آٹھویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 17: سبق 17: سورۃ الحاقہ

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں · 12 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

کذَّبَتْ ثَمُوْدُ وَعَادٌ بِالْقَارِعَةِ ۔

آیت کی رو سے قوم ثمود اور عاد نے کس چیز کا انکار کیا ؟

ترجمہ

(قومِ) ثمود اور (قومِ) عاد نے اس کھڑکھڑا دینے والی (قیامت) کو جھٹلایا تھا۔

آیت کریمہ کی رو سے، ان دونوں قوموں کا سب سے بڑا اور بنیادی انکار القارعہ یعنی قیامت اور روزِ آخرت کا تھا۔

القارعہ کا مفہوم

1 ”القارعہ“ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے، جس کا لغوی معنی ”زور سے کھٹکھٹانے والی“ یا ”دہلا دینے والی“ ہے۔ اسے یہ نام اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ یہ اپنی ہولناکیوں کے ساتھ ناگہانی طور پر آ کھڑی ہوگی اور سب کو ہلا کر رکھ دے گی۔
2 انکار کا انجام — اللہ کی وحدانیت کے ساتھ ساتھ ان قوموں نے اس بات کا انکار کیا تھا کہ انہیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ اسی تکبر اور انکار کی پاداش میں قوم ثمود کو ایک حد سے بڑھی ہوئی سخت چنگھاڑ کے ذریعے اور قوم عاد کو نہایت تند و تیز اور گرجدار آندھی کے ذریعے ہلاک کر دیا گیا۔
2 مختصر جوابات

وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُوا بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَى كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ۔

قوم عاد کی ہلاکت کی کیفیت (آیات کی روشنی میں) تحریر کریں ۔

ترجمہ

اور قوم عاد تو وہ نہایت سخت کڑک دار اور بے قابو آندھی کے ذریعے ہلاک کر دیے گئے۔ اللہ نے اس آندھی کو ان پر مسلسل سات راتیں اور آٹھ دن مسلط رکھا۔ پھر تو (اے دیکھنے والے!) تو ان لوگوں کو اس (آندھی) میں اس طرح گرے ہوئے دیکھتا (گویا وہ) کھجور کے گرے ہوئے کھوکھلے تنے ہیں

ان آیات مبارکہ اور دیگر قرآنی شواہد کی رو سے قوم عاد کی ہلاکت درج ذیل ہولناک کیفیت پر مشتمل تھی

قوم عاد کی ہلاکت کی کیفیت (آیات کی روشنی میں)

1 بے قابو اور طوفانی ہوا — ان پر بھیجی جانے والی ہوا عام ہوا نہیں تھی، بلکہ یہ نہایت سرد، چیختی ہوئی اور حد سے زیادہ تیز (صرصر) طوفانی ہوا تھی جو کسی کے قابو میں نہیں آ رہی تھی
2 طویل عذاب — یہ خوفناک آندھی صرف چند گھنٹے نہیں چلی، بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے مسلسل سات راتوں اور آٹھ دنوں تک جاری رہی
3 مکمل تباہی — اس ہوا کی شدت کا یہ عالم تھا کہ اس نے ہر چیز کو اکھاڑ کر پھینک دیا اور سب کچھ تباہ کر ڈالا
4 کھجور کے تنوں کی مانند ہلاکت — قوم کے کافر سردار اور لوگ اس طوفان کے آگے بے بس ہو گئے۔ ہو اانہیں زمین پر اس طرح پچھاڑ دیتی تھی کہ ان کے بے جان جسم یوں دکھائی دیتے تھے جیسے کھجور کے کھوکھلے اور سوکھے ہوئے تنے زمین پر اکھڑ کر گرے ہوں
3 مختصر جوابات

وَانْشَقَّتِ السَّمَاءُ فَهِيَ يَوْمَئِذٍ وَاهِيَةٌ

آیت میں آسمان کی کیا کیفیت بیان ہوئی ہے؟ :

ترجمہ

اور آسمان پھٹ جائے گا، پس وہ اس دن بالکل کمزور ہو جائے گا۔

آسمان کی کیفیت۔ اس آیتِ مبارکہ میں قیامت کے دن آسمان کی درج ذیل کیفیات بیان کی گئی ہیں

1 پھٹ جانا (انشقاق) — یہ کائنات اور مضبوط آسمانی کرّے جو اپنی ساخت میں بے حد مستحکم ہیں، قیامت کی ہولناکیوں اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے پھٹ جائیں گے۔
2 کمزوری اور ڈھیلا پن (واہیہ) — عربی زبان میں ’واھیۃ‘ ایسی کمزور اور ٹوٹی ہوئی چیز کو کہتے ہیں جس کی بندش یا ساخت ڈھیلی پڑ جائے۔ یعنی اتنے عظیم اور مضبوط نظام کی قوت ختم ہو جائے گی اور وہ انتہائی بوسیدہ اور کمزور حالت میں آ جائے گا۔
4 مختصر جوابات

