ساتویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 9: سبق 9: سورۃ النّٰزعٰت (آیات: 1 تا 46) — مشقی سوالات

تیارکثیر الانتخابی سوالات، مختصر جوابات، تفصیلی جوابات، سرگرمیاں برائے طلبہ اور اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ) · 20 سوالات
حل کی زبان:اردو

کثیر الانتخابی سوالات

1 کثیر الانتخابی سوالات

وَٱلنَّـٰزِعَٰتِ غَرۡقٗا (سورۃ النّٰزعٰت ۔ آیت 1)

«اَلنّٰزِعٰت» کے معنی ہیں:

الف) کھینچنے والے • ب) تیرنے والے • ج) ڈوبنے والے • د) سبقت لے جانے والے

جواب الف) کھینچنے والے — ذخیرۂ الفاظ کے مطابق «اَلنّٰزِعٰت» سے مراد سختی سے (کافر کی روح) کھینچنے والے فرشتے ہیں؛ «اَلسّٰبِحٰت» تیرنے والے اور «اَلسّٰبِقٰت» سبقت لے جانے والے (فرشتے) ہیں۔
2 کثیر الانتخابی سوالات

وَٱلنَّـٰزِعَٰتِ غَرۡقٗا وَٱلنَّـٰشِطَٰتِ نَشۡطٗا وَٱلسَّـٰبِحَٰتِ سَبۡحٗا فَٱلسَّـٰبِقَٰتِ سَبۡقٗا فَٱلۡمُدَبِّرَٰتِ أَمۡرٗا (سورۃ النّٰزعٰت ۔ آیات 1 تا 5)

سُوْرَةُ النّٰزِعٰتِ کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے قسم بیان فرمائی:

الف) ہواؤں کی • ب) سورج کی • ج) فرشتوں کی • د) پہاڑوں کی

جواب ج) فرشتوں کی — سورت کی ابتدائی پانچ آیات میں اللہ تعالیٰ نے (روح قبض کرنے، تیرنے، سبقت لے جانے اور کاموں کا انتظام کرنے والے) فرشتوں کی قسم اٹھا کر قیامت کے واقع ہونے کا ذکر فرمایا ہے۔
3 کثیر الانتخابی سوالات

ٱذۡهَبۡ إِلَىٰ فِرۡعَوۡنَ إِنَّهُۥ طَغَىٰ (سورۃ النّٰزعٰت ۔ آیت 17)

«اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى» میں دعوت کا حکم دیا گیا:

الف) سیدنا یونس علیہ السلام کو • ب) سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو • ج) سیدنا داؤد علیہ السلام کو • د) سیدنا نوح علیہ السلام کو

جواب ب) سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو — وادیِ مقدس طُوٰی میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو ان کے رب نے پکار کر حکم دیا کہ فرعون کی طرف جاؤ، بے شک وہ سرکش ہو گیا ہے۔ (آیات 15 تا 17)
4 کثیر الانتخابی سوالات

فَإِذَا جَآءَتِ ٱلطَّآمَّةُ ٱلۡكُبۡرَىٰ (سورۃ النّٰزعٰت ۔ آیت 34)

«اَلطَّآمَّة» کے معنی ہیں:

الف) آفت • ب) بیماری • ج) خبر • د) مصیبت

جواب الف) آفت — ذخیرۂ الفاظ میں «اَلطَّآمَّة» کا معنی آفت دیا گیا ہے: «اَلطَّآمَّةُ الْكُبْرٰى» (بڑی آفت) سے مراد قیامت ہے۔
5 کثیر الانتخابی سوالات

كَأَنَّهُمۡ يَوۡمَ يَرَوۡنَهَا لَمۡ يَلۡبَثُوٓاْ إِلَّا عَشِيَّةً أَوۡ ضُحَىٰهَا (سورۃ النّٰزعٰت ۔ آیت 46)

«كَاَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوْۤا اِلَّا عَشِيَّةً اَوْ ضُحٰىهَا» کی رو سے دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں ہے:

الف) خوب صورت • ب) طویل • ج) مختصر • د) دائمی

جواب ج) مختصر — قیامت کو دیکھنے کے دن لوگ سمجھیں گے کہ وہ دنیا میں صرف ایک شام یا اس کی ایک صبح ہی رہے تھے — یعنی آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی نہایت مختصر ہے۔

مختصر جوابات

6 مختصر جوابات

فَكَذَّبَ وَعَصَىٰ ثُمَّ أَدۡبَرَ يَسۡعَىٰ (سورۃ النّٰزعٰت ۔ آیات 21 اور 22)

«فَكَذَّبَ وَعَصٰى ۔ ثُمَّ اَدْبَرَ يَسْعٰى» — آیات کے مطابق سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی دعوت پر فرعون کا کیا ردِ عمل تھا؟

ترجمہ

تو اس (فرعون) نے جھٹلایا اور نافرمانی کی۔ پھر وہ پیٹھ پھیر کر (فساد کی) کوشش کرنے لگا۔

سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کو پاکیزگی اختیار کرنے اور رب سے ڈرنے کی دعوت دی اور بڑی نشانی بھی دکھائی، مگر فرعون کا ردِ عمل یہ تھا:

1 تکذیب — اس نے (نشانی اور دعوت کو) جھٹلایا۔
2 نافرمانی — اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی۔
3 روگردانی اور فساد — پیٹھ پھیر کر (دعوت کے خلاف) دوڑ دھوپ اور فساد کی کوشش کرنے لگا، لوگوں کو جمع کر کے (باطل کا) اعلان کیا۔ (آیت 23)
7 مختصر جوابات

فَقَالَ أَنَا۠ رَبُّكُمُ ٱلۡأَعۡلَىٰ (سورۃ النّٰزعٰت ۔ آیت 24)

«فَقَالَ اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى» — آیتِ کریمہ میں فرعون کے کس دعوے کا ذکر ہے؟

ترجمہ

پھر اس نے کہا: میں تمھارا سب سے بڑا رب ہوں۔

جواب آیتِ کریمہ میں فرعون کے (جھوٹے) دعوائے ربوبیت کا ذکر ہے: اس نے لوگوں کو جمع کر کے اعلان کیا کہ میں تمھارا سب سے بڑا رب ہوں۔ اس سرکشی پر اللہ تعالیٰ نے اسے آخرت اور دنیا (دونوں) کے عذاب میں پکڑ لیا، اور اس میں ہر ڈرنے والے کے لیے بڑی عبرت ہے۔ (آیات 25، 26)
8 مختصر جوابات

وَأَمَّا مَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِۦ وَنَهَى ٱلنَّفۡسَ عَنِ ٱلۡهَوَىٰ فَإِنَّ ٱلۡجَنَّةَ هِيَ ٱلۡمَأۡوَىٰ (سورۃ النّٰزعٰت ۔ آیات 40 اور 41)

«وَاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰى» — آیتِ کریمہ میں فرماں برداروں کی کیا صفات بیان ہوئی ہیں؟

ترجمہ

اور جو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا اور اس نے (اپنے) نفس کو (بری) خواہش سے روکا۔ تو بے شک جنت ہی (اس کا) ٹھکانا ہے۔

فرماں برداروں کی دو صفات بیان ہوئی ہیں۔

1 خوفِ الٰہی — اپنے رب کے حضور (قیامت کے دن) کھڑے ہونے کا ڈر دل میں رکھنا۔
2 نفس کو روکنا — اپنے نفس کو بری خواہشات سے روکنا۔
جواب انھی دو صفات والوں کے لیے بشارت ہے کہ جنت ہی ان کا ٹھکانا ہے۔
9 مختصر جوابات

يَسۡـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلسَّاعَةِ أَيَّانَ مُرۡسَىٰهَا (سورۃ النّٰزعٰت ۔ آیت 42)

«يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرْسٰىهَا» سے اسم، فعل اور حرف الگ کریں۔

