آٹھویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 15: سبق 15: سورۃ ملک — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں · 14 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ۔

آیت کریمہ میں زندگی اور موت کی تخلیق کا کیا مقصد بیان ہوا ہے؟

ترجمہ

اسی نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں سے کون اچھے اعمال کرنے والا ہے، اور وہ زبردست اور بخشنے والا ہے۔

اس آیت میں زندگی اور موت کی تخلیق کا بنیادی مقصد انسانوں کی آزمائش اور امتحان لینا ہے، تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ کون سا انسان عمل کے اعتبار سے بہتر اور شائستہ ترین کام کرتا ہے۔

مقصدِ تخلیق کی وضاحت

1 آزمائش اور امتحان — دنیا میں انسان کو جو زندگی ملی ہے اور جو موت کا مرحلہ آنے والا ہے، اس کا مقصد صرف یہ دیکھنا ہے کہ کون فرمانبرداری کرتا ہے۔
2 بہترین عمل — یہاں زیادہ کام کرنے کا نہیں بلکہ ”أَحْسَنُ عَمَلًا“ یعنی سب سے اچھے، خلوصِ نیت اور سنت کے مطابق درست عمل کرنے کا امتحان ہے۔
3 الْعَزِيزُ الْغَفُورُ — اللہ تعالیٰ زبردست طاقت والا ہے جو پکڑنے پر قادر ہے، اور ساتھ ہی بہت بخشنے والا ہے ان کے لیے جو غلطی کے بعد توبہ کریں۔
2 مختصر جوابات

وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَجَعَلْنَاهَا رُجُومًا لِلشَّيَاطِينِ ۖ وَأَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِيرِ۔

آیت کریمہ کی روسے ستاروں کی تخلیق کے کیا مقاصد ہیں؟

ترجمہ

اور یقینا ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں (ستاروں )سے زینت دی اور انہیں شیطانوں کے مارنے کا ذریعہ بھی بنایا۔

آیت کریمہ کی روشنی میں ستاروں کی تخلیق کے درج ذیل دو مقاصد ہیں :

مقاصدِ تخلیق

1 آسمان کی زینت — ستاروں سے نچلے آسمان کو خوبصورت بنایا گیا ہے۔
2 شیطانوں کا رجوم — چوری چھپے باتیں سننے والے شیاطین کو بھگانے اور مارنے کا ذریعہ ۔یہ ستارے فرشتوں کی چوکیاں ہیں جہاں سے عالم بالا کی حفاظت کی جاتی ہے اور شیطانوں کو مار بھگایا جاتا ہیں اور اللہ نے ان کے لیے بھڑکتی آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
3 مختصر جوابات

وَقَالُوا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحَابِ السَّعِيرِ۔

آیت کریمہ میں جہنمی جہنم میں جانے کا کیا سبب بیان کریں گے؟

ترجمہ

اور وہ کہیں گے اگر ہم سنتے یا سمجھتے تو ہم جہنم والوں میں نہ ہوتے۔

جواب آیت کریمہ میں جہنمیوں کے جہنم میں جانے کا بنیادی سبب حق بات کو غور سے نہ سننا اور عقل و فہم سے کام نہ لیناہے۔ وہ اعتراف کریں گے کہ انہوں نے دنیا میں نہ تو انبیاء کی بات دھیان سے سنی اور نہ ہی اپنی عقل کا استعمال کر کے حق کو پہچانا۔
4 مختصر جوابات

أَمَّنْ هَذَا الَّذِي يَرْزُقُكُمْ إِنْ أَمْسَكَ رِزْقَهُ ۚ بَلْ لَجُّوا فِي عُتُوٍّ وَنُفُورٍ۔

آیت کریمہ میں کفار کی کون سی بری صفات بیان ہوئی ہیں؟

ترجمہ

بلکہ وہ سرکشی اور حق سے نفرت میں اڑے ہوئے ہیں۔

آیت کریمہ کی روسے کفار کی دو بری صفات بیان ہوئی ہے

1 سرکشی — اللہ کے حکم کے مقابلے میں تکبر اور نافرمانی
2 حق سے نفرت اور روگردانی — حق بات کو قبول نہ کرنا اور اس سے منہ موڑنا۔
5 مختصر جوابات

