آٹھویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 13: سبق 13: سورۃ رحمن

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں · 16 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

وَالْأَرْضَ وَضَعَهَا لِلْأَنَامِ۔ فِیهَا فَاكِهَةٌ وَالنَّخْلُ ذَاتُ الْأَكْمَامِ۔ وَالْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَالرَّيْحَانُ

آیات میں کن نعمتوں کا ذکر ہے۔

ترجمہ

اور اسی نے کو زمین مخلوق کے لیے بچھا دیا اس میں میوے ہیں اور خوشوں والی کھجوریں ہیں اور بھوسہ والا غلہ اور خوشبودار پھول بھی۔

نعمتوں کی تفصیل

1 آیت 10 (زمین کی تخلیق) — زمین کا بچھونا بنانا اور اسے تمام مخلوق (انسانوں اور جنات) کے رہنے اور بسنے کے قابل بنانا۔
2 آیت 11 (پھل اور کھجوریں) — طرح طرح کے لذیذ پھل اور غلاف یا خوشوں والی کھجوریں پیدا کرنا۔
3 (اناج اور پھول): آیت 12 — بھوسے والا غلہ/اناج (جس سے خوراک ملتی ہے) اور زمین پر اگنے والے خوشبو دار پھول۔
2 مختصر جوابات

كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ۔ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ۔

آیات کریمہ میں کس حقیقت کا بیان ہے؟

ترجمہ

ہر ایک جو اس (زمین) پر ہے فنا ہونے والا ہے اور آپ کے رب کی ذات باقی رہے گی جو جلال والی اور عزت والی ہے۔

ان آیات میں مخلوق کی عارضی زندگی اور فنا اور اللہ تعالیٰ کی ذاتِ جلیل کی ابدی بقا کی اٹل حقیقت کا بیان کیا گیا ہے۔

کائنات کی فنا اور بقائے الٰہی

1 ہر جاندار کی موت — زمین پر موجود ہر ذی روح اور مخلوق نے ایک دن فنا ہو جانا ہے، کسی کو بھی دوام حاصل نہیں ہے۔
2 اللہ کی دائمی ذات — تمام کائنات کے ختم ہو جانے کے بعد صرف آپ کے رب کی ذات باقی رہے گی جو عظمت، بزرگی اور جلال والی ہے۔
3 نعمت کا اقرار — اس فانی دنیا اور بقائے الٰہی کے بعد اللہ تعالیٰ نے سوال کیا ہے کہ تم اپنے پروردگار کی کون کون سی قدرت اور نعمت کو جھٹلاؤ گے
3 مختصر جوابات

فَإِذَا انشَقَّتِ السَّمَاءُ فَكَانَتْ وَرْدَةً كَالدِّهَانِ۔

آیت کریمہ میں آسمان کی کیا کیفیت بیان ہوئی ہے؟

ترجمہ

پھر جب آسمان پھٹ جائے گا تو وہ سر خ گلاب ہو جائے گا سرخ چمڑے کی طرح۔

قیامت کے دن آسمان کی کیفیت

1 آسمان کا پھٹ جانا — قیامت کی ہولناکی سے آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو کر جگہ جگہ سے چاک ہو جائے گا۔
2 سرخ رنگت — جہنم کی گرمی اور اس دن کے خوف سے آسمان کا رنگ بالکل سرخ اور گلابی ہو جائے گا۔
3 چمڑے یا تیل کی مانند تشبیہ — مفسرین کے مطابق اس کا سرخ اور پگھلا ہوا منظر ایسا ہوگا جیسے کوئی سرخ چمڑا ہو یا تیل کی تلچھٹ (جلا ہوا تیل)
4 مختصر جوابات

يُعْرَفُ الْمُجْرِمُونَ بِسِيمَاهُمْ فَيُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِي وَالْأَقْدَامِ۔

آیت کریمہ کی رو سے مجرمین کے ساتھ کیا سلوک ہوگا؟

ترجمہ

مجرموں کو پہچان لیا جائے گا ان کے چہروں کی علامتوں سے پھر انہیں پیشانی کے بالوں اور پاؤں سے پکڑا جائے گا۔