1 اسم — «اَلسَّاعَة» (قیامت) اور «مُرْسٰى» («مُرْسٰىهَا» میں) — نیز «اَيَّانَ» (کب — سوال کے لیے آنے والا اسم) اور ضمیریں «كَ» اور «هَا» بھی اسماء میں شمار ہوتی ہیں۔
2 فعل — «يَسْـَٔلُوْنَ» (وہ سوال کرتے ہیں) — فعل مضارع۔
3 حرف — «عَنْ» (کے بارے میں) — حرفِ جر۔
جواب پہچان: «اَلسَّاعَة» پر «ال» ہے اور یہ حرفِ جر «عَنْ» کے بعد آیا ہے، اس لیے اسم ہے؛ «يَسْـَٔلُوْنَ» میں کام کا زمانہ پایا جاتا ہے، اس لیے فعل ہے۔
10 مختصر جوابات

إِنَّمَآ أَنتَ مُنذِرُ مَن يَخۡشَىٰهَا (سورۃ النّٰزعٰت ۔ آیت 45)

«اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرُ مَنْ يَّخْشٰىهَا» — آیتِ کریمہ میں آپ ﷺ کی کیا ذمہ داری بیان کی گئی ہے؟

ترجمہ

آپ تو صرف اس شخص کو (برے انجام سے) ڈرانے والے ہیں جو اس (قیامت) سے ڈرتا ہے۔

جواب آیتِ کریمہ میں آپ ﷺ کی ذمہ داری «اِنذار» بیان کی گئی ہے: یعنی قیامت اور اس کے برے انجام سے ڈرانا اور خبردار کرنا۔ قیامت کا وقت بتانا آپ ﷺ کی ذمہ داری نہیں — اس کا حتمی علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے — اور آپ ﷺ کے ڈرانے کا فائدہ بھی وہی اٹھاتا ہے جو اس (قیامت) کا خوف رکھتا ہے۔

تفصیلی جوابات

11 تفصیلی جوابات

فَإِذَا جَآءَتِ ٱلطَّآمَّةُ ٱلۡكُبۡرَىٰ يَوۡمَ يَتَذَكَّرُ ٱلۡإِنسَٰنُ مَا سَعَىٰ (سورۃ النّٰزعٰت ۔ آیات 34 اور 35)

آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

پھر جب بڑی آفت (قیامت) آ جائے گی۔ جس دن انسان اپنی (ہر) کوشش کو یاد کرے گا۔

جواب یہاں قیامت کو "الطَّآمَّۃُ الکُبریٰ" یعنی سب سے بڑی آفت کہا گیا ہے، جو ہر چیز پر چھا جائے گی۔ جب وہ دن آئے گا تو انسان کو اپنی ساری کوششیں اور سارے کام یاد آ جائیں گے۔ دنیا میں جو کچھ اُس نے کیا ہوگا، سب آنکھوں کے سامنے آ جائے گا — چاہے وہ بھول ہی کیوں نہ چکا ہو۔ سبق یہ ہے کہ کوئی عمل ضائع نہیں ہوتا، ہر چیز محفوظ ہے۔ اِس لیے آج ہر کام سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔
12 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ النّٰزِعٰتِ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔

تعارف

1 نام کی وجہ — اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی ابتدا لفظ «وَالنّٰزِعٰت» (فرشتوں کی قسم) سے فرمائی ہے؛ اسی مناسبت سے اس کا نام «سُوْرَةُ النّٰزِعٰت» ہے۔
2 زمانۂ نزول — یہ سورت سُوْرَةُ النَّبَاِ کے فوراً بعد نازل ہوئی۔
3 مکی سورت — یہ مکی سورت ہے اور اس میں 46 آیات ہیں۔
جواب مرکزی مضمون — قیامت کا بیان۔
13 تفصیلی جوابات

فَأَمَّا مَن طَغَىٰ وَءَاثَرَ ٱلۡحَيَوٰةَ ٱلدُّنۡيَا فَإِنَّ ٱلۡجَحِيمَ هِيَ ٱلۡمَأۡوَىٰ (سورۃ النّٰزعٰت ۔ آیات 37 تا 39)

آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

تو جس نے سرکشی کی۔ اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ تو بے شک جہنم ہی (اس کا) ٹھکانا ہے۔