قُلْ هُوَ الَّذِي أَنْشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ ۚ قَلِيلًا مَا تَشْكُرُونَ

آیت کریمہ کی رو سے انسان کو اللہ نے کون کون سی نعمتیں عطا کی ہیں؟

ترجمہ

آپ فرما دیجئے وہی تو ہے جس نے تمہیں پیدا فرمایا اور تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائےمگر تم بہت ہی کم شکر کرتے ہو۔

جواب آیت کریمہ کی رو سے اللہ تعالی نے انسان کو درج ذیل نعمتیں عطا کی ہیں انسان کی پیدائش ،کان ،آنکھیں اور دل ۔ لیکن انسان بہت کم اللہ کا شکر ادا کرتا ہے شکر کا اصل تقاضایہ ہے کہ اللہ کی نعمتوں کو اللہ کی مرضی کے مطابق استعمال کیا جائے نہ کہ ان کو اللہ کے ہی مقابلے میں استعمال کیا جائے یعنی اللہ نے قوت ،سماعت ،بصارت اور دل و دماغ کی تمام صلاحیتیں حق شناسی کے لیے عطا فرمائی ہیں نہ کہ ناشکری اور کفران نعمت کے لئے۔

تفصیلی جوابات

6 تفصیلی جوابات

إِنَّ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَيْبِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّأَجْرٌ كَبِيرٌ۔

آیت کریمہ کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

بے شک جو لوگ بغیر دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے لئے بخشش اور بہت بڑا اجر ہے۔

1 مفہوم ۔ 1۔ ”خشیت“ اور ”بالغیب“ کا گہرا: مفسرین نے اس آیت میں موجود دو الفاظ پر خاص توجہ دی ہے: خشیت (خوف): یہ عام خوف نہیں ہے۔ عربی میں خشیت ایسے خوف کو کہتے ہیں جو انسان کے دل میں کسی کی عظمت اور جلال کی وجہ سے پیدا ہو۔ یعنی اللہ کی طاقت اور اس کی محبت کا ملا جلا احساس جو انسان کو گناہ سے روکے۔ بالغیب (بن دیکھے): اس کے دو بنیادی پہلو ہیں: ایمانی پہلو: انسان نے اللہ کو، فرشتوں کو، جنت اور دوزخ کو اپنی انکھوں سے نہیں دیکھا۔ اس کے باوجود وہ سچے دل سے ان پر یقین رکھتا ہے اور اللہ کے سامنے جوابدہی کا خوف رکھتا ہے۔ عملی پہلو (تنہائی): اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ جب انسان لوگوں کی نظروں سے دور تنہائی میں ہوتا ہے، جہاں کوئی اسے دیکھنے والا نہیں ہوتا اور وہ گناہ کرنے پر قادر ہوتا ہے، تب بھی وہ صرف اس لیے رک جاتا ہے کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے۔ حقیقی تقویٰ: اصل تقویٰ اور اِخلاص یہ ہے کہ انسان کا ظاہر اور باطن ایک ہو جائے۔ خلوت (تنہائی) کا تقویٰ اللہ کے ہاں سب سے زیادہ قیمتی ہے۔
2 3۔ اللہ تعالیٰ کے دو بڑے وعدے: اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بن دیکھے ڈرنے والوں کے لیے دو انعامات کا ذکر فرمایا ہے لَهُم مَّغْفِرَةٌ (ان کے لیے بخشش ہے): انسان خطا کار ہے، تنہائی میں ڈرنے کا مطلب یہ نہیں کہ اس سے کبھی گناہ نہیں ہوگا۔ بلکہ اگر کبھی کوئی لغزش ہو جائے تو وہ فوراً توبہ کرتا ہے۔ اللہ اس کے صغیرہ گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے اور اس کے عیوب پر پردہ ڈال دیتا ہے۔ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ (اور بہت بڑا اجر ہے): یہاں اجر کو ”کبیر“ (بہت بڑا) کہا گیا ہے۔ اللہ کی ذات جتنی بڑی ہے، اس کا دیا ہوا اجر بھی اتنا ہی بڑا ہے۔ مفسرین کے مطابق اس سے مراد جنت الفردوس، اس کی لازوال نعمتیں اور سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کا دیدار اور اس کی خوشنودی ہے۔
3 4۔ حدیثِ نبوی ﷺ سے تائید: اس آیت کا مفہوم نبی کریم ﷺ کی اس مشہور حدیث سے بالکل واضح ہوتا ہے جس میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سات خوش نصیب لوگوں کو اپنے (عرش کے) سائے میں جگہ دے گا جن میں سے دو کا تعلق اسی آیت سے ہے وہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا اور (اس کے خوف یا محبت سے) اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ وہ شخص جسے کسی خوبصورت اور صاحبِ منصب عورت نے برائی کی دعوت دی، لیکن اس نے صرف یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ”میں اللہ سے ڈرتا ہوں“۔
7 تفصیلی جوابات

