ساتویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 10: سبق 10: سورۃ عبس (آیات: 1 تا 42) — مشقی سوالات

تیارکثیر الانتخابی سوالات، مختصر جوابات، تفصیلی جوابات، سرگرمیاں برائے طلبہ اور اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ) · 22 سوالات
حل کی زبان:اردو

کثیر الانتخابی سوالات

1 کثیر الانتخابی سوالات

عَبَسَ وَتَوَلَّىٰٓ أَن جَآءَهُ ٱلۡأَعۡمَىٰ (سورۃ عبس ۔ آیات 1 اور 2)

سُوْرَةُ عَبَسَ کے مطابق نبی کریم خاتم النبیین ﷺ کے پاس حاضر ہوئے:

الف) سیدنا عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ • ب) سیدنا عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما • ج) سیدنا عبداللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ • د) سیدنا بلال ابن رباح رضی اللہ عنہ

جواب ج) سیدنا عبداللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ — جب سردارانِ قریش نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھے تھے تو نابینا صحابی سیدنا عبداللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور کچھ پوچھنا چاہا؛ اسی واقعے پر یہ سورت نازل ہوئی۔
2 کثیر الانتخابی سوالات

أَن جَآءَهُ ٱلۡأَعۡمَىٰ (سورۃ عبس ۔ آیت 2)

«اَلْاَعْمٰى» کے معنی ہیں:

الف) گونگا • ب) بہرا • ج) اندھا • د) لنگڑا

جواب ج) اندھا — ذخیرۂ الفاظ میں «اَلْاَعْمٰى» کا معنی نابینا (اندھا) دیا گیا ہے؛ مراد نابینا صحابی سیدنا عبداللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ ہیں۔
3 کثیر الانتخابی سوالات

أَوۡ يَذَّكَّرُ فَتَنفَعَهُ ٱلذِّكۡرَىٰٓ (سورۃ عبس ۔ آیت 4)

«اَلذِّكْرٰى» کے معنی ہیں:

الف) صحیفے • ب) احکام • ج) نصیحت • د) یادداشت

جواب ج) نصیحت — «اَلذِّكْرٰى» کا معنی نصیحت ہے: شاید وہ نصیحت حاصل کرتا تو اسے نصیحت فائدہ دیتی۔
4 کثیر الانتخابی سوالات

فَلۡيَنظُرِ ٱلۡإِنسَٰنُ إِلَىٰ طَعَامِهِۦٓ (سورۃ عبس ۔ آیت 24)

«فَلْيَنْظُرِ الْاِنْسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖ» کے مطابق انسان کو چاہیے کہ وہ دیکھے اپنے:

الف) کھانے کی طرف • ب) پینے کی طرف • ج) مال کی طرف • د) اولاد کی طرف

جواب الف) کھانے کی طرف — «طَعَام» کا معنی کھانا ہے: انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے کہ اللہ تعالیٰ نے پانی برسا کر اور زمین کو پھاڑ کر یہ سب کچھ کیسے اگایا۔ (آیات 25 تا 32)
5 کثیر الانتخابی سوالات

ثُمَّ أَمَاتَهُۥ فَأَقۡبَرَهُۥ (سورۃ عبس ۔ آیت 21)

«اَمَاتَهٗ» میں «هٗ» عربی قواعد کی رو سے ہے:

الف) فعل • ب) حرف • ج) ضمیر متصل • د) ضمیر منفصل

جواب ج) ضمیر متصل — «اَمَاتَهٗ» (اس نے اسے موت دی) میں «هٗ» ضمیر متصل ہے، کیوں کہ یہ فعل «اَمَاتَ» کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ سبق کی گرامر کے مطابق اسم، فعل یا حرف کے ساتھ ملی ہوئی ضمیر کو ضمیر متصل کہتے ہیں۔

مختصر جوابات

6 مختصر جوابات

فِي صُحُفٖ مُّكَرَّمَةٖ مَّرۡفُوعَةٖ مُّطَهَّرَةِۭ بِأَيۡدِي سَفَرَةٖ كِرَامِۭ بَرَرَةٖ (سورۃ عبس ۔ آیات 13 تا 16)

