آٹھویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 14: سبق 14: سورۃ واقعہ — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں · 13 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ ۔ اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجَّا ۔ وَّبُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّا ۔ فَكَانَتْ هَبَاءً مُّنبَثًّا ۔

ایات کریمہ میں قیامت کی کیا ہولناکی بیان کی گئی ہے؟

ترجمہ

کسی کو پست کرنے والی کسی کو بلند کرنے والی ہو گی ۔جب زمین ایک ساتھ زلزلے سے ہلا دی جائے گی اور پہاڑ بلکل ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے پھر وہ بکھرا ہوا غبار بن کر رہ جائیں گے۔

آیات کریمہ میں قیامت کی ہولنا کی اس طرح بیان کی گئی ہے:

قیامت کی ہولناکیاں

1 زمین کا لرزنا — زمین کو شدّت کے ساتھ ہلایا جائے گا اور وہ کانپ اٹھے گی۔
2 پہاڑوں کا ٹوٹنا — بڑے بڑے پہاڑ بالکل ریزہ ریزہ ہو کر ریت کی طرح بکھر جائیں گے۔
3 غبار بننا — پہاڑ اور سخت چیزیں اڑتے ہوئے غبار اور ذروں کی طرح ہو جائیں گی۔
4 لوگوں کا انجام — اس دن مخلوق کو پست کرنے اور بلند کرنے والا معاملہ ہوگا
جواب یعنی کفار مشرکین اور اللہ کے نافرمانوں کے لئے قیامت ذلت و رسوائی بن کر آئے گی اور انبیاء مومنین اور اللہ کے فرمانبردار بندوں کے لئے قیامت عزت ،شرف اور بلندی کا ذریعہ بن جائے گی۔
2 مختصر جوابات

فَأَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ ۔ وَأَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ ۔ وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ ۔

آیات کریمہ کی روشی قیامت کے دن انسانوں کے کون کون سے گرو ہ ہوں گے۔

ترجمہ

تو دائیں ہاتھ والے تو کیا خوب ہیں دائیں ہاتھ والے ۔اور بائیں ہاتھ والے تو کیا برے ہیں بائیں ہاتھ والے ۔اور جو سبقت لی جانے والےہیں وہ تو ہیں ہی سبقت لے جانے والے۔

آیات کریمہ کی رو سے قیامت کے دن انسانوں کے تین گرو ہ ہوں گے۔

1 دائیں ہاتھ والے — دائیں ہاتھ والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو آخرت میں کامیاب ہوں گے اور انہیں ان کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اور دائیں ہاتھ والے سکھ ،چین اور خوشی میں ہوں گے۔
2 بائیں ہاتھ والے — دوسرا گروہ بائیں ہاتھ والے لوگوں کا ہوگا ۔بائیں ہاتھ والوں سے مراد بدکار لوگ ہیں جو آخرت میں ناکام ہوں گے اور انہیں ان کا اعمال نامہ بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اور وہ بہت برے حال میں ہوں گے یعنی ذلت رسوائی اور غم میں ہوں گے۔
3 مقربین — تیسرا گروہ سبقت لے جانے والوں کا ہوگا ۔سبقت لے جانے والوں سے مراد ہر دور میں ایمان قبول کرنے اور نیک اعمال کرنے میں دوسروں پر سبقت لے جانے والے لوگ
جواب اور سبقت لے جانے والے اللہ کے انعامات کے حصول میں بھی دوسروں سے سبقت لے جائیں گے اور یہ اللہ کے مقرب ہوں گے یعنی اللہ کے قریب ہوں گے یعنی دوسرے لوگوں کے مقابلے میں اعلی مقام و مرتبے پر ہوں گے قیامت کے دن جو اللہ سے جتنا قریب ہوگا اتنا ہی اعلی مقام و مرتبے کا حامل ہوگا۔
3 مختصر جوابات

فِي سِدْرٍ مَّخْضُودٍ۔ وَطَلْحٍ مَّنضُودٍ۔ وَظِلٍّ مَّمْدُودٍ۔ وَمَاءٍ مَّسْكُوبٍ ۔

آیات کریمہ کی روسے اہل جنت کی کون سی نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے؟

