آٹھویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 11: سبق 11: سورۃ نجم

تیارمختصر سوالات، تفصیلی جوابات، اہم آیات اور سرگرمیاں · 17 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر سوالات

1 مختصر سوالات

وَمَا يَنۡطِقُ عَنِ الۡهَوٰىؕ۔ اِنۡ هُوَ اِلَّا وَحۡىٌ يُّوۡحٰىۙ۔

آیات کریمہ کی رو سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا صفت بیان ہوئی ہے؟

ترجمہ

اور وہ اپنی خواہش سے کلام نہیں کرتے۔ ان کا فرمان تو صرف وہی ہے جو (ان کی طرف )کی جاتی ہے

سورہ النجم کی آیات 3 اور 4 میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ آپ اپنی مرضی یا خواہش سے کوئی بات نہیں فرماتے، بلکہ آپ کا ہر فرمان اور کلام عین الہی وحی ہوتا ہے جو آپ کی طرف نازل کیا جاتا ہے۔

صفات

1 عصمت اور پاکیزگی — آپ کا قول و فعل نفسانی خواہشات اور ہر قسم کی غلطی یا گمراہی سے مکمل پاک ہے۔
2 حجیتِ حدیث — آپ کی زبان سے نکلی ہوئی ہر بات (سنت و فرمان) اللہ کا حکم اور وحیِ خفی ہوتی ہے۔
3 حق پرستی — آپ کی ذات ہمیشہ ہدایت پر قائم ہے اور آپ کی طرف سے دی گئی شریعت کی تمام خبریں سو فیصد سچی اور برحق ہیں
2 مختصر سوالات

اِنۡ هِىَ اِلَّاۤ اَسۡمَآءٌ سَمَّيۡتُمُوۡهَاۤ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ مَّاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنۡ سُلۡطٰنٍ​ؕ۔

آیت کریمہ میں بتوں کی کیا حقیقت بیان کی گئی ہے؟

ترجمہ

یہ تو صرف نام یہ جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں اللہ نے ان کی کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔

بتوں کی حقیقت اور مشرکین کا طرزِ عمل

1 محض نام — بتوں کی کوئی ذاتی حقیقت یا خدائی طاقت نہیں ہے، یہ صرف گھڑے ہوئے نام ہیں جو تم اور تمہارے باپ دادا نے خود رکھ لیے ہیں۔
2 بے دلائل — اللہ تعالیٰ نے ان کی خدائی یا پرستش پر کوئی دلیل یا سند نازل نہیں فرمائی۔
3 وہم و گمان کی پیروی — مشرکین کسی حقیقی علم کے بغیر صرف خیالی گمان اور اپنے دل کی خواہشات کے پیچھے چل رہے ہیں۔
4 ہدایت سے انکار — ان کے پاس ان کے پروردگار کی طرف سے واضح ہدایت آ چکی ہے، پھر بھی وہ حق کو چھوڑ کر وہم پرستی پر قائم ہیں
3 مختصر سوالات

اِنَّ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ لَيُسَمُّوۡنَ الۡمَلٰٓٮِٕكَةَ تَسۡمِيَةَ الۡاُنۡثٰى۔ ۔

آیت کریمہ میں آخرت کا انتظار کرنے والوں کی کس برائی کا ذکر ہے؟

ترجمہ

بے شک جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ فرشتوں کے نام عورتوں کے نام پر رکھتےہیں۔

سورہ النجم کی آیت نمبر 27 میں آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کی اس برائی کا ذکر ہے کہ وہ فرشتوں کو مونث (عورتوں کے) نام دیتے ہیں اور انہیں اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے ہیں۔

برائی کی تفصیل

1 فرشتوں کے زنانہ نام — وہ فرشتوں کو مؤنث ناموں سے پکارتے اور انہیں اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے۔
2 بغیر علم کی بات — ان کے پاس اس بات کا کوئی علم یا دلیل نہیں تھی، وہ صرف اپنے وہم اور تخمینے پر چلتے تھے۔
3 صریح شرک اور بہتان — یہ خدا کی ذات کے بارے میں جھوٹا بہتان اور شرک تھا۔
4 مختصر سوالات