«فِيْ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍ ۔ مَّرْفُوْعَةٍ مُّطَهَّرَةٍ» — آیاتِ کریمہ میں قرآنِ حکیم کی کیا عظمت بیان ہوئی ہے؟

ترجمہ

(یہ قرآن) عزت والے صحیفوں میں (لکھا ہوا) ہے۔ جو بلند مرتبہ (اور) پاکیزہ ہیں۔ ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں میں ہیں۔ جو عزت والے، نیک (فرشتے) ہیں۔

آیاتِ کریمہ میں قرآنِ حکیم کی یہ عظمت بیان ہوئی ہے:

1 یہ عزت والے صحیفوں میں (لکھا ہوا) ہے۔
2 وہ صحیفے بلند مرتبہ اور (ہر آمیزش سے) پاکیزہ ہیں۔
3 وہ ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں میں ہیں جو عزت والے اور نیک فرشتے ہیں۔
7 مختصر جوابات

فَأَنۢبَتۡنَا فِيهَا حَبّٗا (سورۃ عبس ۔ آیت 27)

«فَاَنْۢبَتْنَا فِيْهَا حَبًّا» — آیتِ کریمہ سے اسم، فعل اور حرف الگ کریں۔

ترجمہ

پھر ہم نے اس (زمین) میں اناج اگایا۔

1 اسم — «حَبًّا» (اناج) — اس پر تنوین اسم کی علامت ہے؛ نیز ضمیریں «نَا» (ہم — فاعل) اور «هَا» (زمین کی طرف لوٹنے والی) بھی اسماء میں شمار ہوتی ہیں۔
2 فعل — «اَنْۢبَتَ» («اَنْۢبَتْنَا» میں) — اگانے کا کام گزرے ہوئے زمانے میں پایا گیا، لہٰذا فعل ماضی ہے۔
3 حرف — «فَ» (پھر — حرفِ عطف) اور «فِيْ» (میں — حرفِ جر)۔
8 مختصر جوابات

وَعِنَبٗا وَقَضۡبٗا وَزَيۡتُونٗا وَنَخۡلٗا وَحَدَآئِقَ غُلۡبٗا وَفَٰكِهَةٗ وَأَبّٗا (سورۃ عبس ۔ آیات 28 تا 31)

آیاتِ کریمہ میں بیان کی گئی نعمتیں تحریر کریں۔

ترجمہ

اور انگور اور سبزیاں۔ اور زیتون اور کھجوریں۔ اور خوب گھنے باغات۔ اور پھل اور چارا۔

جواب آیاتِ کریمہ میں یہ نعمتیں بیان ہوئی ہیں: انگور («عِنَبًا»)، سبزیاں («قَضْبًا»)، زیتون، کھجوریں («نَخْلًا»)، خوب گھنے باغات («حَدَآئِقَ غُلْبًا»)، پھل («فَاكِهَةً») اور چارا («اَبًّا») — یہ سب تمھارے اور تمھارے مویشیوں کے فائدے کے لیے (پیدا فرمائے گئے)۔ (آیت 32)
9 مختصر جوابات

يَوۡمَ يَفِرُّ ٱلۡمَرۡءُ مِنۡ أَخِيهِ وَأُمِّهِۦ وَأَبِيهِ وَصَٰحِبَتِهِۦ وَبَنِيهِ (سورۃ عبس ۔ آیات 34 تا 36)

آیاتِ مبارکہ کی رو سے قیامت کے دن انسان کا اپنے رشتہ داروں کے ساتھ کیا رویہ ہو گا؟

ترجمہ

اس دن آدمی اپنے بھائی سے بھاگے گا۔ اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے۔ اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے۔

جواب جب کان بہرے کر دینے والی سخت آواز («اَلصَّآخَّة») آئے گی تو انسان اپنے قریب ترین رشتہ داروں — بھائی، ماں، باپ، بیوی اور بیٹوں — سے بھاگے گا؛ کیوں کہ اس دن ہر شخص کو ایسی فکر لاحق ہو گی جو اسے دوسروں سے بے پروا کر دے گی۔ (آیات 33 تا 37)
10 مختصر جوابات