سورہ ملک کا تعارف اور مرکزی مضمون بیان کریں۔

جواب صفحہ نمبر 121 پر ہے
8 تفصیلی جوابات

وَأَسِرُّوا قَوْلَكُمْ أَوِ اجْهَرُوا بِهِ ۖ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ ۔ أَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ

آیات کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں ۔

ترجمہ

اور تم لوگ اپنی بات چھپاؤ یا اسےزور سے کہو (اللہ کو علم ہے) بیشک وہ سینوں کے رازوں کو بھی خوب جاننے والا ہے بھلا وہی نہیں جانے گا جس نے پیدا فرمایا اور وہ نہایت باریک بین (ہر چیز سے) خوب باخبر ہے۔

جواب ان آیات میں اللہ تعالی کی صفت علم باری تعالی کا بیان ہے اور اللہ کی صفت علم کی شان یہ ہے کہ اللہ جانتا ہے اس کو بھی جو بات ہم چھپاتے ہیں اور اسے بھی جو بات ہم زور سے کہتے ہیں یہاں تک کہ ہمارے سینوں میں چھپے رازوں سے بھی واقف ہے حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ مشرکین نبی ﷺ پر عیب لگاتے تھے اور جبرائیل علیہ السلام آپ کو اس کی خبر دیتے تو انہوں نے ایک دوسرے سے کہا اپنی باتیں آہستہ کرو تاکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا خدا سن نہ لے اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ اگلی آیت میں اللہ کے علم کے کمال کی یہ دلیل دی گئی ہے کہ بھلا جو خالق ہو جس نے بنایا اور مخلوق میں تمام ترصلاحیتیں رکھیں وہ کیسے اپنی مخلوق سے ناواقف ہو سکتا ہے اسے تو خوب پتا ہے کہ اس کی مخلوق میں کیا خوبیاں اور کیا کمزوریاں ہیں اور اس آیت میں اللہ تعالی کے دو نام الطیف اور الخبیر بیان ہوئے ہیں الطیف کے معنی : انتہائی باریک بین : لطف کے معنی میں دو باتیں بنیادی طور پر پائی جاتی ہیں 1: دقت نظر 2: نرمی یعنی مخلوق کی چھوٹی سے چھوٹی تکلیف کا علم رکھنا اور پھر مہربانی کرتے ہوئے ان کا ازالہ کرتے رہنا اور خبیر کے معنی ہیں نہایت با خبر یعنی اللہ کو اپنے بندوں کی ایک ایک سوچ، بات اور عمل کی مکمل خبر ہے۔
9 تفصیلی جوابات

سورۃ ملک کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔

جواب صفحہ نمبر 121 پر ہے
10 تفصیلی جوابات

هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ ذَلُولًا فَامْشُوا فِي مَنَاكِبِهَا وَكُلُوا مِنْ رِزْقِهِ ۖ وَإِلَيْهِ النُّشُورُ۔

آیات کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں۔

ترجمہ

وہی (اللہ ہے) جس نے تمہارے لئے زمین کو نرم (تابع )بنایا تو تم اس کے راستوں میں چلو پھرو اور اس کے دیے ہوئے )رزق سے کھاؤ اور اسی کی طرف( قبروں سے )اٹھ کر جانا ہے