فَاَعۡرِضۡ عَنۡ مَّنۡ تَوَلّٰى ۙ عَنۡ ذِكۡرِنَا وَلَمۡ يُرِدۡ اِلَّا الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا ؕ۔

آیت کریمہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کس شخص سے اعراض فرمانے کی تلقین کی گئی؟

ترجمہ

سو آپ اس سے منہ پھیرلیجئے جس نے ہمارے ذکر سے منہ موڑ لیا اور وہ صرف دنیا ہی کی زندگی چاہتا ہے۔

جواب سورہ النجم کی آیت نمبر 29 میں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی ایک خاص یا معین شخص کا نام لے کر نہیں، بلکہ ہر اس عام شخص سے اعراض کرنے کی تلقین فرمائی ہے جس نے اللہ کی یاد (قرآن و نصیحت) سے منہ موڑ لیا ہو اور جسے دنیا کی زندگی کے سوا کچھ اور مطلوب نہ ہو
5 مختصر سوالات

وَاَنَّهٗ هُوَ اَضۡحَكَ وَاَبۡكٰىۙ۔ وَاَنَّهٗ هُوَ اَمَاتَ وَ اَحۡيَا ۙ۔

آیت کریمہ میں اللہ کی کن صفات کا ذکر کیا گیا ہے؟

ترجمہ

اور بے شک وہی رب ہنساتا اور رلاتا ہے اور بے شک وہی مارتا اور زندہ فرماتا ہے۔

جواب اس آیت مبارکہ میں اللہ کی درج ذیل صفات بیان ہوئی ہیں کہ اللہ تعالی ہنساتا ہے اور وہی رلاتا ہے اللہ تعالی کے ہنسانے سے مراد یہ ہے کہ خوشی اور غمی کے اسباب اللہ ہی کی طرف سے ہیں وہ جسے چاہتا ہے راحت سکون اور خوشی عطا کرتے ہیں اور جسے چاہتا ہے غم صدمات اور مصائب سے دوچار کرتا ہے۔ مارتا اور زندہ کرنے سے مراد یہ ہے کہ دنیا میں کوئی کام خود بخود حادثاتی طور پر نہیں ہوتا اور نہ ہی خود جینے اور مرنے کا اختیار کسی انسان کو ہے بلکہ اللہ ہی ہے جو زندگی اور موت دینے والا ہے۔

تفصیلی جوابات

6 تفصیلی جوابات

مَا زاغَ الْبَصَرُ وَما طَغَى لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى۔

آیت کریمہ کا ترجمہ اور مفہوم بیان کریں۔

ترجمہ

ان کی نگاہ نہ کسی اور طرف مائل ہوئی اور نہ حد سے بڑی یقیناانہوں نے اپنے رب کی (قدرت کی )بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں۔

جواب ان آیات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان تجلیات کی کیفیات بیان کی گئی ہے جو آپ کو سفر معراج کے موقع پر سدرۃ المنتہی کے مقام پر دکھائے گئے ہیں ۔کہ آپ ﷺ کا مشاہدہ حق اور یقین پر مبنی تھا اور ہر کمزوری اور عیب سے پاک تھا یعنی اس مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ کمزور نہیں ہوئی اس سے مراد یہ ہے کہ نگاہ کا مطلوبہ مقام سے ہٹ کر غیر اہم مقامات کی طرف بھٹکنا اور مطلوبہ چیزوں پر نگاہ کا مذکور نہ رہنا ہے یعنی ایک طرف رسول صلی اللہ علیہ وسلم کےکمال تحمل کا یہ حال تھا کہ ایسی زبردست تجلیات کے سامنے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ میں کوئی چکا چوند پیدا نہ ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پورے سکون کے ساتھ اسے دیکھتے رہے اور دوسری طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےضبط اور یکسوئی کا کمال یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تماشائی کی طرح ہر طرف نگاہیں دوڑانا نہیں شروع کیں۔ بلکہ صاحب عزت اور کرامت مہمان ہونے کی حیثیت سے اپنی نگاہوں کو مشاہدہ جمال حق پر ہی مذکور رکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی موقع پر اللہ تعالی کی بڑی بڑی نشانیوں کا مشاہدہ کیا ہے اور وہ نشانیاں یہ ہیں انبیاء کرام سے ملاقاتیں ،جبریل علیہ السلام سمیت ملائکہ کا مشاہدہ ،جنت و جہنم کا مشاہدہ ،سدرۃ المنتہی پر چھانے والی تجلیات اور انوارات کا مشاہدہ۔
7 تفصیلی جوابات