وُجُوهٞ يَوۡمَئِذٖ مُّسۡفِرَةٞ ضَاحِكَةٞ مُّسۡتَبۡشِرَةٞ (سورۃ عبس ۔ آیات 38 اور 39)

«وُجُوْهٌ يَّوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ ۔ ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ» — آیاتِ کریمہ میں نیک لوگوں کا کیا انجام بیان ہوا ہے؟

ترجمہ

اس دن کئی چہرے چمکتے ہوں گے۔ ہنستے ہوئے، خوش و خرم۔

جواب نیک لوگوں کا انجام یہ بیان ہوا ہے کہ قیامت کے دن ان کے چہرے چمک رہے ہوں گے، وہ ہنستے ہوئے اور خوش و خرم ہوں گے — جب کہ منکرین اور بدکاروں کے چہرے غبار آلود اور سیاہ ہوں گے۔ (آیات 40 تا 42)

تفصیلی جوابات

11 تفصیلی جوابات

وَمَا يُدۡرِيكَ لَعَلَّهُۥ يَزَّكَّىٰٓ أَوۡ يَذَّكَّرُ فَتَنفَعَهُ ٱلذِّكۡرَىٰٓ (سورۃ عبس ۔ آیات 3 اور 4)

آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

اور (اے نبی!) آپ کو کیا معلوم، شاید وہ پاکیزگی حاصل کرتا۔ یا نصیحت حاصل کرتا تو اس کو نصیحت فائدہ دیتی۔

جواب یہ آیتیں حضرت عبداللہ بن ام مکتومؓ کے بارے میں ہیں، جو نابینا تھے اور سیکھنے کے شوق سے نبی کریم ﷺ کے پاس آئے۔ اُس وقت آپ ﷺ قریش کے سرداروں کو دین سمجھانے میں مصروف تھے۔ اللہ نے فرمایا کہ آپ کو کیا معلوم، شاید وہ پاکیزگی حاصل کر لیتا۔ یا نصیحت سنتا اور وہ نصیحت اُسے فائدہ دیتی۔ سبق یہ ہے کہ اللہ کے نزدیک بڑائی مال یا عہدے سے نہیں، بلکہ سیکھنے کے شوق اور نیک دل سے ہے — اِس لیے کسی کو کمتر نہیں سمجھنا چاہیے۔
12 تفصیلی جوابات

عَبَسَ وَتَوَلَّىٰٓ أَن جَآءَهُ ٱلۡأَعۡمَىٰ (سورۃ عبس ۔ آیات 1 اور 2)

سُوْرَةُ عَبَسَ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔

تعارف اور شانِ نزول

1 تعارف — نام کی وجہ — سورت کا آغاز لفظ «عَبَسَ» سے ہوتا ہے جو ایک خاص واقعے کی طرف اشارہ کرتا ہے؛ اسی مناسبت سے اس کا نام «سُوْرَةُ عَبَسَ» رکھا گیا ہے۔
2 تعارف — مکی سورت — یہ مکی سورت ہے اور اس میں 42 آیات ہیں۔
3 شانِ نزول — ایک دن سردارانِ قریش نبی کریم ﷺ اور آپ کے اصحاب کے پاس اسلام سے متعلق کچھ سوالات لے کر آئے۔ اسی دوران نابینا صحابی سیدنا عبداللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور کچھ پوچھنا چاہا۔ نبی کریم ﷺ چاہتے تھے کہ سردارانِ قریش اسلام کی تعلیمات سے متاثر ہوں، اس لیے آپ ﷺ نے اپنی توجہ مکہ مکرمہ کے سرداروں پر رکھی۔ اس پر یہ سورتِ مبارکہ نازل ہوئی، جس میں اللہ تعالیٰ نے سیدنا عبداللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے اخلاص کا ذکر فرمایا۔ ان آیات کے نزول کے بعد نبی کریم ﷺ ان کا بہت زیادہ خیال فرماتے، اور جب سفر پر تشریف لے جاتے تو انھیں مدینہ منورہ میں اکثر اپنا نائب مقرر فرماتے۔
جواب مرکزی مضمون — اللہ تعالیٰ کے احسانات اور انسانوں کی ناشکری کا بیان۔
13 تفصیلی جوابات