مجرمین کا انجام اور سلوک

1 چہروں سے شناخت — گنہگاروں کے چہرے سیاہ اور آنکھیں خوف کی وجہ سے نیلی یا دہشت زدہ ہوں گی، جس سے وہ فوراً پہچان لیے جائیں گے۔
2 پیشانی اور پاؤں کی پکڑ — فرشتوں کی طرف سے انہیں پیشانی کے بالوں (نواصی) اور پاؤں (اقدام) سے جکڑ لیا جائے گا۔
3 جہنم میں ڈالا جانا — اس طرح پکڑ کر انہیں الٹا یا گھسیٹ کر جہنم کی آگ کے حوالے کیا جائے گا
5 مختصر جوابات

وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ۔

آیت کریمہ میں پرہیزگاروں کے لیے کیا انعام بیان کیا گیا ہے؟

ترجمہ

اور جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا اس کے لیے دو باغ ہوں گے۔

سورۃ الرحمٰن کی آیت نمبر 46 میں پرہیزگاروں کے لیے دو باغات کا انعام بیان کیا گیا ہے۔

انعامات کی تفصیل

1 دو باغات — اللہ تعالی نے ڈرنے والوں کے لیے جنت کے دو خوبصورت باغات کا وعدہ کیا ہے۔
2 سرسبز شاداب — یہ باغات طرح طرح کےپھلوں، سایہ دار درختوں اور بہتی نہروں سے بھرپور ہوں گے۔

تفصیلی جوابات

6 تفصیلی جوابات

يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَن تَنفُذُوا مِنْ أَقْطَارِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ فَانفُذُوا لَا تَنفُذُونَ إِلَّا بِسُلْطَانٍ۔

آیات کریمہ کا ترجمہ اور مفہوم بیان کریں۔

ترجمہ

اے گروہ !جن و انس اگر تم قدرت رکھتے ہو کہ باہر نکل سکو آسمانوں اور زمین کے کناروں سے تو نکل جاؤ تم ہماری عطا کردہ طاقت کے بغیر نہیں نکل سکتے۔

1 جنوں اور انسانوں کو خطاب: اللہ تعالیٰ نے کائنات کی دونوں بااختیار مخلوقات (جن اور انس) کو مخاطب کر کے ان کی بے بسی کا نقشہ کھینچا ہے۔
2 سلطان (طاقت/اجازت) کا مطلب: مفسرین کے مطابق یہاں ”سلطان“ سے مراد اللہ کی دی ہوئی طاقت، دلیل یا اس کا خاص پروانہ (اجازت) ہے۔ تم اللہ کی ملکیت اور اقتدار سے باہر جانے کی طاقت ہی نہیں رکھتے۔
3 دو بڑے تفسیری پہلو: آخرت اور میدانِ محشر (بنیادی مفہوم) — قیامت کے دن جب جن اور انسان اللہ کی عدالت میں پیش ہوں گے، تو وہ وہاں سے بھاگنے کی کوشش بھی کریں تو نہیں بھاگ سکیں گے۔ فرشتے ہر طرف سے ان کا گھیراؤ کر لیں گے۔
4 دو بڑے تفسیری پہلو: دنیاوی اور سائنسی پہلو — کچھ جدید مفسرین اس سے یہ بھی مراد لیتے ہیں کہ انسان یا جن اگر زمین و آسمان کی حدود (جیسے خلا) میں آگے بڑھنا چاہیں، تو وہ اللہ کی دی ہوئی عقل، قوانینِ قدرت اور صلاحیت (سلطان) کے بغیر زمین کی کششِ ثقل یا فضائی حدود کو پار نہیں کر سکتے
7 تفصیلی جوابات

سورہ رحمن کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں (

جواب صفحہ 107 پر ہے
8 تفصیلی جوابات

فِيهِمَا مِن كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوْجَانِ۔ فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ۔ مُتَّكِئِينَ عَلَى فُرُشٍ بَطَائِنُهَا مِنْ إِسْتَبْرَقٍ وَجَنَى الْجَنَّتَيْنِ دَانٍ۔

آیات کا ترجمہ اور مفہوم تحریر کریں۔

ترجمہ

ان دونوں میں ہر پھل کی دو دو قسمیں ہوں گی تو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے جنتی لوگ ایسے بستروں پر تکیہ لگائے ہوں گے جن کے استر موٹے ریشم کے ہوں گے اور دونوں باغوں کے پھل قریب جھک رہے ہوں گے۔