سُورَةُ النَّجْمِ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں

جواب صفحہ نمبر 93
8 تفصیلی جوابات

وَكَمْ مِنْ مَلَكٍ فِي السَّمَاوَاتِ لَا تُغْنِي شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا إِلَّا مِنْ بَعْدِ أَنْ يَأْذَنَ اللَّهُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَرْضَى۔

آیت کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں۔

ترجمہ

اور آسمان میں کتنے ہی فرشتے ہیں جن کی سفارش کچھ کام نہیں آ سکتی مگر اس کے بعد کہ اللہ جس کے لیے چاہے اجازت دے دےاور پسند فرمائے۔

1 1۔ پس منظر اور شانِ نزول: مشرکینِ مکہ کا عقیدہ تھا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں (معاذ اللہ)۔ وہ فرشتوں کی مورتیاں بنا کر ان کی پوجا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ فرشتوں کے بت اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی بنیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان کے اس جاہلانہ عقیدے کی جڑ کاٹ دی ہے۔
2 2۔ شفاعت کی دو بنیادی شرطیں: اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے ہاں کسی کی سفارش قبول ہونے کے لیے دو سخت شرطیں ہیں: إِذْنِ الٰہی (اللہ کی اجازت): کوئی کتنا ہی مقرب کیوں نہ ہو، وہ اللہ کی مرضی اور اجازت کے بغیر زبان نہیں کھول سکتا۔ رِضائے الٰہی (اللہ کی پسندیدگی): اللہ جس شخص کے حق میں سفارش کرنے کی اجازت دے گا، وہ لازمی طور پر ایسا شخص ہوگا جس کا عقیدہ اور عمل اللہ کے ہاں پسندیدہ ہو (یعنی وہ ایمان والا اور موحد ہو)۔ مشرک اور کافر کے لیے سفارش کی نہ اجازت ہوگی اور نہ اسے پسند کیا جائے گا۔
3 3۔ بتوں اور خود ساختہ معبودوں کی بے بسی: جب آسمانوں کے عظیم اور معصوم فرشتے بھی اللہ کی مشیت کے سامنے بے بس ہیں اور خود سے شفاعت کا کوئی اختیار نہیں رکھتے، تو زمین پر انسانوں کے بنائے ہوئے بے جان پتھر، مورتیاں اور فرضی معبود کس طرح کسی کو نفع یا نقصان پہنچا سکتے ہیں؟ یہ آیت بت پرستی اور غیر اللہ سے حاجت روائی کی امیدوں کو یکسر مسترد کرتی ہے۔
4 4۔ تفسیری حوالہ جات کا خلاصہ: تفسیر ابنِ کثیر — امام ابنِ کثیر لکھتے ہیں کہ جب آسمانوں کے فرشتوں کا یہ حال ہے کہ وہ بغیر اذنِ الٰہی کسی کے لیے ایک کلمہ نہیں بول سکتے، تو زمین کے معبودوں کی کیا اوقات ہے؟ شفاعت صرف اہل توحید کے لیے کارآمد ہوگی۔
5 4۔ تفسیری حوالہ جات کا خلاصہ: تفسیر صراط الجنان / آلوسی — مفسرین بیان کرتے ہیں کہ اس آیت میں مشرکین کو عاجز کرنے کا پہلو ہے۔ انہیں بتایا جا رہا ہے کہ تم جن فرشتوں کے نام پر بت پوجتے ہو، وہ فرشتے بھی تمہاری مشرکانہ حالت کی وجہ سے تم سے بیزار ہیں اور تمہارے حق میں کبھی سفارش نہیں کریں گے۔
9 تفصیلی جوابات

سُورَةُ النَّجْمِ کی چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔

جواب صفحہ نمبر 93
10 تفصیلی جوابات

وَلِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى

آیت کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں۔

ترجمہ

اللہ کے لیے ہے جو کچھ آسمانون اور جو کچھ زمینوں میں ہے تاکہ جنہوں نے برائیاں کیں وہ انہیں ان کے اعمال کا بدلہ دےاور جنہوں نے نیکیاں کیں انہیں اچھا بدلہ دے۔