لِكُلِّ ٱمۡرِيٕٖ مِّنۡهُمۡ يَوۡمَئِذٖ شَأۡنٞ يُغۡنِيهِ (سورۃ عبس ۔ آیت 37)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

اس دن ان میں سے ہر شخص کو ایسی فکر (لاحق) ہو گی جو اسے (دوسروں سے) بے پروا کر دے گی۔

جواب قیامت کے دن کی سختی بیان کی گئی ہے کہ اُس دن ہر آدمی ایسی حالت میں ہوگا جو اُسے سب سے بےنیاز کر دے گی۔ ہر شخص اپنے حساب اور اپنی فکر میں اِس قدر مصروف ہوگا کہ کسی اور کی طرف دھیان ہی نہیں جائے گا۔ جو رشتے دنیا میں سب سے پیارے تھے، اُس دن اُن کی خبر لینے کا ہوش نہیں رہے گا۔ سبق یہ ہے کہ اُس دن صرف اپنے اعمال کام آئیں گے، کوئی رشتہ دار بچانے نہیں آئے گا۔
14 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ عَبَسَ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔

سورۃ عبس کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:

1 قرآنِ مجید کی عظمت کا ذکر۔
2 انسان کی پیدائش، موت اور موت کے بعد کی زندگی کا بیان۔
3 نعمتوں کا ذکر کر کے ایمان لانے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کی ترغیب۔
4 آخرت کے دن انسان کا تمام رشتے بھول کر صرف اپنی نجات کی فکر میں پڑنا۔
15 تفصیلی جوابات

وَوُجُوهٞ يَوۡمَئِذٍ عَلَيۡهَا غَبَرَةٞ تَرۡهَقُهَا قَتَرَةٌ أُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡكَفَرَةُ ٱلۡفَجَرَةُ (سورۃ عبس ۔ آیات 40 تا 42)

آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

اور اس دن کئی چہروں پر غبار ہو گا۔ ان پر سیاہی چھائی ہو گی۔ یہی لوگ ہوں گے جو کافر (اور) بدکار تھے۔

جواب پہلی آیتوں میں نیک لوگوں کے روشن اور ہنستے چہرے بیان ہوئے، اور اِن آیتوں میں بدبخت لوگوں کا حال بتایا گیا۔ اُن کے چہروں پر گرد پڑی ہوگی اور اُن پر سیاہی چھائی ہوگی۔ یہ اُن کی شرمندگی، مایوسی اور غم کی نشانی ہوگی۔ پھر بتایا گیا کہ یہی وہ لوگ ہیں جو کافر اور بدکار تھے، یعنی نہ ایمان لائے اور نہ اچھے کام کیے۔ سبق یہ ہے کہ آخرت کا چہرہ دنیا کے اعمال سے بنتا ہے۔
16 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ عَبَسَ میں ضمیرِ متصل کی دو مثالیں تلاش کر کے تحریر کریں۔

سبق کی گرامر کے مطابق ضمیر متصل وہ ضمیر ہے جو اسم، فعل یا حرف کے ساتھ متصل (جڑی ہوئی) ہوتی ہے۔ سورۃ عبس سے دو مثالیں:

1 1۔ جَآءَهُ — «اس کے پاس آیا» — فعل «جَآءَ» کے ساتھ «هُ» ضمیر متصل ہے۔ (آیت 2)
2 2۔ طَعَامِهِۦٓ — «اپنے کھانے (کی طرف)» — اسم «طَعَام» کے ساتھ «هٖ» ضمیر متصل ہے۔ (آیت 24)
جواب (مزید مثالیں سوال 5 (س2) میں ملاحظہ کریں۔)

سرگرمیاں برائے طلبہ

17 سرگرمیاں برائے طلبہ

وَمَا يُدۡرِيكَ لَعَلَّهُۥ يَزَّكَّىٰٓ أَوۡ يَذَّكَّرُ فَتَنفَعَهُ ٱلذِّكۡرَىٰٓ (سورۃ عبس ۔ آیات 1 تا 10)