والمَلَکُ عَلی اَرجَآئھا وَیَحمِلُ عَرشَ رَبِّکَ فَوقَھم یَومَئِذٍ ثَمٰنِیَۃٌ

آیت کی رو سے قیامت کے دن عرش کو کتنے فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے ؟

ترجمہ

اور فرشتے آسمان کے کناروں پر ہوں گے اور اس دن آپ کے رب کے عرش کو آٹھ فرشتے اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔

عرش اٹھانے والے فرشتے۔ آیت کریمہ کی رو سے، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عرش کو اٹھانے والے فرشتوں کی تعداد آٹھ ہوگی۔ مفسرین اور احادیث کی روشنی میں یہ وضاحت ملتی ہے

1 موجودہ تعداد — دنیاوی اعتبار سے فی الحال عرش کو اٹھانے والے فرشتوں کی تعداد چار ہے۔
2 قیامت کے دن — میدانِ حشر میں جب یہ ہولناک دن ہوگا، تو ان چار فرشتوں کی تائید اور مدد کے لیے مزید چار فرشتے شامل کر دیے جائیں گے، جس کے بعد کل تعداد آٹھ ہو جائے گی
5 مختصر جوابات

انَّہٗ کَانَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ الْعَظِیْمِ ﴿۳۳﴾ وَ لَا یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِ ﴿۳۴﴾

آیات میں مجرموں کو کس وجہ سے جہنم میں پھینکا جائے گا ؟

ترجمہ

بیشک وہ عظمت والے اللہ پر ایمان نہیں لاتا تھا۔ اور مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا تھا۔

جہنم میں ڈالنے کی وجوہات (آیت کی رو سے) آیات کریمہ کی روشنی میں ان مجرموں کو جہنم میں پھینکے جانے کی بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں

1 کفر اور اللہ کا انکار — وہ خدائے بزرگ و برتر کی وحدانیت، اس کی عظمت اور یومِ حساب پر ایمان نہیں رکھتے تھے
2 ۔ حقوق العباد کی ادائیگی سے غفلت۔ وہ نہ خود غریبوں اور مسکینوں کا پیٹ بھرتے تھے اور نہ ہی دوسروں کو اس کی ترغیب (حوصلہ افزائی) دیتے تھے۔

تفصیلی جوابات

6 تفصیلی جوابات

فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ فَيَقُولُ هَاؤُمُ اقْرَءُوا كِتَابِيَهْ (19) إِنِّي ظَنَنْتُ أَنِّي مُلَاقٍ حِسَابِيَهْ ۔

ترجمہ اور مفہوم

ترجمہ

تو وہ جو اپنا نامۂ اعمال دہنے ہاتھ میں دیا جائے گا کہے گا لو میرے نامۂ اعمال پڑھو۔ مجھے یقین تھا کہ میں اپنے حساب کو پہنچوں گا۔

قیامت کے دن نیک لوگوں (جنتیوں) کے اچھے انجام اور ان کی خوشی کا منظر بیان کیا گیا ہے۔

1 دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال کا ملنا — یہ اس بات کی علامت ہے کہ انسان دنیا میں نیک اعمال کرتا رہا ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہے۔
2 مارے خوشی کے پکارنا — وہ شخص اس قدر خوش اور مطمئن ہوگا کہ ہر شخص کو اپنا نامہِ اعمال دکھائے گا اور فخریہ کہے گا کہ آؤ میرا اعمال نامہ پڑھ لو (جس میں صرف کامیابیاں درج ہیں)۔
3 حساب کا یقین — وہ کہے گا کہ میں نے دنیا میں رہتے ہوئے ہی آخرت اور حساب کتاب پر پختہ ایمان رکھا تھا اور اسی دن کی تیاری کی تھی۔
7 تفصیلی جوابات

سورۃ الحاقہ کا تعارف اور مرکزی مضمون بیان کریں۔

جواب صفحہ 133 پر ہے
8 تفصیلی جوابات

وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِشِمَالِهِ فَيَقُولُ يَا لَيْتَنِي لَمْ أُوتَ كِتَابِيَهْ۔ وَلَمْ أَدْرِ مَا حِسَابِيَهْ۔

ترجمہ اور مفہوم لکھیں ۔

ترجمہ

اور وہ شخص جس کا اعمال نامہ اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ کہے گا: ”اے کاش! مجھے میرا اعمال نامہ نہ دیا جاتا۔ اور کاش! میں نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے۔