1 1۔ کائنات کی مطلق ملکیت (وَلِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ…): مفہوم — آیت کا آغاز اس اعلان سے ہوتا ہے کہ کائنات کی ہر ہر چیز صرف اور صرف اللہ کی ملکیت ہے۔
2 1۔ کائنات کی مطلق ملکیت (وَلِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ…): حکمت — اس کا مقصد انسان کو یہ بتانا ہے کہ وہ دنیا میں خود مختار نہیں ہے۔ جب سب کچھ اللہ کا ہے، تو انسان بھی اسی کا بندہ ہے اور وہ اپنے تصرفات کے لیے اللہ کے سامنے جوابدہ ہے۔
3 2۔ جزا و سزا کا مقصد (لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاؤُوا…): مفہوم — اللہ نے یہ کائنات محض کھیل تماشے کے لیے نہیں بنائی، بلکہ اس کا ایک بڑا مقصد عدل کا قیام ہے۔
4 2۔ جزا و سزا کا مقصد (لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاؤُوا…): برائی کا بدلہ — جو لوگ کفر، شرک اور گناہوں میں زندگی گزارتے ہیں، انہیں ان کے اعمال کے برابر سزا دی جائے گی۔ اللہ کسی پر ظلم نہیں کرے گا، سزا صرف اتنی ہی ہوگی جتنا جرم تھا۔
5 3۔ نیکو کاروں کے لیے بہترین جزا (…وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاونَا بِالْحُسْنَىٰ): مفہوم — ”الحُسْنَىٰ“ سے مراد جنت اور اللہ کی رضا ہے۔
6 3۔ نیکو کاروں کے لیے بہترین جزا (…وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاونَا بِالْحُسْنَىٰ): رحمتِ الٰہی — برائی کرنے والوں کے لیے فرمایا ”بِمَا عَمِلُوا“ (جیسا عمل کیا ویسا بدلہ)، لیکن نیکی کرنے والوں کے لیے فرمایا ”بِالْحُسْنَىٰ“ (بہترین بدلہ)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نیکی کا بدلہ انسان کی محنت سے بڑھ کر اپنی رحمت کے مطابق دیتا ہے۔
7 4۔ اگلی آیت (آیت 32) سے تعلق: اس آیت کے فوراً بعد اللہ تعالیٰ نے ”أَحْسَنُوا“ (نیکی کرنے والوں) کی وضاحت فرمائی ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو کبیرہ گناہوں (بڑے گناہوں) اور بے حیائی کے کاموں سے بچتے ہیں، سوائے ان چھوٹے گناہوں کے جو انسانی تقاضے کے تحت غیر ارادی طور پر سرزد ہو جائیں۔

اہم آیات

11 اہم آیات

اَفَرَءَيۡتُمُ اللّٰتَ وَالۡعُزّٰىۙ۔ وَمَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الۡاُخۡرٰى۔

ترجمہ اور مفہوم لکھیں ۔

ترجمہ

تو کیا تم نے لات اور عزی پر غور کیا اور تیسری ایک اور( دیوی) منات پر

مفہوم

1 لات — مشرکین کا بت تھا یہ بہت طائف میں تھا قبیلہ بنو ثقیف کے لوگ اس کی خاص معتقدتھے۔
2 عزی — عزی بھی مشرکین مکہ کا بت تھا یہ بہت مکہ اور طائف کے درمیان وادی نخلہ میں حراص کے مقام پر واقع تھا ۔یہ قبیلہ قریش اور بنی کنانہ کی خاص دیوی تھی۔
3 منات — منات مشرکین مکہ کا تیسرا بت تھا یہ مکہ اور مدینہ کے درمیان بحرہ احمر کے کنارے قدید کے مقام پر واقع تھا بنو خزاعہ ،اوس اور خزرج کے لوگ اس کی معتقد تھے اس کا باقاعدہ حج اور طواف کیا جاتا تھا اس پر قربانی اور نذر کے جانور قربان کیے جاتے تھے۔
جواب اگرچہ ان بتوں اور دیویوں کے مخصوص مندر مختلف مقامات پر تھے لیکن انہی ناموں کے بت کعبہ میں بھی رکھے ہوئے تھے اور دوسرے بتوں کی طرح ان کی بھی پوجا کی جاتی تھی ان بتوں کو پوجنے والوں کا یہ عقیدہ تھا کہ فرشتے (معاذ اللہ )اللہ کی بیٹیاں ہیں اور بت جنیات کا مسکن ہے اور یہ جییات بھی اللہ کی بیٹیاں ہیں ۔(معاذ اللہ)
12 اہم آیات