اسلامی تعلیمات کی روشنی میں معذور افراد کے ساتھ کیسا برتاؤ کرنا چاہیے؟ مذاکرہ کریں۔

اسی سورت کا شانِ نزول ایک نابینا صحابی سیدنا عبداللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے: اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ اصل اہمیت ایمان اور اخلاص کی ہے، ظاہری حیثیت یا جسمانی حالت کی نہیں۔ اس کی روشنی میں معذور افراد کے ساتھ برتاؤ کے اصول:

1 عزت اور برابری — معذور افراد کو کم تر نہ سمجھا جائے؛ اللہ کے ہاں معیار تقویٰ ہے، جسمانی حالت نہیں۔
2 توجہ اور ترجیح — دین سیکھنے اور بھلائی کے طالب معذور کو (بڑوں پر بھی) مقدم رکھا جائے — یہی اس سورت کا سبق ہے۔
3 مذاق اور تحقیر کی ممانعت — ان کا مذاق اڑانا، القاب بگاڑنا یا انھیں تکلیف دینا سخت گناہ ہے۔
4 عملی مدد — راستہ چلنے، تعلیم، روزگار اور ضروریات میں ان کی مدد کی جائے، مگر ایسے انداز میں کہ ان کی خودداری مجروح نہ ہو۔
5 حوصلہ افزائی اور مواقع — ان کی صلاحیتوں کو ابھارا جائے اور ذمہ داریاں سونپی جائیں — نبی کریم ﷺ نے سیدنا عبداللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ میں اکثر اپنا نائب مقرر فرمایا۔
6 شریکِ معاشرہ بنانا — مسجد، مدرسے، خوشی غمی — ہر موقع پر انھیں ساتھ رکھا جائے تاکہ وہ تنہائی محسوس نہ کریں۔
18 سرگرمیاں برائے طلبہ

کسی معذور کی مدد کریں اور حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اسے نیکی کی دعوت دیں۔

یہ عملی سرگرمی ہے؛ اسے یوں انجام دیں:

1 اپنے محلے، خاندان یا اسکول میں کسی معذور فرد کا انتخاب کریں۔
2 ادب اور نرمی سے ان کی کوئی حقیقی ضرورت پوری کریں — سودا لا دینا، راستہ پار کرانا، سبق پڑھا دینا، یا ان کے لیے کوئی چیز لکھ دینا۔
3 ان کی کسی خوبی کی دل سے تعریف کر کے حوصلہ بڑھائیں۔
4 موقع مناسب ہو تو نرمی سے کسی نیکی — نماز، ذکر یا دعا — کی دعوت دیں اور سیدنا عبداللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کا واقعہ سنائیں۔
5 اپنا تجربہ کلاس میں بیان کریں: کیا کیا، کیا سیکھا اور آئندہ کیا ارادہ ہے۔
جواب یاد رکھیں: مدد احسان جتا کر نہیں، اللہ کی رضا کے لیے کی جائے۔
19 سرگرمیاں برائے طلبہ

ثُمَّ أَمَاتَهُۥ فَأَقۡبَرَهُۥ (سورۃ عبس ۔ آیت 21)

قبر سے متعلق چند احادیثِ مبارکہ جمع کریں اور قبر کی تیاری کے حوالے سے فکر مند رہیں۔

اسی سورت میں فرمایا گیا: «پھر اسے موت دی، پھر اسے قبر میں پہنچا دیا»۔ (آیت 21) قبر سے متعلق چند احادیثِ مبارکہ کا مفہوم درج ذیل ہے؛ مکمل عربی متن کسی مستند کتاب (مثلاً ریاض الصالحین) سے اساتذہ کی مدد سے جمع کریں:

قبر کی تیاری

1 نبی کریم ﷺ نے فرمایا: قبر آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے؛ جو اس سے نجات پا گیا اس کے بعد کے مراحل آسان ہیں۔ (جامع ترمذی)
2 آپ ﷺ نے فرمایا: قبر یا تو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا۔ (جامع ترمذی)
3 آپ ﷺ کثرت سے قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے تھے: «اَللّٰهُمَّ اِنِّيْۤ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ»۔ (صحیح بخاری و مسلم)
4 آپ ﷺ نے فرمایا: قبروں کی زیارت کیا کرو، کیوں کہ یہ آخرت کی یاد دلاتی ہے۔ (صحیح مسلم)
5 آپ ﷺ نے فرمایا: جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے عمل کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے سوائے تین چیزوں کے: صدقۂ جاریہ، نفع بخش علم اور نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔ (صحیح مسلم)
6 فرائض کی پابندی اور گناہوں سے فوری توبہ۔
7 صدقۂ جاریہ، نفع بخش علم اور اولاد کی نیک تربیت میں حصہ ڈالنا۔
8 حقوق العباد ادا کرنا اور معافی تلافی کر لینا۔
9 روزانہ کچھ دیر موت اور قبر کو یاد کرنا، تاکہ دل غفلت سے بچا رہے۔

اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

20 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

فِي صُحُفٖ مُّكَرَّمَةٖ مَّرۡفُوعَةٖ مُّطَهَّرَةِۭ بِأَيۡدِي سَفَرَةٖ كِرَامِۭ بَرَرَةٖ (سورۃ عبس ۔ آیات 13 تا 16)

قرآنِ مجید کی عظمت تحریر کریں اور اس کے حقوق تحریر کریں۔

قرآنِ مجید کی عظمت اور قرآنِ مجید کے حقوق

1 قرآنِ مجید کی عظمت — قرآنِ مجید اللہ تعالیٰ کا کلام اور آخری کتاب ہے۔ اسی سورت میں اس کی عظمت یوں بیان ہوئی کہ یہ سراسر نصیحت ہے، عزت والے، بلند مرتبہ اور پاکیزہ صحیفوں میں (لکھا ہوا) ہے اور عزت والے نیک فرشتوں (لکھنے والوں) کے ہاتھوں میں ہے۔ (آیات 11 تا 16) حدیث شریف کے مفہوم کے مطابق قرآنِ مجید کو روانی سے پڑھنے والے (قیامت کے دن) کراماً بررہ (معزز نیک فرشتوں) کے ساتھ ہوں گے، اور اٹک اٹک کر مشقت سے پڑھنے والوں کو دگنا ثواب ملتا ہے۔ (صحیح بخاری: 4937)
2 قرآنِ مجید کے حقوق — ایمان — دل سے یقین رکھنا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی سچی کتاب ہے اور اس کا ہر حکم حق ہے۔
3 قرآنِ مجید کے حقوق — تلاوت — ادب اور درستی (تجوید) کے ساتھ روزانہ اس کی تلاوت کرنا۔
4 قرآنِ مجید کے حقوق — فہم و تدبر — اس کے معانی کو سمجھنا اور آیتوں میں غور و فکر کرنا۔
5 قرآنِ مجید کے حقوق — عمل — اس کے احکام پر عمل کرنا — حلال کو حلال اور حرام کو حرام جاننا۔
6 قرآنِ مجید کے حقوق — تبلیغ — اس کی تعلیمات کو دوسروں تک پہنچانا اور سکھانا۔
7 قرآنِ مجید کے حقوق — ادب و تعظیم — اسے با وضو چھونا، عزت کی جگہ رکھنا اور اس کی تلاوت کے وقت خاموشی سے سننا۔
جواب (قرآنِ حکیم کی عظمت پر آیات کی تفصیل سوال 2 (س1) میں گزر چکی ہے۔)
21 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

فَأَنۢبَتۡنَا فِيهَا حَبّٗا

ضمائرِ متصلہ کی چند قرآنی مثالیں تحریر کریں۔ (تعریف اور دو مثالیں سوال 3 (3ب) میں ملاحظہ کریں۔)

سُوْرَةُ عَبَسَ (اسی سبق) سے ضمائرِ متصلہ کی چند قرآنی مثالیں درج ذیل ہیں:

