آٹھویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 12: سبق 12: سورۃ قمر — مشقی سوالات

تیارمختصر سوالات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں · 15 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر سوالات

1 مختصر سوالات

خُشَّعًا أَبْصَارُهُمْ يَخْرُجُونَ مِنَ الْأَجْدَاثِ كَأَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنتَشِرٌ۔

آیت کریمہ کی رو سے آخرت کے دن مجرموں کا کیا حال ہوگا؟

ترجمہ

تو وہ اپنی آنکھیں جھکائے ہوئے قبروں سے ایسے نکلیں گے جیسے وہ بکھری ہوئی ٹڈیاں ہوں۔

قیامت کے دن مجرموں کا حشر

1 نگاہیں جھکی ہونا — ان کی آنکھیں اور نگاہیں زمین کی طرف سہمی ہوئی اور عاجزی سے نیچی ہوں گی۔
2 قبروں سے نکلنا — وہ اپنی قبروں (اجداث) سے باہر آئیں گے۔
3 بکھری ہوئی ٹڈیوں کی طرح — وہ میدانِ حشر کی طرف اس قدر کثرت اور بے قراری سے دوڑیں گے کہ گویا وہ بکھرا ہوا ٹڈی دل ہے جو چاروں طرف پھیل جاتا ہے
2 مختصر سوالات

وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ

آیت کریمہ کی رو سے قرآن حکیم کی کون سی صفت بیان ہوئی ہے

ترجمہ

اور یقینا ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان فرما دیا تو کیا کوئی ہے نصیحت حاصل کرنے والا۔

قرآن حکیم کی یہ صفت بیان ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے یاد کرنے، سمجھنے اور اس سے نصیحت حاصل کرنے کے لیے بالکل آسان بنا دیا ہے۔

قرآن کریم کی آسانی

1 الفاظ کی روانی — تلاوت اور حفظ کرنا آسان ہے۔
2 معانی کا فہم — ہدایت اور نصیحت لینا سہل ہے۔
3 تکرارِ حکمت — اتمامِ حجت کے لیے یہ فقرہ سورت میں چار بار دہرایا گیا ہے
3 مختصر سوالات

سَيَعْلَمُونَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّبُ الْأَشِرُ۔

آیت کریمہ میں اسم ،فعل اور حرف الگ الگ کر دیں ۔

جواب یعلمون اسم : غدا ، الکذاب ، الاشر ۔ حرف من ( اس آیت میں مستقل حرف نہیں ہے کیونکہ من یہاں اسم استفہام ہے حرف نہیں
4 مختصر سوالات

إِنَّا أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ صَيْحَةً وَاحِدَةً فَكَانُوا كَهَشِيمِ الْمُحْتَظِرِ۔

آیت کریمہ کے مطابق قوم ثمود کا کیا انجام ہوا؟

ترجمہ

بے شک ہم نے ان پر ایک چیخ بھیجی تو وہ باڑ لگانے والے کے روندے ہوئے بھوسے کی طرح ہو گئے۔

جواب آیت کریمہ کی رو سے قوم ثمود نےحضرت صالح علیہ السلام کی نافرمانی کی اور اللہ کی نشانی اونٹنی کو قتل کیا جس کے نتیجے میں اللہ نے ان پر سخت عذاب نازل فرمایا ایک ہولناک چیخ نے انہیں ہلاک کر دیا اور وہ مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔
5 مختصر سوالات

وَكُلُّ شَيْءٍ فَعَلُوهُ فِي الزُّبُرِ وَكُلُّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ مُّسْتَطَرٌ۔

آیت کریمہ میں اعمال کے حوالے سے کیا خبر دی گئی ہے؟

ترجمہ

اور جو کچھ انہوں نے کیا اعمال ناموں میں( درج )ہے ہر چھوٹا اور بڑا (عمل )لکھ دیا گیا ہے۔