وَاَنَّهٗ هُوَ رَبُّ الشِّعۡرٰىۙ۔

آیت کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں ۔

ترجمہ

اور یہ کہ وہی شعریٰ(ستارے) کا بھی ربّ ہے۔

جواب اس آیت میں اللہ تعالی کی بڑائی بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اللہ شعری کا رب ہے اور شعری ایک بہت بڑا ستارہ ہے دراصل مشرکین عرب تین مشہور دیویوں لات ،منات اور غزی کے علاوہ آسمان کے دیوتاؤں میں سےشعری ستارے کی بھی پرستش کرتے تھے اور سمجھتےتھےکہ عالم کے احوال میں اس کی بہت بڑی تاثیر ہے۔ اس آیت میں مشرکین کے غلط عقیدے کی اصلاح کرتے ہوئے یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ ہی تمہاری قسمتوں کا مالک ہے جو شعری ستارے کا بھی مالک اور رب ہے کائنات کے تمام معاملات اسی کے دست قدرت میں ہے ”شعر ی“ بھی اسی کا حکم بجالاتا ہے اس میں مستقل تاثیر کچھ بھی نہیں۔
13 اہم آیات

وَاَنَّهٗۤ اَهۡلَكَ عَادَا اࣙلْأُوْلٰى ۙ۔ وَثَمُوۡدَا۟ فَمَاۤ اَبۡقٰىۙ۔ وَقَوۡمَ نُوۡحٍ مِّنۡ قَبۡلُ​ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا هُمۡ اَظۡلَمَ وَاَطۡغٰىؕ۔ وَالۡمُؤۡتَفِكَةَ اَهۡوٰىۙ۔ فَغَشّٰٮهَا مَا غَشّٰى​ۚ۔

آیات کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں ۔

ترجمہ

اور بے شک وہی ہے جس نے عاداول کو ہلاک کیا ۔اور (قوم )ثمود کو بھی تو (کسی )کو باقی نہ چھوڑا ۔اور (ان سے) پہلے نوح ؑکی قوم کو بھی (ہلاک کیا )بے شک وہ لوگ بڑے ہی ظالم اور بڑے ہی سرکش تھے ۔اور اس نے( لوط علیہ السلام کی قوم کی ) الٹی بستیوں کو (زمین پر )دے مارا ۔پھر اس (عذاب نے )ان( بستیوں) کو ڈھانپ لیا جو ڈھانپ کر ہی رہا۔

جواب ان آیات مبارکہ میں اللہ تعالی نے مختلف قوموں پر مختلف عذاب کا ذکر کیا ہے سب سے پہلی قوم جس کا اللہ تعالی نے ذکر کیا ہے وہ ہے عاد اولی۔ عاد اولٰی سے مراد عادارم ہیں جو قدیم قوم عادہے ۔جس کی طرف حضرت ہود علیہ السلام بھیجےگئے ۔اور یہ قوم کرنے اور حضرت ہود ؑ کو جھٹلانے کی وجہ سے عذاب میں مبتلا ہوئی۔ اگلی آیت میں قوم ثمود کا ذکر ہے قوم ثمود کا آغاز ان لوگوں سے ہوا جو حضرت ہود علیہ السلام پر ایمان لانے کی وجہ سے بچ گئے لیکن بعد میں شرک میں مبتلا ہوگئے ان کی نسل کو تاریخ میں عاد اخری اور عاد ثانی بھی کہتے ہیں قوم ثمود ان ہی بقایا میں سےتھے ان کی طرف حضرت صالح علیہ السلام کو رسول بنا کر بھیجا گیا۔ اگلی آیت میں اللہ تعالی نے بتایا کہ اللہ تعالی نے حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کو ہلا ک کیا ہے اور نوح علیہ السلام کی قوم عاد اور ثمود سے پہلے گزرے ہیں ۔اور حضرت نوح ؑ کی قوم کے کوگ اللہ اور آخرت کے منکر تھے ظالم اور حد سے بڑھنے والے سرکش تھے ۔انہوں نے اپنے رسول کو سخت تکلیفیں پہنچائیں ۔اللہ نے ان سب کو تباہ کر ڈالا اور آنے والوں کے لیے عبرت کا نشان بنا ڈالا۔ اگلی آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ الٹی ہوئی بستیوں سے مراد حضرت لوط علیہ السلام کی قوم تھی اور یہ قوم شرک اور ہم جنس پرستی کے جرم میں مبتلا تھی ۔ پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے پہلے ان کی آنکھیں ایسے مٹا دیں گویا ان کے چہروں پر آنکھوں کے نشان تک بھی نہ تھے اور بعد ازاں ان کی بستیوں کو اٹھا کر پٹخ دیا اور تباہ و برباد کردیا اور پھر اللہ نے ان پر پتھروں کی بارش برسائی اور اور ان پتھروں نے اس قوم کو ڈھانپ دیا اور ان کو ہلاک کر دیا۔