جواب اِن آیتوں میں بدنصیب انسان کی دو نشانیاں بتائی گئی ہیں۔ پہلی یہ کہ اُس نے سرکشی کی، یعنی اللہ کے حکم کو نہ مانا اور حد سے بڑھ گیا۔ دوسری یہ کہ اُس نے دنیا کی زندگی کو ترجیح دی، یعنی آخرت کو چھوڑ کر صرف دنیا کے مزے کو اہم سمجھا۔ ایسے شخص کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔ سبق یہ ہے کہ دنیا کا کام کرنا منع نہیں، مگر اُسے آخرت پر مقدم کر لینا تباہی کا راستہ ہے۔
14 تفصیلی جوابات

يَسۡـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلسَّاعَةِ أَيَّانَ مُرۡسَىٰهَا فِيمَ أَنتَ مِن ذِكۡرَىٰهَآ إِلَىٰ رَبِّكَ مُنتَهَىٰهَآ (سورۃ النّٰزعٰت ۔ آیات 42 تا 44)

آیاتِ کریمہ میں قیامت کے حوالے سے کیا بتایا گیا ہے؟

ترجمہ

وہ آپ سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ وہ کب قائم ہو گی؟ آپ کا اس (کے وقت) کے ذکر سے کیا تعلق؟ آپ کے رب ہی کے پاس اس (کے وقت) کا انتہائی علم ہے۔

آیاتِ کریمہ میں قیامت کے حوالے سے یہ بتایا گیا ہے:

1 کفار (بطورِ مذاق) آپ ﷺ سے قیامت کے قائم ہونے کا وقت پوچھتے تھے۔
2 قیامت کا وقت بتانا آپ ﷺ کے ذمے ہی نہیں؛ آپ کا کام (وقت بتانا نہیں بلکہ) ڈرانا ہے۔
3 قیامت کے وقت کا حتمی اور انتہائی علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔
15 تفصیلی جوابات

إِنَّمَآ أَنتَ مُنذِرُ مَن يَخۡشَىٰهَا كَأَنَّهُمۡ يَوۡمَ يَرَوۡنَهَا لَمۡ يَلۡبَثُوٓاْ إِلَّا عَشِيَّةً أَوۡ ضُحَىٰهَا (سورۃ النّٰزعٰت ۔ آیات 45 اور 46)

آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

آپ تو صرف اس شخص کو (برے انجام سے) ڈرانے والے ہیں جو اس (قیامت) سے ڈرتا ہے۔ گویا وہ جس دن اسے دیکھیں گے (تو سمجھیں گے کہ) وہ (دنیا میں) صرف ایک شام یا اس کی ایک صبح ہی رہے تھے۔

جواب نبی کریم ﷺ سے فرمایا گیا کہ آپ کا کام صرف اُس شخص کو ڈرانا ہے جو قیامت سے ڈرتا ہو، یعنی جس کے دل میں فکر ہو وہی نصیحت لیتا ہے۔ پھر قیامت کا نقشہ کھینچا گیا کہ جس دن لوگ اُسے دیکھیں گے تو اُنہیں یوں لگے گا جیسے وہ دنیا میں صرف ایک شام یا ایک صبح ہی ٹھہرے تھے۔ ساری لمبی زندگی اُس دن چند لمحوں جیسی محسوس ہوگی۔ سبق یہ ہے کہ دنیا بہت مختصر ہے، اِس لیے اِسے آخرت کی تیاری میں لگانا چاہیے۔
16 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ النّٰزِعٰتِ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔

سورۃ النّٰزعٰت کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:

1 قیامت کے واقع ہونے پر فرشتوں کی قسم اٹھانے کا ذکر۔
2 فرشتوں کے ذریعے روح قبض کرنے اور دوبارہ زندہ کرنے کا بیان۔
3 سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی توحید کی دعوت اور فرعون کے انجام کا تذکرہ۔
4 آخرت کا انکار کرنے والوں کو ایمان لانے کی ترغیب۔
5 قیامت کے دن نیک اور بد کا انجام۔
6 قیامت کے واقع ہونے کا حتمی علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔
7 دنیوی زندگی اور برزخ کا قیام آخرت میں مختصر محسوس ہونا۔