اعمال کے حوالے سے بنیادی باتیں

1 اعمال کا اندراج — انسان جو کچھ بھی دنیا میں کرتا ہے، وہ سب اللہ کے پاس لکھی ہوئی کتابوں (دفتروں) میں درج ہے۔
2 چھوٹے بڑے کی قید نہیں — انسان کا ہر چھوٹا اور بڑا عمل، خواہ وہ پوشیدہ ہو یا ظاہر، پوری احتیاط اور باقاعدگی کے ساتھ ثبت کیا گیا ہے۔
3 قیامت کی پیشگی اطلاع — یہ ریکارڈ اس بات کی دلیل ہے کہ قیامت کے دن تمام انسانوں کے اعمال کا حساب کتاب اسی دقیق ریکارڈ کی بنیاد پر لیا جائے گا

تفصیلی جوابات

6 تفصیلی جوابات

اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ۔ وَإِن يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ

آیات کریمہ کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں۔

ترجمہ

قیامت قریب اگئی اور چاند دو ٹکڑے ہوگیا اور اگر وہ (کافر )کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو منہ موڑ لیتے ہیں اور کہتےہیں یہ تو ہمیشہ سے چلا آتا ہوا جادو ہے۔

جواب شق القمر کا واقعہ منی میں پیش آیا۔جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم چند صحابہ اور بہت سے مشرکین مکہ کے ساتھ وہاں موجود تھے ۔مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے معجزے کا مطالبہ کیا اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلی سے چاند کی طرف اشارہ فرمایا اور چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہوگئے ایک ٹکڑا پہاڑ کے اوپر اور دوسرا نیچے آگیا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : کہ دیکھو اور گوار رہنا۔ اللہ تعالی نے شق القمر یعنی چاندکے پھٹ کر دو ٹکڑے ہو جانے کو قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی کہا ہے مشرکین مکہ نے جب یہ معجزہ دیکھا تھا تو انہوں نے ایمان لانے کے بجائے منہ موڑ لیا اور اپنے کفر پر قائم رہے اور معجزے کو دیکھ کر انہوں نے کہا کہ یہ ہمیشہ سے چلا آتا ہوا جادو ہے ابو جہل اس موقع پر کہنے لگا کہ پہلے ان کا جادو زمین پر چلتا تھا اب آسمان پر بھی چلنے لگا ہے (معاذ اللہ) ہمیشہ سے چلا آتا ہوا جادو سے مراد یہ ہے کہ مشرکین مکہ یہ کہنا چاہ رہے تھے کہ پہلے انبیاء کرام بھی ایسے جادو کے کرشمے دکھاتے رہے ان کا جادو بھی چل بسا اور وہ خود بھی چل بسے۔اسی طرح یہ نبی اور اس کے کرشمے بھی عنقریب ختم ہو جائیں گے۔( معاذ اللہ)
7 تفصیلی جوابات

سورت قمر کا تعارف ،مرکزی مضمون اور شان نزول تحریر کریں۔

جواب صفحہ نمبر 100 پر ہے
8 تفصیلی جوابات

فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانْتَصِرْ۔ فَفَتَحْنَا أَبْوَابَ السَّمَاءِ بِمَاءٍ مُّنْہَمِرٍ۔

آیات کا ترجمہ اور مفہوم بیان کریں۔

ترجمہ

تو انہوں نے اپنے رب سے دعا کی بے شک میں مغلوب ہوں پس تو ہی بدلہ لے پھر ہم نے آسمان کے دروازے کھول دیے زوردار بارش سے۔

مفہوم

1 حضرت نوح علیہ السلام کی دعا — جب قوم نے طویل عرصے تک آپ کی تبلیغ کو جھٹلایا، آپ کو دیوانہ کہا اور طرح طرح کی تکلیفیں دیں، تب آپ نے بے بس ہو کر اللہ تعالی سے مدد مانگی کہ اے رب! میں مغلوب ہو چکا ہوں، تو اب میری مدد فرما اور ان سے بدلہ لے۔
2 آسمان اور زمین کا عذاب — اللہ تعالی نے اپنے پیغمبر کی دعا کو قبول کیا اور آسمان کے دروازے زور دار اور موسلا دھار پانی کے لیے کھول دیے جو رکنے کا نام نہیں لے رہا تھا
9 تفصیلی جوابات