سرگرمیاں

14 سرگرمیاں

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکی دور میں دین کی خاطر بہت سی تکالیف برد اشت کیں، جیسے ظلم ،اذیتیں اور اقتصادی بائیکاٹ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب پر صبر کر کے دکھایا ۔آپ اپنی زندگی میں اس کی چند عملی صورتوں کی فہرست تیار کریں۔

نبی کریم ﷺ کے صبر و استقامت کو اپنی زندگی میں اپنانے کی عملی صورتیں

ہماری زندگی میں صبر کی عملی صورتیں

1 سماجی دباؤ کا سامنا — جب لوگ دین داری، داڑھی، یا حجاب کا مذاق اڑائیں تو غصہ کرنے کے بجائے مکہ کی سختیوں کو یاد کر کے اپنے موقف پر ڈٹے رہنا۔
2 معاشی مشکلات میں استقامت — کاروبار میں نقصان، ملازمت کے مسائل، یا مالی تنگی (شعب ابی طالب کی یاد میں) کے وقت حرام ذرائع اختیار کرنے کے بجائے حلال پر صبر کرنا۔
3 دعوت و اصلاح پر مخالفت — جب آپ کسی کو اچھائی کی دعوت دیں اور وہ آگے سے برے سلوک یا طنز (طائف کی طرح) سے پیش آئے، تو بدلہ لینے کے بجائے اس کی ہدایت کے لیے دعا کرنا۔
4 کام کی جگہ پر ماحول — دفتر یا تعلیمی ادارے میں جب آپ کو دیانت داری اور سچائی کی وجہ سے اکیلا (بائیکاٹ) کر دیا جائے، تو اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرنا۔
15 سرگرمیاں

سورۃ نجم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جھوٹے الزامات اور توہین کا سامنا کرنے کا ذکر بھی ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے راستے پر چلنا جاری رکھا اور کسی بھی قسم کی توہین کو تسلیم نہیں کیا اس پر مذاکرہ کریں۔

1 جواب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صبر و استقامت سورہ نجم کی روشنی میں: سورۃ النجم میں نبی کریم ﷺ کی صداقت، توحید اور معراج کا ذکر ہے، جہاں کافروں نے آپ پر جھوٹے الزامات لگائے اور مخالفت کی۔ اس سورۃ میں آپ کی استقامت اور توحید کے راستے پر ڈٹے رہنے کا واضح درس ملتا ہے۔
2 سورۃ النجم میں حالات اور الزامات: بہتان تراشی — مشرکینِ مکہ آپ ﷺ کی لائی ہوئی وحی کو شاعرانہ تخیل یا خود ساختہ باتیں کہتے تھے۔
3 سورۃ النجم میں حالات اور الزامات: معراج کی تکذیب — آپ ﷺ کے واقعہ معراج کو جھٹلایا گیا اور آپ پر جھوٹ بولنے کا الزام عائد کیا گیا۔
4 سورۃ النجم میں حالات اور الزامات: بت پرستی کی تردید — آپ ﷺ نے لات، منات اور عُزیٰ جیسے بتوں کی تردید کی جس پر توہین آمیز رویہ اپنایا گیا۔
5 آپ ﷺ کا ردعمل اور استقامت: صبر و استقامت — آپ ﷺ نے تمام الزامات کے باوجود تبلیغِ دین نہیں چھوڑی۔
6 آپ ﷺ کا ردعمل اور استقامت: وحی کی پیروی — آپ ﷺ نے واضح کیا کہ آپ وہی کہتے ہیں جو اللہ کی طرف سے وحی کی جاتی ہے۔
7 آپ ﷺ کا ردعمل اور استقامت: حق پر ڈٹے رہنا — کسی بھی دباؤ یا توہین پر آپ ﷺ نے اللہ کے احکام سے منہ نہیں موڑا اور اپناشن مشن جاری رکھا
16 سرگرمیاں