1 1۔ زمین کو مسخر اور نرم کرنا (هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ ذَلُولًا): لفظی معنی — ”ذلول“ اس جانور کو کہتے ہیں جو اتنا فرمانبردار ہو کہ اس پر سواری کرنا انتہائی آسان ہو اور وہ سرکشی نہ کرے۔
2 1۔ زمین کو مسخر اور نرم کرنا (هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ ذَلُولًا): تفسیر — اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے زمین کو تمہارے لیے اتنا مطیع اور سازگار بنا دیا کہ یہ نہ تو بالکل سخت ہے کہ تم اس پر کچھ اگا نہ سکو اور نہ ہی اتنی دلدل کی طرح نرم ہے کہ تم اس پر کھڑے نہ ہو سکو۔ زمین اپنی تیز رفتاری سے گھومنے کے باوجود پرسکون ہے تاکہ انسان اس پر گھر بنا سکے اور زندگی گزار سکے۔
3 2: زمین کے راستوں میں چلنا (فَامْشُوا فِي مَنَاكِبِهَا): لفظی معنی — ”مناکب“ کندھوں کو کہتے ہیں، اور یہاں اس سے مراد زمین کے راستے، کونے، پہاڑ اور بلندیاں ہیں۔
4 2: زمین کے راستوں میں چلنا (فَامْشُوا فِي مَنَاكِبِهَا): تفسیر — مفسرین (جیسے ابن عباسؓ اور قتادہؒ) کے مطابق اس کا مطلب ہے کہ زمین کے دور دراز حصوں، پہاڑوں اور میدانوں میں سفر کرو۔ اللہ نے انسان کو گھروں میں بیٹھنے کے بجائے رزق کی تلاش میں نکلنے، تجارت کرنے اور اس کائنات میں چھپے وسائل کو تلاش کرنے کی ترغیب دی ہے۔
5 3: رزق حلال کھانا اور اسباب اختیار کرنا (وَكُلُوا مِنْ رِزْقِهِ): تفصیل — اس کا مطلب ہے کہ زمین کی پیداوار، پھل، غلہ اور وہ تمام چیزیں جو اللہ نے پیدا کی ہیں، انہیں کھاؤ اور استعمال کرو۔
6 3: رزق حلال کھانا اور اسباب اختیار کرنا (وَكُلُوا مِنْ رِزْقِهِ): توکل اور محنت کا تعلق — امام احمدؒ نے حضرت عمر بن خطابؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم اللہ پر ویسا توکل کرو جیسا کہ کرنے کا حق ہے، تو وہ تمہیں ایسے رزق دے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے، جو صبح خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر لوٹتے ہیں۔“ مفسرین فرماتے ہیں کہ پرندے بھی رزق کے لیے ”صبح نکلتے ہیں“ (یعنی محنت کرتے ہیں)، لہذا توکل کا مطلب ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنا نہیں، بلکہ اسباب اختیار کر کے اللہ پر بھروسہ کرنا ہے۔
7 4: قیامت اور دوبارہ زندہ ہونا (وَإِلَيْهِ النُّشُورُ): تفصیل — ”نشور“ کے معنی مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کے ہیں۔
8 4: قیامت اور دوبارہ زندہ ہونا (وَإِلَيْهِ النُّشُورُ): توجہ دلانا — آیت کا یہ آخری حصہ انسان کو ایک اہم حقیقت یاد دلاتا ہے: تم اس زمین پر چلو پھرو، اس کا رزق کھاؤ، لیکن یہ نہ بھولو کہ یہ زندگی عارضی ہے۔ تم اس زمین کے مالک نہیں ہو بلکہ اس کے پیدا کرنے والے کے سامنے تمہیں ایک دن کھڑے ہو کر اپنے اعمال اور رزق کے استعمال کا حساب دینا ہے۔
11 تفصیلی جوابات

سورۃ ملک میں کوئی سے چار افعال اور اسماء تلاش کریں

جواب یبلوکم ، زینا ، جعلنھا، اجھروا ، یعلم اسماء : الرحمن ، ما ء السماء ، مصابیح ، الدنیا ، شیاطین الارض