سورہ قمر کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔

جواب صفحہ نمبر 100 پر ہے
10 تفصیلی جوابات

سَیُهزَمُ الجَمعُ وَ یُوَلُّونَ الدُّبُرَ۔ بَلِ السَّاعَةُ مَوعِدُهُم وَ السَّاعَةُ اَدھٰی وَ اَمَرُّ۔ اِنَّ المُجرِمِینَ فِی ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍ۔

ان آیات کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں۔

ترجمہ

تو عنقریب و ہ جماعت شکست کھائے گی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے ۔بلکہ ان کے وعدے کا وقت قیامت ہے اور قیامت بڑی سخت اور بڑی تلخ ہے ۔بے شک مجرم گمراہی اور دیوانگی میں ہیں۔

جواب یہ قرآن مجید کی ایک روشن غیبی پیشگوئی ہے جو مکہ مکرمہ میں اس وقت نازل ہوئی جب کفار غرور اور طاقت کے نشے میں چور ہو کر کہتے تھے کہ ہم سب مل کر محمد ﷺ اور مسلمانوں پر غالب آ جائیں گے۔ مکہ میں نازل ہونے والی اس آیت کی صداقت عین غزوۂ بدر کے دن پوری طرح ظاہر ہوئی، جب مسلمانوں نے کفارِ قریش کے اسی بڑے لشکر کو زبردست شکست دی اور وہ میدان چھوڑ کر پیٹھ پھیر کر بھاگ اٹھے۔ حضرت عمر فاروقؓ فرماتے ہیں کہ جب بدر کا دن آیا تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو زرہ پہنے ہوئے یہ آیت پڑھتے ہوئے دیکھا علیہ وسلم نے اپنے پروردگار سے التجا کرنے میں حد کر دی ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دن زرہ پہنےہوئے چل پھر رہے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم خیمے سے باہر نکلے تو یہ آیت تلاوت فرما رہے تھے۔ دنیوی شکست (جیسے غزوۂ بدر) تو صرف ایک جھلک تھی، اصل اور حتمی سزا کا وقت تو قیامت کا دن ہے۔ دنیا کی تکلیفیں اور شکستیں کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہوں، قیامت کا عذاب اس سے کہیں زیادہ ہولناک، شدید اور برداشت سے باہر ہوگا۔ وہ دن کافروں کے لیے دنیا کے تمام دکھوں سے زیادہ تلخ اور تکلیف دہ ثابت ہوگا۔ جو لوگ اللہ کے احکام اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں، وہ اس وقت بھی گمراہی کی تاریکیوں میں ہیں اور آخرکار وہ ایسی آگ میں داخل ہوں گے جو ان کی عقلوں کو دنگ کر دینے والی اور ان کو گھیر لینے والی ہوگی۔ آیت میں فرمایا گیا ہے کہ جس دن وہ منہ کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ اب جہنم کی جلن کا مزہ چکھو
11 تفصیلی جوابات

سورہ قمر میں جملہ اسمیہ کی کوئی ایک مثال اور کوئی چار اسماء لکھیں۔

سورہ قمر سے چار اسم

جواب سورہ قمر میں جملہ اسمیہ کی ایک مثال والساعہ ادھی و امر ا۔ یہ جملہ اسمیہ ہے کیونکہ اس کا اغاز اسم سے ہوا ہے القمر ۔، الناقۃ ، الدبر ،الساعہ ، نوح ،عاد، انباء ، السماء ، الماء ، ریحا

سرگرمیاں

12 سرگرمیاں

وَلَقَدۡ يَسَّرۡنَا الۡقُرۡاٰنَ لِلذِّكۡرِ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّكِرٍ۔

اللہ تعالیٰ نے سورۃ القمر میں قرآن کریم کے آسان ہونے کا چار مرتبہ ذکر فرمایا ۔ قرآن کریم کس طرح نصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان ہے ؟