ترجمہ

وہ ہوں گے بغیر کانٹوں کی بیریوں میں ۔اور تہہ بہ تہہ کیلوں کے درختوں میں ۔اور لمبے لمبے سایوں میں ۔اور بہتے ہوئے پانی میں

ان آیات میں اہل جنت کی درج ذیل نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

1 اہل جنت بغیر کانٹوں کی بیریوں میں ہوں گے ۔کہتےہیں کہ بیری کے درخت کے کانٹے جتنی کم ہوں اتنا ہی اس کا پھل اچھا اور مزیدار ہوتا ہے اور جنت کی بیریاں بالکل بے خار ہوں گی یعنی ان بیریوں کا پھل دنیا کی بیریوں جیسا نہیں بلکہ بہت لذیذ ہوگا
2 جنت میں کیلوں کے درخت ہوں گے اور وہ تہہ بہ تہہ ہوں گے یعنی بڑی تعداد میں ہوں گے۔
3 جنت کا موسم بڑا دلکش ہوگا اہل جنت وہاں لمبے لمبے سایوں میں ہوں گے ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ”جنت میں ایک ایسا درخت ہے جس کے سائے میں چلنے والا انتہائی تیز رفتار گھوڑے کا سوار 100 سال تک چل کر بھی اسے طے نہیں کر سکتا۔
4 اہل جنت بہتے ہوئے پانی سے لطف اندوز ہوں گے یعنی جنت کی نہریں جو بہہ رہی ہوں گی اور اہل جنت جہاں چاہیں گے وہاں ان نہروں کو بہا کر لے جائیں گے اور جنت میں چار قسم کی نہریں ہوں گی یعنی پانی ،دودھ ،شراب اور شہد
4 مختصر جوابات

فَشَارِبُونَ عَلَيْهِ مِنَ الْحَمِيمِ۔ فَشَارِبُونَ شُرْبَ الْهِيمِ ۔

آیات کریمہ کی روسے جہنمیوں کی مہمان نوازی کس سے کی جائے گی؟

ترجمہ

پھر اس پر کھولتا ہوا پانی پیو گے ۔پھر ایسے ہی پیو کہ جیسے پیاسےاونٹ پیتے ہیں۔

جواب آیات کریمہ کی روسے جہنمیوں کی مہمان نوازی کھولتے ہوئے پانی سے کی جائے گی اور وہ اس پانی کو شدید پیاسے اونٹوں کی طرح تیزی سے بڑے بڑے گھونٹ لے کر پیئیں گے ۔ھیم ایسے اونٹ کو کہتے ہیں جسے نہ بجھنے والی پیاس کی بیماری لگی ہو یعنی شدید گرمی کا مارا ہوا اونٹ جوپیاس کی شدت سے ایک دم پانی چڑھاتا چلا جاتا ہے یہی حال جہنمیوں کا ہوگا لیکن وہ گرم پانی جب منہ کے قریب پہنچائیں گے تو منہ کو بھون ڈالے گا اور پیٹ میں پہنچے گا تو آنتیں کٹ کر باہر آپڑیں گی۔
5 مختصر جوابات

لَّا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ

میں قرآن حکیم کی تلاوت کا کون سا ادب بیان ہوا ہے؟

ترجمہ

اس کو وہی لوگ چھوتے ہیں جو خوب پاک ہیں ۔

اس آیت میں قرآن پاک کو چھونے کے لیے ظاہری و باطنی طہارت اور پاکیزگی کا ادب بیان ہوا ہے، یعنی بے وضو یا ناپاک حالت میں قرآن کو ہاتھ نہیں لگانا چاہیے۔

اہم نکات

1 ظاہری طہارت — قرآن مجید کو چھونے سے پہلے باوضو ہونا ضروری ہے۔
2 باطنی طہارت — دل کا شرک، گناہوں اور برے خیالات سے پاک ہونا۔

تفصیلی جوابات

6 تفصیلی جوابات

وَأَصْحَابُ الشِّمَالِ مَا أَصْحَابُ الشِّمَالِ۔ فِي سَمُومٍ وَحَمِيمٍ، وَظِلٍّ مِّن يَحْمُومٍ۔ لَّا بَارِدٍ وَلَا كَرِيمٍ۔ إِنَّهُمْ كَانُوا قَبْلَ ذَٰلِكَ مُتْرَفِينَ۔