جواب ان آیات میں مقربین کے جنتوں کے پھلوں کی تفصیل بیان کی گئی ہے کہ ہر پھل کی دو دو قسمیں ہوں گی پھلوں کی دو دو قسمیں ہونے سے مراد ہے کہ پھلوں کے رنگ ذائقے اور خوشبو الگ الگ طرح کے ہوگی۔یا معروف ( پہچان میں آنے والے پھل ہوں گے )یا غیر معروف (پہچان میں نہ آنے والے پھل ہوں گے)۔یہ جنتیوں کے حق میں مزید نعمت ہے کیونکہ آدمی کی طبیعت ایسی جدت پسند واقع ہوئی ہے کہ وہ ایک ہی طرح کی چیز کھاتے کھاتے اکتا جاتا ہے۔ آیت نمبر 53 میں اللہ تعالی جنت کی نعمتوں کی یادہانی کروا رہے ہیں ۔آیت نمبر 54 میں اہل جنت کی کیفیت کا بیان ہےکہ اہل جنت تختوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے تختوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہونےسے مراد یہ ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے ڈرتے ڈرتے اپنی ساری عمریں گزار دی تھیں یہاں بڑے اطمینان اور پرسکون ہوں گے ہر فکر ،پریشانی سے دور ہر اندیشے اور خوف سے بے نیاز اور اہل جنت کےبستر نہایت شاندار ہوں گے جن کے استر موٹے ریشم کے ہوں گے اور متقین کی جنت کے پھلوں کی کیفیت یہ ہوگی کہ اہل جنت کے قریب پھل جھک رہے ہوں گے اور پھلوں کے قریب جھکنے سے مراد یہ ہے کہ اہل جنت کو پھلوں کے حاصل کرنے میں کوئی مشقت نہیں اٹھانی پڑے گی اور خواہش کرتے ہی جنت کے پھل ان کے قریب جھک جائیں گے جنہیں اہل جنت آسانی سے توڑ سکیں گے ۔
9 تفصیلی جوابات

سورہ رحمن کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔

جواب صفحہ نمبر 107 پر ہے
10 تفصیلی جوابات

هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ۔ فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ۔ وَمِن دُونِهِمَا جَنَّتَانِ۔

آیات کا ترجمہ اور مفہوم بیان کریں۔

ترجمہ

نیکی کا بدلہ احسان کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے۔ تو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے اور ان دو کے علاوہ دو باغ اور بھی ہوں گے۔

جواب اس آیت میں دو احسانات کا ذکر ہے پہلے احسان سے مراد بندوں کے بہترین اعمال یعنی نیکیاں اور اطاعت الہی مراد ہیں اور دوسرے احسان سے مراد اللہ کی طرف سے بہترین جزا یعنی جنت اور اس کی نعمتیں مراد ہے احسان کا بدلہ احسان ہے یعنی بندوں کے بہترین اعمال پر اللہ بہترین جزا عطا فرماتا ہے اللہ فرائض بجا لانے والوں ،حرام سے بچنے والوں ،حق کا ساتھ دینے والوں اور شر کا مقابلہ کرکے خیر کے حمایت کرنے والوں کی محنت اور قربانیوں کو ضائع نہیں فرمائے گا اور بہترین بدلہ عطا فرمائے گا۔ آیت نمبر 61 میں نیک اعمال پر اچھا اجر ملنے کی نعمت کا بیان ہے آیت نمبر 62 میں اصحاب یمین یعنی عام مومنین کے دو باغوں کا ذکر ہے اور یہ دو باغ سیاہی مائل سبز ہوں گے یعنی ان دونوں باغوں کے درختوں کے پتےاتنےگہرے سبز ہوں گے جیسے سیاہ ہو رہے ہوں۔
11 تفصیلی جوابات