واقعہ معراج سے حاصل ہونے والے عملی زندگی کے چند اسباق لکھیں۔

واقعہ معراج سے حاصل ہونے والے عملی زندگی کے چند اسباق

1 ۱۔ نماز کی اہمیت اور اس کی پابندی: معراج کے سفر کا سب سے بڑا اور بنیادی تحفہ پانچ وقت کی نماز ہے۔ دیگر تمام عبادات زمین پر فرض ہوئیں، لیکن نماز وہ واحد عبادت ہے جس کی فرضیت کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو عرشِ بریں پر بلایا۔ عملی سبق: نماز مومن کا معراج ہے۔ جس طرح رسول اللہ ﷺ نے معراج میں اللہ تعالیٰ کا قرب پایا، اسی طرح ایک عام مسلمان نماز کے ذریعے اپنے رب سے گفتگو اور اس کا قرب حاصل کر سکتا ہے۔ اپنی زندگی میں نماز کی پابندی کو اولین ترجیح بنانا ضروری ہے۔
2 ۲۔ عاجزی اور انکساری کا درس: قرآن مجید میں اس عظیم واقعے کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو اپنے ”بندہ“ (عَبْد) کے لقب سے پکارا (سُبْحٰنَ الَّذِیْ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ)۔ کائنات کے سب سے بلند مقام اور اعزاز پر پہنچنے کے بعد بھی ”بندگی“ کا یہ وصف عاجزی کی انتہا ہے۔ عملی سبق: انسان کو زندگی میں کتنی ہی کامیابی، دولت، یا اونچا مقام کیوں نہ مل جائے، اسے ہمیشہ اپنی اوقات یاد رکھنی چاہیے اور غرور و تکبر سے بچ کر عاجزی کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
3 ۳۔ صبر اور استقامت کے بعد آسانی: معراج کا واقعہ ایک ایسے دور میں پیش آیا جب رسول اللہ ﷺ شدید ترین معاشی، معاشرتی اور جذباتی مشکلات سے گزر رہے تھے۔ آپ ﷺ کے غمخوار چچا ابو طالب اور وفادار بیوی حضرت خدیجہؓ کا انتقال ہو چکا تھا، اور طائف کے سفر میں آپ ﷺ پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے تھے۔ اس مایوسی کے دور میں اللہ نے آپ ﷺ کو معراج کا اعزاز بخشا۔ عملی سبق: زندگی کی ہر تنگی اور مشکل کے بعد آسانی آتی ہے۔ اگر ہم دین کے راستے پر چلتے ہوئے یا دنیاوی زندگی میں مشکلات کا شکار ہوں، تو ہمیں مایوس ہونے کے بجائے صبر اور استقامت کا دامن تھامے رکھنا چاہیے، کیونکہ اللہ اپنے مخلص بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔
4 ۴۔ وقت کی قدر و قیمت اور تسخیرِ کائنات: نبی کریم ﷺ کا اتنے قلیل وقت میں مکہ سے بیت المقدس جانا، وہاں سے آسمانوں کی سیر کرنا، انبیاء کی امامت کرنا، جنت و دوزخ کا مشاہدہ کرنا اور واپس آنا (جبکہ آپ کا بستر ابھی گرم تھا اور کنڈی ہل رہی تھی) وقت کے پھیل جانے کا ایک بہت بڑا معجزہ ہے۔ عملی سبق: یہ واقعہ مسلمانوں کو وقت کی اہمیت سکھاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ اس بات کی ترغیب دیتا ہے کہ انسان اپنی عقل اور ایمان کی طاقت سے کائنات کی تسخیر (سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی) کر سکتا ہے، کیونکہ اللہ نے زمین و آسمان کی قوتوں کو انسان کے لیے مسخر کر دیا ہے۔
5 ۵۔ دعوتِ دین کے لیے طہارت اور پاکیزگی: سفرِ معراج شروع ہونے سے پہلے ”شقِ صدر“ کا واقعہ پیش آیا، جس میں ملائکہ نے آپ ﷺ کے قلبِ مبارک کو زمزم سے دھویا اور اسے ایمان و حکمت سے بھر دیا۔ عملی سبق: کسی بھی بڑے مقصد یا دعوتِ دین کے کام کو شروع کرنے کے لیے سب سے پہلے اپنے دل کی صفائی، نیت کا اخلاص اور باطنی پاکیزگی ضروری ہے۔ حسد، بغض اور کینے سے پاک دل ہی دنیا پر مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔
17 سرگرمیاں