مفہوم : بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال۔ یہ اس شخص کی مکمل ناکامی اور بدبختی کی علامت ہوگی کہ اسے دائیں کے بجائے بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال ملے گا۔

1 شدید ندامت اور خوف — وہ دنیا میں کی گئی اپنی بداعمالیوں کو دیکھ کر اس قدر گھبرا جائے گا کہ تمنا کرے گا کہ کاش اسے یہ اعمال نامہ دیا ہی نہ جاتا تاکہ وہ ذلت و رسوائی سے بچ جاتا
2 حساب کا ڈر — وہ شخص خوف اور پریشانی میں کہے گا کہ کاش مجھے یہ معلوم ہی نہ ہوتا کہ میرے اعمال کا حساب کتاب کیا ہے اور میرا انجام کتنا بھیانک ہے
9 تفصیلی جوابات

سورۃ الحاقہ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔

جواب صفحہ 133 پر ہے
10 تفصیلی جوابات

خُذُوهُ فَغُلُّوهُ (۳۰) ثُمَّ الْجَحِيمَ صَلُّوهُ (۳۱) ثُمَّ فِي سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُونَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوهُ۔

ترجمہ اور مفہوم

ترجمہ

(فرشتوں سے کہا جائے گا کہ) اسے پکڑو اور اس کی گردن میں طوق ڈال دو۔ پھر اسے دوزخ میں جھونک دو۔ پھر اسے ایسی زنجیر میں جکڑ دو جس کی لمبائی ستر گز ہے۔

ان آیات میں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کافروں اور سرکشوں کی عبرتناک سزا کا نقشہ کھینچ رہے ہیں

1 طوق اور زنجیریں — نافرمان شخص کو جب اس کا نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں ملے گا تو وہ دنیا میں اپنی نافرمانیوں پر پچھتا رہا ہوگا۔ تب اللہ کے حکم سے فرشتے اسے پکڑ لیں گے، اس کی گردن میں عذاب کا طوق ڈال دیا جائے گا اور اس کے ہاتھ گردن سے باندھ دیے جائیں گے۔
2 جہنم میں ڈالنا — اس ذلت آمیز حالت میں اسے بھڑکتی ہوئی آگ (جہنم) میں ڈال دیا جائے گا تاکہ وہ اس کی تپش اور لپیٹ کا مزہ چکھے۔
3 ستر گز کی زنجیر — اسے ایک ایسی لمبی زنجیر میں پرویا جائے گا جس کی لمبائی ستر گز بتائی گئی ہے۔ مفسرین کے مطابق اس زنجیر کو اس کے جسم کے ایک حصے میں داخل کر کے دوسرے حصے سے نکالا جائے گا، جو کہ انتہائی اذیت ناک اور رسوا کن سزا ہوگی۔

سرگرمیاں

11 سرگرمیاں

روز قیامت صور پھونکے جانے والے صور سے متعلق کوئی دو آیات قرآنی اور دو احادیث لکھیں۔

قرآنی آیات اور احادیثِ مبارکہ

1 قرآنی آیات: سورۃ الزمر (آیت 68) میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”اور صور پھونکا جائے گا تو جتنے لوگ آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں ہیں سب بے ہوش ہو کر گر پڑیں گے، سوائے ان کے جنہیں اللہ (خود بچانا) چاہے۔ پھر دوسری بار صور پھونکا جائے گا تو وہ سب یکبارگی کھڑے ہو کر (حالاتِ میدانِ حشر کو )دیکھنے لگیں گے
2 قرآنی آیات: سورۃ النمل (آیت 87) میں فرمایا گیا: ”اور جس دن صور پھونکا جائے گا تو جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے گھبرا اٹھے گا، سوائے اس کے جسے اللہ چاہے اور سب عاجزی کے ساتھ اس کے حضور حاضر ہوں گے۔
3 احادیثِ مبارکہ: صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی متفق علیہ حدیث ہے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دونوں صور پھونکے جانے کے درمیان چالیس (۴۰) کا وقفہ ہوگا۔“ راوی نے عرض کی: کیا چالیس دن؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نہیں کہہ سکتا۔ عرض کی: چالیس سال؟ فرمایا: میں نہیں کہہ سکتا۔ عرض کی: چالیس ماہ؟ فرمایا: میں نہیں کہہ سکتا۔
4 احادیثِ مبارکہ: حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صور پھونکے جانے کی کیفیت کے بارے میں ایک طویل حدیث میں فرمایا: ”پھر صور پھونکا جائے گا، جو بھی اسے سنے گا وہ اپنی گردن جھکا لے گا اور اونچی کر لے گا (گھبراہٹ اور توجہ کی کیفیت میں)۔ سب سے پہلے اسے سننے والا ایک شخص ہوگا جو اپنے اونٹوں کے حوض کو لیپ رہا ہوگا، وہ بھی بے ہوش ہو جائے گا اور لوگ بھی بے ہوش ہو جائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ بارش نازل فرمائے گا (یا فرمایا کہ شبنم جیسی بارش ہوگی) جس سے لوگوں کے جسم اگیں گے (اور وہ زندہ ہوں گے)، پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو وہ کھڑے ہو کر دیکھ رہے ہوں گے۔“
12 سرگرمیاں