سورہ رحمن میں اہل جنت کے لیے بیان کی گئی چند نعمتیں ذکر کریں؟

سورہ رحمن میں اہل جنت کے لیے بیان کی گئی چند نعمتیں درج ذیل ہیں۔

1 اللہ سے ڈرنے والوں کے لئے دو جنتیں ہوں گی
2 ان جنتوں میں گھنے اور سرسبز باغ ہوں گے ۔
3 ان میں دو بہتے ہوئے چشمے ہوں گے۔
4 ہر قسم کے پھلوں کی دو دو اقسام ہوں گی۔
5 جنتی ریشم اور نفیس استر والے بچھونوں پر تکیہ لگائے ہوں گے۔
6 باغوں کے پھل ان کے قریب ہوں گے آسانی سے حاصل کیے جا سکیں گے ۔
7 ان کے لئے نگاہیں نیچی رکھنے والی پاکیزہ حوریں ہوں گی ۔
8 وہ حوریں یاقوت اور مرجان کی مانند حسین ہوں گی۔
9 متقین کے لئے دو مزید جنتیں بھی ہوں گی ۔
10 وہ جنتیں گہرے سبز رنگ کی ہوں گی ۔
11 ان میں دو ابلتے یا بہتے چشمے ہوں گے ۔
12 ان میں کھجوریں اور انار بکثرت ہوں گے ۔
13 وہاں نیک پاکیزہ اور خوبصورت بیویاں ہوں گی ۔
14 وہ خیموں میں محفوظ حوریں ہوں گی۔
15 جنتی سبز گاؤ تکیےاور نفیس قالینوں پر آرام کریں گے۔

سرگرمیاں

12 سرگرمیاں

سورۃ رحمن میں مذکورہ مجرموں کی سزاؤ ں اور متقین کے انعامات کی فہرست بنائیں۔

جواب :سورہ رحمن میں مجرموں کی سزائیں اور سورہ رحمن میں متقین کی نعمتیں

1 جواب :سورہ رحمن میں مجرموں کی سزائیں: مجرم اپنے چہروں سے پہچان لیے جائیں گے تو انہیں پیشانی اور پاؤں سے پکڑ کر گھسیٹا جائے گا ۔
2 جواب :سورہ رحمن میں مجرموں کی سزائیں: انہیں جہنم میں داخل کیا جائے گا ۔
3 جواب :سورہ رحمن میں مجرموں کی سزائیں: وہ جہنم اور کھولتے ہوئے پانی کے درمیان چکر لگائیں گے۔
4 جواب :سورہ رحمن میں مجرموں کی سزائیں: انہیں انتہائی گرم اور کھلتا ہوا پانی پینے کو دیا جائے گا۔
5 سورہ رحمن میں متقین کی نعمتیں: اللہ سے ڈرنے والوں کے لئے دو جنتیں ہوں گی
6 سورہ رحمن میں متقین کی نعمتیں: ان جنتوں میں گھنے اور سرسبز باغ ہوں گے ۔
7 سورہ رحمن میں متقین کی نعمتیں: ان میں دو بہتے ہوئے چشمے ہوں گے۔
8 سورہ رحمن میں متقین کی نعمتیں: ہر قسم کے پھلوں کی دو دو اقسام ہوں گی۔
9 سورہ رحمن میں متقین کی نعمتیں: جنتی ریشم اور نفیس استر والے بچھونوں پر تکیہ لگائے ہوں گے۔
10 سورہ رحمن میں متقین کی نعمتیں: باغوں کے پھل ان کے قریب ہوں گے آسانی سے حاصل کیے جا سکیں گے ۔
11 سورہ رحمن میں متقین کی نعمتیں: ان کے لئے نگاہیں نیچی رکھنے والی پاکیزہ حوریں ہوں گی ۔
12 سورہ رحمن میں متقین کی نعمتیں: وہ حوریں یاقوت اور مرجان کی مانند حسین ہوں گی۔
13 سورہ رحمن میں متقین کی نعمتیں: متقین کے لئے دو مزید جنتیں بھی ہوں گی ۔
14 سورہ رحمن میں متقین کی نعمتیں: وہ جنتیں گہرے سبز رنگ کی ہوں گی ۔
15 سورہ رحمن میں متقین کی نعمتیں: ان میں دو ابلتے یا بہتے چشمے ہوں گے ۔
16 سورہ رحمن میں متقین کی نعمتیں: ان میں کھجوریں اور انار بکثرت ہوں گے ۔
17 سورہ رحمن میں متقین کی نعمتیں: وہاں نیک پاکیزہ اور خوبصورت بیویاں ہوں گی ۔
18 سورہ رحمن میں متقین کی نعمتیں: وہ خیموں میں محفوظ حوریں ہوں گی۔
19 سورہ رحمن میں متقین کی نعمتیں: جنتی سبز گاؤ تکیےاور نفیس قالینوں پر آرام کریں گے۔
13 سرگرمیاں