انبیاء کرام ،دیگر شخصیات ،قوموں ، چیزوں ،مناظر اور جانوروں کے ناموں کے لحاظ سے سورتوں کی فہرست بنائیں۔

1 جواب : انبیاء کرام کے نام پر سورتیں: سورۃ یونس (حضرت یونسؑ)
2 جواب : انبیاء کرام کے نام پر سورتیں: سورۃ ہود (حضرت ہودؑ)
3 جواب : انبیاء کرام کے نام پر سورتیں: سورۃ یوسف (حضرت یوسفؑ)
4 جواب : انبیاء کرام کے نام پر سورتیں: سورۃ ابراہیم (حضرت ابراہیمؑ)
5 جواب : انبیاء کرام کے نام پر سورتیں: سورۃ محمد (حضرت محمدﷺ)
6 جواب : انبیاء کرام کے نام پر سورتیں: سورۃ نوح (حضرت نوحؑ)
7 دیگر شخصیات اور خاندانوں کے نام پر سورتیں: سورۃ آل عمران (حضرت عمران کا خاندان)
8 دیگر شخصیات اور خاندانوں کے نام پر سورتیں: سورۃ مریم (حضرت مریمؑ)
9 دیگر شخصیات اور خاندانوں کے نام پر سورتیں: سورۃ لقمان (حکیم لقمان)
10 قوموں اور گروہوں کے نام پر سورتیں: سورۃ بنی اسرائیل (حضرت یعقوبؑ کی اولاد)
11 قوموں اور گروہوں کے نام پر سورتیں: سورۃ الحجر (قومِ ثمود کی بستی)
12 قوموں اور گروہوں کے نام پر سورتیں: سورۃ سبأ (قومِ سبا)
13 قوموں اور گروہوں کے نام پر سورتیں: سورۃ منافقون (منافقین کا گروہ)
14 قوموں اور گروہوں کے نام پر سورتیں: سورۃ الجن (جنوں کی قوم)
15 جانوروں اور حشرات کے نام پر سورتیں: سورۃ البقرہ (گائے)
16 جانوروں اور حشرات کے نام پر سورتیں: سورۃ الانعام (چوپائے مویشی)
17 جانوروں اور حشرات کے نام پر سورتیں: سورۃ النحل (شہد کی مکھی)
18 جانوروں اور حشرات کے نام پر سورتیں: سورۃ النمل (چیونٹی)
19 جانوروں اور حشرات کے نام پر سورتیں: سورۃ العنکبوت (مکڑی)
20 جانوروں اور حشرات کے نام پر سورتیں: سورۃ الفیل (ہاتھی)
21 چیزوں، مناظر اور دیگر مظاہر کے نام پر سورتیں: سورۃ الحديد (لوہا)
22 چیزوں، مناظر اور دیگر مظاہر کے نام پر سورتیں: سورۃ القلم (قلم)
23 چیزوں، مناظر اور دیگر مظاہر کے نام پر سورتیں: سورۃ الشمس (سورج)
24 چیزوں، مناظر اور دیگر مظاہر کے نام پر سورتیں: سورۃ الليل (رات)
25 چیزوں، مناظر اور دیگر مظاہر کے نام پر سورتیں: سورۃ الفجر (صبح کی سفیدی)
26 چیزوں، مناظر اور دیگر مظاہر کے نام پر سورتیں: سورۃ البلد (شہر)

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.