سرگرمیاں

12 سرگرمیاں

اللہ نے ہر چیز کو بامقصد پیدا کیا ہے انسان کو اپنی زندگی کیسے بنانی چاہیے ایک پیراگراف لکھیں۔

جواب اللہ تعالی نے ہر چیز کو بامقصدپیدا کیا ہے اسی طرح انسان کی زندگی کا مقصد اللہ کی عبادت ہے اللہ کا قرآن میں ارشاد ہے :اور ہم نے جنون اورانسانوں کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا: اس لیے انسان کو اپنی زندگی اللہ کی عبادت اس کی اطاعت اور مخلوق کی بھلائی کے لئے گزارنی چاہیے انسان کو چاہیے کہ نیک اعمال کرے ،سچ بولے ،دیانت داری اختیار کرے ،والدین کا احترام کرے، دوسروں کے حقوق ادا کرے،علم حاصل کرے اور برے کاموں سے بچیں تاکہ وہ دنیا اور آخرت میں کامیاب ہو سکے۔
13 سرگرمیاں

رات کو سونے سے پہلے سورہ ملک پڑھنے کی فضیلت اور اہمیت بیان کریں۔

جواب: رات کو سونے سے پہلے سورہ ملک پڑھنے کی فضیلت اور اہمیت

1 قبر کے عذاب سے حفاظت کا ذریعہ — نبی ﷺ نے فرمایا : سورۃ ملک اپنے پڑھنے والے کی سفارش کرتی ہے یہاں تک کہ اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے۔
2 قیامت کے دن شفاعت کرے گی — حدیث کے مطابق سورہ ملک اپنے پڑھنے والے کی طرف سے سفارش کرے گی اور اللہ تعالی کےحکم سے اسےفائدہ پہنچے گا۔
3 اللہ کی قدرت اور عظمت کا احساس — اس سورت میں اللہ کی بادشاہی ،قدر،تخلیق اور آخرت کی یاد دہانی ہے جس سے ایمان مضبوط ہوتا ہے۔
4 نیک اعمال کی ترغیب — سورۃ ملک انسان کو یاد دلاتی ہے کہ دنیا آزمائش کی جگہ ہےاس لیے اسے اچھے اعمال کرنے چاہیے۔
5 سونے سے پہلے پڑھنا سنت نبوی ہے — حضرت عبداللہ بن مسعود اور دیگر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سونے سے پہلے سورہ ملک پڑھنے کا اہتمام فرمایا کرتے تھے۔
14 سرگرمیاں

میٹھا پانی اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے پانی کے فوائد اور اس کے ضیاع سے بچنے کے طریقے لکھیں۔

میٹھا پانی اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے یہ انسان ،جانوروں اور پودوں کی زندگی کے لیے نہایت ضروری ہے۔

پانی کے فوائد اور پانی کے ضیا ع سے بچنے کے طریقے

1 پانی کے فوائد: پینے سے زندگی قائم رہتی ہے اور صحت برقرار رہتی ہے
2 پانی کے فوائد: کھانا پکانے اور روزمرہ استعمال میں کام آتا ہے ۔
3 پانی کے فوائد: کھیتی باڑی اور باغات کی آبپاشی کے لیے ضروری ہے ۔
4 پانی کے فوائد: صفائی ،وضو اور غسل کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
5 پانی کے فوائد: جانوروں اور پودوں کی نشوونما کا اہم ذریعہ ہے۔
6 پانی کے ضیا ع سے بچنے کے طریقے: پانی ضرورت کے مطابق استعمال کریں۔ نل کھلا نہ چھوڑیں اور لیک ہونے والے نل فورا درست کروا لیں ۔ وضو اور غسل میں پانی اسراف سے استعمال نہ کریں ۔ بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کی کوشش کریں ۔ دوسروں کو بھی پانی کی قدر کرنے اور اس کےضیاع سے بچنے کی تلقین کریں۔ پانی اللہ تعالی کی عظیم نعمت ہے اس لیے ہمیں اس کی قدر کرنی چاہیے اور اسے ضائع ہونے سے بچانا چاہیے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.