وَٱلنَّـٰزِعَٰتِ غَرۡقٗا (سورۃ النّٰزعٰت ۔ آیت 1)
«اَلنّٰزِعٰت» کے معنی ہیں:
الف) کھینچنے والے • ب) تیرنے والے • ج) ڈوبنے والے • د) سبقت لے جانے والے
ساتویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ
وَٱلنَّـٰزِعَٰتِ غَرۡقٗا (سورۃ النّٰزعٰت ۔ آیت 1)
«اَلنّٰزِعٰت» کے معنی ہیں:
الف) کھینچنے والے • ب) تیرنے والے • ج) ڈوبنے والے • د) سبقت لے جانے والے
وَٱلنَّـٰزِعَٰتِ غَرۡقٗا وَٱلنَّـٰشِطَٰتِ نَشۡطٗا وَٱلسَّـٰبِحَٰتِ سَبۡحٗا فَٱلسَّـٰبِقَٰتِ سَبۡقٗا فَٱلۡمُدَبِّرَٰتِ أَمۡرٗا (سورۃ النّٰزعٰت ۔ آیات 1 تا 5)
سُوْرَةُ النّٰزِعٰتِ کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے قسم بیان فرمائی:
الف) ہواؤں کی • ب) سورج کی • ج) فرشتوں کی • د) پہاڑوں کی
ٱذۡهَبۡ إِلَىٰ فِرۡعَوۡنَ إِنَّهُۥ طَغَىٰ (سورۃ النّٰزعٰت ۔ آیت 17)
«اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى» میں دعوت کا حکم دیا گیا:
الف) سیدنا یونس علیہ السلام کو • ب) سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو • ج) سیدنا داؤد علیہ السلام کو • د) سیدنا نوح علیہ السلام کو
فَإِذَا جَآءَتِ ٱلطَّآمَّةُ ٱلۡكُبۡرَىٰ (سورۃ النّٰزعٰت ۔ آیت 34)
«اَلطَّآمَّة» کے معنی ہیں:
الف) آفت • ب) بیماری • ج) خبر • د) مصیبت
كَأَنَّهُمۡ يَوۡمَ يَرَوۡنَهَا لَمۡ يَلۡبَثُوٓاْ إِلَّا عَشِيَّةً أَوۡ ضُحَىٰهَا (سورۃ النّٰزعٰت ۔ آیت 46)
«كَاَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوْۤا اِلَّا عَشِيَّةً اَوْ ضُحٰىهَا» کی رو سے دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں ہے:
الف) خوب صورت • ب) طویل • ج) مختصر • د) دائمی
فَكَذَّبَ وَعَصَىٰ ثُمَّ أَدۡبَرَ يَسۡعَىٰ (سورۃ النّٰزعٰت ۔ آیات 21 اور 22)
«فَكَذَّبَ وَعَصٰى ۔ ثُمَّ اَدْبَرَ يَسْعٰى» — آیات کے مطابق سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی دعوت پر فرعون کا کیا ردِ عمل تھا؟
تو اس (فرعون) نے جھٹلایا اور نافرمانی کی۔ پھر وہ پیٹھ پھیر کر (فساد کی) کوشش کرنے لگا۔
سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کو پاکیزگی اختیار کرنے اور رب سے ڈرنے کی دعوت دی اور بڑی نشانی بھی دکھائی، مگر فرعون کا ردِ عمل یہ تھا:
فَقَالَ أَنَا۠ رَبُّكُمُ ٱلۡأَعۡلَىٰ (سورۃ النّٰزعٰت ۔ آیت 24)
«فَقَالَ اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى» — آیتِ کریمہ میں فرعون کے کس دعوے کا ذکر ہے؟
پھر اس نے کہا: میں تمھارا سب سے بڑا رب ہوں۔
وَأَمَّا مَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِۦ وَنَهَى ٱلنَّفۡسَ عَنِ ٱلۡهَوَىٰ فَإِنَّ ٱلۡجَنَّةَ هِيَ ٱلۡمَأۡوَىٰ (سورۃ النّٰزعٰت ۔ آیات 40 اور 41)
«وَاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰى» — آیتِ کریمہ میں فرماں برداروں کی کیا صفات بیان ہوئی ہیں؟
اور جو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا اور اس نے (اپنے) نفس کو (بری) خواہش سے روکا۔ تو بے شک جنت ہی (اس کا) ٹھکانا ہے۔
فرماں برداروں کی دو صفات بیان ہوئی ہیں۔
يَسۡـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلسَّاعَةِ أَيَّانَ مُرۡسَىٰهَا (سورۃ النّٰزعٰت ۔ آیت 42)
«يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرْسٰىهَا» سے اسم، فعل اور حرف الگ کریں۔
إِنَّمَآ أَنتَ مُنذِرُ مَن يَخۡشَىٰهَا (سورۃ النّٰزعٰت ۔ آیت 45)
«اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرُ مَنْ يَّخْشٰىهَا» — آیتِ کریمہ میں آپ ﷺ کی کیا ذمہ داری بیان کی گئی ہے؟
آپ تو صرف اس شخص کو (برے انجام سے) ڈرانے والے ہیں جو اس (قیامت) سے ڈرتا ہے۔
فَإِذَا جَآءَتِ ٱلطَّآمَّةُ ٱلۡكُبۡرَىٰ يَوۡمَ يَتَذَكَّرُ ٱلۡإِنسَٰنُ مَا سَعَىٰ (سورۃ النّٰزعٰت ۔ آیات 34 اور 35)
آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔
پھر جب بڑی آفت (قیامت) آ جائے گی۔ جس دن انسان اپنی (ہر) کوشش کو یاد کرے گا۔
سُوْرَةُ النّٰزِعٰتِ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔
تعارف
فَأَمَّا مَن طَغَىٰ وَءَاثَرَ ٱلۡحَيَوٰةَ ٱلدُّنۡيَا فَإِنَّ ٱلۡجَحِيمَ هِيَ ٱلۡمَأۡوَىٰ (سورۃ النّٰزعٰت ۔ آیات 37 تا 39)
آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔
تو جس نے سرکشی کی۔ اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ تو بے شک جہنم ہی (اس کا) ٹھکانا ہے۔
يَسۡـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلسَّاعَةِ أَيَّانَ مُرۡسَىٰهَا فِيمَ أَنتَ مِن ذِكۡرَىٰهَآ إِلَىٰ رَبِّكَ مُنتَهَىٰهَآ (سورۃ النّٰزعٰت ۔ آیات 42 تا 44)
آیاتِ کریمہ میں قیامت کے حوالے سے کیا بتایا گیا ہے؟
وہ آپ سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ وہ کب قائم ہو گی؟ آپ کا اس (کے وقت) کے ذکر سے کیا تعلق؟ آپ کے رب ہی کے پاس اس (کے وقت) کا انتہائی علم ہے۔
آیاتِ کریمہ میں قیامت کے حوالے سے یہ بتایا گیا ہے:
إِنَّمَآ أَنتَ مُنذِرُ مَن يَخۡشَىٰهَا كَأَنَّهُمۡ يَوۡمَ يَرَوۡنَهَا لَمۡ يَلۡبَثُوٓاْ إِلَّا عَشِيَّةً أَوۡ ضُحَىٰهَا (سورۃ النّٰزعٰت ۔ آیات 45 اور 46)
آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔
آپ تو صرف اس شخص کو (برے انجام سے) ڈرانے والے ہیں جو اس (قیامت) سے ڈرتا ہے۔ گویا وہ جس دن اسے دیکھیں گے (تو سمجھیں گے کہ) وہ (دنیا میں) صرف ایک شام یا اس کی ایک صبح ہی رہے تھے۔
سُوْرَةُ النّٰزِعٰتِ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔
سورۃ النّٰزعٰت کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:
وَأَمَّا مَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِۦ وَنَهَى ٱلنَّفۡسَ عَنِ ٱلۡهَوَىٰ فَإِنَّ ٱلۡجَنَّةَ هِيَ ٱلۡمَأۡوَىٰ (سورۃ النّٰزعٰت ۔ آیات 40 اور 41)
جنت میں لے جانے والے اعمال کی فہرست بنا کر اپنا جائزہ لیں کہ آپ ان میں سے کن اعمال پر عمل کر رہے ہیں۔
اسی سورت میں جنت کا راستہ دو جامع صفتوں میں بیان ہوا ہے: اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے کا خوف اور نفس کو بری خواہش سے روکنا (آیات 40، 41)۔ انھی سے نکلنے والے چند اعمال کی فہرست بنا کر ہر عمل کے سامنے (✓) یا (✗) لگا کر اپنا جائزہ لیں:
درج ذیل عنوانات پر سُوْرَةُ النّٰزِعٰتِ سے قرآنی کلمات تلاش کر کے تحریر کریں: 1۔ ایک ڈانٹ 2۔ کانپنے والی زمین 3۔ جنت کا ٹھکانا 4۔ جھکی ہوئی آنکھیں 5۔ پانی اور چارہ
وَأَمَّا مَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِۦ وَنَهَى ٱلنَّفۡسَ عَنِ ٱلۡهَوَىٰ (سورۃ النّٰزعٰت ۔ آیت 40)
چند ایسے اعمال تحریر کریں جنھیں آخرت کے حوالے سے کارآمد بنایا جا سکتا ہے۔
روزمرہ کے بہت سے (مباح) کام صرف نیت درست کرنے سے آخرت کے لیے کارآمد — یعنی عبادت اور اجر کا ذریعہ — بن جاتے ہیں۔ خواہشِ نفس کے بجائے رضائے الٰہی کو مقصد بنا لینا ہی وہ چیز ہے جسے اس سبق میں «نفس کو خواہش سے روکنا» فرمایا گیا ہے۔ (آیت 40) چند مثالیں:
فَقَالَ أَنَا۠ رَبُّكُمُ ٱلۡأَعۡلَىٰ
قرآنی مثالوں کے ذریعے چند مؤنث سماعی تحریر کریں۔
سبق کی گرامر کے مطابق کچھ اسماء ایسے ہوتے ہیں جن میں مؤنث کی کوئی ظاہری علامت (گول ة، الف مقصورہ، الف ممدودہ) نہیں ہوتی، مگر اہلِ زبان انھیں مؤنث ہی استعمال کرتے ہیں؛ ایسے اسماء کو «مؤنث سماعی» کہتے ہیں، جیسے: شَمْس، اَرْض، نَار، جَهَنَّم، عَيْن، يَد، اُذُن، سَمَاء، نَفْس وغیرہ۔
اسی سورت سے قرآنی مثالیں
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