے اس طرزِ عمل اور تکبر پر طنز فرماتے ہیں کہ ایسی حرکتیں کرنے اور حق کا انکار کرنے کے باوجود، کیا ان میں سے ہر شخص یہ لالچ اور امید رکھتا ہے کہ اسے اللہ کی نعمتوں بھری جنت میں داخل کر دیا جائے گا؟
سرگرمیاں
11سرگرمیاں
وعدہ پورا نہ کرنے کے چند اہم نقصانات لکھیں ۔
وعدہ پورا نہ کرنے کے چند اہم نقصانات درج ذیل ہیں:
1اعتماد کا خاتمہ — ایک بار وعدہ ٹوٹنے کے بعد سامنے والے شخص کا آپ پر ہمیشہ کے لیے اعتبار ختم ہو جاتا ہے۔
2عزت اور ساکھ میں کمی — قول و قرار سے روگردانی انسان کو لوگوں کی نظروں میں گرا دیتی ہے، جس سے اس کی سماجی قدر کم ہوتی ہے۔
3منافقت کی علامت — احادیثِ مبارکہ میں وعدہ خلافی کو منافق کی نشانیوں میں شمار کیا گیا ہے۔
4مالی اور کاروباری نقصان — اگر کسی معاہدے یا کاروباری وعدے کو پورا نہ کیا جائے تو دوسرے فریق کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے
5ذلت و رسوائی — بدعہدی انسان کو معاشرے میں ذلیل و خوار کرتی ہے اور کوئی بھی شخص ایسے انسان پر دوبارہ بھروسہ کرنے کو تیار نہیں ہوتا
12سرگرمیاں
مختلف حالات میں صبر کی چند اہم مثالیں لکھیں ۔
مختلف حالات میں صبر کی چند اہم مثالیں درج ذیل ہیں۔
1طویل قطاروں میں انتظار — بینک، سپر اسٹور یا ٹریفک سگنل پر اپنی باری کا تحمل سے انتظار کرنا اور جلد بازی یا لڑائی جھگڑے سے گریز کرنا۔
2پریشانی یا نقصان کے وقت — کاروبار میں خسارہ ہونے یا اچانک کوئی مالی نقصان پہنچنے پر گھبرانے کے بجائے پرسکون رہ کر دوبارہ محنت کرنا۔
3دفتر یا کام کی جگہ — باس کی تنقید یا ساتھی کارکنوں کے رویے پر غصہ کرنے کے بجائے حکمت اور برداشت سے کام لینا۔
4رشتے نبھانا — خاندانی زندگی میں اختلافات کے وقت بات کو سمجھنا، غصے میں کوئی غلط فیصلہ نہ کرنا اور درگزر سے کام لینا۔
5بیماری یا مشکل حالات — بیماری میں علاج کے دوران ہمت نہ ہارنا اور شفا کے لیے پرامید رہتے ہوئے اللہ پر توکل کرنا۔
13سرگرمیاں
سورۃ المعارج (آیت 22 سے 35) میں اللہ تعالیٰ نے کامیابی اور جنت حاصل کرنے والے اہلِ ایمان کی چند بنیادی صفات بیان کی ہیں۔ آپ ان صفات کو اپنی روزمرہ زندگی میں اپنا کر ان درجات کو کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟:
سورۃ المعارج (آیت 22 سے 35) میں اللہ تعالیٰ نے کامیابی اور جنت حاصل کرنے والے اہلِ ایمان کی چند بنیادی صفات بیان کی ہیں۔ ان صفات کو اپنی روزمرہ زندگی میں اپنا کر آپ بھی ان درجات کو حاصل کر سکتے ہیں:
1خشوع و خضوع کے ساتھ نماز کی پابندی — اپنی نمازوں کو وقت پر ادا کریں اور دورانِ نماز دھیان اور توجہ اللہ کی طرف رکھیں۔
2مال میں حق دار کا حصہ — اپنے مال میں سے زکوٰۃ اور صدقہ باقاعدگی سے نکالیں، خاص طور پر ان غریبوں کی مدد کریں جو مانگنے سے گریز کرتے ہیں۔
3یومِ جزا پر پختہ یقین — روزِ قیامت اور حساب کتاب کے دن کو ہمیشہ یاد رکھیں تاکہ برے کاموں سے بچ سکیں۔
4گناہوں اور اللہ کے عذاب سے خوف — اللہ کی نافرمانیوں سے ڈریں کیونکہ کوئی بھی انسان اللہ کے عذاب سے بے خوف نہیں ہو سکتا۔
5شرمگاہوں کی حفاظت — اپنی پاکدامنی کا خیال رکھیں اور ناجائز جنسی تعلقات سے مکمل پرہیز کریں۔
6امانت اور وعدے کی پاسداری — جو ذمہ داری یا امانت آپ کو سونپی جائے اسے دیانتداری سے نبھائیں اور لوگوں سے کیے گئے وعدے پورے کریں۔
7سچی گواہی دینا — حق اور سچ کا ساتھ دیں، عدالت یا معاملات میں ہمیشہ سچی گواہی دیں۔
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