پانچ نافرمان قوموں قوم عاد، قوم ثمود ،حضرت نوح ؑ ،حضرت لوطؑ اور قوم فرعون پر آنے والے عذابوں کے بارے میں اور ان سے حاصل ہونے والے اسباق لکھیں ۔

قرآنی تعلیمات کے مطابق، اللہ تعالیٰ نے سرکشی اور تکبر کرنے والی قوموں پر مختلف قسم کے عبرتناک عذاب نازل کیے۔ ان قوموں کا انجام آج کی انسانیت کے لیے بہت بڑا سبق ہے۔

1 1۔ قومِ عاد (حضرت ہود علیہ السلام کی قوم): عذاب — اس قوم نے اللہ کی نافرمانی کی اور تکبر کیا۔ ان پر مسلسل سات راتیں اور آٹھ دن نہایت تند و تیز اور سرد ہوائیں چلائی گئیں، جس نے انہیں جڑوں سے اکھڑے ہوئے کھجور کے تنوں کی طرح زمین پر پٹخ دیا۔
2 1۔ قومِ عاد (حضرت ہود علیہ السلام کی قوم): حاصلِ سبق — غرور، تکبر اور طاقت کا نشہ انسان کو تباہی کی طرف لے جاتا ہے۔ اللہ کے عذاب کے سامنے کوئی طاقتور نہیں بچ سکتا۔
3 2۔ قومِ ثمود (حضرت صالح علیہ السلام کی قوم): عذاب — اس قوم نے معجزے کے طور پر طلب کی گئی اونٹنی کو ہلاک کر دیا اور اپنے نبی کو جھٹلایا۔ ان پر ایک ہولناک چنگھاڑ (یا زلزلہ) اور آسمانی بجلی کا عذاب آیا جس نے انہیں ان کے گھروں میں بے جان کر کے چھوڑ دیا۔
4 2۔ قومِ ثمود (حضرت صالح علیہ السلام کی قوم): حاصلِ سبق — اللہ کی نشانیوں کا مذاق اڑانا اور احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہلاکت کا باعث بنتی ہے۔
5 3۔ قومِ فرعون (حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دور کی قوم): عذاب — فرعون نے خدائی کا دعویٰ کیا اور ظلم و ستم کی انتہا کی۔ ان پر پہلے قحط، طوفان، ٹڈی دل اور خون جیسے عذاب آئے، اور بالآخر پوری قوم کو بحیرہ احمر (دریائے نیل) میں غرق کر دیا گیا۔
6 3۔ قومِ فرعون (حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دور کی قوم): حاصلِ سبق — تکبر، ظلم اور طاقت کا زوال یقینی ہے۔ اللہ ظالم حکمرانوں کو بھی ان کی اوقات یاد دلا دیتا ہے۔
7 4۔ قومِ نوح (حضرت نوح علیہ السلام کی قوم): عذاب — اس قوم نے بت پرستی کی اور ساڑھے نو سو سال تک تبلیغ کرنے کے باوجود اپنے نبی کا مذاق اڑایا۔ ان پر طوفانِ نوح کی صورت میں ایسا شدید عذاب آیا کہ زمین سے پانی ابل پڑا اور آسمان سے موسلادھار بارش ہوئی، جس میں نافرمان لوگ غرق ہو گئے۔
8 4۔ قومِ نوح (حضرت نوح علیہ السلام کی قوم): حاصلِ سبق — اللہ کی مہلت کا غلط فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔ کفر اور مسلسل نافرمانی کا انجام دنیا میں بھی رسوائی اور تباہی ہے۔
9 5۔ قومِ لوط (حضرت لوط علیہ السلام کی قوم): عذاب — یہ قوم بدکاری، ہم جنس پرستی اور کھلے عام برائیوں میں مبتلا تھی۔ ان کی بستیوں کو الٹ دیا گیا، اوپر سے پتھروں کی بارش برسائی گئی اور گندھک اور آگ کے طوفان نے انہیں صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔
10 5۔ قومِ لوط (حضرت لوط علیہ السلام کی قوم): حاصلِ سبق — اخلاقی پستی اور فطری اصولوں کے خلاف عمل کرنا معاشرتی تباہی اور سخت ترین عذاب کا باعث بنتا ہے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.