ترجمہ

اور یقینا ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان فرما دیا تو کیا کوئی ہے نصیحت حاصل کرنے والا۔

اللہ تعالیٰ نے سورۃ القمر میں قرآن کریم کو یاد کرنے، سمجھنے اور اس سے عبرت و نصیحت حاصل کرنے کو اس کے الفاظ کی روانی، واضح احکام اور دلنشین اندازِ بیان کی وجہ سے بالکل آسان بنا دیا ہے۔

قرآن کریم کے آسان ہونے کی صورتیں

1 حفظ اور تلاوت — اللہ نے اس کے الفاظ کو یاد کرنا اتنا آسان کیا ہے کہ بوڑھے، بچے اور عجمی بھی اسے زبانی یاد کر لیتے ہیں، جو دنیا کی کسی اور کتاب کے ساتھ ممکن نہیں۔
2 واضح اور مؤثر اسلوب — اس کے اندر بیان کردہ عبرت ناک واقعات، مثالیں اور دلائل اتنے واضح ہیں کہ انسان فوراً سچائی کو سمجھ کر نصیحت پکڑ لیتا ہے
3 فہم و عمل کی سہولت — اس کے احکام اور حلال و حرام کے ضابطے پیچیدہ نہیں ہیں، بلکہ ہر عام و خاص انسان کے لیے زندگی میں نافذ کرنے کے قابل ہیں
13 سرگرمیاں

سورۃ القمر میں سے کوئی چھے عربی الفاظ تلاش کریں جو اردو میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔

جواب القرآن ، ثمود ، عاد ، نوح ،لوط، عذاب ،مجرمین، شکر
14 سرگرمیاں

سورۃ القمر میں جن پانچ قوموں کا ذکر ہوا ہے ۔ان کے واقعات نکات کی صورت میں لکھیں اور ان واقعات سے حاصل ہونے والے اسباق بھی لکھیں۔

سورۃ القمر میں جن پانچ قوموں کا ذکر آیا ہے ان کے واقعات اور حاصل ہونے والے اسباق درج ذیل ہیں ۔