آیات کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں۔

ترجمہ

اور بائیں ہاتھ والے کیا برے ہیں بائیں ہاتھ والے ۔جو جہنم کی سخت گرم ہوا اور کھولتے ہوئے پانی میں ہونگے ۔اور سیاہ دھوئیں کے سائے میں ہوں گے ۔جو نہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ آرام دے ۔بے شک یہ لوگ اس سے پہلے بڑے خوشحال تھے۔

1 اصحاب الشمال کا تعارف: ان آیات میں ان بدبخت لوگوں کا تذکرہ ہے جنہیں قیامت کے دن ان کا نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ قرآن پاک نے ان کے ہولناک انجام کو سوالیہ انداز میں بیان کیا ہے تاکہ ان کی ہلاکت اور رسوائی کی شدت کا احساس ہو۔
2 جہنم کا عذاب اور سائے: سموم (لو کی لپٹ) — جہنم کی ایسی سخت گرم اور تیز ہوا جو جسم کے اندر تک اتر جائے۔
3 جہنم کا عذاب اور سائے: حمیم (کھولتا ہوا پانی) — پیاس کی شدت کو مٹانے کے بجائے اور زیادہ جلانے والا کھولتا ہوا پانی۔
4 جہنم کا عذاب اور سائے: ظل من يحموم (کالا دھواں) — جہنم کے دھوئیں کا سیاہ سایہ جو نہ تو گرمی سے بچا سکے گا اور نہ ہی کوئی راحت یا سکون دے گا کیونکہ وہ خود سراسر عذاب ہوگا۔
5 دنیا کی خوشحالی اور غفلت: آیت 45 بتاتی ہے کہ یہ لوگ دنیا کی زندگی میں بڑے ناز و نعم اور عیش و عشرت میں رہتے تھے۔ اسی مال و دولت اور طاقت نے انہیں سرکش بنا دیا تھا، وہ اللہ کے احکامات کو بھول بیٹھے اور بڑے بڑے گناہوں (کفر و شرک) پر اصرار کرتے رہے۔
7 تفصیلی جوابات

سورۃ واقعہ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں

جواب صفحہ نمبر 114 پر ہے۔
8 تفصیلی جوابات

أَفَرَأَيْتُمُ الْمَاءَ الَّذِي تَشْرُبُونَ (۶۸) أَأَنتُمْ أَنزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنزِلُونَ (۶۹) لَوْ نَشَاءُ جَعَلْنَاهُ أُجَاجًا فَلَوْلَا تَشْكُرُونَ۔

آیات کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں۔

ترجمہ

بھلا تم دیکھو جو پانی تم پیتے ہو۔ کیا تم نے اسے بادل سے اتارا ہے یا ہم اتارنے والے ہیں ؟اگر ہم چاہیں تو ہم اسے کھارا بنا دیں پھر تم شکر کیوں نہیں کرتے؟

جواب ان آیات میں انسان کو جو پانی وہ پیتا ہے اس پرغورو فکر کی دعوت دی جا رہی ہے کہ جو پانی تم پیتے ہو وہ اللہ تعالی نے نازل کیا ہے ۔سورج کی گرمی سے سمندر کا پانی بھاپ بن کر اٹھتا ہے پھر ہوائیں اسے لے کر اٹھتی ہیں پھر یہ بھا پ جمع کر بادل کی شکل اختیار کرتی ہے پھر اللہ کے حکم سے بادلوں کی تقسیم ہوتی ہے اور وہ جس زمین کے حصے میں اس کا پانی مقرر ہوتا ہے اس طرح اسےپہنچ جاتا ہے یہ بارش کا نظام اللہ کی قدر ت کی بہت بڑی نشانی ہے۔ آیت نمبر 70 میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اگر اللہ چاہے تو پانی کو پینے کے قابل ہی نہ چھوڑے لیکن اللہ انتہائی مہربان ہے کہ نمکین سمندرسے صاف ستھرا پانی اٹھا کر برساتا ہے اس لیے ہمیں اللہ کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرنا چاہیے ۔پانی کے اندر اللہ نے جو حیرت انگیز خواص رکھےہیں ان میں سے ایک خاصہ یہ بھی ہے کہ اس کے اندر خواہ کتنی ہی چیزیں تحلیل ہو جائیں جب وہ حرارت کے اثر سے بھاپ میں تبدیل ہوتا ہے تو ساری آمیزش نیچے چھوڑ دیتا ہے اور صرف اپنی کارآمد اجزاء کو لے کر ہوا میں اڑتا ہے یہ خاصیت اگر اس میں نہ ہوتی تو بھاپ میں تبدیل ہوتےوقت بھی وہ سب چیزیں اس میں شامل رہتیں جو پانی ہونے کی حالت میں اس کے اندر تحلیل شدہ تھیں اس صورت میں سمندر سے جو بھاپیں اٹھتیں ان میں سمندر کا نمک بھی شامل ہوتا اور ان کی بارش تمام روئے زمین کو کڑوا اور خراب کر دیتی ۔
9 تفصیلی جوابات