1 1۔ جَآءَهُ — «اس کے پاس آیا» — «هُ» فعل کے ساتھ متصل (واحد مذکر غائب)۔ (آیت 2)
2 2۔ يُدۡرِيكَ — «آپ کو کیا معلوم» — «كَ» فعل کے ساتھ متصل (واحد مذکر حاضر)۔ (آیت 3)
3 3۔ خَلَقَهُۥ فَقَدَّرَهُۥ — «اسے پیدا فرمایا، پھر اس کا اندازہ مقرر فرمایا» — دونوں فعلوں کے ساتھ «هٗ» متصل ہے۔ (آیت 19)
4 4۔ طَعَامِهِۦٓ — «اپنے کھانے (کی طرف)» — «هٖ» اسم کے ساتھ متصل۔ (آیت 24)
5 5۔ وَبَنِيهِ — «اور اپنے بیٹوں (سے)» — «هِ» اسم کے ساتھ متصل۔ (آیت 36)
جواب سبق کی «اہم معلومات» کے مطابق فعل کے ساتھ جب واحد متکلم کی ضمیر متصل آتی ہے تو یائے متکلم سے پہلے «ن» (نونِ وقایہ) لگاتے ہیں، جیسے: «ضَرَبَنِيْ» (اس نے مجھے مارا)۔
22 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

مِنۡ أَيِّ شَيۡءٍ خَلَقَهُۥ مِن نُّطۡفَةٍ خَلَقَهُۥ فَقَدَّرَهُۥ ثُمَّ ٱلسَّبِيلَ يَسَّرَهُۥ ثُمَّ أَمَاتَهُۥ فَأَقۡبَرَهُۥ ثُمَّ إِذَا شَآءَ أَنشَرَهُۥ (سورۃ عبس ۔ آیات 18 تا 22)

سورۂ عبس کی روشنی میں انسانی زندگی کے مختلف مراحل تحریر کریں۔

ترجمہ

(اللہ نے) اسے کس چیز سے پیدا فرمایا؟ ایک قطرے (نطفے) سے اسے پیدا فرمایا، پھر اس (کی ہر چیز) کا اندازہ مقرر فرمایا۔ پھر اس کے لیے (زندگی کا) راستہ آسان فرما دیا۔ پھر اسے موت دی، پھر اسے قبر میں پہنچا دیا۔ پھر جب وہ چاہے گا اسے دوبارہ زندہ فرما دے گا۔

ان آیات کی روشنی میں انسانی زندگی کے مراحل یہ ہیں:

1 1۔ تخلیق کا آغاز — انسان ایک حقیر قطرے (نطفے) سے پیدا کیا گیا — یہ مرحلہ انسان کو تکبر سے روکتا ہے۔
2 2۔ اندازہ اور تقدیر — اللہ تعالیٰ نے (ماں کے پیٹ ہی میں) اس کی شکل، صلاحیت، رزق اور عمر کا اندازہ مقرر فرما دیا۔
3 3۔ راستے کی آسانی — پیدائش کا راستہ اور پھر دنیا میں زندگی گزارنے اور ہدایت (نیکی و بدی کی پہچان) کا راستہ آسان فرما دیا — یہ عمل اور آزمائش کا مرحلہ ہے۔
4 4۔ موت — مقررہ وقت پر ہر انسان کو موت دی جاتی ہے — دنیا کی مہلت ختم ہو جاتی ہے۔
5 5۔ قبر — انسان کو قبر میں پہنچایا جاتا ہے — یہ آخرت کی پہلی منزل اور برزخ کا مرحلہ ہے۔
6 6۔ دوبارہ زندگی — جب اللہ تعالیٰ چاہے گا، اسے دوبارہ زندہ فرمائے گا — پھر حساب اور جزا و سزا ہو گی۔
جواب ان مراحل پر غور انسان کو ناشکری سے روکتا ہے: جو اللہ ایک قطرے سے پیدا کرنے پر قادر ہے، وہ دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے؛ لہٰذا زندگی کا مرحلہ غفلت میں نہیں، تیاری میں گزارنا چاہیے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.