سرگرمیاں برائے طلبہ

17 سرگرمیاں برائے طلبہ

وَأَمَّا مَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِۦ وَنَهَى ٱلنَّفۡسَ عَنِ ٱلۡهَوَىٰ فَإِنَّ ٱلۡجَنَّةَ هِيَ ٱلۡمَأۡوَىٰ (سورۃ النّٰزعٰت ۔ آیات 40 اور 41)

جنت میں لے جانے والے اعمال کی فہرست بنا کر اپنا جائزہ لیں کہ آپ ان میں سے کن اعمال پر عمل کر رہے ہیں۔

اسی سورت میں جنت کا راستہ دو جامع صفتوں میں بیان ہوا ہے: اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے کا خوف اور نفس کو بری خواہش سے روکنا (آیات 40، 41)۔ انھی سے نکلنے والے چند اعمال کی فہرست بنا کر ہر عمل کے سامنے (✓) یا (✗) لگا کر اپنا جائزہ لیں:

1 اللہ تعالیٰ پر سچا ایمان اور شرک سے مکمل اجتناب۔
2 پانچ وقت کی نماز کی پابندی۔
3 قرآنِ کریم کی تلاوت اور اس پر عمل۔
4 والدین کی اطاعت اور خدمت۔
5 سچ بولنا اور جھوٹ، غیبت اور گالی سے بچنا۔
6 نفس کو بری خواہشات (اور بری صحبت) سے روکنا۔
7 صدقہ و خیرات اور دوسروں کی مدد۔
8 صبر، شکر اور معاف کر دینا۔
9 حقوق العباد کی ادائیگی؛ کسی کو ناحق تکلیف نہ دینا۔
10 گناہ ہو جائے تو فوری توبہ و استغفار۔
جواب جن اعمال پر (✗) لگے، انھیں اگلے ہفتے کا ہدف بنائیں اور اپنے جائزے پر اساتذہ یا والدین سے بات کریں۔
18 سرگرمیاں برائے طلبہ

درج ذیل عنوانات پر سُوْرَةُ النّٰزِعٰتِ سے قرآنی کلمات تلاش کر کے تحریر کریں: 1۔ ایک ڈانٹ 2۔ کانپنے والی زمین 3۔ جنت کا ٹھکانا 4۔ جھکی ہوئی آنکھیں 5۔ پانی اور چارہ

1 1۔ ایک ڈانٹ — «زَجۡرَةٞ وَٰحِدَةٞ» — تو وہ (قیامت) صرف ایک ڈانٹ ہو گی۔ (آیت 13)
2 2۔ کانپنے والی زمین — «ٱلرَّاجِفَةُ» — جس دن کانپنے والی (زمین) کانپے گی۔ (آیت 6)
3 3۔ جنت کا ٹھکانا — «ٱلۡجَنَّةَ هِيَ ٱلۡمَأۡوَىٰ» — تو بے شک جنت ہی (اس کا) ٹھکانا ہے۔ (آیت 41)
4 4۔ جھکی ہوئی آنکھیں — «أَبۡصَٰرُهَا خَٰشِعَةٞ» — ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی۔ (آیت 9)
5 5۔ پانی اور چارہ — «مَآءَهَا وَمَرۡعَىٰهَا» — اس (زمین) میں سے اس کا پانی اور اس کا چارہ نکالا۔ (آیت 31)

اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

19 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

وَأَمَّا مَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِۦ وَنَهَى ٱلنَّفۡسَ عَنِ ٱلۡهَوَىٰ (سورۃ النّٰزعٰت ۔ آیت 40)

چند ایسے اعمال تحریر کریں جنھیں آخرت کے حوالے سے کارآمد بنایا جا سکتا ہے۔

روزمرہ کے بہت سے (مباح) کام صرف نیت درست کرنے سے آخرت کے لیے کارآمد — یعنی عبادت اور اجر کا ذریعہ — بن جاتے ہیں۔ خواہشِ نفس کے بجائے رضائے الٰہی کو مقصد بنا لینا ہی وہ چیز ہے جسے اس سبق میں «نفس کو خواہش سے روکنا» فرمایا گیا ہے۔ (آیت 40) چند مثالیں:

1 کھانا پینا اور سونا — عبادت اور فرائض کے لیے قوت حاصل کرنے کی نیت سے ہوں تو اجر کا باعث ہیں۔
2 تعلیم حاصل کرنا — علم اس نیت سے پڑھنا کہ اللہ کے دین اور مخلوق کی خدمت کی جائے۔
3 کمائی اور ملازمت — حلال روزی اور اہل و عیال کی کفالت کی نیت سے محنت عبادت بن جاتی ہے؛ گھر والوں پر خرچ صدقہ ہے۔
4 گھر کے کام کاج — والدین اور گھر والوں کی مدد خدمت اور صلہ رحمی کی نیت سے کی جائے۔
5 ملنا جلنا — مسکرا کر ملنا، سلام میں پہل اور اچھی بات — یہ سب صدقہ ہیں۔
6 راستہ چلنا — راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا ایمان کی شاخوں میں سے ہے۔
7 صحت اور ورزش — جسم کو اللہ کی امانت سمجھ کر اس کی حفاظت کی نیت کریں۔
8 تفریح اور آرام — جائز تفریح اس نیت سے کہ تازہ دم ہو کر فرائض بہتر ادا ہوں۔
جواب اصول یہ ہے: جو کام اللہ کی نافرمانی سے پاک ہو اور اچھی نیت کے ساتھ کیا جائے، وہ آخرت کا توشہ بن جاتا ہے۔ (جنت میں لے جانے والے اعمال کی فہرست سرگرمی 1 میں ملاحظہ کریں۔)
20 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

فَقَالَ أَنَا۠ رَبُّكُمُ ٱلۡأَعۡلَىٰ

قرآنی مثالوں کے ذریعے چند مؤنث سماعی تحریر کریں۔

سبق کی گرامر کے مطابق کچھ اسماء ایسے ہوتے ہیں جن میں مؤنث کی کوئی ظاہری علامت (گول ة، الف مقصورہ، الف ممدودہ) نہیں ہوتی، مگر اہلِ زبان انھیں مؤنث ہی استعمال کرتے ہیں؛ ایسے اسماء کو «مؤنث سماعی» کہتے ہیں، جیسے: شَمْس، اَرْض، نَار، جَهَنَّم، عَيْن، يَد، اُذُن، سَمَاء، نَفْس وغیرہ۔

اسی سورت سے قرآنی مثالیں

1 1۔ ٱلسَّمَآءُۚ — آسمان — «اَمِ السَّمَآءُ بَنٰىهَا»: کیا تمھارا پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا آسمان کا؟ اس نے اسے بنایا۔ (آیت 27)
2 2۔ وَٱلۡأَرۡضَ — زمین — «دَحٰىهَا» میں مؤنث ضمیر «هَا» زمین کے مؤنث ہونے کی گواہ ہے۔ (آیت 30)
3 3۔ ٱلۡجَحِيمَ هِيَ ٱلۡمَأۡوَىٰ — جہنم — «هِيَ» (مؤنث ضمیر) بتاتی ہے کہ «اَلْجَحِيْم» مؤنث استعمال ہوا ہے۔ (آیت 39)
4 4۔ وَنَهَى ٱلنَّفۡسَ عَنِ ٱلۡهَوَىٰ — نفس — «اَلنَّفْس» بھی مؤنث سماعی ہے۔ (آیت 40)
جواب دیگر قرآنی مثالیں: «وَالشَّمْسِ وَضُحٰىهَا» میں «شَمْس» اور «اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْ» میں فعل کی مؤنث علامت «تْ» — یہ سب اسماء بغیر ظاہری علامت کے مؤنث بولے جاتے ہیں، اس لیے مؤنث سماعی ہیں۔ (ظاہری علامتوں والی مؤنث کی پہچان — گول ة، الف مقصورہ «ى»، الف ممدودہ «اء» — سبق کی گرامر میں گزر چکی ہے۔)

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.