سورۃ واقعہ کی روشنی میں قرآن حکیم کی عظمت کے حوالے سے کوئی سی چار باتیں بیان کریں؟

سورۃ واقعہ کی روشنی میں قرآن حکیم کی عظمت کے بارے میں چار باتیں یہ ہیں:

1 قرآن اللہ کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہے۔
2 قرآن حکیم عظمت اور عزت والی کتاب ہے جو لوح محفوظ میں ہے ۔
3 قرآن کو صرف پاکیزہ لوگ ہی چھوتے ہیں اس لیے اس کا ادب و احترام ضروری ہے۔
4 قرآ ن تمام جہانوں کے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اس لیے یہ ہدایت کا سچا اور کامل ذریعہ ہے
10 تفصیلی جوابات

فَلَوْلَا إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ (۸۳) وَأَنتُمْ حِينَئِذٍ تَنظُرُونَ (۸۴) وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنكُمْ وَلَٰكِن لَّا تُبْصِرُونَ۔

آیات کریمہ کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں۔

ترجمہ

پھر کیوں نہیں روح کو لوٹا دیتے جب وہ حلق تک آپہنچتی ہے۔ اور تم اس وقت دیکھ رہے ہوتے ہو ۔اور ہم تم سے زیادہ اس مرنے وا لے کے قریب ہوتے ہیں مگر تم نہیں دیکھتے۔

مفہوم

1 نزع کی حالت (جان کا گلے تک پہنچنا) — انسان جب موت کے قریب ہوتا ہے اور اس کی روح جسم سے نکلنے لگتی ہے، تو گھر والے اور طبیب سب بے بس ہو کر صرف دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ کوئی ڈاکٹر یا طاقتور انسان اسے موت کے منہ سے واپس نہیں لا سکتا۔
2 اللہ کا قرب — اس نازک ترین لمحے میں اللہ کی قدرت اور اس کے فرشتے اس مرنے والے کے اتنے قریب ہوتے ہیں کہ ظاہری دنیا والے اس کا ادراک نہیں کر سکتے۔ یہاں قرب سے مراد علمی و تسلط کا قرب یا فرشتوں کی موجودگی ہے۔
3 انسان کی عاجزی کا چیلنج — اللہ تعالیٰ کافروں اور منکروں کو چیلنج کرتا ہے کہ اگر تمہارا یہ خیال ہے کہ تم کسی حساب کتاب، جزا سزا یا الٰہی اقتدار کے پابند نہیں ہو اور اپنے اس دعوے میں سچے ہو کہ زندگی اور موت پر تمہارا یا قدرت کا کوئی ضابطہ نہیں، تو اس گلے تک آئی ہوئی روح کو واپس اس کے جسم میں لوٹا کر دکھاؤ۔ جیسا کہ اس کو پیدا کرنے اور روح ڈالنے پر وہ اکیلا قادر تھا، وہی اسے موت دینے اور دوبارہ زندہ کرنے کا مالک ہے۔
11 تفصیلی جوابات

سورۃ واقعہ سے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔

جواب صفحہ نمبر 114 پر ہے۔

سرگرمیاں

12 سرگرمیاں

تین کالم بنا کر مقربین دائیں ہاتھ والوں اور بائیں ہاتھ والوں کے اوصاف انجام اور موت کی تفصیل لکھیں۔

