قرآنی تعلیمات کے مطابق، اللہ تعالیٰ نے سرکشی اور تکبر کرنے والی قوموں پر مختلف قسم کے عبرتناک عذاب نازل کیے۔ ان قوموں کا انجام آج کی انسانیت کے لیے بہت بڑا سبق ہے۔
1
1۔ قومِ عاد (حضرت ہود علیہ السلام کی قوم): عذاب — اس قوم نے اللہ کی نافرمانی کی اور تکبر کیا۔ ان پر مسلسل سات راتیں اور آٹھ دن نہایت تند و تیز اور سرد ہوائیں چلائی گئیں، جس نے انہیں جڑوں سے اکھڑے ہوئے کھجور کے تنوں کی طرح زمین پر پٹخ دیا۔
2
1۔ قومِ عاد (حضرت ہود علیہ السلام کی قوم): حاصلِ سبق — غرور، تکبر اور طاقت کا نشہ انسان کو تباہی کی طرف لے جاتا ہے۔ اللہ کے عذاب کے سامنے کوئی طاقتور نہیں بچ سکتا۔
3
2۔ قومِ ثمود (حضرت صالح علیہ السلام کی قوم): عذاب — اس قوم نے معجزے کے طور پر طلب کی گئی اونٹنی کو ہلاک کر دیا اور اپنے نبی کو جھٹلایا۔ ان پر ایک ہولناک چنگھاڑ (یا زلزلہ) اور آسمانی بجلی کا عذاب آیا جس نے انہیں ان کے گھروں میں بے جان کر کے چھوڑ دیا۔
4
2۔ قومِ ثمود (حضرت صالح علیہ السلام کی قوم): حاصلِ سبق — اللہ کی نشانیوں کا مذاق اڑانا اور احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہلاکت کا باعث بنتی ہے۔
5
3۔ قومِ فرعون (حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دور کی قوم): عذاب — فرعون نے خدائی کا دعویٰ کیا اور ظلم و ستم کی انتہا کی۔ ان پر پہلے قحط، طوفان، ٹڈی دل اور خون جیسے عذاب آئے، اور بالآخر پوری قوم کو بحیرہ احمر (دریائے نیل) میں غرق کر دیا گیا۔
6
3۔ قومِ فرعون (حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دور کی قوم): حاصلِ سبق — تکبر، ظلم اور طاقت کا زوال یقینی ہے۔ اللہ ظالم حکمرانوں کو بھی ان کی اوقات یاد دلا دیتا ہے۔
7
4۔ قومِ نوح (حضرت نوح علیہ السلام کی قوم): عذاب — اس قوم نے بت پرستی کی اور ساڑھے نو سو سال تک تبلیغ کرنے کے باوجود اپنے نبی کا مذاق اڑایا۔ ان پر طوفانِ نوح کی صورت میں ایسا شدید عذاب آیا کہ زمین سے پانی ابل پڑا اور آسمان سے موسلادھار بارش ہوئی، جس میں نافرمان لوگ غرق ہو گئے۔
8
4۔ قومِ نوح (حضرت نوح علیہ السلام کی قوم): حاصلِ سبق — اللہ کی مہلت کا غلط فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔ کفر اور مسلسل نافرمانی کا انجام دنیا میں بھی رسوائی اور تباہی ہے۔
9
5۔ قومِ لوط (حضرت لوط علیہ السلام کی قوم): عذاب — یہ قوم بدکاری، ہم جنس پرستی اور کھلے عام برائیوں میں مبتلا تھی۔ ان کی بستیوں کو الٹ دیا گیا، اوپر سے پتھروں کی بارش برسائی گئی اور گندھک اور آگ کے طوفان نے انہیں صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔
10
5۔ قومِ لوط (حضرت لوط علیہ السلام کی قوم): حاصلِ سبق — اخلاقی پستی اور فطری اصولوں کے خلاف عمل کرنا معاشرتی تباہی اور سخت ترین عذاب کا باعث بنتا ہے۔