1 ۱۔ قومِ نوح کا واقعہ اور سبق: قومِ نوح نے حضرت نوح علیہ السلام کو جھٹلایا، انہیں مجنون (دیوانہ) کہا اور دھمکیاں دے کر چپ کرا دینا چاہا۔ حضرت نوح علیہ السلام نے عاجز آ کر دعا کی کہ میں مغلوب ہوں، تو میری مدد فرما۔ اللہ نے آسمان کے دروازے زور دار پانی سے کھول دیے اور زمین سے چشمے ابال دیے، اور حضرت نوح کو تختوں اور کیلوں والی کشتی میں بچا لیا۔
2 ۱۔ قومِ نوح کا واقعہ اور سبق: سبق — انبیاء کی مخالفت انجام کار ہلاکت کا باعث بنتی ہے، اور اللہ اپنے کمزور بندوں کی مدد ضرور کرتا ہے۔
3 ۲۔ قومِ عاد کا واقعہ اور سبق: واقعہ — قومِ عاد نے حضرت ہود علیہ السلام کی تکذیب کی۔ انہوں نے اللہ کے عذاب کی پیشگوئی کو جھٹلایا۔ اللہ نے ان پر ایک مسلسل اور منحوس دن میں سخت تیز تند و تیز آندھی مسلط کر دی جو لوگوں کو اس طرح اکھاڑ رہی تھی جیسے وہ اکھڑے ہوئے کھجور کے تنے ہوں۔
4 ۲۔ قومِ عاد کا واقعہ اور سبق: سبق — انسان کو اپنی طاقت اور غرور پر گھمنڈ نہیں کرنا چاہیے، اللہ کا عذاب جب آتا ہے تو بڑی سے بڑی طاقت کو ریزہ ریزہ کر دیتا ہے۔
5 ۳۔ قومِ ثمود کا واقعہ اور سبق: واقعہ — قومِ ثمود نے خبردار کرنے والے (حضرت صالح علیہ السلام) کی بات ماننے سے انکار کیا اور معجزے کے طور پر آنے والی اونٹنی کے بارے میں سرکشی کی۔ انہوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں اور عذاب کا مطالبہ کیا۔ اللہ نے ان پر ایک ہولناک چنگھاڑ (یا صیححہ) بھیجی جس سے وہ باڑے والے کے رون٘دے ہوئے بھوسے کی طرح ہو گئے۔
6 ۳۔ قومِ ثمود کا واقعہ اور سبق: سبق — اللہ کی نشانیوں کا مذاق اڑانا اور نافرمانی پر اڑے رہنا تباہی کو دعوت دیتا ہے۔
7 ۴۔ قومِ لوط کا واقعہ اور سبق: واقعہ — قومِ لوط نے حضرت لوط علیہ السلام کی دعوت کو جھٹلایا۔ جب انہوں نے مہمان فرشتوں کے ساتھ بدتمیزی کی کوشش کی تو اللہ نے ان کی آنکھیں اندھی کر دیں اور صبح سویرے ان پر پتھروں کی بارش (سنگ باری) کا عذاب نازل کیا، اور ان کی بستیوں کو الٹ دیا۔
8 ۴۔ قومِ لوط کا واقعہ اور سبق: سبق — فحاشی اور بے حیائی کا عام ہونا قوموں کی بربادی کا سبب بنتا ہے۔
9 ۵۔ قومِ فرعون کا واقعہ اور سبق: واقعہ — فرعون اور اس کے کارندوں کے پاس اللہ کی نشانیاں (عصا اور بیضاویں وغیرہ) آئیں لیکن انہوں نے سب کو جھٹلایا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے انہیں ایسی زبردست پکڑ میں لیا جو زبردست اور قدرت والے کی پکڑ تھی۔
10 ۵۔ قومِ فرعون کا واقعہ اور سبق: سبق — اقتدار اور طاقت کے نشے میں حق کا انکار کرنے والا فرعون بھی اللہ کے عذاب سے نہیں بچ سکا۔
15 سرگرمیاں

سیرت النبیﷺ کی کتاب سے نبی کریم ﷺ کے کوئی سے تین معجزات لکھیں ۔

1 معجزہ 1 — ہجرت کی رات کفار آپ ﷺ کو شہید کرنے کے لیے آپﷺ کے گھر کو گھیرے کھڑے تھے ۔آپﷺ سورۃ یس کی تلاوت کرتے ہوئے گھر سے نکلے اور کفار کی طرف مٹھی بھر خاک پھینکی ۔ جس کی وجہ سے کفار کو آپﷺ دکھائی نہ دیئے۔اور آپﷺ ان کے درمیان سے صحیح سلامت گزر گئے۔
2 ٖغزوہ بدرکے موقع پر جب جنگ شروع ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مٹھی کنکریاں یا مٹی اٹھائی اور مشرکین کی طرف پھینکی پھر فرمایا (شاھت الوجوہ )چہرے بگڑ جائیں ۔اللہ تعالی نے اس مٹھی بھر کنکریوں کا ایسا اثرپیدا فرمایا کہ مشرکین کی آنکھوں میں گرد اور کنکریاں پہنچ گئیں اور وہ گھبرا گئے اور ان کی صفیں منتشر ہوگی یہ اللہ تعالی کی مدد اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ تھا جس کے نتیجے میں مسلمانوں کو بدر میں فتح نصیب ہوئی۔
3 واقعہ معراج آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بہت بڑا معجزہ ہے ۔اس میں اللہ تعالی نے آپ کو ساتوں آسمان ،بیت المعمور جنت و جہنم ،سدرۃ المنتہی اور عرش الہی کی سیر کروائی ۔اور انبیاء سے بھی ملاقات کی ۔اور اللہ تعالی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہم کلام بھی ہوئے۔ یہ آپ ﷺ کاسب سے بڑا معجزہ تھا۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.