سورہ رحمن کی آیات 19 اور 20 میں بیان کی گئی بات کا مشاہدہ دنیا کے کئی مقامات پر کیا جاسکتا ہے جہاں میٹھا اور کھارا پانی آپس میں باہم مل کر چلتے ہیں آپ کوئی دو مقام تلاش کرکے علاقہ اور دریا کا نام لکھیں۔

سورۃ رحمٰن کی آیات 19 اور 20 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اس نے دو سمندر جاری فرمائے جو آپس میں مل جاتے ہیں ۔ان دونوں کے درمیان ایک آڑ ہے کہ وہ دونوں اپنی حد سے نہیں بڑھتے۔ اس کی مثال کے طور پر دنیا میں درج ذیل دو مقامات مشہور ہیں ۔

1 پاکستان (سندھ ) — علاقہ :ٹھٹھہ کے قریب بحیرہ عرب کا ساحلی علاقہ دریا :دریائے سندھ ،جہاں دریائے سندھ کا میٹھا پانی بحیرہ عرب کے کھارے پانی سے ملتا ہے۔
2 مصر — علاقہ: اسکندریا کے قریب دریا: دریائے نیل جہاں دریائے نیل کا میٹھا پانی بحیرہ روم کے کھارے پانی سے ملتا ہے
14 سرگرمیاں

سورہ الرحمن میں موجود آیت ”فبای الاٰء ربکما تکذبٰن “ کتنی دفعہ دہرائی گئی ہے۔

جواب یہ آیت 31 دفعہ دہرائی گئی ہے
15 سرگرمیاں

یہ آیت کب کب اور کس حوالے سے دہرائی گئی ہے؟

سورہ رحمن میں آیت فبای الاٰء ربکما تکذبٰن 31 مرتبہ دہرائی گئی ہے ہر بار یہ آیت مختلف نعمتوں یا تنبیہات کے بعد بطور یاد دہانی آئی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے

مقصد

1 اللہ کی تخلیق او ردنیا کی نعمتوں — (قرآن ا،نسان کی پیدائش ،سورج ،چاند ،درخت ،آسمان ،زمین ،پھل وغیرہ )کے ذکر کے بعد
2 سمندروں، موتیوں ،مرجان اور کشتیوں جیسی نعمتوں کے ذکر کے بعد
3 قیامت مجرم اور جہنم کے عذاب کی وعید کے بعد
4 پہلی دو جنتوں کی نعمتوں — (باغا ت ،چشمے،پھل ،حور یں )وغیرہ کے ذکر کے بعد
5 دوسری دو جنتوں کی نعمتوں (سرسبز باغات ،چشمے ،کھجوریں ،انار،حور یں ،قالین وغیرہ )کے ذکر کے بعد
6 مقصد: اس آیت کی بار بار تکرار کا مقصد انسانوں اور جنات کو اللہ تعالی کی بے شمار نعمتوں ،اس کی قدرت ،عدل اور آخرت کی یاد دہانی کرانا ہے ،تاکہ وہ نعمتوں کو جھٹلانے کی بجائے اللہ کا شکر ادا کریں۔
16 سرگرمیاں

لَا بِشَيْءٍ مِنْ نِعَمِكَ رَبَّنَا نُكَذِّبُ فَلَكَ الْحَمْدُ

اس آیت فبای الاٰء ربکما تکذبٰن کانبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کیا جواب سکھایا ہے؟

جواب اس آیت فبای الاٰء ربکما تکذبٰن کانبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ جواب سکھایا ہےکہ جب بھی یہ آیت فبای الاٰء ربکما تکذبٰن پڑھو تو یہ کہو اے ہمارے رب! ہم تیری نعمتوں میں سے کسی نعمت کا انکار نہیں کرتے تیرے ہی لیے ساری تعریفیں ہیں۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.