سورۃ الواقعہ (آیت نمبر 7 سے 56) کی روشنی میں، انسانوں کے ان تینوں گروہوں کے اوصاف، موت کے وقت کی کیفیت اور ان کے انجام کی تفصیلات درج ذیل تین کالموں میں بیان کی گئی ہیں:

1 مقربین (اللہ کے انتہائی قریب): اوصاف: • یہ وہ لوگ ہیں جو نیکیوں میں سبقت لے جانے والے (السابقون) ہیں۔ • یہ اللہ کے مقرب بندے ہیں۔
2 دائیں ہاتھ والے (نیک اور کامیاب): اوصاف: • یہ عام نیکوکار، دائیں بازو والے (اصحاب الیمین) لوگ ہیں جن کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔
3 بائیں ہاتھ والے (بدکار اور ناکام): اوصاف: • یہ وہ بدبخت لوگ (اصحاب الشمال) ہیں جو دنیا میں کھلے کفر اور گناہوں میں مبتلا تھے۔ • یہ بڑے بڑے گناہوں پر اصرار کرتے تھے۔
4 مقربین (اللہ کے انتہائی قریب): موت کی کیفیت: • اگر یہ مقربین میں سے ہیں تو موت کے وقت ان کے لیے راحت، خوشبو اور نعمتوں بھری جنت کی بشارت ہے۔
5 دائیں ہاتھ والے (نیک اور کامیاب): موت کی کیفیت: • ان کے لیے فرشتے سلامتی کی نوید لاتے ہیں کہ تم دائیں ہاتھ والوں میں سے ہو۔
6 بائیں ہاتھ والے (بدکار اور ناکام): موت کی کیفیت: • موت کے وقت ان کے چہروں اور پیٹھوں پر مارا جائے گا اور انہیں دردناک عذاب کی ہولناک خبر دی جائے گی۔
7 مقربین (اللہ کے انتہائی قریب): انجام (ٹھکانہ اور جزا): • ٹھکانہ: موتیوں سے جڑے ہوئے تختوں پر تکیہ لگا کر بیٹھیں گے۔ • کھانا پینا: لذیذ پھل اور پرندوں کا گوشت، اور ایسی شرابِ طہور جو نہ سر درد پیدا کرے گی اور نہ عقل زائل کرے گی۔ • انعام: حورِ عین اور آبِ رواں۔
8 دائیں ہاتھ والے (نیک اور کامیاب): انجام (ٹھکانہ اور جزا): • ٹھکانہ: کانٹے دار بیریوں اور تہوں میں لگے کیلے کے باغوں میں۔ • کھانا پینا: بہتا ہوا پانی، کثرت سے پھل جو کبھی ختم نہ ہوں، اور بلند و بالا بستر۔
9 بائیں ہاتھ والے (بدکار اور ناکام): انجام (ٹھکانہ اور جزا): • ٹھکانہ: سخت گرمی، کھولتے ہوئے پانی اور سیاہ دھوئیں کے سائے میں۔ • کھانا پینا: پیپ اور جہنم کا گرم پانی (حمیم) جو آنتوں کو کاٹ دے گا۔
13 سرگرمیاں

سورۃ الواقعہ کے مضامین اور قرآن کی عظمت نکات کی صورت میں لکھیں اور اپنا جائزہ لیں ۔

جائزہ

جواب مضامین صفحہ 114 پر ہیں اور قرآن کی عظمت کے نکات تفصیلی سوال 2 کے جز ب میں ہے اور جائزہ یہ ہے۔ اس سورت کا مطالعہ انسان کو دنیا کی عارضی زندگی کی حقیقت سے روشناس کراتا ہے۔ یہ ہمیں دعوتِ فکر دیتی ہے کہ ہم اپنے اعمال کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ ہم قیامت کے دن کس گروہ میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ یہ سورت انسان کے اندر خوفِ خدا اور امیدِ رحمت دونوں پیدا کرتی ہے، اور یہ باور کرواتی ہے کہ قرآنِ مجید محض ایک کہانی نہیں بلکہ اٹل حقیقت اور ہدایت کا سرچشمه ہے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.